26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsسراج البیان

Ayah 26:148

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے گاہے نازک ہیں

حل لغات :۔ طلعھا عظیم ۔ یعنی پھل کے بوجھ کی وجہ سے خوشے ٹوٹنے کو ہیں ۔ یا جن کے خوشے لطیف وتازک ہوتے ہیں ۔
Ayahs 26:149–152

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں میں تکلف سے گھر تراشتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور بیباک لوگوں کا حکم نہ مانو

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

فارھین ۔ فریہ کی جمع ہے ۔ جس کے معنے نہایت شاد ذہنی مرد کے ہیں ۔ وبمعنے صداقت اور جمال ۔ الفارحۃ ۔ خوبصورت اور جوان لونڈی کو کہتے ہیں
Ayahs 26:153–160

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

بولے سوائے اس کے نہیں کہ تجھ پر تو کسی نے جادو (ف 1) کیا ہے

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو بھی ہماری مانند ایک آدمی ہے ۔ سو اگر تو سچا ہے ۔ تو کوئی نشان لا

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

کہا یہ اونٹنی ہے پانی پینے کی ۔ ایک باری اس کی ہے اور ایک مقرروں کی باری تمہارے لئے ہے

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو بری طرح ہاتھ نہ لگانا ۔ کہ ایک بڑے دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر پچھتاتے رہ گئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو انہیں عذاب نے آپکڑا بیشک اس بیان میں نشانی ہے ! اور ان میں اکثر مانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب وہی غالب مہربان ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

قوم لوط نے رسولوں کو جھٹلایا

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اونٹنی کو نشان مقررہ کرنے کے معنے بھی یہ تھے ۔ کہ دیکھیں ان میں رواداری کا جذبہ موجود ہے یا نہیں ۔ اس لئے جب اونٹنی کے مارے جانے سے یہ ثابت ہوگیا ۔ کہ یہ لوگ حضرت صالح سے کسی نوع کا تعلق رکھنا گوارا نہیں کرتے ۔ اور ان میں اتنی انسانیت بھی نہیں کہ ان کی اونٹنی کو گھاٹ سے پانی پینے دیں ۔ تو اللہ کا عذاب آیا اور یہ لوگ مٹادیئے گئے ارشاد ہے کہ اس آیت سے مکہ والوں کو عبرت اور بصیرت ہونی چاہئے تھی مگر ان کی محرومی کا یہ عالم ہے کہ اکثر ایمان کی دولت سے بہرہ ور نہیں ہوئے ۔ حل لغات : مسحرین : سحر سے ہے ۔ جادو زدہ ۔ اور آسیب زدہ ۔
Ayahs 26:161–165

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟1

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں اس سر تم سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا ۔ میری مزدوری تو صرف جہانوں کے رب پر ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم جہانوں کے مردوں پر دوڑتے ہو ؟

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اخلاقی مشن 1: حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور ایک خاص اخلاقی مشن کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے ۔ ان کا اخلاقی نصب العین یہ تھا ۔ کہ سدوسیوں کے جذبہ ناپاک کی اصلاح کی جائے ۔ اور ان کے غیر فطری رجحانات کو فطرت کے صحیح اور پاکیزہ راسلے کی جانب منتقل کردیا جائے ۔ بات یہ تھی کہ سدومی ہوس اور شہوت کے مجسم پیکر تھے ان کے دلوں سے مذہب کا احترام اٹھ چکا تھا ۔ روحانیت بالکل مفقود تھی ۔ اور گو وہ بظاہر انسان تھے ۔ مگر جذتاب وخیالات کے اعتبار سے بالکل حیوان تھے ۔ وہ زندگی کو محض وسیلہ عیش و عشرت سمجھتے ۔ اور ہر وقت معصیت میں مبتلا رہتے ۔ حضرت لوط نے اس صورت حالات کو دیکھا ۔ اور ان کو اس فعل شنیع سے روکا ۔ فرمایا کم بختو ! اللہ نے تمہاری جنس ضروریات کی تکمیل کے لئے عورتوں کو پیدا کیا ہے ۔ یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کو چھوڑ کر لونڈوں کے پیچھے بھاگے پھرتے ہو ۔ آخر اس تجاوز اور غیر طبعی مشاغل سے تمہارا مقصد کیا ہے ۔ میں تمہاری ان حرکات کو قابل نفرت سمجھتا ہوں ۔ اور تمہارے اعمال کا سخت مخالف ہوں ۔ ان بدبختوں نے بجائے اس کے کہ اس گناہ سے باز آتے ، اور توبہ کرتے ، حضرت لوط کی نصیحتوں کو ماننے سے انکار کردیا ۔ اور کہا : کہ اگر آپ نے وعظ ونصیحت کے اس سلسلہ کو بند نہ کیا ۔ تو ہم آپ کو اس بستی سے نکال باہر کریں گے ۔
Ayahs 26:166–168

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور اپنی بیویوں کو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں چھوڑتے ہو ؟ بات یہ ہے کہ تم ایسے لوگ ہو کہ حد سے باہر نکل گئے ہو

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

بولے اے لوط اگر تو باز نہ آیا ۔ تو تو ضرور جلاوطن کیا جائے گا

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

کہا بیشک میں تمہارے افعال کا دشمن ہوں

حل لغات :۔ عدون ۔ تجاوز کرنے والے ۔ حداعتدال سے بڑھنے والے ۔
Ayahs 26:169–178

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے رب (ف 1) جو یہ کرتے ہیں اس کے وبال سے مجھے اور میرے گھر والوں کو بچا

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ باقی رہنے والوں میں رہی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر ایک مینہ برسایا ۔ سو ان ڈرائے ہوؤں کا کیا برا مینہ تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس بیان میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ماننے والے تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب وہی غالب مہربان ہے

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

بن کے رہنے والوں کے رسولوں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہا ۔ کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لئے امانت دار پیغمبر ہوں

ف 1: حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ سے پناہ مانگی ۔ اور دعا کی کہ اللہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ان ظالموں سے مخلصی عطا فرما ۔ اور ان کی بداعمالیوں کے وبال سے نجات دے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ ان لوگوں پر پتھروں کی سخت بارش ہوئی ۔ اور یہ ہمیشہ کے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بداخلاقی بھی قوم کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اخلاق دشمنی کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ۔ اس وجہ اہم ہے کہ اس کے لئے ایک خاص پیغمبر مبعوث اور مامور کیا گیا ۔ کیا مسلمانوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان واقعات کو کیوں بیان فرماتے ہیں ؟ آخر لوط (علیہ السلام) کی قوم کے غیر فطری رجحانات ہمارے لئے کیوں قابل تشریح ہیں ؟ کیوں ان کے اس گندے مذاق کی تشہیر ضروری سمجھی گئی ۔ بلکہ کئی دفعہ انسان کو بیان فرمایا ! اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا ۔ کہ ایک وقت آئے گا ۔ جب کہ مسلمانوں میں بھی یہ مرض پھیلے گا ۔ اور وہ کذبات وخیالات کے لحاظ سے بالکل سدومیوں کے ہم مرتبہ ہوں گے ۔ اور ان کی طرح پاکبازی کو نفرت کے قابل سمجھیں گے موجودہ تہذیب اور کلچر کی وجہ سے قوم کے بیشمار بچے اس ابتلائے عظیم میں مبتلا ہیں ۔ نسلیں کمزور ہورہی ہیں ۔ حوصلہ اور جسارت کے دعوے تقریباً ختم ہیں ۔ کیا علمائے قائدین اس مرض کے کے ازالہ کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) سے سبق لیں گے اور آئندہ نسلوں کو ہلاکت وتباہی کے عذال سے نجات دلائینگے ۔
Ayahs 26:179–181

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو (ف 1) اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں تم سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا ۔ میری مزدوری تو صرف جہانوں کے رب پر ہے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

پیمانہ بھر کردو ۔ اور نقصان دینے والے نہ بنو

ف 1: معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب ایکہ بادیہ پیما لوگ تھے اور ان کا کوئی مستقل مسکن نہ تھا یہی وجہ ہے کہ ان کو اصحاب ایکہ سے موسوم کیا گیا ۔ ایکہ کے معنے درختوں کے اجتماع اور جھنڈ کے ہوتے ہیں ۔ دوسرے قصوں اور اس میں ایک بات امتیاز کی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ان سب قصوں میں پیغمبروں کو ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ جیسے اخوھم نوح اخوھم ھوداخوھم صالح ۔ اخوھم لوط ۔ مگر اس قصے میں کہا گیا ہے ۔ اذ قال لھم شعیب ۔ جس کی وجہ مفسرین نے یہ بیان کی ہے ۔ کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) قومیت کے اعتبار سے ان لوگوں میں سے نہیں تھے ۔ مگر اس سے زیادہ موزوں اور دقیق وجہ یہ ہے کہ اصل میں انبیاء کو اخوان قوم باعتبار قومیت کے نہیں کہا گیا ۔ بلکہ بااعتبار اس شفقت اور محبت کے کہا گیا ہے ۔ جو انبیاء کو اپنی امت کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اور اس میں یہ حکمت بھی پنہاں ہے ۔ کہ لوگ باوجود انتہائی عقیدت اور منزلت کے ان کو دائرہ بشریت کے اندر سمجھیں ۔ اور ان کے مرتبے کو حد سے زیادہ بڑھائیں ۔ حضرت شعیب کے لئے اخ کا لفظ غالباً اس لئے استعمال نہیں فرمایا ۔ تاکہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق معلوم ہو کہ ان کی بدمعانگی کی وجہ سے ان کے ہی کا رستہ اخوت ان سے منقطع ہے ۔ اور جب تک یہ لوگ معاملات میں دیانت دار نہ ہوں گے اخوت ان میں قائم نہ ہوسکے گی ۔ اور یہ برابر منتشر اور متفرق افراد کی صورت میں رہیں گے ۔ اس لفظ کے یہاں ترک کردینے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ۔ کہ ہر جرم بدمعالگی کے جرم سے نسبتاً ہلکا ہے ۔ پیغمبر کا رشتہ اخوت سے منقطع نہیں ہوا کرتا ۔ مگر یرمعالنگی کی صورت میں پیغمبر کسی قوم سے کسی قسم کا ناطہ نہیں رکھتے ۔ بات یہ تھی کہ اصحاب الایکہ تجارت پیشہ لوگ تھے ۔ جنگلوں میں پھر کر تجارت کرتے اور اپنا وقت گزارتے ۔ مگر ان میں یہ برائی پیدا ہوگئی کہ ماپ تول میں بددیانتی کرنے لگے ۔ اور اس طرح نظام تمدن سے دشمنی کرنے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا ۔ تاکہ ان کو اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی جائے ۔ کہ رشتہ انسانیت کو استوار کرنے کے لئے دیانتداری شرط اول ہے اور یہ ہرگز ضروری نہیں کہ تجارت کے لئے خواہ مخواہ بےایمانی کی جائے ۔ تفسیر متدین اشخاص نے یہ بات غلط طور پر مشور کردی ہے ۔ کہ تجارت اور دیانت دو مختلف چیزیں ہیں ۔ حالانکہ حقیقت میں دیانت وامانت دونوں چیزیں تجارت کو فروغ دینے کے لئے البنزلہ راس المال کے ہیں ۔ اس لئے جو قوم معاملات اور لین دین میں حدوہ حدود اخلاق کو ملحوظ نہیں رکھتی کبھی سچی اور حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی ۔ جھوٹ سے تجارت کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ عارضی طور پر کوئی شخص بھی کسی کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائے مگر ہمیشہ لوگوں کو دھوکے میں رکھنا ناممکن ہے ۔ حضرت شعیب نے جب ان سے کہا کہ ماپ تول میں دیانتداری سے کام لو ۔ کیونکہ صحیح تمدن کا یہی تقاضا ہے تو انہوں نے اس صاف گوئی کو ناگواری کے ساتھ سنا اور انکار کردیا ۔ نتیجہ وہی ہوا جو سنت اللہ کے مطابق عذاب میں مبتلا ہوگئے ۔ اور مٹ گئے ۔
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور سیدھی ترازو سے تولو

حل لغات :۔ القسطاس ۔ ترازو ۔ آلہ وزن ۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ۔ اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو

ولا تبخسوا ۔ تجس سے ہے جس کے معنے نقصان پہنچانے کے ہیں