Ayah 8:26اس بات کو کبھی نہ بھولو کہ تم کمزور تھے اور اللہ نے تم کو طاقتور بنادیا :
37: جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے میدان بدر میں آنے والے سارے مسلمان نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کی کافی تعداد ابھی مدینہ منورہ میں موجود تھی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عام اعلام جنگ نہیں کیا تھا بلکہ واضح طور پر ارشاد فرمایا تھا کہ جو ہمارے ساتھ نکلنا چاہیں وہ نکل چلیں یہی وجہ ہے کہ اس لشکت کی گنتی بھی مدینہ سے باہر کافی دور تک نکلنے کے بعد کی گئی تھی۔ تاہم میدان جنگ میں آنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی۔ فرمایا تو اس وقت بلاشبہ مخالفین کے مقابلہ میں تھوڑے تھے لیکن وہ وقت بھی یاد کرو جب مکہ میں تمہاری تعداد بالکل نہ ہونے کے برابر تھی لیکن تم کو زندہ رکھنے والے نے اس وقت بھی زندہ رکھا اور سارے خطرات سے تم کو نکال لیا۔ اس وقت تو اللہ تعالیٰ نے تم کو مدینہ میں ایک بہت اچھا ٹھکانا عطا فرمادیا ہے اور پھر میدان بدر میں بھی تمہاری خاص مدد و نصرت فرمائی اور تم تھوڑے ہونے کے باوجود کامیاب و کامران ہوئے اس لئے تم کو چاہئے کہ تم اللہ کا خاص شکر ادا کرو اور پھر دیکھو کہ تم ہی میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کی نظریں تجارتی قافلہ پر لگی ہوئی تھیں کیوں ؟ محض اس لئے کہ اس قافلہ سے مال حاصل ہو ذرا غور کرو کہ تم کو چور اور ڈاکو بھی نہ بننے دیا اور تم کو میدان بدر میں کفار و مشرکین کو چھوڑا ہوا مال بھی مل گیا جو تمہارے لیے حلال و طیب ہے اور رہتی دنیا تک کوئی شخص اس سلسلہ میں تم پر حرف گیری بھی نہیں کرسکے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے گویا تم پر انعام پر انعام کیا ورنہ تم وہی تھے کہ ہر وقت اس فکر میں مبتلا تھے کہ نہ معلوم ہم کو کس وقت یہاں مکہ سے اچک لیا جائے۔ اللہ نے تمہارے اس فکر کو دور کر کے تم کو ایک بہترین ٹھکانا عطا فرمادیا جہاں تمہاری انصار نے بہت پذیرائی کی اور عزت و احترام سے تم کو رکھا۔
Ayah 8:27مسلمانو ! خیانت سے بچو وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہو یا تمہارے درمیان ایک دوسرے کی :
38: خیانت کا لفظ عام ہے جو عربی اور اور اردو زبانوں میں ایک جیسا استعمال ہوتا ہے وہ وہی چیز ہے جس کو ” بددیانتی “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ایک کا جو حق دوسرے کے ذمہ واجب ہو اس کے ادا کرنے میں ایمان داری سے کام نہ لینا خیانت ہے اور یہی چیز بددیانیے بھی ہے۔ اگر ایک کی کوئی چیز دوسرے کے پاس امانت ہو اور وہ اس میں بیچا تصرف کرے یا مانگنے پر واپس نہ کرے تو یہ کھلی ہوئی خیانت ہے۔ اس طرح کسی کی کوئی چھپی ہوئی بات کسی دوسرے کو معلوم ہو یا ایک نے بھروسہ کر کے دوسرے کو بتادی ہو تو اس بات کو کسی تیسرے پر ظاہر کرنا بھی خیانت ہے۔ اس طرح جو کام کسی کے سپرد ہو اس کو وہ دینتداری کے ساتھ انجام نہ دے تو یہ بھی خیانت ہے۔ اسی طرح حکومت اسلامی کے خلاف اور اپنے متفقہ قومی و ملی مصالح کے خلاف قدم اٹھانا بھی خیانت و بد دیانتی ہے۔ دوست بن کر دوستی نہ نباہنا بھی خیانت ہے۔ بیوی میاں کا حق صحیح معنوں میں ادا نہ کرے یا میاں بیوی کا حق ادا نہ کرے تو یہ بھی خیانت ہے۔ دل میں کچھ رکھنا اور زبان سے کچھ کہنا بھی خیانت ہے اور اسی طرح کی ساری خیانتیں اسلام میں ایک ہی طرح سے ممنوع ہیں اور اس زیر نظر آیتت میں یہ سب خیانتیں مراد ہیں۔
رہی یہ بات کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کیا ہے ؟ تو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی خیانت یہ ہے کہ دیانتداری کے ساتھ ان کے احکام کی تعمیل نہ کی جائے۔ دین و ملت کے مصالح کے ساتھ غداری کی جائے۔ اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے دشمنوں کو چوری چھپے امداد پہنچائی جائے اور اس طرح مسلمانوں کے قومی رازوں کو مخالفین و معاندین کے سامنے پیش کیا جائے۔ پھر خیانت اللہ اور اس کے رسول کی ہو یا مسلمانوں میں سے کسی مسلمان کی ہو وہ بہر حال خیانت ہے جو کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین کھلی نشانیاں ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ ” جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے۔ “ (بخاری و مسلم)
ابن مسعود ؓ سے موقوفاً روایت یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں مارا جانا ہر گناہ کا کفارہ ہے سوائے امانت کے۔ قیامت کے روز بندہ کو لایا جائے گا اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہو اور کہا جائے گا کہ تم امانت لاؤ اور اس کو ادا کرو وہ کہے گا اے اللہ ! اب کیسے لاؤں ؟ دنیا تو ختم ہوچکی پھر کہا جائے گا کہ اس کو دوزخ کے طبقہ ہاویہ میں لے جاؤ وہاں امانت کی چیز مثال بن کر اصلی صورت میں نظر آئے گی تو وہ اس کو دیکھ کی پہچان لے گا اور اس کے پیچھے گرے گا یہاں تک کہ اس کو پکڑ لے گا اور اس کو اپنے کندھوں پر لے کر چلے اگر اور وہ پھر اس کے پیچھے ہمیشہ ہمیشہ گرتا رہے گا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ نماز امانت ہے ، وضو امانت ہے ، ناپ اور تول امانت ہے اور بہت ساری چیزیں گنا کر فرمایا ان سب زیادہ سخت معاملہ امانت کی چیزوں کا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت براء بن عازب ؓ کو سنائی تو انہوں نے اس کی تصدیق کردی اور فرمایا کہ تم نے قرآن کریم کی یہ آیت نہیں سنی ، یہ کہہ کر زیر نظر آیت تلاوت کی۔ (مسند احمد ، بیہقی ، منذری باب الترغیب وفی انجاز الوعد)
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر جو اس کے بعد آئے گا ، پھر جو اس کے بعد آئے گا ، پھر جو اس کے بعد آئے گا وہ ایسا زمانہ ہوگا کہ لوگ بن بلائے گواہی دیں گے ، خیانت کریں گے ، امانت داری نہیں کریں گے اور نذر مانیں گے تو اس کو پورا نہیں کریں گے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جن بری باتوں سے پناہ مانگا کرتے تھے ان میں سے ایک خیانت بھی ہے۔ آپ ﷺ فرمایا کہتے تھے کہ ” الٰہی ! مجھے خیانت سے بچائے رکھنا کہ یہ بہت برا اندرونی ساتھی ہے۔ “ (ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)
خیانت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جسی جماعت میں داخل ہو کر خود اس جماعت کو جڑ سے اکھاڑنے کی فکر میں لگے رہنا چناچہ منافقین جو دل میں کچھ رکھتے تھے اور زبان سے کچھ کہتے تھے اور ہمیشہ اسلام کے خلاف چھپی سازشوں میں لگے رہتے تھے مگر ان کی یہ چال کارگر نہیں ہوئی تھی اور ہمیشہ ان کا بھید کھل جایا کرتا تھا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” ٖ 1ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ “ اور ہمیشہ آپ ﷺ ان کی خیانت کی خبر پاتے رہتے ہیں یعنی ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پیغمبر اسلام کو پہنچین رہتی ہے۔
فی زماننا خیانت اتنی عام چیز ہے کہ شاید ہی کوئی انسان اس سے بچا ہوگا کیونکہ مسلمان کہلا کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری نہ کرنا خیانت ہے۔ نقص عہد کا نام خیانت ہے۔ مسلمانوں کو اور دین اسلام کو نقصان پہنچانا خیانت ہے۔ قومی اور دینی اغراض کو اپنی ذاتی اغراض پر قربان کردینا خیانت ہے۔ چنا ٹکوں کے لئے قوم اور دین کو نقصان پہنچانا خیانت ہے۔ ایمان فروشی اور قوم فروشی خیانت ہے۔ کسی عہدہ یا پلاٹ کی خاطر قومی مفاد اور دینی مصالح کو خیر باد کہہ دینا خیانت ہے اور آج ان چیزوں سے کون بچنے کی کوشش کر رہا ہے ؟ یہ بات سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
Ayah 8:28جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد بھی ایک آزمائش ہیں :
39: فتنہ کیا ہے ؟ فتنہ کے معنوں میں بہت وسعت ہے۔ اس لفظ کے معنی امتحان یا آزمائش کے بھی ہیں اور عذاب الٰہی کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب بنیں۔ قرآن کریم میں ان تینوں معنوں میں فتنہ کا لفظ بولا گیا ہے اور اس جگہ ان تینوں معنی کی گنجائش موجود ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات مال اور اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبان جان بن جاتے ہیں اور ان کے سبب انسان معصیت اور غفلت میں مبتلا ہو کر سبب عذاب بن جاتا ہے۔ یہ بھی ہے کہ مال اور اولاد کے ذریعہ ہمارا امتحان لیا جاتا ہے کہ یہ چیزیں انعامات الٰہی ہیں اور اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان سے انسان کا امتحان لیا جائے کہ انسان ان کو حاصل کر کے شکر گزار بن جاتا ہے یا ناشکرا اور نافرمان ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ بھی کہ مال اور اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کو ناراض کرلیا تو یہی مال اور اولاد عذاب بن گئی اور بعض اوقات تو دنیا ہی میں یہ چیزیں انسان کو سخت مصیبتوں میں مبتلا کردیتی ہیں اور دنیا ہی میں وہ مال اور اولاد کو عذاب محسوس کرنے لگتا ہے اور یہ بھی کہ دنیا میں جو مال اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کمایا گیا یا خرچ کیا گیا وہ مال ہی آخرت میں انسان کے لئے سانپ اور بچھو اور آگ میں داغ دینے کا ذریعہ بن جائے گا جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔
اس وقت یہ دونوں چیزیں یعنی مال اور اولاد ہماری قوم مسلم کے لئے فی الواقعہ فتنہ ہوگئے ہیں اس لئے کہ مسلمانوں نے اس کو غرض زندگی سمجھ لیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اس قدر فرض ہے کہ اپنے لئے کچھ مال کمالیں یا جمع کرلیں اور اپنی اولاد کی کچھ فکر کرلیں اور انہیں دونوں کی محبت میں اغراض قومی اور اغراض دینی کی اہمیت کو کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ تعجب ہے کہ اس سبب سے سزا بھی اس مال اور اولاد پر ہی آکر پڑی یعنی مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں فلس قوم ہو کر رہ گئے اور ہم خود اور ہماری اولاد دوسروں کی محکوم ہوگئی۔ وہ مال جس کو غرض زندگی سمجھا تھا وہ بھی جاتا رہا اور وہ اولاد بھی ذلیل ہوئی جس کو مد نظر رکھ کر فرائض اعلیٰ کو ترک کردیا تھا۔ گویا ہماری حالت وہ ہوگئی کہ
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کر رہے
اور آخر آیت میں فرمایا : وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (رح) 0028 ” یہ بھی سمجھ لو کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل میں مال و اولاد کی محبت سے مغلوب نہ ہوا اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ “
Ayah 8:29تم اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ ایک قوت پیدا کردے گا جو ہق و باطل کا فرق سمجھا دے :
40: تقویٰ کیا ہے ؟ اور تقویٰ کا نتیجہ کیا ؟ تقویٰ سارے اسلامی احکام کی غایت ہے اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہم صرف ایک لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو ہم اس لفظ تقویٰ سے ادا کرسکتے ہیں۔ اس لام کی ہر تعلیم کا مقصد اپنے ہر عمل کے قالب میں اس تقویٰ کی روح کو پیدا کرنا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی دوسری ہی سورت یعنی سورة البقرہ کی دوسری ہی آیت میں اعلان کیا ہے کہ اس کی تعلیم سے وہی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جو تقویٰ والے ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو عوۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ 2 کی آیت 2۔ اس جگہ تقویٰ کا صلہ بتادیا جو انسان پر مترتب ہوتا ہے چونکہ اس جگہ ذکر تھا کہ انسان کے لئے مال اور اولاد ایک فتنہ یعنی آزمائش کی چیز ہے کیونکہ ان چیزوں کی محبت میں مغلوب ہو کر انسان عموماً اللہ تعالیٰ اور انجام آخر سے غافل ہوجاتا ہے حالانکہ اس عظیم نعمت یعنی مال اور اولاد کا عقلی تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ کے اس احسان کی وجہ سے اس کی طرف اور جھکتا۔ زیر نظر آیت میں اس مضمون کی تکمیل ہے اس میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص عقل کو طبیعت پر غالب رکھ کر اس آزمائش میں ثابت قدم رہے اور اللہ کی اطاعت و محبت کو سب چیزوں کو مقدم رکھے جس کو شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کہتے ہیں تو اس کو اس کے صلہ میں تین چیزیں دی جاتی ہیں :
1 : فرقان۔ 2 : کفارہ سیئات۔ 3 مغفرت۔
فرقان کا اصلر ق ہے ۔ محاورات میں فرقان اس چیز کے لئے بولا جاتا ہے جو دو چیزوں میں واضہ طور پر فرق اور فصل کردے اور فرقان عطا کرنے کا مطلب ہے کہ جو متقی ہوتا ہے اس کو حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کردی جاتی ہے یعنی اس کو نور بصیرت مل جاتا ہے جس کی وجہ سے حق اور باطل اس پر واضح ہوجاتا ہے اور چونکہ قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ” فرقان “ ہے اس لحاظ سے اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایسے انسان کو قرآن کریم کو سمجھنے کی صلاحیت عطا کی جاتی ہے اور وہ کتاب و سنت کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس کے مطابق زندگی گزارتا ہے گویا اس کا ہاتھ اور اس کی زبان کی سمت پر چلتے ہیں۔ وہ وہی کرتا ہے جو کہتا ہے اور وہی کچھ کہتا ہے جو کر کے دکھا دیتا ہے۔ یہ نہی ہوتا ہے کہ وہ کرے کچھ اور کہے کچھ جیسا کہ آج کل پیشوایان مذہب کر رہے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی پوری قوم مسلم نے یہی شیوہ اختیار کرلیا ہے۔
اس کو دوسری چیز جو دی جاتی ہے وہ ” کفار سیئات “ ہے کیونکہ انسان اور خطا دونوں لازم وملزوم ہیں۔ انسان خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس سے خطائیں اور لغزشیں ہوں گی اور انبیاء کرام کے علاوہ کوئی انسان معصوم نہیں۔ فرمایا اس سے جو خطائیں ہوتی ہیں اللہ اس کو معاف کردیتا ہے اس لئے کہ وہ کبھی بھی اپنی خطاؤں پر مصر نہیں ہوتا بلکہ خطا ہوتے ہی تسلیم کرلیتا ہے اور پھر اس مالک حقیقی سے معافی طلب کرتا ہے اور اگر کسی انسان کے حق میں اس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو تو فوراً اس کے ازالہ کی کوشش کرتا ہے اور جب تک اس کا ازالہ کر نہیں لیتا اس کو کبھی چین نہیں آتا۔
پھر اس کے اس عمل کے باعث اس کو تقویٰ کا یہ صلہ ملتا ہے کہ اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اور اس طرح وہ آخرت میں کامیاب و کامران قرار پاتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ایسا خطا کار جو خطا کرنے کے بعد اس کی معافی طلب کرلے وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی خطا کی ہی نہیں۔ آخر آیت میں فرمایا کہ ” اللہ بہت ہی فضل و احسان والا ہے “ یعنی ایک متقی انسان کو یہ تین چیزیں تو قانون الٰہی کے مطابق مل جاتی ہیں کیونکہ وہ ان کا مستحق قرار پاتا ہے اور اس کے بعد جو اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے اس کو ملے گا وہ اس کے سوا ہے اور اس کا کوئی اندازہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح اللہ کی ذات کسی کے احاطہ میں نہیں آسکتی اس طرح اس کے فضل و احسان کی بھی کوئی حد و انتہا نہیں ہے۔
صحابہ کرام ؓ کی پوری جماعت متقین کی جماعت تھی اس لئے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ان میں حق و باطل اور خیر و شر کے امتیاز کی وہ خاص قوت جس کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے موجود تھی اس لئے ان کا کبھی بھی باطل و شر کی طرف قدم نہیں اٹھا تھا۔ ہمیں بہت افسوس ہے کہ اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لئے غیر مسلم قوموں نے جو حربہ اختیار کیا آنے والے مورخین اس کی زد میں آگئے۔ حالانکہ حقیقت آج بھی انہی تاریخ کے اوراق میں اپنے اپنے مقام پر بالکل واضح ہے اور ایک دنیا جانتی ہے کہ صدر اول کے مسلمانوں کا کیا حال تھا ؟ وہ عرب کے بادیہ نشین جن کی ساری زندگیاں اونٹ چرانے میں بسر ہوتی تھیں ایک ہی جست میں ایرانیوں اور رومیوں جیسی متمدن قوموں کی قسمتوں کے مالک ہوگئے۔ ایسا کیونکر ہوا ؟ اس لئے کہ خیر و شر میں امتیاز کی ایک ایسی قوت ان کے قبضہ میں آگئی تھی کہ جو کچھ کرتے تھے اور جس طرح کرتے تھے وہ حق و عدالت اور خیر وسعادت کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔
وہ زمانہ کیا ہوا جب مری آہ میں اثر تھا۔ یہی چشم خوں فشان تھی یہی دل ، یہی جگر تھا
Ayah 8:30نبی اعظم و آخر ﷺ کے خلاف کفار مکہ کی سازشوں کا ذکر :
41; : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک خاص فضل و احسان اور انعام و اکرام کا ذکر فرمایا جو نبی اعظم و آخر ﷺ اور پوری انسانیت پر کیا گیا بشمول ان لوگوں کے جو اس وقت ظلم کر رہے تھے اور وہ ظلم نبی رحمت ﷺ کے قید کرنے ، مکہ سے نکلال باہر کرنے یا قتل کرنے کا مشورہ تھا جو مشورہ طے پایا وہ یہ تھا کہ اب اس کے سوا چارہ نہیں کہ محمد (رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیا جائے۔ کیوں ؟ اس لئے اب مکہ سے باہر خصوصاً مدینہ طیبہ کے لوگ مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور قریش مکہ کے سرداروں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اب تک تو اس کا معاملہ صرف مکہ تک محدود تھا جہاں ہر طرح کی قوت و طاقت ہمارے ہاتھ میں تھی اور اب جب مدینہ میں اسلام پھیلنے لگا اور بہت سے صحابہ کرام ؓ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچ گئے تو اب ان کا ایک مرکز مدینہ طیبہ قائم ہوگیا جہاں یہ لوگ ہر طح کی قوت ہمارے خلاف جمع کرسکتے ہیں اور اس طرح ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ وہ ہم پر حملہ آور ہوجائیں۔ ایسے خیالات نے جب سرداران قریش میں جنم لیا تو انجام کار ایک روز وہ ایک خاص مقام پر جمع ہوئے جس کو انہیں کی زبان میں ” دارالندوہ “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یہ جگہ مسجد حرام کے بالکل متصل تھی اور دراصل یہ قصی بن کلاب کا مکان تھا جو قومی صلاح و مشورہ کے لئے مختص کرلیا گیا تھا اور پھر زمانہ اسلام میں اس مقام کو مسجد حرام میں داخل کرلیا گیا کچھ محقق مورخین کے بیان کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں فی زمانا باب الزیارات واقعہ ہے یہ وہی جگہ تھی۔
اسی اجتماعی ریز و لیوشن میں جو پاس ہوا وہ یہی تھا کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ کا سر قلم کردیا جائے اور اس میں قریش مکہ کے سارے خاندانوں کے سربراہ شامل ہوں تاکہ یہ کسی ایک خاندان کا مسئلہ نہ رہے کہ اس سے آگے پھر قتل و غارت شروع ہوجائے اس اجتماع خاص میں عمرو بن ہشام ( ابو جہل) نصر بن حارث ، عتبہ ، امیہ بن خلف اور ابو سفیان وغیرہ سب کے سب شامل تھے اور اس مجلس کی پوری داستان بہت لمبی ہے جس کو اس جگہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مشورہ نہایت خفیہ طریقہ سے کیا گیا لیکن ان جاہلوں کو کیا معلوم کہ رسول اللہ ﷺ کا واسطہ کس ذات کے ساتھ وابستہ ہے وہ تو اس کو ایک دنیوی تحریک ہی سمجھتے تھے۔ بہر حال ان کے اس مشورہ کی پوری رپورٹ اللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ ﷺ تک پہنچا دی اور حکم دیا کہ آج آپ ﷺ اپنے بستر پر آرام نہ کریں بلکہ رات ہی رات کو اس جگہ سے نکل جائیں اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ دشمن آپ ﷺ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے۔
مشورہ کے مطابق قریشی سرداروں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے مکان کا محاصرہ کرلیا اور رسول اللہ ﷺ بھی اللہ کے حکم سے علی ؓ کو اپنے بستر پر سو جانے کی ہدایت فرما کر اس گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور ان محاصرہ کرنے والوں کی آنکھوں میں مٹی ڈال کر بامر الٰہی بخیر و خوبی نکل گئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ آپ بڑے اطمینان و آرام کے ساتھ ابوبکر صدیق ؓ کے گھر پہنچے اور ان کو ساری بات بتائی اور یہ بھی فرمایا کہ اب اللہ کا حکم اس جگہ سے ہجرت کر جانے کا ہے اور اس وقت جانا ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ آپ ﷺ کے ہمراہ نکل کھڑے ہوئے۔
قریش مکہ کی ساری مخفی تدبیروں کو اللہ کی ایک ہی مخفی تدبیر نے ہڑپ کرلیا :
42: زیر نظر آیت میں قریش مکہ کے سرداروں کے اس مشورے کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ دیکھو اے پیغمبر اسلام ! کہ جب کفار مکہ آپ کے خلاف مخفی تدبیریں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا شہر بدر کردیں لیکن اللہ کس طرح ان کی تدبیروں کو خاک میں ملا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کون ہے جس کی تدبیریں کارگر ہوں ؟ یعنی کوئی نہیں ہے جس کی تدبیریں اللہ کے سامنے چل سکیں اس لئے کہ وہ ذات اقدس سو سنار کی پر ایک لوہار کی لگا کر سارا کام تمام کردیتا ہے۔ فرمایا غور کرو کہ انسان اپنے جہل و غفلت کی سرشاریوں میں سوچتا ہے اور حکمت الٰہی کی مخفی تدبیروں کا فیصلہ کیا ہوتا ہا ؟ جب ہجرت سے پہلے قریش مکہ نے یہ منصوبے باندھے تھے تو کیا ایک لمحہ کے لئے انہیں آنے والے نتائج کا گمان ہو سکتا تھا ؟ مگر کس طرح خود انہی کے ظلم و عداوت نے ان کا سارا سرو سامان کردیا ؟ پھر غور کرو کہ اگر ظلم نہ ہوتات تو ہجرت بھی نہ ہوتی اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو وہ تمام نتائج ظہور میں نہ آتے جو ہجرت سے ظہور میں آئے۔ ایسی ہی صورت حال قانون الٰہی کی مخفی تدبیر ہے جو انسان کے ظلم و فساد کی ساری تدبیریں ملیا میٹ کردیتی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک بار پھر غور کرو کہ اس جگہ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ آخر میں اللہ نے جو ارشاد فرمایا کہ وہ بصیغہ مضارع ہے جو حال و استقبال کے معنوں پر دلالت کرتا ہے کہ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ 1ؕ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ابھی ایمان کی ایذا رسانی کی تدبیریں کرتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی تدبیروں کو اپنی مخفی تدبیر سے ناکام بناتا رہے گا۔ اس طرح ایک طرف کفار کی دائمی ریشہ دوانیوں کی طرف اشارہ فرمایا اور دوسری طرف یہ یقین دہانی بھی کرادی کہ اگر تم مسلمان رہے تھے تو ان کی ان ریشہ دوانیوں کا سارا وبال بھی انہی پڑ پڑتا رہے گا اور اللہ کی نصرت و امداد ہمیشہ مسلمانوں کا ساتھ دے گی۔
Ayah 8:31آیات الٰہی کو سن کر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں :
43: وہ ڈینگیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہماری پہلے ہی سنی ہوئی ہیں اگر چاہیں تو ہم بھی اس طرح کی باتیں کہہ سکتے ہیں۔ آخر ان میں ہے ہی کیا۔ پچھلے سرسڑوں کی باتیں ہی تو ہیں ؟ جب ان کو کہا جاتا کہ تم ان باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب یہی ہوتا کہ اس طرح تو یہ تہریک مزید پھیلے گی اور لوگ اس میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ پس اس باتیں سن کر ان سنی کردو گے تو یقیناً یہ تحریک آج نہیں تو کل اپنی موت آپ مرجائے گی اس طرح نہ بانس رہے گا نہ بانسری بجے گی۔ دیکھو آخر اس کی ساری باتیں ہی تو تمہارے باپ داد کے خلاف ہیں اور پھر کیا تمہارے باپ دادا سارے ہی غلط تھے جو باتیں آج تک کسی کی سمجھ میں نہ آئیں وہ ساری کی ساری اس کی سمجھ میں آگئیں کیا کبھی سارے لوگوں کے مقابلہ میں ایک کی بات بھی سچی ہو سکتی ہے ؟ دراصل اس کو کسی کی مار لگ گئی ہے اور یہ باگل مجنون ہوچکا ہے۔ عقل اس کی صحیح نہیں رہی۔ ایسی باتوں کا علاج صرف یہ ہے کہ ان پر کان نہ دھرا جائے۔
قرآن کریم نے ایسی باتیں کہنے والوں سے بار بار مطالبہ کیا ” اگر تمہیں اس کلام کی سچائی میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو تم بھی اس کی سی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن جن کو تم نے اپنا حمایتی سمجھ رکھا ہے ان سب کو بھی اپنی مدد کے لیے بلالو اگر تم سچے ہو “ (البقرہ 2 : 23)
فرمایا : ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ کے نام پر افتراء کیا ہے ؟ تم کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو قرآن کی مانند ایک سورة بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن جن ہستیوں کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہو بلا لو “ (یونس 10 : 38) اور پھر ان کو اس طرح چیلنج بھی کیا کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! اس بات کا اعلان کر دے کہ اگر تمام انسان اور جن اکٹھے ہو کر چاہیں کہ اس قرآن کریم کی مانند کوئی کلام پیش کردیں تو کبھی پیش نہ کرسکیں گے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار ہی کیوں نہ ہو “ (بنی اسرائیل 17 : 88) اس طرح سورة ہود ( 11 : 13) میں اور سورة القصص (49 : 50) میں ان کو مخاطب فرمایا گیا لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہ کی اور نہ رہتی دنیا تک کوئی کرے گا۔ اس کی مکمل تشریح ہم نے سورة البقرہ کی آیت 23 کے تحت بیان کردی ہے جو جلد اول کے ص 182 سے 202 تک چلی گئی ہے۔ وہاں سے تفصیل ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 8:32قریش مکہ جواب پیش کرنے کی بجائے بوکھلا کر بد دعا کرنے لگے اور زد میں خود ہی آگئے :
44: انسان کی یہ بھی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بات کا عقل و فکر اور سمجھ سوچ کر جواب نہ دے سکے تو وہ خود اپنی ذات ہی کو گالیاں دینے پر اتر آتا ہے اور برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے۔ یہی بات قریش مکہ نے کی جب ان کو بار بار بلایا گیا اور ان ہی کی کہی ہوئی بات کے مطابق ان سے مطالبہ کیا گیا کہ لاؤ ذرا اپنا سانپ پٹارہ سے باہر بھی نکال کر دکھاؤ تو بو بوکھلا گئے اور کہنے لگے کہ ” خدایا اگر یہ بات (پیغمبر اسلام کی دعوت) تیری جانب سے امر حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمیں کسی دوسرے دردناک عذاب میں مبتلا کردے۔ “ غور کرو کہ بات کیا تھی اور کیا ہوگئی ؟ یہ کہنے والے معمولی لوگ نہیں تھے بلکہ سرداران قریش تھے جن میں عمرو بن ہشام ( ابو جہل) جیسے ضادید ، فہر بن کلاب تھے۔ صحیح بخاری میں بھی اس واقع کی تفصیل اسی طرح بیان کی گئی ہے۔
Ayah 8:33فرمایا جتنے جلد باز تم ہو اللہ بھی ایسا جلد باز ہوتا تو تمہارا تیا پانچا کردیا جاتا :
45: قرآن کریم ان کو جواب دیتا ہے کہ اے قریش مکہ ! جتنا جلد باز تم ہو اللہ اتنا جلد باز نہیں۔ جس شخص کی باتوں سے تنگ آکر تم نے ایسی بات منہ سے نکالی ہے دراصل وہی اس عذاب الٰہی کی رکاوٹت کا باعث ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول بھی موجود ہو اور تم پر عذاب بھی نازل ہوجائے یہ بات اللہ کے قانون کے خلاف ہے اور اللہ کبھی اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ جس بستی میں اللہ کا رسول موجود ہو اس بستی میں وہ اس قت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک کہ اس رسول اللہ کو وہاں سے نکال نہ لے۔ اگر معلوم کرنا چاہو تو ہود (علیہ السلام) ، صالح (علیہ السلام) ، لوط (علیہ السلام) کے واقعات اٹھا کر دیکھو کہ جب تک اللہ کے یہ رسول اپنی اپنی بستی میں رہے اللہ کا عذاب نہیں آیا اور پھر جب عذاب کا وقت آیا تو ان کو پہلے وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا اور پھر جب وہ نکل گئے تو بعد میں ان بستیوں پر عذاب نازل کیا اس لئے اب بھی سنت اللہ کے مطابق وہی کچھ ہوگا جو آج تک ہوتا آیا ہے۔
فرمایا کہ دوسراسبب اس عذاب کے نہ ہونے کا یہ بھی ہے کہ ابھی ان میں یعنی مکہ والوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ سے بخشش و مغفرت طلب کرتے ہیں اور ” اللہ ایسا بھی کرنے والا نہیں کہ انہیں عذاب میں ڈالے حالانکہ وہ معافی مانگ رہے ہوں۔ “ گویا ابھی اس جگہ سارے کے سارے انڈے گندے نہیں ہیں ان گندوں میں وہ بھی موجود ہیں جو بالکل پاک و صاف اور صحیح سالم ہیں۔ پہلے ان کی چھانٹی مکمل ہوگی پھر گندے توڑ پھوڑ دیئے جائیں گے اور یقیناً ایسا ہو کر رہے گا لیکن اس وقت جب اس کا وقت آجائے گا۔
Ayah 8:34اچھا لو ، اب وہ وقت آگیا تو ان پر عذاب نازل ہوتے کتنی دیر لگی ؟
46: فرمایا اچھا دیکھو اب جب کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کو ہجرت پر مجبور کردیا اور ان کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت گاہ سے جبراً روکنے لگے تو کوئی وجہ نہیں کہ اب پاداش عمل کی نمود میں تاخیر ہو چناچہ وہ ظاہر ہوا اور قریش مکہ کے جماعتی اقبال کا چاند بھی ساتھ ہی غروب ہوگیا۔ گویا اس طرح دونوں مانع عذاب رفع ہوگئے۔ نہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں رہے اور نہ ہی استغفار کرنے والے لوگ مکہ میں باقی رہ گئے اور عذاب الٰہی کا سلسلہ تو اس وقت شروع ہوگیا جب نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو مکہ والوں کو قحط سالی میں مبتلا کردیا پھر مکہ والے بڑے طمطراق سے مکہ سے نکل کر مدینہ طیبہ پر چڑھائی کرنے کے لئے آئے اور اللہ نے اس مٹھی بھر مسلمانوں سے ان پر عذاب اس طرح نازل کیا جس کی داستانیں آج تک دنیا کے کان سنتے چلتے آرہے ہیں اور رہتی دنیا تک سنتے رہیں گے اور یہ سلسلہ بدستور چھ سال تک جاری ہے اور آہستہ آہستہ عذاب الٰہی نے ان کو پوری طرح لپیٹ میں اس وقت لے لیا جب مکہ فتح ہوگیا اور ان کے معبود ان باطل کو بیت اللہ سے اٹھا کر اندھے اور گندے کنوؤں میں ڈال دیا گیا اور جو لوگ باقی موجود رہے انہوں نے اسلام قبول کر کے اس عذاب الٰہی سے نجات پائی۔ ہاں ! اس آیتت نے یہ باتت بھی پوری طرح واضح کردی کہ جو لوگ متی نہیں وہ عبادت گاہوں کی تولیت کے حق دار بھی نہیں۔
Ayah 8:35ان کی عبادت کیا تھی ؟ بیت اللہ کے پاس تالیاں اور سیٹیاں بجانا :
47: اس آیت نے مکہ والوں کی عبادت گزاری کا سارا قصہ نہ بیان کرنے کے باوجود اس کا سارا نچوڑ نکال کر سامنے رکھ دیا کہ ان کی عبادت کیا تھی ؟ ناچنا ، گانا ، تالیاں اور سیٹیاں بجانا۔ گویا کفر و شرک کی گندگی تو ان میں پہلے ہی موجود تھی لیکن ان کے افعال و اعمال ایسے ہوچکے تھے کہ وہ عام انسانی سطح سے بھی نیچے گر گئے تھے حتیٰ کہ یہ لوگ اپنے جس طریق عبادت کا نام نماز رکھتے تھے وہ وہی تھا جس کو آج کی زبان میں ” چوکی بھرنے “ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ بھی بتادیا کہ مشرک قومیں ہمیشہ سے یہ کرتی آئی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں کہ ان کی عبادت ناچنے گانے ، دھمال مارنے ، کمر میں ٹل باندھنے اور گلے میں گھنگرو لٹکانے کے ساتھ تالیاں بجانے اور سیٹیاں چلانے کے سوا کچھ نہ تھی اور نہ اس وقت اس کے سوا کچھ ہے۔ آج اگر ذرا غور سے آپ دیکھیں گے تو ان حانقاہوں ، درباروں میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ڈھول پیٹے جاتے ہیں ، ناچنے اور گانے والے اور ناچنے گانے والیاں طرح طرح کے ناچ گانے سناتی اور دکھاتی ہیں اور پھر یہ سارے قوال ، بھانڈ اور مراسی جو کچھ کرتے ہیں آج بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور پھر ان کے یہ سارے کام عین عبادت تسلیں ہوتے ہیں فرق ہے تو یہ کہ وہ مشرکین مکہ تھے اور یہ مخلص مسلمان پاک و ہند ہیں اور جن جگہوں پر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے وہ اولیائے کرام (رح) کے مزارات سے معروف ہیں اور ابھی جو کچھ اس سے آگے بڑھ کر بدکاریاں اور بےحیائیاں یہاں ہوتی ہیں ان کا ذکر آپ آئے دن اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک بار پھر غور کرو کہ وہ یعنی مشرکین مکہ کیا کرتے تھے اور آج ہم کیا کر رہے ہیں۔
Ayah 8:36اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے والوں کا حال :
48: زیر نظر آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں اور یہ لوگ آئندہ بھی خرچ کریں گے لیکن پھر ان کے لئے سراسر پچھتاوا ہوگا ( اس لئے کہ وہ مال خرچ کرنے کے باوجود) مغلوب کئے جائیں گے۔ یہ ایک طرف تو ان کی وہ حالت بیان کردی جو اس وقت ان کو درپیش تھی کہ میدان بدر میں ان کو جانی نقصان کے ساتھ مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا اور پھر یہ بھی کہ جو لوگ قید کر لئے گئے تھے ان کا فدیہ دے کر ان کو چھڑوانا پڑا اور آئندہ کے لئے اس آیت میں پیش گوئی بھی فرمادی کہ آئندہ بھی یہ لوگ زد کثیر کؤخرچ کئے گئے مال پر شرمندہ ہوں گے اور افسوس کریں گے اور اس طرح وہ پیاز کھانے کے ساتھ ساتھ جوتے بھی کھاتے رہیں گے اور انجام کار ایک چیز کھانے کی بجائے اپنی بیوقوفی اور بےعقلی کے باعث دونوں کھا جائیں گے۔
تاریخ ہم کو بتاتی ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا تھا وہ فی الحقیقت بالکل اس طرح ہوا کہ بدر کے شکست خواہ ، زخم خواہ بچے کچے مشرکین مکہ جب وہاں سے واپس مکہ پہنچے تو جن لوگوں کے باپ ، بیٹے اور بھائی میدان بدر میں مارے گئے تھے وہ تجارتی قافلہ کے امیر ابو سفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ جنگ تمہارے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے لڑی گئی تھی جس کے نتیجہ میں تمام مالی و جانی نقصانات اٹھانا پڑے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اس مشترک تجارتی کمپنی سے ہماری کچھ مدد کی جائے تاکہ ہم آئندہ مسلمانوں سے اپنا انتقام لے سکیں۔ ابو سفیان نے ان کی بات منظور کر کے ایک بہت بڑی رقم دے دی جس کو انہوں نے غزوہ بدر کے انتقام لینے کے لئے غزوہ احد میں خرچ کیا اور اس میں بھی انجام کار وہ مغلوب ہی ہوئے اور اس طرح شکست کے غم کے ساتھ مال ضائع کرنے کی حسرت ان کے دلوں میں مزید پیدا ہوئی۔
ان کفار کو ہانک کر دوزخ پر لے جایا جائے گا جو ان کی آخری آرام گاہ ہوگی :
49: قرآن کریم نے اس واقعہ سے یاک مدت پہلے یہ پیش گوئی فرمادی تھی اور اس طرح یہ بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کا ایک معجزہ تھا جو من و عن اپنے وقت پر پورا ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کفار نے یہ مال جو خرچ کیا ، کیوں کیا ؟ ظاہر ہے کہ محض اس مقصد کی خاطر کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ سے روکیں اور اسلام کی طرف بڑھنے والوں کا راستہ آگے بڑھ کر روک دیں۔ پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ مال انہوں نے خرچ کردیا اور بےدریغ خرچ کیا لیکن اس کا نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا سوائے اس کے کہ ان کو مال خرچ کرنے کا ایک افسوس دل میں رہ گیا اور اسی حسرت و ندامت میں وہ اس دنیا سے چلے گئے اور قیامت کے روز ان سب کو جہنم میں اکھٹا کردیا جائے گا۔
Ayah 8:37نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ پاک کو ناپاک سے الگ کردیا جائے گا :
50: گزشتہ آیات کریمات کا نتیجہ زیر نظر آیت میں بیان فرمادیا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے جو اموال کفار نے اسلام کے خلاف استعمال کئے اور پھر ان کو حسرت و ندامت ہوئی اور وہ ذلیل و خوار ہوئے اس کا فائدہ کیا رہا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ فرمایا اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اللہ نے ناپاک اور پاک کو الگ الگ کردیا اس طرح خبیث و طیب کا فرق بھی واضح ہوگیا اور خود انسانوں میں اس کی تقسیم سے دونوں طرح کے انسان الگ الگ کر کے رکھ دیئے گئے اور یہ تقسیم قیامت کو واضح دکھائی دے گی۔ فرمایا پھر خبیث کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کردیا جائے گا اور پھر اس پورے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ فیرکمہ کارکم ہے اور اس کے معنی کسی شے کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ رکھ دینے کے ہیں جس سے ایک ڈھیر نظر آنے لگے جس طرح کوڑے کرکٹ کو جلانا ہو تو پہلے اس کا ڈھیر لگایا جاتا ہے اور ادھر ادھر چن کر اور اکھٹا کر کے پھر اس پر آگ لگا دی جاتی ہے اور اس طرح تہ بہ تہ جمع کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح آگ ایک دم بھڑک اٹھتی ہے جس سے گیلا ، سوکھاسب جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور جلنے میں ایک دوسرے کے لئے وہ معاون ثابت ہوتا ہے اور جلانے والے کو بھی پھونکنے کی زحمت گوارا نہیں کرنی پڑتی۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کفار دنیا جس طرح ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی پشت پنا ہی کرتے ہیں اسی طرح جہنم میں بھی ایک دوسرے کو جلانے کے لئے ایک دوسرے کے معاون و مددگار ثابت ہوں گے اور آخر آیت میں فرمایا کہ ” یہی لوگ ہیں جو یکسر تباہ ہوجانے والے ہیں “ اور اصل نامرادی یہی ہے اس لئے کہ دنیا میں ان کا انجام یہ ہوگا کہ یہ اپنے مال برباد کریں گے اور اس پر کف افسوس ملیں گے ، ذلت کے ساتھ شکست کھائیں گے اور آخرت میں یہ ہوگا کہ کوڑے کرکٹ کے انبار کی طرح اکٹھا کر کے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے اور پرانی ” اروڑی “ کی طرح اندر اندر دھکتے رہیں گے۔
Ayah 8:38اے پیغمبر اسلام ! کفار سے کہہ دیجئے کہ باز آجاؤ فائدہ میں رہو گے :
51: یہ قریش کو دعوت استغفار ہے کہ جو چلے گئے وہ چلے گئے اور اپنے انجام کو پہنچ گئے لیکن جو ابھی تک زندگی کے سانس لے رہے ہیں ان سے فرما دیجئے کہ باز آجاؤ ، توبہ و استغفار کرو اور اپنے کئے پر نشرمندہ ہو ، اپنی اصلاح کرلو اس میں تمہاری فلاح و کامیابی ہے اگر تم نے اپنی روش بدل لی اور پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے نظام کو سچے دل سے قبول کرلیا جو شرارتیں اور ظلم اس وقت تک کرچکے اس سے باز آگئے تو یقیناً تم کو معاد کردیا جائے اور اس وقت تک جو کچھ تم نے کیا اس کے عوض میں پکڑے نہیں جاؤ گے۔ اس لئے یہ زندگی تمہارے لئے ایک سنہرتی موقع ہے جب یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل گیا اور پہلوں کی طرح تم بھی زندگی کی گاڑی سے اتار کر موت کی گاڑی پر سوار کرا دیئے گئے تو پھر کف افسوس ملنے سے بھی کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
اور یاد رکھو ” اگر تم پھر لوٹے تو پچھلوں کا طور طریقہ اور اس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے “ آیت کے پہلے حصہ میں گویا ترغیب تھی اور آیت کے اس حصہ میں ترہیب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم باز نہ آئے اور اسی طرح شرارتیں کرتے رہے تو تم بھی اسی سنت الٰہی سے دو چار ہوگے جس سے دوسرے رسلوں کی تکذیب کرنے والے دو چار ہوچکے اور یہ شاید اشارہ ہے عاد ، ثمود ، مدین اور قوم لوط کی طرف جن کا ذکر پوری تفصیل سے پیچھے الاعراف میں آپ پڑھ چکے اور سورة ہود میں مزید پڑھیں گے اور یہ بات قبل ازیں کتنی دفعہ بیان کی گئی ہے کہ جس قوم کی طرف کوئی رسول بھیج دیا جاتا تھا اس پر گویا حجت تمام ہوجاتی تھی اس لئے وہ قوم اگر اپنے کفر پر اڑی رہتی تھی تو اللہ تعالیٰ اس کو لازماً ہلاک کردیتا ہے خواہ وہ قہر الٰہی سے ہلاک ہو یا اہل ایمان کی تلوار سے۔ گویا رسول اتمام حجت کا سبے بڑا اور آخری ذریعہ ہوتا ھا اور اس طرح محمد رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لئے اور رہتی دنیا کے لوگوں کے لئے اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہیں۔
Ayah 8:39مسلمانوں سے خطاب کہ اب جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ دی اللہ کے لئے ہوجائے :
52: مسلمانوں کو کفار سے جہاد جاری رکھنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی اس کی وضاحت بھی فرمادی ہے کہ یہ حکم دیا جا رہا ہے فرمایا اس لئے کہ ایک طرف ” فتنہ “ کا خاتمہ ہوجائے اور دوسرا ” دین “ خالصۃً اللہ کے لئے ہوجائے۔ ” فتنہ “ کیا تھا جس کا باقی رہنا صحیح نہ تھا ؟ فتنہ یہ تھا کہ کفار مسلمانوں پر ظلم کر کے جبراً اسلام سے روکنا چاہتے تھے اور روک رہے تھے۔ فرمایا اب جب جہاد کا حکم عام تم کو دے دیا تو اب یہ جہاد اس وقت تک جاری رہنا ضروری ہے جب تک کفار اپنی اس روش سے باز نہ آجائیں اور اس سر زمین سے اس فتنہ کا استیصال ہوجائے اور آئندہ مسلمانوں کو اس باعث کہ وہ ایمان کیوں لائے کوئی ستا نہ سکے خواہ وہ امیر ہو یا غریب ، آزاد ہو یا غلام۔ دوسری بات یہ ارشادفرمائی کہ ” دین “ تمام تر اللہ کا ہوجائے یعنی حرم میں اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہے۔ ” دین “ سے اس جگہ دین اسلام مراد نہیں بلکہ ” دین “ سے مراد بالادستی ، قوت اور اقتدار ہے۔ الدین القھر والغلبۃ والا ستعلاء والسلطان (قاموس) مطلب یہ ہے کہ تم جنگ جاری رکھو تاکہ حکومت و فرمانروائی اللہ تعالیٰ کی ہوجائے۔ عدل و انصاف اور حریت مساوات کا دور دورہ ہو اور کسی پر بےجا تشدید اور زیادیتی کر کے اس کو اس کے عقائد سے روکا نہ جاسکے۔ کوئی شخص اگر کفر پر قائم رہنا چاہتا ہے تو رہے لیکن دوسروں کو کفر پر رہنے کے لئے مجبور نہ کرسکے۔ ہاں ! پھر سن لیجئے کہ اس ” الدین “ سے ملت اسلام یا اس کا نظام عبادت مراد ہیں لئے جاسکتے اور نہ ہی لئے گئے ہیں اور مزید وصاہت اس کی آگے آئے گی۔
Ayah 8:40اگر وہ باز آجائیں یعنی ظلم و زیادتی نہ کریں تو ان کا معاملہ اللہ کے پاس ہے :
53: اس فقرہ میں مزید وضاحت فرمادی کہ تم کو جو جنت جاری رکھنے کا حکم دیا ہے تو اس کا مطلب بھی تم کو بتا دیا کہ اسلام اگر یہ نہیں چاہتا کہ اس پر کوئی زیادتی کرے تو یقیناً وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ کسی دوسرے پر وہ خود زیادتی کرنا شروع کردے اسلام تو صلح و آشتی کا دین ہے اگر کوئی برابری کے طور پر رہنا چاہے تو وہ قطعاً کسی پر ظلم و زیادہتی کر کے اپنا آپ منوانا نہیں چاہتا اس نے تو پہلے ہی روز سے یہ اعلان کردیا تھا کہ دین میں تنگی نہیں ہے اور کسی کو مجبور رشد و ہدایت کی راہ بتانا چاہتا ہے ماننا اور تسلیم کرنا لوگوں کی اپنی مرضی پر ہے وہ چاہیں تسلیم کریں اور چاہیں بالکل نہ مانیں وہ کبھی دھونس اور دھاندلی سے منوانا نہیں چاہتا بلکہ اس کے خلاف تو اس نے ” علم “ کھڑا کیا ہے کہ یہ زیادتی ہے۔ پھر وہ خود کسی پر آخر زیادتی کیوں کرے گا ؟
اس لئے فرمایا کہ اگر وہ باز آجائیں یعنی ظلم و زیادتی نہ کرنے کا معائدہ کرلیں تو ان کے خلاف جہاد بند کردو رہی یہ بات کہ تم یہ خیال کرو کہ انہوں نے یہ معاہدہ صرف اس لئے کیا ہے کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ اگر جنگ جاری رہی تو ہم نقصان میں رہیں گے اب جب پھر ان میں طاقت آئے گی تو وہ سر نکالیں گے گویا ان کی جنگی چال ہے اس شبہ کا مسلمانوں کو جواب دے دیا گیا کہ تم صرف ظاہری حالات کے مطابق ہی عمل کرسکتے ہو یہ دلوں کو دیکھنے والا اور ان کے اور سب کے مخفی رازوں سے واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لئے جب وہ صلح کی طرف قدم اٹھائیں تو تم بھی اٹھاؤ اگر وہ خلاف ورزی کریں گے تو وہ اللہ جس نے تم کو اس وقت ان پر غلبہ دیا ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں وہ دوسری بار بھی تم کو ان پر غلبہ دے سکتا ہے اس لئے مسلمانوں کو ایسے خطرات و خیالات پر اپنے معاملات کی بنیاد نہیں رکھنی چاہئے۔
Ayah 8:41مال غنیمت کے متعلق فیصلہ الٰہی یہ ہے کہ پانچواں حصہ مکمل بیت المال میں جائے گا :
54: اس سورة الانفال کے شروع میں صرف اتنی بات ارشاد فرمائی تھی یعنی غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے جس کا مطلب یہ تفہیم کرایا تھا ہک اس کی تقسیم تمہاری مرضیغ یا اسلام سے پہلے کے رسم و رواج کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہوگی اور اللہ کا رسول اللہ کے حکم سے جس طرح چاہے گا اس کو تقسیم کردے گا اور غزوہ بدر میں حاصل شدہ غنیمتوں کو سارے غازیوں کے درمیان برابر تقسیم فرما دیا گیا اور اس کی مزید وضاحت نہ فرمائی چونکہ اب جہاد کا حکم آجانے کے بعد اس کے جاری رکھنے کا حکم تھا سوائے اس کے کہ جب فتنہ دب جائے یا فرد ہوجائے تو جہاد روک لو اور جب فتنہ سر نکالے تو اس کا سر کچلنے کے لئے تیار ہوجاؤ اس لئے اب مال غنیمت کا باقاعدہ قانون بنا کر اس کا اعلان کردیا اور وہ قانون یہ تھا کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ الگ کرلیا جائے یعنی پہلے پہلے کل مال جمع ہو اور پھر اس کے پانچ حصے کر کے ایک حصہ الگ کر کے اللہ اور اس کے رسول کے لیے جمع کردیا جائے اور چار حصے غازیوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے اور پھر سنت نے ہم کو یہ سمجھا دیا کہ پیادہ پاکو ایک حصہ اور سوار کو تین حصے ملیں گے اور بعض حالات میں سوار کو دو حصے ملیں گے۔ تفصیلات اس کی بہت لمبی ہیں اور اس وقت اس بحث کے اٹھانے کی ضرورت نہیں رہی۔
باقی رہا مال کا پانچواں حصہ جس کو اللہ اور اس کے رسول کے لئے رکھا گیا ہے اس کی تقسیم یک تفصیل خود قران کریم نے کردی کہ وہ اللہ کے لئے ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صوابدید کے مطابق خرچ ہوگا۔ آپ کی اپنی ذات اور آپ ﷺ کے اہل و عیال پر خرچ ہوگا۔ آپ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں یعیآ بنی ہاشم کے لیے ، یتامیٰ کے لئے ، مساکین کے لئے اور مسافروں کے لئے اور امام وقت کی ذمہ داری ہے کہ اس میں کمی بیشی کرے اور جہاں جتنا چاہے اس کو خرچ کرے۔ اس کی تفصیلات بھی بہت لمبی ہیں اور اس کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس وقت اس بحث میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی وسعت کے پیش نظر مقنّنہ اسلامی کا کام ہے کہ وہ اس کے مصرف کے لئے انہی اصولوں کے تحت اس کی تقسیم کرادے۔
ہاں ! یہ بات یاد رہے کہ یہ جو اصول اس کے مصرف کے مقرر کردیئے گئے ہیں ان میں کمی بیشی یا ان کو بالکل ختم کر کے نئے اصول وضع نہیں کئے جاسکتے اس لئے کہ اگر یہ راہ کھول دی جائے تو پھر مشککین اسلام کو کچھ سے کچھ بنا کر رکھ دیں گے اور اسلام کے لئے جو اصول مقرر کئے گئے ہیں ان میں ہر زمانہ اور سارے حالات کی رعایت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بدلنے کی ضرورت ہو یہ سارے قوانین اس احکم الحاکمین کے تیار کردہ ہیں جو عالم الغیب ہے اور دنیا میں جو چکھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ابھی ہوگا وہ سب کے مطلع ہے کوئی چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام کے قانون ایسے نہیں ہیں جو کسی وقت کا ساتھ دیں اور کسی کا نہ دے سکیں۔ آپ بلامبالغہ کسی اسلامی اصول کو لے کر اس نہج پر اس کا مطالعہ کریں اور جتنی چاہیں تنقید کریں اور جو چاہیں اعتراض کریں ایک ایک کا جواب آپ کو ملے گا اور یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگی اسلام کے اصول کسی انسان کے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔ ہاں ! یہ دوسری بات ہے کہ کوئی بات آپ اصول اسلام میں سمجھ رہے ہوں اور وہ اصول اسلام نہ ہو بلکہ کسی اصول کی کوئی فرع ہو یہ دوسری بات ہے اور غنیمت میں خیانت نہ کرو کیونکہ یہ دنیا میں بھی باعث رسوائی ہے اور عقبیٰ میں بھی موجب عذاب جب ان صحرا نشینوں کے لئے کسریٰ کے مقرابیض نے اپنے دروازے کھول دیئے اور اپنے قیمتی نوار دات اور تاریخی عجائبات کو ان کے قدموں میں ڈھیر کردیا تو اس وقت بھی ایک مورخ کی نگاہ ان کا تعاقب کررہی تھی۔ ہرچیز دل لبھانے والی ، آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ، بڑی بڑی صابر طبیعتوں کو للچا دینے والی لیکن کیا مجال کہ ایسے وقت بھی غازیان اسلام کے دلوں تک خیانت کا حیال تک آیا ہو۔ ہر ایک چیز بڑی احتیاط سے اکھٹی کی گئی اور وہاں سے بارگاہ خلافت میں لائی گئی اور اس بیشمار قیمتی سامان میں ایک پائی کی بددیانتی بھی کسی مورخ کو نظر نہ آسکی۔ یہ قرآن کریم کی تعلیمات کا اثر تھا اور یہ تربیت پیغمبر ﷺ کی برکت تھی اور یہی وہ اخلاق کی بلندی اور سیرت کی پختگی اور دیانت و ذمہ داری کا قوی احساس تھا جس نے عرب کے ان ان پڑھ بدوؤں کو دنیا کا امام بنادیا۔ کاش کہ آج بھی یہ فرزندان خلیل اپنے بلند مقام سے آگاہ ہوجائیں۔ کاش کہ دنیا ایک بار پھر ان فرزندان توحید کی امانت و دیانت کو دیکھ سکے۔ کاش کہ حسن قوانین اسلام کو ہماری آنکھیں ایک بار دیکھ سکیں۔ کاش کہ یہ فرنگی چالیں ہمارے ایوانوں اور دیوانوں کا پیچھا چھوڑ دیں۔ کاش کہ کوئی امین قوم آج بھی اس قوم مسلم کو قرآنی قوانین سے روشناس کرادے۔
اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہو تو غزوہ بدر کے دن اتاری گئی ہدایت کی پیروی کرو :
55: غزوہ بدر کو اس آیت میں یَوْمَ الْفُرْقَانِ اوریَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ 1ؕ دو ناموں سے یاد کیا گیا ” فرقان “ کا مفہوم پیچھے آپ بڑی تفصیل کے ساتتھ پڑھ چکے چونکہ کفر و اسلام کے درمیان الواقع یہ دن فیصلے دن ثابت ہوا اور کفر و اسلام کی واضح حدود اور واضح فرق لوگوں کی آنکھوں نے مشاہدہ کیا اور صحیح معنوں میں کفر و اسلام دو متضاد ازم ایک دوسرے کے مقابلہ میں آئے۔ حق اور باطل ہر لحاظ سے کھل گیا اس لئے اس دن کا نام ہییَوْمَ الْفُرْقَانِ رکھ دیا گیا اور چونکہ یہی وہ پہلا دن تھا جب دو لشکر آپس میں باقاعدہ مقابل ہوئے ت تھے یعنی لشکر اسلام اور لشکر مشرکین اس لئے اس کو یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ 1ؕ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا اس لئے کہ یہی وہ دن ہے جس دن شکوک و شبہات کے سارے بادل چھٹ گئے اور حق اپنی ساری تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوگیا اور رہتی دنیا تک اس دن کی یاد مسلمانوں کے دلوں میں پیوست کردی گئی۔ زیر نظر آیت میں ایک دفعہ مجموعی حیثیت سے نگاہ ڈالو تو تم کو معلوم ہوگا کہ اس آیت اور اس جیسی اور بہت سی آیات کریمات واضح کر رہی ہیں کہ قرآن کریم کے نزدیک حکومت (اسٹیٹ) یتیموں ، مسکینوں اور مصیبت زدوں کی خبر گیری کے لئے ذمہ دار ہے اور حکومت کے خزانہ کا ایک لازمی مصرف قوم ایسے سارے افراد کی اعانت ہے۔ یہ قانون دنیا کو کس نے دیا ؟ بلاشبہ اسلام نے دیا اور آج اس قانون کو بحیثیت قانون نافذ کس نے کیا ؟ جن کے پاس پاس اپنا کوئی قانون نہیں تھا اور انہوں نے اسلام سے یہ مستعار لیا اور آج وہ اس کے مالک بن کر اسلام پر پھبتیاں کستے ہیں لیکن افسوس کہ مسلمانوں کو ذرا شرم نہیں آتی کہ ہم کیا تھے اور کیا ہو کر رہ گئے ؟