Ayahs 19:60–65اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا من تاب، یعنی نماز کے ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے سے جس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آیا۔ وامن، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنۃ ابو جعفر، شیبہ، ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر نے یدخلون خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولا یظلمون شیئا۔ ان کے اعمال صالحہ میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی مگر ان کے لیے ہر نیکی کے بدلے دس سے لیکر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جنت عدن یہ الجنۃ سے بدل ہے اس لیے منصوب ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : جنت عدن متبدا کی حیثیت سے مرفوع بھی جائز ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اگر خط (کتابت) نہ ہوتا تو یہ جنۃ عدن ہوتا کیونکہ اس سے پہلے یدخلو الجنۃ ہے۔ التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب، یعنی جس نے رحمن کی عبادت کی اور غیب میں کیے گئے عہد کی حفاظت کی۔ بعض نے فرمایا : جنت پر ایمان لائے جبکہ انہوں نے اسے دیکھا نہیں۔ انہ کان وعدہ ماتیا۔ ما تیا۔ الاتیان سے مفعول کا صیغہ ہے۔ ہر وہ چیز جو تجھ تک پہنچتی ہے تو اس تک پہنچتا ہے تو کہتا ہے : اتت علی ستون سنۃ واتیت علی ستین سنۃ۔ مجھ پر ساٹھ سال آئے اور میں ساٹھ سال پر آیا۔ وصل الی من فلان خیر وصلت منہ الی خیر مجھے فلان کی طرف سے خبر پہنچی اور اس کی طرف سے خیر کو پہنچا، دونوں کا ایک معنی ہے۔ قتبی نے کہا : ماتیا بمعنی آت ہے یہ مفعول بمعنی فاعل ہے اور ماتیا مہموز ہے کیونکہ یہ أتی یاتی سے آیا ہے اور جنہوں نے ہمزہ میں تخفیف کی اس نے اس کو الف بنایا ہے۔ طبری نے کہا : الوعد سے یہاں الموعد مراد ہے اور وہ جنت ہے یعنی جنت میں اس کے اولیاء آئیں گے۔ لا یسمعون فیھا لغوا۔ اور جنت میں لغو بات نہیں سنیں گے۔ اللغو کا معنی باطل اور فحش کلام ہے اور فضول، بےمقصد بات ہے، اسی سے حدیث ہے : ” جب تو اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن کہے : انصت (خاموش) جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو بات کی “ (1) حضرت ابوہریرہ ؓ کی لغت میں یہ لغیت ہے (جبکہ پہلی حدیث میں لغوت ہے معنی دونوں کا ایک ہے وادی اور یائی ہونے میں فرق ہے) جیسا کہ شاعر نے کہا :
ورب اسراب حجیج کظم عن اللغا ورفث التکلم
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللغو ہر وہ بات ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ ہو یعنی جنتیوں کی جنت میں کلام الحمد للہ اور سبحان اللہ ہوگی۔ الا سلما۔ لیکن وہ سلاما سنیں گے، یہ مستثنیٰ منقطع ہے یعنی وہ ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے کا ان پر سلام ہوگا : یہ مقاتل وغیرہ کا قول ہے۔ سلام خیر کا جامع اسم ہے اس کا معنی ہے وہ اس میں نہیں سنیں گے مگر جو وہ پسند کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا۔ یعنی ان کے لیے صبح و شام ان کی خواہش کے مطابق کھانے اور مشروبات ہوں گے یعنی ان دونوں وقتوں کی مقدار میں کیونکہ وہاں جنت میں نہ صبح ہوگی نہ شام جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : غدوھا شھر ورواحھا شھر (سبا :12) یعنی مہینہ کی مقدار۔ یہ مفہوم حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جریج وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انہیں اہل جنت کے احوال کا اعتدال بتایا ہے۔ اور عربوں کے نزدیک خوشگوار کھانا اور مشروب صبح و شام کھانا میسر ہوتا وہ الناعم (نعمت والا) شمار ہوتا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ جنت میں ان کا رزق منقطع نہ ہوگا جیسا کہ فرمایا : لا مقطعو عۃ ولا ممنوعۃ۔ (الواقعہ) جیسے تو کہتا ہے : انا اصبح وامسی فی ذکرک، میں ہمیشہ تیرا ذکر کرتا رہتا ہوں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ بکرۃ سے مراد ان کے لذات سے مشغول ہونے سے پہلے کا وقت ہو اور العشی سے مراد ان کے لذات سے فارغ ہونے کے بعد کا وقت ہے، کیونکہ ان اوقات کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونے کے لیے فترات (وقفہ) حائل ہوتے ہیں۔ یہ قول پہلے قول کی طرف راجع ہے۔ زبیر بن بکار نے اسماعیل بن ابی ایس سے روایت کیا ہے فرمایا : حضرت مالک بن انس نے فرمایا : یہ اس لیے ذکر فرمایا کیونکہ غذا (صبح کا کھانا) کی صفت وہیئت، شام کے کھانے کی صفت اور ہئیت سے مختلف ہوتی ہے اور یہ صرف بادشاہ ہی جانتے ہیں، اسی طرح جنت میں صبح کا کھانا، شام کے کھانے سے مختلف ہوگا انہیں مختلف قسم کی نعمتیں دی جائیں گے تاکہ تنعم اور رشک میں اضافہ ہو۔ حکیم ترمذی نے ” نوادرالاصول “ میں ابان عن الحسن وابی قلابہ کی حدیث سے روایت کیا ہے فرمایا : ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ کیا جنت میں رات ہے ؟ آپ نے فرمایا : تجھے اس کے متعلق سوال کرنے پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ اس شخص نے کہا : میں نے سنا ہے اللہ تعالیٰ نے کتاب میں ذکر کیا ہے : ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا۔ میں نے سوچا بکرہ اور عشیا کے درمیان رات ہوگی، نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” جنت میں کوئی رات نہیں “ جنت میں صرف نور اور روشنی ہے صبح شام پر لوٹے گی اور نمازوں کے اوقات میں جس میں وہ نمازیں پڑھتے تھے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحائف آئیں گے اور فرشتے انہیں سلام کریں گے یہ اس آیت کے مفہوم کا بیان ہے۔ ہم نے کتاب ” التذکرہ “ میں اس کا ذکر کیا ہے (1) ۔ علماء نے فرمایا : جنت میں رات ہے، نہ دن ہے جنتی ہمیشہ نور میں ہوں گے وہ رات کی مقدار پردوں کے لٹکانے سے جانیں گے اور دروازوں کے بند ہونے سے پہچانیں گے اور دن کی مقدار پردوں کے اٹھنے اور دروازوں کے کھلنے سے پہچانیں گے، یہ ابو الفرج جوزی اور مہدوی وغیر ہما نے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تلک الجنۃ التی یہ جنت جس میں رہنے والوں کے احوال ہم نے بیان کیے۔ نورت تخفیف کے ساتھ ہے۔ یعقوب نے نورث واو کے فتحہ اور راء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ بہتر تخفیف ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ثم اور ثنا الکتب (فاطر : 32)
من عبادنا من کان تقیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جو مجھ سے ڈرا اور میری اطاعت کا عمل کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تقدیم وتاخیر ہے۔ تقدیر اس طرح ہے : نورث من کان تقیا من عبادنا۔ ہم اپنے بندوں میں متقین کو وارث بنائیں گے۔
ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے جبریل سے کہا : ” کیا چیز تجھے اس سے مانع ہے کہ تو ہماری اس سے زیادہ ملاقات کرے جتنی کہ تو (پہلے) کرتا ہے “ (1) ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : وما نتنزل الا بامر ربک۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے ہمیں خلاد بن یحییٰ نے بتایا ہمیں عمرو بن ذر نے بتایا انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ کو یہ بات کرتے ہوئے سنا انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے جبریل سے کہا : ” تمہیں اس سے زیادہ ہماری ملاقات سے کیا مانع ہے (2) ؟ “ تو یہ آیت نازل ہوئی : وما نتنزل الا بامرربک فرمایا : یہ حضرت محمد ﷺ کو جواب تھا۔ مجاہدنے کہا : فرشتے (جبریل) نے نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں آنے سے دیر لگا دی پھر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا : تجھے کس چیز نے دیر کرا دی ہے ؟ جبریل نے کہا : ہم تمہارے پاس کیسے آئیں جبکہ تم ناخن نہیں کاٹتے اور اپنی مونچھیں نہیں کاٹتے اور اپنی انگلیوں کے جوڑوں کے درمیان کی جگہ کو صاف نہیں کرتے اور مسواک نہیں کرتے۔ مجاہد نے کہا : یہ آیت اس پر نازل ہوئی۔ مجاہد، قتادہ، عکرمہ، ضحاک، مقاتل اور کلبی کا قول ہے کہ جبریل نے نبی پاک ﷺ کے پاس آنے میں دیر لگا دی جب آپ ﷺ سے لوگوں نے اصحاب کہف، ذی القرنین اور روح کے بارے میں سوال کیا تھا آپ نہیں جانتے تھے کہ انہیں کیا جواب دیں آپ ﷺ کو امید تھی کہ جبریل ان کے سوال کا جواب لیں گے، عکرمہ نے کہا : چالیس دن بعد آپ کے پاس جبریل آئے۔ مجاہد نے کہا : بارہ راتوں کے بعد آئے۔ بعض نے کہا : پندرہ دنوں کے بعد آئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” تو نے بہت تاخیر کردی حتیٰ کہ میرا گمان صحیح نہ رہا اور مجھے تیرا بہت اشتیاق ہوا۔ “ جبریل نے کہا : مجھے آپ (کی ملاقات) کا شوق تھا لیکن میں عبد مامور (حکم کا بندہ) ہوں جب مجھے بھیجا جاتا ہے تو حاضر ہوتا ہوں اور جب مجھے روکا جاتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : وما نتنزل الا بامرربک۔ اور یہ نازل فرمایا : والضحی۔ والیل اذا سجی۔ ما ودعک ربک وما قلی۔ (والضحیٰ ) یہ ثعلبی، واحدی اور قشیری وغیر ہم نے ذکر کیا ہے (1) بعض نے فرمایا : یہ اہل جنت کی طرف سے خبر دی ہے کہ وہ جنت میں داخلہ کے وقت یہ کہیں گے : ہم ان جنتیوں میں نہیں اترے مگر اپنے ربب کے حکم سے۔ اس صورت میں آیت کا ماقبل سے تعلق ہوگا۔ اور جو پہلے ہم نے اقوال ذکر کیے ہیں ان کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا : اس کا ماقبل سے تعلق نہیں ہے۔ قرآن سورتوں میں ہے پھر سورتیں جملوں پر مشتمل ہیں ہر جملہ دوسرے جملہ سے جدا ہوتا ہے۔ وما نتنزل یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل ! تم کہو : وما نتنزل الا بامرربک۔ یہ دو احتمال رکھتا ہے۔
1۔ جب ہمیں حکم ہوتا ہے تو ہم آپ پر اترتے ہیں۔ 2۔ جب تمہارا ربب حکم دیتا ہے تو ہم آپ پر اترتے ہیں۔ پہلی صورت پر امر، نزول کی طرف متوجہ ہوگا اور دوسری صورت پر تنزیل کی طرف متوجہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ما بین ایدینا یعنی جو کچھ ہمارے سامنے ہے اس کا اللہ کو علم ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب کا اس کو علم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، ابن جریج نے فرمایا : اس کا معنی ہے جو کچھ دنیا کے معاملات سے ہمارے سامنے گزر چکا ہے جو بعد میں ہوگا اور آخرت کے امر سے ہے، اس کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ وما بین ذلک سے مراد برزخ ہے۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : لہ ما بین ایدینا، سے مراد آخرت ہے اور خلفنا سے مراد جو گزر چکا ہے۔ وما بین ذلک سے مراد دو نفخوں کے درمیان جو ہمارے اور ان کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا۔ خ اخفش نے کہا : ما بین ایدینا سے مراد ہے جو ہم سے پہلے تخلیق ہوچکا تھا۔ وما خلفنا جو کچھ ہمارے مرنے کے بعد ہوگا۔ اخفش نے کہا : ما بین ایدینا سے مراد ہے جو ہم سے پہلے تخلیق ہوچکا تھا۔ وما خلفنا جو کچھ ہمارے مرنے کے بعد ہوگا۔ وما بین ذلک جو کچھ ہماری تخلیق سے لے کر ہمارے مرنے تک ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : ما بین ایدینا سے مراد ثواب، عقاب اور امور آخرت ہیں اور وما خلقنا سے مراد دنیا میں جو ہمارے اعمال میں سے ہوچکے۔ وما بین ذلک وہ اس وقت سے قیامت تک ہوگا۔ اور پانچواں احتمال یہ بھی ہے کہ مابین ایدینا سے مراد آسمان ہے وما خلفنا سے مراد آسمان ہیں۔ یہ پہلے قول کا برعکس ہے اور وما بین ذلک سے مراد ہوا ہے۔ پہلا قول ماوردی نے ذکر کیا ہے اور دوسرا قشیری نے ذکر کیا ہے۔ زمخشری نے کہا : بعض علماء نے فرمایا جو ہماری عمروں سے گزر چکا ہے اور وہ حال میں جس میں ہم ہیں اور مابین ذینک نہیں فرمایا۔ کیونکہ ما بین سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے اس کے درمیان جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا فارض ولا بکر عوان بین ذالک (البقرہ :68) یعنی جو ہم نے ذکر کیا ہے اس کے درمیان وما کان ربک نسیا۔ یعنی آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور ان کا خالق ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا خالق ہے اور ان کا مالک ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا مالک ہے جس طرح زمانہ کی تدبیر اس کے سپرد ہے اسی طرح اعیان کی تدبیر بھی اس کے سپرد ہے۔ فاعبدہ، اس لیے اسی کی عبادت کر۔ اس میں دلیل ہے کہ خلق کے اکتسابات (کوششیں) اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہیں جیسا کہ اہل حق کا قول ہے اور یہی تو حق ہے کیونکہ اس جگہ رب کو اس کے معانی پر محمول کرنا ممکن نہیں مگر مالک کے معنی پر۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ آسمان اور زمین کا مالک ہے تو اس میں مخلوق کا اکتساب بھی داخل ہے اور اس کی عبادت واجب ہے۔ جب ثابت ہوا کہ وہ علی الاطلاق مالک ہے اور عبادت کی حقیقت حد درجہ عاجزی کے ساتھ طاعت ہے تو مالک و معبود کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ واصطبر لعبادہ یعنی ثابت قدم رہو اس کی طاعت پر اور وحی کی تاخیر سے پریشان نہ ہو بلکہ اس میں مشغول رہو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اصطبر کی اصل اصتبر ہے، تا اور صادر کو ان کے اختلاف کی وجہ سے جمع کرنا ثقیل تھا تو تا کو طا سے بدل دیا گیا جیسے تو کہتا ہے : اصطام، یہ الصوم سے ہے۔
ھل تعلم لہ سمیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ کیا تو اس کے لیے کوئی بیٹا یا اس کی کوئی مثال جانتا ہے یا کوئی شبیہ جانتا ہے جو اس کے نام الرحمن کی مثل نام کا مستحق ہو (1) ۔ یہ مجاہد نے کہا ہے : یہ المساماۃ سے مشتق ہے۔ اسرائیل نے سماک سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : کیا تو کسی کو جانتا ہے جس کو الرحمن کہا جاتا ہو ؟ نحاسنے کہا : یہ عظیم سند ہے جو میں جانتا ہوں جو اس حرف میں مروی ہے یہ صحیح قول ہے۔ الرحمن صرف اللہ تعالیٰ کو ہی کہا جاتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ بسم اللہ کی بحث میں وضاحت ہوچکا ہے۔ الحمد للہ۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ھل تعلم لہ سمیا کے تحت سمیا کا معنی مثلاً روایت کیا ہے۔ ابن مسیب نے اس کا معنی عدلا روایت کیا ہے۔ قتادہ اور کلبی نے کہا : اس کا مطلب ہے کیا تو کوئی ایسا جانتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اللہ تعالیٰ کہا جاتا ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے ؟ ھل بمعنی لا ہے یعنی تو نہیں جانتا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 19:66–67اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویقول الانسان ءاذا مامت لسوف اخرج حیا۔ انسان سے مراد یہاں ابی بن بن خلف ہے اس نے پرانی ہڈیاں پائیں پھر انہیں اپنے ہاتھ سے مسل دیا اور کہا : محمد ﷺ کا خیال ہے کہ ہم مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے ؛ یہ کلبی کا قول ہے، یہ واحدی، ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اور مہدوی نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھیوں کے ببارے میں نازل ہوئی ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ لسوف میں لام تاکید کے لیے ہے گویا اسے کہا گیا : جب تو مرے گا تو یقینا زندہ کر کے اٹھایا جائئے گا تو اس نے کہا : کیا جب میں مر جائوں گا تو مجھے پھر زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟ یہ اس نے انکار کرتے ہوئے کہا۔ پس لام اس کے جواب میں آیا جیسا کہ پہلے قول میں تھا اگر یہ ابتدائی کلام ہوتی تو اس پر لام داخل نہ ہوتا کیونکہ یہ تاکید اور ایجاب کے لیے ہوتا ہے وہ دوببارہ اٹھنے کا منکر تھا۔ ابن ذکوان نے : مامت پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے استفہام کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ اس کا ہمزہ میں اصول ہے۔ حسن اور اببو حیوہ نے لسوف اخرج حیا پڑھا ہے۔ یہ اس نے استہزا کیا تھا کیونکہ وہ دوبارہ اٹھنے پر یقین نہیں کرتا تھا اور یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولا یذکر الانسان، یعنی کیا یہ کہنے والے کو یاد نہیں ؟ انا خلقنہ من قبل یعنی اس کے سوال اور اس کے اس قول سے پہلے ہم نے اسے پیدا کیا۔ ولم یک شیا۔ جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا، اعادہ ابتدا کی طرح ہوتا ہے پس تناقض نہیں۔ عاصم کے سوا اہل کوفہ، اہل مکہ، ابو عمرو اور ابو جعفر نے اولا یذکر پڑھا ہے۔ شیبہ، نافع اور عاصم نے اولای ذکر تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ بہتر تشدید ہے اس کی اصل یتذکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما یتذکر اولوالالباب۔ (الزمر) اور اس قسم کے دوسرے ارشادات ہیں۔ اور ابی کی قرات میں اولا یتذکر ہے ؛ یہ قرأت تفسیر کی بنا پر ہے کیونکہ مصحف کے خط کے مخالف ہے۔ یتذکر کا معنی یتفکر ہے اور یذکر کا معنی یتنبہ اور یعلم ہے ؛ یہ نحاس کا قول ہے۔
Ayah 19:68اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فوربک لنحشرنھم حجت قائم کرنے کے بعد اپنی قسم اٹھائی کہ وہ ضرور قبور سے نکل کر محشر کی طرف جمع ہوں گے جس طرح کہ مومنین کو جمع کیا جائے گا۔ والشیطین۔ یعنی شیاطین جو ان کے ساتھ ہیں ان کو بھی ہم جمع کریں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : ہر کافر شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جگڑ کر لایا جائے گا جس طرح فرمایا : احشروا الذین ظلموا وازواجہم (الصافات :22) زمخشری نے کہا : والشیاطین میں واوعطف کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور ببمعنی مع بھی ہو سکتی ہے یہ بمعنی مع زیادہ مناسب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہیں ان کے ان شیاطین ساتھیوں کے ساتھ جمع کیا جائے گا جنہوں نے انہیں اغوا اور گمراہ کیا ہر کافر شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑا ہوگا۔ اگر تو کہے : یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب انسان سے مراد خاص کافر ہی ہوں اگر انسان سے مراد عام انسان ہوں تو پھر انہیں شیاطین کے ساتھ کیسے جمع کیا جائے گا ؟ میں کہوں گا : جب سل وگوں کو جمع کیا جائے گا تو ان میں سے کافر شیاطین کے ساتھ جگڑے ہوں وہ شیاطین کے ساتھ جمع کیے جائیں گیجس طرح ان کو کفار کے ساتھ جمع کیا جائے گا۔ اگر تم کہو کہ حشر میں بدبختوں سے سعادت مندوں کو الگ کیوں نہیں کیا گیا ہوگا جس طرح جزا میں وہ ان سے الگ کیے جائیں گے ؟ میں کہوں گا : محشر میں ان کے درمیان جدائی نہ ہوگی وہ حاضر کیے جائیں گے جہاں وہ جہنم کے اردگرد گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ انہیں آگ میں وارد کیا جائے گا تاکہ وہ سعادت مندوں کے احوال دیکھ لیں اللہ تعالیٰنے جنہیں نجات دی اور انہیں خلاصی بخشی تاکہ کفار کو شک زیادہ ہو اور اولیاء اللہ کی سعادت مندوں کی خوشی سے انہیں تکلیف زیادہ ہو۔ اگر تو کہے کہ گھٹنوں کے بل انہیں لانے کا کیا مطلب ہے ؟ تو میں کہوں گا : جب انسان سے مراد خاص انسان (کافر) ہوں تو معنی یہ ہوگا کہ انہیں محشر سے جہنم کے کنارے کی طرف مجبور کر کے لے جایا جائے گا ان کی وہی حالت ہوگی جو ان کی مؤقف میں ہوگی وہ گھٹنوں کے بل چلیں گے۔ اور اگر انسان سے مراد عام انسان ہو تو معنی یہ ہوگا کہ وہ جہنم کے کنارے پر پہنچنے کے وقت گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس پر بنا پر جثیا، حال مقدرہ ہوگا جیسا کہ وہ مؤقف میں گھٹنوں کے بل تھے کیونکہ یہ حساب کے لیے کھڑے ہونے کے توابع سے ثواب اور عقاب تک پہنچنے سے پہلے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ : لنحضرنھم حول جہنم جثیا یعنی وہ اپنے گھٹنوں پر ہوں گے کہ وہ قیام پر قادر نہ ہوں گے۔ حول جہنم اس میں یہ ببھی جائز ہے کہ اس سے مراد جہنم کا داخل ہو جسے تو کہتا ہے : جلس القوم حول البیت، قوم گھر کے اندر بیٹھی اس کے اردگرد طواف کرتے ہوئے۔ اور حول جہنم یہ بھی جائز ہے کہ یہ دخول کے بعد ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ دخول سے پہلے ہو۔ جثیا جمع ہے جاث کی، کہا جاتا ہے : جثا علی رکبتہ، یجثو و یجثی جثوا وجثیا، مصدر دونوں میں فعول کے وزن پر ہے۔ اجثاہ غیرہ، قوم جثی، جیسے جلس، جلوسا اور قوم جلوس ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جثیا کا مطلب جماعت ہے۔ مقاتل نے کہا : اس کا معنی ہے جمعاً جمعاً (اکٹھا اکٹھا) اس تاویل پر یہ جثوۃ جثوہ اور جثوہ تینوں لغات ہیں۔ یہ جمع شدہ پتھروں اور جمع شدہ مٹی کو کہتے ہیں، شرابی لوگ علیحدہ ہوں گی، زانی علیحدہ ہوں گے اسی طرح سارے مجرم علیحدہ ہوں گے۔ طرفہ نے کہا :
تری جثوین من تراب علیھما صفائح صم من صفح منضد
حسن اور ضحاک نے کہا : گھٹنوں کے بل کھڑا ہونا۔ اس تاویل پر یہ جاث کی جمع ہوگی جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور یہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے ہوگا یعنی ان کے لیے مکمل بیٹھنا ممکن نہ ہوگا۔ بعض نے فرمایا : آپس میں جھگڑنے کی وجہ سے گھٹنوں کے بل ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون۔ (الزمر)
کمیت نے کہا ہے :
ھم ترکوا سراتھم جثیا وھم دون السراۃ مقرنینا
Ayahs 19:69–70اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم لنز عن من کل شیعۃ، یعنی ہم ہر امت اور ہر اہل دین سے نکالیں گے۔ ایھم اشد علی الرحمن عنیا۔ نحاس نے کہا : یہ آیت ترکیب کے اعتبار سے بہت مشکل ہے کیونکہ تمام قراء ایھم کو رفع کے ساتھ پڑھتے ہیں سوائے ہارون قاری اعور کے۔ سیبویہ نے اس سے ایھم پر نصب دی ہے کیونکہ اس پر لنزعن کو واقع کیا ہے۔ ابواسحق نے کہا : ایھم کے رفع میں تین اقوال ہیں۔ خلیل بن احمد نے کہا : یہ سیبویہ نے اس سے حکایت کیا ہے کہ یہ حکایت یر مرفوع ہے اس کا مفہوم یہ ہے : ثم لنزعن من کل شیعۃ الذی یقال من اجل عتوہ ایھم اشد علی الرحمن عتیا۔ اور خلیل نے بطور دلیل یہ شعر پیش کیا ہے :
ولقد ابیت من الفتاۃ بمنزل فابیت لا حرج ولا محروم
یعنی فابیت بمنزلۃ الذی یقال لہ لا ھو حرج ولا محروم۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : میں نے ابو اسحاق کو دیکھا وہ اس قول کو پسند کرتے تھے اور اچھا سمجھتے تھے فرمایا : کیونکہ یہ اہل تفسیر کے قول کا معنی ہے اور یہ کہا ہے کہ ثم لنز عن من کل شیعۃ کا معنی یہ ہے کہ ثم لنزعن من کل فرقۃ الاعتی فالاعتی۔ یعنی ہم ہر فرقہ سے جو زیادہ نافرمان ہوگا اسے نکالیں گے پھر جو اس کے بعدنافرمان ہوگا اسے نکالیں گے گو جو سب سے زیادہ نافرمان ہوگا اسے عذاب دیا جائے گا پھر جو اس سے متصل ہوگا۔ یہ اس آیت کے معنی میں ابو اسحاق کے کلام کی نص ہے۔ یونس نے کہا : لنزعن ان افعال کے قائم مقام ہے جو ملغی ہوتے ہیں اور ایھم کا رفع مبتدا کی حیثیت سے ہے۔ مہدی نے کہا : وہ فعل جو لنزعن ہے یونس کے نزدیک معلق ہے ابو علی نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ ایھم اشد، کی جگہ میں عمل کر رہا ہے ملغی نہیں ہے اور خلیل اور سیبویہ کے نزدیک لنزعن کی مثل فعل معلق نہیں ہوتا افعال شک اور وہ افعال جن کا وقوع متحقق نہیں ہوتا وہ معلق ہوتے ہیں۔ سیبویہ نے کہا : ایھم مبنی برضمہ ہے کیونکہ حذف ہے میں اس نے اپنے اخوات کی مخالفت کی ہے کیونکہ اگر تو کہہ : رأیت الذی أفضل ومن أفضل تو یہ قبیح ہوگا حتیٰ کہ تو کہے : من ھو أفضل، أیھم میں حذف جائز ہے۔ ابو جعفر نے کہا : میں کسی نحوی کو نہیں جانتا مگر اس نے اس میں سیبویہ کو غلط کہا ہے میں نے ابو اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ سیبویہ کی کتاب میں میرے لیے کوئی غلطی ظاہر نہیں ہوئی مگر دو جگہوں پر ان میں سے ایک یہ ہے فرمایا : ہم جانتے ہیں کہ سیبویہ نے ایا کو اعراب دیا ہے جبکہ یہ مفرد ہے کیونکہ یہ مضاف ہوتا ہے وہ اسے کیسے مبنی بناتا ہے جبکہ یہ مضاف ہوتا ہے ؟ ابو اسحاق نے ذکر نہیں کیا مگر یہی تین اقوال۔ ابو علی نے کہا : سیبویہ کے مذہب پر مبنی ہونا واجب ہے کیونکہ جس وجہ سے یہ پہچانا جاتا ہے وہ اس سے خذف کیا گیا ہے اور وہ ضمیر ہے حالانکہ اس کی احتیاج ہے جیسا کہ : من قبلومن بعد میں وہ چیز حذف کی گئی جس کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں کیونکہ صلہ موصول کی وضاحت کرتا ہے اور اسے خاص کرتا ہے۔ ابو جعفر نے کہا : اس میں ان مذکورہ تین اقوال کے علاوہ چار اقوال ہیں۔ کسائی نے کہا : لنزعن کا معنی ایھم پر واقع نہیں کہ اسے نصب دیتا ہے۔ مہدوی نے یہ زائد کہا ہے کہ ل اس کے نزدیک فعل، من کل شیعۃ کے محل پر واقع ہے۔ ایھم اشد جملہ مستانفہ ہے اور مبتداء کی حیثت سے ایھم مرفوع ہے اور سیبویہ الواجب میں من کی زیادتی کے قائل نہیں۔ فراء نے کہا : اس کا معنی ہے ہم ندا کے ذریعے نکالیں گے اور لنزعن کا معنی پر واقع ہے جیسے تو کہتا ہے : لیست من الثیاب واأکلت من الطعام اور لنزعن ہے ہم پکاریں گے۔ مہدوی نے کہا : نادیٰ فعل معلق ہوتا ہے جب اس کے بعد جملہ ہوتا ہے جیسا کہ ظننت ہے۔ پس یہ معنی میں عمل کرتا ہے اور لفظ میں عمل نہیں کرتا ہے۔ ابو جعفر نے کہا : ابوبکر بن شقیر نے حکایت کیا ہے کہ بعض کو فیوں نے کہا : ایھم میں شرط و جزا کا معنی ہے اس لیے ماقبل اس میں عمل نہیں کرتا، معنی یہ ہے پھر ہم ہر ایک فرقہ سے نکالیں گے اگر تم گروہ بنو یا نہ بنو جیسے تو کہتا ہے : ضربت القوم ایھم غضب، معنی یہ ہے کہ اگر وہ غصہ میں ہوں یا نہ ہوں میں قوم کو ماروں گا۔ ابو جعفر نے کہا : یہ چھ اقوال ہیں۔ میں نے علی بن سلیمان کو محمد بن یزید سے یہ حکایت کرتے ہوئے سنا کہ ایھم، شیعت کے متعلق ہے وہ مبتداء کی حیثیت سے مرفوع ہے معین یہ ہے پھر ہم ان لوگوں سے نکالیں گے جنہوں نے آپس میں تعاون کیا اور دیکھا کہ کون رحمن کا سخت نافرمان ہے ؟ یہ حسن کا قول ہے۔ کسائی نے حکایت کیا ہے کہ التشایع کا معنی تعاون کرنا ہے۔ اور عتیا کو نصب بیان کی وجہ سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولیٰ بھا صلیا۔ جیسے مضی یمضی مضیا جب کوئی چلا جائے۔ ھویٰ یھو ھویا۔ جوہری نے کہا : کہا جاتا ہے صلیت الرجل ناراً جب تو کسی کو آگ میں جھونک دے، گویا تو اسے جلانا چاہتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اصلیتہ، الف کے ساتھ وصلیتہ تصلیۃ بھی آتا ہے۔ ویصلی سعیراً بھی پڑھا گیا ہے۔ اور جنہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے تو وہ عربوں کے اس قول سے ہوگا : صلی فلان بالنار لام کے کسرہ کے ساتھ۔ یصلی صلیا اس کا معنی ہے جل جانا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھم اولیٰ بھا صلیا۔ عجاج نے کہا :
واللہ لولا النار ان نصلاھا۔
اسی طرح کہا جاتا ہے : صلی بالأمر جب گرمی اور شدت سخت ہوجائے۔ طہوری نے کہا :
ولا تبلی بسالتھم وان ھم صلوا بالحرب حینا بعد حین
واصطلیت بالنار وتصلیت بھا
ابو زبید نے کہا :
وقد تصلیت حرحربھم کما تصلی المقرورمن فرس
فلان لا یصطلی بنارہ کہا جاتا ہے جب کوئی بہادر شخص ہو اور اس کا مقابلہ نہ کیا جاتا ہو۔
Ayah 19:71اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتماً مقضیا۔ اس میں پانچ مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان منکم یہ قسم ہے اور وائو قسم کو مضتمن ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث اس کی تفسیر بیان کرتی ہے۔ لا یموت لاحد من المسلمین ثلاثت من الولد فتمسہ النار الا تحلۃ القسم۔ جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجاتے ہیں اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری ہونے کی مقدار۔ زہری نے کہا : گویا یہ آیت مراد لے رہے ہیں وان منکم الا واردھا۔ یہ ابو دائود طیالسی نے ذکر کیا ہے اور حدیث میں الا تحلۃ القسم کا قول تفسیر مسند میں نکلتا ہے، کیونکہ اس حدیث میں جو قسم مذکور ہے اہل علم کے نزدیک اس کا معنی یہ ارشاد ہے : وان منکم الا واردھا، بعض علماء نے فرمایا : القسم سے مراد یہ ارشاد ہے : والذریت ذروا۔ فالچملت وقرا۔ فالجریت یسرا۔ فالمقسمت امرا۔ انما توعدون لصادق۔ وان الدین لواقع۔ (الذاریات) پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور مفہوم قریب قریب ہے۔
مسئلہ نملر 2 ۔ الورود کے متعلق علماء کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا : اس سے مراد دخول ہے (1) ۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے فرمایا میں نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” الورود سے مراد دخول ہے کوئی نیکو کار اور فاجر باقی نہیں ہوگا مگر وہ دوزخ میں داخل ہوگا مومنین پر آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے گی جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی۔ “
Ayah 19:72اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظلمین فیھا جثیا۔ ابو عمر نے کتاب ” التمہید “ میں اپنی سند کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ خالد بن معدان، ابن جریج وغیر ہم کا یہی قول ہے۔ یونس نے حسین سے روایت کیا ہے کہ وہ ان منکم الا واردھا پڑھے تو الورود کی تفسیر الدخول سے بیان کرتے۔ بعض راویوں سے اس میں غلطی ہوئی اور انہوں نے الورود، الدخول کے الفاظ کو قرآن کے ساتھ لاحق کردیا ہے۔ مسند دارمی میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا ” لوگ آگ پر وارد ہوں گے پھر وہ اس سے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی طرح تیزی سے نکلیں گے پھر (بعد والے) ہوا کی طرح نکلیں گے پھر (بعد والے) گھوڑے کی تیز رفتاری سے نکلیں گے پھر (بعد والے) اس مسافر کی تیزی سے نکلیں گے جو اپنی سواری کو تیز چلانے والا ہوتا ہے پھر اس شخص کی طرح جو تیز چلتا ہے “ (2) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ میں نافع بن ازرق خارجی سے فرمایا : رہا میں اور تو، تو ضرور ہم وارد ہوں گے۔ رہا میں تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نجات دے گا اور ہا تو تو میں گمان نہیں کرتا کہ وہ تجھے نکالے گا تیرے جھٹلانے کی وجہ سے اکثر علماء ڈرتے ہیں کیونکہ دوزخ پر ورود تو یقینی ہے لیکن اس سے نکلنا مجہول ہے۔ ہم نے یہ مسئلہ (التذکرہ) میں بیان کردیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : الورود سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ، حضرت ابن مسعود اور کعب احبار اور سدی سے مروی ہے۔ سدی نے اس کو حضرم ابن مسعود سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ حسن کا بھی یہی قول ہے فرمایا : الورود سے مراد الدخولل نہیں ہے تو کہتا ہے : وردت البصرہ ولم ادخل۔ میں بصرہ پر وارد ہوا اور داخل نہیں ہوا۔ فرمایا : الورود سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : حسن کے مذہب پر اہل لغت کی ایک قوم نے بنیاد رکھی ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے حجت پکڑی ہے : ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون۔ (الانبیائ)
یہ علما فرماتے ہیں : وہ شخص دوزخ میں داخل نہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ دوزخ سے دور کرنے کی ضمانت دے گا۔ اور وہ ثم کو یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور پہلے مقالہ والوں نے ان کے خلاف یہ حجت پکڑی ہے کہ اولئک عنھا مبعدون۔ کا معنی ہے دوزخ میں عذاب سے دور کرنا اور جلانے سے دور کرنا، جو اس میں داخل ہوگا وہ اسے محسوس نہیں کرے گا اور کوئی تکلیف نہیں پائے گا وہ حقیقت میں دوزخ سے دور کیا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ثم ننجی الذین اتقوا سے استدلال کرتے ہیں۔ وہ ثم کو ثناء کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں : ثم دخول کے بعد نجات پر دلالت کرتا ہے۔
میں کہتا ہوں : صحیح مسلم میں ہے ” جہنم پر ایک پل لگایا جائے گا اور شفاعت کا در کھلے گا لوگ کہیں گے : سلم سلم سلامتی عطا فرمائ، سلامتی عطا فرما۔ “ (1) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ وہ پل کیا ہے ؟ فرمایا : ” وہ ایک پھسلن ہے اس میں اچک لینے والے اور نوک دار مڑے ہوئے کنڈے ہیں۔ ان میں سے شاخے کانٹے ہیں اس کو سعدان کہا جاتا ہے۔ مومنین آنکھ جھپکنے کی طرح گزریں گے اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح اور پرندوں کی طرح اور عمدہ گھوڑوں کی طرح اور اونٹوں کی طرح کچھ نجات پانے والے سلامتی والے ہوں گے اور کچھ کو خراشیں آئیں گی اور چھوڑ دیے جائیں گے اور کچھ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ “
اس سے ان علماء نے حجت پکڑی ہے جو فرماتے ہیں کہ پل صراط سے گزر وہ ورود ہے جس کو یہ آیت اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے نہ کہ دوزخ میں داخل ہونا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : بلکہ ورود سے مراد جھانکنا، اطلاع اور قرب ہے۔ وہ حساب کی طرح حاضر ہوں گے اور وہ جہنم کے قریب ہوگی پس وہ اس کی طرف حساب کی حالت میں دیکھیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں اس سے نجات دے گا جو انہوں نے دیکھا پھر انہیں جنت کی طرف پھیر دیا جائے گا۔ ونذر الظلمین ظالموں کو آگ کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولما وردمآء مدین (القصص :23) یعنی پانی پر جھانکا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی میں داخل ہوا۔ زہیر نے کہا :
فلما وردن الماء زرقاً جمامہ وضعن عصی الحاضر المتخیم
حضرت حفصہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” آگ میں اہل بدر اور اہل حدیبیہ میں سے کوئی داخل نہ ہوگا۔ “ (2) ۔ فرماتی ہیں : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ وان منکم الا واردھا کا قول کہاں جائے گا ؟ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” خامو، ثم ننجی الآین اتقوا ونذر الظلمین فیھا جثیا۔ اس حدیث کو امام مسلم نے حضرت ام مبشر سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں : میں نے نبی پاک ﷺ کو حضرت حفصہ سے یہ فرماتے سنا (الحدیث) زجاج نے اس قول کو اس ارشاد کی وجہ سے ترجیح دی ہے : ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ (الانبیائ : 101) مجاہد نے کہا : مومنین کے آگ پر وارد ہونے سے مراد بخار ہے جو مومن کو دنیا میں لاحق ہوتا ہے یہی آگ سے مومن کا حصہ ہے وہ دوزخ کی آگ میں داخل نہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ایک مریض کی عیادت کی جس کو بخار تھا نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا : ” تمہیں بشارت ہو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ (بخار) میری آگ ہے جو میں اپنے بندہ مومن پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ آگ سے اس کا حصہ ہوجائے “ ابو عمر نے اسے مسند ذکر کیا ہے فرمایا عبدالوارث بن سفیان نے ہمیں بیان فرمایا ہمیں قاسم بن اصبغ نے بیان کیا فرمایا ہمیں محمد بن اسماعیل صائغ نے بیان فرمایا ہمیں ابو اسامہ نے بیان کیا فرمایا ہمیں عبدالرحمن بن یزید بن جابر نے بیان کیا انہوں نے اسماعیل بن عبید اللہ سے انہوں نے اببو صالح اشعری سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے مریض کی عیادت کی پھر یہ حدیث مذکور ذکر کی اور حدیث میں ہے ” نجار، مومن کا آگ سے حصہ ہے “ (1) اور ایک جماعت نے کہا : الورود سے مراد قبر میں دوزخ کو دیکھنا ہے پھر کامیاب شخص کو اللہ تعالیٰ نجات دیتا ہے اور جس کی تقدیر میں اس میں داخل ہونا لکھا ہوگا وہ اس میں داخل ہوگا پھر اس سے شفاعت کے ذریعے یا اس کے علاوہ اللہ کی رحمت سے نکلے گا اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے ان علماء نے حجت پکڑی ہے کہ ” جب تم میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے “ (الحدیث) وکیع نے شعبہ سے انہوں نے عبدالللہ بن سائب سے انہوں نے ایک شخص سے اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے وان منکم الا واردھا کی تفسیر میں فرمایا ہے یہ خطاب کفار کو ہے۔ ان سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ وان منھم پڑھتے تھے وہ ان آیات پر اس کو لوٹاتے تھے جن میں کفار کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فوربک لنحشرنھم والشیطین ثم لنحضرنھم حول جہنم جثیا۔ اسی طرح عکرمہ اور ایک جماعت نے پڑھا ہے، اس قرأت پر کوئی جھگڑا نہیں۔ ایک فرقہ نے کہا : منکم سے مراد کافر ہیں معنی معنی یہ ہے کہ اے پیارے محمد ﷺ ان سے کہو : یہ تاویل آسان ہے اور کاف ضمیر منکم میں لنحشرنھم والشیطین میں ھا کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پس کاف کا ھاء کی طرف لوٹنا پسندیدہ نہیں یہ اس ارشاد میں معروف ہے۔ وسقھم ربھم شراباً طھورا۔ ان ھذا کان لکم جزآء وکان سعیکم مشکورا۔ (الدہر) اس آیت میں کان لکم سے مراد کان لھم ہے۔ کاف ضمیر ھاء کی طرف راجع ہے۔ اکثر علماء نے فرمایا : مخاطب تمام عالم ہے اور تمام کا ورود ضروری ہے اس پر ورود میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ہم نے اس کے متعلق علماء کے اقوال بیان کردیے ہیں۔ ورود کا ظاہر معنی دخول ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : فتمسہ النار۔ المسیس کا معنی لغت میں چھونا ہے۔ مگر وہ آگ مومنین پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے گی اور وہ اس سے سلامتی کے ساتھ نجات پائیں گے۔ خالد بن معدان نے کہا : جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوں گے تو وہ دیکھیں گے کیا ہمارے رب نے کہا نہیں تھا کہ ہم آگ پر وارد ہوں گے ؟ انہیں کہا جائے گا : تم اس میں وارد ہوئے تھے پس تم نے اسے راکھ پایا۔
میں کہتا ہوں : یہ قول مختلف اقوال کا جامع ہے اگر کوئی اس میں وارد ہو اور اسے آگ اپنے شعلے سے اذیت نہ دے تو وہ اس سے دور کیا گیا اور اس سے بچایا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے نجات عطا فرمائے، ان لوگوں سے کرے جو اس پر وارد ہوں تو سلامتی کے ساتھ داخل ہوں اور اسے غنیمت کے ساتھ نکالے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کیا انبیاء آگ میں داخل ہوں گے ؟ ہم کہیں گے : ہم یہ مطلق نہیں کرتے بلکہ ہم کہتے ہیں : ساری مخلوق دوزخ پر وارد ہوگی جیسا کہ حضرت جابر کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے نافرمان اپنے جرائم کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوں گے، اولیاء اور سعادت مند ان مجرموں کی شفاعت کے لیے داخل ہوں گے پس ان دونوں دخولوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ ابن انباری نے مصحف عثمان اور قرأت عامہ سے حجت پکڑتے ہوئے کہا : لغت میں جائز ہے کہ غائب سے مخاطب اور مخاطب سے غائب کی طرف التفات ہوتا رہتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وسقھم ربھم شراباً طھورا۔ ان ھذا کان لکم جزآء وکان سعیکم مشکورا۔ (دہر) پہلے غائب کی ضمیریں تھیں پھر مخاطب کی ضمیریں ذکر فرمائیں ؛ یہ مفہوم سورة یونس میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ نبی کریم ﷺ کے ارشاد میں الا تحلت القسم یہ مستثنیٰ منقطع کا بھی احتمال رکھتا ہے لیکن تحلۃ القسم یہ کلام عرب میں معروف ہے یعنی اسے آگ بالکل نہ چھوئے گی۔ یہاں کلام مکمل ہوئی پھر نئی کلام فرمایا الا تحلۃ القسم یعنی لکن تحلۃ القسم (قسم پوری قسم کرنے کے ضروری ہے) جو کہ اس ارشاد میں ہے : وان منکم الا واردھا اور وہ پل صراط سے گزرتا ہو یا آگ کو دیکھنا یا سلامتی کے ساتھ داخل ہونا ہو پس اس میں کوئی مسیس نہ ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” تم میں سے جن کے تین بچے فوت ہوجائیں گے پھر وہ ان پر ثوابب کی امید رکھے گا تو وہ اس کے لیے دوزخ سے ڈھال ہوں گے “ (1) ۔ الجنۃ کا معنی ڈال اور پردہ ہے۔ اور جو آگ سے بچایا گیا اور اس سے چھپایا گیا اس کو بالکل آگ نہ چھوئے گی اگر آگ اسے چھوتی تو وہ بچایا گیا نہ ہوتا۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ یہ حدیث پہلی حدیث کی تفسیر ہے کیونکہ اس میں الحسبۃ کا ذکر ہے اسی وجہ سے مالم مالک نے اپنے اثر کے ساتھ اس کو مفسر فرمایا ہے۔ اس دوسری حدیث کو اس نے مقید کیا ہے جو امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا : من مات لہ ثلاثۃ من الولد لم یبلغوا الحنث کان لہ حجابا من النار او دخل الجنۃ ( 2) ۔ پس نبی کریم ﷺ کا ارشاد : لم یبلغوا الحنث، اہل علم کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس عمر کو نہ پہنچے ہوں کہ ان پر گناہ لازم ہوتا ہو۔ یہ دلیل ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنت میں ہوں گے، واللہ اعلم۔ کیونکہ رحمت جب ان کے آباء پر نازل ہوئی تو یہ محال ہے کہ جن کی وجہ سے دوسروں پر رحم کیا گیا ہو وہ خود مرحوم نہ ہوں۔ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنت میں ہیں، اس میں مخالفت نہیں کی مگر جبر یہ فرقہ نے انہوں نے اس کو مشیئت کے ساتھ خاص کیا ہے۔ یہ ان کا اجماع کی وجہ سے مردود قول ہے جن کی مخالفت جائز نہیں اور نہ ان کی مثل پر غلطی جائز ہے نیز ثقہ عادل لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اخبار آحاد روایت کی ہیں اور نبی کریم ﷺ کا قول : الشقی من شقی فی بطن امہ والسعید من سعد فی بطن امہ وان الملک ینزل فیکتب اجلہ وعملہ ورزقہ (1) ۔ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے بطن میں بدبخت تھا اور سعید وہ ہے جو اپنی ماں کے بطن میں سعید تھا فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ اس کی عمر اس کا عمل اور اس کا رزق لکھتا ہے۔ یہ حدیث مخصوص ہے مسلمانوں کے بچوں میں سے جو اکتساب سے پہلے مر جائے گا وہ ہو ہوگا جو اپنی ماں کے بطن میں سعید تھا اور وہ ببدبخت نہیں تھا اس کی دلیل احادیث اور اجماع ہے، اسی طرح حضرت عائشہ کو نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے رہنے والے بھی پیدا کیے جبب کہ وہ اپنے آباء کی صلبوں میں تھے۔ “ یہ اجماع اور آثار کی وجہ سے ضعیف اور مردود ہے۔ طلحہ بن یحییٰ جس نے اس حدیث کو روایت کیا ہے وہ ضعیف ہے قابل حجت نہیں۔ اس حدیث کے ساتھ وہ منفرد ہے اس لیے قبول نہیں۔ شعبہ عن معاویہ بن قرۃ بن ایاس مزنی عن ابیہ عن النبی ﷺ کے سلسلہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کا چھوٹا بچہ فوت ہوگیا وہ اس پر بہت افسردہ ہوا اسے نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” کیا تجھے یہ خوشی نہیں کہ تو جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے آئے تو تو اسے پائے کہ وہ تیرے لیے دروازہ کھوللتا ہے “ (2) ۔ یہ حدیث ثابت صحیح ہے ان احادیث کے معنی کے ساتھ جو ہم نے ذکر کی ہیں نیز جمہور کا اجماع بھی ہے۔ یہ صحیح حدیث یحییٰ کی حدیث کے معارض ہے اور اسے دور کرتی ہے۔ ابو عمر نے کہا : میرے نزدیک اس حدیث میں اور اس کے مشابہ آثار میں وجہ یہ ہے کہ یہ اس کے لیے ہے جس نے فرائض کی ادائیگی کی محافظت کی، کبائر سے اجتناب کیا، مصیبت پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی۔ خطاب اس زمانہ میں ایسی قوم کو تھا جن کا غالب اسی پر تھا وہ صحابہ کرام تھے۔ نقاش نے بعض علماء سے ذکر کیا ہے کہ : وان منکم الاواردھا کا قول منسوخ ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے : ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ لا اولئک عنھا مبعدون۔ (الانبیائ) جس کو آگ نے نہیں چھوا وہی آگ سے دور کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے ” قیامت کے روز آگ مومن کو کہے گی : ” اے مومن ! گزر جا تیرا نور میرے شعلہ کو بجھا رہا ہے “ ( ‘(
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کان علی ربک حتماً مقضیا۔ الحتم کا معنی ہے فیصلہ کو واجب کرنا یعنی یہ حتمی تھا۔ مقضیا اللہ تعالیٰ نے یہ تم پر فیصلہ فرما دیا تھا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : یہ قسم واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم ننجی الذین اتقوا، یعنی ہم متقین کو نکالیں گے، ونذر الظلمین فیھا جثیا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ ورود سے مراد دخول ہے کیونکہ ندخل الظالمین نہیں فرمایا۔ اس پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے۔ مذہب یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب اگرچہ دوزخ میں داخل ہوگا اسے اس کی بداعمالیوں کی مقدار سزا ملے گی پھر وہ نجات پائے گا۔ فرقہ مرجہ نے کہا : وہ بھی داخل نہ ہوگا۔ وعید نے کہا : گناہ کبیرہ کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اس کا بیان کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔ عاصم حجدری، معاویہ بن مرۃ نے ثم ننجی تخفیف کے ساتھ انجیٰ سے پڑھا ہے، یہ حمید، یعقوب اور کسائی کی قرأت ہے اور باقی قراء نے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے ثمہ پڑھا ہے یعنی وہاں، ثم ظرف ہے مگر یہ مبنی ہے کیونکہ غیر محصل ہے پس یہ مبنی ہوگا جیسے مبنی ہے اور ھاء یہ بھی جائئز ہے کہ یہ حرکت کے بیان کے لیے ہو پس اسے وصل میں حذف کیا جائئے گا اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ بقعہ کی تانیث کے لیے ہو پس وصل میں تاء ثابت ہوگی۔
Ayah 19:73(تفسیر 73-75) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واذا تتلی علیہم ایتنا بینت، یعنی ان کفار پر جب ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن کا ذکرء اذا مامت لسوف اخرج حیا۔ میں گزر چکا ہے اور ان کے بارے میں فرمایا : ونذر الظلمین فیھا جثیا۔ جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو دنیا کی وجہ سے عزت والے بنتے ہیں اور کہتے ہیں : ہمیں کیا ہے اگر ہم باطل پر ہوئے ہم مال کے اعتبار سے زیادہ ہیں، نفری کے اعتبار سے معزز ہیں ؟ ان کا مقصود کمزور لوگوں پر شبہ کو زائل کرنا اور ان کو وہم دلانا تھا کہ جس کا مال زیادہ ہوتا ہے یہ دلیل ہے کہ وہ اپنے دین میں حق پر ہے، گویا انہوں نے کفار میں کوئی فقیر نہیں دیکھا اور مسلمانوں میں کوئی غنی نہیں دیکھا اور یہ انہیں معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو دنیا سے دھوکا کھانے اور کثرت سے اس کی طرف میلان سے دور رکھتا ہے۔ بینت، کا معنی جن کے الفاظ میں ترتیل ہے اور معانی میں تلخیص ہے، مقاصد کو بیان کرنے والی ہیں۔ محکمات ہیں یا متشابہات ہیں محکمات کی وجہ سے ان کا بیان ان کے پیچھے موجود ہے یا نبی پاک ﷺ نے قولاً یا فعلا ً بیان کیا ہے، ان کے ظاہر میں اعجاز ہے ان کے ساتھ چیلنج کیا گیا ہے کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا یا یہ حجتیں اور براہین ہیں یہ حال مؤکدہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھو الحق مصدقا (البقرہ : 91) کیونکہ آیات ہمیشہ واضح ہوتی ہیں اور حجتیں ہوتی ہیں۔ قال الذین کفروا اس سے مراد قریش کے مشرک ہیں نضر بن حرث اور اس کے ساتھی، للذین امنوا اس سے مراد نبی کریم ﷺ کے فقراء صحابہ ہیں ان کی حالت بوسیدہ تھی ان کی زندگیوں میں خشونت تھی اور ان کے لباس پھٹے پرانے ہوئے تھے مشرک لوگ اپنے بالوں کو کنگھی کرتے تھے، اپنے سروں پر تیل لگاتے تھے اور عمدہ لباس پہنتے تھے انہوں نے مومنین سے کہا : ای الفریقین خیر مقاماً واحسن ندیا، ابن کثیر، ابن محیصن، حمید اور شبل بن عباد نے مقاماً میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی قیام کی جگہ، اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الاقامۃ کے معنی میں مصدر میمی ہو اور باقی قراء نے مقاماً کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی منزل اور مسکن۔ بعض علماء نے فرمایا : مقام سے مراد وہ جگہ ہوتی ہے جس میں بڑے بڑے امور طے کیے جاتے ہیں یعنی دونوں فریقوں میں سے زیادہ جاہ و حشمت اور مددگاروں والا کون ہے ؟ احسن ندیا، (1) ندیا سے مراد مجلس ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد منظر ہے لغت میں مجلسکو النادی کہتے ہیں اسی سے دارالندوہ ہے کیونکہ مشرکین اس میں اپنے امور کا مششورہ کرتے تھے۔ نا داہ کا مطلب ہے مجلس میں اس نے اسے بٹھایا۔ شاعر نے کہا : انادی بہ آل الوالید وجعفر الندی فعیل کے وزن پر قوم کے بیٹھنے کی جگہ اور گفتگو کی جگہ اسی طرح الندوہ، النادی، المنتدی، المتندی ہے اگر قوم بکھر جائے تو وہ ندی نہیں ہے ؛ یہ جوہری نے کہا ہے۔
Ayahs 19:74–75اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکم اھلکنا قبلہم من قرن، قرن سے مراد امت اور جماعت ہے، ھم احسن اثاثاً زیادہ مال و متاع مراد ہے۔ شاعر نے کہا :
وفرع یزین المتن اسود فاحم اثیث کفنو النخلۃ المستعثکل
الاثاث سے مراد گھر کا سازوسامان ہوتا ہے۔ بعض علما نے فرمایا : اثاث جو بچھایا جاتا ہے۔ الحرثی جو پہنا جاتا ہے۔ حسن بن علی طوسی نے یہ شعر کہا ہے :
تقادیم العھد من ام الولید بنا دھراً وصار اثاث البیت خرثیا
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ا ثاث سے مراد ہئیت ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد کپڑے ہیں، وریاء یا خوبصورت منظر، اس میں پانچ قراتیں ہیں : اہل مدینہ نے وریا، بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔ اہل کوفہ نے ورئیا ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعقوب نے حکایت کیا ہے کہ طلحہ نے وریا ایک یاء مخففہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور سفیان نے اعمش سے انہوں نے ابو ظبیان سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : ھم احسن اثاثا وزیا یعنی زاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ چار قرأیتیں ہیں۔ ابو اسحاق نے کہا : ھم احسن اثاثا ورئیا یعنی یا کے بعد ہمزہ کے ساتھ بھی جائز ہے۔ نحاس نے کہا : اہل مدینہ کی قرأت اس میں بہتر ہے اور اس میں دو تقریریں ہیں۔ (1) یہ رایت سے مشتق ہو پھر ہمزہ میں تخفیف کی گئی ہو اور اس کو یاء سے بدل دیا گیا ہو اور پھر یاء کو یاء میں ادغام کیا گیا ہو۔ یہ بہتر ہے تاکہ آیات کے سرے متفق ہوجائیں کیونکہ وہ غیر مہموز ہیں اس بنا پر حضرت اببن عبب اس ؓ نے کہا : الرنئی کا مطلب منظر ہے بس معنی یہ ہے ھم احسن اثاثا ولبا سا اور دوسری تقریر یہ ہے کہ ائن جلودھم مرتویہ من النعمۃ ان کی کھالیں نعمتوں سے سیراب تھیں۔ پس اس بنا پر ہمزہ جائز نہیں اور ورش کی روایت میں نافع اور ابن ذاکوان نے ابن عامر سے ریئا ہمزہ کے ساتھ پہلی وجہ پر ہوگا ؛ یہ اہل کوفہ اور ابو عمرو کی قرأت ہے یہ اصل پر رائیت سے مشتق ہوگا۔ طلحہ بن مصرف کی قرأت وریا ایک یاء مخففہ کے ساتھ میں، اس کو غلط خیال کرتا ہوں۔ بعض نحویوں کا خیال ہے کہ اس کی اصل ہمزہ ہے پھر ہمزہ کو یا سے تبدیل کیا گیا پھر ایک یاء کو حذف کیا گیا۔ مہدوی نے کہا : ریئا ہونا بھی جائز ہے یا کو تبدیل کیا گیا تو وہ ربیا ہوگیا۔ پھر ہمزہ کی حرکت یا کی طرف نقل کی گئی اور اسے حذف کیا گیا، بعض نے وریا قلب کی بنا پر پڑھا ہے۔ یہ پانچویں قرأت ہے۔ سیبویہ نے راء بمعنی رأی حکایت کیا ہے۔ جوہری نے کہا : جس نے اس کو ہمزہ دیا ہے اس نے اسے رایت سے مشتق کیا ہے اور اس سے مراد منظر ہے جس کو آنکھ اچھی حالت اور خوبصورت لباس میں دیکعتی ہے۔ ابو عبیدہ نے محمد بن نمیر ثقفی نے کہا :
اشاقتک الظعائن یوم بانوا بذی الرئی الجمیل من الاثاث
اور جنہوں نے اس کو ہمزہ نہیں دیا یا تو وہ ہمزہ کی تخفیف کی بنا پر ہے یا وہ رویت الوانھم وجلودھم ریا سے مشتق ہوگا، جس کا معنی ہے ان کے رنگ اور کھالیں بھری ہوئی اور خوبصورت تھیں۔ رہی حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابی بن کعب اور سعید بن جبیر اور اعسم مکی اور یزید بربری کی قرأت و زیا، زاء کے ساتھ اس کا معنی بھی ہئیت اور خوبصورت ہے۔ یہ جائز ہے کہ یہ زویت سے مشتق ہو یعنی جمع کی گئئی اس کی اصل رویا ہوگی واو کو یاء سے بدلا گیا ہے اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے زویت لی الأرض (1) زمین میرے لیے لپیٹ دی گئی یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی چیز بھی فائدہ نہ دے گی۔ یہ لوگ جتنا چاہیں زندگی گزاریں پس انہیں موت اور عذاب کی طرف لوٹنا ہے اگرچہ وہ کتنی لمبی عمر پائیں یا جلدی پہنچنے والا عذاب مراد ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی معرفت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل من کان فی الضللۃ، یہاں ضلالت سے مراد کفر ہے۔ فلیمددلہ الرحمن مداً یعنی اس کی جہالت اور کفر کی سرکشی میں اسے چھوڑے رکھتا ہے۔ صیغہ امر کا ہے لیکن اس کا معنی خبر ہے یعنی جو گمراہی میں ہوگا اللہ تعالیٰ اسے ڈھیل دے گا حتیٰ کہ اس کا غرور بڑھتا جائے پس وہ اس کے عقاب کو مزید سخت کر دے گا اس کی مثال یہ ہے : انما نملی لھم لیزدادوا اثماً (آل عمران : 178) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ونذرھم فی طغیانھم یعمھون۔ (الانعام) اس کی مثالیں بہت سی ہیں 0 یعنی جتنا چاہے زندہ رہے اپنی عمر میں اپنے لیے وسعت کرے اس کا انجام موت اور عقاب ہی ہوگا۔ یہ شدید و عید اور دھمکی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ دعا ہے جس کا نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ تو کہتا ہے : من سرق مالی فلیقطع اللہ تعالیٰ بیدہ، جو میرا مال چوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ کاٹے۔ یہ چور کے خلاف بددعا ہے یہ جواب شرط ہے اس بنا پر فلیمدد خبر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتیٰ اذا راو ما یوعدون، رأو، فرمایا کیونکہ لفظ من واحد اور جمع کی صلاحیت رکھتا ہے اور اذا ماضی کے ساتھ بھی مستقبل کا معنی دیتا ہے، یعنی حتیٰ کہ وہ دیکھ لیں گے جو ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ العذاب سے یہاں مراد ان کے خلاف مومنین کی مدد کر کے عذاب دینا ہے پس وہ تلوار اور قیدی بنا کر انہیں عذاب دیں گے یا قیامت قائم ہوگی پس اور وہ آگ کی طرف جائیں گے۔ فسیعلمون من ھو شر مکانا واضعف جنداً ۔ اس وقت حقائق منکشف ہوں گے۔ یہ ان کے قول : ای القرنین …… الخ کا رد ہے۔
Ayah 19:76(تفسیر 76) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویزید اللہ الذین اھتدواھدی اللہ تعالیٰ مومنین کو ہدایت پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ان کی نصرت میں اضافہ کرتا ہے اور ایسی آیات نازل فرماتا ہے جو یقین میں زیادتی کا سببب ہوتی ہیں یہ ان کے جزا کے لیے ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اور ناسخ و منسوخ کی تصدیق کی وجہ سے ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے جس کا دوسرے لوگ انکار کرتے ہیں ؛ یہ معنی کلبی اور مقاتل نھے بیان کیا ہے۔ ایک تیسرا احتمال بھی ہے ویزید اللہ الذین اھتدوا یعنی ہدایت یافتہ لوگوں کی جنت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ مفہوم پہلے مفہوم کے قریب ہی ہے۔ اعمال کی زیادتی اور ایمان و ہدایت کی زیادتی کا مفہوم سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ والبقیت الصلحت اس پر گفتگو سورة الکہف میں گزر چکی ہے۔ خیر عند ربک ثواباً ثوابا سے مراد جزا ہے۔ وخیر مرداً ۔ آخرت میں بہتر انجام ہوگا اس سے جس کے ساتھ دنیا میں کفار فخر کرتے تھے۔ المراد مصدر ہے جیسے الرد ہے، یعنی نیکیاں کرنے والے پر بہتر ثواب لوٹایا جائے گا، کہا جاتا ہے : ھذا ردعلیک یعنی میں تجھے نفع دوں گا۔ بعض علماء نے فرمایا : خیر مرداً ۔ یعنی بہتر مرجع، ہر ایک اپنے اعمال کی طرف لوٹایا جائے گا جو اس نے عمل کیا۔