26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsسراج البیان

Ayahs 26:184–188

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور اگلی مخلوقات کو پیدا کیا

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

اور بولے سوا اس کے نہیں کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کیا ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو تو ہماری مانند ایک آدمی ہے ۔ اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

سو اگر تو سچا ہے ۔ تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

بولا میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو

الجبلۃ ۔ مخلوق ، خلقت ۔
Ayahs 26:189–192

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

پھر انہوں نے اسے جھٹلایا تب سائبان کے ان کے عذاب نے انہیں آپکڑا بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بیشک اس بیان میں نشانی ہے ۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب وہی غالب مہربان ہے

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے

حل لغات :۔ یوم الظلۃ ۔ ان پر بادل سائبان کی طرح چھا گیا ۔ اور وہی بات ان کے لئے عذاب کا باعث ہوا ۔ اس لئے عذاب کے ان کو سائبان کا دن کہا جاتا ہے ۔
Ayahs 26:193–195

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اسے روح الامین (ف 1) (جبرائیل) نے اتارا ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تیرے دل پر تاکہ تو ڈرانے والوں میں ہوجائے

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

فصیح عربی زبان میں

ف 1: قصص واخبار کا ذکر کرکے یہ بتایا کہ یہ وہ کتاب ہے ۔ جو اقوام و ملل کے حالات پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں زندگی کے ہر شعبہ پر کماحقہ بحث ہے ۔ جو انتہا درجے کی فصاحت وبلاغت سے متصف ہے اور جو تعلیمات اور پیغام کے لحاظ سے کائنات کی جامع ترین کتاب ہے ۔ اللہ کا پیغام ہے جو عوام مادی وروحانی سب کا یکساں رب ہے ۔ اس کو روح الامین یعنی جبرائیل لائے ہیں ۔ جبرائیل الامین اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں ۔ اور تبلیغ احکام پر نظر رہیں آپ کے قلب پر اللہ کی جانب سے تعلیم کا نزول ہوتا ہے ۔ وہ اللہ سے آیات سن کر آپ ﷺ کے دل تک پہنچادیتے ہیں ۔ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی یعنی ایک ایسی زبان میں جو روحانی مطالب کو دا کرنے کے لئے بہت زیادہ موزون ہے ۔ اور اس کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔ اسی کو آتشین شریعت کہا گیا ہے ۔ اس کی آمد آمد کے ترانے گائے گئے ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے ۔ اور ایک سردار آنے والا ہے ۔ ایک سرخ وسپید انسان کے آنے کی پیشگوئی ہے ۔ اور یہ وضاحت مذکور ہے ۔ کہ دنیا میں ایک نیا یروشلم آباد ہونے والا ہے ۔ اس بات کا بھی ذکر ہے کہ نئے نئے ممالک اس صاحب شریعت کی راہ تکیں گے ۔ اور ساری دنیا اس کے نغموں سے گونج اٹھے گی ۔ ارشاد ہے کہ ان حقائق سے بنی اسرائیل کے علماء آگاہ ہے اور وہ جانتے ہیں ۔ کہ یہ سب باتیں صحیح اور درست ہیں ۔ فرمایا ہے کہ گو عربی میں قرآن کو نازل کرنے کی یہ مصلحت تھی کہ مطالب کو زیادہ وضاحت کے ساتھ اس میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری زبانیں ادائے مطالب کیے حق میں اس کی ہمسری نہیں کرسکتیں ۔ تاہم اگر اس کو کسی دوسری زبان میں ہم نازل کرتے ۔ تو یہ لوگ بہرآئنہ منکر رہتے ۔ کیونکہ ان کے سب و دماغ کی حالت کچھ اس نوع کی ہے ۔ کہ پذیرائی حق کے لئے کوئی گنجاس نہیں رکھتے ۔ ان کی طبیعتیں مسخ ہوچکی ہیں اور رسدوہدایت کی استعداد چھن چکی ہے ۔ اس کے بعد یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ لوگ عذاب الیم کے منتظر ہیں ۔ اور جب تک یہ عذاب نہ آئے گا ۔ یہ لوگ سچائی اور حق کا اعتراف نہ کریں ۔ قرآن حکیم کے متعلق یہ کہنا کہ انسانی کام سے بھراپا نا واقفیت اور جہالت پر دال ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان جو زیادہ تعلیم یافتہ ماحول میں پیدا نہیں ہوتا جو کسی کے سامنے زانوئے تہہ نہیں کرتا ۔ جس کے حالات عادی اور معمولی نہیں ۔ وہ یکایک حکمت وفلسفہ اگلنے لگے اور اقوام وعلی کے فلسفہ موت وحیات پر متبصرانہ فیصل فرمانے لگے ۔ کیا یہ ہوسکتا ہے ۔ کہ ایک ایسی کتاب انسانی دماغ کا نتیجہ ہو ۔ جو فصیح وبلیغ بھی ہے ۔ آسان بھی ہے اور تمام انسانی ضروریات وداعیات کو پورا کرنے والی بھی ہے ۔
Ayahs 26:196–197

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن اگلے پیغمبروں کی کتابوں میں مذکور ہے

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان (اہل مکہ) کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ۔ کہ اس قرآن کو علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں

حل لغات :۔ زبو ۔ زبور کی جمع ہے بمعنے کتاب یا نوشت ۔
Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر نازل کرتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

پھر وہ اس کو ان (غریبوں) کے سامنے پڑھتا تو اس پر بھی ایمان نہ لاتے

الا عجمین ۔ مفرداعجم یعنی عرب لوگ ۔ اعجم اس شخص کو کہتے ہیں جو فصاحت کے ساتھ بات نہ کرسکے ۔ اور پورے طور پر بات کرنے پر قادر نہ ہو ۔ خواہ اہل عرب ہو ۔
Ayahs 26:200–213

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح کا انکار ہم نے مجرموں کے دلوں میں جما رکھا ہے

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ قرآن کو نہ مانیں گے یہاں تک کہ دکھ کی مار دیکھیں

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

پھر وہ ان پر ناگہاں سمجھائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پھر کہیں کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

پس کیا وہ ہمارا عذاب جلد چاہتے ہیں

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو اگر اور چند برس ہم انہیں بہرہ مند رکھیں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان کے پاس وہ آفت آئے جس کا ان سے وعدہ تھا

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو ان کا چند برس بہرہ مند ہونا ان کے کیا کام آئے گا

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا کہ اس کے ڈرانے والے (پہلے) نہ آئے ہوں

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت دینے کے لئے اور ہم ظالم نہیں

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس قرآن کو شیطان نے نہیں اتارا

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور انہیں لائق نہیں (کہ قرآن اتاریں اور وہ ایسا اتار نے کی) قدرت نہیں رکھتے

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

بیشک وہ تو (قرآن) سننے سے بھی دور کئے گئے ہیں

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

پس تو (اے محمد ﷺ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو نہ پکار کہ تمہیں عذاب میں گرفتار (نہ) کیا جائے

سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔
Ayahs 26:214–218

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مسلمان تیری تابع ہیں ان کے لئے اپنے بازو نیچے رکھ (نرمی) کر

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو کہیے کہ میں تمہارے کاموں سے بےتعلق ہوں

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور اس غالب مہربان پر بھروسہ رکھ

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

اور تجھے اٹھتے وقت دیکھتا ہے

حل لغات :۔ عشیرتک ۔ عشیرۃ کے معنی کنبے اور قبیلے کے ہیں ۔
Ayahs 26:219–220

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں میں تیرا پھرنا دیکھتا ہے

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے

حل لغات :۔ وتقلبک ۔ گھومنا ۔ پھرنا
Ayah 26:221

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین (ف 1) کس شخص پر اترتے ہیں

ف 1: عام عربوں کا یہ عقیدہ تھا ۔ کہ خیالات و افکار کا بھی ایک شیطان ہوتا ہے ۔ جو معلم اور شاعر کو عجیب باتیں بتلادیتا ہے ۔ اس لئے ممکن ہے حضور کا یہ الہام بھی معاذ اللہ شیطان کے الفاظ کا نتیجہ ہو ۔ ارشاد فرمایا کہ یہ محض وہم باطل ہے ۔ شیاطین او جنات میں سہ استعداد اور طاقت ہی نہیں اور نہ وہ اس قدر اہم کام کے سزور ہوسکتے ہیں ۔ قلب جبریل سے اس کو چرا لینے کا بارا نہیں ۔ اور نہلوح محفوظ سے اس راز کو معلوم کرلینے پر قادر ۔ کیونکہ اب ان کو سماعت اسرار سے روک دیا گیا ۔ حضور شاعر نہ تھے اس آیات میں دراصل حضور کی سیرت طیبہ بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ آپ کن اخلاق و عادت کے حامل ہیں ۔ ارشاد ہے کہ آپ موحد ہیں اور ایک خدا کو پوجتے ہیں ۔ کیونکہ شرک دونوں جہاں میں بدترین لعنت اور موجب ہلاکت ہے ۔ آپ تبلیغ و راہنمائی کے اصولوں سے آگاہ ہیں ۔ آپ نے پہلے اپنے قریبی متعلقین کو اصلاح کی طرف بلایا ۔ اور پھر دوسرے لوگوں کو مخاطب کیا ۔ مومنین کے حق میں آپ انتہا درجے کے شفیق ہیں ۔ اور مجرموں سے سراسر بیزار ۔ اللہ کے سامنے شب وروز جھکتے ہیں اور راتوں کو قیام فرماتے ہیں ۔ اور نمازیوں اور پاکبازوں سے محبت سے پیش آتے ہیں ۔ اس میں بکمال الفت و محبت انشست وبرخاست رکھتے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ کیا ایسے پیغمبر کو تم ان لوگوں جیسا سمجھتے ہو جو دریغ گو اور جھوٹے ہیں ۔ جن کا کوئی کیریکٹر نہیں ۔ ہم تم کو بتلاتے ہیں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتا ہے ۔ اس نوع کے جھوٹے گنہگاروں پر جو ہمیشہ غیوب اور شیطنت کی باتوں پر کان لگائے رہتے ہیں اور دنیا میں محض جھوٹ کی اشاعت کرتے ہیں ۔ (باقی صفحہ ۔ پر)
Ayahs 26:222–223

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

سنی ہوئی بات لاڈالتے ہیں ۔ اور بہت ان میں جھوٹے ہیں

آفاک افک سے ہے ۔ مبالغہ سے جھوٹ بولنے والا ۔