7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsسراج البیان

Ayahs 7:108–115

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا ، تو وہ اسی وقت ناظرین کی نظر میں سفید تھا (ف 1) ۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

قوم فرعون کے سرداروں نے کہا ، یہ کوئی دانا جادوگر ہے ۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

اس کا ارادہ ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکالئے سو اب تمہاری کیا صلاح ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اسے اور اسکے بھائی کو مہلت دینا چاہئے اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجے جائیں ۔

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تیرے پاس سب دانا جادوگر لے آئیں ۔

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور فرعون پاس جادوگر آئے اور کہا اگر ہم غالب آئیں تو ہمارے لئے کچھ انعام ہے ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

کہا ہاں ، اور تم مقرب بھی ہو گے ،

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

وہ بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) یا تو پہلے اپنا عصا ڈال یا ہم ڈالتے ہیں ۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔ اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس عذاب الیم سے نجات دلائے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا ، میں اللہ کا رسول ہوں میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیجدو ، اس نے نبوت و رسالت پر گواہی طلب کی آپ نے لٹھ کو زمین پر پھینکا ، جو اژدھا بن گیا ، اور ہاتھ باہر نکالا تو براق ، اب وہ حیران ہوا ، کہنے لگا ہو نہ ہو ، یہ جادو ہے ، اور بالآخر تمام جادوگروں کو اکٹھا کیا ، اور کہا یہ بہت بڑا جادوگر ہے ، ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرو ، ورنہ حکومت چھین لے گا ، اور تم کہیں کے نہ رہو گے ۔ ان دو معجزات میں نہایت لطیف اشارہ اس جانب تھا کہ جس طرح لکڑی ایسی بےضرر چیز سانپ بن گئی ہے اسی طرح مومن اللہ کے فضل سے تیرے لئے خطرناک ثابت ہوں گے اور جس طرح میرا ہاتھ چمک اٹھا ہے ، اسی طرح بنی اسرائیل کی خوابیدہ قسمت چمک اٹھے گی ، وہ لوگ جو معجزات کی خواہ مخواہ تاویل کرتے ہیں انہیں ان دو معجزات پر غور کرنا چاہئے ۔ بات یہ ہے کہ اللہ کے بہت سے قانون ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے ، اور جب کبھی اس قسم کا فوق الادراک قصہ سنتے ہیں افکار کرلیتے ہیں ، اور یہ نہیں سوچتے کہ اللہ کے اختیار میں سب کچھ ہے ، حل لغات : بیضاء سے مراد سفید ہے جو چمکدار ہو ، خطاب مجرمین ۔
Ayahs 7:116–117

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ڈالو ، جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا ، اور انہیں ڈرا دیا ، اور بڑا ہی جادو لا دکھلایا (ف 1) ۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی ، کہ تو اپنا عصا ڈال پس فورا وہ عصا اس کا ان کی بناوٹ کو نگلنے لگا ۔

ز (ف 1) سحروا اعین الناس “۔ سے معلوم ہوا کہ جادو کا تعلق محض فریب نظر سے ہے ، یا ایک قسم کی شعبدہ بازی ہے ورنہ حقیقت میں اشیاء میں تبدیل ناممکن ہے ۔ اگر جادو گر واقعی حقائق کو بدل سکیں ، تو بری حالت میں کیوں رہیں ، انہیں کو دیکھئے فرعون سے انعام مانگ رہے ہیں ، حالانکہ اگر واقعی یہ لوگ تحویل طبائع پر قادر ہوں ، تو ان کو احتیاج کس بات کی ہے جو چاہا کردیا ۔
Ayahs 7:118–119

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

تب حق ثابت ہوگیا ، اور جو وہ کرتے تھے باطل ہوا (ف 2) ۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

تب وہ اس جگہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر لوٹ گئے ۔

(ف 2) موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے کو اللہ تعالیٰ نے حق سے تعبیر کیا ہے یعنی وہ ایک حقیقت ہے ، مگر مشکل یہ ہے کہ عوام میں یہ امتیاز ہونا دشوار ہے ، ان کے نزدیک تو دونوں خرق عادت میں داخل ہیں ، ماں ایک کھلا تبائن معجزے اور کرشمے میں یہ ہے کہ معجزہ غالب رہتا ہے اور اخلاق و رفعت کے لحاظ سے نبی کا درجہ ساحر سے بہت اونچا ہوتا ہے ، ساحر سحر کو ذریعہ معاش قرار دیتا ہے ، اور انبیاء سراپا وسیلہ ہدایت ہوتا ہے ۔ حل لغات : سحر : وہ چیز جس کا معلوم کرنا باریک اور لطیف ہو ، سحر کے معنی علاوہ جادو اور افسوں کے فریفتہ کرنے اور بیمار بتانے کے بھی ہیں ۔
Ayahs 7:120–124

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدہ میں گر پڑے (ف 1) ۔

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

بولے کہ ہم جہان کے رب پر ایمان لائے ۔

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے ۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا ابھی میں نے تم کو حکم بھی نہیں دیا ، اور تم اس پر ایمان لائے ، ضرور یہ فریب ہے جو تم نے شہر میں باندھا ہے کہ اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالو ، سو اب تمہیں معلوم ہوجائے گا ۔

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ اور جانب مخالف سے پاؤں کاٹوں گا ، پھر میں تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا ۔

(ف 1) جادوگر چونکہ فن سحر سے واقف تھے ، اس لئے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزہ فرمائی دیکھی تو فرط شوق سے سجدے میں گر گئے ، ان کو معلوم ہوگیا ، یہ چابکدستی یافن فریب نہیں حقیقت اور ایک بالادست قدرت ہے ۔
Ayahs 7:125–126

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

بولے ہمیں رب کی طرف جانا ہے (ف 2) ۔

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو ہم سے اس لئے دشمنی کرتا ہے کہ ہم نے اپنے رب کے معجزے جب ہمیں پہنچے ، ان لئے اے ہمارے رب ہمیں صبر دے ، اور ہمیں مسلمان مار ۔

قوت ایمانی : (ف 2) فرعون نے یہ دیکھ کر کہ جادوگر ایمان لے آئے ہیں سخت دھمکی دی ، اس نے کہا ، دیکھو معلوم ہوتا ہے ، تمہارا پہلے سے سمجھوتا تھا ، میں تمہیں سولی پر چڑھادوں گا ، تمہارے ہاتھ پاؤں آڑے ترچھے کاٹ دوں گا ، مگر یہاں اس دھمکی کا کیا اثر ہوتا ، جب کہ قوت ایمانی دلوں میں سرایت کرچکی تھی ، جب کہ رگ رگ میں ایمان کی حراست پہنچ چکی تھی ، انہوں نے نہایت صبر و استقلال سے جواب دیا ہمارا تو مقصد ہی اللہ کی جانب رجوع کرنا ہے ، اس سے ملنا ہے تو پھر خوف کس بات کا ؟ یہ عجیب بات ہے کہ ادھر چند لمحوں پہلے ہو جادوگر تھے موسیٰ (علیہ السلام) کو شکست دینے کے لے مقابلہ آراء تھے ، یا یہ انقلاب ہے کہ ایمان نے دلوں کو روشن کردیا ہے ، اور ہمتیں بلا کی قوت اختیار کرگئی ہیں ، فرعون کے جبر و استبداد سے وہ بالکل بےخوف ہیں ۔ بات یہ ہے کہ ایمان چیز ہی ایسی ہے جہاں دلوں میں گھسا ، اجالا ہوگیا ، اور طبیعت یکسر بدلی گئی ۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے سردار بولے ، کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو چھوڑتا ہے تاکہ زمین میں فساد کریں ، اور تجھے اور تیری معبودں کو ترک کئے رہیں ؟ اس نے کہا اب ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرینگے ، اور لڑکیوں کو جیتا رکھیں گے ، اور ہم ان پر غالب ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) یہ قاعدہ ہے جب کسی قوم میں بیداری پیدا ہو ، تو حکمران طبقہ اسے بہر نوع دبا دینا چاہتا ہے ، اور اس سلسلے میں بڑے سے بڑا ظلم میں روا رکھا جاتا ہے ، فرعون نے جب یہ دیکھا کہ بنی اسرائیل میں کچھ خود دارو متاع ایمان کو عزیز رکھنے والے لوگ پیدا ہوگئے ہیں ، تو کہا میں المناک سزائیں دوں گا اور قہر و تسلط کا پورا پورا مظاہرہ ہوگا ۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ سے مدد مانگو ، اور ثابت قدم رہو ، زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث کرے اور آخر پرہیز گاروں کا ہی بھلا ہوگا (ف 2) ۔

(ف 2) موسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقع پر قوم کو تسلی دی اور کہا اگر تم ان مصائب کو برداشت کر گئے ، تو پھر بادشاہت قریب ہے ظلم و استبداد کا اظہار حکمران طبقے کی جانب سے آخری سزا ہے حریت اور دینداری کی ، اس کے بعد طبائع سے خوف دور ہوجاتا ہے ، بےباکی آجاتی ہے ، اور اس نوع کے مظالم طبقہ قاہرہ کو نظروں سے گرا دیتا ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ، وراثت ارض دراصل نیک اور پاکباز بندوں کے لئے ہے ، گو تھوڑی مدت کے لئے یہ ظالم اور ناہجار لوگ عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔
Ayahs 7:129–132

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

بولے تیرے آنے سے پہلے بھی ہمیں دکھ ملا اور تیرے آنے کے بعد بھی موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے ‘ اور تمہیں زمین میں جانشین کر دے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو (ف 1) ۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط سالی میں اور میو وں کے نقصان میں گرفتار کیا کہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس کوئی خوشحالی آتی تھی تو کہتے تھے کہ یہ ہمارے لئے ہے اور اگر کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی شومی بتلاتے تھے ، سن لے ، ان کی شومی اللہ کے پاس ہے ، مگر اکثر شخص نہیں جانتے ۔

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا (اے موسیٰ علیہ السلام) جو کوئی نشانی بھی تو ہمیں دکھلائے گا کہ اس سے ہم پر جادوگر ہے ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے ۔

غلامی کی جھجک : (ف 1) غلامی ایسی بدترین لعنت ہے کہ اس کے بعد قوم میں بزدلی آجاتی ہے ، اور قوم میں دوست و دشمن کی تمیز اٹھ جاتی ہے ، ہر بات میں انہیں اندیشہ ہوتا ہے ، کہیں حکمران طبقہ ہماری مصیبتوں میں اور اضافہ نہ کر دے ، چنانچہ بنی اسرائیل نے صاف صاف کہہ دیا جناب پہلے بھی ہم تکلیفوں میں مبتلا تھے ، اور اب بھی ہماری مشکلات میں اضافہ ہی ہے براہ کرم میں کانٹوں میں نہ گھسیٹئے ۔ موسی (علیہ السلام) نے فرمایا تم گھبراؤ نہیں ، عنقریب تمہارے دشمن ہلاک ہوں گے اور تمہاری غلامی آزادی سے بدل جائے گی ۔ حل لغات : سنین : یعنی عسرت کے سال ، یطیر : بدشگونی ، عرب طائر سے شگون لیتے تھے ، اس لئے تطیر کے معنی تساؤم کے ہیں ۔
Ayahs 7:133–134

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا ، اور ٹڈی اور چچڑیاں ، اور مینڈک ، اور لہو ، چند جدے جدے معجزے ، پھر انہوں نے تکبر کیا ، اور وہ مجرم لوگ تھے (ف 1) ۔

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب آپڑا ، بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کو ہمارے لئے پکار جیسا کہ اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے ، تو ہم تجھ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے ۔

انکار کی سزائیں : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کی متواتر اور مسلسل تبلیغ و اشاعت کے بعد جب قبطیوں اور فرعونیوں نے نہ مانا اور کوئی اثر قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے وادی نیل کو ناقابل سکونت بنا دیا ، قبطیوں کو دریائے نیل کی وجہ سے شادابی اور ثروت حاصل تھی یہی دریا ان کے لئے وبال جان ہوگیا ، کثرت سے مینہ برسا ، دریا تمام مصر میں پھیل گیا ، کھیتوں اور باغون کو ٹڈی چاٹ گئی مکانوں میں مینڈک اور دوسرے حشرات گھس آئے ، گرمی کی شدت سے ناک سے خون جانے لگا اور عجیب مصیبت میں پھنس گئے ۔ بات یہ ہے کہ اللہ کے پاس بیحد خزانے ہیں خوارق ومعجزات کے وہ جب چاہے دنیا کو بدل سکتا ہے آل فرعون یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایسا بےسروسامان انسان ہمیں کیا نقصان پہنچا سکے گا ، انہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ ان لوگوں کی تائید کے لئے اپنی مخفی قوتوں کو روئے کار لے آنے گا اور فرعون کی حکومت کو ناقابل علاج مصائب میں ڈال دے گا ۔
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ایک مدت تک جس تک انہیں انہیں پہنچنا تھا ، اس سے عذاب اٹھا لیا ، تو وہ فورا وعدہ خلاف ہوگئے (ف 2) ۔

(ف 2) جب ان لوگوں نے دیکھا کہ یہ ساری تکلیفیں ہماری معصیت کی وجہ سے ہیں ، تو ایمان لانے کا وعدہ کرلیا ، اللہ تعالیٰ نے عذاب اٹھا لیا مگر یہ پھر بگڑ گئے ، اس آیت میں بتایا ہے کہ مصیبت کے وقت جو رجوع ہوتا ہے وہ مخلصانہ نہیں ہوتا ، حل لغات : طوفان : طوف سے ہے یعنی آندھی یا وہ تیز بارش جس کے ساتھ زور کی ہوا بھی ہو ۔ القمل : بھینگے حشرات ، علامہ راغب کہتے ہیں ، صغار الذباب ۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تب ہم نے ان سے بدلہ لیا کہ انہیں دریا میں ڈبو دیا ، اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیات جھٹلائیں اور ان سے غافل رہے تھے (ف 1) ۔

(ف 1) فانتقمنا : سے مراد ایسا بدلہ ہے جس کے وہ مستحق تھے ، کیونکہ انتقام کے معنی عربی میں سزا دینے کے ہیں ، اللہ کینہ اور بعض سے پاک ہے ،
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور اس قوم کو جو کمزور گئی جاتی تھی اس سرزمین کی مشرقوں اور مغربوں کا وارث کیا جس میں نے برکت دی ہے (ملک کنعان) اور بنی اسرائیل کے حق میں بہ سبب اس کے کہ انہوں نے صبر کیا تیرے رب کا بھلائی کا وعدہ پورا ہوا ، اور جو کچھ فرعون اور اس کے لوگوں نے بنایا تھا اور جو کچھ ٹٹیوں چڑھا یا تھا ہم نے سب کچھ برباد کردیا (ف 2) ۔

ناتوانوں کی توانائی : (ف 2) یعنی بالآخر جو کمزور ونزار تھے ضعیف وناتوان تھے وہ صبر و استقلال کیو جہ سے توانا اور قوت والے ہوگئے جن کے لئے ارض مصر میں رہنا مشکل تھا وہ شام کے مشرق ومغرب میں پھیل گئے ، جو غلام تھے انہیں آزادی اور بادشاہت بخشی گئی وہ جو بادشاہ تھے ، انہیں دریائے قلزم میں غرق کردیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ بنی اسرائیل نے صبر و استقلال سے کام لیا اور اس لئے کہ فرعون نے سرکشی اختیار کی ۔
Ayahs 7:138–139

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر پار اتار دیا پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے ، جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگ رہے تھے ، (بنی اسرائیل) بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) تو ہمارے لئے بھی ایک ایسا بت مقرر کر دے جیسے ان کے بت ہیں کہا تم جاہل لوگ ہو (ف 1) ۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس دین میں ہیں اسے تباہ ہونا ہے اور انکے اعمال باطل ہیں ۔

(ف 1) بنی اسرائیل چونکہ حدیث العہد تھے ، نیا نیا اسلام قبول کیا تھا ، اس لئے جب انہوں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بتوں کو پوج رہی ہے تو ان کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو جہالت ہے میں اس کی تائید کیونکر کرسکتا ہوں ، اس سے معلوم ہوتا ہے ، مو سے (علیہ السلام) نے اولا اپنی توجہ کو زیادہ تر آزادی واستخلاص پر مرکوز رکھا ، توحید کا درس تو دیا مگر زیادہ زور آزادی کے مسئلہ پر ہی تھا ،
Ayahs 7:140–141

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

کہا کیا میں اللہ کے سوا اور کوئی معبود تمہارے لئے ڈھونڈوں اور اسی نے تمہیں کل جہان پر فضیلت دی ہے (ف 2) ۔

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے بچایا کہ تمہیں سخت دکھ دیتے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے ، اور اس میں تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی ،

(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی جس کود داری کو بیدار کیا ہے ، اور کہا ہے تم وہ ہو جنہیں اللہ نے خاص مقصد کے لئے قوموں میں سے چن لیا ہے ، اس لئے تم شرک اور بت پرستی کی ذلت کو کیوں برداشت کرو ، اس نے بعد انہیں مصائب کی طرف متوجہ کیا ، اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس شفقت اور مہربانی سے تمہیں فرعون کے دست تظلم سے نجات بخشی ہے ، کیا یہ احسان اس بات کا متقاضی نہیں کہ اس کے اظہار تشکر میں توحید کو قبول کرلیں اور سب دیوتاؤں سے منہ موڑ لیں ۔ حل لغات : متبر : ھالک ، فنا ہونے والا تبار سے مشتق ہے ۔ نسآء : کا اولین اطلاق عورت پر ہوتا ہے ، یہاں بنات کے معنوں میں مستعمل ہے ۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس رات کا وعدہ کیا ، اور ان تیس میں دس رات اور ملا کر ان کو پورا کیا ‘ پھر اس کے رب کا وعدہ چالیس رات کا پورا ہوا ، اور موسیٰ اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو کہہ گیا تھا ، کہ تو میری قوم میں میرا خلیفہ رہیو ، اور درستی رکھیو ، اور مفسدوں کی راہ پر نہ چلیو (ف 1) ۔

چلہ : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کسب انوار کے لئے طور پر بلایا اور کہا چالیس راتیں یہاں زہد وتقشف میں بسر کرو ، میری نگرانی میں رہو پھر تمہیں توریت دی جائے گی اور شریعت کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا جائے گا مقصد یہ تھا اس طرح ترک علائق سے دل میں یکسوئی پیدا ہوجائے ، بےگانگی اسباب سے دل جمعی و استقلال کی عادت پڑجائے ، اور جناب موسیٰ (علیہ السلام) اس قابل ہوجائیں کہ منصب نبوت کے بار عظیم کو باحسن وجہ اٹھا سکیں ، بات یہ ہے کہ جمال مطلق سے بہرہ اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ گوشہ ہائے قلب میں ریاضت کے دئیے روشن ہوں اور شوق و محبت کے دیئے جلیں ، قلب کا گوشہ گوشہ آغوش انتظار ہوجائے اور بال بال رواں رواں زدن سپاس ہو کر محنت کش حمد ہو ، دل کی دنیا میں سوا ذکر وشغل کی آبادی وعمران کے اور کچھ موجود نہ رہے ، یعنی عملا ثابت کردیا جائے ، کہ سینے میں اللہ کی محبت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، زبان حمد و ستائش کے ترانوں سے حظ اٹھا رہی ہے جبیں آستان یار پر جھکی ہے ، اور آنکھیں راستے میں بچھی جاتی ہیں ، جب جا کر کہیں وہ جہاں آراء دل میں آتا ہے ۔
Ayahs 7:143–145

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے مقررہ وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے رب تو اپنے تئیں مجھے دکھلا کہ میں تیری طرف نگاہ کروں ، فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا لیکن پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا ، تو تو بھی مجھے دیکھ سکے گا ، پھر جب اس کا رب پہاڑ پر ظاہر ہوا تو پہاڑ کو پارہ پارہ کردیا ، اور موسیٰ بہیوش ہو کر گر پڑا پھر جب ہوش میں آیا ، تو کہا ، تو پاک ہے ، میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں ، اور میں پہلا مومن ہوں (ف 2) ۔

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تجھے لوگوں میں سے اپنے پیغام اور کلام کے لئے برگزیدہ کیا ، سو جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے ، لے اور شکر گزار ہو ۔

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے لئے تختیوں پر ہر شئے لکھی ، نصیحت اور ہر شئے کا مفصل بیان ، اور کہا ، کہ اس کو بقوت تھام ، اور اپنی قوم کو حکم دے کہ بہترین باتیں جو اس میں ہیں تھامے رہیں اب میں تمہیں بدکاروں کا گھر دکھلاؤں گا ۔

دیدار یار : (ف 2) اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مکالمہ کے شرف سے نوازا ، یہاں دل میں یہ خیال چٹکیاں لے رہا تھا ، کہ گفتگو کافی نہیں ، دیدار چاہئے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” لن ترانی “ کہ یہ آنکھیں کیونکر تجلیات کو جذب کرسکتی ہیں ، مگر وہاں اصرار وشوق کی فراوانی تھی نقاب کے کچھ حصے سرکے ، اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گر پڑے ، آنکھوں میں تاب و تواں کہاں کہ برداشت کرسکیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ اس ذوالجلال کو دیکھنا ناممکن ہے اور اس نوع کا مطالبہ اس کے حسن و جلال کی توہین ہے فورا ” تبت “ کی صدائے ندامت فضاء میں گونجی اور دلائل وبراہین کی آیتوں پر اکتفاکر لیا گیا ۔
Ayahs 7:146–147

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

وہ جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں میں (ف 1) ۔ انہیں اپنی نشانیوں سے پھیر دوں گا اور اگر وہ ساری نشانیاں دیکھیں ، اس پر ایمان نہیں لاتے ، اور اگر بھلائی کی راہ دیکھتے ہیں ، تو اسے راہ نہیں ٹھہراتے ، اور اگر گمراہی کی راہ دیکھتے ہیں ، تو اسے راہ ٹھہراتے ہیں یہ اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ، اور ان سے غافل رہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات اور آخری دن کی ملاقات کو جھٹلایا ، ان کے اعمال ضائع ہوئے جو کرتے تھے ، اسی کا بدلہ پائیں گے ۔

(ف 1) توریت میں بنی اسرائیل کی زندگی کے لئے پورا پروگرام درج تھا ہر بات کی تفصیل تھی قرآن کی اصطلاح میں توریت کے معنی صرف اس کتاب کے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی وہ صحائف جو عہد نامہ قدیم کے نام سے مشہور ہیں توریت نہیں البتہ ان میں توریت کے نصائح اور تعلیمات مذکور ہیں ۔ حل لغات : الالواح : جمع لوح ، بمعنے تختی ، یہ الواح پتھر کے تھے اس وقت خط مسماری رائج تھا ، اس لئے کتابوں کے لئے پتھر تجویز کئے جاتے ، تاکہ اس پر حروف کندہ کئے جائیں ،