26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsسراج البیان

Ayahs 26:108–113

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا (ف 1) مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس (پیغام) سے کچھ اجرت نہیں مانگتا ۔ میری اجرت صرف جہانوں کے رب پر ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہم تجھے بتائیں حالانکہ کمینے لوگ تیرے تابع ہیں

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

بولا مجھ کو اس کے معلوم کرنے سے کیا غرض جو وہ ہمیشہ کرتے رہے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب پوچھنا صرف میرے رب ہی کا کام ہے اگر تم سمجھو

حضرت نوح 1: ان آیات میں حضرت نوح کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے حیرت انگیز استقلال کے ساتھ قوم کے کفر اور ان کی سرکشی کا مقابلہ کیا ۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک مسلسل رشدوہدایت کی دعوت دی اور اپنے خلوص اور محبت سے مجبور ہوکر باکمال دلسوزی منکرین حق کو سچائی کی طرف بلایا ۔ ان کا زمانہ ٹھیک طور پر تو معلوم نہیں تاریخ کی اصطلاح میں یہ آدم ثانی ہیں ۔ البتہ بائیبل اور قرآن سے ان کے تبلیغی کارناموں پر روشنی پڑتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے یہ اس دور کے داعی ہیں ۔ جب کہ انسانوں کی عمریں طبعاًبہت زیادہ طویل ہوتی تھیں ۔ ارشاد ہے ۔ کہ حضرت نوح نے قوم سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ تم کیوں پاکبازی کی زندگی بسر نہیں کرتے ۔ کیا تمہارے دلوں میں اللہ کا ڈر نہیں ہے ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اور تمہارے لئے زبردست امانت دار اور معتم ہوں ۔ میں تم کو اللہ سے اتقاوحیشثت کی دعوت دیتا ہوں ۔ اور چاہتا ہوں ۔ کہ میری اطاعت شعاری میں سعادت دنیوی اخروی حاصل کرو ۔ اور اس پر میں پیشہ ور قائدین کی طرح کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ اللہ جو تمام کائنات کا مالک اور پروردگار ہے ۔ مجھے فراموش نہیں کرے گا ۔ میں اپنی کسی حاجت کے لئے تمہارے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا ۔ بلکہ مخلصانہ دلسوزی اور محبت سے کہتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت قبول کرو ۔ نوح کے مخاطبین نے مجھے یہ وعظ سنا ۔ تو کہنے لگے ۔ کہ ہم تمہارے دین کو قبول کرکے ذلیل اور کمینے نہیں بننا چاہتے ۔ کیونکہ جس قدر لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں وہ سب کے سب ارزل پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ حضرت نوح نے فرمایا : کہ تکبر و غرور کے نشہ میں چور سرمایہ دارو ۔ ایک داعی حق وصداقت کو لوگوں کے پیشوں سے کیا بحث ؟ کیا عزت و وجاہت کا تعلق صرف دولتمندی اور حرام خوری سے ہے ۔ کیا وقار و حشمت ، فسق وفجور کا نام ہے اور کیا تم محض اس لئے رذیل نہیں ہو ۔ کہ تمہارے پاس باوجود تمام جرائی اور گناہوں کے دولت ہے ! ارشاد ہے : کہ ان لوگوں کا معاملہ اللہ سے ہے ۔ میں کوئی حق نہیں رکھتا کہ ان کو اپنے پاس سے بھگادوں ! اور کہہ دوں کہ چونکہ تم بڑے بڑے منصوبوں اور عہدوں پر فائز نہیں ہو ۔ اس لئے اللہ کے نزدیک بھی تمہارا کوئی مرتب نہیں ۔ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں ۔ اور مجبور ہوں ۔ کہ یکساں طور پر اللہ کا پیغام پہنچادوں ۔ دنیا کے ان حریص بندوں نے جب مساوات کا وعظ سنا ۔ تو بےتاب ہوگئے ۔ کہنے لگے ۔ کہ ہم ایسی تبلیغ و اشاعت کو نہیں چلنے دیں گے ۔ اگر آپ نے چندے اور ان مشاغل کو جاری رکھا ۔ تو سنگسار کردیئے جاؤ گے ۔
Ayahs 26:114–118

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو نکال نہیں سکتا

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صرف کھول کر سنانے والا ہوں

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

بولے اے نوح اگر تو باز نہ آیا ۔ تو پتھروں سے مارا جائے گا

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

بولا اے رب میرے میری قوم نے مجھے جھٹلایا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

تو میرے اور ان کے درمیان ایک قطعی فیصلہ کر اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو جو مومن ہیں نجات دے

حل لغات :۔ بطارد ۔ طہود سے ہے ۔ معنے ہتا دینا ۔ دور کردینا ۔
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھرپور کشتی میں بچایا

حل لغات :۔ الفلک المشحون ۔ بھری ہوئی کشتی ۔
Ayahs 26:120–125

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ان باغیوں کو ڈبو دیا1

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس بیان میں البتہ نشانی ہے ۔ اور ان میں بہت لوگ مانتے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب وہی غالب مہربان ہے

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عاد نے رسولوں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لئے امانتدار پیغمبر ہوں

(ف 1) بھلا وہ لوگ جن کی عمر کا حاصل بھی تقوی واعظ کا جذبہ ہے کیونکر اس قسم کی تعلیم کو قبول کرسکتے تھے ۔ حضرت نوح نے ان کے اس بغض وعناد کو دیکھ کر اللہ سے دعا کی ۔ کہ مولا یہ لوگ تکذیب کی آخری حد کو پہنچ چکے ہیں ۔ اور اب اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ۔ اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیصلہ کرلیجئے ۔ چنانچہ حضرت نوح کی پکار سنی گئی ۔ اور یہ منکرین باحسرت و یاس طوفان میں نیست ونابود ہوگئے ۔ ارشاد ہے کہ اس قصہ میں بھی مشرکین مکہ کے لئے نصیحت وتذکیر کی نشانی ہے ۔ مگر ان میں اکثر لوگ اثر پذیری کی دولت سے محروم ہیں ۔
Ayahs 26:126–127

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا (ف 1) مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری صرف جہان کے رب پر ہے

قوم عاد کی تباہی 1: انسانی فطرت کا عام قانون ہے ۔ کہ جب انسان کو مال و دولت سے بہرہ وافر قرار دیا جائے ۔ اور اس کی اہلیت سے زیادہ اس کو نوازا جائے ۔ تو پھر یہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں تفافر وتکبر کے جذبے ۔ دنیا کو دائمی اور ابدی سمجھنے کا تخیل اور تفردو اختصاص کے ولولے پیدا ہوجاتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ہود مبعوث ہوئے ۔ تو قوم عاد کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ مال و دولت کی فراوانی کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے ۔ یہ ہر بلندی پر عیش و عشرت کے قصر تعمیر کرتے ۔ تاکہ یہ ان کی عزت اور وقعت کے نشان قرار پائیں ۔ اور وہ بڑے بڑے قلعے بناتے ۔ تاکہ نفس کو یہ فریب دے سکیں ۔ کہ یہ مقام عارضی وفانی نہیں ۔ بلکہ آفات وبلیات سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رہنے والا ہے ۔ اور اختصاص انقرہ کے لئے عام لوگوں پر سختی کرتے اور یہ چاہتے کہ تمام راحتیں اور امام ان کی قوم سے مختص ہوجائیں ۔ حضرت ہود نے ان کی اس مادیت پرستی کو دور کرنے کے لئے تقویٰ کا نسخہ تجویز فرمایا ۔ اور ان کو یقین دلانے کی کوشش کی ۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اور تم سے کسی معاوضے کا طالب نہیں ! کیونکہ معاوضہ طلب کرنے کی صورت میں تبلیغ بالکل بےاثر ہوجاتی ہے ۔ یہ واضح رہے ۔ کہ پیغمبر دنیا والوں سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا ۔ اور نبوت کو جلب متخت کا ذریعہ نہیں بناتا ۔ وہ خالصتہً اللہ کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیتا ہے ۔ اور اپنی خدمات اس کے حضور میں پیش کردیتا ہے ۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ لوگ دنیا طلب میں اس کو بھی عام انسانوں کی طرح دوڑتا ہوا دیکھیں ۔ وہ دولت کو تقسیم کرنے کے لئے آتا ہے ۔ دولت کو سمیٹنے کے لئے نہیں آتا ۔ اس کا نصب العین یہ ہوتا ہے کہ ماننے والوں میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے جذبات پیدا کئے جائیں اور ان کے دلوں میں مادیت کے خلاف نفرت وحقابرت کا جوش پیدا کیا جائے ۔
Ayah 26:128

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم ہر ٹیلے پر کھیلنے کو ایک نشان بناتے ہو

حل لغات :۔ ریع ۔ ٹیلہ ۔ بلندی آیہ ۔ نشان ۔ یعنی اونچی اونچی عمارتیں ۔ جو ان کی فارغ البالی کی علامت ہوں
Ayahs 26:129–136

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور ایسے استوار محل بناتے ہو کہ گویا تم ہمیشہ رہو گے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب وہ کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو ظلم سے پنجہ مارتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

اور اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جو تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

مدد کی تمہاری جو پایوں اور بیٹوں سے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغوں او چشموں سے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

بیشک میں تمہاری نسبت ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ بولے خواہ تو نصیحت کرے یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو ہمارے لئے سب برابر ہے

مصانع ۔ جمع مصنع ۔ قلعے ۔ محلات ۔ حوض ، اور کنوئیں ۔
Ayahs 26:137–138

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ نصیحت دینا اور کچھ نہیں اگلوں کی عادت ہے

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر عذاب نہ آئے گا

حل لغات :۔ خلق الاولین ۔ پہلوں کی عادت ۔ گزشتہ لوگوں کا وتیرہ ۔
Ayahs 26:139–143

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

پس انہوں نے اسے جھٹلایا (ف 1) تو ہم نے انہیں ہلاک کیا بیشک اس بیان نشانی ہے اور تمہیں بہت لوگ ماننے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب البتہ وہی غالب مہربان ہے

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لئے امانتدار پیغمبر ہوں

ف 1: حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب قوم سے کہا ۔ کہ مادیت پرستی میں اس قدر غلو کرنا تمہاری ہلاکت کا باعث ہوگا ۔ تو وہ ہنسے ۔ اور کہا ۔ کہ جناب آپ کے وعظ کا ہمارے دلوں پر قطعاً کوئی اثر نہیں ۔ ہم تو عیش و عشرت کی زندگی کو ایک معمولی اور ناگریز بات جانتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں یہ بہت بڑا جرم نہیں ۔ پہلی قوموں میں اس نوع کے جذبات موجود تھے ۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ۔ کہ ہم عذاب الٰہی سے ڈریں ۔ اور خائف ہوں ۔ قوم کے ان متبکرانہ جواب پر حضرت ہود بالکل مایوس ہوگئے ۔ تب اللہ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور ان کی الٹ دی گئیں اور تفاخر وتکبر کے علم سرنگوں کردیئے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ عاد کی تمام شان و شوکت خاک میں مل گئی ۔ اور نشہ دولت و قوت کے سرشار فنا کی آغوش جاسوئے ۔
Ayahs 26:144–147

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو (ف 1) اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس پر کچھ مزدوری نہیں مانگتا ۔ میری مزدوری صرف جہان کے رب پر ہے

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا تم ان چیزوں میں جو یہاں ہیں نڈر چھوڑ دیئے جاؤ گے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں

قوم ہود (علیہ السلام) کی سرکشی اور ہلاکت 1: جس طرح کفر و انکار کی ماہیت یکساں ہے ۔ اسی طرح ایمان ویقین کی حقیقت ایک ہے ۔ جس طرح آدم (علیہ السلام) نے توحید کی اولین شمع روشن کی ۔ اسی طرحانبیا ما بعد نے تفرید کا اجالا پیش کیا ۔ چنانچہ آپ انبیا کی تعلیم میں ایک نوح کی وحدت دیکھیں گے ۔ اور محسوس کریں گے ۔ کہ ان لوگوں کا منبع ایک ہے ۔ ماخذ ایک ہے ، تعلیم ایک ہے ، اور پیغام ایک ہے اور یہ واقعہ ہے کہ صداقت ہمیشہ حقیقت ہوتی ہے ۔ حضرت ہود نے قوم کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دی تھی ۔ اسی طرح حضرت صالح نے فرمایا : کہ دل میں تبدیلی پیدا کرو ۔ قلب سے دنیا کی محبت نکال دو ۔ اور اس کو معارف ایمان سے معمور کردو ۔ اور اتنا پاکیزہ بناؤ کہ گناہ اس میں اپنا نشیمن نہ سناسکے ۔ میں تو معاوضہ نہیں چاہتا ۔ کیا تم سمجھتے ہو ۔ کہ تمہیں دنیا کے عیش و عشرت کے سامان سے ہمیشہ یونہی بہرہ ور ہونے کا موقع دیا جائے گا ۔ اور تم کو چشموں اور باغوں اور کھیتوں اور درختوں میں بلا کسی باز پرس کے جو نشاط رکھا جائے گا ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکے گا ۔ مقصود یہ ہے کہ اللہ کے قانون مکافات کی تشریح اور از مکاذات عمل غافل مشو کی تلقین کی جائیے ۔ وتنحتون من الجبال بیوتا فرھین سے غرض یہ ہے کہ تم نے نشاط و بہیت اور تفریح ونزہیت کے پہاڑوں میں اپنے مکانات بنائے ہیں ۔ مگر روح کی نشاط کے لئے بھی تم نے کچھ شوچا ہے ۔ ارشاد ہے کہ اللہ کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ۔ اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کرو ۔ ولا تطیعوا امر المسرفین ۔ سے مراد یہ ہے کہ نافرمانوں کا کہا نہ مانو ۔ اسراف قرآن کی اصطلاح میں حدود اعتدال سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں ۔ اور مسرف وہ لوگ ہیں جو حدود شریعت کو ملحوظ نہیں رکھتے ۔ اور خواہشات نفس کے پیرو ہیں ۔