Ayah 8:42قرآن کریم نے چند لفظوں میں میدان بدر کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا :
56: فرمایا غور کرو کہ کس ٹھیک وقت پر اللہ نے تم کو دشمن کے مقابلہ کے لئے محاذ جنگ میں پہنچایا کہ وادی کے اس قریبی سرے پر تم تھے اور وادی کے اس دور کر دو سرے سرے پر قریش مکہ کا لشکر تھا اور عین اس وقت مشرکین کا تجارتی قافلہ جو ابو سفیان کی معیت میں آرہا تھا نیچے ساحل سمندر کی طرف سے گزر رہا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو قریشی فوج اور تجارتقافلہ کی آمد کا پورا نقشہ اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھا دیا تھا اور اسی رویا کے مطابق آپ ﷺ مدینہ سے نکلے اور ٹھیک وقت پر آپ ﷺ وادی بدر میں پہنچ گئے جب قریش کی فوج قافلہ کی حفاظت کے بہانے وادی کے دو سرے کنارے پر پہنچی۔ کسی فوج کا دشمن کے مقابلہ کے لئے ٹھیک وقت پر اپنے موقع و محل پر پہنچ جانا کوئی معمولی بات نہیں اس حقیقت کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنگ کا سارا انحصار اس پر ہوتا ہے اور معمولی تاخیر بھی بسا اوقات شکست کا باعث بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت کہ دونوں لشکر تمہارے بالکل قریب تھے لیکن اللہ نے تمہارے دلوں کو کیسا مصبوط کیا کہ تم نے اس تجارتی قافلہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا جس کے لئے تم میں سے کتنا لوگوں کے دل للچائے ہوئے تھے اور اس سے پہلے اس طرف نظریں جمی ہوئیں تھیں۔ اس طرح مختصر سے لفظوں میں میدان بدر کا پورا نقشہ بھی آنکھوں کے سامنے پیش کردیا کہ وادی بدر کے ایک طرف تم اور دوسری طرف کفار مکہ تھے۔ اور دنوں لشکر ایک دوسرے کو اچھی طرح دیکھ بھی رہے تھے اور بلاوجود اس کے تم مسلمان نہتے بھی تھے اور تعداد میں بھی تیسرا حصہ لیکن اللہ نے تمہارے دلوں کو کیسا مضبوط کیا اور سارے حالات کس طرح تمہارے موافق پیدا کردیئے اور تم بڑے اطمینان اور قلبی تسکین کے ساتھ مشرکوں کے مقابلہ میں صف آرا ہوئے۔
مدینہ میں تمہارے ساتھ اس جماعت کا وعدہ طے ہوتا تو تم آپس میں اختلاف کر جاتے :
57: مطلب یہ ہے کہ مدینہ سے نکلتے وقت جن لوگوں کے ذہن میں اس قافلہ کی مزاحمت کی بات تھی ان پر واضح کردیا جاتا کہ ہمارا ارادہ مشرکین کی جماعت کے دفاع کا ہے تو عین ممکن تھا تمہارے اندر کوئی ایسا اختلاف رونما ہوجاتا کہ جس کے نتائج تمہارے حق میں اچھے نہ نکلتے۔ اللہ نے جو بات رسول اللہ ﷺ پر روشن کی تھی آپ ﷺ نے ان کو اس وقت آنے سے پہلے واضح نہ فرمایا اور نہ ہی اس اپنے نظریہ کے خلاف کوئی بات منہ سے نکالی بلکہ عین حکمت عملی کے ساتھ مشرکین کے مقابلہ میں پہنچ کر اللہ کے حکم سے جب اجازت ہوئی تو لشکر اسلام کے سارے نمازیوں کو اکھٹا کر کے اپنے عزم و ارادہ اور مشیت الٰہی کے فیصلہ سے نیک وقت لوگوں کو مطلع کردیا اور ان کو واضح طور پر اطلاع دے دی کہ اس میدان میں اللہ کے حکم سے جیت تمہاری ہے اور وہ سارے حالات جو اس وقت آپ کو اپنے خلاف نظر آرہے ہیں کل صبح آنے سے پہلے پہلے تمہارے حق میں درست ہوجائیں گے اور پھر ایک ایک بات اور ایک ایک حرکت اسی طرح معرض وجود میں آئی جس طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا اور میدان بدر کا یہی وہ معجزہ ہے جو آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ دکھائی دے رہا ہے جیسا کہ وہ اپنے وقت پر نظر آیا تھا۔
قدرت الٰہی کے ہاتھ نے کیا کیا ؟ قدرت کے مستحکم ہاتھ نے دونوں طرف ایسے حالات پیدا کردیئے کہ زیادہ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا مکہ والوں کو تو ابو سفیان کے قافلہ کی گھبرائی ہوئی فریاد نے ایک ہولناک صورت میں سامنے آکر بلا سوچے سمجھے چلنے پر آمادہ کردیا اور وہ جذبات ہی میں مکہ سے نکل آئے اور بعض مسلمانوں کو اس خیال نے کہ ہمارے سامنے کوئی جنگی ملسح لشکر نہیں ایک معمولی تجارتی قافلہ ہے مگر اس دانا و بینا ذات کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس ذات الٰہ کا فیصلہ کیا ہے ؟ یہی کہ ددونوں گروہوں میں باقاعدہ جنگ ہوجائے تاکہ اس جنگ کے پیچھے جو نتائج فتح اسلام کے ظہور میں آنے والے ہیں وہ جلد آجائیں۔ اس لئے ارشاد فرمایا : وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا 1ۙ۬ یعنی ان حالات کے باوجود جنگ اس لئے ہو کر رہی کہ اللہ تعالیٰ کو جو کام کرنا ہے اس کی تکمیل کر دکھائے اور کام کیا تھا ؟ یہی کہ ایک ہزار نوجوانوں کے مسلح باسامان لشکر کے مقابلہ می تین سو تیرہ بےسرو سامان ، نہتے اور فاقہ زدہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت اور وہ بھی محاذ جنگ کے اعتباد سے بےموقع جب اس پہاڑ سے ٹکراتی ہے تو یہ پہاڑ پاش پاش ہوجاتا ہے اور یہ چھوٹی سی جماعت فتح مند ہوتی ہے جو کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ ہے کہ اس جماعت کی پیٹھ پر کوئی بڑی طاقت اور قدرت کام کررہی تتھی جس سے یہ ہزار کا لشکر محروم تھا اور یہ بھی واضح ہے کہ اس کی تائید کا سبب اسلام ہے اور اس کی محرومی کا باعث کفر۔ کاش کہ آج بھی قوم مسلم اس حقیقت کو سمجھ جائے اور ان مشرک قوموں سے ڈرنے کی بجائے اللہ کا ڈر اختیار کرلے اور آج بھی کامیابی یقیناً ان کے قدم چوم لے۔
یہ اس لئے کہ جس کو زندہ رہنا ہے دلیل سے رہے اور مرنے دلیل سے مرے :
58: فرمایا کہ اس میدان میں ان دونوں گروہوں کو لا کھڑا کردیا گیا تو اس کی اصل وجہ کیا تھی ؟ فرمایا اس لئے کہ ” جسے ہلاک ہونا ہے اتمام حجت کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہنے والا ہے اتمام حجت کے بعد زندہ رہے ، یعنی واقعہ بدر میں اسلام کی کھلی حقانیت اور کفر و شرک کے باطل و مردود ہونے کو اس لئے کھول دیا گیا کہ آئندہ جو ہلاکر میں پڑے وہ دیکھ بھال کر پڑے اور جو زندہ رہے وہ بھی سمجھ سوچ کر رہے۔ اندھیرے اور مغالطہ میں کوئی کام نہ ہو اور اسی ہلاکت سے مراد کفر اور حیات و زندگی سے مراد اسلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد غلط فہمی کا احتمال اور عذر تو ہوگیا اب جو کفر اختیار کرتات ہے وہ دیکھتی آنکھوں ہلاکت کی طرف جا رہا ہے اور جو اسلام اختیار کرتا ہے وہ دیکھ بھال کر دائمی زندگی اختیار کررہا ہے۔ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر اسلام کو زندگی اور کفر کو موت قرار دیا ہے اور یہ ایک حقیقت بھی ہے لیکن ہمارے اکثر و بیشتر مفسرین اور علمائے دین اس سے انکار کر جاتے ہیں لیکن قرآن کے چند مقامات ایے بھی ہیں جن پر مفسرین ایسا ہی تسلیم کرتے ہیں اور زیر نظر آیت کا یہ مقام بھی ان ہی مقامات میں سے ایک ہے جہاں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے سب کے سب تیار ہیں۔ فالحمدللہ علی ذلک
اس آیت کا اختتام اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ0042 پر ہوا یعنی اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ، جاننے والا ہے کہ سب کے دلوں میں چھپا ہوا کفر و ایمان تک اس کے سامنے ہے اور ہر ایک کی سزا و جزا بھی وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ مطلب یہ کہ خیال کرو کہ کہاں تم اور قریش کا لشکر ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کو سب کے بھید اور راز معلوم تھے اور وہ سب کی سرگوشیاں سن رہا تھا اور سب کے ارادے اس کو معلوم تھے اس لئے سب نے ایک جگہ جمع کر کے وہ باتت پوری کر دکھائی جو اس نے طے کرلی تھی اس لئے کہ وہ سمیع بھی ہے علیم بھی۔
Ayah 8:43وہی ہے جس نے کفار کی تعداد تھوڑی کر کے دکھائی اگر زیادہ دکھا دیتاتو کیا ہوتا ؟
59: یہ گویا اللہ تعالیٰ کی مخفی تدبیروں میں سے ایک تدبیر تھی کہ ” اس نے تجھے اے پیغمبر اسلام ! خواب میں ان کی تعداد تھوڑی کر کے دکھائی اور اگر انہیں بہت کر کے دکھاتا تو مسلمانو ! تم ضرور ہمر ہار دیتے اور اس معاملہ میں جھگڑنے لگتے اور اللہ نے تم کو اس صورت حال سے بچا لیا۔ یقین کرو کہ جو کچھ انسان کے سینے میں چھپا ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم سے پوشیدہ نہیں۔ “ باقاعہ جنگ شروع ہونے سے قبل ہی اللہ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو کو اب میں کفار کی تعداد تھوڑی دکھائی اور نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو قلیل التعداد جماعت ہی کی حیثیت سے ان کو اپنے خواب کے باعث بیان کیا اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ یہ قلیل التعداد گروہ مسلمانوں سے شکست کھا جائے گا۔ آپ ﷺ نے جو دیکھا وہی لوگوں کے سامنے بیان کیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ اس لئے کیا کہ اگر ان کو کثیر تعداد ہی میں دکھایا جاتا یا جتنے کہ وہ تھے اتنے ہی دکھائے جاتے تتو بھی وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں تین گنا تھے۔ آپ ﷺ بھی لوگوں تتک وہی بات پہنچاتے جس کا اثر یقیناً مسلمانوں سے کمزور لوگوں پر اچھا نہ پڑتا اور وہ ہمت ہار بیٹھتے عین ممکن تھا کہ رزم گاہ میں اترنے پر ہی اختلاف ہوجاتا۔ اس تدبیر نے گویا مسلمانوں کے دلوں میں جو کچھ کمزوری تھی وہ بھی ختم کردی اور یہ ایک فطرتی بات ہے۔
ہاں ! اس سے بعض لوگوں نے جو یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بعض اوقات انبیائے کرام کو بھی خواب میں کوئی چیز خلاف واقعہ دکھا دی جاتی ہے جیسا کہ اس مواقعہ پر ہوا ان کا یہ استدلال بالکل صحیح نہیں۔ رویا میں جو کچھ دکھایا گیا وہ بطور نتیجہ کے تھا اور نتیجہ اس خواب کا وہی نکلا جو خواب دیکھتے ہی بیان کردیا۔ بلاشبہ ظاہر نظر میں دیکھنے کے لحاظ سے کفار کی تعداد مسلمانوں سے تگنی تھی لیکن معنوی اور اخلاقی اعتتبار سے اس کی حیثیت بہت کم تھی اور ان کی یہی معنوی قلت خواب میں قلت تعداد کی شکل میں دکھائی گئی۔ رویا کا یہی ایک پہلو وہ ہوتا ہے جس کے لئے اس کی تعبیر کی ضرورت پیش آتی ہے اگر وہ بات جو خواب میں دکھائی جائے من و عن وہی ہو تو پھر اس کی تعبیر کیوں کر ہو سکتی ہے اور پھر اس کو آخر خواب کیوں کہیں گے ؟ خواب اسی لئے تو خواب ہے کہ اس میں دیکھی گئی بات کی تعبیر اس طرح کی جاتی ہے کہ اس پر فٹ آجاتی ہے۔ مثلاً یوسف (علیہ السلام) نے خواب دیکھا اور اس میں چاند سورج اور ستارے سجدہ ریز ہوتے دکھائے گئے اور اس کی تعبیر بھائیوں اور والدین کا ایک مدت کے بعد ایک خاص نوعیت سے ملنا بیان کیا گیا۔ اسی طرح خود نبی کریم ﷺ کے دوسرے بہت سے خوابات کا ذکر احادیث میں بیان ہوا ہے اس لئے اس بات کو جو خواب میں آپ ﷺ کو نظر آئی خلاد واقعہ نہیں کہی جاسکتی اور اس کو خلاف واقعہ کہنا سراسر جہالت اور ناسمجھی ہے۔ پھر یہ بھی کہ قلیل کا لفظ عربی زبان میں معنوی اعتبار سے بےوزن اور بےحقیقت چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ یہ شعر ہے
فان اک فی شرار کم قلیلا۔ فانی فی خیار کم کثیر
اگر میں تمہارے اشرار کی نگاہوں میں کم رتبہ ہوں تو کچھ غم نہیں تمہارے اخیار کی نگاہوں میں میرا بڑا رتبہ ہے۔
یہ اشارہ اس جگہ محض اس لئے کرنا پڑا کہ جن لوگوں نے اس بات کو جو خواب میں دکھائی گئی تھی خلاف حقیقت سمجھا ہے اور بیان کیا ہے وہ کسی کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ ہوں اس لئے کہ وہ خود ٹھوکر کھاچکے ہیں خواہ یہ ٹھوکر ان کی کسی اندرونی بیماری کا باعث ہے یا فی الواقع ان کی تفہیم ہی نہیں ہوسکی کہ خواب کے مشاہدہ اور عام مشاہدہ میں کوئی فرق بھی ہوتا ہے جس کے باعث ہے یا فی الواقع ان کی تفہیم ہی نہیں ہوسکی کہ خواب کے مشاہدہ اور عام مشاہدہ میں کوئی فرق بھی ہوتا ہے جس کے باعث اس کو خواب کا مشاہدہ کہا جاتا ہے اور انبیائے کرام کا خواب بلاشبہ وحی ہوتا ہے یا ان کا خواب بھی وحی ہی کی ایک قسم ہے تاہم اس کی تعبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے خواب کی تعبیر کی جاتی رہی اور قرآن کریم نے بھی انبیائے کرام کے کتنا خواب کا ذکر کیا ہے اور خود نبی کریم ﷺ کا خواب ہجرت وغیرہ۔ اس جگہ صرف اشارہ دیا ہے۔ تفصیل خواب کی انشاء اللہ کسی مقام پر مزید بیان ہوگی۔
زیر نظر آیت میں لَّفَشِلْتُمْ اورو لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ کے الفاظ آئے ہیں کہ ” تم ضرور ہمت ہار بیٹھتے “ اور ” اس معاملہ میں تم آپس میں جھگڑنے لگتے “ یہ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن اس سے لازم نہیں آتا کہ مسلمانوں کے سارے گروہ کی حالت ایسی ہوجاتی البتتہ جماعتی زندگی میں پوری جماعت کے اندر کوئی فرد یعنی جماعت کے لحاظ سے اس کا کوئی عضو کمزور بھی ہوتا ہے اور یہ بات یقیناً اس وقت بھی تھی پھر جس طرح کسی ایک عضو میں خرابی کے باعث پورا جسم بےچین ہوجاتا ہے یہی صورت حال جماعت ت کی ہوتیت ہے یہی وجہ ہے کہ مخاطب ساری جماعت ہی کو کیا گیا ہے اور جماعت بھی اس حقیقت کو سمجھتی اور پہچانتتی ہوتی ہے کہ یہ کمزوری کہاں ہے اور وہ فرد یا افراد جماعت بھی جن کے اندر کمزوری ہوتی ہے اس بات کو سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ بات تکس سے کی جارہی ہے اور آپ بھی یہ سمجھ لیں کہ سب کو مخاطب کیوں کیا گیا ہے ؟
Ayah 8:44عام مشاہدہ کے دیکھنے میں بھی بعض اوقاتت کثیر قلیل یا قلیل کثیردکھائی دے جاتا ہے :
60: زیر نظر آیتت میں دونوں جماعتوں کے آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھنے کی صورت حال کا بیان ہے فرمایا تو خواب تتھا لیکن جب تم دونوں جماعتوں یعنی مسلمانوں کی جماعت اور کفار مکہ کی جماعت کا آمنا سامنا ہوا تتو اس وقت بھی دونوں جماعتیں ہی ایک دوسرے کو قلیل یعنی تھوڑا ہی دیکھ رہی تھیں اگرچہ مسلمانوں کی جماعت تو فی الحقیقت تھوڑی ہی تھی لیکن کفار کی بڑی جماعت کو بھی مسلمان جس جگہ سے دیکھ رہے تھے وہ ان کو تھوڑے ہی نظر آرہے تھے اور اس میں وہ ایمانی قوت بھی اپنا کام دکھا رہی تھی جو ان کو رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے سنائی گئی تھی اور کچھ جگہ کا نقشہ بھی ایسا ہی تھا کہ جہاں فریقین کی صفیں بنائی گئیں تو دونوں طرف کی صفوں میں کھڑے لوگ اپنے مقابل کے لوگوں کو تھوڑا ہی دیکھ رہے تھے اور اس کا فائدہ یہ بتایا گیا کہ دونوں میں سے کوئی فریق بھی ایک دوسرے سے ٹتکر لینے میں خوف نہ کھائے اور وہ معرکہ ہو کر رہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردے اور جس کا واقعہ ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہوچکا ہے۔ کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کا کم نظر آنا تو اس لئے تتھا کہ ان کی ظاہر بیں آنکھیں مسلمانوں کی صرف عددی حیثیت میں ملاحظہ کررہی تھیں اور ان لوگوں کی اخلاقی اور روحانی قوت و حیثیتت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہی حالانکہ یہی مسلمانوں کی قلیل جماعت ان کو معرکہ کار زار گرم ہونے کے بعد ان کو ایک طوفان کی شکل میں نظر آنے لگی اور وہ ان کے سامنے اس طرح سے بھاگنے لگے کہ گویا ان کے پیچھے ایک لشکر جرار لگ گیا ہے اور ان کو چھپنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی اور مسلمانوں کو ان کی عددی حیثیت اس لئے کم نظر آنے لگی کہ ان کی معنوی حیثیت اللہ نے کھول کر ان کے سامنے رکھ دی تھی اور اس کو بےنقاب کردیا گیا تھا اور بلاشبہ نگاہ بھی بہت بڑی حد تک دل کے تابع ہوتی ہے اگر دل میں حوصلہ اور امنگ ہو تو قوت ایمانی اور قوت روحانی و افرہو نگاہ بھی بہت بڑی حد تک دل کے تابع ہوتی ہے اگر دل میں حوصلہ اور امنگ ہو تو قوت ایمانی اور قوت روحانی و افر ہو تو اور جذبہ بھی صادق ہو تو شیر بھی بلی نظر آنے لگتا ہے۔ اس کی اصلی مشاہدہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو کسی میدان کے پہلوان ہوں۔ ہاں ! یہ باتیں فقط سمجھانے سے سمجھ نہیں آسکتیں اور جب تک انسان خود ایسی حالت سے دو چار نہ ہو اس کی حقیقت اس کی آنکھوں سے اوجھل ہی رہتی ہے۔ اچھا ساری بحث کو الگ کر کے صرف یہ دیکھو کیا یہ حقیقت نہیں کہ مسلمان تعداد میں تیسرا حصہ تھے ؟ اور پھر یہ بات کہ کفار تعداد میں مسلمانوں سے تین گنا تھے ؟ یہ صحیح ہے تو پھر غرو کرو کہ شکست کس کو ہوتی ؟ کم تعداد والوں کو یا زیادہ تعداد والوں کو ؟ ظاہر ہے زیادہ تعداد کے لوگوں نے میدان ہار دیا اور پھر نہ صرف یہ کہ ان کے لوگ صرف مارے ہی گئے نہیں زندہ پکڑ کی قیدی بھی بنائے گئے اور پھر یہ بھی کہ قید ہوناے لواں و میں بھی بڑے بڑے جنگجو لوگ تھے۔ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ ہم مسلمانوں کے نزدیک یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا کہ اللہ کے ہاں ایسا ہونا طے تھا اور اس نے اس طرح ہونے کی اطلاع پہلے ہی نبی رحمت ﷺ کے ذریعہ سے مسلمانوں تک پہنچا دی تتھی اور جو جو سبب مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست کا ہوا ان سارے اسباب کا اصلی مسبّب خود اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس تھی جو فی الحقیقت مسبّب الاسباب ہے۔ پھر جب انسان کی ذرا نظر اس مسبّب الاسباب پر رہنے کی بجائے کسی دوسری طرف جا پڑے تو وہی مسبّب الاسباب اس کوتاہی کو سبب قرار دے کر گاڑی پیچھے کو بھی پھیر دیتا ہے جس سے بڑے بڑے بہادر چت ہوجاتے ہیں اور بہادری کا سارا زعم دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔
زیر نظر آیت کے آخر پر ارشاد فرمایا : وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (رح) 0044 بالاخر سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر خیر و شر اس کی تخلیق ہے کیونکہ وہ نتیجہ کا نام ہے اور ہر عمل کے ساتھ اس نے نتیجہ لازم کردیا ہے عمل خیر ہوگا تو نتیجہ شر نہیں ہوسکتا اور اسی طرح عمل شر ہے و نتیجہ کبھی خیر نہیں ہوسکتا۔ نیز وہی ہے جو اپنے قانون کے مطابق قلت اور کثرت پر اور قوت کو ضعف پر غلبہ دے کر دکھاتا آیا ہے اور دکھا رہا ہے اور دکھاتا رہے گا۔
خاک و باد و آب و آتش بندہ اند۔ بامن و تو مردہ باحق زندہ اند
Ayah 8:45مسلمانوں کو ہدایت کہ کسی میدان میں مڈبھیڑ ہوجائے تو اللہ کو یاد کرو :
61: اب مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تمہاری دنیوی کامیابی اور فتح دی کا اور اخروی فلاح و نجات کا نسخہ اکسیر یہ ہے کہ میدان جنگ میں جب تمہارا آمنا سامنا کی کفر کی جماعت سے ہوجائے تو ثابت قدم رہنا اور جم کر یعنی ڈٹ کر لڑنا اور گھبراہٹ کو قریب نہ آنے دینا کیونکہ جب تک دل مضبوط اور قائم رہے جوارح اپنا کام کرتے ہیں اور اگر انسان دل ہار بیٹھے تو اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہر مومن و کافر جانتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اپنی جنگوں میں اس کا اہتمام کرتی ہے کیونکہ اہل تجربہ سے یہ مخفی نہیں کہ میدان جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کامیاب ہتھیار ثابت قلب و قدم ہی ہے دوسرے سارے ہتھیار اس کے بغیر بےکار ہوجاتے ہیں اور ایک بات مومنوں کے لئے مخصوص ہے اور وہ ” ذکر اللہ “ ہے اور یہی وہ معنوی ہتھیار ہے جس سے مومن کے سوا عام دینا غافل ہے۔ پوری دنیا جنگ کے لئے بہترین اسلہہ اور نئے سے نیا سامان مہیا کرنے اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی تو پوری تدبیریں کرتی ہے لیکن مسلمانوں کے اس روحانی اور معنوی ہتھیار سے بالکل بیخبر اور نا آشنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر میدان میں جہاں مسلمانوں کا مقابلہ ان ہدایات کے مطابق کسی قوم سے ہوا مخالف کی پوری طاقت اور اسلحہ اور سامان کو اس نے بیکار کر کے رکھ دیا۔ ذکر اللہ کی اپنی ذاتی اور معنوی برکات تو اپنی جگہ ہی ہیں لیکن ثابت قدمی کے لئے اس سے بہتر نسخہ اور کوئی نہیں ہے اللہ کی یاد اور اس پر پورا پورا اعتماد وہ طاقت ہے جو ایک انسان کو پہاڑ سے ٹکرا جانے پر آمادہ کردیتی ہے اور پھر کیسی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑا دیتی ہے اور انسان کے دل کو مضبوط اور قدموں کو جما دیتی ہے۔ دنیا میں جنگ و قتال ہی ایک ایسا وقت ہے کہ کوئی انسان بھی عادتاً اس وقت کسی کو یاد نہیں کرتا سب کو اپنی اپنی فکر پڑی ہوتی ہے اسلام نے ایسے نازک وقت میں بھی انسان کو اللہ کی یاد کی طرف رغبت دلا کر ثابت کردیا کہ مسلمان کا کوئی سانس بھی اللہ کی یاد کے بغیر نہیں آنا چاہئے اور میدان جنگ میں پہنچ کر تو اس ذکر میں مزید اضافہ ہوجانا ضروری ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کو آج تسبیح کے دانوں پر اللہ اللہ کے ورد کے سوا کچھ یاد ہی نہیں کہ ذکر اللہ کیسے ہوتا ہے اور وہ کیوں کر کیا جاتا ہے ؟ اور ملوئیت نے ان کو تلوار ، تیر وتفنگ اور گولہ و بارود اور ایٹن بم کے ساتھ ذکر اللہ ملانے کا فلسفہ صدر اول کے بعد آج تک نہیں سمجھایا۔ ہاں ! ہاں ! ان ساری چیزوں سے بھر پور کام لینے کے ساتھ ساتھ اللہ پر بھروسہ ہی اللہ کا صحیح معنوں میں ذکر ہے۔ میدان بدر پر نگاہ ڈال کر ذکر اللہ کا مفہوم سمجھ لیا ہوتا تو آج فقط تسبیح کے دانوں پر اللہ اللہ ہی کو ذکر اللہ تصور نہ کیا جاتا۔ ملائیت کو کون سمجھائے کہ اپنے جسم کے ساتھ ایٹم بم باندھ کر کفار کے ٹینک کو اڑانے کا نام بھی ذکر اللہ اور لا الٰہ کی یہی وہ چھری ہے کہ جس دل پر پھرجائے اس دل کی صدا لا اللہ کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی اور اس کا نام تو صحیح معنوں میں ” ذکر اللہ “ ہے۔ افضل الذکر لا الٰہ الا اللہ خود نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ اس آیت نے جو سبق دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” ثابت قدم رہو کیونکہ میدان جنگ کی ساری کامیابی اس کے لئے ہے جو آخر تک ثابت قدم رہے۔ “ اور ” نازک حالت میں بھی اللہ کی یاد کرو کیونکہ جسم کا ثبات دل کے ثبات پر موقوف ہے اور دل اس کا مضبوط رہے گا جو اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہے۔ “
Ayah 8:46دوسری ہدایت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور جھگڑا مت کرو :
62: اس آیت نے یہ وضاحت کردی کہ میدان جنگ میں بھی مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے باہر قدم نہیں رکھنا چاہئے اور دوسرا یہ کہ جنگ کے متعلق بھی اسلام کے پاس اللہ اور اس کے رسول کی دی ہوئی ہدایات موجود ہیں اور انہی ہدایات میں جنگ لڑنے اور جنگ جیتنے کے گر موجودد ہیں اور پھر اس اطاعت الٰہی کی جگہ جگہ وضاحت بھی ارشاد فرمادی کہ دشمن کے مقابلہ میں کامل نظم و ضبط اور مکمل ڈسپلن قائم رکھنا اللہ ہی کی فرمانبرداری ہے اور میدان جنگ میں نظم ونسق کا فقدان اور آرزو و حکم کی خلاف ورزی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے مترادف ہے اور جہاد کے وقت جہاد کرنا اللہ ہی کی عبادت ہے بلکہ دوسری ساری عبادات سے افضل ہے اور اس میں کوتاہی عبادت الٰہی میں کوتاہی کے مترادف ہے بلکہ ساری عبادت کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے اور اس سلسلہ کی یہ تیسری ہدایت ہے ثابت قدمی ، ذکر اللہ کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت مل کر تین ہدایات ہوگئیں اور ابھی سلسلہ ہدایت جاری ہے۔
مشکل وقت آنے پر صبر کرنا اللہ کی معیت میں داخل ہونا ہے :
63; : فرمایا کہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ خطرناک وہ چیز ہے جس کو تنازع کہا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں یہ سب سے بڑی اور اہم تنبیہ ہے کہ ایسے وقت میں باہم نزاع اور کشاکشی نہ ہونی چاہئے اس پر مزید تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی ایسی بات ہوگئی تو تم میں اس کے نتیجہ میں بزدلی پھیل جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم دشمنوں کی نظر میں حقیر ہوجاؤ گے اور اجتماعی قوت پاشاں پاشاں ہوجائے گی اور ایک دوسرے کی طاقت و قوت کے ساتھ جو ملاپ کر کے قوت بڑھی تھی اس میں کمزوری واقع ہوگی اور جس چیز کو ہماری زبان میں ” ایک ایک اور دو گارہ “ کہا جاتا ہے وہ بات ختم ہوجائے گی اور اس طرح ہوا اکھڑ جانا سیدھا مغلوب ہوجانے کے مترادف ہے کیونکہ جب ایک دوسرے پر اعتماد و اتحاد نہ رہا تو اس کی اکیلی قوت رہ گئی جو میدان قتال میں کوئی چیز نہیں ہے۔
اس ہدایت کے بعد تنازع اور ہوا اکھڑ جانے سے محفوظ رہنے کا گر بھی بتادیا اور فرمایا : وَ اصْبِرُوْا 1ؕ یعنی صبر کو لازم پکڑ لو گویا جن چیزوں سے اختلاف اور نزاع پیدا ہوتا ہے ان کو برداشت کر جاؤ ۔ خلاف طبع امور کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر تمہاری رائے پر عمل نہیں کیا جارہا ہے تو تم دوسروں کی رائے پر گامزن ہوجاؤ اور دل پر صبر کر کے اجتماعی قوت کے ساتھ جمے رہو اور اس وقت سمجھ لو کہ ہماری رائے کوئی رائے نہیں اگر دوسروں کی رائے کا نتیجہ صحیح سامنے نہ آئے تو بھی خاموش رہو اور طعن وتشنیع نہ کرو کیونکہ اس وقت اس سے چشم پوشی لازم و ضروری ہے۔ اپنی رائے قائم کرنے یا رائے دینے کا ایک وقت ہوتا ہے اور کوئی کام بھی چاہے وہ کتنا ہی صحیح اور درست کیوں نہ ہو اگر بےوقت ہو تو اس کی اہمیت وہ نہیں رہتی اور آیت کے آخر میں فرمادیا کہ : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ0046 یعنی لبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے گویا یہ اتنی بڑی دولت اور تنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے سامنے دنیا جہان کی ساری دولتیں اور نعمتیں ہیچ ہوجاتیت ہیں۔
نبی اعظم و آخر ﷺ نے بعض غزوات میں انہیں الٰہی ہدایات کے پیش نظر میدان جنگ میں پہنچ کر بھی یہ خطبہ ارشاد فرمایا کہ ” اے لوگو ! دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور اگر ناگزیر طور پر مقابلہ ہو ہی جاے تو پھر صبر و ثبات کو لازم پکڑو اور یہ سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ “ (مسلم) اس طرح اس آیت میں جو ہدایات دی گئیں ان کا ماحصل اس طرح ہے کہ ” باہمی نزاع سے بچو ورنہ سست پڑجاؤ گے اور ساری بات بگڑ جائے گی “ اور یہ کہ ” کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں پوری مردانگی سے جھیلتے رہو اور بالاخر جیت اسی کی ہے جو زیادہ جھیلنے والا ہوگا۔ “
Ayah 8:47تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جو ڈینگیں مارتے اور اتراتے ہوئے گھر سے نکلے تھے :
64> : اس آیت میں کفار کے لشکر کی تیاری اور مکہ سے روانگی کی پوری تصویر کھینچ کر رکھ دی اور مسلمانوں کو ہدایت دی کہ اس طرح کرنے والوں کا انجام یہی کچھ ہوتا ہے جو ان کا ہوا۔ تم یاد رکھو ایسی حرکت کبھی نہ کرنا۔ تاریخ وضاحت کرتی ہوئی ہمیں بتاتی ہے کہ کفار کا لشکر جب مکہ سے بدر کی طرف روانہ ہوا تو ان کے ہمارہ ایسی دو شیزائیں بھی تھیں جو گانے بجانے اور ناچنے میں اپنا جواب نہ رکھتی تھیں اور علاوہ ازیں ان کے ساتھ شراب ناب کے بھرے ہوئے مٹکے بھی تھے اور یہ لوگ بڑے طمطراق سے نکلے اور جہاں ڈیرہ ڈالتے ان کی بزم عیش و طرب منعقد ہوتی جس میں بادہ گلفام کے ساغر گردش میں آتے اور ناچ میں گانا ہوتا۔ روایات میں آیا ہے کہ ابو سفیان کا قافلہ تجارت جب مدینہ کی حدود سے بخیریت گزر گیا تو ابو سفیان نے اپنا آدمی ابو جہل کے پاس بھیجا کہ ہمارے تجارتی قافلہ کو جو خطرہ لاحق تھا وہ ٹل گیا ہے اب تمہارے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں تم فی الفور واپس آجاؤ اور اس طرح دوسرے قریش کے سرداروں نے بھی اس کو یہ مشورہ دیا لیکن اس نے جواب دیا کہ : ” بخدا ہم محمد ﷺ سے لڑے بغیر ہرگز واپس نہیں جائیں گے۔ یہاں تک کہ ہم میدان بدر میں پہنچیں وہاں شراب کا دور چلے ، رقص و سرور ہو ، سارا عرب سنے اور ان کے دلوں پر ہمارا رعب ہمیشہ کے لئے جم جائے۔ “ اس کی ان ڈینگوں کا نتیجہ کیا رہا ؟ آپ پیچھے پڑھ آئے۔ وہ زمانہ تو بہت پہلے تھے آج بھی یہ کفر کا لشکر جد ھر رخ کرتا ہے فسق و فجور کا ایک طوفان بدتمیزی امڈ آتا ہے۔ آُ غور کریں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ جاہلیت قدیم و جدید کے مزاج کی یکسانی میں دو ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کچھ بھی فرق نہیں پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جو امریکی افواج اپنے دوسر ملک برطانیہ میں اقامت گزیں رہیں تو ان کی عیش کوشی کی وجہ سے امریکی ایجنسیوں کی خرروں کی مطابق ستر ہزار حرامی بچے پیدا ہوئے۔ (المصری 3ؕ: 54۔ 28) اور اس وقت تو حرام کاری کا لفظ بھی دقیانوسی بن کر رہ گیا ہے۔ پیار و محبت کی ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر میں حرام کاری دب کر کبھی کی حلاک ہوچکی ہے۔ صرف اسلامی ممالک کے متوسط درجہ کے لوگوں کی زبان سے یہ لفظ حرام کاری سننے میں آتا ہے تو ہمارا اوپر کا طبقہ اپنے آقاؤں کی مرضی کے خلاف اس لفظ کو سن کر دقیانوسی لفظ قرار دیتا ہے اور ان کے آقا ان سے محض اس لئے بےزار نظر آتے ہیں کہ یہ لفظ بولنے والوں کی زبان وہ کاٹ کیوں نہیں دیتے۔
فرمایا : ” مسلمانو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے نکلے تھے اور لوگوں کی نظروں میں نمائش کرتے ہوئے۔ جن کا کام اللہ کی راہ سے روکنا تھا۔ “ یعنی ان کا اس طرح نکلنا محض اس وجہ سے تھا کہ مسلمانوں کو اللہ کی سیدھی راہ چلنے سے روک دیں۔ ” اور جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں اللہ ان کو گھیرے ہوئے ہے “ پھر وقت سے ثابت کردیا کہ ان کا اس طرح نکلنا انہی نکلنے والوں کے لئے باعث ذلت ہوا اور وہ باوجود کثرت کے اس ذلت سے پھر نکل نہ سکے اس لئے کہ انہوں نے اپنی اسی ذہنیت پر کبھی سوچنے کی کوشش نہ کی جس کا نتج ہے یہ ہوا کہ وہ روز بروز گرتے ہی گئے۔ اگر تم نے کوئی ایسی حرکت کی تو نتیجہ ایسا ہی نکلے گا جیسا کہ ان کے حق میں نکل چکا۔
Ayah 8:48شیطان نے ان کے اس کرتوت کو ان کی نظر میں اچھا کر دکھایا :
65: شیطان نے یہ فریب ان کو کیوں کردیا اور کیسے ان کو باور کرادیا ؟ مفسرین نے اس کی مختلف صورتیں نقل کی ہیں اور کسی نے کسی انسان کی شکل میں بنا کر دکھایا ہے اور کسی نے کسی دوسرے انسان کی شکل میں اور ہمارے رائے میں وہی رائے زیادہ صائب اور زیادہ صحیح ہے جو علامہ بیضاوی (رح) نے نقل کی ہے کہ شیطان کا یہ نکال الفاظ کا جامہ پہنے ہوئے نہ تھا بلکہ وسوسہ اندازی کی صورت میں تھا اس نے ان لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال دیا تھا کہ ان کی کامیابی یقینی ہے اور ان کا یہ لشکر جرار مسلمانوں کے مٹھی بھر غیر مسلح سپاہیوں کو چشم زدن میں ہڑپ کر جائے گا۔ اسی خمار میں لشکر کفار قدم قدم پر سبد انڈیلتا ، ڈینگیں مارتا ، شیخی بھگارتا بڑھتا چلا گیا اور پر جب حق کی نڈر اور بےباک قوت سے مقابلہ ہوا تو اس کا سارا نشہ ہرن ہوگیا۔ لیکن امام رازی (رح) نے اپنی بہترین تفسیر کبیر میں نقل کیا ہے کہ علامہ ابو حیان اندلسی (رح) نے یہ توجیہ بھی کی ہے کہ کسی مغرور کافر نے اپنے فوجیوں کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے یہ الفاظ منہ سے نکالے ہوں اور چونکہ اس کا یہ کہنا شیطان ہی کے ایماء پر تھا اس لئے اس کو قرآن کریم نے شیطان ہی کی طرف منسوب کیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ شیطان کا اور کام ہی کیا ہے ؟ یہی ہے کہ وسوسہ اندازی کر کے لوگوں کو راہ سے بےراہ کردے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان سراقہ بن مالک کنانی کی شکل میں آیا تھا لیکن یہ بات ایسی ہے تو وہ خود سراقہ بن مالک بھی تو ہو سکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم سرداران قریش کو کئی جگہ پر شیطان کہہ چکا ہے اور جیسا کہ کئی بار ہم واضح کرچکے ہیں شیطانی قوت تو ہر انسان کے اندر موجود ہے لیکن رحمٰن کے بندے ایسے وسوسوں کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے اور یہی ہدایت اس جگہ مسلمانوں کو دی جارہی ہے کہ تمہارا دشمن بڑا چالاک اور نہایت حد تک مکار ہے اس کی چال سے ہر ممکن بچتے رہنے کی کوشش کیا کرو۔
دونوں فوجوں کو قریب کر کے خود الگ ہوگیا اور شیطان یہی کچھ کرتا ہے :
66: ہم یہ بات بار بار کہہ چکے ہیں کہ انسان دونوں قوتوں کے مجموعے کا نام ہے اس میں خیر بھی ہے اور شر بھی۔ جب کوئی خطرہ کی بات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے شر سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اور اس تلقین میں وہ براہ راست اس کی قوت شر کو شیطان کے نام سے موسوم کرتا ہے کیونکہ شیطان مجسمہ برائی ہے اور جب اس کی کسی اچھائی کا ذکر کرتا ہے تو اس کی خیر کی قوت جس کو ملکوتی قوت بھی کہا جاتا ہے مخاطب فرما کر بار کرتا ہے تاکہ حقیقت جلد سمجھ میں آجائے چونکہ اس جگہ اس طاقت کا بیان جاری ہے جو شر کے نام سے پکاری جاتی ہے اور جس کو شیطان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور کفار مکہ کی یہ قوت ظاہر ہے کہ ان پر غالب اور بھاری تھی اس لئے اس نے ان کو یہی باور کرایا کہ ” آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور مزید یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں “ اس طرح گویا وہ کفار کو میدان بدر تک لے آیا اور وہ بڑے طمطراق سے یہاں پہنچے اور دونوں فریق آپس میں مڈبھیڑ ہوگئے تو خود بھاگ نکلا یعنی وہ طاقت قوت جو شر کی تھی اس طرح بیٹھ گئی جیسے طانی کا جھاگ بیٹھ جاتا ہے اور یہی وہ بزدلی تھی جس نے اللہ کے حکم سے کفار مکہ کو میدان جنگ میں ہزیمت سے دو چار کردیا اور انہوں نے منہ کی کھائی ۔ جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے مسلمانوں کے حق میں ان کی خیر اور بھلائی کی قوت یعنی قوت ملکوتی نے کام کیا اور کفار کی طاقت شر مسلمانوں کی طاقت خیر کا مقابلہ کیسے کرسکتی تھی وہ تو چیز ہی ایسی ہے کہ وہ خیر کے نام سے کوسوں بھاگتی ہے اور اس جگہ اس کا دراصل بیان ہو رہا ہے کہ آمنا سامنا ہونا تھا کہ کفار کی قوت شر بیٹھ گئی گویا وہ ایڑیوں کے بل بھاگ نکلی اور اب اس کی رائے بالکل بدل چکی تھی اس نے فوراً کہہ دیا کہ جو میں نے دیکھا وہ تم نہیں دیکھ سکتے اس لئے جہاں سے آئے تھے اسی طرف بھاگو اور جلد بھاگ کر اپنی جان بچالو۔
شیطان نے کہا کہ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں اللہ سے ڈرتا ہوں :
67: کوئی فریبی جب قوم کو یا کسی ایک انسان کو ایک فریب دیتا ہے تو اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں فریبی ہوں اور تم کو فریب دینا چاہتا ہوں۔ یہی بات شیطان کی ہے اگر وہ یہ کہہ دے کہ میں شیطان ہوں اور تم کو دھوکا و فریب دینا چہتا ہوں تو کیا کوئی اس سے فریب کھانے کے لئے تیار ہوگا ؟ انسان کو دھوکہ دینے والی وہ طاقت و قوت ہو جو اس کے اندر موجود ہو یا باہر سے کوئی شیطان سے کہہ رہا ہو جیسا کہ پیچھے مفسرین کے حوالہ سے ہم نے سرقہ بن مالک کنانی کا نام بھی بتایا ہے اس نے بغرض حقیقت نہیں بلکہ بغرض دھوکا اور فریب یہ کہا کہ میں تم سے بیزار ہوں اور میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں کہ جو تم نہیں دیکھتے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی جمیعت کو دیکھ کر تو مسلمانوں کی ہوائیاں اڑنا چاہئے تھیں لیکن وہ تو بڑے اطمینان کے ساتھ صف آراء ہوئے ہیں اور قدرت الٰہی نے جو بارش کا انعام کیا تھا وہ بھی مسلمانوں کے حق میں ایک نعمت ثابت ہورہی تھی انہی چیزوں کے پیش نطر اس نہایت فیبی اور مکار نے یہ کہہ دیا ہو یہ بھی عین ممکن ہے کہ ” میں اللہ سے ڈرتا ہوں “ اس کا یہ کہنا یہ بھی اس کے فریب کی نشاندہی کرتا ہے جیسا کہ دوسری جگہ خود قرآن کریم نے اس کی تشریح فرمائی ہے چناچنہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو کوہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ “ (الحشر 59 : 16)
مطلب یہ کہ جب کفار کے پاؤں اکھڑ گئے تو وہ بھی بھاگ نکلا اور وہ بزبان حال یا قال کہہ رہا تھا کہ مجھے تو رب العالمین کا سخت خوگ ہے کہ اس کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ آگے آنے والی آیت کا مضمون اس طرہ رغبت دلاتا ہے کہ پیچھے جو سراقہ بن مالک کنانی کے حوالہ سے کہا گا۔ ہے جو سب کے سب انسان ہی تھے اور منافقوں کا کام بھی یہی ہے کہ جو ان کی زبان پر ہوتا ہے وہ عمل میں نظر نہیں آتا اور جو عمل میں ہوتا ہے وہ زبان پر نہیں ہوتا اور زیر نظر آیت میں بھی ان کی یہی حالت بیان کی گئی ہے۔ تاہم قرآن کریم کے کلام میں وسعت بہت ہے اس لئے جو مفہوم بھی الفاظ کے زیادہ قریب ہو وہ لیا جاسکتا ہے۔
Ayah 8:49منافقوں اور دوسرے دل کے روگیوں کا بیان جو انہوں نے مسلمانوں کو دیکھ کردیا :
68: بلاشبہ منافقین بھی ایک قسم کے روگی ہی تھے لیکن وہ لوگ جن کا نفاق واضح تھا اور وہ اپنے گروہ کے سردار تھے ان کے رویئے اور دوسرے وہ لوگ جو ابھی نفاق میں بھی کھلے نہ تھے اور مسلمان بھی نہ ہوئے تھے دونوں اوصاف کے لحاظ سے بلاشبہ ایک دوسرے کے قریب قریب تھے اور آپس میں مل کر مسلمانوں کے خلاف کھلی باتیں کرلیتے تھے اور جو ابھی تک زندگی اور موت ، فتح و شکست ، عزت و ذلر کے اسلامی معیار سے ابھی واقف نہ تھے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان تعداد میں بہت کم ہیں اور نہتے بھی ہیں یہ اتنا بڑے لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتے یہ لوگ اتنی بڑی فوج سے ٹکر لینے جا رہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو دین کے نشہ نے پاگل بنادیا ہے ان لوگوں کو اپنے نفع و نقصان کی تمیز بھی نہیں ہے۔ یہ کس طرح موت کے منہ میں چھلانگ لگانے جا رہے ہیں اور کس خوشی اور شوق سے چلے جاتے ہیں جیسے مہمان ہوں کے کھانے کی دعوت میں شمولیت کے لئے جاتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ ان کا کن سرماؤں سے واسطہ ہے وہ ابھی ان کا سارا نشہ کافور کردیں گے۔ ان سفدپن میں غرق ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے کہ : وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ 0049 جو شخص اللہ پر توکل و بھروسہ کرلیتا ہے تو یاد رکھو کہ وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے اس کی حکمت کے سامنے سب کی عقل و داش دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ تم اپنی حالت پر ان سرفروشون کو قیاس کر رہے ہو تمہیں ان کی قوت کا ابھی اندازہ نہیں ہے یہ وہ چڑیاں ہیں جو بازوں کو شکار کرتی ہیں تم ذرا خاموش رہتے تو تمہیں خود بخود معلوم ہوجاتا کہ ان کا انجام کیا ہے لیکن اب جب تم بول ہی چکے ہو تو ان کے پیچھے رہ کر شکار کرنے کا طریقہ دیکھو تمہاری ساری حیرت کافور ہوجائے گی اور تم کس نئی طرح کی حیرت میں گم ہوجاؤ گے۔ آج بھی سچے مسلمانوں کو دیکھ کر فرنگیوں کی چالوں سے مرعوب ہونے والے لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ ” اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کھو “
Ayah 8:50کفار کی موت کا ذکر کر کے ان کی اس ایذا کا واضح کردیا جب ان کی جان نکال لی جاتی ہے :
69 : اس دار فانی میں جو پیدا ہوا ہے سب مرنے ہی کے لئے پیدا ہوا ہے کون ہے جو اس جگہ ہمیشہ رہے گا ؟ میدان جنگ میں جانے والوں کو اگر موت آتی ہے تو گھر میں بسترون پر آران کرنے والوں کو بھی ہمیشہ رہنا نصیب نہیں ہے ، مرنا ان کو بھی ضرور ہے۔ پھر ان پاپولر لوگوں کی موت کا وقت اور ان کو موت کے وقت فرشتوں کی سزا بڑء ہی ایذا وہ چیز ہے۔ اس وقت وہ محض اس لئے شریک جنگ نہیں ہوتے کہ کہیں میدان کار زار میں ان کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے لیکن اس وقت وہ کیا کریں گے جب موت کے فرشتے ان کے پاس آکھڑے ہوں گے اور ان کے م انہوں اور ان کی پٹھیوں پر زور زور سے ماریں گے اور ان سے کہیں گے اب آگے کا عذاب چکھو فرمایا اگر یہ منظر آپ دیکھیں تو کتنا حیرت زدہ ہوگا ۔ رہی بات کہ وہ عذاب جو ان کو دیا جاتا ہے اگر بوقت موت ہو تو کئی کفار کو مرتے دیکھا ہوگا لیکن یہ کیفیت تو کہیں دیکھنے میں نہ آئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ فرشتے جو موت دے رہے ہوئے ہیں یا ان کی جانیں نکلا رہے ہوتے ہیں وہ کبھی کسی نے دیکھے ہیں ظاہر ہے کہ جواب اس کا بھی نفی ہی میں ہے تو پھر کیا وہ مرتا نہیں ہے ؟ جب مرنے والا بہر حال مرتا ہے اور اسلام کی نظر میں اس موت کے وارد کرنے والے فرشتے بتائے گئے ہیں یا تو سرے سے ان فرشتوں کی موت دینے سے انکار کیا جانا چاہئے یا یہ تسلیم کرنے میں کیا دشواتی ہے کہ جس طرح فرشتے نظر نہیں آتے ان کی مار بھی نظر نہیں آئی اور پھر اصل بات یہ ہے کہ یہ سارا ماجرا جو اس آیت اور اس جیسی دوسری آیتوں میں بیان ہوا یہ عالم برزخ کا ہے عالم دنیا کا نہیں اور اس کو قبر کے نام سے بھی یاد کیا جات ہے اور یہ قبر بھی وہی ہے جو دراصل عالم برزخ کی جگہ ہے ۔ پھر مرنے کے معاً بعد یہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اس لئے اس کو موت کا وقت کہا گیا ہے اور عالم برزخ میں جو عذاب دیا جاتا ہے اس کا ذکر کئی مقامات پر قرآن کریم میں کیا گیا ہے جس کی نشاندہی ہم ساتھ ساتھ کرتے آرہے ہیں جیسے کہ سورة النساء کی آیت 97 اور سورة الانعام کی 93 ، 94 میں بیان ہوا اور سورة الانفال میں اس جگہ ہو رہا ہے اور سورة النمل آیت 28 ، 32 میں کیا گیا اور سورة محمد کی آیت 27 میں بیان ہوگا۔ انشاء اللہ
Ayah 8:51فرمایا یہ مار جو ان کو پڑتی ہے انہیں کے لئے کا نتیجہ ہوتی ہے کوئی ان پر زیادتی نہیں کی جاتی :
70: اس آیت میں اس بات کی وضاحت فرمادی کہ یہ جو ان کو مار پڑے گی تو یہ انکے اپنے ہی کرتوتوں کا بدلہ ہوگی۔ ان کے ساتھ کسی زیادتی کے باعث ایسا نہیں ہوگا۔ چناچہ کفار کو مخاطب کر کے ان سے کہا گیا کہ ” یہ بدلہ ہے اس کو جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے “ چونکہ عام کاروبار انسان ہاتھو ہی سے کرتا ہے اور یہ محاورہ بھی ہے کہ ” ہاتھوں کا بیچا انسان کاٹتا ہے “ اس کے مطابق اس جگہ ہاتھوں کا ذکر کردیا جس کا مطلب یہی ہے کہ یہ تمہارے اپنے ہی کئے کا نتیجہ ہے اور مزید وضاحت کے لئے ارشاد فرمایا کہ بندہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو آخر اللہ کا بندہ ہی ہے وہ تسلیم کرے یا نہ کرے اور اللہ بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا کہ بلاوجہ کسی کو عذاب میں مبتلا کردے ہاں ! جب انسان خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو ان کو اپنے کئے کا نتیجہ بھی لازم بھگتنا پڑے گا کیونکہ ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ لازم ٹھہرا دیا گیا ہے۔
Ayah 8:52پہلوں کو پیش آنے والا ان کے اور تم کو پیش آنے والا تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگا :
71: پچھلی آیت کی مزید وضاحت فرمادی کہ دیکھو جس طرح قوم فرعون اور متعدد دوسری قوموں پر ان کی مسلسل نافرمانیوں اور پیہم ایذا رسانیوں کے باعث عذاب آیا اس طرح ان کا بھی انجام ہونے والا ہے جو اس وقت نافرمانیاں اور ایذا رسانیاں کر رہے ہیں۔ وہ ان کے اعمال کا نتہجا تھا اور یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ ہاں ! یہ حقیقت ہے کہ اللہ پیچھا کرنے میں بہت ہی سخت ہے اور کوئی اس کی گرفت سے بھاگ کر بچ نہیں سکتا۔ غور کرو کہ اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اور پھر ان کو عقل و فہم عطا کیا تاکہ وہ غور و فکر کرسکیں پھر ان کے گرد و پیش میں ان کے لئے بیشمار ایسی چیزیں موجود کردیں جن میں غور و فکر کرنے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچان سکتے ہیں جس طرح ان کو پیدا کرے پوری دنیا میں ان کا رزق رکھ دیا ہے اور وہ اپنی عقل و فکر سے اپنی روزی تلاش کرتے ہیں اسی طرح وہ اپنے مالک حقیقی کی پہچان کرنی چاہئے تو یقیناً کرسکتے تھے پھر انہوں نے عاجز مخلوق کو اپنا معبود کیسے بنا لیا ؟ پھر ان کی مزید تنبیہہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے نشانات بھی دکھائے۔ پوی کائنات کو استشہاد میں پیش کیا لیکن انہوں نے ان کی ایک نہ سنی پھر ایسے لوگوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ؟ یہی کچھ جو ان کے ساتھ کیا گیا کیونکہ وہ اس کے مستحق قرار پائے۔
دنیا میں اللہ نے ان کو تباہ و برباد کیا ان پر آسمانی عذاب نازل ہوا زمین سے ان پر ہر طرح کے عذاب کھڑے کئے گئے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں ان پر عذاب دلوایا گیا پھر جب ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی تو پھر بھی ان پر انعامات کی بارش کی گئی جب کسی طریقہ سے بھی انہوں نے سیدھا قدم نہ اٹھایا تو انجام کار ان کو تباہ و برباد کر کے دوزخ میں جھونک دیا گیا جہاں وہ ساری زندگی عذاب ہی میں گزار دیں گے اور وہاں سے نکلنا ان کو نصیب نہیں ہوگا۔
Ayah 8:53اللہ نے اپنے انعام کے باقی رکھنے کا ضابطہ بیان فرمادیا تاکہ لوگ اپنے کئے پر غور کریں :
72: زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعام عطاء کے قائم اور باقی رکھنے کا قانون بڑء وضاحر سے بیان کردیا جس کی بات مبہم نہ رکھی کہ ” اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتا ہے اس کو اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک لوگ خود ہی اپنے حالات اور اعمال کو نہ بدل دیں۔ “ غور کرو کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے عطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بیان فرمایا اور نہ ہی اس لئے کوئی قید یا شرط لگائی اور نہ اس کو کسی کے اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت خداوندی کی لامحدود حیرت انگیز نعمتیں ودیعت کی گئی ہیں اور یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئی ہیں جب نہ ہم تھے اور نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔
جن قوموں کا ذکر پچھلی آیات میں آیا یعنی قریش مکہ اور آل فرعون یہ لوگ اگرچہ اللہ کی نعمتیں ملنے کے وقت بھی کچھ اچھے اعمال کرنے والے نہیں تھے سب کے سب مشرک اور کافر ہی تھے لیکن انعامات الٰہی کے بعد بھی یہ لوگ اپنی بد عملیوں اور شرارتوں سے پہلے سے زیادہ تیز ہوگئے۔ ال فرعون بنی اسرائیل پر پہلے بھی ظلم و زیادتی کررہا تھا لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو رسالت الٰہی کا پیغام سنایا تو پھر بھی وہ لوگ اس ظلم سے باز نہ آئے بلکہ بنی اسرائیل کے مظالم میں کچھ اضافہ ہی کا باعث ہوئے اس لئے گویا انہوں نے اپنے حالات مزید برائی کی طرف بدل ڈالے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمت کو نقمت اور عذاب سے بدل دیا۔ اس طرح قریش مکہ اگرچہ مشرک اور بد عمل تھے لین اس کے ساتھ ان میں کچھ اچھے اعمال مثلاً صلہ رحمی ، مہمان نوازی ، حجاج کی خدمت اور بیت اللہ کی تیمے کا ایک تصور موجود تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر دین و دنیا کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے۔ دنیا میں ان کی تجارتوں کو فروغ دیا اور دین کے اعتوار سے وہ عظیم نعمت ان کو عطا ہوئی جو پچھلی کسی قوم کو نہیں ملی تھی کہ محمد رسول اللہ ﷺ جیسا رحمت للعالمین نبی ان میں مبعوث فرما دیا اور اللہ کی آخری اور جامع کتاب قرآن کریم ان کو دی مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی شکر گزاری اور قدر کرنے اور اس کے ذریعہ اپنے حالات کو درست کرنے کی ببجائے پہلے سے بھی زیادہ گندے کردئیے کہ صلہ رحمی کو چھوڑ کر مسلمان ہوجانے والے اپنے ہی لوگوں پر وحشیانہ مظالم کرنے لگے مہمان نوازی کی بجائے ان مسلمانوں پر آب و دانہ بند کرنے کے معاہدے کرنے لگے۔ حجاج کی خدمت کی بجائے مسلمانوں کو حرم میں داخل ہونے سے روکنے لگے۔ یہ وہ حالات تھے جن کو کفار قریش نے بدلا۔ اس کے نتیجہ میں اللہ نے اپنی نعمتوں کو ان کے لئے عذاب کی صورت میں تبدیل کردیا کہ رحمت للعالمین کو وہاں سے اٹھا کر مدینہ لا رکھا اور قریش کو دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور ان کی آخرت بھی پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی۔
اس طرح ساری قوموں کے قصص کو ایک ایک کر کے لیتے جاؤ اور اس کا تجزیہ کر کے دیکھتے جاؤ تو تم پر یہ حقیقت بالکل واضح اور روشن ہوجائے گی کہ اللہ نے جو اصولی بات بیان فرمادی وہ ساری قوموں پر ایک جیسی فٹ آتی ہے اور اب اس قت بھی اپنے اور اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتے جاؤ کہ اللہ نے جو انعام جس قوم ، جس گروہ پر کیا وہ بغیر کسی صلہ اور اس کے عمل کے تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اس انعام کی حقیقت بھی ان پر واضح کی تم خود اردگرد کے لوگوں سے دیکھ کر فیصلہ کرلو کہ یہ اللہ کا انعام ہوتا ہے یا نہیں ؟ پھر جب انہوں نے اس انعام کی وہ قدر نہ کی جو کرنی چاہئے تھی تو اس انعام کو عذاب سے بدلتے بھی اس کو کوئی دیر نہ لگی جو لوگ آج بادشاہ تھے کل ان کو سولی پر لٹکا کردکھا دیا اور پھر دوسروں کے لئے ان کو عبرت درس بنادیا اور آج بھی یہ بات اسی طرح جاری وساری ہے لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو انعامات الٰہی کی قدر کر کے اس انعامات کی بارش سے مستفید ہوتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہوتا یہی ہے کہ جس شخص پر انعام ہوا وہ پھولے نہ سمایا اور اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اللہ کے مقابل کھڑا ہونے کی کوشش کی اور یہی سمجھا کہ اس میں میرا یہ کمال ہے اور میں نے اس طرح کر کے یہ انعام حاصل کرلیا ہے مجھے دنیا نہیں گیا بلکہ میں نے اپنی کوشش سے اس کو حاصل کیا اور پھر کوئی زیادہ دیر نہ لگی کہ اللہ نے اس کو بےبس کر کے دکھا دیا اور اپنا وہ انعام کسی دوسرے کی آزمائش بنادیا۔ لہٰذا یہ آیت کریمہ گزری ہوئی اور موجودہ قوموں کے عروج وزوال کے لیئے یہی اٹل قانون ہے جو اس میں بیان ہوا ہے جو چاہے اس کو گوش ہوش سے سنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرے اور علامہ اقبال نے جو قوموں کے عروج وزوال کا نسخہ اکیسر بتایا وہ اسی آیت سے لیا گیا ہے۔
Ayah 8:54تاکید مزید کے لئے آل فرعون اور اس کے لوگوں کی داستان کی طرف دوبارہ توجہ دلا دی :
73: یہ آیت وہی ہے جو پیچھے ایک ہی آیت سے پہلے گزر چکی یعنی آیت 52 اور 54 بالکل ایک ہی طرح کی آیت اور ایک قوم کا ذکر ہے۔ معمولی الفاظ کا فرق کر کے اس کو دوبارہ بیان کردیا اور دونوں مفہومات میں بہت زیادہ فرق پڑگیا اور دونوں کے اسباق بالکل مختلف ہوگئے اور دونوں ہی کے بیان کرنے میں اپنی اپنی جگہ ایک افادیت رکھ دی گئی۔ پہلی آیت میں اس کا بیان مقصود تھا کہ ان لوگوں کا کفر ان کے عذاب کا سبب بنا اور اس آیت کا مقصود یہ ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ نعمتیں مبذول کرتا ہے اور وہ اگر ان نمعتوں کی قدر نہ کرے اور اللہ کے سامنے نہ جھکے تو اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں کو نقمتوں اور مصیبتوں سے بدل دیتا ہے اور یہ دونوں سبب قوم فرعون اور مشرکین مکہ میں پائے گئے اور اس لئے دونوں ہی جگہ ان کا ذکر کردیا۔ امام فخر الدین رازی (رح) نے اس جگہ ایک عمدہ نکتہ بیان کیا ، فرماتے ہیں پہلی آیت میں ہے : كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے انکار کیا۔ دوسری آیت میں ہے : كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ انہوں نے اپنے رب کریم کی آیات کو جھٹلایا۔ پہلی آیت میں اشارہ ہے دلائل توحید و الوہیت کے انکار کی طرف اور دوسری میں تربیت و پرورش کی آیات کی طرف اور پھر دونوں کا طبعی نتیجہ الگ الگ بیان کردیا۔ اس طرح پہلی آیت میں : فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ 1ؕ فرمایا تھا اور اس میں فرمایا تھا : فَاَهْلَكْنٰهُمْ۠ بِذُنُوْبِهِمْ اس طرح گویا پہلے اجمال کی تفصیل ہوگئی کیونکہ پہلی آیت یہ ان کا عذاب میں پکڑا جانا بیان کیا جس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور دوسری آیت میں ان کے گناہوں کے باعث عذاب میں ہلاک ہونا بیان کردیا کہ ان سب قوموں کی سزا سزائے موت تھی یعنی ہم نے ان سب کو ہلاک کرڈالا۔ اگرچہ ہر قوم کی ہلاکت کی مختلف صورتیں ظاہر ہوئیں اور دونوں آیتوں میں قوم فرعون کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ وہ خدائی کا دعویدار تھا اور اس کی قوم اس کی تصدیق کرتی تھی اور اسی طرح دوسری ساری قوموں کی ہلاکت کی صورتیں اس جگہ بیان نہیں کیں لیکن قوم فرعون کی صورت بھی بیان فرمادی کہ اس کو مع اس کی قوم کے ہم نے (بحر قلزم کی شاخ میں) غرق کردیا۔
Ayah 8:55حقائق کو دیکھ کر ایمان نہ لانے والے چارپایوں سے بھی بدتر ہیں :
74: آیت زیر نظر کا پہلا حصہ پیچھے آیت 22 میں بھی گزر چکا اور اس کی وضاحت وہاں بیان کردی تھی۔ یہ اسلوب بیان گویا ان لوگوں کے وجود و بقا کے جواز کی نفی کر رہا ہے کہ وہ انسان جو شکل و صورت سے تو بہت بہر حال انسان نظر آتے ہیں لیکن سوچنے سمجھنے کی رمق بھی ان میں موجود نہیں تو وہ انسان کہلانے کے کب مستحق ہیں ؟ وہ تو چارپائے ہیں اور وہ بھی ایسے چار پائے شرارتی قسم کے اور برے گنے جاتے ہیں جیسے گیدڑ اور بھیڑیا۔ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے کسی گروہ کی قدر و قیمت اس وقت تک ہے جب تک ان میں عقل و فکر سے کام لینے کی صلاحیت ہے اور وہ اس سے کام لیں اور ظاہر ہے کہ عقل و فکر سے کام لینے والے پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات کو یقیناً قبول کریں گے کیونکہ آپ ﷺ کی تعلیمات سراسر عقل و فکر ہی تو ہیں۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ رسول اتمام حجار کا آخری ذریعہ ہوتا ہے جن کی آنکھوں کے پردے رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی نہیں اٹھتے ان کے اندھے پن کا کوئی علاج دنیا میں نہیں ہوتا اس لئے ان کا باقی رہنا بالکل بےمقصد ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو کسی کو جینے کی مہلت دی ہے وہ صرف کھانے پینے اور سونے جاگنے ہی کے لئے نہیں بلکہ سوچنے سمجھنے اور زندگی سنوارنے اور سدھارنے کے لئے دی ہے ورنہ کھانے پینے اور سونے جاگنے کے سارے کام تو چار پائے بھی کرتے ہیں پھر ایک انسان اور چارپائے میں فرق کیا رہا۔ جب مقصد حیات دونوں کا ایک ہی ہوا۔ قرآن کریم بار بار یہ بیان کرتا ہے کہ انسان وہی ہے جس میں انسانیت موجود ہے اور انسانیت عقل و فکر اور سمجھو سوچ کا نام ہے لیکن افسوس ان پیشوایان مذہب پر جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہب میں عقل و فکر نام کی چیز کا کوئی کام نہیں۔ ان کی اپنی عقل کا جنازہ تو نکل ہی چکا تھا لیکن انہوں نے دوسروں کی عقل و فکر کو زندہ درگور کردیا اور اسی طرح وہ دوہرے مجرم ٹھہرے جو دوگنے عذاب کے مستحق ہیں خواہ وہ امام و پیشوا اور پیرو مرشر ہی کے ناموں سے پکارے جاتے ہوں اس لئے کہ وہ عنداللہ چارپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ ان کے اپنے دلوں میں ایمان نہیں ہے وہ دوسروں کا ایمان کی کیا تلقین کریں گے ؟
اس سبق کا خلاصہ ایک بار پھر دیکھ لو تاکہ تم انسانیت کو اچھی طرح جان سکو۔ فرمایا بدترین چارپائے وہ انسان ہیں جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن کریم کے نزدیک عقل و حواس سے ٹھیک طرح کام نہ لینا اور اندھوں کی طرح چلنا انسانیت سے گر جانا ہے اور وہ کہتا ہے کہ کفر اس اندھے پن کا نتیجہ ہے۔ پس ایمان کی راہ عقل و بصیرت کی راہ ہوئی اور کفر اندھے پن کا دوسرا نام ہوا۔