8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے عہد و پیمان کیا تھا پھر انہوں نے اسے توڑا اور ہر مرتبہ عہد کرکے توڑتے ہی رہے اور وہ ڈرتے نہیں

وہ لوگ انسانی اوصاف سے خارج ہیں جو اپنے کسی عہد و پیمان کا لحاظ نہیں رکھتے : 75: گزشتہ آیات میں جن لوگوں کو چارپایوں سے بھی بدتر قرار دیا تھا انہی میں سے ایک قسم کے لوگ وہ بھی ہیں جو اپنے کسی عہد و پیمان کے پابند نہییں۔ وضاحت اس کی اس طرح ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے تو یہود کے دو گروہ جو مدینہ طیبہ اور مضافات مدینہ میں رہتے تھے انہوں نے اپنی ضرورت کے تحت نبی کریم ﷺ سے کئی معاہدے کئے اور ان کی پوزیشن کچھ اس طرح ہوگئی کہ جب ان کی ضرورت ہوئی آپ ﷺ سے معاہدہ امن کرلیا اور جب مکہ والوں نے ان کو بلایا تو ان کی طرف جھک کر کوئی نہ کوئی شرارت شروع کردی کیونکہ ان کا سردار کعب بن اشرف عمرو بن ہشام یعنی ابو جہل کا دلی دوست تھا اور وہ بھی اپنی قوم قریش کا ایک بہت بڑا سردار اور پیشوا تھا۔ بلاشبہ اسلامی ربایات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ جہاں تک ممکن ہو یہود مدینہ کو کسی نہ کسی معاہدے کے تحت ساتھ لگایا جائے تاکہ وہ مکہ والوں کو مدد نہ پہنچائیں اور ادھر یہود کی اپنی ضرورت بھی بھی یہ تھی۔ اس لئے یہود نے جب بھی خواہش کی نبی کریم ﷺ کو معاہدہ امن کے لئے تیار پایا لیکن یہود نے ایک دو بار نہیں بلکہ جب معاہدہ کیا تو انکو اس کے خلاف کرتے ذرا دیر نہ لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے مسلمانوں کے دونوں سیاسی گروہوں یعنی اوس و خزرج کی آپس میں صلاح کروائی اور دونوں کو اللہ کے حکم سے بھائی بھائی بنا دیا اور ان کی پرانی رقابتوں کا خاتمہ کرایا اور دوسری طرف یہود مدینہ سے بھی معاہدات کئے کیونکہ وہ مدینہ میں مسلمانوں کے سب سے قریبی پڑوسی تھے ان صنمی معاہدوں سے آگے بڑھ کر پھر ایک مفصل عہد کیا جس کو باقاعدہ عہد نامہ کے طور پر لکھا گا اور اس معاہدہ میں سارے یہودی خواہ وہ مدینہ کے ہوں یا مضافات مدینہ کے مل کر ایک معاہدہ طے کیا اور سب نے اس پر دستخط کئے اس معاہدہ کا پورا متن آج بھی ” البدایۃ والنھایۃ “ اور سیرت ابن ہشام میں موجود ہے۔ اس کا سب سے اہم جزو یہ تھا کہ جب بھی کوئی باہمی اختلاف ہوا تو رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ آخری ہوگا اور جو کچھ آپ ﷺ فیصلہ فرمائیں گے وہ سب کو تسلیم کرنا ہوگا اس معاہدہ میں بنو نضیر اور بنو قریظہ کے اپنے قضئے بھی تھے اور مسلمانوں کے ساتھ اونچ نیچ کے فیصلے بھی اور دوسرا اہم جزء اس معائدہ کا یہ تھا کہ یہود مدینہ مسلمانوں کے خلاف کسی دشمنی کو ظاہراً یا طابناً کوئی امدام نہیں دیں گے۔ اس عہد و میثاق کے باوجود ان لوگوں نے غزوہ بدر کے موقع پر عہد کی خلاف ورزی کر کے مشرکین مکہ کو اسلحہ اور سامان جنگ سے مدد پہنچائی لیکن جب غزوہ بدر کا انجام مسلمانوں کے حق میں فتح مبین ثابت ہوا اور کفار مکہ کو ہزیمت و شکست کا سامنا ہوا تو یہ لوگ نبی اعظم و آخر ﷺ کے پاس حاضر ہو کر عذر و معذر تین پیش کرنے لگے کہ ہم سے غلطی ہوئی معاف فرمادیں اور آئندہ کبھی عہد شکنی نہیں کریں گے۔ اس لئے آپ ﷺ نے ان لوگوں سے دوبارہ عہد کی تجدید فرمالی اس جگہ اس بات کا ذکر کیا گیا اور فرمایا کہ ان لوگوں میں کوئی دیانت و امانت نہیں اور ان میں آخرت کا خوف تو مطلق نہیں ہے حالانکہ ان کی زبانیں آخرت کے عذاب کو تسلیم کرتی ہیں کہ معائدہ کی پابندی کرنے والے لوگوں کے اور اللہ تعالیٰ کے مجرم قرار پاتے ہیں اس کے باوجود ان میں ذرا شرم و حیاء نہیں کہ ایک طرف عہد کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کو توڑ دیتے ہیں۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم لڑائی میں انہیں موجود پاؤتو ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں انہیں بھاگتے دیکھ کر خود ہی بھاگ کھڑے ہوں اور یہ کہ وہ عبرت پکڑیں

جو ڈھیل ان کو دی جا چکی وہ دی گئی ، آئندہ اگر وہ کوئی خلاف ورزی کریں تو کوئی معافی نہیں : 76: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اعظم و آخر ﷺ کو ایک قانونی ہدایت نامہ دیا گیا کہ آئندہ اگر لڑائی میں انہیں موجود پاؤ یعنی براہ راست وہ میدان میں اتریں یا تمہارے دشمنوں کو کمک و مدد پہنچائیں تو ان کو ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھی عبرت ہوجائے اور وہ سمجھ لیں کہ اب خیر اسی میں ہے کہ اب یہاں سے بھاگ کر جان بچائیں۔ مطلب یہ ہے کہ آئندہ ان کا کوئی عذر قبول نہ کیا جائے اور نہ ان کو مہلت دی جائے بس آج کے بعد ان کی سزا صرف اور صرف ان کا قتل ہے۔ ہاں ! یہ خود بھاگ کر یہاں سے نکال جائیں اور جانیں بچالیں یہ دوسری بات ہے اور آخر آیت میں واضح کردیا کہ یہ بات ظلم وتعدی نہیں بلکہ انکی اصلاح کے لئے کہی گئی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر کے انسانوں کی طرح رہیں اور اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان کا لحاظ و پاس کریں۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر ایک گروہ سے تمہیں دغا کا اندیشہ ہے تو چاہیے کہ ان کا عہد انہی پر لوٹا دو اس طرح کہ دونوں جانب یکساں حالت میں ہوجائیں یاد رکھو اللہ خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

الٰہی ہدایت نامہ کی دوسری ہدایت جو نبی و اعظم و آخر ﷺ کو دی گئی : 77; : فرمایا اے پیغمبر اسلام ! اگر یہ گروہ ابھی تک دشمنوں کے ساتھ نکلا نہیں لیکن ان کے خلاف ورزی کرنے کا آپ ﷺ کو اندیشہ ہے تو چاہئے کہ آپ ان کا عہد انہیں پر لوٹا دیں یعنی اعلان کردیں کہ آج سے ہمارے اور آپ کے درمیان جو عہد و پیمان ہوا تھا وہ منسوخ ہے اور ہم آپ کو اس کا پابند نہیں کرتے اور نہ خود پابند ہوتے ہیں یہ اعلان ہوجائے گا تو دونوں فریق کو یکساں طور پر تیاری کی مہلت مل جائے گی اور وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کھل کر کریں گے اور آپ جو دفاع کرنا چاہیں کھل کر کریں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور بظاہرمعائدے کا پابند رہنا اور اندر ہی اندر معائدہ کی خلاف ورزی کرتے رہنا خیانت ہی تو ہے اور پھر آخر اس کی ضرورت کیا ؟ دھوکا اور فریب میں نہ خود مبتلا ہو اور نہ دوسروں کو کرو کیونکہ معاہدہ کا اصل مطلب تو یہ ہے کہ دونوں فریق مطمئن رہ کر زندگی بسر کریں اور کسی فریق کو بھی دوسرے سے کوئی خطرہ نہ رہے لنکو اگر اپنی اپنی جگہ پر دونوں فریق تیاری کر رہے ہوں یا ایک فریق ہی تیاری کر رہا ہو اور دوسرے کو دھوکے میں مبتلا رکھے اور وہ خالی الذہن ہونے کے باعث کوئی تیاری نہ کرے تو یہ خیانت نہ ہوگی اور خیانت کوئی بھی کرے اللہ اس کو پسند نہیں کرتا۔ کیا دنیا میں اس وقت تک کسی قوم نے احکام جنگ کو اس درجہ بلند اخلاقی معیار پر کھا ہے ؟ اگر غور کرو گے تو عالم گیر جنگ یورت کی تاریخ کا ہر صفحہ اس کے جواب میں ” نہیں “ کہے گا ! اوراق الٹتے جاؤ اور دیکھتے جاؤ ۔ غور کرو کہ اسلام کا عدل و انصاف کیا شے ہے ؟ کہ خیانت کرنے والے دشمن کے حقوق کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں اس کا پابند کیا جاتا ہے کہ عہد کو واپس کرنے سے پہلے کسی قسم کی تیاری بھی ان کے خلاف نہ کریں کیونکہ یہ بھی خیانت ہے۔ کاش ! کہ آج قوم مسلم خیانت کی اس تعریف سے واقف ہی نہ رہی ، کیوں ؟ اس لئے کہ پیشوایان مذہب نے خیانت کی اس صحیح تعریف سے لوگوں کو روشناس ہی نہ کرایا بلکہ انہوں نے قوم کو باور کرایا کہ ایک کام خود کریں اور دوسرے پر الزام رکھ دیں کہ یہ کام اس نے کیا ہے تو یہ کوئی خیانت نہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ان کو یہ بتایا کہ اس خیانت کے الزام میں پکڑے ہوئے کو کوئی چھڑانے کی اپیل کرے تو اس ملزم کو چھوڑنا خیانت ہے 0 پھر مزید آگے بڑھ کر ان کو یہ بھی بتایا جائے کہ یہ کام اللہ کے ایک نبی کا ہے اور پھر نبی سے بھی اللہ تعالیٰ نے مخصوص ہدایت دے کر کرایا ہے تو وہ یقیناً اجر وثواب کا کام قرار پاتا ہے پھر آخر اس سے کوئی بچے گا کیوں ؟ جب کہ وہ کام ہم خرما و ہم صواب کی مصداق قرار پا گیا۔ اس وقت اتنی بات یاد رکھو اس سے پردہ ان شاء اللہ سورة یوسف میں چل کر اٹھایا جائے گا جو اسی جلد میں موجود ہے۔ ہاں ! اس وقت صرف یہ کہہ دو کہ : اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ00156
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی وہ خیال نہ کریں کہ بازی لے گئے وہ کبھی درماندہ نہیں کر سکتے

یاد رکھو کہ کفر کی راہ اختیار کرنے والے اللہ کو عاجز نہیں رکھ سکتے : 78: آیت کا ماحصل یہ ہے کہ کوئی مجرم اگر اس جرم کی مصیبت اور تکلیف سے نجات پاجائے اور پھر بھی بدبخت توبہ نہ کرے بلکہ اپنے جرم پر ڈٹا ہی رہے تو یہ اس کی علامت نہ سمجھو کہ وہ بڑا کامیاب ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوٹ گیا۔ نہیں ، بلکہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور یہ ڈھیل اس کے عذاب اور مصیبت کو اور بڑھا رہی ہے اگرچہ اس کو ابھی یہ محسوس نہیں ہو رہا اور ساتھ ان کفار کو جو بدر کے میدان میں اپنے ساتھیوں یعنی مشرکوں کے ساتھ اترے تھے یہ بات بتادی کہ وہ اس وقت اگر شریک ہو کر بچ گئے ہیں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ آئندہ بھی وہ اس طرح بچتے رہیں گے۔ اب جب کہ یہ سلسلہ جہاد جاری ہے وہ کسی وقت بھی پکڑے جاسکتے ہیں اور اگر یہاں نہیں تو آخرت کی پکڑ سے تو وہ بہر حال نہیں بچ سکیں گے پھر جب وہ ابدی عذاب میں مبتلا کردیئے گئے تو وہ میدان جنگ سے بچ کر کیا خاک بچے کیونکہ انجام کار وہ پکڑے تو گئے اس لئے وہ کان کھول کر سن لیں ن کہ وہ اللہ کو کبھی عاجز نہیں کرسکتے۔ یہاں نہیں تو وہاں دھر لئے جائیں گے۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

جہاں تک تمہارے [ بس میں ہے قوت پیدا کر کے اور گھوڑے تیار رکھ کر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اپنا ساز و سامان مہیا کیے رہو کہ اس طرح مستعد رہ کر تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھو گے نیز ان لوگوں کے سوا اوروں پر بھی جن کی تمہیں خبر نہیں اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا مل جائے گا ایسا نہ ہوگا کہ تمہاری حق تلفی ہو

بسلسلہ جنگ الٰہی ہدایت نامہ کی تیسری ہدایت جو مسلمانوں کو دی گئی : 79: الٰہی ہدایت نامہ کی تیسری ہدایت جو مسلمانوں کو اس جنگ کے موقع میں دی گئی وہ یہ تھی کہ اب جب کہ جہاد فرض ہوچکا اور ضرورت پڑنے پر یہ تا قیامت جاری رہے گا کیونکہ محمدرسول اللہ ﷺ کے بعد نہ کوئی نیا رسول و نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی نیام پیام و پیغام۔ اس لئے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلی جائے کہ ہر دور کے مسلمانوں کو ہر طح کے سامان جنگ سے لیس (Fully Armed) ہونے کی تاکید کی جاتی ہے اور تم میں سے کوئی کوتاہ اندیش توکل کو بےعملی کا مترادف نہ سمجھ لے۔ اسباب بھی اسی نے بنائے ہیں۔ ان میں حیرت زا تاثیرات اسی کی حکمت نے رکھ دی ہیں اور ان سے کام لینے کا اس نے حکم فرمایا ہے۔ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں کس قدر گہری حقیقت کی تعلیم دی گئی ہے کہ اہل کفر تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے تم ان سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ تیار رہو اور ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو اور اپنے پاس وہ سارا سامان برابر تیار رکھو جس سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دھلتے ہوں۔ اب مزید قابل غور بات یہ ہے کہ اس ہدایت پر اس وقت کے مسلمانوں نے کیا عمل کیا ؟ اس وقت دنیا میں کتنے ممالک ہیں جو اسلامی مملکت کے نام سے معروف ہیں جن میں سے ایک مملکت خداداد پاکستان بھی ہے۔ کسی ملک نے اسلام کی اس ہدایت پر کبھی سوچا ہی ہو ؟ اس وقت سارے اسلامی مملکتوں سے اسلام کے زیادہ قریب آل سعود کی مملکت تسلیم کی جاتی ہے انہوں نے کبھی اس ہدایت کے مطابق کوئی کوشش کی ہو۔ ہر طرف سے آپ کو جواب نفی ہی میں ملے گا۔ بلکہ یہ وقت تو ایسا آیا کہ اسلاح بنانا ، اسلحہ رکھنا اور اسلحہ کا سارا کاروبار کفر کی حکومت کے ہاتھ میں چلا گیا اور پھر کفر نے کھل کر اسلام پر پابندی عائد کردی کہ دیکھو ! تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ میرے پاس اسلحہ ہونا چاہئے یا اسلحہ کی تیاری کرنی چاہئے اور اسلحہ بنانا چاہئے اگر تم نے اس طرح کی کوئی سوچ سوچی تو تم کو تہس نہس کردیا جائے گا حالانکہ اسلام کی ہدایت یہ تھی کہ ” ان دشمنوں کے مقابلہ کے لئے جس قدر بھی تم سے ہو سکے سامان درست رکھو پوری قوت کے ساتھ ہر وقت تیار رہو۔ “ اور پھر ” قوت “ کا لفظ عام ہے جس سے مراد عددی قوت ، سامان جنگ پاس رکھنے کی قوت ، سامان جنگ بنانے کی قوت ، سامان جنگ خریدنے کی قوت ، سا مان جنگ استعمال کرنے کی قوت ، آلاب حرب کی قوت ، گولہ بارود کی قوت ، طیاروں اور ٹینکوں کی قوت ، گاڑیوں اور تو پوں کی قوت ، میزائل اور ایٹم بم کی قوت۔ آج کل یہ ساری قوتیں اس وقت کے ” رباط الخیل “ کے مترادف ہیں۔ کیونکہ یہ ساری قوتیں سوار فوج کی اہم ضروریات ہیں جو اس حکم سے ظاہر ہے اور موجودہ جنگوں کے لئے جو کچھ درکار ہے سب اسی میں شامل ہے اور جو کچھ نئی ایجادات ہوں گی وہ سب کی سب اسی حکم میں شامل ہوں گی۔ اسی جنگی سامان کا مقصود اصل اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرانا ہے تاکہ وہ چھیڑ خانی نہ کریں اور اگر چھیڑ خانی میں پہل کریں تو پھر ان کو اڑا کر رکھ دینا ہے۔ فرمایا کچھ دشمن تو ایسے ہیں کہ تم اے مسلمانو ! ان کو جانتے ہو لیکن بہت سے چھپے دشمن تمہارے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ابھی تک تم نہیں جانتے کیونکہ وہ ابھی تک چھپ کر بیٹھے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جب ان کا ہاتھ تم پر پڑے گا تو وہ کبھی تم کو معاف نہیں کریں گے اور اچھی طرح سمجھ لو کہ جو کچھ تم فی سبیل اللہ خرچ کرو گے اس کا اجر پورا پورا تم کو دیا جائے گا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے لفظ قوت کی تفسیر ان الفاظ میں ارشاد فرمائی کہ الا ان القوۃ الرمی الا ان القوہ الرمی الا ان القوۃ الرمی خبردار قوت رمی ہے ( تین بار) رسالت کی گہرائی پر بھی اچھی طرح غور کریں کہ آپ ﷺ نے سہم اور قوس یعنی تیر کمان نہیں فرمایا بلکہ رمی کا عام لفظ استعمال کیا تاکہ دور سے نشانہ پر پھینکے جانے والے تمام ہتھیار جو اس وقت موجود تھے ، اس وقت ہیں اور جو قیامت کر ایجاد ہونے والے تھے سب کو اس میں شامل کرلیا۔ یہ ہدایت الٰہی مسلمانوں کے لئے خاص تھی لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں نے ہی اس کو صحیح معنوں میں قبول نہ کیا اور غیر مسلم قوموں نے قوم مسلم کی اس ضرورت پر مکمل طور پر قبضہ کرلیا اور مسلمان ہیں کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو ڈرانے کی بجائے خود اللہ کے دشمنوں سے ڈرنے لگے۔ دفاع میں خرچ کیا ہوا مال تمہارا کبھی ضائع نہیں جائے گا : 80: دفاع میں خرچ کرنے حقیقت میں اللہ ہی کی راہ میں خرچ کرنا ہے اس لئے جو مال فی سبیل اللہ خڑچ ہوگا وہ دفاع کے ضمن میں بخوشی خوش کیا جاسکتا ہے۔ اسلحہ خانے اور اسلحہ کی فیکٹریاں اس سے لگائی جاسکتی ہے۔ اسلحہ کا سامان اس سے خریدا جاسکتا ہے۔ اسلحہ کی تعلیم و تربیت اس پر اس کو خڑچ کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا جان ومال ، وقت اور کوشش کی جو قربانی بھی اس سلسلہ میں تم دو گے وہ رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ دین و دنیا میں تمہیں اس کا وہ معاوضہ دیا جائے گا جو اللہ رب العزت کے شان جود و کرم کے شایاں ہے۔ حضرت ابو مسعود و انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کا پاس حاضر ہوا اور اس کے ہاتھ میں ایک اونٹنی کی نکیل تھی اور آتے ہی نبی کریم ﷺ سے مخاطب ہو کر عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ اونٹنی میں نے اللہ کی راہ میں دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندے اس کا بدل قیامت کے روز تم کو سات اونٹنیاں ملیں گی اور ہر ایک کے ناک میں نکیل پڑی ہوگی۔ (صحیح مسلم) آخر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا “ معلوم ہوا کہ لیا ہوا مال دینے والے کو اگر واپس نہ لوٹایا جائے تو وہ بھی ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ سے ظلم کا صدور محال ہے۔ اس لئے مزید تاکید کردی گئی کہ دفاع میں خرچ کیا ہوا تمہارا مال کبھی ضائع جانے والا نہیں اور نہ ہی اس شک میں کسی مسلمان کو رہنا چاہئے کہ ہمارا یہ مال صحیح مصرف میں صرف ہوا یا نہیں ؟ یقیناً اس سے زیادہ اچھا اور اس سے زیادہ بہتر مصرف مال کا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب کوئی صاحب یہ نہ سمجھ لیں کہ دنیا جہان کے اسلحہ جب تک اکھٹے نہ کر لئے جائیں اس وقت تک میدان جنگ میں داخل نہ ہوا جائے۔ ماشا اللہ ! بالکل نہیں مطلب ہے کہ مسلمانوں کو اسلحہ تیار رکھنا چاہئے اور وہ مقدر بھر ہونا چاہئے اور جو کچھ میسر آئے اس کو لے کر میدان جنگ کی طرف بڑھیں جب تم نے اللہ پر بھروسہ رکھ لیا اب قدم پیچھے ہٹانا ناجائز و حرام ہے۔ حالات کچھ بھی ہوں تخت ملے یا تختہ اس لئے کہ تمہاری کامیابی ہر ہال میں ہے کیونکہ اگر تم شہید ہوگئے تو اگرچہ شہادتت کے بعد تمہارا سلسلہ حیات اس دنیا سے منقطع ہوگیا لکن تمہاری آخرت سنور گئی اور دنیا میں تم کو شہادت کا رتبہ حاصل ہوا۔ لہٰذا ضرورت کے وقت کسی حال میں بھی جہاد سے جی نہیں چرایا جاسکتا بلکہ خوش دلی سے میدان جہاد میں اترنا چاہئے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے۔
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر صلح کی طرف جھکیں تو چاہیے کہ تم بھی ان کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو بلاشبہ وہی ہے جو سنتا اور جانتا ہے

جنگ کے سلسلہ میں ہدایت نامہ الٰہی کی چوتھی ہدایت اہل اسلام کو : 81: فرمایا میدان جنگ کے اندر یا باہر جب بھی تمہارا دشمن صلح کی طرف جھکے تو تم کو بھی بغیر کسی حیل و حجت ان کی طرف جھکنا چاہئے اس لئے کہ لڑائی تو دشمن لڑ رہا تھا تمہارا کام تو دفاع ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بطور دفاع ہے پھر جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو تم کو دیر نہیں کرنا چاہئے حالات کتنے خوش کن کیوں نہ ہوں۔ اس آیت نے قطعی فیصلہ کردیا کہ اسلام کی دعوت اعلام امن ہے اگ اسلام جنگ لڑتا ہے تو وہ بھی محض قیام امن کے لئے ملک کی ہوس اسلام کے پیش نظر مطلق نہیں۔ غور کرو کہ یہ آیتت اس وقت نازل ہوئی جب جنگ بدر کے فیصلہ نے مسلمانوں کی فتح مندی آشکارا کردی تھی اور تمام جزیرہ عرب ان کی طاقت سے متاثر ہونے لگا تھا ایسے حال میں حکم ہوا کہ جب کبھی دشمن صلح و امن کی طرف جھکے چاہئے کہ بلا تامل تم بھی جھک جاؤ ۔ اگر اس کی نیت میں کوئی فتور ہوگا تو ہوا کرے اس کی وجہ سے صلح و امن کے قیام میں ایک لمحہ کے لئے بھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔ اس لئے کہ تم جس کے حکم کے تابع یہ صلح کر رہے ہو وہ ہر دل کی بات جانتا ہر طرح کی آواز کو سنتا ہے اور ہر ظاہر و باطن کا علم رکھنے والا ہے۔ اسی کے حکم سے تم کو پہلے یہ مقام حاصل ہوا اور اسی کے حکم سے تم نے صلح کی اور اگر انہوں نے دوبارہ کوئی حرکت کی رو وہی اس کا دفاع بھی تم سے کرائے گا۔ اس سلسلہ میں تمہاری اپنی اور ذاتی رائے اس ہی کے حکم کے تابع ہے اور اسی کے حکم کے تابع رہنی چاہئے۔ وہ تمہاری نیت اور حالت کو بھی جانتا ہے اور تمہارے دشمنوں کی نیت اور ارادوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر ان کا ارادہ یہ ہوگا کہ تجھے دھوکا دیں تو اللہ کی ذات تیرے لیے کافی ہے ، وہی ہے جس نے اپنی مددگاری سے اور مومنوں سے تیری تائید کی

اگر دشمن تمہیں دھوکا دینے کی کوشش کرے گا تو اللہ تمہارا مددگار ہوگا : 82: اے پیغمبر اسلام ! اور اے مسلمانو ! اگر وہ بظاہر صلح پر آمادہ ہوں اور اندر ہی اندر تم کو زک پہنچانے کی تیاریاں کر رہے ہوں تب بھی تم چوکنے ہو کر صلح کے لئے بڑھنے والے ہاتھ کو جھٹتک نہ دو بلکہ اسے گرم جوشی سے تھام لو۔ اللہ تعالیٰ جس نے پہلے بھی ہر مشکل میں تمہاعی اعانت کی ہے اور اب بھی قادر ہے کہ تمہارے دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دے اور تمہیں کامیاب و کامران کر دے۔ تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ اسلام صلح ، امن اور آشتی کا دین ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کو فقط اس وقت جنگ کی اجازت دیتا ہے جب اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ اگر اب جنگ سے گریز کی گیا تو باطل کا بےرحم ہاتھ حق کے شجر ثمر بار کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گا۔ ان حالات میں جہاد سے فرار صلح پسندی کی علامت نہیں بلکہ بزدلی اور نامردی ہے جسے اسلام اپنے فرزندوں کے لئے ہرگز گوارا نہیں کرتا۔ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے ہر مشکل کے وقت تمہارا ہاتھ تھام لیا اور اے پیغمبر اسلام تیری اور اے مسلمانو ! آپ کی اس نے ہر حال میں مدد کی اگر حالات خراب ہوں گے تو وہ اب بھی تمہاری مدد کرے گا وہ ایمان والوں کے ساتھ شفقت کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے۔
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں باہم الفت پیدا کردی اگر توُ وہ سب کچھ خرچ کر ڈالتا جو رُوئے زمین میں ہے جب بھی ان کے دلوں کو باہ میں الفت سے نہ جوڑ سکتا لیکن یہ اللہ ہے جس نے ان میں باہمی الفت پیدا کردی بلاشبہ وہ غالب اور حکمت والا ہے

اللہ ہی تو ہے جو تمہارے دلوں میں الفتت پیدا کرنے والا ہے : 83: غور کرو کہ تم اے پیغمبر اسلام کتتنی دیر مکہ میں رہے لیکن وہاں کے لوگوں نے وہ کونسی تکلیف ہے جو آپ کو نہیں پہنچائی اور پھر اللہ نے وہاں سے نکال کر آپ کو مدینہ لا بسایا اور ساتھ ہی لوگوں کے دلوں کو بھی تمہاری طرف پھیر دیا یہ کوئی معمولی بات نہ توی بلکہ یہ خاص تائید غیبی ہی کا کرشمہ ہے۔ کسی شیطانی مقصد کے لئے کسی بھیڑ کا اکھٹا کرلینا اتنا مشکل نہیں ہوتا ابھی ڈگڈگی بجی اور ابھی لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے اور تیل کی تھاپ پر کتنے ہیں جو سر دھننے لگے اور ڈھولک بجنے پر کتنوں نے ٹانگ اٹھالی لیکن خاص اللہ کے کام کے لئے جس میں اللہ کی خوشنودی او آخرت کی طلب کے سوا کسی بھی دوسری چیز کا کوئی ادنیٰ شائبہ نہ ہو ، کلمہ حق کے جاں نثاروں کی ایک جماعت کا فراہم ہوجانا بغیر اس کے ممکن نہیں ہوا کہ اللہ نے تائید کی اور اس کی توفیق بخشی نے رہنمائی فرمائی۔ جو لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ جمع ہوئے تھے اپنی یہ نئی زندگی اختیار کرنے سے پہلے دور جاہلیت کی تمام برائیوں میں آلودہ تھے ان کے قبیلے جدا جدا تھے اور ان میں بیحد و حساب تعصبات تھے ان کے دیوتات بھی الگ الگ تھے اور یہ آنکھیں بند کر کے ان کی پر ستتش کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر ان کے مفادات باہم دگر متتصادم تھے اور یہ ان کے حاصل کرنے کے جائز و ناجائز طریقے استعمال کرتے تھے۔ پھر اس طرح کے لوگوں کو ان کے تمام تعصبات و مفادات اور تمام رسوم و عادات سے چھڑا کر بالکل ایک نئے سانچہ میں ڈھال دینا اور اس سانچے کو ان کی نگاہوں میں اتنا محبوب بنا دینا کہ اس کی خاطر وہ قوم ، وطن ، خاندان ، جائیداد اور بیوی بچوں سے جدا ہو کر اور سو کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوں یہ اللہ ہی کے لئے ممکن ہے کوئی انسان یہ کام انجام نہیں دے سکتا اگرچہ وہ دنیا جہاں سے سارے وسائل اس پر صرف کر ڈالے۔ اس جگہ ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ شیطانی دعوت اتنی آسانی اور دعوت الٰہی اتنی مشکل آخر کیوں ؟ اس سوال کا جواب تو پیچھے بغیر سوال اٹھائے ہی دے دیا گیا لیکن شاید شیطان ہی نے اس طرف سے پھیرلیا ہو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جتنی شیطانی دعوتیں ہیں کسی ایک دعوت کے لئے بھی کسی انسان کو کچھ چھوڑنا نہیں پڑتا اور وہ شیطانی دعوت قبول کرلی جاسکتی ہے۔ صرف اسلام کی دعوت ایک ایسی دعوت ہے کہ اس کو قبول کرنے کے لئے بہت کچھ چھوڑنا پڑتا ہے تتب جا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس انسان نے اسلام کی دعوت قبول کرلی ہے اور اگر بغیر کچھ چھوڑے دعوت مان بھی لی جائے تو اسلام کی ایسی دعوت کو کبھی اپنی دعوت کی قبولیت کا سرٹیفکیٹ نہیں دیتا۔ لات کے پجاری کو مناۃ کے دربار پر لے جاؤ یا عزیٰ کے اس کو ناچنے پر لگا دو یا گانے پر اس سے باچنے کا کہو یا گانے کا۔ اس کے سامنے شراب پیش کرو یا بھنگ کا پیالہ اس کو جوئے پر بٹھا دو یا زنان خانہ کی طرف لے جاؤ ۔ اس کو جھوٹ بچلنے کا کہو یا چوری کا حکم دو اس سے ناحق قتل کرا لو یا کسی کو گالی گلوچ نکلوا لو چاہے جو بھی کراؤ اس سے کچھ چھڑوانا نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس کو یہ تلقین کی جائے گی کہ یہ یہ کام چھوڑ کر آو تب تمہارا یہ کام منظور ہوگا ورنہ تمہاری ساری محنت بےکار جائے گی۔ اگر کسی چیز سے ایسا کرنے والے کو منع کیا جاتات ہے تو بتا دو ؟ یہی وجہ ہے کہ شیطان کی دعوت بالکل آسان ہے اور اس کو ماننے والے اور قبول کرنے والے بہت ہوتے ہیں لیکن اسلام کی دعوت کی طرف جب کوئی رغبتت کرے گا ان ساری چیزوں میں اس جس کی اس کو عادت ہے اسلام کی پہلی ہدایت یہ ہوگی کہ اس کو چھوڑ دو تب تمہارا اسلام قبول ہوگا ورنہ تمہارے اس دعوے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی اور ہر کسی چیز کو جس کی بھی کسی کو عادت ہے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا بلکہ بہت ہی مشکل ہے۔ اس لئے جتنا یہ مشکل ہے اتنا ہی اسلام کی دعوت ماننا اور تسلیم کرنا بھی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ارشاد فرمایا گیا کہ : اے پیغمبر اسلام ! وہی ہے یعنی اللہ ہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں آپ کی الفت و محبت پیدا کردی اور وہ سب کچھ چھوڑ کر آپ کے گرویدہ ہوگئے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! اللہ تیرے لیے کفایت کرتا ہے اور ان مومنوں کو بھی جو تیرے پیچھے چلنے والے ہیں

اے پیغمبر اسلام ! اگر آپ سب کچھ خرچ کردیتے تو بھی ان دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے : 84: جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے دنیا میں کوئی کام انسان کے لئے اس سے زیادہ مشکل نہیں ہے کہ بکھرے ہوئے انسانی دلوں کو ایک رشتہ الفت میں وہ پرو دے اور یہ کام تقریباً نامممکن ہوجاتا ہے جب معاملہ ایسے انسانوں کا ہو جو صدیوں سے باہمی جنگ وجدال کی آب و ہاو کی پرورش پاتے رہے ہوں اور جن کے نفسیاتی سانچوں میں باہمی آمیزش کا کوئی ڈھنگ باقی نہ رہا ہو۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا ظہور ایسے ہی لوگوں میں ہوا تھا مگر ابھی ان کی دعوت پر دس بارہ ہی برس گزرے تھے کہ مدینہ میں ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا جو اس اعتبار سے بالکل ایک نئی قسم کی مخلوق تھی۔ وہ جب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے باہمی کینہ و انتقام کے مجسّمے تھے لیکن جونہی مسلمان ہوئے محبت سازگاری کی ایسی پاکی و قدو سیت ابھر آئی کہ ان کا ہر فرد دوسرے کی خاطر اپنا سب کچھ قربان دینے کے لئے مستعد ہوگیا۔ فی الحقیقت یہی وہ تزکیہ اخلاق کا عمل ہے جو ایک پیغمبرانہ عمل تھا اور جو پیغمبر اسلام کی تعلیم و تربیت نے بحکم الٰہی انجام دیا اور یہی وہ اذن الٰہی جس کی طرف زیر نظر آیت میں ذکر کیا گیا۔ اس لئے ارشاد الٰہی ہوا کہ اے پیغمبر اسلام ! دیکھو وہ دل جو نفرت سے بھرے ہوئے تھے ان میں الفت پیدا کردینا اور ایک دوسرا کا جاں نثار بنا دینا کوئی معمولی اور آسان کام نہ تھا۔ دنیا بھر کے خزانے بھی اگر اس مقصد کے حصول کے لئے خرچ کردیئے جاتے تب بھی یہ چاک رفو نہ ہو سکتے تھے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرام ہے کہ اس نے عداوت کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھا دیا اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا یہ صرف اس کا کام ہے جس نے آگ نمرود کو ابراہیم (علیہ السلام) پر گلزار کیا تھا اور وہی ہے جس نے اس ساری بھڑکتی ہوئی آگ کو بھی ٹھنڈا کردیا اور ان دلوں میں آپ کی اتنی محبت رکھ دی کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر آپ پر مرنے کے لئے پروانوں کی طرح تیار ہوگئے۔ وہ غالب آنے والا اور بہت حکیم ہے۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! مومنوں کو لڑائی کا شوق دلا اگر تم میں بیس آدمی بھی مشکلوں کو جھیل جانے والے نکل آئے تو یقین کرو وہ دو سو دشمنوں پر غالب ہو کر رہیں گے اور اگر تم میں ایسے آدمی سو ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ہزار کافروں کو مغلوب کر کے رہیں گے اور یہ اس لیے ہوگا کہ کافروں کا گروہ ایسا گروہ ہے جس میں سمجھ بوجھ نہیں

اے پیغمبر اسلام ! اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اور مومنوں سب کے لئے کافی ہے : 85: اس زیر نظر چھوٹی سی آیت کا ترجمہ اکثر مترجمین نے یہ کیا ہے کہ : ” اے نبی ! آپ کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ مومنین بھی جنہوں نے آپ کا اتباع کیا ہے۔ “ (ماجدی) ” اے نبی (مکرم) کافی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ اور جو آپ کے فرمانبردار ہیں مومنوں سے (ضیاء القرآن) ” اے نبی کافی ہے تجھ کو اللہ ن اور جتنے تیرے ساتھ ہیں مسلمان “ (معارف القرآن) ” اے نبی تمہارے لئے اللہ اور یہی مومن جنہوں نے تمہاری پیروی اختیار کی ہے کافی ہے “ (تدبر القرآن) ایسا ترجمہ کیوں اختیار کیا گیا اور نقلاً بعد نقل ایسا کیوں ہوتا رہا ؟ اس میں کیا چزا مانع تھی کہ اس کا ترجمہ کیا جائے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! اللہ آپ کے لئے کافی ہے اور ان مومنوں کے لئے بھی جو آپ کے پیچھے چلتے ہیں “ ۔ ” اے نبی ! تمہارے لئے اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لئے تو بس اللہ ہی کافی ہے “ بہر حال ہم نے اسی ترجمہ کو اختیار کیا ہے اور اسی ترجمہ میں صحیح اور مفہوم کے قریب سمجھتے ہیں اور یہی ترجمہ مودودی صاحب (رح) نے اختیار کیا ہے لیکن اس پر کوئی نوٹ نہیں دیا۔ ایسا کیوں فرمایا ؟ اس لئے کہ پیچھے ظاہری سامان کی ضرورت بتائی گئی تھی کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے وہ سب کچھ تیار رکھو جس کی میدان مارراز میں ضرورت ہے اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا تھا کہ یہ صرف اس لئے کہ تمہارے دشمن پر تمہارا رعب قائم رہے اور وہ تم سے خائف رہے تم اس سے خائف نہ رہو اور اس ظاہر سروسامان کی ضرورت کے بعد واضح کردیا کہ سب کچھ کر کے بھی ان چیزوں پر بھروسہ نہ کرو۔ ہاں ! سامان سب کرو لکنس بھروسہ اللہ کی ذاتت پر رکھو تتم بھی اور سارے تمہاری پیروی کرنے والے بھی قیامت تک اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ موحدانہ تعلیم دی تو آپ کے مومن متبعین کو بھی یہی تعلیم دی اور اگر نبی اعظم و آخر ﷺ کو یہ بشارت دی کہ دشمن اگر قوی است نگہبان قوی تراست تو یہی بشارت آپ کے سچے پیروکاروں کو بھی دی اور رہتی دنیا تک جو آپ ﷺ کے پیروکار ہوں گے ان سب کے لئے بھی یہ بشارت قائم ودائم ہے بشرطیکہ ہم صحیح معنوں میں پیروکار رہیں۔ چونکہ پیچھے توکل کی بات کی تھی اس لئے لوگوں کی توکل کے متعلق غلط فہمی بھی دور کردی کہ وہ کچھ نہ کرنے کا نام نہیں بلکہ سب کچھ کرنے کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنے کی تعلیم ہے اور اسلام کا توکل یہی ہے۔ اندھے ، بہرے ، لنگڑے اور لولے بن کر بیٹھ رہنے کا نام توکل نہیں اور یہ تعلیم دینے والے کہ کچھ نہ کرنے کا نام توکل ہے خود اسلام کے توکل سے ناواقف ہیں یا مسلمانوں کو اسلمی تعلیمات سے دور رکھنے کی سازش کی سازشی ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! مسلمانوں کو جہاد پر ابھارو اور جہاد کے فوائد واضح کرو : 86: عام طور پر جو عبادات کے طریقے فرائض میں شمار کئے جاتے ہیں ان میں جہاد کا نام استعمال نہیں کیا جاتا۔ ایسا کیوں ہے ؟ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ ہاں ! قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ میں اس کی فرضیت اور اہمیت بہت سے دوسرے احکام اور عبادات سے بد رہجا زیادہ ہے۔ زیر نظر آیت میں بھی یہی ارشاد ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! مومنوں کو جہاد کا شوق دلاؤ “ اس لئے ضیال ہوا کہ اس جگ فریضہ عبادت کے متعلق کچھ عرض کردیا جائے اور اس کی حقیقت پر ناواقفیت کے جو پردے پڑچکے ہیں ان کو اگر اٹھایا نہیں جاسکتا تو کم از کم روشناس تو ضرور کرا دیا جائے۔ جہاد کے معنی عموماً قتال ، جنگ اور لڑائی کے کئے جاتے ہیں اور سمجھے سمجھائے جاتے ہیں مگر مف ہوں کی یہ تنگی قطعاً غلط ہے۔ جہاد کا لفظ ” جہد “ سے نکلا ہے اور لغت میں اس کے معنی محنت اور کوشش کے ہیں اور اس کے قریب قریب اس کے اصطلاحی معنی بھی ہیں یعنی حق کی بلندی اور اس کی اشاعت اور حفاظت کے لئے ہر قسم کی جدوجہد ، قربانی ، ایثار اس کے اصطلاحی معنی بھی ہیں یعنی حق کی بلندی اور اس کی اشاعت اور حفاظت کے لئے ہر قسم کی جدوجہد ، قربانی ، ایثار گرا کرنا اور ان تمام جسمانی ، مالی اور دماغی قوتوں کو جو اللہ تعلایٰ کی طرف سے بندوں کو ملی ہیں اس راہ میں صرف کرنا ، یہاں تک کہ اس کے لئے اپنی اور اپنے عزیز و اقارب کی ، اہل و عیال کی ، خاندان و قوم کی جان تک کو قربان کردینا اور حق کے مخالفوں اور دشمنوں کی کوششوں کو توڑنا ، ان کی تدبیروں کو رائیگاں کرنا ، ان کے حملوں کو روکنا اور اس کے لئے جنگ کے میدان میں اگر ان سے لڑنا پڑے تو اس کے لئے بھی پوری طرح تیار رہنا یہی جہاد ہے اور یہ اسلام کا ایک رکب اور بہت بڑی عبادت ہے۔ افسوس ہے کہ کچھ لوگوں نے اتنا اہم اور اتنے ضروری اور اتنے وسیع مفہوم کو جس کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی تحریک سرسبز ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے صرف ” دین کے دشمن کے ساتھ جنگ “ کے تنگ میدانوں میں محصور کردیا۔ یہ بات بار بار کہی گئی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جس تعلیم اور شریعت کو لے کر دنیا میں آئے وہ محض نظریہ اور فلسفہ ہی نہیں بلکہ عمل اور سرتاپا عمل ہے۔ آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کا استحقاق گوشہ گیری ، رہبانیت مراقبہ اور فلسفیانہ خیال آرائی پر موقوف نہیں بلکہ اللہ کی توحید ، رسولوں ، کتابوں اور فرشتوں کی سچائی ، قیامت اور جزا و سزا کے اعتقاد کے بعد ان کے مطابق عمل خیر اور نیک کرداری کی جدوجہد پر مبنی ہے اور اس کے لئے خون تک بہانے سے دریغ نہ کرنے کی تعلیم ہے۔ اس لیے قرآن کریم میں جہاد کا مقابل لفظ ” قعود “ استعمال کیا گیا ہے جس سے مقصود سستی ، تغافل اور ترک فرض ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” مسلمانوں میں سے جو لوگ معذور نہیں ہیں اور بیٹھے رہے ہیں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اپنے مال سے اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں ، اللہ نے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہ اعتبار درجے کے فضیلت دی ہے اور اللہ کا وعدہ نیک سب کے لیے ہے اور بیٹھ رہنے والوں کے مقابلہ میں جہاد کرنے والوں کو اللہ نے بہت بڑا اجر عطا کیا ہے “ (النسا 4 : 95) اہل دل کی اصطلاح میں ” جہاد “ کی سب سے اعلیٰ قسم خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور اس کا نام ان کے ہاں ” جہاد اکبر “ ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میدان جنگ میں سچے دل کے ساتھ وہی اتر سکتا ہے جو سب سے پہلے اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے۔ خطیب نے تاریخ میں حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان صحابہ کرام ؓ سے جو ابھی ابھی میدان جنگ سے کامیابی کے ساتھ واپس آئے تھے فرمایا : ” تمہارا آنا مبارک ، تم چھوٹے جہاد (سریہ) سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو کہ بڑا جہاد بندہ کا اپنے ہوائے نفس سے لڑنا ہے۔ “ احادیث میں اس طرح کی روایاتت کثرتت سے موجود ہیں جیسا کہ ابن نجار نے ابوذر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” بہترین جہاد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنی خواہش سے جہاد کرے “ (کنزالعمال کتاب الجہاد ج 2 ص 285) اور یہی روایت دیلمی میں اس طرح ہے کہ ” بہترین جہاد یہ ہے کہ تم اللہ کے لئے اپنے نفس اور اپنی خواہش سے جہاد کرو۔ “ یہ تینوں روایتیں اگرچہ مستند کتب سے نہیں لیکن بلاشبہ مستند کتب کی احادیث کی تائید ان کو حاصل ہے اور قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر ہیں : وَ الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا 1ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (رح) 0069 (العنکبوت 29 : 69) ” جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے اور یقیناً اللہ نیکو کاروں کے ہی ساتھ ہے “ مجاہدہ کیا ہے ؟ مجاہدہ کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلہ میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشان دہی نہ کی جائے بلکہ مطلقاً مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی کش مکش ہے مومن کو اس دنای میں جو کش مکش کرنی ہے اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نمی کی کے نقصانات سے ڈراتا ہے اور ہر برائی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا ہے۔ اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لئے زور لگاتا رہتا ہے۔ اپنے گھر سے لے کر آفاق تک کے ان تمام افسانوں سے لڑنا ہے جن کے نظریات ، رحجانات ، اصول اخلاق ، رسم و رواج ، طرز تمدن اور قوانین معیشت و معاشرت دین حق سے متصادم کردیتا ہے اور اسے ریاست سے بھی لڑنا ہے جو اللہ رب العزت کی فرمانبرداری سے آزاد رہ کر اپنا فرمان چلائے اور نیکی کی بجائے بدی کو فروغ دینے میں اپنی قوتیں صرف کرے۔ یہ مجاہدہ ایک دن ، دو دن کا نہیں عمر بھر کا ہے۔ لیکن ہمارے صوفیوں نے اس ” مجاہدہ “ کے لفظ کا دراصل جنازہ ہی نکال دیا ہے اور اس کی صف ماتتم بچھا دی ہے اور لوگوں کو اس فاتحہ خوانی پر لگا رہے ہیں۔ اس جگہ اس آیت کے تحت اس بیان کی ضرورت صرف یہ ہوئی کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! مومنوں کو جہاد کا شوق دلا “ اور جہاد کی وسعتت بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ وہ کیا ہے ؟ اگرچہ اس جگہ وہی جہاد مراد ہے جو ” جہاد بالسیف “ ہے لیکن اگر ” جہاد بالسیف “ نہ ہو رہا ہو تو کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اب ہم جہاد کے حکم سے باہر ہیں۔ نہیں بالکل نہیں بلکہ ” جہاد بالسیف “ اس ” جہاد اکبر “ کی ایک شاخ ہے اور ” جہاد اکبر “ سے انسان کبھی باہر نہیں ہو سکتا۔ اس میدان سے نکل کر اگر وہ اس میدان میں آگیا تو بھی وہ ” مجاہد “ ہی ہے اور ساری زندگی اس کو ” مجاہد “ ہی رہنا ہوگا۔ کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کتنی تعداد ہو تو ان کو ضرور کامیاب ہونا ہے : 87: پچھلے مضمون کی مزید وضاحر فرمائی جا رہی ہے کہ جب مسلمانوں کو رغبت دلانا ہے تو اس رغبت کا طریقہ بھی خود ہی ارشاد فرمادیا وہ یہ کہ اے مسلمانو ! ہر چند کہ تمہارے ساتھیوں کی تعداد باعتبار تعداد تھوڑی ہے لیکن باعتبار کیفیت بہت ہے اس لئے کہ تمہارے بیس آدمی جو صحیح معنوں میں جہاد کی روح کو جانتے ہوں گے اس لئے وہ ثابت قدم رہیں گے تو کفار کے دو سو آدمیوں پر غالب آئیں گے اس لئے تمہاری نسبت ایک اور دس کی ہو تو بےخطر میدان میں کود پڑو خواہ وہ میدان جنگ ہو یا کوئی اور میدان اور اس نسبت سے یہ سمجھ لو کہ تمہارے سو آدمی ان کے ہزار آدمیوں پر بھاری ہوں گے۔ ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ تمہارے ساتھیوں کو اللہ نے بصیرت ایمانی سے نوازا ہے اور تمہارے حریف اسی بصیرت سے محروم ہیں اور بصیرت وہ شے ہے کہ اگر وہ میدان جنگ میں ساتھ ہو تو اس کا مقابلہ بہت مشکل ہے کیونکہ یہی بصیرت انسا کا اصل جوہر ہے اس بصیرت کے ساتھ مسلمان جس میدان میں بھی نکلتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے اور وہ میدان جنگ میں بھی اترے گا تو تتنہا وجود کے اندر ایک لشکر کی قوت ہوگی اور انشاء اللہ اس قوت کو وہ خود محسوس کرے گا۔ اس کو اپنے داہنے اور بائیں اللہ کی نصرت اور مدد نظر آتی ہے اور موت اس کو زندگی سے زیادہ محبوب اور پیاری لگتی ہے اس لئے کہ اس کی نصیرت اس کے سامنے اس منزل کو روشن کر کے دکھا دیتی ہے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لئے مخصوص ہے اور یہی بصیرت اس کے اندر وہ صبر و ثبات پیدا کردیتی ہے جو اس کو تنہا اس بصیرت سے محروم دس آدمیوں پر بھاری کردیتی ہے۔ اس آیت نے کثرت کا وہ بت بھی پاش پاش کردیا جس کے بل پوتے پر آج حکومتیں بنتی ہیں اور شیطان نے مسلمانوں کے ذہن میں بھی کثرت کا ہوا کھڑا کردیا جائے۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ مسلمان صحیح معنوں میں اس بصیرت سے محروم ہوگئے جس بصیرت ایمانی کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا۔ بہت دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عوام جو اسلام کی تعلیم سے ناواقف اور صرف کالجوں کی ڈگریوں پر پڑھے لکھے اور سمجھدار کہلاتے تھے وہ تو چونکہ بصیرت ایمانی کو نہ سمجھتے ہوں اس لئے اس میدان میں کود گئے ان دین کے ٹھیکیداروں اور دینی مدارس کے فارغ التحصیلوں اور منتظمون کو کیا ہوا کہ وہ بھی ان کی نقالی میں اس میدان میں اتر گئے اور اس کو سیاست سمجھ بیٹھے۔ ہم ان سب کو دین کے بہروئپے کیوں نہ کہیں جنہوں نے صرف دین کا لبادہ پہن رکھا ہے اور لوگوں کو اسی لبادہ کے باعث بیوقوف بنا رکھا ہے اور لوگ ہیں کہ ان کو دور سے دیکھ کر ان کو سلام کئے جا رہے ہیں۔ اس وقت اسلام میں ساری خرابی انہی بہروپیوں کے باعث ہے اس لئے کہ انہوں نے اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کر دکھایا ہے۔ اس وقت سبے بڑا جہاد انہیں بہروپیوں کے خلاف جنگ ہے۔ جافروں کے گروہ میں سمجھ بوجھ نام کی کوئی شے نہیں ہے : 88: زیر نظر آیت پر ایک بار پھر غور کرو کہ فرمایا اگر تم میں بیس آدمی صبر کرنے والے ہوئے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی ہوئے تو ایک ہزار پر بھاری رہیں گے ، کیوں ؟ اس لئے کہ کافر وہ لوگ ہیں جولَّا یَفْقَهُوْنَ بصیرت ایمانی سے محروم ہیں اور ایک رتی کستوری پلیدی کے ڈھیر سے کہیں بہتر ہے۔ میں نے جو عنوان قائم کیا ہے کہ ” کافروں کے گروہ میں سمجھ بوجھ نام کی کوئی شے نہیں ہے “ اس پر ایک بار پھر غور کرلو اور قرآن کریم کی زیر نظر آیت کے اس جملہ کو بھی ذہم میں رکھو ” الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ 0065 “ اگر عنوان آیت کے اس حصہ کے مطابق ہے تو پھر یہ فیصلہ خود کرلو کہ آج کل قوم مسلم میں کہاں تک سمجھ بوجھ موجود ہے ؟ جس قوم کا علماء طبقہ یہ کہہ دے کہ دین میں سمجھ بوجھ سے کام لینا دین کو چھوڑ دینے کے مترادف ہے اس کے عوام خواہ کچھ کہتے رہیں ان کو کون سمجھائے گا اور کیسے سمجھائے گا اور رہا قرآن کریم تو وہ تو ہم پہلے ثواب کی خاطر تلاوت کرتے ہیں اور یہ جاننے کے لئے کبھی تیار نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے اور کیوں آیا ہے ؟ قلت و کثرت کا مضمون دیکھنا چاہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد سوم تفسیر الانعام آیت 116 کو دیکھو۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

(اے مسلمانو ! ) اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا ، اس نے دیکھا کہ تم میں کمزوری ہے اچھا اب اگر تم میں صبر کرنے والے سو آدمی ہوں گے تو (ان کو دوگنی تعداد کا مقابلہ کرنا ہوگا) وہ دو سو دشمنوں پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو سمجھو ، دو ہزار دشمنوں کو مغلوب کردیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے

صدر اول کے بعد پیچھے آنے والوں کے ضعف کے باعث تخفیف کا حکم : 89: اسلامی ہدایات اور تنبیہات اس وقت ہی کے لئے نہ تھیں جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور نبی اعظم و آخر ﷺ بنفس نفیس لوگوں میں موجود تھے بلکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے ہدایات اور تنبیہات کرتا رہے گا آج بھی کر رہا ہے اور قافمت تک یہ سلسلہ جاری ساری رہے گا اس لئے پہلی 65 میں جو حکم دیا وہ مسلمانوں کی قوت ایمانی کا پہلا سرا تھا اور زیر نظر آیت 66 میں اس کا آخری سرا بھی بیان فرما دیا جس سے نیچے اتر کر کفر و اسلام کا گویا امتیاز ہی ختم ہوجاتا ہے اور اس کے اندر اسلامی زندگی کے لاتعداد اسباق موجود تھے جن کو آج قوم مسلم بالکل بھول چکی اور پھر بدقسمتی سے اس کو یاد کرانے والا بھی کوئی نہ رہا۔ ہاں ! آج کل کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ اب اصحاب دانش و بصیرت وہ ہیں یا دنیا کی دوسری قومیں ؟ اگر حالات منقلب ہوگئے ہیں تو نتائج کیوں منقلب نہ ہوں گے ؟ اور یہی کچھ ہوچکا ہے جس میں سارا قصور نہیں تو بہر حال زیادہ قصور مذہبی بہروپیوں ہی کا ہے۔ زیر نظر آیت کا مضمون خود بول رہا ہے کہ وہ پہلی آیت کے بعد کا ہے اور یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد قلت سے نکل کر کثرت میں چلی گئی۔ اس لئے ان میں بھی کثرت کی سی بو باس پیدا ہوگئی اور کچھ نہیں تو کثرت پر ناز تو ایک فطری امر تھا اور یہ بھی کہ یہ پیغام بعد تک جاری رہنا تھا اس لئے وہ صدر اول کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والوں کے درمیان بلحاظ جذبات اور فہم و بصیرت فرق لازم و ضروری امر تھا اس لئے اسلام قبول کرنے والوں کی آخری کو بھی بیان فرما دیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کی اگر بصیرت ایمانی میں ضعف بھی ہوگا تو وہ اس حد تک برداشت ہے کہ تمہارے ایک سو آدمی ان کے دو سو پر اور تمہارے ایک ہزار ان کے دو ہزار پر اللہ کے حکم سے بھاری ہوں گے اور یہ حالت تمہاری ایمان والوں کی آخری حالت ہے تاکہ کفر و اسلام کا وہ امتیاز قائم رہے جس امتیاز کے باعث اسلام کفر پر بھاری ہے اور وہ کفر کو کفر ثابت کرسکتا ہے۔ اس طرح پہلے حمکم میں اس پچھلے حکم سے تخفیف کردی گئی اور اب بھی مسلمانوں میں اگر صفر اول کی سی صورتت پیدا ہوجائے تو پہلا حکم اپنی جگہ قائم ہے اور اگر پچھلی حالت ہو تو آخری حکم کے مطابق عمل در آمد ہوگا۔ آج اگر غور کریں تو کیا دیکھنے میں نظر آتا ہے ؟ ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھیں۔ کہیں معاملہ الٹ تو نہیں گیا ؟ اگر بات ایسی ہی ہے تو پھر خود غور کرو کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اور پھر جب ہوچکا تو اس کا علاج کیا ؟ اگر کچھ سمجھ میں نہ آئے تو ذرا دین کے ٹھیکہ داروں سے پوچھو اور وہ بھی عملاً کچھ نہ بتا سکیں تو کم از کم ان کو بہرو پئے تسلیم کرلو اور قرآن کریم پر خود غور کرو انشاء اللہ آپ کو اس کا حل نظر آئے گا لیکن چونکہ یہ انفرادی زندگی کا مسئلہ ہوگا اور آپ اکیلے اجتماع تو ہو نہیں سکتے اس لئے اپنی ذمہ داری پر توجہ دیں اور اللہ سے دعا کریں کہ اے اللہ ! ہم مسلمانوں کو بصیرت ایمانی عطا فرما اور ہماری حالت پر رحم کر کہ تو ہی ارحم الراحمین ہے۔