37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 37:28–48

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(تابعین اپنے پیشواؤں سے) کہیں گے کہ تم ہماری طرف سیدھے رخ سے آتے تھے۔

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے، نہیں بلکہ تم خود ہی ایمان نہ لائے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور تم پر ہمارا کوئی زور تو تھا نہیں، تم خود ہی سرکش لوگ تھے۔

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

پس ہمارے رب کی یہ بات ہم پر ثابت ہوگئی کہ ہم سب کو (عذاب کا) مزا چکھنا ہے۔

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم خود بہکے ہوئے تھے سو ہم نے تم کو بھی بہکایا۔

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

الغرض اس دن وہ (سب کے سب) شریک عذاب ہوں گے۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

بیشک مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی (برتاؤ) کیا کرتے ہیں۔

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ ایسے (سرکش) تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ اکڑ بیٹھتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑ دیں ؟

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

(حالانکہ پیغمبر نہ دیوانہ تھا نہ شاعر) بلکہ وہ (دین) حق لے کر آیا تھا اور اس نے (اگلے) پیغمبروں کی تصدیق کی تھی۔

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک (اب ان سے کہا جائے گا کہ) تمہیں لازماً عذاب دردناک (کا مزا) چکھنا ہے۔

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے چیدہ بندے ایسے (خوش نصیب) ہوں گے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

کہ (اللہ کے کرم سے) ان کی روزی مقرر ہوگی

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) لذیذ چیزیں (اور) وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت بھری جنتوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

وہ تختوں پر آمنے سامنے (بیٹھے) ہوں گے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

ان میں دور چل رہا ہوگا شراب صاف کا۔

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

سفید رنگ کی مزہ دینے والی پینے والوں کو۔

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ تو اس میں خمار ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا۔

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ والیاں اور خوبصورت آنکھوں والیاں (حوریں) ہوں گی

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔
Ayahs 37:49–57

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر یہ (جنتی) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ (دنیا میں) ایک میرا ساتھی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

(اور وہ مجھ سے تعجب سے) پوچھا کرتا تھا کہ کیا تو بھی (قیامت کے) معتقدین میں سے ہے ؟

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا واقعی جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے تو (ہم دوبارہ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے اور) ہمیں جزا (وسزا) دی جائے گی ؟

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

(وہ) کہے گا '' کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ ''

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

سو وہ (شخص) جھانکے گا تو اسے جہنم کے بیچوں بیچ دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

(اور اسے اس حال میں دیکھ کر) بول اٹھے گا، '' اللہ کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کردینے والا تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے رب کا فضل (میرے شامل حال) نہ ہوتا تو (آج) میں ان ہی لوگوں میں ہوتا جو گرفتار (عذاب ہیں)

[11] آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37 ۔ الصافات :49) (گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں) کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے نیچے ہوتی ہے۔
Ayahs 37:58–61

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

اچھا تو ہم (اب) نہ مریں گے

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

بجز پہلی بار مر چکنے کے بعد اور نہ ہمیں عذاب ہوگا !''

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک بہت بڑی کامیابی یہی ہے۔

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے۔

[12] یہاں سے آیت 59 کے آخر تک یہ سب کچھ جوش مسرت میں اس جنتی کی زبان پر آجائے گا اور اس کی حالت اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے آپ کو ہر توقع اور ہر اندازے سے برتر حالت میں پاکر انتہائی حیرت واستعجاب اور فرط مسرت کے ساتھ آپ ہی آپ بول رہا ہو۔
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا (اللہ کی طرف سے بندوں کی) یہ ضیافت بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟

[13] زقوم ایک درخت ہے جو عرب میں اپنی تلخی کے لئے مشہور تھا۔ فارسی میں اسے حنظل اور اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ یہ دوزخ میں آگ سے پیدا ہوگا اور کسی طرح بھی انسانی غذا کے قابل نہ ہوگا۔