37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 37:63–78

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کو (ان) ظالموں کے لئے (موجب) آزمائش بنایا ہے۔

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ میں (سے) اگتا ہے۔

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے پھل ایسے (بدنما) ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

تو یہ (دوزخی) اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس کے اوپر سے ان کو کھولتا ہوا پانی (پیپ وغیرہ) ملا کر (پینے کو) دیا جائے گا۔

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر (یہ سب کچھ کھا پی کر) ان کو جہنم کی طرف لوٹنا ہوگا۔

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

پس وہ انہی کے نقش قدم پر دوڑ تے رہے

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور تحقیق ان سے پہلے اکثر لوگ گمراہ ہوچکے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ان میں بھی ہم نے (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والے (پیغمبر) بھیجے تھے۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) دیکھ لو ان خبردار کئے جانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

مگر ہاں جو اللہ کے مخلص بندے تھے (وہ عذاب سے محفوظ رہے) ۔

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) نوح نے بھی (مدد کے لئے) ہمیں پکارا تھا (تو ہم نے اس کی فریاد سن لی اور) ہم (کیسے) اچھے فریاد رس ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور اس کی نسل کو ہم نے باقی رہنے دیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور (اس کے بعد) آنے والوں میں اس کا ذکر خیرباقی رکھا

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔
Ayahs 37:79–87

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

کہ سارے جہان میں (ہر طرف سے) سلام ہے نوح پر۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

بیشکہم نیکوکاروں کو (ایسا ہی) صلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بلاشبہ نوح ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر اوروں کو ہم نے غرق کردیا۔

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور بیشک اس (نوح) کے طریق پر چلنے والوں میں سے ایک ابراہیم بھی تھا۔

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے رب کی طرف قلب سلیم کے ساتھ متوجہ ہوا

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

(اور) جب اس نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم کن (واہیات) چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو ؟

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

آخر تم نے تمام جہانوں کے پروردگار (فرمانروا حاکم) کو کیا سمجھ رکھا ہے ؟

[15] چناچہ ملائکہ اور مومنین ان پر سلام بھیجتے ہیں اور وہ نوح (علیہ السلام) کہہ کر یاد کئے جاتے ہیں۔
Ayah 37:88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر اس نے ستاروں پر ایک نگاہ ڈالی

[16] ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم میں نجوم کا زور تھا۔ فال وغیرہ کے کتنے ہی احکام ستاروں ہی سے لیا کرتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے نظر آسمان کی طرف اٹھائی تو وہ لوگ یہ سمجھے یہ کہ ستاروں کی مدد سے اپنا مستقبل دریافت کر رہے ہیں۔
Ayah 37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

تو اس نے کہا بیشک میں بیمار ہوں۔

[17] یہاں ایک مشہور سوال یہ چلا آ رہا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو مریض نہ تھے پھر کیسے اپنے آپ کو مریض ظاہر کردیا ؟ لیکن ایک سوال نفس سوال ہی پر پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا مریض نہ ہونا کہاں سے فرض کرلیا گیا۔ نہ قرآن میں نہ کسی معتبر روایت میں اس کا ذکر ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ کی طبیعت ناساز رہی ہوگی اور اس کا اظہار آپ نے کردیا۔ جہاں تک ستاروں پر نظر کرنے کا تعلق ہے وہ اس مصلحت سے تھا کہ لوگوں کو مزید سوالات کا موقع نہ رہے۔
Ayahs 37:90–97

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

چناچہ وہ (لوگ) اسے چھوڑ کر چلے گئے،

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

تو وہ ان کے بتوں (کے مندر) میں جا گھسا پھر (ان کا مذاق اڑاتے ہوئے) کہا، '' (اتنے چڑھاوے تم لوگوں کے سامنے رکھے ہیں پھر ان کو) تم کھاتے (کیوں) نہیں ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا ہوگیا تم کو کہ بولتے (بھی) نہیں ؟ ''

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر تو وہ دائیں ہاتھ سے (پوری قوت سے) ان پر پل پڑا۔ (اور ان کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا) ۔

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

(جب لوگوں کو خبر ہوئی) تو بھاگے بھاگے ابراہیم کے پاس آئے۔

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا، '' کیا تم لوگ ان چیزوں کو پوجتے ہو جنہیں تم (خود) تراشتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ تم کو اور جو کچھ تم بناتے ہو (سب کو) اللہ ہی نے پیدا کیا ؟ ''

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

(یہ سن کر وہ لوگ آپس میں) کہنے لگے کہ ابراہیم کے لئے ایک آتش کدہ تعمیر کرو (اور اس میں آگ دہکاؤ، ) پھر اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو ۔

[18] اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلے کا وقت آگیا ہے اور لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم عقیدہ سمجھ کر ان کے ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) عذر کر رہے ہیں۔ یہ بیان اسی موقع کا ہے۔
Ayahs 37:98–100

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

غرض انہوں نے ابراہیم کے خلاف ایک (سخت) کارروائی کرنی چاہی تھی مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا۔

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور (آگ سے صحیح و سلامت نکل آنے کے بعد ابراہیم نے ملک سے نکل جانے کا فیصلہ کیا تو) کہا، '' میں اپنے رب کی (راہ میں کسی) طرف (کو) چلا جاتا ہوں۔ وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا ''۔

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

(اور اس نے دعا مانگی، ) '' اے میرے رب، مجھے (بیٹا) عطا فرما (جو) صالحوں میں سے (ہو)

[19] یہ قصہ سورة انبیاء آیت 52 تا 73 صفحہ 750، 752 میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 37:101–102

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی بشارت دی۔

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے (کی عمر) کو پہنچ گیا تو ابراہیم نے (اس سے) کہا، '' بیٹا، میں خواب میں (کیا) دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو اب بتا تیری کیا رائے ہے ؟ '' وہ بولا، '' ابا جان، آپ کو جو کچھ حکم ہوا ہے (بےتامل) اس کی تعمیل کیجئے، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ''۔

[20] مراد ہیں اسماعیل علیہ السلام۔