37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 37:103–106

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب دونوں (باپ بیٹے) تعمیل حکم (الٰہی) پر آمادہ ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل (زمین پر) گرا دیا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

(تو ہماری رحمت جوش میں آئی) اور ہم نے آواز دی، '' اے ابراہیم

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

واقعی تو نے خواب سچ کر دکھایا (اب ہم تجھے بڑے بڑے مراتب دیں گے اور) نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،''

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

حقیقت میں یہ تھی بھی ایک کھلی ہوئی آزمائش۔

[21] تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے نہ ہو، مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ نیچے سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔
Ayahs 37:107–112

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑی قربانی اس (بچے) کے بدلے میں دے دی۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور (ابراہیم کے بعد) آنے والی امتوں میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ (سارے جہان میں ہر طرف سے) سلام ہے ابراہیم پر۔

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو (ایک دوسرے فرزند) اسحاق نبی کی خوشخبری دی جو نیک بندوں میں سے ہوگا

[22] حدیث میں آتا ہے کہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا گیا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے فدیے میں ذبح فرمایا۔ اسے بڑی قربانی اس لئے فرمایا کہ قربانی کی یہ رسم اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے قائم کردی۔
Ayahs 37:113–122

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر (اپنی) برکتیں نازل فرمائیں اور (اب) ان دونوں کی نسل میں (بعض) نیکوکار ہیں اور (بعض نافرمانیاں کر کے) اپنی جانوں پر صریح ظلم کر رہے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے موسیٰ اور ہارون پر (بھی بہت سے) احسانات کئے

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ان دونوں کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی۔

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور (فرعون کے مقابلے میں) ان کی مدد کی تو (آخرکار) یہی لوگ غالب رہے۔

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ان دونوں کو صحیح واضح کتاب (تورات) عطا کی۔

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ان دونوں کو (دین کا) سیدھا راستہ دکھایا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور (ان کے بعد) آنے والی امتوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ (سارے جہان میں ہر طرف سے) سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بیشک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

بلاشبہ وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

[23] یعنی اسماعیل (علیہ السلام) پر۔ [24] اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش مکہ تھے جو اپنے وقت میں تمام عرب کے پیشوا اور سردار تھے۔ دوسری طرف اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے بنی اسرائیل ہوئے جن سے دنیا کے دو بڑے مذاہب یہودیت اور نصرانیت نکلے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے بنی اسماعیل (یعنی قریش) اور بنی اسرائیل (یعنی یہود) کو یاد دلانا ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس لئے نوازا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنی وفاداری و اخلاص کے ثبوت دئیے تھے۔ اب بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل محض اس فخر کی بناء پر کہ وہ ان کی اولاد ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایت کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ اللہ کو تو یہ دیکھنا ہے کہ ان میں نیکوکار کون ہیں اور ظالم کون۔ پھر جو جیسا ہوگا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا۔
Ayahs 37:123–124

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور بلاشبہ الیاس (بھی) پیغمبروں میں سے تھا۔

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

(اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے کہا، '' کیا تم لوگ (اللہ سے) نہیں ڈرتے ؟

[25] مشہور اسرائیلی نبی۔ تورات میں ان کا نام ایلیا آیا ہے۔
Ayahs 37:125–129

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور ( اللہ) احسن الخالقین کو چھوڑ بیٹھے ہو،

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

(اس) اللہ کو جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے اسے جھٹلایا سو یہ لوگ (قیامت میں) ضرور گرفتار (عذاب) ہوں گے۔

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں (وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے) ۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ہم نے (الیاس کے بعد) آنے والی امتوں میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا۔

[26] قوم کے سب سے بڑے بت کا نام تھا۔ [27] احسن الخالقین کے معنی ہیں سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔
Ayahs 37:130–134

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

(کہ سارے جہان میں ہر طرف سے) سلام ہے الیاسین پر۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

بیشک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور بلاشبہ لوط بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

(اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی تھی

[28] الیاس کو ال یاسین بھی کہتے ہیں جیسے طور سینا کو طور سینین کہہ دیا جاتا ہے۔
Ayahs 37:135–136

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

بجز ایک بڑھیا کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر (ان کے نکل جانے کے بعد) ہم نے اوروں کو ہلاک کر مارا

[29] یعنی لوط (علیہ السلام) کی نافرمان بیوی جو اپنی قوم کے ساتھ پیچھے رہ گئی اور مبتلائے عذاب ہوئی۔
Ayahs 37:137–140

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم لوگ تو صبح ہوتے ان (کی اجڑی ہوئی بستیوں) پر سے گزرا کرتے ہو۔

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی، کیا تم لوگ عقل سے (اتنا بھی) کام نہیں لیتے (کہ ان کو دیکھ کر عبرت پکڑو) ؟

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بلاشبہ یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

(اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچا۔

[30] خطاب اہل مکہ سے ہے جن کے تجارتی قافلے شام و فلسطین جاتے ہوئے قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے تھے۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر وہ قرعہ اندازی میں شریک ہوا تو مجرم قرار پایا (اور آخرکار دریا میں پھینک دیا گیا)

[31] یونس (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔ آپ اہل نینوا کی طرف بھیجے گئے تھے۔ آپ نے اپنی نافرمان اور سرکش قوم کو بہ حکم الٰہی عذاب کی خبر سنائی اور اس کے بعد اسی توقع پر شہر چھوڑ کر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی الگ اجازت کی ضرورت نہ سمجھی۔ قوم میں ابھی کچھ سمجھ باقی تھی۔ عذاب کے ابتدائی آثار دیکھ کر لوگ ڈر گئے اور توبہ و استغفار اور گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے۔ اس پر عذاب ٹل گیا۔ اسی اثناء میں یونس (علیہ السلام) بحری سفر پر روانہ ہوگئے اور اس کے لئے بھی اجازت الٰہی کے انتظار کی ضرورت نہ سمجھی۔ کشتی دریا میں چکر کھانے لگی۔ ملاحوں نے کہا کہ کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہوجائے گا۔ چناچہ قرعہ ڈالا گیا تو آپ کے نام نکلا اور آپ دریا میں پھینک دئیے گئے۔ کیونکہ اس زمانے میں یہ عقیدہ تھا کہ اگر بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہو تو کشتی خطرے میں پڑجاتی ہے اور اس کا علاج یہ تھا کہ اس شخص کو غرق کردیا جائے۔