7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsسراج البیان

Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

تو کہہ میں اپنی جان کے بھلے یا برے کا مالک نہیں ہوں ‘ لیکن جو کچھ اللہ چاہے ‘ اور اگر میں (ف 2) ۔ غیب کی بات جانتا ، تو بہت سی خوبیاں جمع کرلیتا ، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی ، میں تو مومنوں کو صرف ڈرانے اور خوشی سنانے والا ہوں ۔

(ف 2) نبی کا کام کہانت یا پیش خبری نہیں ، وہ رشد وہدایت کے لئے آتا ہے ، یعنی اس لئے کہ نیک اور ابرار کو جنات ونعیم کو خوشخبری سنائے ، اور وہ جو بدعمل اور بدکردار ہیں انہیں جہنم کی آگ سے ڈرائے ، غیب کا علم صرف ذات بےہمت کو ہے ، عالم غیب کی باتیں بجز علیم وخبیر خدا کے اور کوئی نہیں جانتا ۔ اس آیت میں حضور ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے بتلایا گیا ہے کہ میں نفع ونقصان کا مالک نہیں ، یہ چیزیں اللہ کے اختیار میں ہیں ۔ میں اگر غیب کے لا تعداد خزانوں سے آگاہ ہوتا ، تو مجھے تکلیفیں کیوں سہنا پڑتیں ، بدروحنین کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ، دندان مبارک کیوں شہید ہوتے ، حرم محترم پر کھلے حملے کیوں کئے جاتے ، اور ایسا کیوں ہوتا ، کہ واسا کرب وبلا میں تڑپ تڑپ کر جام شہادت نوش کرتے ، اور مجھے علم نہ ہو ، یہ باتیں اس لئے ہوئیں ، کہ مستقبل کی خبریں اللہ ہی جانتا ہے ، اور اسی میں مصلحت ہے ، انسان اگر اس محدود عقل کی بنا پر بعض ہونے والے واقعات کو قبل از وقت جان لے تو اس کے لئے دنیا میں جینا مشکل ہوجائے بعض اوقات نہ جاننا بھی اللہ کی نعمتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ حل لغات : مرسہا : قیام ، حفی : واقف وآگاہ ۔
Ayahs 7:189–197

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، وہ اس سے اس کے جوڑے کو نکالا ‘ تاکہ وہ اس سے آرام پکڑے ، پھر جب اس نے اس (عورت) کو ڈھانکا ، تو وہ حاملہ ہوئی ، (اولا) حمل کا بوجھ ہلکا تھا ، پھر وہ اسے لئے پھری ‘ پھر جب بوجھل ہوگئی تو دونوں نے اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں نیک (فرزند) بخش دے گا تو ہم شکر گزار ہوں گے (ف 1) ۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پھر جب اس نے انہیں نیک فرزند بخشا ، تو دونوں نے اس دئیے ہوئے میں اللہ کا کے لئے شریک ٹھہرائے سو اللہ ان کے شریک بنانے سے بالاتر ہے ۔

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا ان کو شریک ٹھہراتے ہیں ، جو پیدا نہیں کرسکتے کچھ بھی ، بلکہ آپ مخلوق ہیں ۔

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور وہ نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف پکارو ، تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں ، تمہارے لئے برابر ہے کہ تم انہیں پکارو ، یا چپکے رہو ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

خدا کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو ، وہ تمہاری مانند بندے ہیں ، سو اگر تم سچے ہو ، تو انہیں اس حال میں پکارو جب وہ تمہیں جواب دے سکیں ۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان (بتوں) کے پیر ہیں کہ ان سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں ، یا ان کی آنکھیں ہیں ، جن سے دیکھیں ، یا ان کے کان ہیں ، جن سے وہ سنیں تو کہہ کہ تم کہ تم اپنے شریکوں کو بلاؤ پھر مجھ سے مکر کرو اور مجھے کچھ فرصت نہ دو ۔

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا کارساز وہ اللہ ہے ، جس نے کتاب نازل کی اور وہی نیکوں کا حمایتی ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، وہ نہ تمہاری ہی مدد کرسکتے ہیں ، اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں ۔

(ف 1) عام مفسرین نے یہاں یہ قصہ بیان کیا ہے کہ حواء جب حاملہ ہوئیں ، تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا جانتی ہو ، اب کیا ہوگا ، تیرے پیٹ سے جانور پیدا ہوگا ، اور خدا جانے کس تکلیف کے انداز میں پیدا ہو ، یا انسانی بچہ پیدا ہو تو ناقص ہو ، میں اللہ کا مقرب ہوں ، اگر میری مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھو ، تو کوئی اندیشہ نہیں ، حواء اس پر راضی ہوگئیں ، اور بچے کا نام عبدالحارث رکھا ، جو شیطان کا نام ہے ، یہ آیت اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، مگر یہ واقعہ حقیقت درست نہیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا کا پیغمبر دوبارہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ، حالانکہ مرد مومن بھی دو دفعہ دھوکا نہیں کھاتا ، ” المؤمن لا یلدغ من حجرواحد مرتین “۔ نیز اس واقعہ کے صاف صاف معنی یہ ہیں کیا انبیاء بھی شرکیہ افعال کے مرتکب ہو سکتے ہیں ، دیکھئے قرآن نے میاں بیوی دونوں کو برابر کا مجرم قرار دیا ہے ، (آیت) ” جعلالہ شرکائ “۔ حالانکہ یہ منصب نبوت کے منافی ہے ، ہو سکتا ہے ، کہ اجتہاد وفہم میں تسامح سرزد ہو ، مگر توحید جیسی تین حقیقت میں اشتباہ ناممکن ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ یہاں آدم وحواء کا ذکر ہی سرے سے موجود نہیں ، عام انسانوں کا ذکر ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں دیکھو ہم نے تمہیں ایک ہی نفس ونوعیت سے پیدا کیا ہے مگر تم ہو کہ تخلیق اولاد کو دوسروں کی جانب منسوب کرتے ہو ، اس حقیقت کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا ہے ، یعنی بتایایہ ہے کہ شرک کرتے وقت انسانی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ عورت جب محسوس کرتی ہے کہ پاؤں بھاری ہیں ، تو خوشی خوشی کام کاج میں مصروف نظر آتی ہے اور اس بوجھ کو لادے لادے پھرتی ہے ۔ (آیت) ” فلما اثقلت “۔ جب یہ جانتی ہے کہ اب ولادت کا وقت قریب ہے تو اس وقت اس کے دل میں خطرہ پیدا ہوتا ہے ، جانے بچہ کس قسم کا پیدا ہو تندرست ہو یا بیمار ، پھر خوف وہراس دور ہوتا ہے ، اللہ کرم کرتے ہیں بچہ تندرست پیدا ہوتا ہے ، اس وقت میاں بیوی دونوں کہتے ہیں کہ یہ سب ” میراں “ کی بخشش ہے ، ” خواجہ “ کی نوازش ہے ۔ ” بڑے پیر “ کی مہربانی ہے حالانکہ ان میں سے کسی بزرگ کو بھی تخلیق وتولید میں کوئی دخل نہیں ۔ (آیت) ” فلما تغشہا “۔ سے لے کر جعلا لہ “۔ تک تمام ماضی کے صیغے مستقبل کے معنوں میں ہیں ۔ حل لغات : تغشی : تغشی سے ماضی کا صیغہ ہے چھا جانے کے معنوں میں ۔ صالحا : چنگا بھلا ، نیکو کار ۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں راہ کی طرف پکارو ، تو وہ سنتے نہیں ، اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ان بتوں کو دیکھتا ہے گویا وہ تیری طرف تاک رہے ہیں (ف 1) ۔ حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے ۔

(ف 1) اس سے قبل بتوں کا ذکر ہے کہ ان میں کوئی خصوصیت نہیں وہ بھی تمہاری طرح عبودیت وتذلل کی زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں اور پھر اس درجہ بےبس ہیں کہ چل پھر نہیں سکتے ، نہ ہاتھوں سے چھو سکتے ہیں اور نہ کان ہیں کہ سن کسیں ، اس کے بعد بت پرستوں سے کہا کہ تم ان کو مقابلے کے لئے آمادہ کرو ، اور دیکھو ، اللہ کی دوستی اور حمایت کس طرح روئے کار آتی ہے ، اس کے بعد کی آیات میں تعریض ہے کہ بتوں سے نصرت کی توقع نہیں ہو سکتی ، وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ تمہاری اس کے بعد خطاب مشرکین سے ہے کہ اگر ان کو ہدایت کی طرف دعوت دی جائے ، تو غور وفکر کی غرض سے کان نہیں دھرتے ، باوجود ان حقائق کے بتوں کی بیچارگی اور بےبسی کے پھر بھی عقیدتمند ہیں ۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

معافی کی خو پکڑ ، اور نیک باتوں کا حکم دے اور نادانوں سے منہ موڑ (ف 2) ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ ان مشرکین کے طعن وتشنیع سے درگزر فرمائیں ، ان کی زیادتیوں پر توجہ نہ دیں اور اپنا کام وقار ومتانت سے انجام دیتے رہیں ‘ یہ جہالت ونادانی کی وجہ سے مجبور ہیں ۔ درحقیقت یہ حکم حضور ﷺ کی سیرت مرحمانہ کا ایک تابناک صفحہ ہے ، آپ نے ہمیشہ عفو وکرم سے کام لیا ہے ، اور کبھی کسی شخص سے ذاتی انتقام نہیں لیا ۔ حل لغات : العرف : یعنی معروف ۔
Ayahs 7:200–202

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تجھے ڈگائے ، تو اللہ سے پناہ مانگ ، وہ سنتا جانتا ہے (ف 1) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو ڈرتے ہیں جب انہیں شیطان سے کوئی وسوسہ پہنچے ، وہ چونک اٹھتے ہیں پھر ناگہان وہ دیکھنے لگتے ہیں ۔

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے ۔

کشاکش نفس اور پیغمبر : (ف 1) نزع سے مراد وسوسہ اندازی ہے یعنی جب آپ کے دل میں ان لوگوں کی کجروی اور مخالفت کی وجہ سے شیطان غم وغصہ کی آگ بھڑکانا چاہئے ، تو آپ اللہ کی پناہ میں آجائیں وہ آپ کی دعاؤں کو سنتا اور آپ کے حالات کو جانتا ہے ۔ عصمت انبیاء کا مفہوم یہ نہیں کہ انبیاء کے دل میں خیالات کی کشاکش نہیں ہوتی یا نفس بشری بیکار ہوجاتا ہے ۔ عصمت کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء باوجود زبردست کشاکش نفسی کے پیغمبرانہ وظائف سے محروم نہیں ہوتے ، اور وہ ہر ترغیب وتحریص کو پوری قوت سے وہ کردیتے ہیں جس میں برائی کو ذرا بھی دخل ہو ، بھی ان کے دل میں بتقاضائے بشری وسوسہ اندازی ہوتی ہے ، مگر وہ باطنی قوت سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں ، اور شکست دیتے ہیں اور پیغمبرانہ ملکہ عفت انہیں ہر مقام پر محفوظ رکھنا ہے ،
Ayahs 7:203–204

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تو ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتا کہتے ہیں کہ کیوں کوئی آیت نہیں چھانٹ لایا تو کہہ میں تو صرف اس کے تابع ہوئی مجھے میرے رب سے وحی کیجاتی ہے یہ تمہارے رب سے ہدایت اور رحمت اور سمجھ کی باتیں ہیں مومنین کے لئے (ف 2) ۔

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو چپ ہو کے اسے سنو شاید تم پر رحم ہو ۔

قرآن معجزہ ہے !: (ف 2) اس سے پیشتر کی آیت میں مکہ والوں کا قول نقل ہے کہ آپ مطلوبہ معجزہ کیوں نہیں دکھلاتے ہیں کہ جواب میں آپ نے قرآن کی زبان میں فرمایا میں وحی والہام کا پابند ہوں اپنی طرف سے کچھ ایزاد نہیں کرسکتا ، اور قرآن میں تمہارے لئے بصائر اور دلائل ہیں ، (آیت) ” ھذا بصآئر من ربکم “۔ یعنی اگر اطمینان مقصود ہے تو قرآن کو پڑھو ، اور اگر یہ نہ ہو سکے ، تو کم از کم جب قرآن پڑھا جائے ، غور سے سنو ، پھر دیکھو قرآن کی صداقت کس طرح تمہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے اور کیونکہ تمہیں سزاوار کرم بنا دیتی ہے ، ۔ یعنی قرآن بجائے خود معجزہ ہے ، ایک علمی حارقہ ہے ۔ نہایت درجے کا موثر کلام ہے ، اس کو پڑھ کر دیکھو انصاف وعدل کے کانوں سے سن لو ، پھر تمہیں خود معلوم ہوجائے گا ۔ کہ یہ کس پایہ کا کلام ہے ۔ حل لغات : نزع : وہ خیال جو دماغ میں گھومے اور مسئلوی ہونے کوشش کرے ۔
Ayahs 7:205–206

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے رب کو اپنے دل میں صبح وشام گڑ گڑا کر اور ڈر کر بغیر بلند آواز کے یاد کر ، اور غافلوں میں نہ ہو (ف 1) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

وہ جو تیرے رب کے نزدیک ہیں (فرشتے) اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے ، اور اس کی تسبیح کرتے اور اسے سجدہ کرتے ہیں

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ آداب ذکر میں ہے کہ انسان دل میں اللہ کو یاد کرے تاکہ شوروشغب سے ان کے قلب میں فرق نہ آئے بات یہ تھی کہ مسلمان جب ذکر وشغل میں مصروف ہوتے مشرکین شور مچاتے ، اور دخل انداز ہوتے اس پر یہ ہدایت ہوئی کہ صبح وشام جب چاہو خدا کو یاد کرو اور عاجزی اور اخفاء کا اظہار ہو ، یہ ضرور سنیں کہ دوسرے بھی سنیں البتہ غفلت نہیں کرنی چاہئے ۔