26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsسراج البیان

Ayahs 26:224–227

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں (ف 2) کی بات وہی مانتے ہیں جو گمراہ ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تونے نہیں دیکھا کہ وہ (شاعر) ہر میدان (مضامین) میں سرمارتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور وہ باتیں کہتے ہیں جو نہیں کرتے !

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر وہ (شاعر) جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور بعد ظلم سہنے کے بدلا لیا (تو) ان کی شاعری میں مضائقہ نہیں اور عنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ الٹتے ہیں

ف 2: حضور کے متعلق ایک شبہ یہ بھی تھا کہ آپ شاعری میں اور محض دقیق قسم کی باتوں سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں ۔ ورنہ دراصل ان میں کوئی صداقت نہیں ارشاد فرمایا ۔ کہ تم لوگ منصب الموت سے آگاہ نہیں ۔ تم جانتے کہ کہ نبوت کس قدر اعلیٰ درجے کی چیز ہے ۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ شعراء کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا اتباع یس قماش کے لوگ کرتے ہیں ! نبوت اور شعاری میں کیا نسبت ۔ نبوت تو سراسر عمل کا نام ہے ۔ اور شاعری ہمہ گمراہی وبے عملی ۔ الشعراء کا کوئی خاص نصب العین نہیں ہوتا ۔ وہ محض بیکار اور بےعمل لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ہر رو میں بہ جاتے ہیں ۔ بخلاف اس کے انبیاء سراپا فکر کا مجسمہ اور نہایت سلیم الطبع ہوتے ہیں ۔ اور ان کے سامنے ایک نصب العین بھی ہوتا ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں ۔ اس آیت سے نفیس شاعری کی مذمت مقصود نہیں ۔ بلا شعراہ کی نفسیاتی حالت کا تجزیہ کرنا منظور ہے تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ نبوت اور شاعری میں مابہ الامتیاز کیا ہے ! الغاون غاو کی جمع ہے ۔ کمینے گمراہ ۔