ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بسم الله کہہ کر کھاؤ ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : (the narrator Musa did not mention the words from Aisha (RA) in his version from Hammad, and al-Qanabi also did not mention the word from Aisha (RA) in his version from Malik). They (the people) said: Messenger of Allah, there are people here, recent converts from polytheism, who bring us meat and we do not know whether or not they mentioned Allahs name over it. The Messenger of Allah ﷺ said: Mention Allahs name and eat.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ تم اہل اسلام کے سلسلے میں نیک گمان رکھو کہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہوگا، پھر بھی شک و شبہ کو دور کرنے کے لئے کھاتے وقت بسم الله کہہ لیا کرو۔
نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو پکار کر کہا: ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں عتيرة (یعنی جانور ذبح) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ ۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں فرع (یعنی قربانی) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں، یا جسے تم اپنے جانوروں کی فرع کھلاتے ہو، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہوجائے (نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہوجائے) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو۔ خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو۔ یہ بہتر ہے ۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔
Narrated Nubayshah (RA) : A man called the Messenger of Allah ﷺ : We used to sacrifice Atirah in pre-Islamic days during Rajab; so what do you command us? He said: Sacrifice for the sake of Allah in any month whatever; obey Allah, Most High, and feed (the people). He said: We used to sacrifice a Fara in pre-Islamic days, so what do you command us? He said: On every pasturing animal there is a Fara which is fed by your cattle till it becomes strong and capable of carrying load. The narrator Nasr said (in his version): When it becomes capable of carrying load of the pilgrims, you may slaughter it and give its meat as charity (sadaqah). The narrator Khalids version says: You (may give it) to the travellers, for it is better. Khalid said: I asked Abu Qilabah: How many pasturing animals? He replied: One hundred.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١ (٤٢٣٣)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٢ (٣١٣٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (اسلام میں) نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Prophet ﷺ sa saying: There is no Fara and atirah.
Notes · وضاحت
١ ؎: فرع زمانہ جاہلیت میں جس جانور کا پہلوٹہ بچہ پیدا ہوتا اس کو بتوں کے نام ذبح کرتے تھے، اور ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کردیا گیا، اور اس کام سے منع کردیا گیا، اور عتیرہ رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لئے زمانہ جاہلیت میں ذبح کرتے تھے، اور اسلام کے ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے، کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لئے اور مسلمان اللہ تعالیٰ سے تقرب کے لئے کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہوگئے، اب نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ، بلکہ مسلمانوں کے لئے عیدالاضحی کے روز قربانی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے فرع کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھالیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور عتیرہ ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice goat out of every fifty goats. Abu Dawud said: Fara means the first baby camel born (to the Arabs). They used to sacrifice it for their idols, and then eat it, and its skin was thrown on a tree. Atira was a sacrifice made during the first ten days of Rajab.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مستحب تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٨، ٢٥١) (صحیح )
ام کرز کعبیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے: (عقیقہ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے مكافئتان کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں (عمر میں) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔
Narrated Umm Kurz al-Kabiyyah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Two resembling sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: I heard Ahmad (ibn Hanbal) say: The Arabic word mukafiAtani means equal (in age) or resembling each other.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ١٧ (١٥١٦)، سنن النسائی/العقیقة ٢ (٤٢٢١)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨١، ٤٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠٠٩) (صحیح )
ام کرز ؓ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو ) ، میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ ۔
Narrated Umm Kurz (RA) : I heard the Prophet ﷺ say: Let the birds stay in their roosts. She said: I also heard him say: Two sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl, but it does you no harm whether they are male or female.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العقیقة ٣ (٤٢٢٣، ٤٢٢٢)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٧)، وقد أخرجہ: دی/ الأضاحی ٩ (٢٠١١) (ضعیف) (یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود ٨/١٨٣ )
ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (عقیقے میں) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث (نمبر: ٢٨٣٥) وہم ہے ١ ؎۔
Narrated Umm Kurz (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Two sheep which resemble each other are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: This is a sound tradition, and the tradition narrated by Sufyan is misunderstanding.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: عبید اللہ بن ابی یزید کے بعد سند میں عن ابیہ کا اضافہ سفیان کا وہم ہے، حماد کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے اور یہی دیگر لوگوں کی روایتوں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٧) (صحیح )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ١ ؎۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: يدمى ہمام کا وہم ہے، اصل میں ويسمى تھا جسے ہمام نے يدمى کردیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: A boy is in pledge for his Aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and is smeared with blood. When Qatadah was asked about smearing with blood, how that should be done, he said: When you cut the head (i. e. throat) of the animal (meant for Aqiqah), you may take a few hair of it, place them on its veins, and then place them in the middle of the head of the infant, so that the blood flows on the hair (of the infant) like a threat. Then its head may be washed and shaved off. Abu Dawud said: In narrating the word is smeared with blood (yudamma) there is a misunderstanding on the part of Hammam. Abu Dawud said: Hammam has been opposed in narrating the words is smeared with blood. This is misunderstanding of Hammam. They narrated he word he is given a name (yusamma) and Hammam narrated it is smeared with blood (yudamma). Abu Dawud said: This tradition is not followed.
Notes · وضاحت
١ ؎: بریدہ ؓ کی آنے والی حدیث نمبر (٢٨٤٣) اس حدیث کے لئے ناسخ ہے، لہٰذا عقیقہ کا خون بچے کے سر پر نہیں لگایا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٢٣ (١٥٢٢)، سنن النسائی/العقیقة ٤ (٤٢٢٥)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٥٤٧٢)، مسند احمد (٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٢) (صحیح) (لیکن يدمى کی جگہ يسمى صحیح ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں يسمى ہی ہے )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ يسمى لفظ يدمى سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں ويسمى کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں بھی ويسمى ہی ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: A boy is in pledge for his Aqiqah, Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and he is given name. Abu Dawud said: The word wa yusamma is sounder as narrated by Salam bin Abi Muti from Qatadah, and narrated by Iyas bin Daghfal and Ashath from al-Hassan who narrated wa yusamma (and he is given a name).
سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو (یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ) ۔
Narrated Salman bin Amir al-Dabbi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Along with a boy there is an Aqiqah, so shed blood on his behalf, and remove injury from him.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عقوق (ماں باپ کی نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا گویا آپ ﷺ نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری پھر آپ ﷺ سے فرع کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: فرع حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہوجائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو (پیدا ہوتے ہی) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو (یعنی کم ہو) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، (گوشت نہ ہوگا تو پکاؤ گے کہاں سے) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the aqiqah. He replied: Allah does not like the breaking of ties (uquq), as though he disliked the name. And he said: If anyone has a child born to him and wishes to offer a sacrifice on its behalf, he may offer two resembling sheep for a boy and one for a girl. And he was asked about Fara. He replied: Fara is right. If you leave it (i. e. let it grow till it becomes a healthy camel of one year or two years, then you give it to a widow or give it in the path of Allah for using it as a riding beast, it is better than slaughtering it at the age when its meat is stuck to its hair, and you turn over your milking vessel and annoy your she-camel.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العقیقة ١ (٤٢١٧)، (تحفة الأشراف: ١٩١٦٩، ٨٧٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢، ١٨٣، ١٩٤) (حسن )
بریدہ ؓ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے (خون لگانا موقوف ہوگیا) ١ ؎۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: When a boy was born to one of us in the pre-Islamic period, we sacrificed a sheep and smeared his head with its blood; but when Allah brought Islam, we sacrificed a sheep, shaved his head and smeared his head with saffron.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث سمرہ کی حدیث نمبر (٢٨٣٧) کی ناسخ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٦٤) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone gets a dog, except a sheeping or hunting or a farm dog, a qirat of his reward will be deducted daily.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین و جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔ نیز حدیث میں مذکورہ غرض کے علاوہ کتا پالنے میں ثواب کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کتا نجس ہے، اس کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتے نہیں آتے، یا آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٥)، سنن الترمذی/الصید ٤ (١٤٩٠)، سنن النسائی/الصید ١٤ (٤٢٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧١، ١٥٣٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣)، وبدء الخلق ١٧ (٣٣٢٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤)، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٤٥) (صحیح) ولیس عند (خ) ” أو صید “ إلا معلقًا
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں ١ ؎ تو میں ان کے قتل کا ضرور حکم دیتا، تو اب تم ان میں سے خالص کالے کتوں کو قتل کرو ۔
Narrated Abdullah ibn Mughaffal (RA) : The Prophet ﷺ said: Were dogs not a species of creature I should command that they all be killed; but kill every pure black one.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی ایک مخلوق ہیں۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ ﷺ نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet of Allah ﷺ ordered to kill dogs, and we were even killing a dog which a woman brought with her from the desert. Afterwards he forbade to kill them, saying: Confine yourselves to the type which is black.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٣) (صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میں سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتا ہے تو کیا میں اسے کھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو، اور اللہ کا نام اس پر لو تو ان کا شکار جس کو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں کھاؤ ۔ عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ شکار کو قتل کر ڈالیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ قتل کر ڈالیں جب تک دوسرا غیر شکاری کتا اس کے قتل میں شریک نہ ہو ، میں نے پوچھا: میں لاٹھی یا بےپر اور بےکانسی کے تیر سے شکار کرتا ہوں (جو بوجھ اور وزن سے جانور کو مارتا ہے) تو کیا اسے کھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم لاٹھی، یا بےپر، اور بےکانسی کے تیر اللہ کا نام لے کر مارو، اور وہ تیر شکار کے جسم میں گھس کر پھاڑ ڈالے تو کھاؤ، اور اگر وہ شکار کو چوڑا ہو کر لگے تو مت کھاؤ ۔
Narrated Adi bin Hatim: I asked the Prophet ﷺ , and said: I set off my trained dogs, and they catch (something) for me: may I eat (it)? He said: When you set off trained dogs and mention Allahs name, eat what they catch for you. I said: Even if they killed (the game)? He said: Even if they killed (the game) as long as another dog does not join it. I said: I shoot with a featherless arrow, and it strikes the target, may I eat (it) ? He said: If you shoot with a featherless arrow and mention Allahs name, and it strikes the aim, and pierce it, eat it ; and if it strikes with its middle, do not eat (it).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (پہلا) یہ کہ سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، ( دوسرا) یہ کہ کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، (تیسرا) یہ کہ اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لئے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں یہی جمہور علماء کا قول ہے، ( چوتھا) یہ کہ کتے کو شکار پر بھیجتے وقت ” بسم الله “ کہا گیا ہو، (پانچواں) یہ کہ معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہوگا اور یہ شکار حلال نہ ہوگا، (چھٹواں) یہ کہ کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لئے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہوگا ورنہ نہیں۔