26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsسراج البیان

Ayahs 26:71–76

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بت پوجتے ہیں پھر سارے دن ان کے پاس لگے بیٹھے رہتے ہیں

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

کہا جب تم پکارتے ہو کیا وہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تمہیں کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان ؟

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

بولے نہیں ۔ پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو اس طرح کرتے پایا ہے

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بھلا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ جنہیں تم پوجتے ہوں

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم بھی اور تمہارے اگلے باپ داد سے بھی

حل لغات :۔ اصناما ۔ صنم کی جمع ہے بمعنی بت عکفین ۔ غکیف سے ہے بعض کسی بات پر جم جانا ۔
Ayahs 26:77–82

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

وہ تو میرے (ف 1) دشمن ہیں ۔ مگر جہاں کا رب (دوست ہے)

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا ۔ سو وہی مجھے راہ بتاتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے چنگا کرتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے مارے گا پھر مجھے جلائے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جس سے مجھے توقع ہے ۔ کہ انصاف کے دن میرے گناہ بحشے

ف 1:۔ یہ تو میرے اور تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔ ان کی عبادت اور پرستش کرنا خود اپنی ذات سے عداوت کرنا ہے ۔ ہاں اللہ اپنے ماننے والوں کا دوست ہے ۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ مجھے اسی نے خلعت وجود بخشا ۔ اور وہی دین ودنیا کی مشکلات میں میری راہ نمائی کرتا ہے ۔ وہی مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں ۔ تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے ۔ وہی مجھے مارے گا ۔ اور قیامت کے دن پھر مجھے زندہ کرلے گا ۔ اسی میں یہ متوقع ہوں ۔ کہ قیامت کے دن میری لغزشوں پر خط عفو کھینچ دے گا ۔ اور مجھے اپنی آغوش رحمت میں لے لیگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو بتایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ اور سچے معملوں میں ہمارا اور تمہارا معاون اور مددگار ہے ۔ یہ مٹی اور ریت کے بت تو نہ اپنی مدد آپ کرسکتے ہیں ۔ اور نہ دوسروں کی ۔
Ayahs 26:83–86

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے رب مجھے حکم دے اور نیکوں میں ملا

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور پچھلوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے نعمت کے باغ کے وارثوں میں شامل کر

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو بخش دے وہ گمراہوں میں تھا

حکما سمجھ بوجھ ۔ پیغمبرانہ سلسلہ ۔
Ayahs 26:87–88

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور جس (ف 1) دن مردے اٹھائے جائیں مجھے رسوا نہ کر

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال کام آئے گا ۔ نہ بیٹے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء 1: حضرت ابراہیم جب اللہ تعالیٰ کا صحیح تخلیل پیش کرچکے ۔ اور حمدوثنا کے فرائض ادا کرچکے ۔ تو اپنے باپ کے لئے دعا کی ۔ فرمایا : اے مولا ! میرا باپ راہ راست پر گامزن نہیں ہے اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائیے ۔ اور اس دن کی رسوائی وذلت سے بچائیے ۔ جس دن نہ مال و دولت کے انبار کام آسکیں گے ۔ اور نہ بیٹے ہی سود مند ثابت ہوں گے ۔ الا من اتی اللہ بقلب سلیم سے مقصود یہ ہے کہ وہاں عالم حشر میں بجز سلامی قلب کے اور کوئی چیز مخلصی اور نجات کا باعث ہیں ہوسکتی ۔ اور سل امتی قلب تعبیر ہے ۔ تذکیر باطن سے اخلاق کی بلندی اور رفعت سے عقائد کی صحت اور پاکیزگی سے ۔
Ayahs 26:89–90

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے پاس بےعیب دل لے کر آئے گا

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور جنت متقیوں کے پاس لائی جائیگی

حل لغات : بقلب سلیم : اس کے معنی ڈسنے کے بھی ہیں ۔ یعنی وہ دل جس کو عشق الٰہی کے سانپوں نے ڈسا ہو ۔ قتیل محبت ۔
Ayahs 26:91–93

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور گمراہوں (ف 2) کے لئے دوزخ ظاہر کی جائے گی

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا جنہیں تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

خدا کے سوا کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا بدلے لے سکتے ہیں

ف 2: یعنی اللہ کے نیک بندے اس کے مقام فضا کے بالکل قریب ہوں گے ۔ وہ دیکھیں گے ۔ کہ جنت کی تمام نعمتیں ان کے سامنے ہیں ۔ اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں ۔ جنہوں کے دنیا میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نہ الفت کی ۔ اور شرک کی لعنتوں میں گرفتار رہے ۔ اپنے کو جہنم کے نزدیک تر پائیں گے ۔ اور محسوس کریں گے ۔ کہ جہنم ان کے روبرو منہ کھولے کھڑا ہے ۔
Ayah 26:94

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ (ان کے معبود) اور سب گمراہ اس میں اوندھے منہ گرائے جائیں گے

فکبکبو : کے معنے برتن کو اوندھا کردینے کے ہیں ۔ اور کبکب اسی کی تضعیف ہے ۔
Ayahs 26:95–100

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس (ف 3) کا تمام لشکر بھی

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہ وہاں آپس میں جھگڑتے ہوئے یوں کہیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ اللہ کی قسم ہر صریح گمراہی میں تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ ہم تم (معبودوں) کو جہان کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو سوا ان گنہگاروں کے اور کسی نے گمراہ نہیں کیا

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

سو اب ہمارا نہ کوئی سفارشی ہے

ف 3: گمراہوں اور مشرکوں سے کہا جائے گا ۔ کہ وہ تمہارے معبودوں میں باطل کہاں ہیں ۔ کیا آج وہ اس بےچارگی اور بےکسی میں تمہاری مدد کرسکتے ہیں ۔ اور تم کو جہنم کے عذاب سے بچا سکتے ہیں اور یا وہ خود کو اللہ کے غقضب سے اور غصہ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟ لاکلام آج کسی شخص میں جرات نہیں ۔ کہ اس کے غیظ وغضب کا سامنا کرسکے ۔ آج تمام معبود ان باطل کو ان کے عقیدتمندوں کے ساتھ جہنم میں اوندھے منہ گرادیا جائے گا ۔ اور تمام ابلیسی لشکر آگ میں جھونک دیا جائے ۔ آج وہ لوگ معلوم کریں گے کہ یہ بت پرستی محض فریب نفس کی ترنگیاں تھیں ۔ ورنہ حاکم وقار اور مختار و قادر ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ یہ لوگ اس وقت اپنے مقتداؤں اور گمراہ معبودوں سے کہیں گے کہ واللہ ہم نے تم کو خدا کا شریک قرار دے کر سخت غلطی کا ارتکاب کیا ۔ یقینا ہم گمراہ ہوگئے ۔ اور ہماری گمراہی کا موجب یہ ہمارے پر معاصی پیشوا ہی ہیں ۔ یعنی وہ بڑے بڑے مذہبی جرائم پیشہ لوگ ۔ جنہوں کے توحید کی روشنی سے ہمیں ہمیشہ بیگانہ رکھا ۔ اور یہ حالت ہے ۔ کہ ان مدعیان طریقت میں سے کوئی شخص جرات سفارش نہیں کرتا ۔ وہ لوگ جو دنیا میں ہم کو تسلیاں دیتے تھے ۔ اور اپنے کو نجات ومخلصی کا اجار دار سمجھتے تھے ۔ اور وہ جو اپنے اور اپنے مریدوں کے سوا سب کو جہنمی قرار دیتے تھے ۔ آج خود عذاب الٰہی کا شکار ہیں ۔ اور ان کی زبانیں گنگ ہیں ۔ ان سے اتنا بھی تو نہیں ہوسکتا ۔ کہ اپنے عقیدت مندوں اور نیاز مندوں کی طرف سے کچھ کہہ سن لیں ۔ دوستی اور آشنائی کے تمام تعلقات منقطع ہیں ۔ یہ لوگ اس وقت اس خواہش کا اظہار کریں لے ۔ اگر اب ہمیں دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ تو ہم پکے مومن ثابت ہوں گے ۔ ارشاد ہے ۔ کہ اب اس سے مانگی اعمال کی صورت میں ان کو حقیقت حال کا احساس ہونا محض بےکار ہے ۔ اور اس پورے قصہ میں عبرت وتذکیر کی ایک بہت بڑی نشانی ہے ۔ مگر ان لوگوں کے لئے جو دولت ایمان سے بہرہ ور ہیں ۔ یہ مشرکین مکہ ان کوائف کو سن کر بھی اسلام کی سچائیوں کا اعتراف نہیں کرتے ۔ اور ان کے دلوں سے تبدیلی اور اصلاح کی استعداد یکسر مفقود ہوچکی ہے ۔ جنود ۔ جند کی جمع ہے ۔ معنے لشکروگروہ و مددگار ۔
Ayahs 26:101–105

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی غم خوار دوست

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

سو کاش ہمارے لئے ایکبار پھر دنیا میں لوٹ کر جانا ہو کہ ہم ایمان لانے والوں میں ہوں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

اس بیان میں البتہ نشانی ہے ۔ اور اکثر ان میں ماننے والے نہ تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب وہی غالب مہربان ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا

حل لغات :۔ حمیم ۔ مخلص ۔ خویش ۔
Ayahs 26:106–107

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ۔

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

بیشک تمہارے لئے میں امانتدار پیغمبر ہوں

اخوھم ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتے ہیں ۔ کہ انبیاء شفقت اور محبت کے اعتبار سے کس درجہ قریب ہوتے ہیں ۔