7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsسراج البیان

Ayahs 7:41–42

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

دوزخ ان کا بچھونا ہے اور ان کے اوپر بالا پوش ہے ، اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ، وہی جنت میں جائیں گے ، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔

(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو متکبر ہیں ، جو محض سرکشی اور نخوت کی وجہ سے صداقت کی نعمت سے محروم ہیں ، جو دنیوی جاہ و جلال کے لئے دنیوی حظوظ ولذات کے لئے اسلام کے رتبہ عقیدت کو زینت گلو نہیں کرتے ، وہ مجرم ہیں اور میں قابل نہیں ، کہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں ، جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گذر سکتا ، اسی طرح ان کے لئے آسمان کے دروازے بند رہیں گے ۔ حل لغات : ابواب السمآء : جمع باب ، دروازہ راستہ ۔ الجمل : کے معنی عام مترجمین نے اونٹ کے کئے ہیں ، اس لئے کہ یہ معنی زیادہ متبادر نہیں ، الجمل موٹے رسے کو بھی کہتے ہیں ، یہ زیادہ صحیح معنی ہیں کیونکہ اس طرح سوئی اور رسے میں ایک تلازم قائم رہتا ہے ۔ سم : کے معنی ناکہ اور سوراخ کے ہیں ، غواش : جمع غاشیہ اوپر اوڑھنے والی چیز جس سے بدن ڈھک جائے ،
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کی خفگی بھی ہم کھینچ کے نکال ڈالیں گے ، ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس جنت کی راہ بتانی تھی ، حالانکہ ہم ہرگز نہ پاسکتے تھے اگر اللہ ہمیں راہ نہ بتاتا ، ہمارے رب کے رسول ضرور سچی بات لائے تھے ، اور ان کو آواز دی جائے گی کہ یہی جنت ہے جس کے تم اپنے اعمال کے بدلے وارث ہوئے (ف 1) ۔

(ف 1) غل کے معنی باہمی عداوت ودشمنی رکھنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ جنت کی زندگی میں دلوں میں غبار نہیں رہے گا دل صاف ہوں گے اور ہر شخص سچی اور معصوم زندگی بسر کرے گا ۔ (آیت) ” نزعنا ما فی صدورھم “۔ سے غرض یہ ہے ، کہ دنیا میں بھی دل آپس میں صاف رہنے چاہئیں اگر یہاں کدورت سے عداوت وبغض کی آگ سینے میں بھڑک رہی ہے ، تو پھر ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا کے قرب کی استعداد ہم میں موجود نہیں ۔
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے دوزخیوں کو پکار کے کہیں گے ‘ کہ جو وعدہ ہمارے سب نے ہم سے کیا تھا ، ہم نے اس کو سچ پایا ، کیا تم نے بھی وہ وعدہ جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ، سچ پایا ؟ (ف 2) ۔ کہیں گے ہاں ‘ پھر ایک پکارنے والا ان کے درمیان یوں پکارے گا کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہو ۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ، اور اس میں کجی تلاش کرتے ، اور آخرت کے منکر ہیں ۔

سچے وعدے : (ف 2) اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں اہل جنت اعتراف کریں گے کہ ہمیں جنت میں وہ سب کچھ میسر ہے ، جس کا وعدہ تھا ، اہل جہنم سے پوچھیں گے ، کیا تمہیں بھی موعودہ سزا مل رہی ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ، ہم بھی سزا بھگت رہے ہیں ، پکارنے والا پکارے گا کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہیں ، ان پر اللہ کے عتاب کی نگاہیں پڑ رہی ہیں ۔ حل لغات : مؤذن : سے مراد فرشتہ ہے جو اہل جہنم کا تعارف کرائے گا ۔
Ayahs 7:46–48

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور ان کے درمیان ایک دیوار ہے ، اور اعراف پر آدمی ہیں ، جو ہر ایک کو ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں ، اور اہل جنت کو پکار کے کہیں گے ، سل امتی ہے تم پر ، یہ ابھی جنت میں نہیں داخل ہوئے اور امیدوار ہیں (ف 1) ۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی آنکھیں اہل دوزخ کی طرف پھیری جائیں گی ، کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم میں شامل نہ کر ۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف کچھ لوگوں کو جنہیں وہ ان کے چہروں سے پہچانتے ہوں گے پکار کے کہیں گے کہ تم کو جمع کرنا اور تکبر کرنا تمہارے کام تو نہ آیا ۔

اعراف : (ف 1) جنت اور دوزخ کے بین بین ایک برزخ ہوگا جسے قرآن کی اصطلاح میں اعراف کہا جاتا ہے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ، وہاں ایسے لوگ رہیں گے ، جو جنت میں داخل نہیں ہوئے جن کو یہ معلوم نہیں ، کہ ہمیں کہاں رکھا جائیگا ، جنت والوں کو دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں ، اور جہنم والوں کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں ، ان کی خواہش یہ ہے ، کہ جنت میں رہیں ۔ بات یہ ہے کہ دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک وہ ہیں جن تک اسلام کی نعمت پہنچی اور انہوں نے قبول کرلی ، ایک وہ ہیں جن تک اسلام پہنچا مگر وہ بدبختی کی وجہ سے محروم رہے باقی سب وہ ہیں جن تک یا تو پیغام پہنچا نہیں یا پہنچا مگر غلط صورت میں لیکن بجائے خود وہ نیک تھے ہر حالت میں موحد رہے جن کی لگن دل میں موجود رہی ، اور کوشش کرتے رہے ، کہ اللہ کے دین کو معلوم کریں ، اسی اثناء میں موت آگئی زندگی نے زیادہ دیر تک وفا نہ کی ، اور انہیں حق شناسی کا موقعہ نہ ملا ، ایسے لوگ ظاہر ہے جہنم میں نہیں جائیں گے ، جنت کے بھی مستحق نہیں ہیں ، لہذا مقام اعراف میں رکھے جائیں گے ، اسلام دین فطرت ہے وہ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا ، اس لئے ضرور تھا ، کہ ایسے نیک لوگ جو معذور ہیں ، جہنم کے عذاب سے بچ جائیں ، اور ایک گونہ راحت میں رہیں ۔ حل لغات : حجاب : پردہ ، برزخ ۔ سیما : بمعنی نشان وعلامت ، مجازا بمعنے پیشانی ۔
Ayahs 7:49–52

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ وہی اشخاص ہیں جن کے بارہ میں تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ اللہ ان پر رحم نہ کرے گا ، جاؤ جنت میں تم پر کچھ خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو گے (ف 1) ۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی اہل جنت کو پکار کر کہیں گے ‘ کہ ہمارے اوپر کچھ پانی ڈالو ، یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ، اس میں سے ہمیں بھی کچھ وہ وہ کہیں گے یہ دونوں چیزیں اللہ نے کافروں پر حرام کی ہیں ۔

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنا دین کھیل تماشہ ٹھہرایا تھا اور انہیں حیات دنیا نے فریب دیا تھا سو آج ہم انہیں بھلا دیں گے جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھولے تھے اور جیسے ہماری آیات کا انکار کرتے تھے ۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے اہل مکہ کو کتاب پہنچائی ہے جس کو ہم نے علم کے ساتھ مفصل بیان کیا ہے وہ مومنین کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ۔

(ف 1) (آیت) ” ادخلوا الجنۃ “۔ سے پہلے محذوف ہے عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے کہا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ ، ” فالیوم ننسھم “۔ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ان کو بھول جائے گا کیونکہ وہ نسیان وسہو سے بلند ہے ، مقصد یہ ہے کہ ان سے بالکل اس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا کہ گویا ہم بھول گئے ہیں ۔ حل لغات : حرمھما : تحریم سے مراد ممانعت ہے یعنی اللہ نے روک رکھا ہے ۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا (اہل مکہ) ایس انتظار میں ہیں کہ قرآن کا انجام کار دیکھیں ‘ جس دن اس کا انجام کار آئے گا وہ جو اسے پہلے بھول رہے تھے یوں کہیں گے بیشک ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس سچی بات لے کر آتے تھے ، اب کوئی ہمارے شفیع ہیں کہ ہماری (ف 1) ۔ شفاعت کریں ؟ یا ہم کو دنیا میں واپس کٹ جائیں کہ جو کچھ ہم کیا کرتے تھے ‘ اس کے خلاف جا کر کریں ، بیشک انہیں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا اور جو جھوٹ باندھتے تھے ، ان سے گم ہوگیا ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ قرآن حکیم نہایت تفصیل سے دلائل بیان کرتا ہے علم وہدایت کی باتیں تکمیل اور جامعیت کے ساتھ دہراتا ہے ، اس پر بھی وہ نہ مانیں تو کیا پھر انجام کار کا انتظار ہے ۔ جب وہ وقت آپہنچے گا ، اس وقت یہ پچھتائیں گے ، اور کچھ نہ ہو سکے گا یہ چاہیں گے دوبارہ مہلت مل جائے ، کچھ لوگ بخشش کی سفارش کردیں ، اور یہ دونوں باتیں وہاں نہ مل سکیں گی ، کیونکہ حجت تمام ہوچکی ہے ۔ حل لغات : تاویل : انجام ، عاقبت ، حقیقت ، معنی ۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

تمہارا رب اللہ ہے ، جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے (ف 1) ۔ پھر عرش پر قرار پکڑا ، وہ رات کو دن سے ڈھانک دیتا ہے ، دن جلد جلد رات کو ڈھونڈتا ہے ، اور سورج اور چاند ، اور ستارے ، اس کے مطبع فرمان ہیں سن لو ، پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا حق ہے ‘ اللہ جہان کا رب بڑی برکت والا ہے ۔

تکوین : (ف 1) ایام سے مراد عرصہ ہائے دراز ہے کیونکہ عربی میں یوم کے معنی مدت مدید کے ہوتے ہیں ، قرآن کا عرف بھی یہی ہے (آیت) ” وذکرھم بایام اللہ “۔ ایام عرب تعبیر ہے معرکے کے دنوں سے شاعر کہتا ہے ، ع لنا ایام غرطوال : غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو چھ دن کے عرصے اور مدت میں پیدا کیا ہے ۔ استوی علی العرش ، بطور صفت کے نہیں بلکہ شان کے ہے ، خدا کے لئے بہت شون واصولی ہیں ، جن میں ایک شان استواء بھی ہے ۔ آیت کا مقصد توحید ہے یعنی تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمان کی بلندیوں اور زمین کی پہنائیوں کو پیدا کیا ، چاند اور ستارے جس کے مسخر ہیں جس نے سب دنیا کو بنایا ہے ، اور جس کی حکومت قائم ہے ، وہ جو تمام دنیاؤں کا یکسان مربی ہے ، نہ وہ جن کو تم پوجتے ہو ، جو بےجان ہیں ، بےروح ہیں ، جن کا کائنات میں کوئی حصہ نہیں ۔
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اپنے رب کو گڑگڑاتے اور چپکے پکارو ، حد سے بڑھنے والے اسے پسند (ف 2) ۔ نہیں آتے ۔

(ف 2) خدا کو پکارنے کے آداب یہ ہیں ، کہ دل میں خشیت ورعب ہو ، اور ریاکاری سے الگ ہو کر خدا کو پکاریں ، تاکہ اس کی تجلیات سے دل نورانی ہوجائے ۔ حل لغات : حثیثا ۔ دوڑتا ہوا ، جلدی سے ۔ تضرعا : عاجزی سے ۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو اور ڈر اور امید سے اسے ہی پکارو ، اللہ کی رحمت بھلے لوگوں کے فریب ہے (ف 1) ۔

خوف ورجا کا مقام : (ف 1) بعض لوگوں پر خشیت کا غلبہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے جلال وجبروت سے ہر آن لرزاں رہتے ہیں ، اور بعض وہ ہیں ‘ جو حریص اور مترتب ہی ، وہ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہر لحظہ خدا کے حضور میں مسرور و شاداں رہتے ہیں انہیں اللہ کی رحمت پر کامل بھروسہ ہے ، ایک گروہ وہ ہے جو رجاء وخوف کے بین بین ہے ، یہ بہترین گروہ ہے ، اس آیت میں ان کو ” محسنین “ قرار دیا گیا ہے ، اور انہیں اللہ کے قرب کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ خوف کے معنی یہ ہیں کہ اللہ سے یہاں تک ڈرو کہ اپنے تئیں ہر وقت مجرم سمجھو ، اور کبھی اس کے غضب سے نڈر نہ ہو ، دل میں اس کے جلال کا تصور آجائے ، تو کانپ جاؤ ، رجاء کا مقصد یہ ہے کہ اس کی رحمت اور نوازش سے قطعی مایوسی نہ ہو ، اپنے تئیں جنت کا واحد مستحق قرار دو ، ہر وقت قناعت ومسرت میں بسر ہو یعنی نہ خوف تمہیں مایوس کرے ، اور نہ رجا تمہیں بےعمل بنائے بلکہ اعمال میں توسط و اعتدال رہے ۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ اپنی رحمت کے آگے خوشخبری دینے کی ہوائیں بھیجا کرتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب وہ پانی کے بھاری بادل اٹھا لاتی ہیں تو ہم اس بادل کو مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں اور اس سے پانی برساتے ہیں ‘ اور اس سے ہر قسم کا میوہ نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے ، شاید تم نصیحت پکڑو (ف 2) ۔

(ف 2) معاد پر استدلال ہے یعنی جس طرح ابر کے چند چھینٹے کھیت اور باغ میں زندگی کی روح پیدا کردیتے ہیں ، اسی طرح قیامت کے روز اللہ کی رحمت سے مردہ تنوں میں زندگی پیدا ہوجائے گی ،
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو شہر ستھرا ہوتا ہے ‘ اس کے پروردگار کے حکم سے اس کی روئیدگی نکلتی ہے ، اور جو شہر برا ہوتا ہے اس سے ناقص روئیدگی ہی نکلتی ہے یوں ہم شکر کرنے والوں کیلئے پھیر پھیر کر آیتیں بیان کرتے ہیں (ف 3) ۔

(ف 3) لطیف پیرایہ میں اشارہ ہے استعداد کے اختلاف کی جانب ، کہ جس طرح پاک اور اچھی زمین میں پاکیزہ چیزیں پیدا ہوتی ہیں ، اور بری زمین میں ردی ، اسی طرح دلوں کی حالت ہے ، اگر یہ مزرع ہستی کفر ونفاق کے بیچ سے اشترا اور خالی ہے ، تو لامعالہ ایمان اور یقین کے گل وریحان پیدا ہوں گے ، اور نہ کفر و فسوق کے زقوم : حل لغات : نکدا : ہر شئے جو بمشکل مہیا ہو ۔
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ، سو اس نے کہا ، اسے قوم ، اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے میں تمہاری نسبت ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف 1) ۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے اشرفوں نے کہا ہم تجھے صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں ۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

وہ بولا ، اے قوم میں گمراہ نہیں ، لیکن جہان کے رب کا رسول ہوں ۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

اپنے رب کے پیغام تمہیں پہنچاتا ، اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں ‘ اور خدا سے میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تمہیں تعجب ہوا کہ تمہارے رب سے ایک آدمی پر جو تم میں سے ہے تمہیں نصیحت آئی ؟ تاکہ تمہیں ڈرائے ، اور تم بچو اور کہ شاید تم پر رحم ہو ۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

سو انہوں نے اسے جھٹلایا ، تب ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے ، انہیں ڈبو دیا کہ وہ اندھے لوگ تھے ۔

حضرت نوح (علیہ السلام) : (ف 1) نوح (علیہ السلام) ابو الانبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ابو البشر ہیں آپ لے تقریبا ایک ہزار سال تک قوم میں تبلیغ کی اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی ، نہایت خلوص اور محبت سے لوگوں کو راہ راست کی جانب متوجہ کیا مگر قوم یہی کہتی رہی ، غلط ہے ، آپ گمراہ ہیں اور ہمیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہیں تعجب یہ تھا کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ کر اسے کیوں نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ، اس میں کیا خصوصیات ہم سے زیادہ ہیں ، بدبختوں کو یہ معلوم نہیں تھا ، یہ اللہ کی دین ہے ، جسے چاہے ، دیدے اس کا معیار قلب کی پاکیزگی اور اعمال کی بلندی ہے یہ موہبت دل نشین ہے ، صلہ وانعام نہیں جو کسب و محنت کا نتیجہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ جتنے تکذیب کرنے والے ہیں ، ہلاک ہوں گے ، ایک کشتی بنانے کا حکم ہوا ، تاکہ نوح ، کے منانے والے اس سفینہ میں بیٹھ کر نجات حاصل کریں ۔ چنانچہ وقت آگیا زمین پھوٹ پڑی آسمان نے دوازے کھول دیئے ، آب اور باران کا وہ طوفان آیا ، کہ تمام منکرین غرق ہوگئے وہ لگ جو آنکھیں بند کرلیں ، اور حقائق نہ دیکھیں ان کی یہی سزا ہے ۔ حل لغات : الملا : معززین ۔
Ayahs 7:65–69

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف اس کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا اس نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے رسوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، کیا تم نہیں ڈرتے ؟ (ف 1) ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ، ہمیں معلوم ہوتا ہے ، کہ تو بیوقوف ہے ، ہمیں معلوم ہوتا ہے ، کہ تو بیوقوف ہے ، ہم خیال کرتے ہیں ، کہ تو جھوٹا ہے ۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

اس نے کہا اے قوم میں بیوقوف نہیں لیکن جہان کے رب کا رسول ہوں ۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

اپنے رب کے پیغام تمہیں پہنچاتا ہوں ، اور میں تمہارے لئے معتبر خیر خواہ ہوں ۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں تعجب ہوا ، کہ تمہارے رب سے ایک آدمی کے ہاتھ جو تم میں سے ہے تمہیں نصیحت آئی ، تاکہ تمہیں ڈراوئے ؟ اور وہ وقت یاد کرو ، کہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد خدا نے تمہیں جانشین بنایا ، اور پیدائش میں تمہیں پھیلا زیادہ دیا ، سو تم اللہ کے احسان یاد کرو ، شاید تمہارا بھلا ہو ۔

حضرت ہود (علیہ السلام) : (ف 1) نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کی قیادت فرمائی ان کی قوم نہایت قوی ہیکل اور مضبوط تھی ، حضر موت سے لے کر عمان تک یہ لوگ پھیلے ہوئے تھے ، آپ نے بھی یہی کہا ، اے قوم ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکو ، اس خدا کے سوا اور کون ہے جو تمہاری مشکل کشائی کرے ۔ قوم کے اکابر سے ان کو بھی یہی جواب ملا کہ بیوقوف ہو ، اور جھوٹے ہو ، اور لطف یہ ہے ، کہ مخالفت ہمیشہ اکابر نے کی ، اس لئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے ، کہ اگر یہ کامیاب ہوگیا ، تو ہمارا کبروغرور خاک میں مل جائے گا ۔ حل لغات : عمین : اندھے ، یعنی دلوں میں بصیرت کا مادہ سلب ہوگیا ۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے ‘ کہ ہم اکیلے خدا کی پرستش کریں ‘ اور جن کو ہمارے بڑے پوجتے تھے ، چھوڑ دیں (ف 1) ۔ ؟ سو جس عذاب سے تو ڈراتا ہے اگر سچا ہے ، تو لے آ ۔

(ف 1) حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کو یہ ناگوار تھا کہ وہ ایک خدا کو چھوڑ دیں ، جن کی آباء و اجداد کے عہد سے وہ پوجا کرتے چلے آتے تھے ، اس لئے انہوں نے عذاب پسند کیا ، اور توحید پسند نہ کی ، وہ معبودان باطل سے کسی طرح بھی رشتہ عقیدت منقطع نہیں کرنا چاہتے تھے ، حل لغات : ناصح : نصیحت کرنے والا ۔ امین : امانتدار ۔ ابآء : جمع اب ، باپ دادا ۔
Ayahs 7:71–72

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود (علیہ السلام) نے کہا ۔ اللہ کا عذاب اور غصہ تم پر قائم ہوچکا ہے ، کیا تم مجھ سے چند ناموں میں جھگڑتے ہو ، جو تم نے اور تمہارے بڑوں نے رکھ لئے ہیں ، خدا نے ان کی نسبت کوئی دلیل نازل نہیں کی سو تم عذاب کے منتظر رہو ، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں (ف 1) ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پس ہم نے اپنی رحمت سے ہود (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا ، اور جو ہماری آیات کو جھٹلاتے اور نہ مانتے تھے ، ان کی جڑیں کاٹ ڈالیں ۔

بت صرف نام کے ہیں ! ۔ (ف 1) (آیت) ” اتجادلوننی فی اسمآئ “۔ سے غرض یہ ہے کہ بت اور تمام دیوتا نام کے بت اور دیوتا ہیں ان کے اختیارات کچھ بھی نہیں ، یہ بھی تو ان سے نہیں ہو سکتا ، کہ مکھی اڑا لیں ، پھر تم کیوں ان کی پوجا کرتے ہو ۔