Ayah 8:67نبی ﷺ کے لئے کسی کو قیدی بنانا اس وقت تک جائز نہیں جب تک غلبہ حاصل نہ کرلے :
90: اس آیت کا مفہوم مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے لیکن اکثر مفہومات کا ماحصل ایک ہی ہے وہ یہ کہ ” معرکہ بدر کے بعد غنیم کے ستر آدمی گرفتار ہو کر آئے۔ سپہ سالار اعظم ﷺ نے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے۔ اکثر اہل شوریٰ کی رائے ہوئی کہ اس وقت امت کو جو بڑی ضرورت ہے وہ روپیہ کی ہے اور مصالح ملت کا تقاضا ہے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے خود آپ ﷺ بھی اپنی خلقی رحم دلی کے مقتضاء سے اسی طرف مائل ہو رہے تھے چناچہ چند تو قتل کئے گئے اور باقی فدیہ لے کر سوائے ایک کے چھوڑ دیئے گئے اور ایک سے فدیہ بھی وصول نہ کیا گیا اس پر یہ آیتت نازل ہوئی جس میں ارشاد ہوا کہ ” نبی کی شان کے لائق نہیں کہ اس کے قیدی (باقی) رہیں جب تک وہ زمین میں اچھی طرح خون ریزی نہ کرلے ، تم لوگ دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ (تمہارے لئے) آخرت کو چاہتا ہے۔ “
پھر اس کی بڑی تفصیل ذکر کی گئی ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کس کس نے ان قیدیوں کو قتل کرنے کی رائے دی اور کون کون یہ چاہتا ہے کہ ان لوگوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور پھر مختصر کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے جنہوں نے فدیہ لینا پسند کیا اور عمر فاروق ؓ سختی سے اس بات پر قائم تھے کہ ان سب لوگوں کو قتل کردینا چاہئے کہ یہ زندہ رہ کر اسلام کو مزید نقصان پہنچائیں گے لیکن رسول اللہ ﷺ کی رائے بھی ابوبکر ؓ ہی کی رائے کے ساتھ تھی اس لئے اس پر عمل ہوا اور آیت کے اس حصے نے وضاحت کردی کہ ان لوگوں کی رائے صحیح نہ تھی جنہوں نے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کی رائے دی تھی اور چونکہ آپ کی رائے بھی یہی تھی اس لئے اللہ نے درگزر فرمایا اور پھر مرشد تھانوی (رح) نمے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ فرمایا کہ ” خطائے اجتہادی نبی معصوم تک سے ہو سکتی ہے “ جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اجتہادی غلطی ہوئی تتھی جس پر آپ ﷺ بعد میں روتے بھی رہے۔ خاکم بدہن کہ کبھی میں اس کو تسلیم کروں اور یہ سمجھوں کہ یہ رسول اللہ سے اجتہادی غلطی ہوئی۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مرشد تھانوی (رح) سے یہ اجتہادی غلطی ہوئی۔
ہمارے محترم بزرگ مودودی (رح) نے اس آیت پر جو بحث فرمائی اس کا ماحصل یہ ہے کہ ” یہ عتاب نبی ﷺ پر نہیں بلکہ مسلمانوں پر ہے “ کیوں ؟ اس لئے کہ سورة محمد میں جنگ کے متعلق جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں ان میں۔۔۔۔ جنگی قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کی اجازت تو دے دی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی تھی جگہ پطہلے دشمن کی طاقت کو چاھی طرح کچل دیا جائے پھر قییا لپکڑنے کی فکر کی جائے اس فرمان کی رو سے مسلمانوں سے بدر میں جو قیدی گرفتار کئے اور اس کے بعد جو فدیہ ان سے وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق مگر غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچل دینے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی۔ جنگ میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے میں لگ گیا۔۔۔۔۔ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اس روز خاتمہ ہوگیا ہوتا۔
سید مودودی (رح) کی اس رائے کو پیر کرم شہ صاحب نے ضیاء القرآن میں بہت پسند فرمایا اور بڑی وضاحت سے مودودی (رح) کا نام بھی لیا اور تفسیر کا حوالہ درج فرمایا اور نہایت خوشی کا اظہار بھی فرمایا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ مفہوم ان کی تفسیر کے زیادہ قریب تھا اور علامہ قرطبی (رح) کی توضیح جو ان کو زیادہ پسند آئی اس کی تصدیق کرتا تھا۔ لیکن خاکم بدہن کہ میں کبھی اس کو تسلیم کروں کہ ” صحابہ کرام ؓ سے یہ غلطی ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچلے بغیر کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے لگے۔ “ قرآن کریم سے یہ بات بڑی وضاحت سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے دشمن کی طاقت کو پوری طرح کچل دیا تھا اور ان کا پیچھا کر کے ہی ان کے قیدیوں کو پکڑا تھا اور باندھا تھا اور صحابہ کرام ؓ سے اس وقت اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوئی۔ ہاں ! میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سید مودودی (رح) سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے یہ سمجھا اور لکھا کہ صحابہ کرام ؓ نے بدر کے روز دشمنوں کو کچلنے میں پوری طاقت صرف نہیں کی تھی اور پیر جی نے محض اپنی رائے سے رائے ملتی دیکھ کر اس کو جو پسند فرمایا یہ سارے انسانوں کی ایک جیسی کمزوری ہے خواہ وہ عالم ہوں یا جاہل۔
پیچھے بڑی تفصیل سے اس بات کا ذکر آپ پڑھ سن چکے ہیں کہ غزوہ بدر کے وقت دو جماعتوں کی خبر گرم تھی ایک کفار مکہ کا تجارتی قافلہ والوں کی جماعت اور دوسری اس قافلہ کی محافظت کے لئے آنے والی کل جماعت جو دراصل مسلمانوں کی طاقت و قوت کو کچل دینا چاہتی تھی۔ نبی اعظم ﷺ نے جب مسلمانوں سے رائے طلب فرمائی کہ مدینہ سے نکل کر کس جماعت کی طرف بڑھا جائے تو دو طرح کی رائیں قائم ہوئیں ایک تجارتی قافلہ کو پکڑنے اور اس سے مال چھین لینے کی اور دوسری مشرکین مکہ کی جماعت کے دفاع کی کہ اس کو بزور بازو روک دیا جائے۔ جس میں اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مرضی خاص بھی یہی تھی کہ مشرکین مکہ کا مقابلہ کیا جائے اور ان کو مدینہ کی طرف بڑھنے نہ دیا جائے اور یہی کچھ ہوا لیکن میدان بدر میں پہنچ کر جب تجارتی قافلہ مسلمانوں کی زد سے نکل چکا تھا رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے سامنے اس مسئلہ کو کھول کر رکھا اور ان میں جو کمزوری دیکھی اس کا واضح جواب ارشاد فرمایا اور واضح طور پر اس میدان میں مسلمانوں کی فتح و کامرانی کا مثروہ سنایا اور اس رات ہی رات میں الٰہی مدد و نصرت بھی مسلمانوں کو بصورت بارش حاصل ہوگئی جس سے مسلمانوں کے حوصلے سو گنا بڑھ گئے اور وہ اس میدان میں عزم کے پہاڑ بن کر اترے اور کسی میں جو رائی برابر کمزوری تھی وہ میدان رزم میں اترنے سے پہلے ہی کافور ہوگئی اور سب کے سب ایک رائے پر متفق ہو کر میدان کار زار میں اترے اور بتائید ایزدی ایک نے ایک سے بڑھ کے اس وقت تک جنگ لڑی جس وقت کفار اپنا سب کچھ چھوڑ کے بھاگ نہ نکلے اور باگنے والوں پر تلوار و تیر چلانے کی بجائے ان کو پکڑنے کی پوری پوری کوشش کی یہاں تک کہ ستر آدمی پکڑ لئے گئے اور ان پکڑے جانے والوں میں بڑے بڑے بہادت اور کام کے لوگ تھے جنہوں نے بعد میں مسلمان ہو کر بیشمار کارہائے نمایاں سر انجام دیئے اور تفصیلات اس کی بہت لمبی ہیں۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا ، مال غنیمت بھی جمع ہوگیا ؤ قیدی بھی باندھ لئے گئے اور حالات اپنی اپنی جگہ پر آچکے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ ہدایات دیں جن کا پیچھے ذکر ہوچکا اور یہ حکم بھی دیا کہ اب تم کو مقابلہ کس انداز میں کرنا چاہئے اور قوت ایمانی کے نشہ کی بات بھی ان کو سمجھائی کہ تم ہی کا ایک آدمی دس تک کا مقابلہ کرسکتا ہے اور دو کو تو وہ اس طرح مار سکتا ہے جس طرح چیل مرغی کے چوزوں اور اور یہ کہ میدان جنگ میں اترنے کے لئے ثابت قدمی اور ثبات قلبی لازم و ضروری چیز ہے اور پھر فرمایا کہ غور کرو اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہاری دو رائیں تھیں اور تجارتی قافلہ کی طرف بڑھنے والوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ نبی کے لئے کسی کو قیدی بنانا اس وقت تک جائز اور درست نہیں ہوتا اور نہ ہی زیب دیتا ہے جس وقت تک باقاعدہ میدان مبارزت قائم نہ ہو اگر تتمہاری رائے کے مطابق تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جاتا تو وہاں میدان مبارزت کہاں تھا وہ لٹیروں کی طرح ان کو لوٹنا ہی بنتا اور اب جب کہ میدان مبارزت قائم ہوا اور تم دل کھول کر لڑے اور دشمن میدان جنگ سے جب بھاگ نکلا تو اب ان لوگوں کو قیدی بنانا جائز اور درست ہوگیا۔ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھنے کی رائے دینے والو ! تمہاری نظر میں صرف دنیا ہی کے مال کا خیال تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مل جائے لیکن اللہ نے تمہارے لئے آخرت کی بھلائیاں اور مجاہدین کا اجر وثواب پسند کیا اور ساتھ ہی تمت کو مال غنیمتت سے بھی مالا مال کردیا اور ایک مال تتو وہ تھا جو اکھٹا کر کے تم نے اپنے درمیان تقسیم کرالیا اور ایک مال ابھی باقی ہے جو ان لوگوں کے فدیہ سے تمت کو وصول ہوجائے گا۔ اللہ اپنی بات منوانے اور اس کے وہ نتائج نکالنے پر جو اس نے کسی قوم کو پہنچانے ہوں پورا پورا غلبہ رکھتا ہے اور اس کا ہر کام عین حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ بعد میں آنے والے لوگ تم کو چور یا ڈاکو کا خطاب دیتے آج تم کو مجاہدین اور غازیوں کی جماعت کہا جاتا ہے اور تم کو وہ غلبہ عطا فرمایا ہے جو آج کے بعد بڑھتا ہی چلا جائے گا تاآنکہ مکہ فتح ہوجائے اور تمہارے دشمنوں کو اسلام قبول کرنے کا جذبہ ادا کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے اور دنیا نے دیکھا کہ یہی کچھ ہوا یہاں تک کہ آج بھی یہی داستانیں دہرائی جاتی ہیں۔ زیر نظر آیت کا ترجمہ ایک بار پھر پڑھ لو کہ ” نبی کے لئے سزاوار نہیں کہ اس کے قبضہ میں قیدی ہوں جب تک کہ ملک میں وہ غلبہ حاصل نہ کرلے۔ “ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھنے کی رائے دینے والو ! تم دنیا کی متاع چاہتے تھے اور اللہ چاہتا تھا کہ تم کو آخرت کا اجر عطا کرے اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ اس نے تم کو مال بھی دیا اور مشرکین پر غلبہ بھی اور غلبہ کے بعد پکڑے جانے والے قیدیوں سے فدیہ بھی۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ ہذا ما عندی ، واللہ اعلم۔
غزوہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ حاصل کرنا قرآن کریم کے حکم کے مطابق تھا :
سورة محمد بالاتفاق جنگ بدر سے پہلے نازل ہوچکی تھی اس لئے کہ اس کا موضوع اہل ایمان کو جنگ کے لئے تیار کرنا اور ان کو اس سلسلہ میں ابتدائی ہدایات دینا ہے اس مناسبت سے اس کا نام سورة قتال بھی رکھا گیا ہے۔ اس میں ارشاد الٰہی ہے کہ :
” پس (اے مسلمانو ! ) جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب خوب قتال کر چکو تو (بچ رہنے والوں کو) باندھ لو پھر ازیں بعد یا تو احسان رکھ کر یا معاوضہ لے کر چھوڑ دو یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے یہ (حکم) اس طرح ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا لیکن وہ تمہاری ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائش کرتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو اللہ ان کے اعمال (کبھی) ضائع نہ کرے گا “ (محمد 47 : 4)
1 ۔ بدر کے قیدی عین اس حکم کے مطابق پکڑے گئے کہ جب مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگیا اور کفار مکہ میدان سے بھاگ نکلے تو بھاگنے والوں میں کچھ کو پکڑ لیا گیا چونکہ باقاعدہ جنگ ہونے کے بعد اور غلبہ حاصل ہونے کے بعد وہ پکڑے گئے ہے اس لئے اللہ کے حکم کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے جس کو چاہا احساناً چھوڑ دیا اور دوسروں کا فدیہ حاصل کرلیا گیا۔
2 ۔ سورة محمد کی یہی آیت جو اوپر ذکر کی گئی ان قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کے باعث ہوئی۔ صحابہ کرام ؓ سے جو مشورہ رسول اللہ ﷺ نے طلب فرمایا تھا وہ ان احکام میں سے ایک حکم کو اختیار کرنے کے متعلق تھا یعنی ان قیدیوں کو احساناً چھوڑ دیا جائے یا ان سے فدیہ طلب کر لاک جائے۔
3 ۔ بلاشبہ آپ کی رائے فدیہ لینے کی تھی سوائے ایک دو آدمیوں کے اور صحابہ کرام ؓ نے بھی اس رائے کو پسند کیا اور آپ کی رائے کے مطابق ہی عمل در آمد ہوا جن سے فدیہ طلب ہوا وہ فدیہ لے کر چھوڑے گئے اور جن کو احساناً یا کچھ خدمت لے کر چھوڑنا قرار پائے تھے ان کو اس کے مطابق چھوڑ دیا گیا۔
4 ۔ جنگ بدر کے بعد بھی دوسری جنگوں میں مسلمانوں نے مخالفین کو قیدی بنایا اور پھر کسی جنگ میں بھی آپ ﷺ نے قیدیوں کو قتل کا حکم نہیں سنایا۔ بدر کی غلطی تسلیم کرنے کا ایک جواز یہ بھی ہو سکتا تھا لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا جس سے اس بات کو واضح تصدیق ہوتی ہے کہ قیدیوں کے قتل کا حکم بدر میں بھی نہیں دیا گیا تھا بلکہ فدیہ لینے ہی کا حکم تھا ورنہ بدر کے بعد دوسری جنگوں میں ہی اس حکم پر عمل کرایا جاتا۔
5 ۔ جن لوگوں کو بدر میں احساناً چھوڑا گیا تھا وہ بھی حکم الٰہی کے عین مطابق تھا اس لئے کہ بدر کے بعد بھی کتنی ہی جنگوں میں رسول اللہ ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑ دیا بلکہ بعض میں تو ان سے حاصل کردہ مال بھی واپس لوٹا دیا گیا اور کسی صحابی ؓ نے ذرا بھی چوں چرا نہ کی اور نہ صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کے حکم پر ایسا فعل کرسکتے تھے۔
6 ۔ فدیہ کے فیصلہ کی تعمیل میں کافی دن صرف ہوئے کیونکہ فدیہ کی رقم مکہ سے آنا تھی اور پھر جوں جوں فدیہ آتا گیا ان لوگوں کو چھوڑا جاتا رہا اور جب تک فدیہ وصول نہ کرلیا گیا یا ان کے احسان کی اپیل منظور نہ ہوئی ان کو چھوڑا نہ گیا اگر آپ کی طرف سے یہ غلطی ہوئی تھی جیسا کہ مفسرین نے ذکر کیا تو اس کی اصلاح وحی الٰہی سے ہو سکتی تھی حالانکہ ایسی کوئی بات معرض وجود میں نہ آئی۔ آخر اس کی اصلاح کیوں نہ کی گئی ؟
7 ۔ اس فدیہ کو ایک آیت چھوڑکر اگلی آیت میں مِمَّا غَنِمْتُمْ کا ارشاد فرمایا کہ مال غنیمت میں شامل کیا گیا ہے ، جو اس باتت کی کھلی دلیل ہے کہ جو کچھ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے وہ محض روایات کے انحصار پر ہے جو اپنی پختہ نہیں کہ قرآن کریم کی عبارات موخر کر کے کو ان کو اعلیٰ مقام دیا جائے اور کسی صاحب نے قرآن کریم کی کسی آیت سے کوئی استدلال بھی نہیں کیا۔
8 ۔ مَا کَانَ کا اسلوب بیان الزم اور فرع الزام دونوں کے لئے آتا ہے اور قرآن کریم میں دونوں ہی طرح کے مواقع میں یہ اسلوب استعمال ہوا ہے اور اس بات کا تعین کہ یہ الزام کے لئے ہے یا رفع الزام کے لئے موقع و محل اور سیاق وسباق ، قرینہ اور مخاطب کو پیش نظر رکھ کر کہا جاتا ہے اور بعینہٖ یہی اسلوب بیان سورة آل عمران کی آیت 161 میں گزر چکا ہے : مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ 1ؕ کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ خطاب الزام کے لئے نہیں بلکہ رفع الزام اور نبی کی تنزیہ شان کے لئے ہے اور یہی اسلوب اس جگہ اختیار کیا گیا ہے۔
9 ۔ محترم کیلانی مرحوم کے ساتھ اس آیت کے متعلق میری گفتگو ہوئی تھی جو میں نے اس وقت بطور نوٹ تحریر کرلی تھی اس وقت میں جان بوجھ کر اس کو حذف کررہا ہوں کہ ان کا دروازہ اب بند ہوچکا ہے اور تفسیر ان کی ابھی دستیاب نہیں ہوئی۔ ان حالات میں کچھ کہنا دیانت کے خلاف ہے ہاں ! کوئی بات سامنے آئی تو کسی دوسرے موقعہ پر کی جائے گی۔ ہاں تدبر القرآن میں امین احسن اصلاحی نے جو تاویل کی ہے وہ بھی تاویل کرنے والوں کے لئے رہنما ہو سکتی ہے لیکن ہمارے نزدیک تو تاویل جائز ہی نہیں اس کی وضاحت ہم نے اصول تفسیر میں کردی ہے جو جلد اول میں نقل کئے گئے ہیں۔
Ayah 8:68تمہارے اختلاف کا باعث علم الٰہی میں موجود تھا اس لئے تم پر کوئی الزام نہیں :
91: وحی کا سلسلہ جاری تھا اور تمہارے اختلاف کا بھی اللہ کا علم تھا مصلحت اسی میں تھی کہ وہ اختلاف رونما ہونے سے پہلے تم کو حکم نہ دیا جاتا اور تمہارے اختلاف کے بعد نبی ﷺ کے ذریعہ سے تم کو اطلاع دی جاتی اور تم کو بتلایا جاتا کہ تجارتی قافلہ کی بجائے مشرکین مکہ کے لشکر سے تمہارا آمنا سامنا ہی تمہارے حق میں مفید رہے گا۔ ” اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے حکم نہ ہوچکا ہوتا تو تم کو اس بارہ میں (یعنی اس طرح کا عزم کرنے میں کہ ہم کو تجارتی قافلہ کی طرف بڑھنا چاہئے) جو تم کرنے لگے تھے بھاری عذاب پہنچ کر رہتا۔ “ اور وہ بھاری عذاب یہی تھا کہ بعد میں آنے والے لوگ آپ ﷺ کو مجاہد اور غازی نہ کہتے بلکہ دوسرے ہی نامو سے تم یاد کئے جاتے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ یہ جنگ ہو کر رہے گی کیونکہ اللہ اللہ کا فیصلہ تھا اور اللہ کا فیصلہ نہ رک سکتا ہے نہ روکا جاسکتا ہے جیسا کہ اس سورت کی آیت 44 میں گزر چکا یہ باعث ہوا اس بات کا کہ تم کو کوئی عذاب نہ دیا گیا اگر یہ فیصلہ اللہ کی طرف نہ ہوا ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہی ہوتا اور تم کو کسی مصیبت میں مبتلا کر کے رکھ دیا جاتا۔ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ سے مراد فدیہ کا لینا نہیں بلکہ اس سے مراد وہ کام ہے جو وہ کرنے لگے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسری ہی طرف پھیر دیا اور بجائے قافلہ کو لوٹنے کے مشرکین سے بھڑ گئے اور وہ کامیابی پائی جو آج تک سنہری حروف سے لکھی جا رہی ہے اور قیامت تک لکھی جائے گی۔
Ayah 8:69جو تم کو غنیمت دی گئی ہے وہ تمہارے لئے حلال و طیب ہے بےدھڑک کھاؤ :
92: یہ آیت بھی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا عنداللہ کوئی بری بات نہ تتھی اور نہ یہ کہ وہ اللہ کو پسند نہ ہوئی بالکل نہیں وہ عین حکم الٰہی کے مطابق تھی اس لئے مال غنیمت کا مسئلہ بالک صاف ہوگیا اور وہ غنیم جو قید کر کے لایا گیا ان کا فدیہ بھی اس غنیمت میں شامل ہے۔ اس لئے وہ بھی تمہارے لئے حلال و طیب ہے۔ یہ جو کہا جاتات ہے کہ اس حکم کے بعد مال غنیمت حلال ہوا اور یہ حکم غزوہ بدر سے مال حاصل کرنے کے بعد ہے اس لئے اس وقت مال کا جمع کرنا اور فدیہ کا وصول کرنا جائز نہیں تھا ایک فرضی بات ہے ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم تو سورة محمد میں غزوہ بدر سے پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ اس لئے اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق فقہاء کے ہاں کیا کچھ ہوتا رہا اور کہاں کہاں سے کیا کیا استدلال کیا گیا لیکن اگر اسلام میں جس چیز کی اولیت ہے اس کو اولیت اور جس کی حیثیت ثانچی ہے اس کو درجہ ثانی پر رکھا جاتا تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوئی ۔ ہمارے ہاں ایک یا دو باتیں نہیں اکثر و بیشتر باتوں میں اصولوں کو فروع اور فروعات کو اصول بنا کر رکھ دیا گیا اور یہ بات سے بات نکالتے ہم ایسے محو ہوئے کہ کہیں سے کہیں نکل گئے اور پیچھے مڑ کر کبھی نہ دیکھا۔ ہمیں بزرگوں کا حترام ہے اور ان کا احترام کرنا چاہئے لیکن لکیر کے فقیر ہونا کوئی کمال کی بات نہیں اور رہی تمہارے اختلاف کی بات جو اس وقت رونما ہوا تھا وہ بدر میں پہنچتے ہی پہلی تفہیم میں ختم ہو کر رہ گیا اور اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کو بخشنے والا اور ان سے بہت پیار کرنے والا ہے جو تم سے ہوا جب اس کے معاف کرنے کا اعلان کردیا تو تب تم کو اس سلسلہ میں بےفکر و بےغم ہی رہنا چاہئے اللہ ایسا نہیں ہے کہ ایک بار معاف کرنے کے بعد تم کو اس معاملہ میں گرفت کرے اس سلسلہ میں تم بالکل بےفکر رہو۔
Ayah 8:70بدر کے قیدیوں کو بھی تسلی دی کہ تم کو اس سے بھی زیادہ ملے گا جو تم نے اس وقت دیا :
93: اللہ تعالیٰ کے فضل بےپایاں کا کون اندازہ کرسکتا ہے کہ انسان کتنے ہی جرم کرتا جائے اور کتنی ہی بد اعتدالیاں کرچکا ہو آخر اللہ کا تو وہ بندہ ہی ہوتا ہے اور اس کی حکمت کا کیا کہنا اس رقم سے جو بدر کے قیدیوں سے وصول کی گئی تھی یقیناً ان کو تکلیف پہنچی ہوگی کیونکہ مال کے ساتھ محبت تو ہر ایک کو ہوتی ہے پھر کفار کو تو ویسے بھی بےانداز محبت تھی اس آیت میں ان کی بھی دلجوئی فرمادی اور اعلان کردیا کہ بدر کے قیدیو ! اگر وہ وقت نہیں رہا جب تم مکہ سے بڑے طمطراق کے ساتتھ نکل رہے تھے تو یہ وقت بھی یقیناً نہیں رہے گا اور تم کو جلدی آزاد کردیا جائے گا۔ رہی یہ بات کہ تم نے جو اس وقت فدیہ پیش کیا وہ تم گراں گزرتا ہو ، نہیں اگر تم میں کوئی خیر اللہ نے دیکھی یعنی تم سے کوئی خیر و بھلائی کی بات ہوئی تو تمہارا یہ اس وقت ادا کیا ہوا فدیہ کوئی اتنی بڑی رقم نہیں کہ تم کو واپس نہ لوٹائی جاسکتی ہو تو یقیناً اگر تم نے اپنے آپ پر نظر ثانی کی اور حق و ناحق کی شناخت کرنے کی کوشش کی تو تم کو اس سے زیادہ مال واپس دلا دیا جائے گا لیکن اللہ کے ہاں قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور یہ اس کا قانون ہے کہ آج تم اس مقام پر ہو کہ تم کو دینا پڑ رہا ہے اور کل ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ اس مال کے تمہارے سامنے ڈھیر لگا دیئے جائیں اور تتم کو مالا مال کردیا جائے تمہارے دلوں کے رازوں سے اللہ واقف ہے۔ تم آزادی کے ساتھ اپنا نفع و نقصان دیکھو اور غور کرو کہ تم کو کیا کہنا چاہئے اور حالات کا تقاضا کیا ہے۔ تاریخ و حدیث کا مطالعہ ہم کو بتا دیتا ہے کہ ان میں کتنے ہی تھے جو بعد میں ایمان لائے اور کتنے ہی تھے جن کو اللہ نے فی الواقع مالا مال کردیا اور انہوں نے اسلام میں داخل ہو کر اسلام کی کتنی خدمت کی اور اسلام نے ان کو اخروی فائدوں کے ساتھ کتنے دینوی فوائد پہنچائے۔ ان سب میں سے حضرت عباس ؓ کا ذکر تو اکثر مفسرین نے بڑی تفصیل کے ساتھ کیا ہے کہ اس فدیہ کے ادا کرتے وقت انہوں نے کیا کچھ کہا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اپنا چچا کو کیا جواب سنائے گئے پھر بعد میں جب عباس ؓ مسلمان ہوگئے تو انہوں نے دین کی کیا کیا خدمت سرانجام دیں اور ان کو اسلام کی طرف کیا کیا فائدے پہنچائے گئے اور ان کی دنیا اور آخرت کو کس طرح سنوار دیا گیا۔ یہ داستان بہت طولانی ہے۔
یہ آیت بھی اس کی پوری وضاحت کر رہی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا جنگی قیدیوں سے فدیہ طلب کرنا کسی حکم کے خلاف ورزی نہیں تھی اور نہ ہی ان سے فدیہ طلب کرنا دینی مصلحت کے خلاف تھا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو یہ بات کبھی ناپسند تھی بلکہ اس کے برعکس اس آیت نے یہ واضح کردیا کہ ان جنگی قیدیوں سے فدیہ طلب کرنا عین منشائے خداوندی تھا اور پھر جو کچھ ان سے وصول کیا گیا وہ بھی کوئی تعویذات کی کمائی نہیں تتھی اور نہ جھاڑ پھونک کا حل تھا یہ مال حلال و طیب تھا لشکر اسلامی میں یہ تقسیم کیا گیا اور بعد میں ان میں سے جو مسلمان ہوگئے ان کو بھی اسلام قبول کرنے کے بعد بیسیوں گنا مال عطا کیا گیا۔ لیکن جو کچھ ہوا کسی اندھے قانون کے مطابق نہیں ہوا بلکہ صحیح اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہوا۔
Ayah 8:71بدر کے قیدیوں میں سے مسلمان ہوجانے والوں کی طرف سے جو خطرات تھے ان کو رفع کردیا :
94: پیغمبر اسلام ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے سارے اہل کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ نے جب اللہ کے حکم کے مطابق ان کو قتل نہیں کیا بلکہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا تو گویا ایک طرح کا ان پر احسان کیا لیکن ان میں سے کوئی ایسا احسان فراموش ہوا کہ وہ دوبارہ آپ کے ساتھ لڑنے کے لئے اپنے لوگوں کے ساتھ شریک ہوا یا یہاں رہ کر جو انہوں نے آپ کے قریب کی بہتے باتیں جان لیں اور کتنی جگہوں سے واقفیت حاصل کرلی اور اس واقفیت کی بناء پر اہل اسلام دکھ پہنچانے کی کوشش کی تو گویا اس طرح وہ خیانت کے مرتکب ہوئے تو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اپنی شامت بلائیں گے اور جس اللہ نے آپ کو پہلے ان پر فتح دی ہے اور ان کو تمہارے قبضہ میں دے دیا وہ دیکھ رہا ہے وہ ایسا دوبارہ بھی کرسکتا ہے اور اس کے عذاب دینے کی اور بھی کئی صورتیں موجود ہیں اس کو کسی کے عذاب میں مبتلا کرنے میں آخر کتنی دیر لگتی ہے ؟
ان دونوں آیتوں پر ایک بار پھر غور کرو تو آپ پر یہ بات روشن ہوجائے گی کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر جو چھوڑ دیا تو وہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند تھی اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے ان قیدیوں کو پیغام بھجوا دیا کہ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس احسان کی قدر کی تو اس سے ان کے لئے قبول اسلام اور مغفرت کی راہیں کھلیں گی پھر غور کیجئے کہ کہاں وہ بات و مفسرین نے بعض تفسیری روایات کی بناء پر اختیار فرمائی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ پر اس بات کے لئے عتاب ہوا کہ اچھی طرح خون بجائے بغر تم نے قیدی کیوں پکڑے اور پھر ان سے فدیہ کیوں قبول کیا ؟ بات کیا تھی اور اس کو کیا بنا دیا گیا اور پھر کس وادی میں گھومتے پھرے۔
Ayah 8:72مہاجرین و انصار کے مجاہدین کی تعریف اور مناقب کی آیت :
95: اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اسلام قبول کرنے کے بعد شیر و شکر ہوگئے اور ایک دوسرے پر جتنے شکوے تھے یک قلم کافور ہوگئے۔ اسلام کی دعوت نے باہمی الفت و سزاگاری کی جو روح پھونک دی تھی اس کا ایک عجیب و غریب منظر تاریخ نے آج تک محفوظ رکھا۔ نو مسلموں کا باہمی بھائی چارہ تھا جسے عربی زبان میں مواخاۃ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی اسلام کے رشتہ سے ایک نو مسلم دوسرے نو مسلم کا بھائی ہوجاتا تھا اور پھر ساری باتوں میں دونوں ایک دوسرے کی شرکت و ملکیت کے ویسے ہی حق دار ہوجاتے جیسے حقیقی بھائی ہوتے ہیں حتیٰ کہ اگر مرجائے تو دوسرا اس کا وارث ہوجاتا۔ یہ مواخاۃ دو مرتبہ ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں جو صرف مہاجرین کے درمیان ہوئی تھی دوسری مرتبہ مدینہ میں اور یہ مہاجرین و انصار کے درمیان ہوئی تھی یعنی مکہ کے جو لوگ ہجرت کر کے آئے ان میں اور مدینہ کے نو مسلموں میں ایک قول کے مطابق یہ نوے آدمی تھے اور ایک قول کے مطابق ایک سو آدمی تھے۔ زیر نظر آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے : اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا سے ٰاہر ہے کہ مہاجرین ہی مراد ہیں اوراٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا سے انصار۔ ان دونوں گروہوں کا ذکر ان کے اسماء و اعلام کی بجائے ان کی صفات اور ان کی دینی خدمات سے کیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس نئی سوسائٹی میں خاندان اور حسب و نسب کی عصبت کے بجائے ، اعتبار صرف ایمان و اسلام اور ہجرت و جہاد کا ہوگا۔ یہ ایک دوسرے کے دل یعنی حامی وناصر ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حمایت و نصرت اہل کفر کے مقابلہ میں ہے یہ بات اگرچہ بیان واقعہ کے اسلوب میں ہوئی ہے لیکن اس کے اندر امر کا مضمون بھی پوشیدہ ہے یعنی یہ حکم ہے کہ اہل کفر کے مقابلہ میں اہل ایمان ایک دوسرے کے حامی ومددفار بن کر کھڑے ہوں اور جب ضرورت پیش آئے تو ایک دوسرے کی حمایت و مدافعت کریں اور یہ جو وراثت نافذ نہیں ہوا تھا بعد میں جب قانون بن گیا اور نافذ ہوگیا تو وقتی چیزیں خود بخود ختم ہوگئیں اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ عندالضرورت جو قانون بنایا جائے وہ ضرورت ختم ہوجانے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ وہ ایک وقت ہی کے لئے نافذ ہوا تھا۔ یہ بات اگر یاد رہے تو کتنی مشکلات ہیں اور کتنے اختلافات ہیں جو خود بخود ختم ہوجاتے ہیں لیکن علمائے اسلام ایسی باتوں پر کم ہی دھیان دیتے ہیں جن سے جھگڑا ختم ہوتا نظر آتا ہو ہاں ! اس کے برعکس کوئی جھگڑا پیدا کرنے کی بات سامنے آئے تو بہت تفصیل کریں گے اور اس کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیں گے اور علم کا سارا زور اس پر صرف کردیں گے۔ اس طرح کے گھجڑے ان کی گھٹی میں داخل ہیں۔ اس بات کو اقبال (رح) نے اپنے انداز میں اس طرح بیان کیا :
میں بھی حاضر تھا وہاں ضبط سخن کر نہ سکا حق سے جب حضرت ملا کو ملا حکم بہشت
عرض کی میں نے الٰہی میری خطا معاف خوش نہ آئیں گے اسے حور ب بہشت لب کشت
ہے یہ آموزئی اقدام و ملل کام اس کا اور جنت میں نہ مسجد نہ کلیسا نہ کنشت (اقبال)
ہاں ! جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر ہجرت نہیں کی ان سے دوسری کی ابھی ممانعت ہے :
96: بلاشبہ مسلمانوں کی بڑی تعداد ہجرت کر کے مدینہ میں آئی تھی لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو موانع و مشکلات سے بےبس ہو کر مکہ ہی میں پڑے رہے چونکہ وہ ابھی مہاجرین میں شامل نہیں ہوتے تھے اور ہجرت کر کے مدینہ آنے والوں کو یہ حکم نہیں تھا کہ وہ دوبارہ دارال ہجرت میں جا کر آباد ہوں بلکہ ان کے لئے حکم یہ تھا کہ وہ کہیں بھی مکہ میں جا کر آباد نہیں ہو سکتے اس لئے یہاں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے ، اپنا گھر بار چھوڑا ، اجان و مال سے راہ ہق میں جہاد کیا تو وہ خواہ کسی قبییلہ اور کسی حلقہ کے ہوں ایک ہی برادری کے افراد ہوگئے یعنی جاں نثار ان ہق کی برادری کے ان کا ہر فرد دوسرے فرد کا حامی و ناصر اور رفیق و مددگار ہوگا اور فرمایا کہ دوستی اور رفاقت پر تمہاری ساری کامیابیوں کا دارومدار ہے۔
لیکن جو ایمان تو لائے مگر ابھی تک ہجرت نہ کرسکے تو ظاہر ہے کہ اس رشتہ کے حقوق میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ہجرت کر کے تم سے آ نہ ملیں۔ فرمایا ہاں ! اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے کسی طرح کی مدد چاہیں تو تمہارا فرض ہے کہ ان کی مدد کرو ، محض اس وجہ سے کہ وہ ابھی تک ہجرت نہ کرسکے ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمہاری مددگاری کے دینی حق سے وہ بھی محروم ہوجائیں۔ البتہ یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اپنے عہد و پیمان کا وفادار رہنا مسلمانوں کا سب سے پہلا فرض ہے پس وہ اگر کسی ایسے غیر مسلم گروہ کے مقابلہ میں مدد چاہیں جس سے تم صلح کا عہد و پیمان باندھ چکے ہو تو تمہارے لئے جائز نہ ہوگا کہ ان کی مدد کے لئے عہد شکنی کرو ، نتیجہ خواہ کچھ نہ نکلے لیکن اپنے قول وقرار پر قائم رہنا چاہئے۔
اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مدینہ آکر پیغمبر اسلام نے مدینہ اور اطراف مدینہ کی مختلف کماعتوں سے باہمی صلح و سازگاری کا معاہدہ کیا تھا جو معاہدہ صحیف کے نام سے مشہور ہوا۔ صحیفہ کے اکثر فریق عہد شکنی کرچکے تھے لیکن ابھی تک مسلمانوں کی طرف سے انفساخ کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ اس سے اندازہ کرلو کہ قرآن کریم نے ایفائے عہد کا اگرچہ وہ مخالفوں ہی کے ساتھ ہو اور اگرچہ اس کی وجہ سے اپنوں کی مدد کی جاسکے کس درجہ لحاظ رکھا ہے ؟ فرمایا اگر تم نے بھی عہد و پیمان کا پاس نہ کیا تو ملک میں فتنہ پیدا ہوگا اور بہت بڑء خرابی پھیلے گی اس لئے کہتے ہیں تاڑی دو ہتھڑ بجتی ہے ایک ہاتھ کے ہلنے سے کبھی آواز پیدا نہیں ہوتی۔ جن سے تم نے معاہدہ کیا اور انہوں نے معاہدہ توڑ دیا اور تم نے ان کو صرف تنبیہ کی اگر تم بھی وہی کچھ کرتے جو انہوں نے کیا تھا تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ؟
Ayah 8:73کفر کی راہ اختیار کرنے والے بھی آپس میں ایک دوسر کے معاون و مددگار ہیں :
97: اس آیت میں ایمان والوں کی تحریک کی گئی ہے کہ دیکھو کفر پر قائم رہنے والے جن کے پاس اصلاح نام کی کوئی چیز موجود نہیں وہ بھیا یک دوسرے کے معین و مددگار ہیں اور ہر لحاظ سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تمہاری خبریں ان تک پہنچاتے ہیں ، ان کی مالی مددو اعانت کرتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے شریک ہیں تو پھر تم آخر ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرو گے ؟ تمہارا تتو مطمع نظر صحیح اور درست ہے اور پھر یہ بھی کہ تمہارا دین۔ تمہارا رب ، تمہارا رسول ، تمہاری کتاب سب کچھ ایک ہے۔ اگر تم نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہ کی یا دوسری قوموں کے ہاتھ معاہدات کا پاس نہ کیا تو پھر فساد پھیلے گا اور حالات خراب ہوں گے اس لئے اس وقت سب سے بڑھ کر اس بات کی ضرورت ہے کہ امن قائم ہو اور سارے مسلمان آپس میں ایک جسم و جان کی طرح ہوجائیں کیونکہ یہ اسلام کی روح اور دین کی جان ہے۔
Ayah 8:74مہاجرین و انصار ہی دراصل ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں :
98: اسلام ہی وہ شے ہے جو سارے رشتوں سے بڑا رشتہ ہے اور اس میں منسلک ہونے والے ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی وہ رشتہ ہے جس نے سارے حسب و نسب کے رشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا جیسا کہ بدر میں تم نے دیکھا یہی معرکہ کارزار ہے جس میں مہاجرین مکہ کا بہت بڑا سخت امتحان لیا گیا لیکن بحمداللہ وہ اس سے پاس نکلے کیونکہ یہی وہ معرکہ ہے جس میں اپنے حقیقی بھائی ایک دوسرے کے سامنے صف آراء تھے۔ کسی کا باپ ، کسی کا بیٹا ، کسی کا چچا ، کسی کا ماموں اور کسی کا حقیقی بھائی اس کی اپنی تلوار کی زد میں تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کاٹنے پڑ رہے تھے۔ اس کڑی آزمائش سے صرف وہی لوگ گزر سکتے تھے جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ حق سے رشتہ جوڑا ہوا تھا اور باطل کے ساتھ سارے رشتے قطع کر ڈالنے پر تل گئے ہوں اور اس طرح انصار کا امتحان بھی کچھ کم نہ تھا اب تک تو انہوں نے صرف یہ تصور کیا تھا کہ عرب کے سب سے زیادہ طاقتور قبیلے قریش اور اس کی حلیف قبائل کی دشمنی صرف اس حد تک ہی تھی کہ مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی لیکن اب تو وہ اسلام کی حمایت میں ان کے خلاف لڑ بھی چکے تھے ان کے بڑے بڑے بہادروں کو میدان کارزار میں تہ تیغ کیا تھا اور وہ کتنے تھے جن کو وہ باندھ کر مدینے طیبہ لے گئے تھے۔ ایسے حال میں ان مہاجرین اور انصار کا جو رشتہ قائم ہوا تھا ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی رشتہ نہ رہا اور یہی لوگ صحیح معنوں میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار تھے یہ تو ان کا دنیا کا حال تھا اور آخرت بھی ان ہی دونوں گروہوں کی سنور رہی تھی کیونکہ ان کو بخشش کی خوشخبری سنائی گئی اور ان سے عزت کی روزی کا وعدہ رب العزت سے بندھ گیا جس سے زیادہ کوئی وعدہ کا پکا نہیں ہو سکتا کہ نہ ہی وہ وعدہ کے خلاف کرتا ہے اور نہ ہونے دیتا ہے۔
Ayah 8:75دارالکفر کے مسلمانوں کو دارال ہجرت کی طرف آنے کی ترغیب :
99: اس آیت میں دارالکفر کے مسلمانوں کو ہجرت کا شوق دلایا گیا ہے کہ تمہارے لئے بھی اسلامی حکومت کے دروازے کھلے ہیں اس کی طرف سبقت کرو اور اسی میں اپنا مقام حاصل کرو اور اپنے بھائیوں سے مل بیٹھو اور دارالسلام کے مسلمانوں کو بھی ہدایت دی کہ دیکھو جن لوگوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی اب اگر وہ ہجرت کر کے تم سے مل جائیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو آسائش و آرام آپ کو مل چکا ہے اگر آج بھی اس سے مستفید ہونا چاہیں تو ان کے لئے تمہارے دلوں میں ویسی محبت ہونا چاہئے جیسی محبت کے وہ مستحق ہیں۔
قرابت دار اللہ کے حکم میں ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق دار ہیں :
100 : فرمایا دیکھو اخوت و بھائی چارہ کا اپنا مقام ہے لیکن اسلام قریب کی رشتہ داریوں کو ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ ودستور ان کا احترام کرتا ہے ۔ رشتہ داریوں کے حقوق جو اللہ نے قائم کئے ہیں وہ اپنی جگہ بدستور قائم رہیں گے۔ ان رشتہ داریوں میں مانع کیا تھا ؟ کفر پر جو لوگ ایمان لائے اگرچہ انہوں نے ابھی تک ہجرت نہ کی تھی لیکن رشتہ داریوں کے لحاظ سے وہ تمہارے ویسے ہی عزیز و اقارب ہیں ان کے دلوں میں اگر تمہاری محبت ہے تو وہ ضرور تمہاری طرف ہجرت کری گے اور اگر اب بھی وہ ہجرت کر آئیں تو ان کا اولو الارحام کا رشتہ بدستور قائم رہے گا اور وہ میراث کے زیادہ حق دار ہیں۔
ہجرت کے بعد مواخار کا رشتہ ایک حقیقی رشتہ بن گیا تھا کوئی انصاری مرتا تو اس کی جائیداد اور مال مہاجر کو ملتا جو مواخات میں اس کا بھائی قرار دے دیا ہوتا اور بھائی بند محروم رہتے۔ اس لئے قرآن کریم میں جنگ بدر کے بعد جب مہاجرین کو اعانت کی ضرورت نہ رہی تو یہ آیت اتری : وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ ارباب قرابت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔ اس وقت وہ قاعدہ جاتا رہا۔ چناچہ کتب احادیث میں اس کی تشریح و تصریح موجود ہے۔
4 ہجری میں جب بنو نضیر جلا وطن ہوئے اور ان کی زمین اور نخلستان قبضہ میں آئے تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے انصار کو بلا کر فرمایا کہ مہاجرین نادار ہیں۔ اگر تمہاری مرضی ہو تو نئے مقبوضات تنہا ان کو دے دیے جائیں اور تم اپنے نخلستان واپس لے لو ! انصار نے عرض کی کہ تمہیں ہمارے نخلستان بھائیوں ہی کے قبضہ میں رہنے دیجئے اور نئے مقبوضات بھی انہی کو عنایت فرمائیے (فتوح البلدان صفحہ 20) بلاشبہ دنیا انصار کے اس ایثار پر ہمیشہ ناز کرے گی لیکن یہ بھی دیکھو کہ مہاجرین نے کیا کیا ؟ حضرت سعد بن ربیع ؓ نے جو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ایک ایک چیز کا جائزہ دے کر نصف لے لینے کی درخواست کی توا نہوں نے کہا اللہ یہ سب آپ کو مبارک کرے مجھ کو ضرف بازار کا راستہ بتا دیجئے۔ انہوں نے قنیقاع کا (جو مشہور بازار تھا) جا کر راستہ بتا دیا۔ انہوں نے کچھ گھی اور کچھ پنیر خیرا اور شام تک خریدو فروخت کی ۔ چند روز میں اتنا سرمایہ ہوگیا کہ شادی کرلی (صحیح بخاری کتاب البیوع)
رفتہ رفتہ ان کی تجارت کو وہ ترقی ہوئی کہ خود ان کا قول تھا کہ خاک پر ہاتھ ڈالتا ہوں تو وہ سونا بن جاتی ہے۔ ان کا مال تجارت سات سات سو اونٹوں پر لاد کر آتا تھا۔ اور جس دن مدینہ شریف پہنچتا تمام شہر میں دھوم مچ جاتی۔ (ابن سعد ج 3۔ ص۔ 13) اس طرح بعض دوسرے صحابہ نے بھی دکانیں کھول لیں۔ حضرت ابوبکر کا کارخانہ مقام سخ میں تھا جہاں وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ (اسد الغابہ ج 3 ض 314 ، 315) اس طرح حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی تجارت کا کاروبار شروع کیا اور آپ کی تجارت ایران تک پہنچ گئی اور حضرت عثمان ؓ بازار میں کھجور کی خریدو فروخت کرتے تھے۔ (مسند احمد جنبل )
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ پر لوگوں نے جب کثرت روایت کی بنا پر اعتراض کیا اور کہا کہ اور صحابہ ؓ تو اس طرح روایت نہیں کرتے تو انہوں نے ان کو جواب دیا کہ اس میں میرا کیا قصور ہے جب لوگ بازار میں تجارت کرتے تھے تو میں اس وقت رات دن بارگاہ رسالت ﷺ میں رہتا تھا۔
اسلامی مواخاۃ اپنی جگہ قائم رہے گی لیکن اس کا مطلب یہ ہاگز نہیں کہ جو رشتہ داریاں کتاب و سنت نے مقرر کی ہیں وہ کتاب وہ سنت کے ماننے والوں میں بھی اس کا لحاط اور پاس نہ رکھیں پھر سن لو کہ اولوالارحام کے شرعی حقوق اپنی جگہ بدستور قائم ہیں اور وہی ایک دوسرے کے وارث قرار پائیں گے۔ اگر انہوں نے بعد میں ہجرت کی ہے تو اس سے رشتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور الاقرب فالا قرب کا ضابطہ شرع اپنی جگہ قائم ہے جیسا کہ قانون وراثت میں بیان ہوچکا۔ بلاشبہ اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس کا کس رشتہ میں منسلک ہے۔ وہ مواخاۃ کے مقام سے بھی واقف ہے اور رشتہ داریوں اور قرابت کے تعلقات بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔
اور ان رشتہ داریوں کے حقوق اور میراث بھی ان کے حصص کا ذکر سورة النساء میں نازل ہوچکا انہی رشتہ داروں میں کچھ ذوی الفروض ٹھہرائے گئے جن کے حصص مقرر کردیئے گئے اور ذوی الفروض آپس میں ایک دوسرے کی میراث میں کمی بیشی کے ذمہ دار بھی ٹھہرائے گئے ہیں اور ذوی الفروض کے علاوہ ذوی الارحام اور عصبات کی تفصیل بھی سورة النساء ہی میں ملے گی جہاں وراثت کا مکمل طور پر باین موجود ہے اور اس مضمون پر سورة الانفال ختم ہوتی ہے اور یہ جو کچھ بیان ہوا محض اللہ کے فضل و کرام سے ہوا ورنہ مجھے معلوم ہے کہ میں کیا ہوں ؟ مٹی کا ایک ڈھیر۔ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (رح) 0010