Ayah 8:8اللہ نے بدر میں حق کو حق کر دکھایا اور باطل کو باطل کردیا :
15: مطلب مزید واضح کردیا کہ دو جماعتوں میں سے وہ جماعت جو تجارتی قافلہ پر مشتمل تھی اس سے روک کر اللہ نے تم کو میدان بدر میں مشرکین کے مقابلہ میں لا کھڑا کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حق اور باطل دونوں کی اس طرح وضاحت ہوگئی کہ قیامت تک اس واقعہ میں کوئی ملاوٹ نہیں کرسکے گا۔ سب پر روز روشن کی طرح بات واضح ہوگئی کہ مکہ والوں نے وہ شکست کھائی جس نے ان کی آنے والی زندگی پر بہت برا اثر ڈالا اور وہ سارا زور لگانے کے باوجود روز بروز کمزور سے کمزور تر ہی ہوتے گئے اور انجام کار فتح مکہ کے روز بالکل ختم ہو کر رہ گئے اور سب سے بڑا فضل خداوندی یہ ہوا کہ بدر کے روز مسلمانوں کو اس تجارتی قافلہ کے قریب بھی نہ جانے دیا حالانکہ مسلمانوں کی اکثریت کے دل میں ان کی شان و شوکت گھر کرگئی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اس جماعت کے ساتھ مڈبھیڑ کر کے ان کے سارے تجارتی سامان پر قابو پالیں لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو رہتی دنیا تک وہ آنے والوں کی نظروں میں اپنا کوئی مقام پیدا نہ کرسکتے بلکہ سب کی نظروں سے گر جاتے۔ اس طرح گویا ہمارے آباء کی تاریخ کا یہ روشن پہلو ایسا ہے جو رہتی دنیا تک روشن رہے گا اور دنیا اس کو اچھی نگاہ سے دیکھتی رہے گی اور ہر آنے والا دور اس کی یاد کو تازہ کرتا رہے گا۔
ویسے بھی حق کو کوئی نہ پوچھے اور باطل چھایا رہے ممکن ہے لیکن جب حق اور باطل کی ٹکر ہوجاتے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حق بھاگ جائے اور باطل میدان میں جیت جائے ، کبھی نہیں ہوسکا اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔ یہی بات دوسری جگہ خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی کہ اچھی طرح دیکھ لو کہ ہم بازی گر نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارا کام کھیل و تماشا کرنا ہے۔ ہماری یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام ہے جس میں کوئی باطل چیز نہیں جن سکتی۔ باطل یہاں جب بھی سر اٹھاتا ہے حقیقت سے اس کا تصادم ہو کر رہتا ہے اور آخر کار وہ مٹ کر رہ جاتا ہے۔ اس دنیا کو اگر تم تماشا گاہ سمجھ کر جیو گے یا حیقت کے خلاف باطل نظریات پر کام کرو گے تو نتیجہ تمہاری اپنی ہی تباہی ہوگا۔ نوع انسانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو کہ دنیا محض ایک تماشاگاہ ، محض ایک خوان نغما ، محض ایک عیش کدہ سمجھ کر جینے والی اور انبیاء کرام کی بتائی ہوئی حقیقت سے منہ موڑ کر باطل نظریات پرن کام کرنے والی وق میں پے در پے کس انجام سے دوچار ہوتی رہی ہیں پھر یہ کونسی عقل مندی ہے کہ جب سمجھانے والا سمجھائے تو اس کا مذاق اڑایا جائے اور جب اپنے ہی کئے گئے کرتوتوں کے نتائج عذاب الٰہی کی صورت میں سر پر آجائیں تو چییخنے لگیں کہ جائے ! ہماری کم بختیت کہ بلاشبہ ہم ہی خطاکار تھے۔ اس وقت قوم مسلم کی حالت کچھ ایسی ہی نظر آتی ہے کہ ان کے عقائد و نظریات سے لے کر اعمال تک سب کچھ بدل کر رہ گیا ہے اور وہ آج بالکل وہی کچھ کر رہے ہیں جو اس سے پہلے قومیں یہود و نصاریٰ کرچکی ہیں اور اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات کے بالکل خلاف ہر گروہ اور ہر پارٹی اپنے اپنے مذہبی پیشواؤں کے بتائے ہوئے دین پر کام کر رہی ہیں اگرچہ سب نے اپنی اپنی جگہ اس کا نام اسلام ہی رکھا ہے گویا اسلام کا محض ایک (ٹریڈ مارک) کے طور پر استعمال ہوتا ہے وہ بھی محض اس لئے کہ شاید اس کا نام باقی رکھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ حالات کتنے ہی بد سے بد تر ہوتے جائیں پھر اسلام کا نام ساتھ رہے گا اور یہ ان سب کی مجبوری ہے۔
اور قرآن کریم پکار ، پکار کر کہہ رہا ہے کہ :
” ہم جب باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے مٹ جاتا ہے اور تمہارے لئے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔ “ (الانبیاء 21 : 18)
Ayah 8:9بدر میں اللہ نے تمہاری فریاد سن کر فرشتوں سے تمہاری مدد کی :
16: میدان بدر میں حق و باطل کا آمنا سامنا ہوگیا۔ مادی وسائل کے لحاظ سے باطل کی طاقت و قوت افرادی حق کا مقابلہ میں تگنی ہے اور وسائل کے مقابلہ میں کم از کم دس گنا تھی۔ مٹھی بھر جماعت جب میدان میں اتر چکی تو رات کے وقت بنی اعظم و آخر ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کی اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” اے اللہ ! مجھ سے جو وعدہ تو نے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرمادے اے اللہ ! آج یہ تھوڑی سی جماعت مسلمین کی گرفتاری ہوگئی تو پھر اس زمین پر تیری گرفتاری کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ “ (عبداللہ بن عباس ؓ آپ ﷺ اسی طرح الحاح وزاری کے ساتھ دعا میں مشغول تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے شانوں سے چادر بھی سرک گئی۔ صدیق اکبر ؓ نے آگے بڑھ کر چادر اڑھائی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ کی دعا اللہ نے یقیناً قبول فرمالی اور اللہ آپ ﷺ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرمائے گا۔ یہ استغاثہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہوا تھا مگر فی الحقیقت تمام صحابہ کرام ؓ کی جماعت کی یہ ترجمانی تھی اس لئے اس کو پوری جماعت کی طرف منسوب کیا گیا۔ ابھی دعا جاری تھی کہ رب کریم کی طرف سے اس کی قبولیت کا سرٹیفکیٹ آگیا اور فرمایا کہ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اللہ نے تمہاری دعا کو قبول فرما لیا اور پھر مکمل طور پر تسلی دیتے ہوئے اس طرح ارشاد فرمایا کہ ” میں ایک ہزار فرشتوں سے کہ یکے بعد دیگرے آئیں گے تمہاری مدد کروں گا۔ “ اس خوشخبری کے آنے کے بعد مسلمانوں کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ ہمت و عزم کے پہاڑ ثابت ہوئے اور ان میں سے ایک ایک آدمی لڑائی کے وقت ایک جماعت ٹھہرا اور صفوں کی صفیں چیرتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا گیا اور کسی کو اپنی افرادی اور وسائل کی کمزوری قطعاً محسوس نہ ہوئی اور اللہ نے ان سے وہ کام لے لیا جو اس مدد کے علاوہ شاید وہ کبھی نہ کرسکتے۔
Ayah 8:10فرشتوں کی اتنی بڑی تعداد کا ذکر مسلمانوں کے دلوں کی ڈھارس بنا :
17: ہلاکت کے لئے ایک فرشتہ ہی ساری جماعت پر بھای تھا لیکن یہ عذاب الٰہی نازل کرنے کے لئے فرشتوں کی تعداد کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنے اور ان کی ہمت باندھنے کے لئے اس تعداد کا ذکر فرمایا یہ گویا مسلمانوں کے لئے خوشخبری ہے اور ان کے دلوں کو مطمئن کرنا مقصود ہے اور یہی بات زیر نظر آیت میں خود اللہ نے ارشاد فرمائی کہ ” اللہ نے یہ بات جو کی تو اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ خوشخبری ہو اور تمہارے مضطربدل قرار پا جائیں ورنہ مدد تو ہر حال میں اللہ ہی کے پاس ہے بلاشبہ وہ سب پر غالب آنے والا اور حکمت رکھنے والا ہے۔ “ یہ بات واضح ہوگئی کہ فرشتوں والی بات صرف اس لئے تھی کہ کمزور مسلمانوں کے دل قرار جائیں یہ بات نہ تھی کہ وہ لڑائی لڑنے کے لئے بھیجے گئے ہوں چناچہ سارے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ فرشتوں کا نزول مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط رکھنے کے لئے ہوا تھا لڑائی میں ان کی شرکت ثابت نہیں نہ اس کی کوئی ضرورت پیش آئی تھی۔ اس جگہ ا کی ہزار فرشتوں کو تعداد بتائی گئی اور سورة آل عمران کی آیت 124 میں تین ہزار اور آیت 125 میں پانچ ہزار تعداد کا ذکر ہے اور یہ تینوں مختلف وعدے تھے جو پورے ہوئے اس لئے کہ پہلا وعدہ ایک ہزار کا تھا ، دوسرا تین ہزار کا اور تیسرا پانچ ہزار کا۔ اس جگہ پہلے وعدہ کا ذکر ہے اور سورة آل عمران میں دوسرا اور تیسرے وعدے کا بیان ہے۔ تفصیل اس کی دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 124 ، 125 کو دیکھیں۔
Ayah 8:11تمہارے دلوں کو مطمئن کر کے تم کو گہری نیند سلایا اور تمہاری ساری ناپاکی کو دور کردیا :
18: اس آیت میں اوپر ذکر کی گئی خوشخبری کی مزید تشریح اور تفصیل ذکر کی گئی تاکہ بات سمجھنے والے اچھی طرح سمجھ جائیں۔ اس لئے زیر نظر آیت میں مختلف پانچ باتوں کا ذکر کیا گیا پہلی بات یہ ہوئی کہ ” اس نے چھا جانے والی غنودگی تم پر طاری کردی۔ “ دوسری بات یہ ہوئی کہ ” تمہارے دل تسکین و بےخوفی کا سامان پیدا کردیا۔ “ تیسری بات یہ ہوئی ” آسمان سے پانی برسا کر تمہارے ریتلے میدان کو پختہ کردیا۔ “ اور چوتھی بات یہ ہوئی کہ ” تم سے شیطان کا وسوسوں کی ناپاکی دور کردی۔ “ اور پانچویں بات یہ ہوئی کہ ” تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھا دی اور تمہارے قدم جما دیئے۔ “
1- جس وقت کفر و اسلام کا یہ پہلا معرکہ معرض وجود میں آگیا تو کفار مکہ کا لشکر پہلے پہنچ کر ایک ایسے مقام پر پڑاؤ ڈال چکا تھا جو تقریباً اونچائی پر تھا اور پانی بھی اس کے بالکل قریب تھا۔ نبی اعظم و آخر اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو اس وادی کے نچلے حصہ میں جگہ ملی چناچہ اس کے پورے نقشہ کا ذکر آگے آنے والا ہے۔ جس جگہ آپ ﷺ نے سب سے پہلے قیام فرمایا اس مقام کے واقف کار جناب حباب بن المنذر نے آپ ﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ جو مقام آپ نے اختیار فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے یا محض رائے اور مصلحت کے پیش نظر ہے۔ مطلب یہ تھا کہ اس میں ہم بھی کوئی رائے دے سکتے ہیں یا محض مجبور ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ کوئی حکم الٰہی کے مطابق نہیں اور اس میں تبدل و تغیر کیا جاسکتا ہے اور آپ بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ اسی حباب بن المنذر نے اپنی رائے بھی دی جو آپ ﷺ نے پسند فرمائی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا گیا۔ پھر جب آپ ﷺ نے دعا فرمائی جس کا ذکر پیچھے گزر چکا تو اللہ تعالیٰ نے مدد کا خالص وعدہ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کا سارہ خطرہ کافور ہوگیا اور رات بھر صحابہ کرام ؓ بھر پور نیند سوئے جس طرح ایک بےفکر آدمی سوتا ہے اور اس غنودگی نے ساری تھکاوٹ دور کردی اور صبح کو سارے صحابہ کرام ؓ چاک و چوبند اور ہوشیار نظر آنے لگے گویا یہ اس خوشخبری کا پہلا عملی فائدہ پہنچا۔
2- تسکین و بےخوفی کا سامان اس طرح پیدا ہوا کہ جب کامیابی کی خوشخبری مل گئی تو سب صحابہ کرام ؓ کے دل مطمئن ہوگئے۔ اب تو شدت سے انتظار ہونے لگا کہ وہ گھڑی جلد آئے اور ہم ان کفار کو اس طرح اچک لیں جس طرح چیل چوزے کو اچک کرلے جاتی ہے یا باز اپنے شکار پا ایک ہی بار جست لگا کر اڑتا بنتا ہے۔ اس بےخوفی نے صحابہ ؓ کے حوصلے بلند کردیئے اور وہ بےخوف و خطر وقت کا انتظار کرنے لگے۔
3- رات کے وقت اللہ نے بارش برسائی اور اس بارش کا بےانداز فائدہ مسلمانوں کو پہنچا اور کفار مکہ کا اس سے بہت سا نقصان ہوا اور وہ اس طرح میدان پتھریلی ریت کا تھا ریت بارش کا باعث سخت ہوگئی اور پاؤں ریت پر اچھی طرح سے جم گئے اور دوسری طرح نشیب میں پانی جمع ہوگیا جس کو اپنے بالکل قریب ہی منڈیتیں بنا کر روک لیا گیا تاکہ پانی سے اپنی ساری ضرورتیں پوری کی جاسکیں اور دوسری طرف چونکہ ڈھلائی تھی اور علاقہ بھی ریتلا تھا اس لئے بارش سے پاؤں پھسلنے لگے اور قدم زمین پر نہ سکتے تھے۔ یہ بھی گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمانی مدد مسلمانوں کو مل گئی جس نے دلوں کی مضبوطی میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔
4- شیطانی وسوسے جو اس نے کچھ لوگوں کو گھلا رہے تھے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے کہ اب کیا ہوگا ؟ ہماری تعداد بہت کم ہے اور دنیوی ساز و سامان کی بھی ہمارے ہاں بہت کمی ہے اور جگہ بھی ہم کو اچھی نہیں ملی یہ سب شیطانی وساوس تھے اور اس خوشخبر اور اس طرح کے اطمینان قلب نے ان سارے وساوس کو یک قلم ختم کردیا اور کل تک ہراساں و پریشان حال نظر آنے والے آج خوش و خرم نظر آنے لگے۔ بلاشبہ اس شیطان کی ناپاکی سے مفسرین نے کچھ ایسی ناپاکی مراد لی ہے جس کو خواب میں ناپاک ہوجانے سے تعبیر کرتے ہیں لیکن ہمارے خیال میں اس ناپاکی کے مراد لینے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی اور جس ناپاکی کا ذکر خود قرآن کریم نے کیا ہے وہ وہی دلوں کی ناپاکی تھی جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اس طرح میدان جنگ کی طرف نکلنا تم کو اتنا شاق گزرا کہ تمہارے پاؤں بوجھل گوئے اور ایسا معلوم ہوا کہ گویا تم موت کی طرف چلائے جا رہے ہو گویا یہ دل کی ناپاکی تھی اور اس ناپاکی کو رِجْزَ الشَّیْطٰنِ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔
5- دلوں کی ڈھارس بندھ گئی کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ہم لوگ انشاء اللہ فتح و نصرت سے دو چار ہوں گے اور کامیاب و کامران مدینہ کی طرف جائیں گے اور میدان جنگ میں گویا مسلمانوں کے قدم جم گئے اور ارادے پختہ ہوگئے۔ قدم جم جانا محاورہ بھی ہو سکتا ہے اور حقیقت بھی کہ بارش کی وجہ سے زمین پر قدم جم گئے جہاں پاؤں رکھا وہ پھسلنے سے رک گیا جیسا کہ ریت پر پاؤں رکھنے سے پیچھے سے پھسلتا ہے وہ کیفیت نہ رہی بلکہ زمین پر بارش کی وجہ سے قدم جم گئے اور ان کے قدم اکھڑ گئے اور وہ اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ انہوں نے اپنا سامان بھی چھوڑا اور مردوں کو بھی اٹھا نہ سکے اور قید ہونے والوں کی خبر بھی نہ لی گویا ان سب کو اپنی اپنی پڑگئی اور کوئی بھی دوسرے کے بارے میں کچھ سوچ نہ سکا۔ اس طرح اس ایک ہی آیت میں پانچ مختلف قسم کے انعامات کا ذکر فرمایا گیا اور ان میں سے ہر ایک انعام دوسرے سے بڑھ کر تھا۔
Ayah 8:12فرشتوں کو حکم ملا کہ تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو تاکہ وہ کفار کی گردنیں کاٹ لیں :
19: اس آیت میں غزوہ بدر کے میدان کار زار میں مسلمانوں پر یہ بھی انعام فرمایا کہ ان فرشتوں کو جو مسلمانوں کی امداد کے لئے بھیجے تھے ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ کہ وہ میدان کار زار میں اپنی بہادری جو ہر دکھائیں اور دنیا پر یہ بات ثابت کردیں کہ موحد صرف ایک اللہ کا ڈر رکھتا ہے اور اس کے علاوہ کسی سے بھی خوف نہیں کھاتا اور حالات کتنے ہی نازل سے نازل ترین ہوجائیں وہ دل بالکل نہیں ہارتا فرمایا کہ فرشتوں کو یہ حکم ہوا کہ مسلمانوں کے قدم جمائیں اور ان کو لرنے اور مخالفین پر غالب آنے کے لئے پابند کرو کیونکہ سچا مسلمان وہی ہے جو کسی غیر مسلم کے رعب کے نیچے نہ آئے اور خصوصاً میدان جنگ میں جا کر وہ ایک جری اور بہادر شیر بن جائے اور ایک سچا مسلمان اپنے مقابلہ کے کافروں کے لئے ایک ہی دس پر بھاری ہوجائے اور میدان کار زار میں اپنی مردانگی کے جوہر دکھائے اور تیر پھینک پھکن کر ترکش کو توڑ دے اور مشرکین کی گردنیں کاٹ کاٹت کر تلوار کو توڑ دے اور غور کرو کہ میدان بدر اولیٰ میں یہی سب کچھ ہوا۔
پس زیر نظر آیت میں فَاضْرِبُوْا کا لفظ جو آیا ہے تو اس کا خطاب مسلمانوں سے ہے فرشتوں سے نہیں اور مسلمانوں کے دلوں کو تھامے رکھنے کے لئے جو فرشتوں کا نزول ہوا اس کی حقیقت کیا تھی ؟ یہ معاملہ عالم غیب کے حقائق سے ہے انسان اپنے ذہن و ادارک سے اس حقیقت کو معلوم نہیں کرسکتا اور فرشتے اللہ کے حکم سے اب بھی یہ کام سر انجام دیتے ہیں اور جو صحیح معنوں میں اس کی مدد کا مستحق ہو آج بھی اللہ کے حکم سے اس کی مدد ہوتی رہتی ہے اور اس کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے۔
Ayah 8:13اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں کے لئے سخت عذاب کی خبر ان کو سنا دو :
20: جب صحابہ کرام ؓ کی جماعت پر سکون رات گزار رہی تھی اور سب پر گہری نیند طاری تھی خودرسول اللہ ﷺ رات کو نماز میں مشغول رہے اور آپ کی آنکھ لگ گئی تو فوراً ہی ہنستے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اے ابوبکر ! خوشخبری سن لو کہ ابھی ابھی جبرئیل آئے تھے اور یہ کہتے ہوئے آپ اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور آپ کی زبان پر سیھزم الجمع ویولون الدبر جاری تھا یعنی عنقریب دشمنوں کی جماعت ہار جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے گی اور باہر تشریف لا کر آپ ﷺ نے مختلف جگہوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ جگہ ابو جہل کے قتل ہونے کی ہے اور یہ فلاں فلاں کی جگہ ہے اور یہی وہ عذاب الٰہی تھا جس کا ذکر زیر نظر آیت میں ہے۔ فرمایا کہ اس معرکہ کفر و اسلام میں جو کچھ ہوا اس کا سبب کیا تھا ؟ اس کا سبب یہ تھا کہ کفار نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور بغیر کسی وجہ کے قتال پر اتر آئے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب بھڑکا اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں باوجود ایک بہت بڑی جمعیت ہونے کے مار کھا گئے اور ان کی بدکرداریوں کی ان کو خوب مار پڑی اور عذاب آخرت تو اس کے علاوہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا ہے جس سے وہ کبھی نکل نہیں سکیں گے۔
Ayah 8:14دنیا کا عذاب انہوں نے دکھ لیا اور ابدی عذاب میں وہ جا گرے :
21: میدان بدر میں انہوں نے یعنی کفار نے عذاب الٰہی کھ لیا کہ باوجود بہت بڑی جمعیت ہونے کے شکست کھا گئے اور ان کا جانی اور مالی نقصان اس قدر ہوا کہ وہ باقی زندگی میں اس خسارہ کو پورا نہ کرسکے اور ان کے بڑے بڑے سردار عین ان جگہوں پر قتل ہوئے جن جگہوں کی نشاندہی نبی اعظم و آخر ﷺ نے کرائی تھی۔ فرمایا اس میدان بدر کا عذاب تو آخرت کے مقابلہ میں ایک جھونکا ہی تھا لیکن آخرت کا عذاب چونکہ ابدی اور ہمیشہ رہنے والا ہے اس لئے وہ اس عذاب کا مقابلہ میں بہت ہی سخت ہے اور اس وقت جو کفر کی طرف لڑتے ہوئے مارے گئے وہ تو یقیناً اس آخری اور ابدی عذاب میں جاگرے جس سے نکلنا ان کو کبھی نصیب نہیں ہوگا۔
Ayah 8:15مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ میدان جنت سے کسی حال میں بھی نہ بھاگیں :
22: زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگی قانون کی ایک شق واضح فرمادی کہ مسلمان کی شان نہیں کہ وہ میدان زحف سے بھاگ نکلے او پیٹھ پر زخم کھائے اور ابدی عذاب کا بھی مستحق ہو بلکہ وہ لڑ کر جان دیتا ہے اور اس طرح وہ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اور اس زندگی سے نکل کر وہ ابدی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی کامیابی کا گویا سرٹیفکیٹ ہے جو اس کو حاصل ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:16ہاں ! جنگی ضروریات کے تحت اپنی جگہ سے ہٹا جاسکتا ہے اور یہ جنگ سے بھاگنا نہیں ہے :
23: فرمایا کہ جنگی ضروریات کے تحت جگہ بدل جانا یا اپنی جماعت کے ساتھ ملنے کے لئے جماعت کی طرف بھاگ کر شامل ہونا جہاد سے بھاگنا نہیں ہے اس وضاحت کی ضرورت اس لئے تھی کہ فی نفسہ میدان سے جگہ بدلنے کے لئے یا جنگی حالات کے پیش نظر ایک طرف سے دوسری طرف جانے پے اس کا اطلاق نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح سے میدان سے بھاگنا اور اور نکلنا جنگ سے بھاگنا نہیں ہو سکتا جیسا کہ احد کے دن مسلمانوں کے ساتھ ہوا تھا اور میدان جنگ سے گویا بوکھلا گئے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تھا وہ فی نفسہ جہاد سے نہیں بھاگے تھے بلکہ جہاد کے لئے بھاگے تھے اگرچہ ان کو اس طرح بھاگنے کا بھی غم ہوا تھا لیکن اللہ نے ان کا وہ غم جلد ہی خوشی میں بدل دیا کہ وہ شکست کھاتے کھاتے شکستت سے بچا لئے گئے اگرچہ ان کا کافی حد تک نقصان ہوگیا جو ان کی اپنی غلطی کے باعث تھا۔ مُتَحَرِّفًا جنگ کی ضرورت کے لئے ہیں جگہ بدلنے کے لئے اور مُتَحَیِّزًا اپنی فوج کے ساتھ جا ملنے کے لئے ہے ان دونوں صورتوں کو بھاگنے سے مستثنیٰ کردیا کہ ہر میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنا نہیں بلکہ جنگی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اس کو پیٹتھ دکھانا یعنی بھاگ جانا نہیں کہتے۔ ہاں ! جو شخص جنگ سے بھاگ جائے اس کے لئے یقیناً عذاب الٰہی تیار کھڑا ہے اور وہ یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون کس مقصد کے لئے بھاگ نکلا ہے اور اس کی مزید تشریح آگے آیت 66 میں آئے گی۔
Ayah 8:17میدان بدر میں کفات کا قتال جو مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا وہ دراصل اللہ کا قتال تھا :
24: میدان بدر کی طرف نکلنے کے حالات تم نے پڑھے۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ وہ ہالات کرنے نازل تھے اور قرآن کریم نے یہ وضاحت فرمائی کہ بعض مسلمان اس بات کو بہت ہر بھاری سمجھ رہے تھے اور باوجود مسلمان ہونے کے اس وقت ان کی حالت ایسی تھی گویا وہ موت کی طرف چلائے جا رہے ہیں اور بعض وہ بھی تھے جو صرف اس جماعت کی طرف جانا چاہتے تھے جو تجارتی قافلہ کی جماعت تھی پھر نبی اعظم و آخر ﷺ اللہ کے حکم سے ان کو میدان بدر میں کفار کے مقابلہ کے لیئے لے آئے اور وہاں پہنچ کر ان کو خوشخبری پر خوشخبری سنائی اور یہ سارے واقعات اللہ کے حکم سے اور اس کی مرضی سے ہوئے۔ پھر میدان کرار زار میں باقاعدہ جنگ لڑنے سے پہلے ہی اللہ نے حالات کو بدل دیا اور سارے مسلمان ہر لحاظ سے مطمئن ہو کر لڑے اور اللہ کی خاص مدد و نصرت نے ان کے قدم اس طرح جما دیئے کہ کفار بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور انجام کار بھاگ کر انہوں نے جان بچائی اس طرح فتح عظیم جب مسلمانوں کو حاصل ہوئی اور وہ میدان جنگ سے کامیاب و کامران جب واپس لوٹے تو واپس آکر وہ آپس میں جب ایک دوسرے سے گفتگو کرتے اور خصوصاً ان لوگوں سے جو اس وقت شریک جنگ نہ ہو سکے تے تو اپنے کار نامے ایک دوسرے کو اور ان لوگوں کو سناتے اور فطرت انسانی کے مطابق اس میں مبالغہ ہونے لگا اور ایک دوسرے سے بڑھ کر بیان بازی شروع ہوگئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے زیر آیت نازل فرمائی اور ان سے گویا استفسار پوچھا کہ ” کیا تم نے ان کو قتل کیا ؟ “ اور پھر خود ہی ان کو اس سوال کا جواب بھی سمجھایا کہ نہیں تم نے ان کو نہیں قتل کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا۔ “ اس جملہ کا اصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم اپنی سعی و عمل پر ناز نہ کرو بلکہ اپنی حالت اصل پر غور کرو جب تم مدینہ سے نکالے گئے تھے اس وقت تمہاری حالت کیا تھی ؟ اھچی طرح سمجھ لو کہ جو کچھ ہوا وہ صرف تمہاری محنت و کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کا ثمرہ تھا جو دشمن تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ان کو در حقیقت تمت نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کیا اس لئے کہ اللہ نے تمہارے بگڑے ہوئے حالات کو سنوار دیا اور زمین و آسمان تمہاری مدد کرنے لگے وہ اس طرح کہ بارش کا برسنا گویا آسمان کی مدد تھی اور زمین کا بارش سے درست ہوجانا گویا زمین کی مدد تھی اور فرشتوں کی مدد سے تمہاری اسپرٹ کو کئی چند کردیا۔
آج کل اس ترقی کے زمانہ میں بھی فن جنگ میں جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ سپاہیوں کی اسپرٹ یعنی معنوی قوی درست رکھے جائیں۔ اس جگہ اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا اور بتادیا کہ صرف اس بات نے کہ پانی کی ضرورت باقی نہ رہے اور ریت میں دھنسنے کا خطرہ جاتا رہا اور قدم زمین پر اچھی طرح جم گئے اور نہا دھو لینے کی وجہ سے جسم میں تازگی آگئی ان باتوں نے ان لوگوں کے اندر جس درجہ خود اعتمادی اور سرگرمی پیدا کردی اس کا اندازہ صرف اہل نظر ہی کرسکتے ہیں۔
اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات قدرتی حوادث کا ایک معمولی سا واقعہ بھی فتح و شکست کا فیصلہ کردیتا ہے۔ جنگ واٹرلو کے تمام مورخین متفق ہیں کہ اگر 17 ، 18 جون 1815 ھ کی درمیان رات میں بارش نہ ہوتی تو یورپ کا نقشہ بدل گیا ہوتا کیونکہ اس صورت میں نپولین کو زمین خشک ہونے کے باعث بارہ بجے تک انتظار نہ کرنا پڑتا وہ سویرے ہی لڑائی شروع کردیتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ” بلوشر “ کے پہنچنے سے پہلے ” ویلنگٹن “ کو شکست ہوگئی ہوتی۔
واٹر لو میں اگر بارش نہ ہوتی تو یورپ کا سیاسی نقشہ بدل جاتا اگر بدر میں بارش نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا ؟ تمام کرہ ارض کی ہدایت و سعادتکا نقشہ الٹ جاتا جیسا کہ خود نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ” اللھم ان تھلک ھذہ العصابۃ فلا تعبد فی الارض “ اے اللہ ! اگر خدام حق کی یہ چھوٹی سی جماعت آج ہلاک ہوگئی تو کرہ ارض پر تیرا سچا عبادتت گزار کوئی نہیں رہے گا۔
اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ نے جو مٹی پھینکی تھی وہ بھی آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی :
25: پہلا خطاب عام مسلمانوں سے تھا کہ ” تم نے نہیں بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا تھا “ اور اس جملہ میں خود نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کو بھی اس ساری کامیابی کی طرف سے اپنی طرف نسبت دینے سے روک دیا کہ ” وہ مٹی جو آپ نے میدان کار زار میں مشرکوں کی طرف پھینیا تھی وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی “ کیونکہ اللہ ہی نے ان سب کافروں اور مشرکوں کی آنکھوں میں پہنچا دی جس سے وہ سراسیمہ ہو کر بھاگ نکلے وہ گویا آپ کے پھینکنے کا اثر نہیں تھا بلکہ حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ صورت پیدا فرمادی
مار میت اذر میت گفت حق۔ کار مابر کار ہا دارد سبق
جوئندہ یا بندہ ہوتا ہے اس آیت میں غور کیا جائے تو مسلمانوں کے لئے جہاد کی فتح و کامیابی سے زیادہ قیمتی یہ ہدایت تھی جس نے ان کے ذہنوں کو اسباب سے پھیر کر مسبّب الاسباب سے وابستہ کردیتا اور اس کے ذریعہ سے اس فخر و عجب کی خرابی سے ان کو بچالیا جس کے نشہ میں عموماً فاتح اقوام مبتلا ہوجایا کرتی ہیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی بتادیا کہ فتح و شکست ہمارے حکم کے تابع ہیں اور ہماری فتح و نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اطاعت گزار ہوں اور کسی بھی اچھے کام کو وہ اپنا کام سمجھ کر اترانے نہ لگیں بلکہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں اور پہلے سے بھی زیادہ فرمانبرداری اختیار کرلیں۔
گزشتہ دونوں باتوں میں ایک اعجازی رنگ ہے اس لئے بھی ان کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہونا چاہئے تھی اور یہی ہوا تین سب مسلمانوں کا مقابلہ ایک ہزار کے ساتھ تھا وہ اتنے لوگوں کو کس طرح قتل کرسکتے تھے اور ایک مٹھی مٹی سارے لشکر کفار کی آنکھوں میں کیسے پہنچ سکتی تھی ؟ فرمایا یہ بات اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے اور جس چیز سے جو کام لینا چاہتا ہے لے لیتا ہے اور کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں بلکہ ہرچیز اس کے لئے ایک ہی طرح کی فمانبردار ہے اور جس جس کے لئے جو ضابطہ مقرر کیا ہے وہ اس سے کبھی انحرات نہیں کرتا۔ یہ گویا ایمان والوں کے لئے ایک آزمائش تھی اور وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کی آزمائش کرلیتا ہے وہ چاہے تو مصیبت اور شکست بھی ڈال کر امتحان لے لے اور چاہے تو راحت و دولت اور فتح عطا فرما کر امتحان کرلے۔ اس دفعہ اس نے چاہا کہ نہتوں سے ہتھوں کو تی تیغ کرا کر نہتوں کی آزمائش کرے اور اس نے اس طرح امتحان کرلیا اور کامیاب ہونے والوں کو ڈینگیں نہیں مارنا چاہئے بلکہ کامیابی عطا کرنے والے کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس کو فخر و ناز کبھی پسند نہیں آیا اور پھر انسان آخر کیوں فخر و ناز کرے اور وہ بھی اللہ کے سامنے جہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس واقعہ میں مسلمانوں کے لئے بےانداز سبق موجود ہیں جو اس جگہ گنائے نہیں جاسکتے بلکہ ہر مسلمان کا ذاتی حق ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ پر غور و فکر کرے اور وہاں سے جو کچھ حاصل ہو اس کے مطابق زندگی بسر کرے۔
Ayah 8:18یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی خفیہ تدبیروں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا :
26: یہ سب کچھ تو ہوچکا جس کا ذکر آپ نے پڑھا اور پڑھ رہے ہیں اس سے یہ سبق بھی تم سیکھ لو کہ یہ فتح و نصرت اس لئے بھی مسلمانوں کو دی گئی کہ اس کے ذریعہ کافروں کی تدبیریں کو ناکام اور ناکارہ بنا دیا جائے جو وہ اپنے مخالفین مسلمانوں سے خفیہ رکھ کر کر رہے تھے اور ان کی ان مکاریوں کا سارا وبال انہیں پر ڈال دیا جائے شاید اس طرح وہ سمجھ جائیں کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں کیونکہ وہ مکہ سے نکلتے وقت اللہ ہی سے درخواست کر رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں بیت اللہ کا غلاف تتھا کہ اے اللہ ! اے بیت اللہ کے مالک ! ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ میدان کار زار میں ہی رہے۔ کاش کہ وہ یہی کہ دیتے کہ اللہ ! جو جھوٹا ہے اس کو حق سمجھنے کی توفیق دے دے تو شاید ان کی سمجھ میں حق آجاتا اور وہ اس طرح ذلیل و خوار نہ ہوتے۔ مکہ سے نکلتے وقت جو دعا قریش کے لشکر کے سردار عمر و بن ہشام المعروف ابو جہل نے مانگی تھی وہ مظہری میں اس طرح نقل کی گئی ہے کہ :
” اے اللہ ! دونوں لشکروں میں جو اعلیٰ و افضل ہے اور دونوں جماعتوں میں سے و زیادہ ہدایت پر ہے اور دونوں پارٹیوں میں سے جو زیادہ کریم و شریف ہے اور دونوں دینوی میں سے جو دین سچا اور صحیح ہے اس کو فتح عطا فرما دے۔ “ (مظہری)
معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ہم اعلیٰ و افضل ہیں اور زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اس لئے یہ دعا ہمارے حق میں ہے اور وہ چاہتے تھے کہ اس دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے اور جب ہم فتح پائیں جس کو یقیناً وہ اپنا مقدر تسلیم کرتے تھے اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں تگنی قوت افرادی اور بیسیوں گنا قوت مالی کے مالک تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ میدان ہمارے ہاتھ میں رہے گا لیکن شاید ان کو یہ خبر نہ تھی کہ یہ دیا دراصل ان کے حق میں ایک بددعا ہے اور مسلمانوں کے حق میں دعا ہے لیکن افسوس کہ وہ حق واضح ہوجانے کے بعد بھی نہ سمجھ سکے اور ضد و ہٹ دھرمی نے ان کو اپنی مانگی ہوئی دعا پر بھی غور و فکر کرنے کا موقع نہ دیا۔
Ayah 8:19جو فیصلہ تم چاہتے تھے تو وہ فیصلہ ہوگیا اب بھی وقت ہے کہ باز آجاؤ :
27: زیر نظر آیت کا خطاب کفار مکہ سے ہے اور ان کو اس فتح کی طرف دعوت دی جارہی ہے کہ تم نے حق کی فتح طلب کی تھی اور تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے حق کو فتح عطا فرمائی اور یہی فتح تمہارے لئے گویا فیصلہ کا حکم رکھتی ہے اس لئے کہ یہ فیصلہ تمہارا اپنا ہی طلب کردہ ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ اب بھی تم باز آجاؤ اور سمجھ جاؤ کہ ہم غلطی پر تھے اور ہمارا مقابلہ ایک سچے اور کبھی جھوٹ نہ بولنے والے کے ساتھ ہوگیا۔ اس لئے جو کچھ وہ تم سے کہتا ہے وہی حقیقت اور سچ ہے۔ آخر وہ تم سے کچھ طلب کر رہا ہے ؟ اگر نہیں تو اس کی مخالفت پر کیوں تل گئے ہو تم کو اللہ کا پیغام سنا رہا ہے جس میں اس کا اپنا کوئی دنیوی فائدہ موجود نہیں۔ تم سے مال وہ طلب نہیں کرتا۔ اقتدار وہ نہیں چاہتا اپنے باپ داد کی طرف وہ تم کو نہیں بلاتا وہ تم کو اس اللہ کی پرستش کی دعوت دیتا ہے جس کو تم بھی اللہ مانتے اور تسلیم کرتے ہو پھر تم اس کو نیچے دکھانے کے لئے کیوں تل گئے ہو ؟ اب بھی وقت ہے باز آجاؤ اور صبح کا بھولا شام کو واپس آجائے تو اس میں بھی خیر ہے۔ اب تک تم نے کیا کچھ نہیں کیا ؟ اور اب تمہارے پاس کیا رہ گیا ہے جو تم کرنا چاہتے ہو ؟
تم دوبارہ ایسی حرکت کرو گے تو ہم بھی تم کو بتا دیتے ہیں کہ تمہاری کثرت کچھ کام نہ آئے گی :
28; : اگر تم نے دوبارہ شرارت کی اور جنگ کی آگ جلائی تو کان کھول کر سن لو کہ ہم بھی مسلمانوں کی مدد ونصرت کریں گے اور تمہاری شرارت کا تم کو مزہ چکھائیں گے اور تمہاری یہ کثرت جس طرح میدان بدر میں تمہارے کام نہیں آئی یقیناً آئندہ بھی تمہارے کام نہیں آئے گی۔ غور کرو کہ یہ پیش گوئی کتنے کھلے الفاظ میں کردی اس کے متعلق کہتے ہیں کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے “ ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کس کی زبان اقدس سے کفار مکہ کو سنوایا گیا اس محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے جس سے بڑھ کر سچا اس دنیا نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی رہتی دنیا تک دیکھے گی۔ کیا یہ آپ ﷺ کا معجزہ نہیں ہے ؟ اور اس سے بڑھ کر کوئی اور معجزہ ہو سکتا ہے ؟ سارے علمائے اسلام نے معجزہ کے لئے ” تحدی “ لازم قرار دی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا ” تحدی “ ہوگی کہ ” اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو ہم بھی دوبارہ حرکت میں آئیں گے “ پھر دنیا نے دیکھا کہ تکان وقت لگا اور کفار مکہ نے جب بھی منہ دکھایا تو بحکم الٰہی منہ کی کھائی اور محرکہ بدر کے بعد پانچ سال کی قلیل مدت کے اندر ان کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا گیا اور یہ اعلان اس وقتت کیا گیا جب ابھی ان کی کثرت موجود تھی ہاں ! وہی کثرت جس پر ان کو ناز تھا اور ان کو کتنے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان سنا دیا گیا کہ ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ “ اور تمہاری کثرت تمہارے کس کام آئے گی جب اللہ ہی نے تمہارا ساتھ نہ دیا۔ وہ قادر مطلق ہے اور اس کے فیصلوں کو کون ہے جو ٹال سکے ؟ وہ جو فیصلہ کرتا ہے وہ کامل علم کے ساتھ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو کبھی اپنا کوئی فیصلہ بدلنا نہیں پڑتا اور یاد رکھو کہ ہمیشہ کمزور اپنے فیصلوں کو بدلتے ہیں اور وہ سارے زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے اس لئے آج تک اس نے نہ اپنا فیصلہ بدلا ہے اور نہ وہ کسی کو اپنا فیصلہ بدلنے دیتا ہے۔
Ayah 8:20مسلمانوں سے خطاب کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو :
29: غزوہ بدر کا واقعہ جس کی تفصیلات اس جگہ ذکر کی جارہی ہیں اہل اسلام اور کفار دونوں کے لئے عبرت و موغطت کے بہت سے اسباق اپنے اندر رکھتا ہے جیسا کہ پیچھے بیان فرمایا کہ کفار و مشرکین کے پاس ساز و سامان اور افرادی قوت کی بہتات تھی لیکن اس کے باوجود جو انہوں نے شکست کھائی تو ان کی شکست کا اصل سبب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت تھی۔ ظاہر ہے کہ اس بیان میں ان لوگوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے جو زمین و آسمان کے خالق ومالک کی قدرت کاملہ اور غیبی قوت سے قطع نظر کر کے صرف مادی قوتوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود اس کی امداد و نصرت کی غلط آرزوؤں سے اپنے نفس کو فریب دیتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں اس مسئلہ کا دوسرا رخ مسلمانوں کو خطاب کر کے بیان فرمایا کہ اے مسلمانو ! باوجود قلت تعداد اور بےسرو سامانی کے یہ فتح عظیم صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے تم کو حاصل ہوئی ہے اور یہ نصرت و امداد بےنتیجہ ہے تمہاری اطاعت و فرمانبرداری کا اس لئے اس اطاعت و فرمانبرداری پر مضبوطی سے قائم رہو اور پھر تاکید مزید کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ” جب تم حق کو سن رہے ہو تو اس سے کسی حال میں بھی روگردانی نہ کرو۔ اس سن لینے کا مطلب حق بات کو سن لینا ہے اور پھر سن لینے کے بھی چار درجات ہیں ایک یہ کہ سن لینا ایسا ہی ہو جیسے ہر حیوان کسی چیز کو سنتا ہے اور پھر سنی ان سنی کردیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کانوں سے سن لیا اور اس کو سمجھ بھی لیا لیکن دل نے اس کو قبول نہ کیا پھر جب دل ہی نے اس کو قبول نہ کیا تو پھر اس کے مطابق عمل کیا کرے گا تیسری یہ کہ بات سن بھی لی اور سمجھ بھی لی اور اس پر اعتقاد بھی رکھا اور اس کو سچ بھی جانا لیکن اس سے آگے نہ بڑھا چوتھی یہ کہ بات کو اچھی طرح سن لیا ، سمجھ لیا اس پر اعتقاد بھی رکھا اور اس کے مطابق عمل بھی کیا۔ ظاہر ہے کہ پہلی تینوں طرح کا سننا کا سننا ہوا ؟ کچھ بھی نہیں اس لئے سننا صرف اس چوتھی بات کو کہتے ہیں اور مومنین و کاملین کے سننے کا یہی مقصد ہے اور اس بات کی اس جگہ تلقین کی جارہی ہے کہ جب تم صدائے حق کو بگوش ہوش سن رہے ہو تو تمہارا سننا اس وقت تک صحیح ہوگا جب تک تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرو گے ورنہ تمہارے سننے کی کوئی قیمت نہ ہوگی اور نہ ایسا سننا کبھی مسلمانوں کا سننا قرار دیا جاسکتا ہے۔ حق کا سننا وہی سننا ہوگا اگر تمہارا عمل بھی اس کے مطابق ہوگا۔
Ayah 8:21ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے سنی بات کو ان سنی کردیا :
30: سننے کا دوسرا درجہ جس کا ذکر اوپر گزر چکا کہ سن بھی لیا اور پھر اس کو سمجھ بھی لیا لیکن اعتقاد میں وہ بات نہ آئی تو جب اعتقاد و اعتماد ہی میں ایک بات نہ آئے تو ظاہر ہے کہ یہ سننا مسلمانوں کا سننا تو کسی حال میں نہیں ہو سکتا ہاں ! اس کو منافقوں کا سننا کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کو سنتے بھی ہیں ، سمجھتے بھی ہیں لیکن ان کا اعتقاد و عمل کا دعویٰ سچا دعویٰ نہیں ہوتا اس طرح گویا وہ سنی کو ان سنی کردیتے ہیں۔ اس لئے زیر نظر آیت میں گویا مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ تم جب حق بات کو سنو تو اس کو ان سنی نہ کردو بلکہ اس پر کامل یقین رکھ کر اس کے مطابق عمل بھی کرو اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا سننا سننا کہلائے گا اور اگر تم نے دو گردانی کی تو تمہارا سننا ہی تمہار لئے وبال جان بن جائے گا۔ اس لئے فرمایا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جن کا سننا اور نہ سننا تقریباً برابر ہے بلکہ سننا نہ سننے سے بھی بدتر ہے کیونکہ نہ سننے والا سن کر عمل نہ کرنے والے سے ہمیشہ کمتر درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس سے نفاق پیدا ہوتا ہے اور نفاق ایک بیماری ہے اور ایسا روگ ہے جو ایمان کو تقریباً کھا جاتا ہے اور پھر جب ایمان ہی نہ رہا تو کیا باقی رہا ہے اور شریعت نے منافق کو کافر سے بھی بدتر قرار دیا ہے جس کی اصل وجہ فقل یہ ہے کہ وہ سننے اور سمجھنے کے باوجود جب اس کے مطابق عمل نہیں کرتے تو ان کے سننے اور سمجھنے کا آخر فائدہ ؟ اس کی تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 75 کو دیکھیں۔ نیز جلد سوم سورة الانعام کی آیت 36 کی تفسیر دیکھ لیں۔
Ayah 8:22اللہ کے نزدیک سب سے برے کون لوگ ہیں ؟ وہی جو سمجھتے نہیں
31: لَا یَعْقِلُوْنَ وہ جو عقل سے کام نہیں لیتے وہ کون ہیں ؟ وہ وہی ہیں جو بہرے اور گونگے ہیں اور وہ وہی ہیں جو انسان کہلانے کے باوجود اس دنیا کے سارے کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہیں۔ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ افسوس ہے ان پیشوایان مذہب پر جو ان آیات کریمات کے پڑھنے کے باوجود پھر فتویٰ یہی دیتے ہیں کہ ” مذہب میں عقل کو دخل نہیں “ جب کہ قرآن کریم بار بار ارشاد فرمارہا ہے کہ مذہب ہے ہی صرف ان لوگوں کے لئے جن کے پاس عقل ہے اور وہ عقل سے کام لیتے ہیں اور جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لیتے وہ تو انسانیت کے دائرہ ہی سے خارج ہیں اگرچہ وہ شکل و صورت کے لحاظ سے انسان ہی کہلاتے ہوں کیونکہ ہر وہ شخص جو فاطر العقل ہو وہ عقل جیسی عزیز چیز کو کھو کر شکل و صورت کے لحاظ سے نہیں بدل جاتا بلکہ شکل و صورت کے لحاظ سے وہ انسان نظر آنے کے باوجود موفوع القلم ہوجاتا ہے اور ایک حیوان اور اس میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔
ہم کو تسلیم ہے کہ آج دنیا میں جتنے مذاہب موجود ہیں ان سب میں یہ بات تلقین کی جاتی ہے کہ ” مزہب میں عقل کو دخل نہیں “ لیکن اسلام قطعاً اس تلقین کے خلاف ہے۔ بلاشبہ پیشوایان اسلام کی اکثریت کی زبان پر بھی یہ فقرہ آتا ہے لیکن کوئی پیشوا اس کی دلیل دین اسلام سے نہیں پیش کرسکتا بلکہ جو بھی کہتا ہے اور جو بھی کہے گا مذاہب کا مختصر ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ جملہ کیوں کہا ؟ اس لئے کہ یہی وہ جابرانہ حکم ہے جس کی بدولت مذہب ہر قسم کی تحقیقات اور اجتہادات سے مطمئن رہتا ہے اور ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی جناری کو کم نہیں کرسکتی۔۔ اس کا اثر ہے کہ ایک شخص منطق و فلسفہ اور ریاضیات میں سینکڑوں عجیب و غریب ایجادات کرتا ہے اور ارسطو و افلاطون کی غلطیاں نکالتا ہے لیکن جب اس کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر آتا ہے کہ ” ایک تین ہیں اور تین ایک “ تو اس کی نقادی اور نکتہ سنجی بالکل کند اور بیکار ہوجاتی ہے۔ اس کا اثر ہے کہ سقراط اتنا بڑا فلسفی ہو کر جان دینے کے وقت وصیت کرتا ہے کہ فلاں بت پر میں نے نذر چڑھانے کی جو منت مانی تھی وہ پوری کی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام مذاہب میں سینکڑوں حکماء و علماء پیدا ہوتے ہیں لیکن مذہب کے لغو سے لغو عقیدہ کی نسبت بھی کبھی ان کو شک پیدا نہیں ہوتا۔ عقل کی اس بیکاری سے صرف یہ نقصان نہیں پہنچتا کہ جو لغو عقیدہ ایک دفعہ قائم کرلیا گیا تھا وہ اپنے حال میں قائم رہتا ہے بلکہ توہمات اور عجائب پرستی کا زور روز بروز بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ چند روز کے بعد مذہب کے عمدہ عقائد بھی ان توہمات کے ہجوں میں چھپ جاتے ہیں اور مذہب ہمہ تن عجائبات اور ناممکنات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ یہی چیز ہے جس نے دنیا کے آزاد خیالوں کو مذہب سے متنفر کردیا اور دنیا کے فلاسفروں نے جو پیش گوئیاں کی ہیں کہ عنقریب تمام مذاہب برباد ہوجائیں گے تو اس کی بھی اصل وجہ یہی ہے کہ مذحب عقل کو برباد کرنا چاہتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ خود برباد ہوجائے۔ یہی لوگ یہ لکھتے ہیں کہ اگر بغیر خود غرضی اور وہم پرستی کے اس بات کا پتہ لگائیں کہ دنیا میں آج تک قدر مادی ، دماغی اور اخلاقی ترقیاں ہوئی ہیں ان کا اصل سبب کیا ہے ؟ تو صرف یہ جواب ہے کہ ” عقل کا جبر کے شکنجہ سے نجات پانا “ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اسلام کی تلقین بھی یہی ہے ؟ دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے یہودیوں ، عیسائیوں ، بت پرستوں اور ملحدوں کو سینکڑوں جگہ مختلف طریقوں سے عقائد اسلام کی دعوت دی ہے لیکن کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ تم تقلید ان عقائد کو مان لو بلکہ ہر جگہ اور ہر موقع پر اجتہاد اور غور کے ذریعہ سے ان کو منوانا چاہا ہے اور تقلید پرستی کی سخت برائی کی ہے اور مخالفین اسلام کو سب سے بڑا الزام جو دیا ہے وہ یہ ہے کہ ” آسمان و زمین میں کس قدر ان گنت نشانیاں ہیں لیکن یہ لوگ ان پر سے گزر جاتے ہیں اور ان کی طرف رخ نہیں کرتے۔ “ (یوسف 12) مزید تفصیل دیکھنا ہو تو تفسیر عروۃ الوسقیٰ جلدسوم میں سورة الاعراف کی آیت 179 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 8:23ان میں کچھ بھی بھلائی موجود ہوتی تو اللہ ان کو ضرور سنوادیتا :
32: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں ساری صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں اگرچہ ان میں کمئ بیشی تسلیم ہے تاہن وہی صلاحیت کام کرتی ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے اور جیسی کچھ اس کی کوشش ہوتی ہے ویسی ہی صلاحیت ترقی کرتی ہے مثلاً دنیا میں جتنا پیشے ایجاد ہوئے ہیں ان سب کی صلاحیت ہر انسان میں موجود ہے لیکن جو شخص جس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں وہ کامیاب ہوتا ہے اور باقی صلاحیتیں اس طرح سوئی رہتی ہیں اور وہ کبھی نہیں جاگتیں۔ یہی بات عقل و فکر کی ہے جو شخص اس سے کام لیتا ہے اس کو وہ یقیناً کام دیتی ہے اور جو اس کو چھونا بھی پسند نہیں کرتا اس کو وہ کبھی مجبور نہیں کرتی۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھتا تو ان کو اعتقاد کے ساتھ سننے کی توفیق یقیناً دے دیتا جب وہ ہی اس سے وہ کام لینے کے لئے تیار نہیں گویا ان کو طلب حق نہیں ہے تو ان کو حق سنائی بھی جائے تو یقیناً وہ اس سے رو گردانی کریں گے اور روگردانی کرنے والو کو اس سے کیا حاصل ہوگا ؟ بھلائی سے مراد اس جگہ طلب حق ہے کہ طلب ہی کے ذریعہ تدبیر اور فہم کے دروازے کھلتے ہیں اور اس سے اعتقاد و عمل کی توفیق ہوتی ہے اور جس میں طلب حق نہیں گویا اس میں کوئی بھلائی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو یقیناً وہ اللہ کے علم میں ہوتی جب اللہ کے علم میں ان سے اندر کوئی بھلائی نہیں تو معلوم ہوا کہ در حقیقت وہ ہر بھلائی سے محروم ہیں اور اس محرومی کی حالت میں اگر ان کو غور و فکر اور تدبر و اعتقاد کی دعوت دی جائے تو ہرگز قبول نہیں کریں گے بلکہ اس سے منہ پھیر کر بھاگیں گے یعنی ان کی یہ روگردانی اس وجہ سے نہ ہوگی کہ دین میں ان کو کوئی اعتراض کی بات نظر آگئی ہے اس لئے وہ نہیں مان رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حق پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اگر ان کو سنوا بھی دے تو وہ قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے :
33: یہ اس لئے فرمایا کہ دراصل وہ قبولیت کی صلاحیت کھو چکے ہیں اس لئے ان کو سنوانا اور نہ سنوانا دونوں برابر ہیں کیونکہ کسی چیز کو سننا اس وقت مفید ہوسکتا ہے جب اس کے مطابق عمل کیا جائے ۔ افسوس کہ آج مسلمانوں کا بھی سننا ویسا ہی سننا ہوگیا اس لئے کہ وہ سنے ہوئے کو کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور خصوصاً قرآن کریم ہی کے ساتھ یہ ظلم و ستم کیا جارہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جن حرفوں کی آواز سے قرآن کریم کے الفاظ بنے ہیں انہیں کسی نہ کسی طرح کان میں ڈال لینا سماعت قرآن ہے اور اس سے ثواب کے ہم مستحق ہوجاتے ہیں اور اس سے زیادہ کسی بات کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالانکہ سننے سے فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس پر غور کرے اور عقل سے اس کو سمجھے اور پھر اس کے مطابق عمل کرے۔ آج بد قسمتی سے قوم مسلم نے اپنے آپ کو خیرو خوبی سے اس لئے محروم کرلیا کہ وہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں بلکہ حق کی عداوت میں وہ یہاں تک ترقی کرچکے ہیں کہ اگر کملہ حق ان کے کان میں ڈالا بھی جائے تو بوجہ عناد کے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ غور و فکر کرنا تو بڑی دور کی بات ہے وہ سننے کے لئے بھی تیار نہیں اور اگر کوئی بات ان کے کان میں پڑ ہی جائے تو بڑبڑانے لگتے ہیں۔ پھر افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام تو عوام رہے آج خواص کا بھی یہی حال ہے اور اس پر جتنا رویا جائے اتنا ہی کم ہے۔
کوئی سر پیٹے یا بال نوچے حقیقت یہی ہے کہ قرآن کریم کا کوئی صفحہ اس مضمون سے خالی نہیں اور اس کے ہر بیان میں یہ بات نمایاں ہے کہ میری دعوت سر تا سر تتعقل و تفکر کی دعوت ہے جو انسان اپنے حواس و عقل سے کام نہیں لیتا وہ قرآن کریم کے نزدیک انسان نہیں بلکہ بدترین چوپایہ ہے اور وہ فکر و عمل کی حس حالت کو کفر کی حالت قرار دیتا ہے اس کا سرچشمہ یہی عقل و حواس کا تعطل ہے اور آج اس سے قوم مسلم دو چار ہے اور پیشوایان اسلام ہیں کہ ان کو پیٹ کے دھندے سے فراغت ہی نہیں۔
Ayah 8:24اللہ اور اس کے رسول کے احکام ہی میں زندگی ہے اس زندگی کو حاصل کرلو :
34: فرمایا پیغمبر اسلام کی دعوت اس لئے ہے کہ تمہیں زندہ کردے یعنی وہ انسانیت اعلیٰ کے انبعاث و قیام کی دعوت ہے غور کرو کہ اس نے کس طرح وقت کی تمام مردہ جماعتوں کو قبروں سے اٹھا کر زندگی کے میدانوں میں متحرک کردیا تھا ؟ اس سے بڑھ کر مردوں کو جلانا اور کیا ہوگا کہ عرب کے ساربانوں میں ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، علی ؓ ، عائشہ ؓ ، خالد بن ولید ؓ ، ابن وقاص ؓ اور ابن العاص ؓ جیسے لوگ پیدا کردیئے اور پچاس برس کے اندر اندر کرہ ارض کی سب سے بڑی مہذب و اشرف قوم وہی عرب کے وحشی تھے۔
آج بھی اس پیغام میں اس طرح کی زندگی موجود ہے لیکن دراصل قوم کو کوئی سبق پڑھانے والا نہیں رہا اور ملا نے اسلام کی روح حقیقی نکال کر اس کو بالکل بےجان کردیا ہے اور اس زندگی بخشنے والے پیغام کو مردوں کو ثواب پہنچانے کے لئے خاص کردیا ہے۔ قرآن کریم جس چیز کو زندگی قرار دیتا ہے اس زندگی کو وہ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں۔
قرآن کریم کے الفاظ پر ایک بھر پھر غور کرو فرمایا : ” اے مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو جب وہ پکارتا ہے تاکہ تمہیں زندہ کرے۔ “ اس لئے کہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کا کام یہی زندگی عطا کرنا ہے وہ بھی ” باذن اللہ ‘ ہی عطا کرسکتے ہیں لیکن نادانوں نے اس زندگی کو نبیوں کے ذمے ڈال دیا جو زندگی خالصتاً اللہ ہی کا خاصہ ہے۔ ہمارے مفسرین کرام (رح) نے بھی اس حیات سے مراد جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور جو انبیاء کرام (علیہ السلام) دینے کے لئے مبعوث ہوئے تھے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں لیکن ان سب کا ماحصل ایک ہی ہے چناچہ کہا گیا ہے کہ وہ حیات بخش چیز ” ایمان “ ہے کیونکہ کافر مردہ ہوتا ہے اور مسلمان ایمان کی زندگی سے زندہ کہلاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ حیات قرآن کریم ہے جس میں دنیا و آخرت کی زندگی اور فلاح مضمر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حق ہے کیونکہ حق کا مخالف باطل ہے جو سراسر کفر و جہل اور موت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جہاد سے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت بخشی اور یہ سب تعبیرات اگرچہ مختلف ہیں لیکن ان سب کا ماحصل ایک ہی ہے اس لئے یہ سب تعبیرات اپنی اپنی جگہ صحیح اور درست ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ” ایمان “ ” قرآن کریم “ ” حق “ اور ” جہاد “ وغیرہ سب ایسی چیزیں ہیں جن سے ایک سچے مسلمان کا دل زندہ ہوتا ہے اور دل کی زندگی یہ ہے کہ بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو غفلت و شہدت کے حجابات حائل ہیں وہ راہ سے ہٹ جائیں اور نور معرفت دل میں جاگزیں ہوجاتے۔
انسان اور اس کے دل کے درمیان اللہ کے حائل ہوجانے کا مطلب کیا ؟
35: ” اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل میں درمیان حائل ہوجاتا ہے “ اس عبارت کے دو مف ہوں ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ درست ہیں۔ ایک یہ کہ جب کسی نیک کام کے کرنے یا گناہ سے بچنے کا موقع ہاتھ آجائے تو جلدی کرو اور نیک کام کو کر گزرو دیر نہ کرو اس وقت کو ینیمت سمجھو اس لئے کہ بعض اوقات آدمی کے ارادہ کے درمیان قضاء الٰہی حائل ہوجاتی ہے اور وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہوتا مثلاً کوئی بیماری آگئی یا کوئی اور مشغلہ سامنے آگیا اور یہ نہیں تو موت ہی آگئی اور یہ کام ہوئے ہوئے رہ گیا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ فرصت اوقات کو غنیمت سمجھ کر آج کا کام کل پر ڈالنے کی عادتت ترک کردے خصوصاً جب وہ اچھا اور نیک کام ہو کل کیا ہوگا کس کو معلوم ہے ؟ اس لئے کس نے کہا ہے کہ
من نمی گویم زباں کن یا نفکر سود باش ۔ ای ز فرصت بیخبر دار ہرچہ باشی زودباش
اور دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کا قلب ہر وقت اللہ تعالیٰ کے خاص تصرف میں ہے وہ کبھی انسان کی برائیوں سے حفاظت کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ انسان کے ارادوں سے واقف ہے اس لئے وہ انسان کے قلب اور گناہوں کے درمیان آڑ کردیتا ہے لیکن کبھی اس کے برعکس انسان کی بدبختی مقرر ہوتی ہے تو وہ اس کے اور نیک کاموں کے درمیان آڑ کردیتا ہے کیونکہ وہ اس کی نیت سے واقف ہے اور یہ بات اس کی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ اکثر اپنی دعاؤں میں اس جملہ کو ادا فرمایا کرتے تھے کہ یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ ” اے دلوں کے پلٹنے والے ! میرے دل کو اپنی طاقت پر ثابت اور قائم رکھ۔ “
اور ساری گفتگو کو اس طرح بھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ تم یہ بات کبھی نہ بھولو کہ انسان کے انکار و افعال میں حکمت الٰہی کا ایک خاص قانون کام کر رہا ہے بسا اوقات اس کے ارادوں اور اسکے دل کے جذبوں اور انفعالوں کے درمیان اچانک کوئی غیر متوقع بات آکر حائل ہوجاتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک اچھائی سے برائی میں جا پڑتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک برائی سے بھلائی میں آنکلتا ہے چناچہ کتنے ہی اچھے ارادے ہیں جن میں عین وقت پر ہمارے دل نے انکار کردیا اور کتنے ہی برائی کے منصوبے ہیں جن سے اچانک ہمارے دل نے بغاوت کردی ۔ پس چاہئے کہ انسان اپنے دل کی نگرانی سے کبھی غافل نہ ہو اور یہ بھی نہ بھولو کہ اللہ کے حضور لوٹنا ہے کیونکہ جس دل میں آخرت کا یقین ہوگا وہ زندگی کی غفلتوں سے کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا اور سب کا ماحصل یہ ہے کہ ارادہ نیک ہو تو کبھی دیر نہ کرے اور ارادہ میں اللہ نہ کرے ، برائی کی کوئی بات آجائے تو جلدی نہ کرے بلکہ حتی الامکان اس کو ٹالتا رہے ممکن ہے کہ وہ اس برائی کے مؤخر کرنے ہی سے اس سے بچ جائے جو بذاتہ نیکی ہے اس طرح وہ ساری نیکیاں حاصل کرجائے۔
Ayah 8:25ایسے فتنہ سے بچتے رہو جو اگر کھڑا ہوگیا تو خود فتنہ کھڑا کرنے والا بھی اس کی زد سے نہ بچے گا :
36: زیر نظر آیت میں اجتماعی زندگی کے خطرات کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ فرمایا : ان فتنوں سے بچو جنہیں سوسائٹی کا کوئی ایک فرد یا ایک جماعت برپا کردیتی ہے جب ان کی آگ بھڑک اٹھتی ہے تو صرف انہی کو نہیں جلاتی جنہوں نے سلگائی تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں سب سے سب آجاتے ہیں اور اس لئے آجاتے ہیں کہ کیوں آگ لگانے والے کا ہاتھ نہیں پکڑا گیا ؟ کیوں بروقت اس کو بھجانے کی کوشش نہیں کی گئی ؟
ابو بکر صدیق ؓ نے ایک خطبہ میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام کردے۔ (ترمذی ، ابوداؤد)
نعمان بن بشیر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی حدودتوڑنے والے گناہ گار ہیں اور پھر جو لوگ ان کو دیکھ کر مداہنت کرنے والے ہیں یعنی باوجود قدرت کے ان کو نہیں روکتے ان دونوں طبقوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بحری جہاز کے دو طبقے ہوں اور نیچے کے طبقہ والے اوپر آکر اپنی ضرورت کے لئے پانی لیتے ہوں جس سے اوپروالے تکلیف محسوس کریں اور ان کو پانی لینے سے روک دیں پھر نیچے والے یہ دیکھ کر یہ صورت اختیار کریں کہ کشتی کے نچلے حصہ میں سوراخ کر کے اس سے پانی حاصل کریں اور اوپر کے لوگ ان کی اس حرکت کو دیکھ کر خاموش رہیں تو ظاہر ہے کہ پانی پوری کشتی میں بھر جائے گا اور پھر جس طرح نیچے والے غرق ہوں گے اوپر والے بھی ڈوبنے سے نہیں بچ سکیں گے۔ (بخاری و مسلم) فرمایا : یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بد عملیوں کی سزا دینے میں بہت بہت سخت ہے اور پھر جب سزا اس کی طرف سے نافذ ہوجائے تو کوئی نہیں جو اس کی سزا سے بچا سکے۔