7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsسراج البیان

Ayahs 7:73–81

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا (ف 2) ۔ صالح (علیہ السلام) نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے ، یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے ایک نشانی ہے سوا سے چھوڑ دو ۔ کہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے ، اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ، ورنہ دکھ کا عذاب تمہیں پکڑے گا (ف 1) ۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو کہ اس نے قوم عاد کے بعد تمہیں جانشین بنایا ، اور زمین میں ٹھکانا دیا ، کہ نرم زمین میں محل بناتے ، اور پہاڑوں میں گھر تراشتے ہو ، سو اللہ کے احسان کو یاد کرو ، اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

اس کی قوم کے متکبر سرداروں نے غریبوں سے جو ایمان لائے تھے کہا ، کیا تم جانتے ہو ، کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا رسول ہے ، وہ بولے ، کہ جو کچھ وہ اللہ سے لایا ہے ، ہم مانتے ہیں ۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

ان متکبروں نے کہا جس پر تم ایمان لائے ہو ، ہم اس کے منکر ہیں ۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پس انہوں نے اونٹنی (کی کونچیں) کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے پھرگئے اور کہا اے صالح اگر تو رسولوں میں سے ہے تو ہم پر وہ عذاب لے آ جس کا تو وعدہ دیتا ہے ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پھر ان پر زلزلہ آیا ، سو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ،

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح (علیہ السلام) نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہا کہ اے قوم میں نے اپنے رب کا پیغام تمہیں پہنچایا اور نصیحت کی ، لیکن تم بھلا چاہنے والوں کو پسند نہیں کرتے ۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ایسی بےحیائی کرتے ہو کہ تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی ؟

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کے سو امردوں پر شہوت سے دوڑتے ہو ، بلکہ تم حد سے بڑھی ہوئی قوم ہو ۔

حضرت صالح (علیہ السلام) : (ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ، (ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے ایک اونٹنی کو بطور آیۃ اور نشانی کے مقرر فرمایا اور کہا کہ دیکھو ، اسے آزادی سے چراگاہوں میں رہنے دو ، اور اس سے کوئی تعرض نہ کرنا ورنہ یاد رکھو ، اللہ کا عذاب تمہیں آ گھیرے گا ۔ حل لغات : رجس : پلیدی وعقومات ۔ گناہ ۔ اونٹنی کی نشانی : ناقۃ اللہ : تشریفا اسے اللہ کی اونٹنی کہا ہے ۔ قصورا : جمع قصر بمعنی محلات ۔
Ayahs 7:82–84

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور اس کی قوم کا یہی جواب تھا ، کہ ان لوگوں کو اپنے شہر سے نکال دو ، یہ لوگ ستھرائی چاہتے ہیں (ف 1) ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا مگر اس کی عورت رہ گئی ، وہ باقی رہنے والوں میں تھی ،

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا برساؤ برسایا ، سو دیکھ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ۔

(ف 1) بدبختوں نے جب یہ دیکھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو ان کے حیوانی جذبات سے روکتے ہیں ، تو ان کے دشمن ہوگئے ، لگے کہنے ان کو گاؤں سے نکال دو ، یہ ہم سے زیادہ پاکباز رہنا چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار وتمرد کو دیکھ کر عذاب بھیجا ، اور چشم زدن میں بستیوں کی بستیاں الٹ دیں ۔ حل لغات : کیل : ماپ ۔ المیزان : تول وزن سے مشتق ہے ۔
Ayahs 7:85–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے انکا بھائی شعیب بھیجا ، اس نے کہا اسے قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، تمہارے رب سے تمہاری طرف دلیل آچکی ہے ، سو تم پیمانہ وترازو پوری رکھو ، اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ، اور زمین کی درستی کے بعد زمین میں فساد نہ کرو ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے ، اگر تم مومن ہو (ف 1) ۔

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر رستے پر نہ بیٹھو ، کہ لوگوں کو ڈراتے اور مومنوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ، اور اس میں عیب ڈھونڈتے ہو ، اور وہ وقت یاد کرو کہ تم تھوڑے تھے ، پھر خدا نے تمہیں بہت کیا ، تھے پھر خدا نے تمہیں بہت کیا ، اور دیکھو ، کہ مفسدوں کا انجام کیا ہوا ۔

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک گروہ نے میری رسالت کو قبول کرلیا ہے ، اور ایک گروہ ایمان نہیں لائے ، تو تم ٹھہر جاؤ حتی کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے ، اور وہ سب سے اچھا حاکم ہے ۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) (ف 1) مدین والوں میں یہ نقص تھا کہ وہ لین دین میں ایماندار نہیں تھے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کے بعد معاملات کی طرف توجہ کی ، اور کہا یہ بددیانتی جائز نہیں ، اس سے اخلاق بگڑتے ہیں ، تم اگر مومن ہو تو ناپ اور تول میں کوئی فریب دغا نہ کرو ، کیونکہ ایمان کا تعلق صرف عبادت اور عبادت گاہ سے نہیں ، بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں سے بھی ایمان کا اظہار ہونا چاہئے ، اگر مسجد میں ذکر خدا ہے تو ہاٹ میں بیٹھ کر بھی اسے فراموش نہ کرو ، اور حقیقت میں یہی سچا مذہب ہے ، جو تمہاری ایک ایک بات سے عیاں ہو ، طویل عبادتیں مشکل ریاضتیں معاملات کی صفائی نہ ہو ، تو کوئی قیمت نہیں رکھتیں ، اللہ نے بدمعاملگی کو فساد سے تعبیر کیا ہے یعنی نظام اخلاق میں ابتری ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے ، تجارت کو صداقت اور سچائی پر مبنی ہونا چاہئے یہ محض دھوکا ہے ، کہ تجارت میں جھوٹ کے سوا چارہ نہیں ، بات یہ ہے کہ ہم چونکہ ہر بات میں جھوٹ کے عادی ہو رہے ہیں اس لئے تجارت میں بھی سچائی سے کام نہیں لیتے ورنہ سچائی سے قطعا گھاٹے کا اندیشہ نہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ بازار میں ساکھ پیدا کرلی جائے ، جب لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے گا ، کہ آپ کے ہیں قیمتیں مقرر ہیں ، اور آپ دھوکا نہیں دیتے تو پھر دیکھئے کس طرح اللہ آپ کی تجارت کو چمکاتا ہے ، اور برکت دیتا ہے ۔
Ayahs 7:88–92

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس کی قوم کے متکبر سردار بولے ، یا تو تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ ، ورنہ ہم تجھے اے شعیب (علیہ السلام) مع تیرے ساتھیوں کے اپنے شہر سے نکال دیں گے (ف 1) ۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا ، کہ کیا اس صورت میں بھی لوٹ آئیں جبکہ ہم اس سے بیزار ہیں ۔

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم بعد اس کے کہ خدا نے تمہارے مذہب سے ہمیں نجات دی ہم اس میں لوٹ آئیں تو بیشک ہم نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے اور ہمیں لائق نہیں ، کہ ہم اس میں لوٹیں ، مگر اللہ ہمارا رب ہی چاہئے علم کے لحاظ سے ہمارا رب ہر شئے پر حاوی ہے ہم نے اللہ پر توکل کیا ، اے ہمارے رب ہم میں اور ہماری قوم میں تو حق کیساتھ فیصلہ کر دے ، اور تو بہتر منصف ہے ۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے کافروں نے کہا (اے لوگو) اگر تم شیعب (علیہ السلام) کے تابع ہوگئے ، تو بیشک تم نقصان اٹھاؤ گے ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر انہیں زلزلہ نے آپکڑا ، تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے منہ مرے پڑے تھے ۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے شیعب (علیہ السلام) کو جھٹلایا (ایسے ہوگئے) کہ گویا وہاں کبھی نہ بستے تھے ، جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا ، وہی زیاں کار ہوئے ۔

آخری فیصلہ : (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو ٹھکرا دیا گیا ، اور صاف صاف کہہ دیا گیا ، اگر آپ ہماری خیانتوں اور بددیانتیوں کی تائید نہیں کریں گے تو ہم اپنی بستی سے تمہیں نکال باہر کریں گے گویا برائیوں سے روکنا برائی ہے ، اور ایسا گناہ ہے جو ناقابل عفو اور شائستہ تعزیر ہے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہونے کا کہ ہم تمہارے مسلک کو قبول کرلیں ، اور دعوت حق سے روگردانی کرلیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ ہم نے معاذ اللہ ، اللہ پر افتراء کیا ہے ، کیا تم سمجھتے ہو ، ہم پھر اس گمراہی میں آپھنسیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ہمیں نجات دی ہے ، غرض یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا جو قدم حق کی تائید کے لئے اٹھتا ہے ، وہ پھر واپس نہیں ہوتا ، اور وہ پورے استقلال کے ساتھ قوم کی سرکشی اور عداوت کا مقابلہ کرتے ہیں ، وطن وقوم کی محبت ان کے پاؤں میں لغزش نہیں پیدا کرسکتی وہ اللہ کی جانب سے ایک فوق الادراک قوت لے کر دنای میں معبوث ہوتے ہیں ، کوئی دھمکی اور کوئی ترغیب ان کو جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتی ، یہ مخالفین کی بھول تھی ، کہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اخراج کی دھمکی دے رہے تھے ، آخر میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ قوم کی جانب سے سختیاں بڑھ رہی ہیں اور ان میں قبول حق کی ذرہ برابر استعداد نہیں ، تو اللہ سے فیصلہ چاہا ، اور درخواست کی کہ اے اللہ ہم میں اور مخالفین میں ایک سچا فیصلہ فرما تو بہترین حاکم ہے ۔ دعا کے بعد فیصلے کی ساعت آپہنچی کیونکہ انبیاء اس وقت یہ بد دعا کرتے ہیں ، جبکہ قوم میں انتہائی شقاوت قلبی پیدا ہوجائے اور جب کہ اس کا مٹ جانا ہی انسب ہو اللہ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی سن لی ، اور زمین کانپ اٹھی ، زلزلہ آیا ، اور چشم زدن میں شعیب (علیہ السلام) کی قوم برباد ہوگئی ، جیسے صفحہ ہستی پردہ کبھی موجود ہی نہ تھی ،
Ayahs 7:93–94

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

شیعب (علیہ السلام) ان سے الٹا پھرا ، اور کہا اے قوم میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچایا ، اور تمہاری خیرخواہی کی ، پھر میں کافروں پر کیا غم کھاؤں (ف 1) ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جس بستی میں نبی بھیجا ، یہی ہوا کہ اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تنگی میں ڈالا شاید کہ وہ عاجزی کریں ۔

(ف 1) آیات کا مقصد یہ ہے کہ رسول تباہی کی درخواست اس وقت اللہ سے کرتا ہے جبکہ پیمانہ صبر لبریز ہوجائے اور جب پوری مایوسی ہو ، جب وہ تمام احکام تم تک پہنچا چکا ہوں ، ساری باتیں سنا چکا ہوں ، اب بھی اگر تم نہ مانو ، تجھے تمہارے مٹ جانے پر قطعا افسوس نہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) بدرجہ غایت شفیق اور مہربان ہوتے ہیں ، آخرت تک ہوش میں ہوتے ، اور جاگتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح قوم میں اصلاح ہو اور دقت سے بچ جانے ، مگر جب قلب وجگر پر مردنی چھا جائے غفلت وجہالت آنکھوں کی بینائی ضائع کر دے ، تو پھر مہربانی کی کیونکہ توقع کی جاسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتے ، کہ اس کے پیارے بندے ایک دم زندگی سے محروم ہوجائیں ، اور نافرمانوں میں شمار ہوں ، اس لئے وہ رسولوں کے علاوہ مصیبتیں بھیجتا ہے ، مشکلات میں مبتلا کرتا ہے ، تاکہ دل پسیجیں ، متاثر ہوں ، اور طبیعتوں میں گداز پیدا ہو ، اور جب یہ ذرائع ناکام رہیں ، اور امید کی کوئی کرن باقی نہ رہے ، تو پھر ہلاکت کے سوا اور کیا چارہ ہے ۔ حل لغات : کان لم یغنوا فیھا : غنی کے معنی مدت تک کہیں رہنے کے ہیں ، مغنی کے معنی منزل اور مقام اور انسانی جائے معیشت کے ہیں ۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی ، یہاں تک کہ لوگ زیادہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہمارے بڑوں کو اسی طرح دکھ سکھ پہنچتا رہا ہے تب ہم نے انہیں اچانک پکڑا ، وہ (ف 1) ۔ بیخبر تھے ۔

ڈھیل : (ف 1) خدا کا عذاب کے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ وہ خوب ڈھیل دیتا ہے ، مصیبتیں اور تکلفیں دور ہوجاتی ہیں ، اور عیش و عشرت کے زور چلتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں ، اب خطرے سے باہر ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہماری سن لی ہے اسے ہماری گستاخیاں پسند ہیں ، تو اس وقت اچانک انتقام کا ہاتھ نمودار ہوتا ہے ، اور وہ ہٹا دیئے جاتے ہیں ۔
Ayahs 7:96–99

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر ان بستیوں کے لوگ مانتے ، اور ڈرتے ، تو ہم ضرور آسمان اور زمین سے ان پر برکتیں کھول دیتے ، لیکن انہوں نے جھٹلایا ، تب ہم نے ان کے کاموں کے سبب انہیں آپکڑا ۔ (ف 2) ۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

اب کیا (اہل مکہ وغیرہ) بستیوں والے اس بات سے نڈر ہوگئے کہ جب وہ رات کو سوتے ہوں ہمارا عذاب ان پر آجائے !

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا بستیوں والے اس سے ان میں ہیں کہ ہمارا عذاب پہروں چڑھے ان پر آئے جب وہ کھیلتے ہوں ؟

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا وہ خدا کے داؤ سے نڈر رہتے ہیں ۔ سو خدا کے داؤ سے زبان کا ہی نڈر رہتے ہیں ۔

برکات کا نزول : (ف 2) یعنی اگر یہ لوگ ایمان کی دعوت کو قبول کرلیں اور سچے معنوں میں مسلمان ہوجائیں ، تو پھر دیکھیں اللہ کی رحمتیں کیونکر ان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ دیکھیں کہ کس طرح آسمان سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور انہیں محسوس ہو کہ ان کے لئے زمین برکات کے خزانے اگل رہی ہے ۔ گویا ایمان واتقاء کے بعد اللہ کی تائید وتضرت شامل حال ہوجاتی ہے ، اور مرد مومن کسی طرح بھی دنیا دار انسان سے حصول نعمت وجاہ میں پیچھے نہیں رہتا ۔ حل لغات : یضرعون : مادہ ضراعۃ معنی عاجزی اور احتقار ۔ السیئۃ : تکلیف ، الحسنۃ مسرت ، خوشی دونوں لفظ برائی اور نیکی کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ، یہاں مقصود دکھ اور سکھ ہے ۔
Ayahs 7:100–101

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو لوگوں کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں یوں نہیں سوجھ آئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیں ، اور ان کے دلوں پر مہر کردیں ، سو وہ نہ سنیں ؟ (ف 1) ۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کی خبریں ہم نے تجھے سنائیں ، اور ان کے رسول ان کے پاس معجزات لے کر آئے تھے ، سو جس بات کی وہ پہلے تکذیب کرچکے ، اس پر ایمان ہی نہ لائے ، یوں اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ وہ لوگ جو مجرم ہیں جنہوں نے سرکشی اور تمرد سے دنیائے دین میں طوفان برپا کر رکھا ہے ، اور جو دن رات معصیت اور گناہ میں صرف کرتے ہیں ، جن کے دل بےکیف اور آنکھیں بےنور ہوچکی ہیں جن کے متعلق علم الہی کا فیصلہ یہ ہے ، کہ حرف غلط کی طرح ہٹ جائیں ، وہ مامون کیوں ہیں ، انہیں ہلاکت وتباہی کی فکر کیوں نڈھال نہیں کردیتی ، وہ کیوں نہیں سوچتے کہ عذاب کی گھڑیاں قریب آرہی ہیں ، کیا عذاب الہی کے لئے کوئی دقت ہے جو اس کا انتظار کر رہے ہیں ، ان کو معلوم ہونا چاہئے ، کہ عذاب کے لئے کوئی خاص ذلت نہیں ، وہ اس وقت آسکتا ہے جب کہ یہ سوجائیں ، اور دنیا ومافیہا سے غافل ہوں ، وہ اس وقت آسکتا ہے ، جب کہ یہ لہو ولعب میں مشغول ہوں ، اور بالکل بےخطر ہوں ، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کی تدبیریں محکم ہیں ، جن سے بچ نکلنا محال ہے ۔ حل لغات : مکر اللہ : بمعنے اللہ کی تدبیر محکم ، حبل فصدوہ ، کہتے ہیں ، مضبوط رسی کو ۔
Ayahs 7:102–107

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ان کے اکثروں میں ہم نے وعدہ وفائی نہ پائی ، ہاں البتہ یہ پایا ، کہ اکثر ان میں بدکار تھے (ف 1) ۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان کے بعد فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا سو انہوں نے ان نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا ، سو دیکھ مفسدوں کا انجام کیا ہوا ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے فرعون میں جہان کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

لائق سے کہ اللہ کی نسبت سچ ہی بولوں میں تمہارے رب سے نشان لے کر تمہارے پاس آیا ہوں ، پس تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے ۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

اس نے کہا ، اگر کوئی معجزہ لایا ہے تو دکھلا ، اگر تو سچا ہے ۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

پھر اس نے اپنا عصا ڈال دیا ، تو وہ اسی وقت صریح اژدھا بن گیا ۔

نبذعھد : (ف 1) ان تمام قصص کا مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو بتایا جائے کہ قومیں کس طرح بار بار اللہ کے بندھے ہوئے میثاق کو توڑتی چلی آئی ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان کو سخت ترین سزائیں دی ہیں ، تاکہ ایک طرف آپ کو قریش مکہ کی مخالفت سے مایوسی نہ ہو اور دوسری جانب مکہ والوں کے دل میں ڈر پیدا ہو ، اور ان کو معلوم ہو کہ اگر ہم نے رسول اللہ کا کہا نہ مانا اور انکار کیا تو ہمارا حشر بھی یہی ہوگا ۔ ان قصوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب وقت حق کا اظہار ہوتا ہے اکثریت کی جانب سے پر زور مخالفت ہوتی ہے اور ابتداء حق کو قبول کرنے والے بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں ۔