19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

(تفسیر 77-80) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افرء یت الذی کفر بایتنا، آئمہ حدیث نے یہ الفاظ مسلم شریف کے ہیں، حضرت خباب سے روایت کیا ہے (1) ( فرمایا : میرا عاص بن وائل پر قرض تھا میں اس سے وہ قرض طلب کرنے کے لیے آیا، تو اس نے مجھے کہا : میں تجھے قرض ادا نہیں کروں گا حتیٰ کہ تو محمد ﷺ کا انکار کرے۔ حضرت خباب نے فرمایا : میں حضرت محمد ﷺ کا انکار نہیں کروں گ اس حتیٰ کہ تو مر جائے پھر اٹھایا جائے گا۔ عاص نے کہا میں مرنے کے بعد اٹھایا جائوں گا ؟ تو پھر میں اس وقت تجھے قرضہ ادا کروں گا جب میں اپنھے مال اور اولاد کی طرف لوٹوں گا۔ وکیع نے کہا : اعمش نے اسی طرح کہا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی : افرء یت الذی کفر بایتنا وال لاوتین مالا وولد۔ … ویاتینا فردا۔ ایک روایت میں ہے میں زمانہ جاہلیت میں کاریگر تھا میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا تو میں نے اس سے رقم کا مطالبہ کیا۔ بخاری نے اس کو نفل کیا ہے۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : حضرت خباب کاریگر تھا اس نے عاص کے لیے کوئی زیور بنایا پھر اس سے اجرت کا مطالبہ کیا۔ عاص نے کہا : آج میرے پاس وہ نہیں ہے جو میں تجھے ادا کروں۔ حضرت خباب ن کہا : میں تجھے نہیں چھوڑوں گا حتیٰ کہ تو مجھے میرا قرض ادا کرے۔ عاص نے کہا : اے خباب ! تجھے کیا ہوا ؟ تو ایسا تو نہیں تھا تو تو بہت اچھے طریقہ سے مطالبہ کرتا تھا۔ حضرت خباب نے کہا : پہلے میں تیرے دین پر تھا آج میں دین اسلام پر ہوں تیرے دین کو چھوڑنے والا ہوں۔ اس نے کہا : کیا تم ہی نہیں کہتے کہ جنت میں سونا، چاندی اور ریشم ہے ؟ حضرت خباب نے کہا : کیوں نہیں۔ عاص نے کہا : تو مجھے مہلت دے میں تجھے جنت میں ادا کروں گا۔ اس نے استہزاء یہ کہا۔ اللہ کی قسم ! تو اور تیرے ساتھی جنت کے مجھ سے زیادہ حقدار نہ ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : افرء یت الذی کفر بایتنا، یعنی عاص بن وائل۔ اطلع الغیب حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا اس نے لوح محفوظ میں دیکھا ہے ؟ مجاہدنے کہا : کیا اس نے غیب جان لیا ہے حتیٰ کہ وہ جانتا ہے کہ کیا وہ جنت میں ہے یا نہیں۔ امر اتخذ عند الرحمن عھدا۔ قتادہ اور ثوری نے کہا : یعنی اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عمل صالح کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عھداً سے مراد توحید ہے۔ بعض نے فرمایا : وعدہ ہے۔ کلبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس سے عہد کیا ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ کلا یہ اس پر رد ہے یعنی ایسا کچھ بھی نہیں ہے ہے نہ وہ غیب پر مطلع ہے اور نہ اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لیا ہے۔ کلا پر کلام مکمل ہوئی۔ حسن نے کہا : یہ آیات ولید مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ وہ صحاح میں موجود ہے حمزہ اور کسائی نے وولدا وائو کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی لوگوں نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ضمہ اور فتحہ میں دو دوجہ سے اختلاف کیا گیا ہے : (1) یہ دونوں لغتیں ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ کہا جاتا ہے : ولد، وولد جیسے کہا جاتا ہے : عدم وعدم۔ حرث ببن حلزہ نے کہا : ولقد رایت معاشراً قد ثمروا مالا وولدا (2) دوسرے نے کہا : فلیت فلانا کان فی بطن امہ ولیت فلانا کان ولد حمار (3) (2) دوسری وجہ یہ ہے کہ میں ولد کو وائو کے ضمہ کے ساتھ جمع بناتے ہیں اور فتحہ کے ساتھ واحد بناتے ہیں۔ ماوردی نے کہا : لا وتین مالا وولدا میں دو وجہیں ہیں : ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طاعت و عبادت پر جنت کا جو وعدہ فرمایا ہے اس کا مزاح کرتے ہوئے اس نے یہ کہا، یہ کلبی کا قول ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے دنیا میں ان چیزوں کا ارادہ کیا ؛ یہ جمہور کا قول ہے۔ اس میں دو احتمال ہیں۔ (1) اگر میں اپنے آباء کے دین پر اور اپنے خدائوں کی عبادت پر قائم رہا تو مجھے مال اور اولاد دی جائے گی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اگر میں باطل پر ہوتا تو مجھے مال اور اولاد نہ دی جاتی۔ میں کہتا ہوں : کلبی کا قول ظاہر احادیث کے زیادہ مناسب ہے بلکہ احادیث کی نص اس پر دلیل ہے۔ مسروق نے کہا : میں نے حضرت خباب بن ارت کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں عاص بن وائل کے پاس آیا تاکہ اس سے اپنے قرض کا مطالبہ کروں اس نے کہا : میں تجھے قرض نہیں دوں گا حتیٰ کہ محمد ﷺ کا انکار کرے۔ میں نے کہا : نہیں، حتیٰ کہ تو مر جائے اور پھر اٹھایا جائے۔ عاص نے کہا : میں مروں گا پھر اٹھایا جائوں گا ؟ میں نے کہا : ہاں۔ عاص نے کہا : میرے وہاں مال اور اولاد ہوگی تو میں تجھے قرضہ ادا کر دوں گا تو یہ آیت نازل ہوئی : افرء یت الذی کفر بایتنا ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (1)
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اطلع الغیب اس کا الف، الف استفہام ہے کیونکہ اس کے بعد أم آیا ہے اس کا معنی تو بیخ ہے۔ اس کی اصل أاطلع ہے۔ پھر دوسرے الف کو حذف کیا گیا کیونکہ الف وصل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ الف کے بعد مدّکو کیوں نہیں لائے اور کہتے : اطلع جس طرح کہا : اللہ خیر (النمل :59) ء الذین کرین حرم (الانعام :143) تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں اصل اللہ، الذکرین ہے پس دوسرے الف کو مد سے بدلا تاکہ استفہام اور خبر کے درمیان فرق ہوجائے اگر اللہ خیر بغیر مد کے کہتے تو استفہام خبر کے ساتھ ملتبس ہوجاتا اور اطلع میں اس مد کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ الف استفہام میں مفتوح ہے اور خبر کا الف مکسور ہے، اسی وجہ سے تو استفہام میں کہتا ہے : اطلع ؟ افتری ؟ استغفرت ؟۔ الف کے فتحہ کے ساتھ اور خبر میں تو کہتا ہے : اطلع، افتری، اصطفی، استغفرت لھم۔ یہ تمام ہمزہ مک سورة کے ساتھ ہیں پس انہوں نے فتحہ اور کسرہ کے درمیان فرق کیا ہے اور دوسرے فرق کی ضرورت محسوس نہ کی۔
Ayahs 19:79–80

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھے جاتے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کلا قرآن کے نصف اوّل میں کلا کا ذکر نہیں ہے۔ نصف ثانی میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس کے دو معانی ہیں۔ ایک اس کا معنی ہے حقاً اور دوسرا اس کا معنی ہے نہیں۔ جب یہ حقا کے معنی میں ہو تو اس کے ماقبل پر وقف جائز ہے پھر کلا سے آغاز ہوگا اور جب یہ لا کے معنی میں ہوگا تو کلا پر وقف جائز ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں معاملہ اس طرح نہیں ہے اور عھداً پر وقف جائز ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں معاملہ اس طرح نہیں ہے اور عھداً پر وقف کرنا اور کلا سے آغاز کرنا بھی جائز ہے یعنی کلا سنکتب ما یقول اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لعلی اعمل صالحاً فیما ترکت کلا (المومنون :100) اس میں کلا پر اور ترکت پر وقف جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون۔ قال کلا (الشعرائ) اس میں وقف کلا پر ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہیں یعنی معاملہ اس طرح نہیں جیسا کہ تم گمان کر رہے ہو۔ فاذھبتم دونوں جاؤ۔ اس میں حق کے معنی میں ہونے کی جگہ نہیں۔ فراء نے کہا : کلا، سوف کے قائم مقام ہے کیونکہ یہ صلہ ہے اور یہ حرف رد ہے گویا نعم (ہاں) اور لا (نہیں) ہے اگر تو اسے ماب بعد کے لیے صلہ بنائے تو اس پر وقف نہیں کرے گا جیسے تیرا قول ہے : کلا ورب الکعبہ، کلا پر وقف نہیں کرے گا کیونکہ یہ ای ورب الکعبہ کے قائم مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کلا والقمر۔ (المدثر) پس کلا پر وقف قبیح ہے کیونکہ یہ الیمین کا صلہ ہے۔ ابو جعفر محمد بن سعد ان کلا میں فراء کے قول کی طرح فرماتے تھے۔ احفش نے کہا : کلا کا معنی جھڑکنا اور روکنا ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : میں نے ابوالعباس کو یہ فرماتے ہوئے سنا پورے قرآن میں کلا پر وقف نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ جواب ہے اور اس کا فائدہ مابعد میں واقع ہوتا ہے۔ پہلا قول اہل تفسیر کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سنکتب ما یقول یعنی ہم اس کے قول کو اس پر محفوظ کرلیں گے اور آخرت میں اس کی وجہ سے اسے سزا دیں گے۔ ونمدلہ من العذاب مدا۔ ہم اس کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے۔ ونرثہ ما یقول اور ہم نے جو اسے دنیا میں مال اور اولاد عطا کی ہے وہ ہم چھین لیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم اسے ہلاک کرنے بعد مال اور اولاد کے وارث بن جائیں گے۔ بعض نے فرمایا : ہم اسے اس خواہش سے آخرت میں محروم کردیں گے جو وہ مال اور اولاد کی رکھتا ہے اور ہم اس کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو دیں گے۔ ویاتینا فردا۔ وہ ہماری بارگاہ میں متفرد آئے گا نہ اس کے لیے مال ہوگا، نہ اولاد اور نہ خاندان جو اس کی مدد کرتا ہوگا۔
Ayahs 19:81–82

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے (موجب عزت و) مدد ہوں

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ معبودان باطل انکی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (و مخالف) ہوں گے

(تفسیر 81-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزا۔ اس سے مراد مشرکین ہیں۔ عزا اس کا معنی ہے مددگار اور محافظ، یعنی اولاد، العز موسلا دھار بارش کو بھی کہتے ہیں ؛ یہ ہر وی کا قول ہے۔ کلام کا ظاہر یہ ہے کہ عزاً ان بتوں کی طرف راجع ہے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے۔ اور اس کو واحد ذکر فرمایا کیونکہ یہ مصدر کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کے ساتھ عزت پائیں اور ان کے ذریعے اللہ کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کلا، معاملہ اس طرح نہیں جس طرح انہوں نے گمان کیا بلکہ وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے یعنی وہ انکار کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تبرانا الیک ز ماکانوا ایانا یعبدون۔ (القصص) اور یہ بت جمادات ہیں عبادت کا علم نہیں رکھتے۔ ویکون علیہم ضدا۔ ضدا کا معنی ہے ان کی خصوصیت و تکذیب میں ان کے خلاف مددگار ہوں گے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ ابن زید نے کہا : وہ ان پر مصیبت ہوں گے پس ان کے معبودوں کو جمع کیا جائے گا اور ان کو عقل دی جائے گی اور وہ بولیں گے اور کہیں گے : یا رب ! ان کو عذاب دے جنہوں نے تجھے چھوڑ کر ہماری عبادت کی۔ کلا یہاں یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ لا کے معنی میں ہو اور یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ حقاً کے معنی میں ہو۔ سیکفرون بعبادتھم ابو نہیک نے، کلا سیکفرون یعنی تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ان سے اس کے ساتھ کاف کا ضمہ اور فتحہ بھی مروی ہے۔ مہدوی نے کہا : کلازجرو تنبیہ ہے اور یہ پہلی کلام کے رد کے لیے ہوتا ہے اور کب بھی ماب بعد کی تحقیق اور اس پر تنبیہ کے لیے واقع ہوتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کلا ان الانسان لیطعی۔ (العلق) اس معنی پر وقف نہیں کیا جاتا اور پہلے معنی پر اس پر وقف کیا جاتا ہے اگر اس میں دو معانی کی صلاحیت ہو تو اس پر وقف اور ابتداء جائز ہوتی ہے اور جنہوں نے کلا کو تنوین دی ہے اور کاف کو فتحہ بھی دیا ہے تو وہ کل کا مصدر ہے اور اس کو نصب فعل مضمر کی وجہ سے ہے معنی یہ ہے : کل ھذا الرای ولإعتقاد کلا یعنی ان مورتیوں کو معبود بنانے کا اعتضاد اور نظریہ ہرگز درست نہیں تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں۔ پس اس مفہوم پر غزا اور کلا پر وقف ہوگا ؛ اسی طرح جماعت کے قرأت میں ہے کیونکہ یہ ما قبل کے رد اور مابعد کی تحقیق کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور جنہوں نے تنوین کے ساتھ کاف کا ضمہ روایت کیا ہے وہ بھی فعل مضمر کے ساتھ منصوب ہے۔ گویا فرمایا : سیکفرون، کلا سیکفرون بعبادتھم، یعنی اپنے بتوں کی عبادت کا انکار کریں گے۔ میں کہتا ہوں : کلا میں چار معانی حاصل ہوتے ہیں : (1) تحقیق یعنی یہ حقا کے معنی میں ہوتا ہے۔ (2) نفی، (3) تنبیہ، (4) قسم کا صلہ۔ صرف پہلی صورت میں اس پر وقف ہوگا۔ کسائی نے کہا : لاصرف نفی کرتا ہے اور کلا ایک چیز کی نفی کرتا ہے اور ایک چیز کو ثابت کرتا ہے جب کہا جاتا ہے : اکلت تمرآ تو تو کہتا ہے کلا انی اکلت عسلا لا تمرا ا میں نے شہد کھایا، کھجور نہیں کھائی۔ اس کلمہ میں ماقبل کی نفی ہے اور مابعد کی تحقیق ہے۔ الضد کبھی واحد ہوتا ہے اور کبھی جمع ہوتا ہے جیسے العدد اور الرسول واحد اور جمع استعمال ہوتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : الضد مصدر کی جگہ واقع ہے یعنی وہ ان کے علاوہ معاون ہوں گے اسی وجہ سے جمع نہیں ذکر کیا گیا، یہ چونکہ لیکونوا لھم عزا کے مقابلہ میں ہے اور العرمصدر ہے پس اسی طرح اس کے مقابلہ میں واقع ہوا ہے۔ پھر علماء نے فرمایا : یہ آیت بتوں کے بچاریوں کے متعلق ہے اور بتوں کو شعور والوں کے قائم مقام رکھا گیا ہے جیسے کہ کفار کا نظریہ تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ ان کے بارے ہے جو مسیح (علیہ السلام) یا ملائکہ یا جن یا یاطین کی عبادت کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 19:83–84

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں ؟

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو اور ہم تو ان کیلیے دن شمار کر رہے ہیں

(تفسیر 83-87) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم ترانا ارسلنا الشیطین علی الکفرین ہم نے شیطانوں کو ان پر اغوا کرنے کے لیے مسلط کردیا ہے یہ اس وقت ہوا جبب ابلیس سے کہا تھا : واستفزز من استطعت منھم بصوتک (بنی اسرائیل :64) بعض نے فرمایا : انا ارسلنا کا معنی ہے ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ کہا جاتا ہے : ارسلت البعیر میں نے اونٹ کو چھوڑ دیا ہے یعنی ہم نے شیطانوں اور ان کو چھوڑ دیا ہے ہم ان کی شیطانوں کی بات قبول کرنے سے حفاظت نہیں کرتے۔ زجاج نے ارسلنا کا معنی قیضنا (ہم نے مسلط کردیا) کیا ہے۔ تؤزھم ازاً حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ انہیں طاعت کی جگہ معصیت اور نافرمانی پر اکساتے ہیں۔ ان سے مروی ہے توزھم ازاً حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ انہیں طاعت کی جگہ معصیت اور نافرمانی پر اکساتے ہیں۔ ان سے مروی ہے تعزیھم اغراء بالشر وہ انہیں شر پر ابھارتے ہیں اس میں جاری رہو اس میں جاری رہو، حتیٰ کہ وہ انہیں آگ میں ڈال دیتے ہیں۔ پہلا معنی ثعلبی نے اور دوسرا ماوردی نے حکایت کیا۔ مفہوم ایک ہی ہے۔ ضحاک نے کہا : تغویھم اغواء وہ انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : ابھارتے ہیں۔ اس کا اصل معنی حرکت کرنا اور ابھرنا ہے ؛ اسی سے خبر مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ قام الی الصلاۃ ولجوفہ ازیر کا زیز المرجل ن البکاء (1) جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ کے اندر سے رونے کی وجہ سے ابلنے کی آواز آئی جیسے ہانڈی ابلتی ہے۔ جب ہانڈی ابل رہی ہو تو کہتے ہیں : أتزت القدر اتزازا… الاز، کا معنی ابھارنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الم ترانا ارسلنا الشیطن علی الکفرین تؤزھم ازا۔ یعنی وہ انہیں گناہوں پر اکساتے ہیں۔ الاز کا معنی الإختلاط بھی ہے قد أززت الشی اوزہ ازاً میں نے بعض کو بعض سے ملا دیا، یہ جوہری کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا تعجل علیہم یعنی ان کے لیے جلدی عذاب طلب نہ کرو، انما نعدلھم عداً ، کلبی نے کہا : اس کا معنی ہے ہم ان کے ایام، راتیں، مہینے، سال عذاب کے پہنچے تک شمار کر رہے ہیں۔ ضحاک نے کہا : ہم دنیا میں ان کے سانس گن رہے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بعض نے فرمایا : ہم ان کے قدم گن رہے ہیں۔ بعض نے فرمایا : ہم ان کی لذات گن رہے ہیں۔ بعض نے فرمایا : لمحات گن رہے ہیں۔ بعض نے فرمایا : آپ ان کے لیے جلدی نہ کریں ہم ان کو مہلت دے رہے ہیں حتیٰ تاکہ یہ گناہ زیادہ کرلیں۔ روایت ہے کہ مامون نے یہ سورت پڑھی اس آیت پر گزرا تو اس نے ابن سماک کی طرف اپنے سر سے اشارہ کیا تاکہ وہ نصیحت پکڑے، اس کے پاس فقہاء کی جماعت بیٹھی تھی اس نے کہا : جب سانس گنے جا رہے ہیں تو پھر ان کے لیے کوئی مدد نہیں ہے اور کتنے جلدی وہ ختم ہونے والے ہیں۔ اسی مفہوم میں شاعر نے کہا : حیاتک انفاس تعد فکلما مضی نفس منک انتقصت بہ جزاء یمیتک ما یحییک فی کل لیلۃ ویحدوک حاد ما یرید بہ الھزء ا کہا جاتا ہے : انسان ایک دن اور رات میں چوبیس ہزار سانس لیتا ہے بارہ ہزار سانس دن میں اور بارہ ہزار رات میں لیتا ہے۔ یہ شمار ہوچکے ہیں ان کی تعداد معلوم ہے، ان کے لیے کوئی لمبائی و مدد نہیں ہے اور یہ کتنے جلدی ختم ہونے والے ہیں۔
Ayahs 19:85–86

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ اس کلام میں حذف ہے یعنی رحمن کی جنت کی طرف اور اس کے دار کر اممت کی طرف متقین کو لے جائیں گے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی ذاھب الی ربی سیھدین۔ (الصافات) اسی طرح حدیث میں ہے : من کا نت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ (1) جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ الوفد اسم ہے والدفن کا، جیسا کہا جاتا ہے : صوم فطر وزور، یہ وافد کی جمع ہے جیسے رکب وراکب، صحب وصاحب یہ فدیفد وفداً ووفودا ووفادۃ سے مشتقق ہے جب کوئی فتح یا کسی خطیر امر کی صورت میں باشاہ کی طرف جائے۔ جوہری نے کہا : وفد فلان علی الامیر کہا جاتا ہے یعنی وہ پیغام رساں بن کر آیا، فھو وافد اس کی جمع وفد ہے جیسے صاحب کی جمع صاحب ہے وفد کی جمع وفاد اور وفود ہے اور اسم الوفادۃ ہے : اوفدتہ انا الی الامیر یعنی میں نے اسے امیر کی طرف بھیجا۔ اور تفسیر میں ہے وفداً یعنی وہ اپنی طاعتوں کی سواریوں پر سوار ہو کر حاضر ہوں گے۔ یہ اس لیے ہے کہ عام طور پر آنے والا سفیر سوار ہوتا ہے۔ الوفد سے مراد سوار ہیں۔ اس کو مفرد ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے۔ ابن جریج نے کہا : وفداً علی النجائب سواری پر سوار ہو کر آئیں گے۔ عمرو بن قیس ملائی نے کہا : مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عم لحسین صورت اور پاکیزہ خوشبو کی صورت میں اس کا استقبال کرے گا، وہ کہے گا : کیا تو مجھے جانتا ہے۔ مومن کہے گا : نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے تیری خوشبو بہت اچھی بنائی اور تیری صورت حسین بنائی ہے وہ کہے گا : کیا تو مجھے جانتا ہے۔ مومن کہے گا : میں دنیا میں اسی طرح تھا میں تیرا نیک عمل ہوں 0، دنیا میں میں تجھ پر سوار رہا آج تو مجھ پر سوار ہو، پھر یہ آیت تلاوت کی : یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفداً اور کافر کا عمل اس کا استقبال کرے گا وہ انتہائی قبیح صورت اور بدبو دار ہوگا، وہ کہے گا : تو مجھے جانتا ہے ؟ وہ کہے گا : نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے تیری شکل قبیح بنائی ہے اور بوبڑی کر یہ ہے۔ وہ کہے گا : میں دنیا میں اسی طرح تھا۔ میں تیرا بُرا عمل ہوں کبھی دنیا میں تو مجھ پر سوار تھا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا پھر یہ آیت تلاوت کی : وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم (الانعام :31) یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں، یہ ابن عربی نے سراج المریدین میں کہا ہے اور اس حدیث کو ابو نصر عبدالرحیم بن عبدالکریم قشیری نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جو گھوڑے پر سوار ہونا پسند کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوگا جو نہ لید کرے گا اور نہ پیشاب کرے گا، اس کی لگام سرخ یاقوت اور سبز زبر جد اور سفید موتیوں سے ہوگی اور اس کی زین سندس اور استبرق (ریشم) کی ہوگی اور جو اونٹ پر سوارہونا پسند کرتا ہوگا وہ اونٹ پر سوار ہو کر جائے گا جو نہ مینگنیاں کرتا ہوگا اور نہ پیشاب کرتا ہوگا اس کی مہار یاقوت اور زبر جد سے ہوگی اور جو کشتی پر سوار ہونا پسند کرتا ہوگا وہ زبر جد اور یاقوت کی کشتی پر سوار ہوگا وہ غرق ہونے سے امن میں ہوں گے اور پریشانیوں سے امن میں ہوں گے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت علی ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے بادشاہ اور ان کے وفود دیکھے ہیں اور میں نے ہر وفد سوار دیکھا ہے پس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جانے والے کیسے ہوں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” وہ نہ اپنے قدموں پر چلائے جائیں گے اور نہ انہیں ہانکا جائے گا بلکہ انہیں جنت کی اونٹنیوں میں سے دی جائیں گی جن کی مثل مخلوق نے پہلے نہ دیکھی ہوگی ان کے پالان سونے کے ہوں گے اور ان کی مہاریں زبر جد کی ہوں گی اور ان پر سوار ہوں گے حتیٰ کہ وہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے “ (1) حضرت علی شیر خدا سے مروی ثعلبی کے الفاظ اس خبر میں زیادہ واضح ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے بادشاہ اور ان کے وفد دیکھے ہیں میں نے کوئی وفد نہیں دیکھا مگر وہ سوار تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے علی ! جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لوٹنا ہوگا تو فرشتے مومنین سے ایسی سفید اونٹنیوں کے ساتھ ملیں گے جن کے پالان اور نکیلیں سونے کی ہوں گی ہر سواری پر ایک حلہ ہوگا دنیا جس کے مساوی نہ ہوگی، ہر مومن ایک لباس پہنے گا پھر ان کے ساتھ ان کی سواریاں چلیں گی پھر وہ اونٹنیاں انہیں لیکر چلیں گی حتیٰ کہ وہ انہیں جنت تک پہنچا دیں گی۔ پھر انہیں فرشتے ملیں گے اور کہیں گے : سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین۔ (الزمر) میں کہتا ہوں : یہ خبر نص ہے کہ وہ نہ سوار ہوں گے اور نہ لباس پہنیں گے مگر مؤقف سے اور جب قبور سے باہر نکلیں گے پیدل چلتے ہوں گے ننگے پائوں اور ننگے بدن ہوں گے اور غیر مختون ہوں گے، اسی حالت میں مؤقف کی طرف جائیں گے۔ اس کی دلیل حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : ” اے لوگو ! تم اللہ کی بارگاہ میں جمع کیے جائو گے جبکہ ننگے پائوں، برہنہ بدن اور غیر مختون ہو گے۔ “ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے تخریج کیا ہے۔ یہ مکمل سورة المومون میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اسی مفہوم کی حضرت عبداللہ بن انیس کی حدیث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ یہ کوئی بعید نہیں کہ دونوں حالتیں سعداء کی ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث مخصوص ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : وفدا یعنی اونٹوں پر سوار ہو کر۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وفداً یعنی اونٹوں پر سوار ہو کر۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سوار ہوں گے انہیں جنت کی اونٹنیاں دی جائیں گے ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور ان کی زینیں اور ان کی مہاریں زبر جد کی ہوں گی پس ان پر سوار کر کے انہیں جمع کیا جائے گا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! وہ پیدل جمع نہ کیے جائیں گے بلکہ وہ انٹینوں پر سوار ہوں گے جن کے کجاوے سونے کے ہوں گے ان کی زینیں یواقیت کی ہوں گی اگر وہ ارادہ کریں گے تو وہ چل پڑیں گی اور جب وہ انہیں حرکت دیں گے تو وہ اڑ پڑیں گی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جو پسند کریں گے اس پر سوار ہو کر آئیں گے اونٹ یا گھوڑے یا کشتیاں جیسا کہ پہلے حضرت ابن عباس ؓ سے گزر چکا ہے۔ واللہ اعلم۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وفداً کیونکہ وفود کی شان عربوں کے نزدیک یہ ہوتی ہے کہ وہ بشارات کے ساتھ آتے ہیں، وہ انعامات کا انتظار کرتے ہیں پس متقین عطا اور ثواب کا انتظار کریں گے۔ ونسوق المجرمین الی جہنم ورداً ، السوق کا معنی ہے چلنے پر ابھارنا، ورداً کا معنی ہے پیاسے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ اور حسن کا قول ہے۔ اخفش، فراء اور ابن اعرابی نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ برہنہ پا ہوں گے اور پیدل ہوں گے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ گروہوں کی شکل میں ہوں گے۔ ازہری نے کہا : اس کا معنی ہے وہ پیدل اور پیاسے ہوں گے جیسے اونٹ پانی پر وارد ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے : جاء ورد بنی فلاں (فلاں قبیلہ کے اونٹ پانی پر آئے) اور قشیری نے کہا : ورداً کا قول پیاس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ پانی عام طور پر پیاس کے لیے لایا جاتا ہے اور تفسیر میں ہے اس کا معنی ہے وہ پیدل ہوں گے پیاسے ہوں گے تاکہ ان کی گردنیں پیاس کی وجہ سے کٹ جائیں۔ جب مجرموں کو دوزخ کی طرف ہانکا جائے گا تو متقین کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : ورداً اس کا معنی ہے الورود جیسے تیرا قول ہے : جئتک اکراماً لک یعنی لا کرامک، اسکا معنی ہے نسوقھم لورودالنار ہم انہیں آگ پر وارد کرنے کے لیے ہانکیں گے۔ میں کہتا ہوں : ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں۔ انہیں پیاسے، برہنہ یا پیدل گروہوں کی شکل میں ہانکا جائے گا۔ ابن عرفہ نے کہا : الورود سے مراد وہ قوم ہے جو پانی پر وارد ہوتی ہے۔ پیاسوں کو ورداً کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ پانی پر ورود طلب کرتے ہیں جیسے تو کہتا ہے : قوم صوم یعنی روزے دار لوگ۔ قوم زور زیارت کرنے والے لوگ۔ یہ مصدر کے لفظ پر اسم ہے اس کا واحد وارد ہے۔ الورداس جماعت کو بھی کہتے ہیں جو پانی پر وارد ہوتی ہے خواہ وہ پرندے ہوں یا اونٹ ہوں۔ الورداس پانی کو بھی کہتے ہیں جس کے لیے ورود ہوتا ہے اور یہ کسی چیز سے کسی چیز کے ساتھ اشارہ کرنے کے باب سے ہے الورد قرآن کے جز کو بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : قرأت وردی، الورد نجار کے دن کو کہتے ہیں جب وہ کسی کو مخصوص وقت پر ہوتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ لفظ مشترک ہے۔ شاعر نے کہا وہ کنویں کا وصف بیان کرتا ہے : یطموإذا لورد علیہ التکا (یعنی وہ لوگ جو پانی پر وارد ہوتے ہیں)
Ayah 19:87

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یملکون الشفاعۃ یعنی یہ کفار کسی کے لیے شفاعت کے مالک نہیں۔ الا من اتخذ عند الرحمن عھداً اس سے مراد مسلمان ہیں جو شفاعت کے مالک ہوں گے۔ یہ کسی چیز کا استثناء غیر جنس سے ہے یعنی لیکن وہ جنہوں نے خداوند رحمن سے کوئی وعدہ لیا ہے وہ شفاعت کریں گے۔ من اس بنا پر محل نصب میں ہے۔ بعض نے فرمایا : یملکون کی واو سے بدل کی بنا پر محل رفع میں ہے یعنی کوئی اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کا مالک نہیں ہوگا مگر جس نے اللہ کی بارگاہ میں عہد لیا وہ مالک ہوگا اس بنا پر استثنا متصل ہوگا اور نسوق المجرمین میں المجرمین سے کفار اور نافرمان سب مراد ہیں۔ پھر خبر دی کہ وہ شفاعت کے مالک نہ ہوں گے مگر گنہگار مومنین وہ شفاعت کے مالک ہوں گے کہ ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” میں شفاعت کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میں کہوں گا : یا رب ! میری شفاعت ان کے حق میں قبول فرما، جنہوں نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ﷺ ! یہ تمہارے لیے نہیں بلکہ یہ میرے لیے ہے “ (1) مسلم نے اس حدیث کا مفہوم نقل کیا ہے۔ یہ پہلے گزر چکی ہے۔ اخبار متفق ہیں کہ اہل علم اور اہل فضل شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پہلے قول پر کلام ہے۔ واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزا۔ سے متصل ہوگی۔ قیامت کے روز بتوں کے پجاریوں کی شفاعت کسی کے حق میں قبول نہ ہوگی اور نہ بتوں کی شفاعت کسی کے لیے ہوگی اور نہ وہ کسی کی شفاعتکا اختیار ررکھتے ہوں گے یعنی شفاعت انہیں فائدہ نہ دے گی جیسا کہ فرمایا : فما تنفعھم شفاعۃ الشفعین۔ (المدثر) بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم متقین اور مجرمین کو جمع کریں گے کوئی شفاعت کا اختیار نہ رکھتا ہوگا مگر جسنے خداوند رحمن سے عہد لیا ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ نے جسکو شفاعت کا اذن دیا ہوگا جیسے فرمایا : من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ (البقرہ : 255) اور یہ وہ عہد ہے جس کے بارے فرمایا : ام اتخذ عند الرحمن عھدا۔ یہ لفظ ایمان اور ان اعمال صالحہ کا جامع ہے جن کے ذریعے انسان شفاعت کے مفہوم پر پہنچتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : العھد سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ مقاتل اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کوئی شفاعت نہیں کرے گا مگر جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اپنی ہر قوت و طاقت سے براءت کر کے اللہ تعالیٰ کی قوت پر بھروسہ کیا وہ امید نہیں رکھتا مگر اللہ تعالیٰ سے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے صحابہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : ” کیا تم میں سے کوئی عاجز ہے کہ وہ ہر صبح و شام اللہ کی بارگاہ سے عہد کرلے “ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کیا ہے فرمایا : ” وہ ہر صبح و شام کہے : اللھم فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انی اعھد الیک فی ھذہ الحیاۃ الدنیا بانی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمداً عبدک ورسولک فلا تکلنی الی نفسی فانک ان تکلنی الی نفسی تباعدنی من الخیر وتقرینی من الشروانی لا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عھد اتوفینیہ یوم القیامۃ انک لا تخلف المعیاد۔ جب آدمی یہ کہے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر مہر لگا دے گا اور اسے عرش کے نیچے رکھ دے گا جب قیامت کا دن ہوگا تو ندا دینے والا ندا دے گا : کہاں ہیں وہ لوگ جن کے لیے اللہ کی بارگاہ میں عہد ہے ؟ پس وہ کھڑا ہوگا اور جنت میں داخل ہوگا (1) ۔
Ayah 19:88

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے

(تفسیر 88-95) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا اتخذ الرحمن ولداً ۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور جنہوں نے کہا : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یحییٰ اعمش، حمزہ کسائی، عاصم اور خلف نے ولداً وائو کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ چار مقامات پر ایسا ہی پڑھا ہے۔ اس سورة میں لاوتین مالا وولدا۔ یہ گزر چکا ہے اور یہ ارشاد : ان دعوا للرحمن ولدا۔ وما ینبغی للرحمن ان یتخذولداً ۔ اور سورة نوح میں مالہ وولدہ، سورة نوح میں ابن کثیر، مجاہد، حمید ابو عمرو اور یعقوب نے ان کی موافقت کی ہے اور باقی قراء نے تمام جگہ واو اور لام میں فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے العرب والعرب، العجم والعجم۔ شاعر نے کہا : ولقد رأیت معاشرا قد ثمروا مالا وولد دوسرے شاعر نے کہا : ولیت فلافا کان فی بطن امہ ولیت فلافا کان ولد حمار اس کے مفہوم میں نابغہ نے کہا : مھلا فداء لک الاقوام کلھم وما اثمر من مال ومن ولد پس اس نے فتحہ دیا : قیس جمع میں واو پر ضمہ اور مفرد میں واو پر فتحہ دیتے ہیں۔ جوہری نے کہا : الولد کبھی واحد ہوتا ہے اور کبھی جمع ہوتا ہے اسی طرح الولد ضمہ کے ساتھ ہے۔ بنی اسد کی امثال سے ولدک من دمی عقبیک اور کبھی الولد کی جمع الولد ہوتا ہے جیسے اسد جمع ہے اسد کی اور الولدواؤ کے کسرہ کے ساتھ الولد میں ایک لغت ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عبید نے ان کے درمیان فرق کیا ہے۔ اس نے کہا : الولد اہل کے لیے ہوتا ہے اور الولد تمام کے لیے ہوتا ہے۔ ابو جعفر نے کہا : یہ قول مردود ہے اہل لغت میں سے کوئی اسے نہیں جانتا۔ الولد اور الولد دونوں آدمی کی اولاد اور اولاد کی اولاد کی اولاد کے لیے ہوتے ہیں۔ ولداً کلام عرب میں اکثر ہوتا ہے ؛ جیسے شاعر نے کہا : مھلا فداء لک الاقوام کلھم وما اثمر من مال ومن ولد ابو جعفر نے کہا : میں نے محمد بن ولید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ولد کا ولد کی جمع ہونا جائز ہے، جیسے کہا جاتا ہے : وثن ووثن۔ اسد واسد۔ ولد اور ولد کا ہم معنی ہونا ببھی جائز ہے، جیسے کہا جاتا ہے : عجم وعجم، عرب وعرب جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔
Ayah 19:89

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لاتے ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد جئتم شیا ادا۔ ادا کا مطلب ہے سخت ممنوع اور قبیح چیز، یہ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد وغیر ہما سے مروی ہے۔ جوہری نے کہا : الاد، الادۃ الدھیۃ واللامروالامر العظیم۔ اس کا معنی ہے ہولناک اور سخت ترین امر ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد جئتم شیا اداً اسی طرح الاد، مثل فاعل ہی اور الادۃ کی جمع ادد ہے ادت فلاناداھیۃ تودۃ ادا، فلاں کو سخت شدت نے آلیا۔ الاد کا معنی غلبہ اور قوت بھی ہے۔ زجاج نے کہا : نضون عنی شدۃ واذا من بعد ما کنت صملاً جلداً ابو عبدالرحمن سلمی نے کہا : ادا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جب کوئی انتہائی ناپسندیدہ کام کرے، راجز نے کہا :۔ قد لقی الاقران منی نکرا داھیۃ دھیاء ادا امرا (1) نحاس کے علاوہ سے مروی ہے ثعلبی نے کہا : اس میں تین لغات ہیں۔ ادا ہمزہ کے ساتھ، یہ قرأت عامۃ عامۃ ہے۔ ادا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ، یہ سلمی کی قرات ہے اور آدمثل مادیہ بعض عربوں کی لغت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابوالعالیہ سے بھی مروی ہے کہ گویا یہ الثقل کے معنی سے ماخوذ ہے۔ کہا جاتا ہے : ادہ الحمل یودہ اوداً بوجنھ نے اسے بوجھل کردیا ہے۔
Ayahs 19:90–91

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ اس (افترا) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گرپڑیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تکاد السموت یہاں اور سورة الشوریٰ میں قرأت عامہ تاء کے ساتھ ہے۔ نافع، یحییٰ اور کسائی کی قرأت یکادیا کے ساتھ ہے کیونکہ فعل مقدم ہے۔ یتفطرن منہ، یعنی اس سے پھٹ جائیں۔ نافع، ابن کثیر اور حفص وغیرہم نے یا کے بعد تا اور اور طا کی شد کے ساتھ پڑھا ہے، یہاں بھی اور سورة الشوریٰ میں التفطر سے مشتق کیا ہے۔ حمزہ اور ابن عامر نے سورة الشوریٰ میں ان کی مواقفت کی ہے اور یہاں الانفطار سے مشتق ینفطرن پڑھا ہے اسی طرح ابو عمرو، ابوبکر اور مفضل نے دونوں سورتوں میں انفطار سے مشتق پڑھا ہے ؛ اور یہی ابو عبید کا اختیار کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا السمآء انفطرت۔ (الانفطار) السمآء منفطر بہ (المزمل :18) اور اللہ کا ارشاد ہے : اذا السماء انفطرت۔ (الانفطار) السماء منفطر (المزمل :18) اور اللہ کا ارشاد ہے : وتنشق الارض یعنی زمین پھٹ جائے گی۔ وتخر الجبال ھداً حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے ھدما یعنی سخت آواز کے ساتھ پہاڑ گریں گے۔ حدیث شریف میں ہے : اللھم انی اعوذبک من الھد والھدۃ، اے اللہ ! میں ھد اور الھدۃ، اے اللہ ! میں ھد اور الھدۃ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ شمر نے کہا : احمد بن غیاث مروزی نے کہا : الھد کا معنی گرنا ہے اور الھدۃ، اے اللہ ! میں ھد اور الھدۃ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ شمر نے کہا : احمد بن غیاث مروزی نے کہا : الھد کا معنی گرنا ہے اور الھدۃ کا معنی زمین میں دھنسا ہے۔ اللیث نے کہا : الھد سے مراد سخت گرنا ہے جیسے دیوار یکبارگی گرتی ہے۔ کہا جاتا ہے : ھدنی الامروھد رکنی، یعنی اس نے مجھے توڑ دیا اور مجھ پر بہت اثر کیا ؛ یہ ہر وی کا قول ہے۔ جوہری نے کہا : ھدالبناء یھدہ ھداً یعنی اس نے مجھے توڑ دیا اور مجھ پر بہت اثر کیا ؛ یہ ہر وی کا قول ہے جوہری نے کہا : ھدالبناء یھدہ ھدا یعنی اس نے دیوار کو توڑ دیا ہلا دیا۔ ھدتہ المصیبۃ، مصیبت نے اسے کمزور کردیا، انھدا الجبل پہاڑ ٹوٹ گیا۔ اصمعی نے کہا : الھد کمزور آدمی۔ جب کوئی شخص کسی کو دھمکی دیتا ہے تو کہتا ہے : انی لغیرھد یعنی میں کمزور آدمی نہیں ہوں۔ ابن اعرابی نے کہا : الھد مردوں میں سے سخی آدمی۔ رہا بزدل کمزور آدمی تو اسے الھد (ھاء کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں ؛ شاعر نے کہا : لیسوا بھدین فی الحروب اذا تعقد فوق الحراقف النطق الھد اس آواز کو کہتے ہیں جب دیوار گرتی ہے تو کہتا ہے : ھدیھد ھدیداً ۔ الھاد اس آواز کو کہتے ہیں جس کو اہل ساحل سنتے ہیں جو دریا کی طرف سے آتی ہے اس کی زمین میں آواز ہوتی ہے۔ اسی سے بعض اوقات زلزلہ آتا ہے۔ دویہ اس کی آواز۔ نحاس نے کہا : ھداً مصدر ہے کیونکہ تخر کا معنی تھدّ ہے۔ دوسروں نے کہا : یہ حال ہے اور مھدوۃ کے معنی میں ہے۔ ان دعو للرحمن ولداً ، ان فراء کے نزدیک محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی ہے لأن دعوا اور من أن دعوا، حرف جر کو حذف کر کے نصب دی گئی ہے۔ فراء اور کسائی نے کہا : یہ محل جر میں ہے اور حرف جر مقدر ہے۔ ابن المبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں مسعر نے بتایا انہوں نے واصل سے انہوں نے عون بن عبداللہ سے روایت کیا ہے فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتا ہے : اے فلاں ! کیا آج تیرے پاس سے کوئی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا گزرا ہے۔ اگر وہ ہاں تو کہتا ہے تو اسے اس سے خوشی ہوتی ہے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی۔ وقالوا اتخذ الرحمن ولدا۔ فرمایا : کیا تو ان پہاڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ جھوٹ کو سنتے ہیں اور خیر کو نہیں سنتے ؟ فرمایا : مجھے عوف نے بتایا انہوں نے غالب بن عجرد سے روایت کیا انہوں نے کہا مجھے شام کے شخص نے منیٰ کی مسجد میں بتایا اس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جب زمین کو پیدا کیا اور جو کچھ اس میں درخت ہیں انہیں پیدا کیا زمین میں کوئی درخت ایسا نہ تھا بنو آدم جس کے پاس آتے مگر وہ اس درخت سے منفعت پاتے ان کے لیے اس سے منفعت ہوتی زمین اور درخت اسی طرح تھے حتیٰ کہ بنی آدم کے کافروں نے یہ بڑا بول بولا کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا، جب انہوں نے یہ کہا، تو زمین کا نپ گئی اور درختوں کے کانٹے نکل آئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : پہاڑ اور تمام درخت کا نپ گئے دریا، ان میں رہنے والی مچھلیاں کا نپ گئیں اس وجہ سے مچھلیوں سے کانٹے ہوگئے اور درختوں میں کانٹے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا : اور حضرت کعب نے فرمایا آسمان، زمین، پہاڑ اور تمام مخلوق گھبرا گئی مگر جن و انس نہ ڈرے، قریب تھا کہ آسمان اور زمین زائل ہوجائے۔ فرشتے غصہ میں آئے اور جہنم بھڑک اٹھی اور درختوں کے کانٹے نکل آئے۔ زمین خشک اور بنجر ہوگئی جب لوگوں نے کہا : اتخذ اللہ ولداً ، محمد بن کعب نے فرمایا : قریب تھا کہ اللہ کے دشمن ہم پر قیامت برپا کردیتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا۔ ان دعو للرحمن ولدا۔ اور ابن عربی نے کہا (1): کعب نے سچ کہا کہ یہ قول ہی بہت بڑا ہے اس کے متعلق قضاء و قدر ہوچکی ہے۔ اگر یہ زنا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کافر کا کفر کم مرتبہ نہیں کرتا اور کسی مومن کا ایمان اسے بلند نہیں کرتا اور اس کی ملک میں مومن کا ایمان اضافہ نہیں کرتا اسی طرح اس کی ملک سے کسی اعتبار سے کمی نہیں کرتا تو زبانوں پر ایسے کلمات جاری ہی نہ ہوتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ قدوس، حکیم، حلیم ہے اس کے بعد وہ کافروں کے کسی قول کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔
Ayahs 19:92–93

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذولداً ۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰکا ارشاد ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذولداً ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے بیٹے کی نفی کی کیونکہ بیٹا ہونا جنسیت اور حدوث کا تقاضا کرتا ہے جیسا کہ ہم نے سورة بقرہ میں بیان کیا یعنی اللہ تعالیٰ کی شان سے لائق یہ نہیں اس کے ساتھ اس کا یہ وصف بیان کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے حق میں یہ جائز ہے کیونکہ بیٹا ہمیشہ والد سے ہوتا ہے پھر اس کا بھی والد اور اصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور منزہ ہے۔ شاعر نے کہا : فی رأس خلقاء من عنقاء مشرفۃ ما ینبغی دونھا سھل ولا جبل (2) ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا۔ ان نافیہ بمعنی ما ہے یعنی آسمانوں اور زمین میں کوئی ایسا نہیں ہے مگر وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے لیے عبودیت کا اقرار کرنے والا ہوگا اور اس کی بارگاہ میں عجزو انکساری کرنے والا ہوگا جیسا کہ فرمایا : وکل اتوہ دخرین۔ (النمل) یعنی تمام اس کی بارگاہ میں عجزو انکساری کا اظہار کرتے ہوئے آئیں گے ساری مخلوق اس کے غلام ہیں پھر اس مخلوق میں سے کون اس کا بیٹا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ بلند وبالا ہے اس سے جو یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ منکر بیان کرتے ہیں، اتی لکھنے کے یاء کے ساتھ ہے اصل تنوین ہے۔ پس یہ استحفافاً حذف کی گئی ہے اور مضاف کیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ بیٹا والد کے لیے مملوک نہ ہوگا بخلاف اس شخص کے جو کہتا ہے کہ وہ اسے خریدے گا اور مالک ہوجائے گا اور وہ اس پر آزاد نہ ہوگا مگر جب وہ خود اسے آزاد کرے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اولاد ہونے اور ملک ہونے میں منافات ظاہر فرمائی ہے جب باپ بیٹے کا کسی اعتبار سے مالک ہوگا تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا اس دلیل کی وجہ اس آیت سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ولدیت اور عبدیت کو تقابل کی دو طرفوں میں رکھا ہے ایک کی نفی سے دوسری کا اثبات ہوگا اگر دونوں جمع ہوتیں تو اس کے قول کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا جس کے ساتھ احتجاج واقع ہوتا۔ صحیح حدیث میں ہے ” کوئی بیٹا اپنے والد کا حق ادا نہیں کرسکتا مگر وہ اسے مملوک پائے پھر اسے خریدے اور اسے آزاد کرے “ (1) ۔ جب باپ اپنے بیٹے کا مالک نہیں ہوتا حالانکہ باپ کو بیٹے پر ایک مرتبہ حاصل ہے تو بیٹا بدرجہ اولیٰ باپ کا مالک نہ ہوگا کیونکہ وہ مرتبہ میں اس سے کم ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اسحاق بن را ہو یہ نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد : من اعتق شرکا لہ فی عبد، سے استدلال کیا ہے اس سے مراد مذکر غلام ہیں عورتیں نہیں ہیں۔ پس اس پر مکمل نہ ہوگا جس نے مؤنث میں سے اپنا حصہ آزاد کیا۔ یہ جمہور علماء سلف کے نظریہ کے خلاف ہے کیونکہ جمہور نے مذکر اور مونث میں فرق نہیں کیا ہے کیونکہ عبد کے لفظ سے جنس مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا۔ یہ ارشاد مذکر، مونث تمام غلاموں کو شامل ہے اور اسحاق نے دلیل پکڑی ہے کہ عبدۃ مونث حکایت کیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے میری تکذیب کی ہے اسے یہ جائز نہیں تھا اور اس نے مجھے برا کہا حالانکہ یہ اس کو جائز نہ تھا اور رہا اس کا میری تکذیب کرنا تو اس کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جس طرح پہلے کیا تھا جبکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مجھ پر اس کے اعادہ سے آسان نہیں تھا اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں یکتا ہوں، بےنیاز ہوں نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے اور نہ وہ جنم دیا گیا ہے۔ اور نہ میرا کوئی ہمسر ہے۔ “ (2) سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اس جیسی جگہ میں اس کا اعادہ بہتر ہے۔
Ayah 19:94

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

اس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد احصھم یعنی ان کی تعداد کا اسے علم ہے۔ وعدھم عداً یہ تاکید کے لیے ہے یعنی اس پر ان میں سے کوئی مخفی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے اسماء میں المحصی بھی ہے یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں موجود ہے جس کو ترمذی نے نقل کیا ہے اس فعل کا اسشتقاق بھی اس پر دلالت کر رہا ہے۔ استاذ ابو اسحاق اسفرائینی نے کہا : اسماء الٰہیہ میں سے المحصی بھی ہے اور یہ مختص ہے کہ کثرت اسے غافل نہیں کرتیجی سے نور کی روشنی اور ہوا کا تیز چلنا اور پتوں کا گرنا وغیرہ وہ ہر پتے میں حرکات کے اجزاء کو اس وقت جانتا ہے پھر وہ کیسے نہیں جانتا جبکہ اس نے سب کچھ پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا یعلم من خلق ط وھو اللطیف الخبیر۔ (الملک)
Ayah 19:95

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے

حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر میں ہے کہ : لقد احصھم وعدھم عداً کا معنی یہ ہے کہ وہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی عبودیت کا اقرار کریں اور اس کے لیے ربوبیت کی گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فرداً ۔ یعنی تنہا آئے گا اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور نہ اس کے ساتھ مال ہوگا تاکہ وہ اس سے نفع حاصل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم لا ینفع مال ولو بنون۔ الا من اتی اللہ بقلب سلیم۔ (الشعرائ) پس اسے کوئی چیز نفع نہ دے گی مگر جو اس نے عمل آگے بھیجا ہوگا اور فرمایا : کلھم اتیہ، یہ لفظ کل کے اعتبار سے ہے اور معنی کے اعتبار سے آتوہ ہے۔ قشیری نے کہا : اس میں اشارہ ہے کہ تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے کہ تم اپنی اولادوں کو غلام بنائو حالانکہ وہ سب غلام ہیں تو پھر تم اس کے لیے وہ کیسے پسند کرتے ہو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے ؟ ان کی اس کی مثل میں رد فرمایا کہ وہ اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں : فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے بلند وبالا ہے اور انہوں نے کہا : مورتیاں اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فما کان لشرکآئھم فلا یصل الی اللہ وما کان للہ فھو یصل الی شرکآئھم (الانعام :136)
Ayah 19:96

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا انکی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کر دے گا

(تفسیر 96) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین امنوا، یعنی جنہوں نے تصدیق کی۔ وعملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا۔ یعنی اپنے بندوں کے دلوں میں محبت پیدا فرما دے گا جیسا کہ امام ترمذی نے حضرت سعد اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ “ فرمایا : ” پھر آسمان میں ندا دیتا ہے پھر اس کے لیے محبت کو اہل زمین میں اتارتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے : سیجعل لھم الرحمن ودا۔ ” اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ناپسند فرماتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے میں فلاں کو ناپسند کرتا ہوں پھر آسمان میں منادی کردی جاتی ہے پھر اس کے لیے نفرت زمین میں اتاری جاتی ہے “۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (1) ۔ امام بخاری و امام مسلم نے اس کا مفہوم ذکر کیا ہے۔ امام مالک نے مؤطا میں روایت کی ہے اور نوادر الاصول میں بھی مروی ہے، ابوبکر بن سابق اموی نے ہمیں بیان فرمایا انہوں نے کہا ہمیں ابو مالک جنبی نے بیان کیا انہوں نے جویبر سے انہوں نے ضحاک سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ مومن کے لیے محبت، ملاحت اور الفت نیک لوگوں کے سینوں میں اور ملائکہ مقربین میں پیدا فرماتا ہے پھر یہ آیت پڑھی : ان الذین امنوا وعملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا۔ علماء کا اختلاف ہے کہ یہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت براء بن عازب نے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا : ” اے علی تم یہ کہو : اللھم اجعل لی عندک عھداً واجعل لی فی قلوب المومنین مودۃ (1) (اے اللہ ! میرے لیے اپنی بارگاہ سے عہد بنا دے اور میرے لیے مومنین کے دلوں میں محبت ڈال دے) تو یہ آیت نازل ہوئی ؛ یہ ثعلبی نے ذکر فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بندوں کے دلوں میں محبت ڈال دی ہے انہیں کوئی مومن نہیں ملتا مگر وہ اس کی عزت کرتا تھا اور کوئی مشرک و منافق نہیں ملتا تھا مگر وہ ان کی تعظیم کرتا تھا۔ حرم بن حیان کہتے تھے : جب کوئی شخص اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دلوں کو اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کی محبت و رحمت اسے عطا فرماتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے لیے مومنین کے دلوں میں اور فرشتوں میں محبت ڈال دے گا۔ میں کہتا ہوں : جب وہ دنیا میں محبوب تھا تو آخرت میں بھی محبوب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ صرف مومن متقی سے محبت فرماتا ہے اور وہ پسند نہیں فرماتا مگر خالص متقی کو۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان نیک لوگوں سے کرے۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر پس جبریل بھی اس سے محبت کرتا ہے پھر وہ آسمان میں منادی کرتا ہے اور کہتا ہے : اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے پس تم اس سے محبت کرو، پس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں “ ( 2) ۔ فرمایا : ” پھر اس کی قبولیت زمین میں رکھی جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض کرتا ہے تو وہ جبریل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے : میں فلاں بندے کو ناپسند کرتا ہوں تو بھی اسے ناپسند کر “ فرمایا ” پھر جبریل اسے ناپسند کرتا ہے۔ پھر وہ آسمان والوں میں منادی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو ناپسند کرتا ہے تو بھی اسے ناپسند کر۔ “ فرمایا : ” وہ اسے ناپسند کرتے ہیں پھر اس کی نفرت زمین میں رکھی جاتی ہے۔ “
Ayah 19:97

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچادو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

(تفسیر 97) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانما یسرنہ بلسانک یعنی ہم نے آپ کی عربی زبان میں قرآن کو بیان کیا اور ہم نے اسے غورو فکر کرنے والے پر آسان بنا دیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ہم نے اسے تجھ پر عرب کی زبان میں نازل کیا تاکہ ان پر اس کا سمجھنا آسان ہوجائے۔ لتبشر بہ المتقین یعنی اس کے ساتھ آپ مومنین کو بشارت دیں۔ وتنذربہ قوماا لدا۔ اللد جمع ہے الالد کی سخت جھگڑالو آدمی ؛ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الد الخصام، شاعر نے کہا : ابیت نجیا لھموم کائنی اخاصم اقواماً وی جدل لدا ابو عبیدہ نے کہا : الالدا سے کہتے ہیں جو حق کو قبول نہ کرتا ہو اور باطل کا دعویٰ کرتا ہو۔ حسن نے کہا : اللد حق سننے سے بہرا شخص۔ ربیع نے کہا : دلوں کے کان جن کے بہرے ہوں۔ مجاہد نے کہا : اس سے مجاز ہے (1) ضحاک نے کہا : باطل میں جھگڑنے والے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جھگڑے میں سختی کرنے والے۔ بعض نے فرمایا : ظالم وہ ہوتا ہے جو سیدھا نہیں ہوتا۔ سب مفہوم ایک جیسے ہیں۔ یہ لوگ خاص کیے گئے ہیں انداز کے لیے جس کے پاس عناد نہیں ہوتا اس کا مطیع ہونا آسان ہوتا ہے۔
Ayah 19:98

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو ؟

(تفسیر 98) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکم اھلکنا قبلھم من قرن قرن سے مراد امت ہے اور جماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ڈرا رہا ہے۔ ھل تحس منھم من احدا و تسمع لھم رکزا۔ احد محل نصب میں ہے یعنی ھل تریٰ منھم احداً وتجد کیا ان میں سے کسی کو آپ دیکھتے ہیں۔ او تسمع لھم رکزا یا ان کے لیے کوئی آواز سنتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے یعنی وہ مر چکے ہیں اور اپنے اعمال پر اجر حاصل کرچکے ہیں۔ بعض نے فرمایا : الرکز وہ آواز یا حرکت جو سمجھی نھہ جاسکے یہ یزیدی اور ابو عبیدہ کا قول ہے جیسے رکز الکتیبۃ، لشکر کی آہٹ۔ ابو عبیدہ نے لبید کا شعر بطور استشہاد لکھا ہے : وتوجست رکز الانیس فرععھا عن ظھر غیب والانیس سقامھا بعض نے فرمایا : اس سے مراد مخفی آواز ہے، اس سے رکز المرح بولا جاتا ہے جب نیزے کی ایک طرف زمین میں غیب ہوجائے۔ طرفہ نے کہا : وصادقتا سمع التوجس للسری بنباۃ الصوت مافی سمعہ کذب یعنی اس کے سننے میں جھوٹ نہیں یعنی وہ سننے میں سچا ہے۔ الندس ماہر کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : ندس وندس جیسے کہا جاتا ہے : حذرو حذر، ویقظ یقظ، النباۃ، آہستہ آواسز۔ اسی طرح الرکز ہے اور الرکاز اس مال کو کہتے ہیں جو دفن کیا گیا ہو ؛ واللہ اعلم بالصواب۔