7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsسراج البیان

Ayahs 7:148–149

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنایا ، وہ ایک جسم تھا گائے کی طرح آواز کرتا تھا ، کیا انہوں نے یہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے اور نہ انہیں ہدایت کرسکتا ، اسے قبول کرلیا ، اور ظالم ہوگئے (ف 1) ۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم گمراہ ہوئے ، تب بولے ، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے ، اور ہمیں نہ بخشے ، تو ہم ضرور زیاں کاروں میں ہوئے ۔

بچھڑا : (ف 1) سامری کی گمراہ کن تعلیم سے متاثر ہو کر بنی اسرائیل نے گوسالہ کی پرستش شروع کردی جس میں سے ایک قہم کی آواز آتی تھی سامری ہوشیار آدمی تھا اس نے اسے کچھ اس ترکیب سے بنایا کہ وہ بولنے لگا ہوا اس طرح اس کے منہ سے خارج ہوتی کہ آواز معلوم ہوتی ، بنی اسرائیل سادہ اور سہل اندیش تھے ، اس لئے انہیں گوسالہ ایک معجزہ معلوم ہوا ، دل میں پہلے سے بت پرستی کی خواہش تھی ، تفصیلات اب تک پہنچی نہیں تھیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی چیخ و پکار کو انہوں نے زیادہ اہمیت نہ دنی نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کی قوم شرک کی بیماری میں مبتلا ہوگئی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوں نے یہ نہیں سوچا یہ گفتگو تو کرتا نہیں نہ راہنمائی کی اس میں استعداد ہے ، پھر پرستش کے لائق کیونکر ہو سکتا ہے ۔ حل لغات : سقط فی ایدیہ : محاورہ ہے ، جیسے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے یعنی سخت نادم اور پشیمان ہوئے ۔
Ayahs 7:150–151

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ (ف 1) ۔ اور افسوس سے بھرا ہوا واپس آیا ، تو بولا میرے بعد تم نے میری کیا بری جانشینی کی ہے ، کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے سے جلدی کی ؟ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ تختیاں ڈالدیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، وہ بولے اے میرے ماں جائے بھائی ان لوگوں نے مجھے ناتوں وسمجھا اور مجھے قتل کرنے لگے تھے ، سو تو (میری اہانت کرکے) دشمنوں کو مجھ پر نہ ہنسا ، اور مجھے ظالمون میں شامل نہ کر ۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔

پیغمبر کا غصہ : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب تورات لے کر قوم میں واپس آئے تو دیکھا سب میں بت پرستی کے جراثیم پھیل چکے ہیں اور گوسالہ پرستی کا عمل جاری ہے آپ نے نہایت غصے کا اظہار کیا ، ہارون (علیہ السلام) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور کہا یہ کیا معاملہ ہے ۔ بات یہ ہے انبیاء (علیہم السلام) میں صبر و استقلال کی استعداد عام لوگوں سے بہت زیادہ موجود ہوتی ہے مگر بےدینی والحاد ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ، ذاتی طور پر وہ ناراض نہیں ہوتے ، ان کی انفرادیت ختم ہوجاتی ہے ، ان کا غصہ اور مسرت محض اللہ کے لئے ہے ، غور کرو ، اس سے زیادہ اور کون سی بات صدمہ کی ہوسکتی ہے ، کہ روحانی اولاد بگڑ جائے ، جن کے لئے اتنی مصیبتیں برداشت کیں ، وطن چھوڑا وطن کی آسائشیں چھوڑیں آرام چھوڑا جنگل میں سکونت اختیار کی اور اب یہ لوگ گمراہ ہوجائیں ، موسیٰ (علیہ السلام) غصہ میں آگئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے جب جوابا فرمایا کہ میں معذور تھا ، مجھے انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی آپ دشمنوں کو خوش ہونے کا موقعہ نہ دیں ، تو فورا موسیٰ (علیہ السلام) کی سمجھ میں آگیا ، آپ نے اپنے اس غصہ کی اللہ سے معافی چاہی ۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے اس نوع کی جسارتیں ایک بلند نصب العین کے حصول کے لئے ہوتی ہیں ، تاکہ وہ قوم کے لئے ہر حالت میں نمونہ اور اسوہ ثابت ہو سکیں ، موسیٰ (علیہ السلام) کے غضب کو غصے میں بھی کردار وعمل کا اعلی سبق ہے ، یعنی وہ موسیٰ (علیہ السلام) جو فرعون کے مقابلہ میں نرم ہیں ، مصائب ومشکلات کو بخندہ پیشانی پر داشت کرتے ہیں قوم کی گمراہی سے طیش میں آجاتے ہیں ، اور پھر جب بھائی کی عذر خواہی سے تسلی ہوجاتی ہے فورا جناب باری میں التجاء عفو کے طالب ہوجاتے ہیں ۔ حل لغات : فلا تشمت : مصدر شمانۃ ، دشمن کی خوبی پر خوش ہونا ۔
Ayahs 7:152–154

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

جنہوں نے بچھڑا معبود بنایا ان پر ان کے رب کا غضب نازل ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت اور یوں ہی ہم جھوٹوں کی سزا دیتے ہیں (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے بدکام کئے ، پھر بعد اس کے توبہ کی ، اور ایمان لائے تو تیرا رب اس کے بعد بخشنے والامہربان ہے ۔

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا ، تو اس نے تختیاں اٹھائیں ، اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔

گاؤ پرستی ذلت ہے ! ۔ (ف 1) یہ سزا اس درجہ وموزون اور درست ہے کہ گوبنی اسرائیل میں اب یہ مرض نہیں رہا لیکن جن میں اب تک گائے کا احترام کرتی ہے ، دیکھ لیجئے قومی لحاظ سے ذلیل ہیں ، دولت اور ثروت کے باوجود ذلیل ہیں ، علم وہنر کی فروانی ہے جب بھی ذلیل ہیں ، صدہا سال سے غلام ہیں اب کچھ بیداری کے آثار ہیں مگر یاد رہے ، جب تک توہم پرستی کو نہیں چھوڑیں گے ، آزادی بہت دور ہے ۔ حل لغات : سکت : تھا رکا ، ، استعارہ ہے ، سکون ہے ۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے وعدہ کے وقت پر لانے کے لئے اپنی قوم سے ستر آدمی چنے (ف 1) ۔ پھر جب انہیں زلزلے نے پکڑا تب موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے رب اگر تو چاہتا ہے انہیں اور مجھے پہلے ہی مار ڈالتا ، کیا تو ہمارے چند احمقوں کے کام سے اب ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟ یہ سب تیری آزمائش ہے ، جسے تو چاہے اس سے گمراہ کرے ‘ اور جسے چاہئے ہدایت کرے تو ہمارا مالک ہے ، سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے ۔

(ف 1) یہ ستر آدمی وہ تھے جنہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہم جب تک خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ، مکالمہ ومخاطبہ کو نہیں جان سکتے موسیٰ (علیہ السلام) ان کو طور پر اپنے ساتھ لے گئے ، وہاں پہنے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے خواہش کی تو خدا نے آثار غضب ظاہر کئے ، پہاڑ مارے خوف وہراس کے کانپا اور زمین تھرتھرائی اور یہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوگئے ۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اللہ تعالیٰ یہ تو بیوقوف ہیں تیرے جلال و جبروت سے آگاہ نہیں ، شان توحید سے آشنا نہیں ، ان کو کیوں ہلاک کئے دیتا ہے ان کو موقع دے کہ یہ تیری دین کی اطاعت کرسکیں ، اور تیرے جلال کی گواہی دیں ، بات یہ ہے کہ اس نوع کا مطالبہ جناب باری کی بارگاہ جلالت میں جسارت ہے ، انسان کیا ، اور اس کی بساط کیا کہ رب العزت کو دیکھ سکے ، اس جہاں مطلق کا مشاہدہ کیونکر ممکن ہے ، جبکہ آنکھوں میں اس دید کی تاب ہی نہیں ۔
Ayahs 7:156–157

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے ہم تیری طرف رجوع ہوئے ، فرمایا میرا عذاب اسی پر آتا ہے جسے میں عذاب دیا چاہتا ہوں ، اور میری رحمت ہر شئے کو شامل ہے ، سو اب میں اپنی رحمت عامہ کو خاص انکے حق میں لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوۃ دیتے اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں (ف 1) ۔

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

جو اس رسول نبی امی کے تابع ہوتے ہیں جس کو وہ اپنے یہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، وہ ان کو نیک کام کا حکم دیتا اور بدی سے منع کرتا ، اور ستھری چیزین ان کے لئے حلال ٹھہراتا ، اور بری چیزیں ان پر حرام کرتا ہے ، اور ان سے اور ان کا بوجھ اور پھانسیاں اتارتا ہے جو ان پر پڑی تھیں ، سو جو اس پر ایمان لائے ، اس کی تعظیم ومدد کی ، اور اس نور (قرآنی) کے جو اس پر اترا ہے ، تابع ہوئے وہی نجات پائیں گے ۔

رحمت خداوندی کی وسعتیں : (ف 1) (آیت) ” انا ھدنا الیک “۔ سے غرض یہ ہے کہ ہر بات میں اللہ کی ہدایت اور کرم فرمائی ضروری ہے ، ورنہ گمراہی کا احتمال ہے ۔ ” ورحمتی وسعت کل شیء “۔ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا غضب اس کے جذبہ رحم سے بسا اوقات مغلوب ہوجاتا ہے ، اور دب جاتا ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ ایمان واتقاء کا مظاہرہ کیا جائے وہ لوگ جو صحیح معنوں میں مومن ہیں ، جن کے دلوں میں اتقاء و خشیت کی درشتی ہے ، جو باقاعدہ زکوۃ ادا کرتے ہیں ، اور مال و دولت کی محبت انہیں آپے سے باہر نہیں کردیتی وہ جو پاکباز اور پرہیزگار ہیں ، اعمال صالحہ جن کا وطیرہ اور شغل ہے ایمان جن کے دلوں میں اعتقاد محکم کی شکل میں موجود ہے وہ خدا کی رحمت کے سزاوار ہیں ان پر ہمیشہ اللہ کی رحمتیں چھائی رہتی ہیں ، دنیا ودین میں وہ کبھی نہیں بھٹکتے ، روح اور جسم کی تمام مسترئیں نہیں حاصل ہیں ، اور وہ خوش ہیں کہ اللہ کو انہوں نے پالیا ، اور اللہ سے ان کی دوستی ہے ۔ حل لغات : الامی : ان پڑھ ۔ اصر : بوجھ ۔ اغلال : جمع غل قید ، طوق زنجیر ، استعارہ ہے رسم و رواج کی سختیوں اور دشواریوں سے ۔
Ayahs 7:158–159

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

تو کہہ لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں ، اس اللہ کا جس کی سلطنت آسمان اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی جلاتا اور مارتا ہے ، سو تم اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ(ف 1) ۔ جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے ، اور تم اس کے تابع ہوجاؤ ، شاید تم ہدایت پاؤ(ف 2) ۔

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایک جماعت ہے جو حق کی طرف رہبری کرتے اور اسی پر انصاف کرتے ہیں ۔

رسول امی : (ف 1) توراۃ وانجیل میں بیشمار پیشگوئیاں حضور ﷺ کے متعلق مرقوم ہیں ، یہودی خوب جانتے تھے کہ حضور ﷺ اپنے دعاوی میں سچے ہیں ، منصف عیسائی بھی آپ کے مرتبہ ومقام سے آگاہ تھے ورقہ بن نوفل کا اعتراف ، عبداللہ بن سلام کا اسلام اس حقیقت پر گواہ ہے ۔ توراۃ میں سرخ وسپید ، نبی کا ذکر ہے ، ” محمدیم “ کا لفظ موجود ہے دس ہزار قدسیوں کا حوالہ ہے : آتشین شریعت ، اور نئے یروشلم ، کی پیشگوئی ہے ، یہ بھی لکھا ہے بحری ممالک اس کی راہ تکیں گے ، انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) دنیا کی سردار کی خوشخبری سناتے ہیں اور برنباس کی انجیل میں جو مسیح کا حواری تھا ، صاف طور پر حضور ﷺ کا نام لے کر پیشگوئی کی گئی ہے ۔ قرآن کا یہ دعوے بالکل بجا اور درست ہے کہ توراۃ وانجیل میں امی رسول کے لئے پیشگوئیاں موجود ہیں ، ” سرخ وسپید “ حضور ﷺ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے ؟ محمد کس کا نام ہے ، دس ہزار صحابہ فتح مکہ کے وقت کس کے ساتھ تھے ؟ آتشین شریعت کس کی پیش کردہ ہے ؟ کیا حضور ﷺ نے بیت اللہ کو قبلہ قرار دے کر نئے یروشلم کو آسمان سے نہیں اتارا ، اور پھر کائنات میں سردار سردار دو جہان کے سوا اور کون ہے ؟ آپ کی خصوصیات حسب ذیل ہیں : 1۔ خیر اور نکوئی کو دنیا کے کناروں تک پھیلاتا اور برائی کے خلاف ہمہ گیر جہاد کرنا ۔ 2۔ طیبات اور پاکیزہ اشیاء کی ترویج ، خبائث اور مضر صحت واخلاق چیزوں کو حرام وناقابل استعمال قرار دینا یعنی ایک پاکیزہ اور مطہر شریعت کی تاسیس ۔ 3۔ دنیا میں رسم و رواج کے بوجھ کو ہلکا کرنا ، جہالت وتقلید کے طوق کو گردن سے دور کرنا ، اور انسانوں کو نہایت آسان ٹھیٹ اور خالص دین کی طرف بلانا ۔ (ف 2) مقصد یہ ہے کہ اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو ، روحانی مدارج میں ترقی چاہتے ہو ، اور یہ چاہتے ہو کہ خدا کی رضا سے بہرہ اندوزی کا موقع ملے ، تو پھر ضروری ہے کہ اس رسول امی کو مانو ، اس کے نقش قدم پر چلو ، اس کی زندگی کو اپنے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دو کیونکہ اس کے پاس نور ہے ، ہدایت ہے راہنمائی ہے روشنی ہے فلاح و بہبود ہے ۔
Ayahs 7:160–161

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں بارہ قبیلوں پر بانٹا جو بڑی بڑی جماعتیں تھیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم نے پانی مانگا ، تو ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار ، پھر اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے تھے ، اور سب نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا تھا ، اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا ، اور ان پر ترنجین اور بٹیریں نازل کیں ، کھاؤ ستھری چیزیں جو ہم نے تمہیں دیں ‘ اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا مگر اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے (ف 1) ۔

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا گیا کہ اس شہر (اریحا) میں بسو ، اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ اور بول حطۃ (گناہ کرگئے) اور دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو ، ہم تمہارے گناہ بخش دین گے ، اور نیکوں کو زیادہ دیں گے ۔

(ف 1) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل کو جنگل میں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے وحی سے اشارہ پاکر ایک پتھر پر لٹھ مارا ، تو بارہ چشمے پانی کے پھوٹ نکلے ، اور چونکہ بنی اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ تھے ، اس لئے پانی کی فروانی کی وجہ سے ان کی سیرابی کا خاصا انتظام ہوگیا ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اضرب کے معنی چلنے کے ہیں ، مقصد یہ تھا موسیٰ (علیہ السلام) لاٹھی ٹیکتے ہوئے پہاڑ پر چڑھیں وہاں بارہ چشمے بہتے ہوئے پائیں گے ۔ یہ تاویل قطعا غلط ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ معجزات اور خوارق اللہ کا انکار ہے ، دلائل یہ ہیں :۔ 1۔ ضرب کے معنی چلنے کے ہوتے ہیں تو اس وقت صلہ ب نہیں ہوتا ، فی ہوتا ہے ، قرآن میں ہے (آیت) ” واذا ضربتم فی الارض “۔ یا ” لا یستطیعون فی الارض “۔ 2۔ ضرب کے ساتھ عصا کا تلازم ظاہر کرتا ہے کہ مارنے کے معنی ہیں ۔ 3۔ (آیت) ” فانبجست “ میں فا تعقیب فعل کے لئے ہے خود انجاس کا لفظ حودث فعل پر دال ہے ورنہ یہ کہنا چاہئے تھا کہ فتجد ھناک اثنتی عشرۃ عینا جاریۃ “۔ یعنی وہاں چشمے جاری ہوں گے پھوٹ پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ یہ ضرب مالعصاکا نتیجہ ہے ۔ (آیت) ” وظللنا علیھم الغمام “۔ سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل چونکہ کھلے میدان میں رہتے تھے ، اس لئے آفتاب کی تمازت سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بادل کا سایہ کردیا ، تاکہ وہ خدا کی حمایت میں دکھ نہ اٹھائیں ، حل لغات : من وسلوی : وہ چیزیں جو بنی اسرائیل کے لئے طعام وغذا کا کام دیتی تھیں ۔
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

سو جو ان میں ظالم تھے ، انہوں نے اس لفظ کے سوا جو انہیں بتلایا گیا تھا ، اور ہی لفظ بدل دیا ، تب ہم نے ان کے ظلم کے سبب آسمان سے ان پر عذاب بھیجا (ف 1) ۔

تبدیل قول : (ف 1) بنی اسرائیل کو آبادی میں رہنے کے لئے مشروط کردیا تھا کہ وہ توبہ و استغفار کے جذبات کو زندہ رکھیں ، یعنی شہری زندگی میں جا کر اللہ کو اور دین کو بھول نہ جائیں ، مگر جب وہ شہر میں بس گئے تو ان میں وہی خوابیاں پیدا ہوگئیں ، جو شہری زندگی کا خاصہ تھیں ، یہی تبدیل قول ہے ۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور یہود سے اس بستی کا حال پوچھ ، جو سمندر کے کنارہ پر تھی ، جب وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن زیادتی کرنے لگے تھے ، جب ان کا سبت کا دن ہوتا ان کی مچھلیاں پانی پر آکے تیرتی تھیں ، اور جب سبت نہ ہوتا ، تب نہ آتیں ، یوں ہم نے انہیں آزمایا ، اس لئے کہ وہ فاسق تھے (ف 2) ۔

قانون اور اس کا منشاء : (ف 2) یہود کے روحانی امراض میں ایک مرض حیلہ جوئی بھی ہے سبت کا دن اللہ تعالیٰ نے اطاعت وفرمانبرداری کے لئے مقرر کیا ، یہودیوں سے کہا گیا تھا ، کہ سبت کا دن کا ملا فراغت سے گذاریں ، اس ان کوئی دنیوی کام نہ ہو ، صرف اللہ کا ذکر وشغل ہو ، تورایت پڑھیں اور دوسروں کو سنائیں ، مگر ان کی نافرمانی نے اعتداء فی السبت کی راہ نکال لی ، وہ مقام ایلہ میں رہتے تھے ، جو پانی کے قریب واقع ہے ، جب انہوں نے دیکھا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں کثرت سے نمودار ہوتی ہیں ، اور توریت کی رو سے اس دن شکار ممنوع ہے ، تو انہوں نے یہ کیا کہ کنارے کنارے گڑھے کھود لئے تاکہ رات کو جب مچھلیاں ان گڑھوں میں آجائیں تو ہم شکار کرلیں اور آسانی سے پکڑ لیں ، اس صورت میں ان کا خیال تھا ، کیونکہ اس سے سبت کا احترام جاتا رہتا ، جس کی رعایت واجبات میں تھی ، بات یہ ہے کہ قانون کے الفاظ اور قانون کا منشاء دو الگ الگ باتیں ہیں ، ہو سکتا ہے قانون کے الفاظ میں ، جامعیت نہ ہو ، اس حالت میں یہ دیکھنا چاہئے کہ قانون کا منشاء اور مقصود کیا ہے ، یہودیوں نے الفاظ کو تو دیکھا اور یہ نہ دیکھا کہ اللہ کا مقصد کیا ہے ، سبت کے دن کاموں سے اس لئے روکا تھا کہ توجہ الی اللہ کا جذبہ پیدا ہو ، اور اگر دن بھر مچھلیوں کا خیال دل و دماغ پر مستولی رہے تو سبت کا کیا فائدہ ۔ حل لغات : شرعا : جمع شارع ، واضح ۔
Ayahs 7:164–165

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا ، تم کیوں ایسے لوگوں کو نصیحت کرتے ہو ، جنہیں اللہ ہلاک کرنا ، یا سخت عذاب پہنچانا چاہتا ہے ، کہا تمہارے رب کے سامنے الزام اتارنے کیلئے نصیحت کرتے ہیں ، اور شاید کہ وہ ڈریں (ف 1) ۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس کو بھلا دیا ، جو انہیں سمجھایا گیا تھا ، تو ہم نے بدی سے منع کرتے والوں کو بچا لیا ، اور ظالموں کو برے عذاب میں گرفتار کیا ، اس لئے کہ وہ فاسق تھے ۔

(ف 1) اہل کتاب میں ایک طبقہ بااحساس بھی تھا ، وہ ان کو منکرات کے ارتکاب سے روکتا اور وعظ ونصیحت سے سمجھانے کی کوشش کرتا ، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ، جو یاس وقنوط میں ڈوبے رہتے ہیں ، ان سے نہ خود کچھ ہوتا ہے اور نہ دوسرے کو کچھ کرنے دیتے ہیں ، چناچہ وہ کہتے بھلا ایسوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ ، جو بالکل ہلاکت کے کنارے کھڑے ہیں ، وہ جوابا کہتے ، محض فریضہ تبلیغ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اور ممکن ہے ان کے دلوں میں گداز پیدا ہو ، مقصد یہ ہے کہ بہرحال مبلغین اور اہل علم کو اپنے فرائض کو محسوس کرنا چاہئے ، یہ ضرور نہیں کہ ان کی کوششیں بار آور بھی ہوں ۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب وہ منع کئے ہوئے کاموں میں بڑھ گئے تب ہم نے ان سے کہا کہ پھٹکارے ہوئے بندر بن جاؤ(ف 2) ۔

(ف 2) جب یہودیوں نے فسق وفجور میں حد سے بڑھ کر تجاوز کیا اور ناصحین کی نصیحتوں کو بھی ٹھکرا دیا ، جب حجت تمام ہوچکی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعتوں کو مسخ کردیا جسم وروح میں تبدیلی پیدا ہوئی ، اور دنیا والوں کے لئے عبرت وموعظت کا سامان بن گئے ۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور یاد کر جب تیرے رب نے پکار دیا کہ وہ ان یہودیوں پر قیامت کے دن تک اس شخص کو کھڑا رکھے گا ، جو انہیں برا عذاب پہنچاتا رہے گا تیرا رب جلد سزا دیتا ہے ، اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 3) ۔

(ف 3) یہودیوں کی ذلت آج تک قائم ہے ، ہر زمانے میں ان کے لئے ایک بخت نصر موجود ہے ان کی حرص وآز کو دیکھ کر ہر شخص نفور ہے ، اور یہ اللہ کا بدترین عذاب ہے ۔ حل لغات : بئیس : بؤس سے ہے یعنی تکلیف دہ ۔
Ayahs 7:168–170

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے یہود کو زمین میں گروہ گروہ کر کے متفرق کردیا ہے ان میں بعض شخص نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے ہیں ، اور ہم نے انہیں نعمتوں اور مشقتوں میں آزمایا ہے ، شاید وہ پھریں (ف 1) ۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف لوگ کتاب کے وارث ہوئے کہ ادنے زندگی کا اسباب اختیار کرتے ، اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف ہوجائے گا ، اور اگر ویسا ہی اور اسباب ان کے پاس آجائے اسے لے لیں ، کیا وہ عہد جو کتاب میں ہے ، ان سے نہیں لیا گیا ، کہ اللہ کی نسبت سوائے حق کے اور کچھ نہ بولیں گے ، اور جو کتاب میں ہے پڑھ چکے ہیں اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے ، کیا تم سمجھتے نہیں ؟

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب پکڑے ہوئے ہیں ، اور نماز پڑھتے ہیں ، ہم نیکوں کا ثواب ضائع نہ کریں گے ۔

دین فروشی : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان میں دونوں قسم کے لوگ ہیں صالح اور نیک بھی ہیں ، اور وہ بھی ہیں ، جو دین فروشی میں دنیا کے متاع قلیل پر مغرور ہیں اور لطف یہ ہے ، کہ باوجود اس بددینی کے مغفرت و بخشش کے امیدوار بھی ہیں ، حالانکہ اللہ کا کرم ان لوگوں سے مختص ہے ، جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور جن کا آخرت پر مضبوط ایمان ہے ، جو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں اور اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں کرتے ، ان لوگوں سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے سے عہد لیا گیا تھا ، کہ دین کی بابت ہمیشہ صداقت وشعار رہیں ، اور کبھی باطل اور جھوٹ کی اشاعت نہ کریں ، مگر یہ ہیں ، کہ دنیا کی مسرتوں کے لئے آخرت کی نعمتوں سے محروم ہیں ۔ آخر میں ان لوگوں کو خوشخبری سنائی ہے جو ان فتنوں کے ہوتے ہوئے بھی کتاب وصلوۃ کا احترام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حق کی اشاعت کے لئے چن لیا ہے ، اور جو برابر اللہ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں ، اور یہ مصلح ہیں ، ہم ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتے ۔ حل لغات : خلف : برا جانشین ۔ عرض : سامان ۔
Ayahs 7:171–172

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے جڑ سے اکھاڑ کے پہاڑ ان پر اٹھایا تھا ، جیسے کہ سائبان ہوتا ہے ، اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ہم نے کہا تھا) کہ جو ہم نے تم کو دیا ہے اسے زور سے پکڑو ، اور جو اس میں لکھا ہے اسے یاد کرتے رہو) شاید تم ڈرو (ف 1) ۔

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تیرے رب نے آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا تھا (یعنی بروز میثاق) اور ان کی جانوں پر انہیں گواہ کیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ وہ بولے تھے ، ہاں ہے ہم گواہ ہیں ، یہ گواہی اس لئے ہم نے لی کہ تم بروز قیامت نہ کہو ‘ کہ ہم اس سے بیخبر تھے ،

(ف 1) یعنی عہد قدیم میں ان لوگوں سے وعدہ لیا گیا تھا کہ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہیں ، اس سے استفادہ کریں ، اور دل کی حالتوں کو سنواریں ، مگر ان لوگوں نے ہر عہد کو ٹھکرایا ، اور میثاق کی مخالفت کی ، پہاڑ کو سر پر اٹھا کر کھڑا کرنے میں حکمت یہ تھی کہ کتاب کی مخالفت سے جو نتائج پیدا ہونے والے ہیں ، ان کو ابھی سے دیکھ لیں ، مقصد یہ تھا کہ اگر تواریت کو یہ پس پشت ڈال دیں گے ، تو مصیبتوں کے پہاڑ ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں گے ، اور یہ مقابلہ نہ کرنے پائیں گے ، اور اگر اطاعت وشعار رہیں گے تو پہاڑ کی سی بلندی و رفعت انہیں حاصل ہوگی ، غرض جبر اور سختی نہ تھی ، حقیقت واقعی کی طرف اشارہ تھا ، کیونکہ اس میں خدا کی حکمت ہے وہ اگر چاہتا تو تمام دنیا کو اسلام پر جمع کردیتا ، مگر اللہ کی حکمت و دانائی نے ایسا نہیں چاہا ، تاکہ لوگ آزادی سے اسلام کی برکتوں سے متمتع ہوں ۔ حل لغات : نتقنا : نتق کے معنی کھینچنے اور اکھاڑنے کے ہیں ، علامہ راغب کہتے ہیں ، نتق الشیء حذبہ ونترعہ ، بعض لوگوں نے ورفعنا فوقھم الطور کے معنی جو بلند کرنے کے کئے ہیں ، غلط ہیں صحیح معنی بلندی پر لاکھڑا کرنے کے ہیں ، جیسا کہ نتقنا سے معلوم ہوتا ہے ۔
Ayahs 7:173–175

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادوں نے ہم سے پہلے نکالا ہے ، اور ہم ان کے بعد کی اولاد ہیں ، تو کیا تو جھوٹوں کے کام پرہ میں ہلاک کرتا ہے ؟ (ف 1) ۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور یوں ہم آیات کھولتے ہیں اور شاید وہ پھیریں ۔

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور تو انہیں اس شخص کی خبر پڑھ سنا جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں ، سو وہ ان کو چھوڑ نکلا پھر اس کے پیچھے شیطان لگا ، اور گمراہوں میں ہوگیا ۔

عہد فطرت : (ف 1) ان آیات میں بتایا کہ عہد ومیثاق کا تعلق فطرت وتکوین سے ہے ، انبیاء محض اس لئے مبعوث ہوتے ہیں ، تاکہ وہ اس عہد کو تاکید و توضیح کے ساتھ ان کے سامنے دوبارہ پیش کردیں ، ورنہ انسانوں کے ضمیر میں اور ان کی گھٹی میں توحید اور اعتراف حق ودیعت ہے ، یعنی اللہ نے جب سے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی رگ رگ اور نس نس سے اعتراف و ایمان کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، ناممکن ہے ، کہ انسان اللہ سے بےنیاز ہو سکے ، اور اس کی احتیاج کو برملا محسوس نہ کرے ۔ عہد الست سے یہی مقصود ہے ، (آیت) ” قالوا بلی “۔ میں قول زبان حال سے تعبیر ہے ، جس طرح کہا جاتا ہے ، اذا متلاء الحوض قال قطنی ۔ یعنی انسانی بناوٹ انسانی اعضاء وجوارح میں قدرت الہی کا مظاہرہ ، بند بند اور جوڑ جوڑ میں حکمت و دانائی کا ظہور ، یہ اس بات کا بولتا ہوا ثبوت ہے کہ غالب ودانا خدا کی یہ سب صنعت گری ہے ۔ حل لغات : نباء : مشہور بات ، نبوہ سے مشتق ہے ، جس کے معنی بلندی کے ہیں ، اور جو چیز بلند ہوتی ہے مشہور ہوتی ہے ۔
Ayahs 7:176–177

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو بوسیلہ ان آیات کے ہوگا درجہ بلند کرتے ، لیکن وہ زمین کی طرف جھکا اور اپنی خواہش کا پیرو ہوا ، سو اس کی مثال کتے کے ہے اگر تو کتے پر بوجھ لادے تو وہ ہانپتا ہے اور جو اسے چھوڑ دے تو بھی ہانپتا ہے ، یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، سو تو قصے سنائے جا ، شاید وہ فکر کریں (ف 1) ۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جنہوں نے ہماری آیات جھٹلائیں ان کی مثال بری ہے ، اور وہ اپنی ہی جانوں کا نقصان کرتے ہیں ۔

(ف 1) معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں کوئی شخص مشہور تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم وفضل سے نوازا مگر جب اس نے رجوع عام دیکھا تو پاؤں پھسل گئے ہواوہوس کی پیروی شروع کردی ، نتیجہ یہ ہوا ، کہ اللہ کی نظروں سے گر گیا ، قرآن حکیم نے نام نہیں لیا ، مقصود حاصل ہے ، یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ جو علم و سلوک کی چند منزلیں طے کرلینے کے بعد گمراہ ہوجاتے ہیں نفس کی خواہشیں ان پر غالب آجاتی ہیں ، وہ روحانی رفعت کی بجائے نفسانی پستی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ یہود کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہوگئی تھی اسی لئے فرمایا (آیت) ” ذالک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا “۔ یعنی بالکل یہی حالت ان مکذبین کی ہے ، یا تو شریعت کے طالب ہیں ، کتاب الہی کے حافظ وعالم ہیں ، یا پھر ہوائے نفس کی پیروی ہے گویا کسی کروٹ چین نہیں ، ان کی حالت نفسی کتے کی طرح ہے کہ ہر حالت میں پریشان ہیں ، نہ عمل کی توفیق میسر ہے نہ فسق وفجور سے مطمئن ۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جسے اللہ راہ دکھائے ، وہی راہ پاتا ہے ، اور جسے اللہ گمراہ کرے وہی زیاں کار ہیں ۔ (ف 2) ۔

(ف 2) غرض یہ ہے کہ جب تک توفیق الہی شامل حال نہ ہو ، ہدایت کا حصول ناممکن ہے اور توفیق الہی کے حصول کے لئے طلب صادق اور اخلاص شرط ہے جو ان لوگوں میں موجود نہیں ۔ حل لغات : اخلد الی الارض : زمین میں دھنستا چلا گیا ، یعنی رضیت پسندی اختیار کرلی ۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے آدمیوں اور جنوں میں اکثروں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے ، ان کے دل ہیں جن سے سمجھتے نہیں ، اور ان کی آنکھیں ہیں ان سے دیکھتے نہیں ‘ اور ان کے کان ہیں ان سے سنتے نہیں وہ مثل چارپایوں کے ہیں ، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ وہی غافل لوگ ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں وضاحت کردی کہ جو لوگ گمراہ ہیں اور جہنم کے قابل ہیں ، وہ وہ ہیں ، جن کے دل ہیں ، مگر غوروفکر کے عادی نہیں ، آنکھیں ہیں ، مگر حقائق محسوسہ کو نظر انداز کر جاتے ہیں ، کان ہیں ، مگر سماعت حق کی قوت سے محروم ہیں گویا بالکل چوپائے ہیں جن کا مقصد صرف اولے مقاصد حیات کا حصول ہے یعنی غفلت وجمود کی انتہاء (آیت) ” اولئک ھم الغفلون “۔
Ayahs 7:180–185

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے سب نام اچھے ہیں ، سو تم ان سے اسے پکارو ، اور انہیں چھوڑ دو ، جو اس کے ناموں میں کجی کی راہ چلتے ہیں ، وہ اپنے کئے کی سزا پائیں گے (ف 2) ۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری خلقت میں ایک گروہ ہے جو حق کی طرف راہ دکھلاتے اور اسی پر انصاف کرتے ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات جھٹلائیں ہم آہستہ آہستہ انہیں (موت میں) کھینچیں گے ، ایسا کہ انہیں معلوم نہ ہوگا ۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں انہیں صلت دوں گا ، میرا داؤ پکا ہے ،

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا وہ فکر نہیں کرتے کہ ان کا صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون نہیں ہے ، وہ تو صریح ڈرانے والا ہے ۔

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا وہ زمین آسمان کی سلطنت میں ‘ اور جو شئے اللہ نے پیدا کی ہے نظر نہیں کرتے ؟ اور نہ اس بارہ میں ، کہ شاید ان کی اجل نزدیک آگئی ہو ، پھر قرآن کے بعد وہ کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے ؟

خدا کے نام : (ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ، اور ان معنوں میں قیاسی ہیں ، کہ پاکیزہ اور جائز نام جو دراصل ترجمہ ہوں ان اسماء کا جو کتاب وسنت ہیں وارد ہیں ، لائق قبول ہیں ۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جسے اللہ نے بہکایا اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور وہ انکی گمراہی (ف 1) ۔ میں سرگردان چھوڑ دیتا ہے ۔

(ف 1) اضلال اللہ کی جانب جو منسوب ہے تو اس لئے کہ تمام اشیاء کا خالق حقیقی وہی ہے ورنہ مقصود یہ نہیں کہ وہ تبارک وتعالیٰ گمراہی کو پسند کرتا ہے ، غرض یہ ہے کہ ان لوگوں سے توفیق ہدایت چھن جاتی ہے ، یہ ایک پیرایہ بیان ہے ۔ حل لغات : قلوب : سے مراد قرآن کی طرف عقل وفکر ہے چاہے وہ دماغ ہو چاہے دل ۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

تجھ سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ کب قائم ہوگی ، تو کہہ اس کا علم تو فقط میرے رب کو ہے ، وہی اس کے وقت پر اسے کھول دکھائے گا وہ گھڑی آسمان و زمین میں بھاری بات ہے ‘ تم پر آئے گی تو اچانک آئے گی ، تجھ سے ایسے پوچھتے ہیں گویا تو اس کا متلاشی ہے ‘ تو کہہ اس کا علم تو فقط خدا کو ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (ف 1) ۔

(ف 1) مکہ والوں میں ایک مرض یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ کچھ نہ کچھ پوچھتے رہتے ، اور الجھاتے رہتے ، غرض یہ ہوتی ، کہ عوام کو بتایا جائے کہ دیکھو تمہارا رسول سوالات کا جواب نہیں دیتا ۔ قیامت کے متعلق اکثر پوچھتے رہتے ، اور الجھاتے رہتے ، غرض یہ ہوتی کہ عوام کو بتایا جائے ، کہ دیکھو تمہارا رسول سوالات کا جواب نہیں دیتا ۔ قیامت کے متعلق اکثر پوچھتے کہ وہ کب ہے اللہ نے متعدد مواقع پر جواب دیا ہے ، کہ قیامت کا صحیح صحیح ، علم اللہ کو ہے ، کوئی فرد بشر نہیں جانتا ، کہ کب دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہوجائے ۔