19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 19:23

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاجآء ھا المخاض الی جذع النخلۃ، اجاء ھا کا معنی ہے اس نے اسے مجبور کرلیا (2) ۔ جاء کو ہمزہ کے ساتھ متعدی بنایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے : جاء بہ و أجاءہ الی موضع کذا، جیسے کہا جاتا ہے : ذھب بہ و انھبہ، شبیل، اور ویت نے عاصم سے فاجآاء ھا مفاجات سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔ زہیر نے کہا : و جار سار معتمداً الینا اجاء تہ المخافۃ و الرجاء جمہور علماء نے المخاض میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ المخاض سے مراد دردزہ ہے۔ فخضت المرأت تمخض مخاضا و مخاضا۔ ناقۃ ماخض، ایسی اونٹنی جس کے بچے کی پیدائش قریب ہو۔ الی جذع النخلۃ، گویا اس نے ایسی چیز طلب کی جس کے ساتھ سہارا لے اور اس سے متعلق ہو جیسے حاملہ عورت درد کی شدت کی وجہ سے کسی چیز کو پکڑتی ہے۔ الجذع، کھجو رکے خشک تنا کو کہتے ہیں جو صحرا میں ہو اور اس پر پتے نہ ہوں اور نہ ٹہنی ہو اسی وجہ سے اسی الی النخلۃ نہیں فرمایا۔ قالت یلیتنی مت قبل ھذا حضرت مریم نے دین کی جہت سے دو وجوہ کی بنا پر موت کی تمنا کی۔ انہیں خوف ہوا کہ اس کے متعلق ان کے دین میں شرکا گمان کیا جائے گا اور عار دلائی جائے گی اور یہ چیز اسے فتنہ میں ڈال دے گی۔ 2۔ تاکہ قوم ان کے سبب بہتان اور زنا کی طرف نسبت کرنے میں مبتلا نہ ہو کیونکہ یہ چیز مہلک ہے اس حد پر موت کی تمنا جائز ہے۔ یہ معنی سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔ میں کہتا ہوں : میں نے سنا کہ ہے کہ حضرت مریم (علیہما السلام) نے ایک شخص کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا نکل جا اے وہ جس کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے تو آپ اس وجہ سے پریشان ہوئیں۔ قالت یلیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیاً ۔ کلام عرم میں النسی کا معنی وہ حقیر شی ہے جس کی شان یہ ہو کہ وہ بھلائی جائے اور اس کے گم ہونے سے پریشانی نہ ہو جیسے کیل اور رسی جو مسافر کے پاس ہوتے ہیں۔ یہ عربوں سے حکایت ہے کہ وہ جب ایک منزل سے کوچ کرنے کا ارادہ ر کرتے تھے تو کہتے تھے : احفظو أنساء کھ۔ النسائ، نسی کی جمع ہے اس سے مراد وہ حقیر چیز ہے جس سے غفلت کی جائے اور بھلائی جائے۔ اسی سے کمیت کا قول ہے : أتجعلنا جسراً لکلب قضاعۃ ولست بنسی فی معد ولا دخل فراء نے کہا : النسی سے مراد وہ چھیتھڑے ہیں جو عورت حیض کے خون سے ملوث کر کے پھینک دیتی ہے۔ نسیانون کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے الحجر اور الحجر، الوترا اور الوتر، محمد بن کعب قرظی نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نسئاً اور نون کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نوف بکائی نے نسئا نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے نساء اللہ تعالیٰ فی أجلہ سے مشتق کیا ہے جس کا معنی ہے اللہ نے اس کی عمر میں تاخیر فرمائی۔ یہ ابو الفتح اور دانی نے محمد بن کعب سے حکایت کیا ہے۔ بکر بن حبیب نے نساء، سین کی شد اور نون کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔ طبری نے حضرت مریم کے قصص میں حکایت کیا ہے کہ جب حضرت مریم، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حاملہ ہوئیں تو ان کی بہن حضرت یحییٰ کے ساتھ حاملہ ہوئیں۔ حضرت یحییٰ کی والدہ ان کی زیارت کے لیے آئی تو حضرت مریم نے اسے کہا : کیا تجھے معلوم ہے کہ میں حاملہ ہوگئی ہوں۔ آپ کی بہن نے کہا : میں محسوس کرتی ہوں کہ جو میرے پیٹ میں ہے وہ اسے سجدہ کر رہا ہے جو تمہارے پیٹ میں ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ روایت ہے کہ اس نے اپنے جنین (پیٹ کا بچہ) کو محسوس کیا کہ وہ حضرت مریم کے بطن کی طرف اپنا سر جکا رہا ہے۔ سدی نے کہا اس ارشاد سے یہی مراد ہے۔ مصدقا بکلمۃ من اللہ و سیدا و حصوراً و نبیاً من الصلحین۔ (آل عمران) ان کے قصص میں طبری نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ حضرت مریم بنی اسرئیل کے ایک شخص کے ساتھ بھاگ گئی تھیں اسے یوسف نجار کہا جاتا تھا وہ بھی حضرت مریم کے ساتھ مسجد کی خدمت کرتا تھا (1) انہوں نے اس میں بڑی طویل گفتگو کی ہے۔ کلبی نے کہا : یوسف کو کہا گیا کہ مریم زنا کی وجہ سے حاملہ ہوئی ہے (نعوذ بااللہ من ذالک القول) ابھی فرشتہ نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو جبرئیل امین یوسف کے پاس آئے اور کہا : یہ روح القدس سے ہے۔ ابن عطیہ نے کہ : یہ تمام واقعات ضعیف ہیں۔ یہ قرآنی واقعہ تقاضا کرتا ہے کہ حضرت مریم حاملہ ہوئیں اور وہ عورتوں کے عرف پر حاملہ رہیں۔ روایات ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں کہ انہوں نے آٹھ ماہ کے بعد بچہ جنم دیا، یہ عکرمہ کا قول ہے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آٹھ ماہ کا بچہ زندہ نہیں رہتا تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیات باقی رہے۔ بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے نو ماہ کے بعد بچہ جنم دیا، بعض نے کہا : چھ ماہ بعد جنم دیا۔ جو ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ اصح اور اظہر ہے۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فنادھا من تحتھا، یہ میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : من سے مراد جبرئیل ہے (1) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کلام نہ کی حتی کہ حضرت مریم اسے قوم کے پاس لے آئیں یہ علقمہ، ضحاک اور قتادہ کا قول ہے۔ اس میں حضرت مریم کے لیے نشانی اور علامت تھی کہ اللہ تعالیٰ کے خارق للعادت امور میں کوئی مقصد عظیم ہوتا ہے۔ الا تحزنی، یہ ندا کی تفسیر ہے اور ان مفسرہ بمعنی ای ہے معنی ہے کہ بچے کے جنم سے پریشان نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریاً ۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ السری مردوں میں سے اسے کہتے ہیں جو عظیم خصال کا حامل ہو اور سردار ہو۔ حسن نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مردوں میں سے السری تھا یعنی سردار تھا۔ کہا جاتا ہے : سری فلان علی فلان۔ جمہور علماء نے کہا : یہ اس نالی کی طرف اشارہ ہے جو کھجور کے تنا کے قریب تھی (2) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : السری سے مراد نہر ہے جس کا پانی ختم ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے لیے اسے جاری فرما دیا۔ النھر کا سریا کہتے ہیں گویا اس کا پانی اس میں چلتا ہے جیسا شاعر نے کہا : سلم تری الدالی منہ أزروا اذا یعب فی السری ھر ھرا لبید نے کہا : فتوسطا عرض السری و صدعا مسجورۃ متجاورا قلامھا بعض علماء نے فرمایا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت مریم کو ندا دی حضرت مریم کے دل کی تسکین کے لیے یہ معجزہ اور نشانی تھی۔ پہلا قول اظہر ہے۔ حضرت ابن عباس نے اسے فناداھا ملک من تحتھا، پڑھا ہے۔ علماء نے فرمایا : حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس جگہ سے پست جگہ پر تھے جس پر حضرت مریم موجود تھیں۔
Ayah 19:25

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کجھور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھزی الیک بجذع النخلۃ تسقط علیک رطبا جن یا۔ فکلی واشربی وقری عینا۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ و ھزی اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو خشک کھجور کے تنا کو حرکت دینے کا حکم دیا تاکہ مردہ تنا کے احیا میں دوسری نشانی دیکھ لیں۔ بجذع میں باء زائدہ موکدہ ہے جیسے کہا جاتا ہے۔ خذ لزمام و أعط بیدک۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلیمدد بسبب الی السمآء (الحج :15) یعنی فلیمدد سببا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کھجور کے تنا پر جو تر کھجوریں ہیں انہیں اپنی طرف جھکائو۔ تسقط اصل میں تتساقط ہے تاء کو سین میں ادغام کیا گیا ہے۔ حمزہ نے تساقط پڑھا ہے یعنی تخفیف کے ساتھ انہوں نے تا کو حذف کردیا ہے جس کو دوسروں نے ادغام کیا ہے۔ عاصم نے حفص کی روایت میں تساقط تاء کے ضمہ کے ساتھ تخفیف اور قاف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں تا کے اظہار کے ساتھ تتساقط بھی پڑھا گیا ہے۔ یساقط یا اور تا کے ادغام کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ تسقط اور یسقط، تسقط و یسقط تا کے ساتھ تخلۃ کی وجہ سے اور یا کے ساتھ جذع کی وجہ سے نو قراتیں ہیں ان کو زمخشری نے کیا ہے۔ رطباً ، اس کو نصب ھزی کی وجہ سے ہے یعنی جب تو تنے کی حرت دے گی تو اس کی حرکت سے تر کھجوروں کو حرت دے گی۔ بہرحال رطباً کی نصب میں قرأت کے معانی کے اعتبار سے اختلاف ہے کبھی فعل کو الجذع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور کبھی الھزء کی طرف، کبھی النخلۃ کی طرف اور جنیاً اس کا معنی ہے جو پک چکی ہیں اور چننے قابل ہوچکی ہیں۔ ییہ جنیت الثمرۃ سے مشتق ہے۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انہوں نے تساقط علیک رطباً جن یا برنیا پڑھا مگر یہ صحیح نہیں۔ مجاہد نے کہا : رطباً جنیاً وہ عجوہ کھجور تھی۔ حضرت عباس بن فضل نے کہا : میں نے ابو عمر و بن العلاء سے رطبا جن یا، کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ ابھی خشک نہیں ہوتی تھی اور چننے والوں کے ہاتھوں سے دور نہیں ہوئی تھی یہ صحیح قول ہے۔ فراء نے کہا : الجنی وہ کھجوریں جو ایک درخت سے کاٹی گئی ہوں اور اس مکان سے لی گئی ہو جہاں وہ پیدا ہوئیں بطور دلیل یہ شعر پڑھا : و طیب ثمار فی ریاض أریضۃ وأغصان اشجارِ جناھا علی قرب الجنی سے مراد وہ ہے جو چنی جاتی ہیں یعنی جو کاٹی جاتی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ تنا بالکل خشک تھا جب حضرت مریم نے اسے حرت دی تو آپ نے تنے کے اوپر دیکھا وہاں سبز پتے ظاہر ہوچکے تھے پھر اس کے گابھے کو دیکھا جو ان ٹہنیوں اور پتوں سے نکل چکا تھا پھر سبز کھجوریں بنیں پھر آدمی پکی کچی کھجوریں بنیں پھر سرخ ہوئیں پھر پک گئیں پھر چھوارے کی شکل میں بن گئیں اور یہ سب کچھ آنکھ جھپکنے کی دیر میں ہوا کھجوریں آپ کے سامنے گرتیں اور اس میں کوئی پھٹتی نہیں تھی۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ رزق اگرچہ حتمی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے لیے کوشش کو مقرر فرمایا ہے کیونکہ اس نے مریم (علیہما السلام) کو تنے حرکت دینے کا حکم دیا تاکہ وہ نشانی دیکھ لے اور نشانی تب ہوتی جبکہ وہ اس کی حرکت دینے کے بغیر ہوتا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ رزق میں محنت کی تکلیف دینا، اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں میں سنت ہے یہ توکل کے منافی نہیں بخلاف جاہل صوفیاء کے جو کہتے ہیں کہ محنت کرنا توکل کے خلاف ہے۔ یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ اس سے پہلے حضرت مریم کے پاس رزق بغیر تکسب و محنت کے آتھا تھا جیسا کہ ارشاد فرمایا : کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقاًٰجب حضرت مریم نے بچہ جنم دیا تو انہیں تنے کو حرکت دینے کا حکم دیا گیا۔ ہمارے علماء نے فرمایا : جب حضرت مریم کا دل فارغ تھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تکسب سے فارغ کردیا تھا جب انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دیا اور ان کا دل اس کی محبت سے متعلق ہوا اور اس کی بات اور اس کے امر کے ساتھ ان کا باطن مشغول ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مریم کو کسب کی طرف متوجہ کردیا اور اسے عادت کی طرف لوٹا دیا کہ وہ اسباب کے ذریعے رزق دیتا ہے۔ طبری نے ابن زید سے حکایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلم نے حضرت مریم سے کہا : لا تحزنی تو پریشان نہ ہو۔ حضرت مریم نے کہا : میں کیسے فکر مند نہ ہوں جبکہ تو میرے ساتھ ہے ؟ نہ میں خاوند والی ہوں نہ مملوکہ ہوں لوگوں کے سامنے میرا عذر کیا ہوگا ؟ یلیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیاً منسیاً ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلم نے حضرت مریم سے کہا : میں کلام کر کے تمہاری طرف سے جواب دوں گا۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ ربیع بن خثیم نے کہا : اس آیت کی وجہ سے میرے نزدیک بچہ جنم دینے والی عورتوں کے لیے کھجوروں سے بہتر کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بچہ جنم دینے والی عورتوں کے لیے کوئی اور چیز افضل ہوتی تو اللہ تعالیٰ حضرت مریم کو وہی کھلاتا۔ اسی وجہ سے علماء نے فرمایا : اس وقت سے نفاس والی عورتوں کے لیے چھواروں کی عادت ہے اسی طرح گھٹی بھی کھجور سے دی جاتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جب بچہ جنم دینا مشکل ہو تو کھجور سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں اور مریض کے لیے شہد سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں، یہ زمخشری نے ذکر کیا ہے۔ ابن وہب نے کہا : امام مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رطباً جنیاً ، الجنی اس کھجور کو کہتے ہیں جو بغیر نقش اور فساد کے پکی ہوئی ہو۔ النقش یہ ہے کہ آدمی پکی آدھی کچی کھجور کو نیچے سے کانٹے مارنا تاکہ جلدی پک جائے۔ ایسا کرنا مکروہ ہے۔ امام مالک کے نزدیک یہ وقت سے پہلے کسی چیز کو جلدی تیار کرنا ہے ایسا کرنا کسی کے لیے مناسب نہیں اگر کوئی ایسا کرے گا تو بیع کے لیے ایسا کرنا جائز نہ ہوگا نہ اس کو پکانے کے لیے یہ جائز ہوگا۔ اس پر گفتگو سورة انعام میں گزر چکی ہے۔ طلحہ بن سلیمان سے جن یا اتباع کے طور پر جیم کے کسرہ کے ستھ مروہ ہے یعنی ہم نے نہر اور کھجور میں دو فائدے رکھے ہیں، ایک کھانا، پینا اور دوسرا دل کی تسلی کیونکہ یہ دونوں معجزے ہیں۔ فکلی واشربی وقری عیناً ۔ کا یہی مفہوم ہے یعنی کھجوروں سے کھائو، نہر سے پانی پیو اور اپنے بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ قری قاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور یہ جمہور کی قرات ہے۔ طبری نے قری کو قاف کے کسرہ کے ساتھ حکایت کیا ہے۔ یہ نجد کی لغت کہا ہے کہا جاتا ہے کہ قر عینا یقرہ و یقر قاف کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ۔ أقر اللہ عینہ فقرت، اللہ نے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا تو وہ ٹھنڈی ہوگئیں۔ یہ القرا اور القرۃ سے ماخوذ ہے۔ دونوں کا معنی ٹھنڈا ہونا ہے۔ خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور غم آنسو گرم ہوتے ہیں۔ ایک جماعت نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، انہوں نے کہا : ہر آنسو گرز ہوتا ہے۔ أقر اللہ عینہ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ محبوب کے دیدار کے ساتھ تیری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے تاکہ وہ ٹھنڈی ہو اور سکون پائے۔ فلان قرۃ عینی یعنی فلان کے قرب سے میرے نفس کو سکون ملتا ہے۔ شیبانی نے کہا : قری عیناً اس کا معنی ہے تو سو جا، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو کھانے، پینے اور سونے پر ابھارا۔ ابو عمرو نے کہا : أقر اللہ عینہ کا مطلب ہے اللہ نے اسے سلایا اور اس کے جاگنے کو ختم کردیا۔ عیناً پر نصب تمیز کے اعتبار سے ہے جیسے تیرا قول ہے : طب نفسا، حقیقت میں فعل آنکھ کے لیے تھا پھر اسے آنکھ والے کی طرف نقل کردیا اور جو حقیقت میں فاعل تھا اسے تفسیر کی بنا پر نصب دی گئی مثلاً طب نفساً ۔ نفقات شحما و تصببت عرقا۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاما ترین من البشر احدا، فقولی انی نذرت للرحمن صوما اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاما تریناصل میں ترأیین تھا ہمزہ کو حذف کیا گیا جس طرح تری سے ہمزہ سے حذف کیا گیا ہے۔ پھر اس کا فتحہ راء کی طرف نقل کیا گیا ہے تو یہ ترکین بن گیا پھر پہلی یا کوائف سے بدلا کیونکہ وہ متحرک ہے اور اس کا ما قبل مفتوح ہے۔ پھر دو ساکن الف یا یاء تانیث جمع ہوتے تو التقاء ساکنین کی وجہ سے الف کو حذف کردیا گیا تو ترین ہوا پھر جزم کی علامت کے طور پر نون کو حذف کیا گیا کیونکہ ان حرف شرط اور ماصلۃ ہے۔ پس تری رہ گیا۔ پھر نون ثقیلہ داخل ہوا تو التقاء ساکنین کی وجہ سے یاء تانیث کو کسرہ دیا کیونکہ نون ثقیلہ دونوں کے مقام ہوتا ہے اور پہلا نون ساکن ہے پس یہ ترین بن گیا۔ اس طریقہ پر ابن درید کا قول ہے : أماتری رأسی حا کی لونہ اور الافوہ کا قول ہے : اما تری رأسی أزری بہ اور یہاں کے ما کے توطئتہ کے لیے نون داخل ہوا جس طرح اس کے دخول کے لیے لام قسم بطور توطئہ داخل کیا جاتا ہے۔ طلحہ، ابو جعفر اور شبیہ نے ترین یاء کے سکون اور نون کے فتحہ کے ساتھ تخفیف سے پڑھا ہے۔ ابو الفتح نے کہا : یہ شاذ ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقولی انی نذرت۔ یہ جواب شرط ہے اور اس میں اضمار ہے یعنی تیرے بچے کے متعلق کوئی سوال کرے تو تو یہ کہہ کر میں نے خاموشی کے روزے کی نذز مانی ہے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت انس بن مالک کا قول ہے (1) ۔ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں انی نذرت للرحمن صوماً صمتاً ہے۔ حضرت انس سے بھی مروی ہے اور حضرت انس سے وصمتا وائو کے ساتھ بھی مروی ہے۔ لفظوں کا اختلاف دلالت کرتا ہے کہ ایک تفسیر کے لیے ذکر کیا گیا ہے نہ کہ قرأت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ جب اس کے ساتھ وائو ہو تو ممکن ہے کہ یہ روزے کے علاوہ ہو۔ محدثین اور لغات کے روات سے جو روایات مروی ہیں وہ متفق ہیں کہ روزے سے مراد حاموشی ہے کیونکہ الصوم کا مطلب بھی امساک (رکنا) ہے اور الصمت کا معنی کلام سے روکنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الصوم سے مراد روزہ ہی ہے اور ان لوگوں پر روزے کے دن خاموشی بھی لازم ہوتی تھی مگر اشارہ کے ساتھ کلام جائز تھا اس بنا پر حضرت انس کی قرأت وصمتاً وائو کے ساتھ ہوگی۔ الصمت (خاموشی) ان کے نزدیک روزے میں نذر کے ساتھ لازم تھی جیسا کہ کسی نے ہم میں سے بیت اللہ کی طرف چلنے کی نذر مانی تو یہ حج یا عمرہ کے ساتھ احرام کا بھی مقتضی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کی زبان پر حضرت مریم کو حکم دیا یا ان کے بیٹے کی زبان پر انہیں حکم دیا جیسا کہ اختلاف گزر چکا ہے کہ انسان کے مخاطب ہونے سے رک جانا اور اپنے بیٹے کی طرف سوال کرنے والے کو پھیر دینا تاکہ وہ اس خجالت کو دور کرے۔ معجزہ ظاہر ہو اور حضرت مریم کا عذر قبول ہو۔ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ حضرت مریم کے لیے یہ الفاظ کہنا مباح کیا گیا تھا جو آیت کے اندر موجود ہیں، یہ جمہور کا قول ہے۔ ایک جماعت نے کہا : اس کا مطلب ہے تو اشارہ سے یہ کہہ نہ کہ کلام سے۔ زمخشری نے کہا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ (سفیہ) بیوقوف پر خاموش ہونا واجب ہے اور لوگوں میں سے ذلیل ترین وہ بیوقوف ہے جو بیوقوف کو نہ سمجھے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ جس نے نذر کے ساتھ یہ التزام کیا کہ وہ آدمیوں میں سے کسی سے بات نہیں کرے گا تو یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ قربت ہو اور نذر کے ساتھ لازم ہوئی ہو ارور یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ یہ ہماری شرع میں جائز نہیں کیونکہ اس میں نفس کی تعذیب اور تنگی ہے جیسے کوئی نذر مانے کہ وہ دھوپ میں کھڑا ہوگا۔ اس بنا پر خاموشی کی نذر اس شریعت میں تھی ہماری شریعت میں نہیں۔ یہ مسئلہ پہلے گزر چکا ہے جس نے خاموشی کی نذر مانی تھی ؛ حضرت ابن مسعود نے اسے کلام کرنے کا حکم دیا تھا اور ابو اسرائیل کی حدیث کی وجہ سے یہ یہ صحیح ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ ابن زید اور ادی نے کہا : پہلے لوگوں کے نزدیک صیام (روزہ) رکھنے اور کلام کرنے سے رکنا تھا۔ میں کہتا ہوں : ہماری سنت سے ہے کہ ہم بھی روزے کی حالت میں قبیح کلام سے رک جائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو وہ نہ بری بات کرے اور نہ جہالت کا کام کرے، اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اسے اتنا کہنا چاہیے میں روزہ رکھے ہوں ہوں “ (1) اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” جو جھوٹی بات اور جھوٹ پر عمل کو نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی حاجت نہیں “ (2) (تفسیر یت 27-28)
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تو نے برا کام کیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتت بہ قومھا تحملہ روایت کیا گیا ہے کہ حضرت مریم معجزات دیکھ کر مطمئن ہوگئیں اور انہیں یقین کامل ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان کا معذور ہونا ظاہر فرمائے گا تو اس مکان سے بچے کو اٹھا کرلے آئیں جس میں پہلے چلی گئی تھیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب سورج نکلا تھا تو آپ ان کے پاس سے چلی گئی تھیں اور ظہر کے وقت ان کے پاس واپس آئیں اور ساتھ بچہ بھی اٹھائے ہوئے تھیں۔ یہ حمل اور اس کی ولادت دن کی تین ساعتوں میں ہوئی تھی۔ کلبی نے کہا : آپ نے بچے کو وہاں جنم دیا جہاں کی قوم کو خبر نہ تھی، آپ نفاس کے چالیس دن ٹھہری رہیں پھر بچے کو اٹھا کر قوم کے پاس لے آئیں جب لوگوں نے آپ کو دیکھا اور آپ کے ساتھ بچے کو دیکھا تو وہ پریشان ہوئے اور ان کے گھر والے نیک لوگ تھے تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا : لقد جئت شیئا فریا۔ تو نے بہت برا کام کیا ہے۔ بڑا کام جیسے کوئی ایسی چیز لانے والا جو اس نے خود گھڑی ہوتی ہے۔ مجاہد نے کہا : فریاً کا معنی عظیم ہے (3) ۔ سعید بن سعدۃ نے کہا : ایسا کام جو گھڑا ہوا اور بناوٹی ہو، کہا جاتا ہے : فریت وأفریت، دونوں کا معنی ایک ہے۔ زنا کا بچہ گھڑی ہوئی اور بناوٹی چیز کی طرح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن والرجلھن (المتمحنہ :12) یعنی بچے کو خاوند سے لاحق کرنے کا قصد کرنا جو اس خاوند سے نہ ہو۔ کہا جاتا ہے : فلان یفری الفری، یعنی وہ ایسا کام کرتا ہے جو انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ ابو عبیدہ نے کہا : الفری، عجیب اور نادر چیز کو کہتے ہیں ؛ یہ اخفش کا قول ہے۔ فرمایا : فریا کا معنی ہے عجیب، الفقری کا معنی کاٹنا بھی ہے گویا جو کام عادت کو ختم کرتا ہے یا عجیب اور نادر ہونے کی وجہ سے قول کو کاٹتا ہے۔ قطرب نے کہا : الفری نئے کام کو کہتے ہیں یعنی تو نے ایک نیا کام کیا ہے پہلے تو تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ ابو حیوہ نے شیئا فریا، پڑھا ہے (یعنی راء کے سکون کے ساتھ) سدی اور وہب بن منبہ نے کہا : جب حضرت مریم بچہ اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں تو بنو اسرائیل میں یہ بات مشہور ہوگئی ان کے مرد اسور عورتیں جمع ہوئے ایک عورت نے آپ کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اس طرف کو خشک کردیا پس وہ اسے اسی طرح اٹھائے رہی۔ ایک اور شخص نے کہا : یہ تو زنا کا رہ ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے گونگا کردیا تو لوگ آپ کو مارنے سے رک گئے اور کوئی اذیت ناک کلمہ کہنے سے باز آگئے اور وہ بڑے نرم انداز میں آہستہ سے یہ کہنے لگے : یمریم لقد جئت شیئا فریا۔۔ الراجز نے کہا : قداطعمتی دقلا حولیا مسوسا مدودا حجریا و کنت تفرین بہ الفریا (1) یعنی تو اس کو بڑا سمجھتی ہے۔
Ayah 19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یاخت ھرون اس اخوت کے معنی میں اختلاف ہے اور یہ ہارون کون ہے ؟ بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھائی ہے، مراد یہ ہے کہ جس کو ہم عبادت میں ہارون کی مثل گمان کرتے تھے وہ ایسا فعل کرتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس بنا پر حضرت مریم حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون کی اولاد سے تھی۔ پس اخوت کے ذریعے ان کی طرف منسوب کی گئی کیونکہ ان کی اولاد سے تھی جیسے تیمی کو کہا جاتا ہے : یا اخاتیم اور عربی کو کہا جاتا ہے : یا اخا العرب۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت مریم کا ایک باپ کی طرف سے بھائی تھا جس کا نام ہارون تھا کیونکہ یہ نام بنی اسرائیل میں کثرت سے تھا لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون کے نام کے ساتھ برکت حاصل کرنے کے لیے ہارون نام رکھتے تھے اور بنی اسرائیل میں وہ ایک مثالی شخص تھا۔ بعض علماء نے کہا : ہارون یہ ایک اس زمانہ کا نیک صالح شخص تھا جس دن ان کا وصال ہوا اس کے جنازہ میں چالیس ہزار افراد آئے۔ تمام کا نام ہارون تھا۔ قتادہ نے کہا : اس زمانہ میں بنی اسرائیل میں ایک عابد شخص تھا جو صرف اللہ تعالیٰ سے لوع لگائے ہوئے تھا اسے ہارون کہا جاتا تھا (2) ۔ پس لوگوں نے حضرت مریم کو اس اخوت کی طرف منسوب کیا کیونکہ اس سے پہلے وہ ہارون کے طریقہ پر تھی کیونکہ وہ عبادت گاہ کی خدمت پر وقف تھی یعنی اے نیک صالحہ عورت ! تیری شان کے لائق یہ عمل نہیں تھا۔ کعب احبار نے حضرت عائشہ ؓ کی موجودگی میں کہا : حضرت مریم، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون کی بہن نہیں تھی۔ حضرت عائشہ نے اسے کہا : تو نے غلط کہا ہے : کعب نے کہا : اے ام المومنین اگر نبی پاک ﷺ نے یہ کہا ہے تو آپ سب سے سچی خبر دینے والے ہیں ورنہ میں ان کے درمیان چھ سو سال کی مدت پاتا ہوں۔ یہ سن کر حضرت عائشہ خاموش ہوگئیں۔ صحیح مسلم میں حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے (1) فرمایا : جب میں نجران آیا تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا انہوں نے کہا : تم پڑھتے ہو یاخت ھرون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اتنی مدت پہلے تھے۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے اس کے متعلق پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا : ” لوگ اپنے انبیاء اور گزرے ہوئے صالحین کے ناموں کے ساتھ نام رکھتے تھے۔ “ غیر صحیح میں بعض طرق میں آیا ہے کہ نصاریٰ نے حضرت مغیرہ سے کہا : تمہارا ساتھی گمان کرتا ہے کہ مریم، ہارون کی بہن ہے حالانکہ ان کے درمیان چھ سو سال کی مدت ہے۔ مغیرہ نے کہا : میں نہیں جانتا جو میں کہوں۔ آگے حدیث ذکر کی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک اسم، دوسرے اسم کے موافق ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کے اسماء کے ساتھ نام رکھنا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔ میں کہتا ہوں : حدیث صحیح دلالت کرتی ہے کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور ہارون کے درمیان لمبا زمانہ تھا۔ زمخشری نے کہا : حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے درمیان ہزار سال یا اس سے زائد سالوں کا زمانہ تھا۔ پس یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت مریم، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی ببہن تھی۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس طرح ہوگا جیسا کہ سدی نے کہا ہے کہ وہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھی یہ ایسے ہے جیسے تو کہتا ہے قبیلہ کے شخص کو : یا اخافلان، اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے : ان اخاصداء قد اذن فمن اذن فھو یقیم (2) ، صدائی نے آذان دی ہے۔ پس جو آذان دے وہی تکبیر کہے اور یہ پہلا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : ایک جماعت نے کہا : اس زمانہ میں ایک فاجر شخص تھا اس کا نام ہارون تھا (3) پس انہوں نے عاردلا نے اور زجرو تو بیخ کرنے کی جہت سے اس کی طرف نسب کی ہے ؛ طبری نے اس کا ذکر کیا ہے اور قائل کا نام ذکر نہیں کیا۔ میں کہتا ہوں : غزنوی نے یہ سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ وہ فاسق شخص تھا اور فجور میں مثال تھا۔ پس اس کی طرف نسبت کی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ تیرا باپ اور تیری والدہ اس فعل کے اہل نہ تھے تو نے یہ کیسے کیا ؟ یہ تعریض ہے جو تصریح کے قائم مقام ہے۔ یہ ہمارے نزدیک حد کو ثاببت کرتی ہے۔ مزید بیان سورة النور میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آخری قول کو حدیث صحیح رد کرتی ہے وہ نص صریح ہے پس کسی کے لیے کلام کی گنجائش نہیں اور اس پر کوئی غبار نہیں ہے۔ والحمد للہ۔ عمر بن لجا التیمی نے ما کان ابوک امرا سوء پڑھا ہے۔ (تفسیر آیت 29-23)
Ayahs 19:29–33

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں ؟

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(بچے نے کہا) میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ حضرت مریم کو ترک کلام کا جو حکم دیا گیا تھا۔ آپ نے اسے لازم پکڑا۔ اس آیت میں وارد نہیں ہے کہ آپ نے انی نذرت للرحمن صوما بول کر کہا تھا بلکہ یہ وارد ہے کہ آپ نے اشارہ فرمایا۔ پس یہ ان علماء کے قول کو تقویت دیتا ہے کہ (قولی) کا جو امر آپ کو دیا گیا تھا اس سے مراد اشارہ ہے۔ روایت ہے کہ جب آپ نے بچے کی طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا : اس کا ہمارے ساتھ استخفاف اس کے زنا سے بھی ہم پر زیادہ سخت ہے۔ پھر انہوں نے تقریر و ثبوت کی جہت سے کہا : کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (1) اس آیت میں کان سے مراد ماضی نہیں کیونکہ جو بھی مہد میں ہوتا ہے وہ بچہ ہی ہوتا ہے بلکہ یہ الا ان (اب) کے معنی میں ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : کان یہاں لغو ہے : جیسے شاعر نے کہا : و جیران لنا کانوا کرام۔ بعض علماء نے فرمایا : کان یہاں وجود اور حدوث کے معنی میں ہیں جیسے ارشاد ہے : وان کان ذو عسرۃ (البقرہ : 280) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ابن انباری نے کہا : اسے زائدہ کہنا جائز نہیں کیونکہ صبیا کو اس نے نصب دی ہے اور کان بمعنی حدث ہونا تو کہتا ہے : وکان لا یقبل عطیۃ۔ میں اسے کیسے عطا کروں جو عطیہ قبول ہی نہیں کرتا یعنی : من یکن لا یقبل کبھی ماضی، جزا میں مستقبل میں ہوتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری من تحتھا الانھر (الفرقان :10) اس آیت میں انشاء اللہ جعل کا معنی ان یشا یجعل ہے اور تو کہتا ہے : من کان إلی منہ احسان کان إلیہ منی مثلہ، یعنی من یکن منہ الی احسان یکن الیہ منی مثلہ۔ جس کا مجھ پر احسان ہوگا اس پر میری طرف سے اس کی مثل احسان ہوگا۔ المھد بعض علماء نے فرمایا : وہ چارپائی پنگھوڑے کی طرح تھی۔ بھض نے فرمایا : یہاں المھد سے مراد ماں کی گود ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ ہم اس سے کیسے بات کریں کمسنی کی وجہ سے پنگھوڑے میں سونا جس کا معمول ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی باتیں سنیں تو آپ نے اپنی آرام گاہ میں لیٹے ہوئے کہا : انی عبداللہ الخ۔ مسئلہ نمبر 2 بعض علماء نے فرمایا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دودھ پی رہے تھے جب انہوں نے لوگوں کی باتیں سنیں تو دودھ پینا چھوڑ دیا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے اور بائیں طرف متوجہ ہوئے اور بائیں طرف متوجہ ہوئے اور بائیں طرف پر سہارا لیا اور ان کی طرف اپنی دائیں سبا بہ انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا : انی عبد اللہ سب سے پہلے آپ نے اللہ تعالیٰ کے عبد ہونے کا اعتراف کیا اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا تاکہ ان لوگوں کا رد ہوجائے جو آپ کے بعد آپ کی شان میں غلو کرنے والے تھے۔ الکتاب سے مراد انجیل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : بچپن کی حالت میں آپ کو کتاب عطا فرمائی تھی اور اس کا فہم اور علم بھی بخشا تھا اور اس وقت انہیں نبوت عطا فرمائی تھی جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اسماء سکھائے تھے۔ وہ اس وقت روزہ بھی رکھتے تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے۔ یہ انتہائی ضعیف قول ہے جیسا کہ ہم اس کے بعد مسئلہ میں بیان کریں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے ازل میں مجھے کتاب اور نبوت دینے کا حکم دیا تھا اگرچہ کتاب فی الحال نازل نہیں ہوئی تھی ؛ یہ واضح قول ہے۔ وجعلنی مبرکا، برکت والا بنایا۔ دین میں نفع دینے والا، اس کی طرف بلانے والا، اور اس کی معرفت کی تعلیم دینے والا بنایا۔ اس کا معنی ہے وہ مجھے نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے منع کرنے والا اور گمراہوں کو راہ ہدایت دینے والا، مظلوم کی مدد کرنے والا اور مجبور کی معاونت کرنے والا بنایا۔ واوصنی بالصلوٰت والزکوٰت یعنی جب میں مکلف ہوں تو نماز اور زکوٰۃ ادا کروں جب میرے لیے ان کی ادائیگی ممکن ہو۔ یہ آخری صحیح قول کے مطابق ہے۔ ما دمت حیا، ماظروف کی بناء پر محل نصب میں ہے یعنی دوام حیاتی (جب تک میری زندگی ہے) وبر بوالدتی، فرمایا اور بوالدی نہیں فرمایا۔ تو معلوم ہوا کہ یہ چیز اللہ کی طرف سے تھی۔ ولم یجعلنی جبارا اور اس نے مجھے جابر و متکبر نہیں بنایا جو غصہ میں آکر قتل کرتا ہے اور مارتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جبار وہ ہوتا ہے جو اپنے اوپر کسی کا حق نہیں دیکھتا۔ شقیا خیر سے محروم، اس نے اس کا معنی نافرمان کیا ہے، بعض نے رب کا نافرمان معنی کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس نے مجھے اپنے حکم کا تارک نہیں بنایا کہ میں بدبخت ہوں جس طرح ابلیس اللہ کے حکم کو ترک کر کے بدبخت ہوا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ حضرت مالک بن انس ؓ نے اس آیت کے تحت فرمایا : یہ اہل القدر پر کتنی سخت ہے (1) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس بات کی خبر دی جو فیصلہ ہوچکا ہے اور جو ان کی وصال تک ہونے والا ہے۔ اس آیت کے قصص میں ابن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سنا تو انہیں یقین ہوگیا۔ اور انہوں نے کہا : یہ کسی امر عظیم کی وجہ سے ہے۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے طفولیت میں کلام کی تھی۔ یہ اس آیت سے ثابت ہے لیکن پھر بچوں کی حالت پر لوٹ گئے تھے حتیٰ کہ انسانی عادت کے مطابق بچوں کی طرح بڑھے۔ آپ کا بولنا اپنی والدہ کی برأت کے لیے تھا نھہ کہ وہ اس حالت میں یہ شعور رکھتے تھے وہ اس طرح بولے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اعضاء انسانی کو قوت گویائی بخشے گا یہ منقول نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ بولتے رہے۔ اور نہ وہ نماز پڑھتے تھے جب وہ ایک دن یا ایک مہینہ کے تھے۔ اگر وہ اس بچپن میں متواتر بولتے رہتے اور تسبیح و نصیحت اور نماز پڑھتے رہتے تو یہ چیز پوشیدہ نہ ہوتی۔ یہ تمام چیزیں پہلے قول کے فساد پر دلیل ہیں اور قائل کی جہالت پر صریح ہیں اور یہ بھی دلیل ہے کہ آپ پنگھوڑے میں بولے تھے۔ جبکہ یہود و نصاریٰ کا قول اس کے مخالف ہے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ نماز، روزہ، والدین کی خدمت گزاری پہلی امتوں پر بھیواجب تھیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حکم ثابت رہا اور آپ کی شریعت میں یہ حکم منسوخ نہ ہوا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انتہائی متواضع تھے درختوں کے پتے کھاتے تھے اور بالوں سے بنا ہوا لباس پہنتے تھے اور مٹی پر بیٹھتے تھے اور جہاں رات ہوجاتی وہی رہ جاتے تھے۔ آپ کا کوئی خاص مسکن نہ تھا۔ صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ کو فیوں نے کہا : گونگے کا قذف اور لعان صحیح نہیں ہے اس کی مثل شعبی سے بھی مروی ہے۔ امام اوزاعی، امام احمد اور اسحاق نے بھی یہی کہا ہے۔ ان علماء کے نزدیک قذف صریح زنا کے لفظ سے صحیح ہے اور اس کے معنی سے۔ اور گونگے سے ضرورۃ قذف صحیح نہیں ہے، پس وہ قاذف نہ ہوگا۔ اشارہ کے ساتھ زنا، حلال اور شبہ وطی سے ممتاز نہیں ہوتا۔ نیز یہ علماء کہتے ہیں : لعان ہمارے نزدیک شہادت ہیں اور گونگے کی شہادت بالاجماع مقبول نہیں ہے۔ ابن القصار نے کہا : ان علماء کیا یہ قول ہے کہ قذف صرف صریح زنا سے ثابت ہوتا ہے۔ یہ تمام زبانوں کے اعتبار سے باطل ہے سوائے عربی زبان کے۔ اسی طرح گونگے کا اشارہ ہے اور انہوں نے جو اجماع ذکر کیا ہے کہ گونگے کی شہادت کے عدم قبولیت پر اجماع ہے یہ بھی غلط ہے۔ امام مالک کی نص موجود ہے کہ ان کے اشارہ کو سمجھا جاتا ہو تو اس کی شہادت مقبول ہے اسکا اشارہ لفظ کے ساتھ شہادت دینے کے قائم مقام ہوگا۔ رہا یہ کہ لفظ پر قدرت ہو تو پھر لفظ کے ساتھ ہی شہادت واقع ہوگی۔ ابن المنذر نے کہا : مخالفین گونگے کی طلاق، یع اور باقی تمام احکام لازم کرتے ہیں، پس قذف بھی اس کی مثل ہونا چاہیے۔ مہلب نے کہا : بہت سے فقہی ابواب میں اشارہ کلام سے قوی ہوتا ہے مثلاً نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھاتین، میں اور قیامت ان دو انگلوں کی طرح قریب قریب مبعوث کیے گئے ہیں۔ ہم ان دو انگلیوں کے درمیان جو قرب ہے اسے وسطی انگلی کی سبابہ پر زیادتی کی مقدار سے جانتے ہیں۔ دانشوروں کا اجماع ہے کہ عیان (مشاہدہ) خبر سے اقویٰ ہوتا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ اشارہ بعض مواقع پر کلام سے قوی ہوتا ہے۔ والسلم علی، اللہ کی طرف سے مجھ پر سلام ہو۔ زجاج نے کہا : اس سے پہلے سلام کا لفظ الف، لام کے بغیر ذکر کیا گیا تھا پس دوبارہ الف، لام کے ساتھ ذکر کرنا بہتر تھا۔ یوم ولدت یعنی دنیا میں۔ بعض نے فرمایا : شیطان کے وسوسہ سے۔ یہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ ویوم اموت یعنی قبر میں۔ ویوم ابعث حیا۔ یعنی آخرت میں، کیونکہ آپ کے تین احوال تھے : دنیا میں زندہ رہنا، قبر میں مردہ ہونا، آخرت میں اٹھنا۔ تو آپ نے تمام حالات میں سلامتی بھیجی ؛ یہ کلبی کے قول کا معنی ہے پھر آپ کا کلام پنگھوڑے میں ختم ہوگیا حتیٰ کہ اس عمر کو پہنچے جس میں عام بچے بولتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : ہمارے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ ایک عورت نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہر زمانہ میں مردوں کو زندہ کرتے ہیں (1) ، اندھوں اور برص کے مریضوں کو درست کرتے ہیں تو اس نے کہا : مبارک ہو اس بطن کو جس نے تجھے اٹھائے رکھا اور مبارک ہو اس سینے کو جس نے تجھے دودھ پلایا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسے کہا : مبارک ہو اسے جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی اور اس کی پیروی کی جو کتاب اللہ میں تھا اور کتاب اللہ پر عمل کیا۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک عیسیٰ ابن مریم یعنی یہ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ عیسیٰ ابن مریم ہے پس اسی طرح تم اس پر اعتقاد رکھو نہ اس طرح کہو جس طرح یہود کہتے ہیں کیونکہ وہ درست نہیں ہے وہ کہتے ہیں : یہ یوسف نجار کا بیٹا ہے اور اس طرح بھی تم نہ کہو جس طرح نصاریٰ نے کہا : وہ الٰہ ہے اور الٰہ کا بیٹا ہے۔ قول الحق کسائی نے کہا : یہ عیسیٰ کی لغت ہے یعنی ذلک عیسیٰ ابن مریم ج قول الحق حضرت عیسیٰ کا قول الحق کہا گیا جس طرح انہیں کلمۃ اللہ کہا گیا ( 1) ۔ الحق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اس کا معنی ہے ھو قول الحق۔ تقدیر کلام اسطرح ہے ھذا الکلام قول الحق، حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کلام قول حق ہے، باطل نہیں ہے، قول کو الحق کی طرف اس طرح مضاف کیا گیا ہے جس طرح اس آیت میں ہے : وعد الصدق الذی کانوا یوعدون۔ (الاحقاف) یعنی الوعد الصدق، اور فرمایا : ولدار الاخرۃ خیر (یوسف :109) یعنی الدار الاخرۃ، یعنی موصوف کو صفت کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ عاصم اور عببداللہ بن عامر نے قول الحق حال کی بنا پر منصوب پڑھا ہے، یعنی اقول قولاً حقا، ذالک میں اشارہ کا معنی اس میں عامل ہے۔ زجاج نے کہا : یہ مصدر ہے یعنی اقول قول الحق، کیونکہ اس کا ماقبل اس پر دلالت کرتا ہے۔ بعض نے فرمایا : مدح کی بنا پر منصوب ہے۔ بعض نے فرمایا : اغرا کی بنا پر منصوب ہے۔ عبداللہ نے قال الحق پڑھا ہے۔ حسن نے قول ایک معنی ہے جیسے الرھب الرھب کا معنی ایک ہے۔ الذی، عیسیٰ کی صفت ہے۔ فیہ یمترون شک کرتے ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم جس میں یہ شک کرتے ہیں۔ سچا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : یمترون کا معنی اختلاف کرتے ہیں۔ عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے فرمایا : ہمیں معمر نے قتادہ سے روایت کر کے ذلک عیسیٰ ابن مریم، قول الحق الذی فیہ یمترون۔ کے متعلق بتایا کہ بنو اسرائیل جمع ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے میں سے چار افراد نکالے ہر قوم نے اپنا عالم نکالا پس وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے اختلاف کرنے لگے جب وہ اٹھائے گئے۔ ایک نے کہا : وہ اللہ تھا وہ زمین پر ایترا، اسے زندہ کیا جسے زندہ کیا اور اسے موت دی جسے موت دی پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ یہ گروہ یعقوبیہ تھا۔ دوسرے تینوں نے کہا : تم نے جھوٹ کہا ہے پھر ان میں سے دو نے تیسرے شخص سے کہا : تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے بات کر، اس نے کہا : وہ اللہ کا بیٹا ہے، یہ گروہ نسطوریہ ہے۔ پھر دوسروں نے کہا : تو نے غلط کہا ہے، پھر دو میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : تو بات کر، اس نے کہا : تین میں سے تیسرا تھا، اللہ الٰہ ہے، عیسیٰ بھی الٰہ ہے اور اس کی والدہ بھی الٰہ ہے، یہ گروہ اسرائیلیہ ہے جو نصاریٰ کے ملوک ہیں۔ چوتھے نے کہا : تو نے غلط کہا ہے بلکہ وہ الٰہ کا بندہ اور اس کا رسول، اس کی روح، اس کا کلمہ ہے، یہ مسلمان ہیں۔ پس ان میں سے ہر ایک کے متبعین ہیں جیسا کہ انہوں نے فرمایا : وہ آپس میں لڑے تو مسلمانوں پر غلبہ دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس (آل عمران : 21) سے یہی مراد ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں (1) جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاختلف الاحزاب من بینہم انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور وہ کئی گروہ بن گئے۔ الذی فیہ یمترون کا یہی معنی ہے۔ ابو عبدالرحمن سلمی کی قرات تمترون (تاء کے ساتھ ہے) حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت مریم کے چچا کا بیٹا حضرت مریم اور ان کے بیٹے کو لیکر مصر کی طرف چلا گیا اور وہ اس میں بارہ سال رہے حتیٰ کہ وہ بادشاہ مرگیا جس سے وہ خوف کرتے تھے ؛ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : مصر کی تاریخ میں واقع ہے جو میں نے دیکھی ہے اور انجیل میں بھی آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولات بیت لحم میں ہوئی تھی اور اس وقت ھیرودس بادشاہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف نجار کو خواب میں وحی فرمائی اور اسے فرمایا : اٹھ اور اس بچے اور اس کی والدہ کو لیکر مصر کی طرف چلا جا اور وہاں رہے حتیٰ کہ میں تجھے کہوں کیونکہ ہیرودس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تلاش کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہوا تھا تاکہ اسے ہلاک کر دے پس یوسف خواب میں بیدار ہوا اور اپنے رب کے حکم کی پیروی کی انہوں نے حضرت مسیح علیہ السللام اور مریم ان کی والدہ کو ساتھ لیا اور مصر میں آگیا مصر آتے وقت وہ بلسان کے کنویں پر اترا جو قاہرہ کی زمین میں تھا۔ حضرت مریم نے اس کنویں پر کپڑے دھوئے بلسان ایسی جگہ ہے جہاں کوئی چیز نہیں اگتی سوائے اس جگہ کے (جہاں حضرت مریم نے کپڑے دھوئے تھے) اسی جگہ سے وہ تیل نکلتا ہے جو اس زیتون سے ملایا جاتا ہے جس کا نصاریٰ قصد کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مصریوں میں اس تیل کی ایک بوتل کی بہت بڑی قیمت ہے۔ یہ تیل نصاریٰ کے بادشاہوں ملک قسطنطنیہ، ملک صقلیہۃ، ملک حبشہ، ملک النوبہ، ملک الفرنجہ اور دوسرے بادشاہوں کو جب مصر کے بادشاہ ہدیہ بھیجتے ہیں تو ان کے ہاں اس کی بڑی قدرو منزلت ہوتی ہے۔ ہر تحفہ سے زیادہ یہ تحفہ محبوب ہوتا ہے۔ اس سفر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اشمونین اور فسقام (جواب المحرقۃ کے نام سے معروف ہے) کے شہروں میں گئے۔ اسی وجہ سے اب بھی نصاریٰ ان شہروں کو تعظیم کرتے ہیں اور عیدالفصح میں ہر جگہ سے ان شہروں کی طرف آتے ہیں کیونکہ یہ انتہا ہے مصر کی زمین کی جہاں مسیح (علیہ السلام) پہنچے تھے اور یہاں سے شام کی طرف لوٹے تھے۔
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما کان للہ یعنی اللہ کے لیے زیبا نہیں۔ ان یتخذ من ولد کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ من کلام کے لیے صلہ ہے یعنی ان یتخذولدا۔ ان، کان کا اسم ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی کسی کو بیٹا بنانا اس کی صفت سے نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بات سے اپنی ذات کو منزہ و مبرا فرمایا (سبحانہ) وہ کسی کو بیٹا بنانے سے پاک ہے۔ اذا قضیٰ امراً فانما یقول لہ کن فیکون۔ اس پر تفصیلی گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وان اللہ ربی وربکم، اہل مدینہ، ابن کثیر اور ابو عمرو نے اَن کو ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل کوفہ نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ٹڑھا ہے کہ یہ نئی کلام ہے۔ اس پر دلیل ابی کی قرأت ہے کن فیکون۔ ان اللہ یعنی بغیر وائو کے اور انہوں نے قال انی عبداللہ پر عطف کیا ہے۔ اور ہمزہ کے فتحہ کی صورت میں کئی اقوال ہیں۔ خلیل اور سیبوبہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کا معنی ہے ولان اللہ ربی وربکم اور اسی طرح وان المسجد للہ (الجن : 18) ان دونوں نحویوں کے نزدیک اَن محل نصب میں ہے۔ اور فراء کے لام کے حذف کی بنا پر محل جر میں ہونا بھی جائز قرار دیا ہے اور اس اعتبار سے بھی محل جر میں ہونا جائز قرار دیا ہے کہ یہ اس مفہوم میں ہو واوصنیٰ بالصلوٰۃ والزکوٰۃ ما دمت حیا وبان اللہ ربی وربکم، اور کسائی نے محل رفع میں ہونا بھی جائز قرار دیا ہے کہ یہ اس معنی میں ہوگا، والامر ان اللہ ربی وبکم، اس میں پانچواں قول بھی ہے۔ ابو عبیدہ نے حکایت کیا ہے کہ ابو عمرو بن العلاء نے یہ کہا ہے کہ یہ اس معنی میں ہوگا وقضیٰ ان اللہ ربی وربکم اور یہ امراً پر عطف ہے جو اذا قضیٰ امراً کے قول سے ہے۔ معنی یہ ہوگا اذا قضیٰ امراً وقضیٰ أن اللہ۔ اس تقدیر پر اور تیسری تقدیر پر ان کے ساتھ ابتدا جائز نہ ہوگی اور باقی وجوہ پر ان کے ساتھ ابتدا جائز ہوگا۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک خدا ہی میرا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم۔ یعنی دین مستقیم جس میں کوئی کنجی نہیں ہے۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہوئے ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاختلف الاحزاب من بینہم، من زائدہ ہے یعنی اختلف الأحزاب بینہم، قتادہ نے کہا : یعنی جو ان کے درمیان اختلاف تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے اہل کتاب کے فرقوں میں اختلاف تھا۔ یہود قدح کرتے اور جادو کا الزام لگاتے۔ نصاریٰ میں سے نسطوریہ کہتے : وہ اللہ کا بیٹا ہے۔ ملکانیہ نے کہا : تین میں سے تیسرا ہے۔ یعقوبیہ نے کہا : وہ اللہ ہے۔ نصاریٰ نے افراط اور غلو کیا اور یہود نے تفریط اور کوتاہی کی۔ یہ بحث سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : الاحزاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی کریم ﷺ کے خلاف گروہ درگروہ آئے تھے اور مشرکین میں سے جنہوں نے آپ کو جھٹلایا تھا۔ فویل للذین کفروا من مشھد یوم عظیم۔ مشھد سے مراد قیامت کے دن کی حاضری ہے۔ مشھد بمعنی مصدر ہے۔ الشھود کا معنی الحضور ہے۔ یہ ببھی جائز ہے کہ یہ الحضور لھم کے معنی میں ہو اور ظرف کی طرف مضاف کیا گیا ہے کیونکہ اس دن میں حاضری کا وقوع ہے جیسے کہا جاتا ہے : ویل لفلان من قتال یوم کذا، یعنی من حضور ہ ذالک الیوم۔ بعض علماء نے فرمایا : المشھد سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ حاضر ہوں گے جیسے محشر وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں گے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہلاکت ہے کافروں کے لیے اس مشہد میں حاضر ہونے کی وجہ سے جس میں وہ مشورہ کے لیے جمع ہوئے پھر اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے پر اتفاق کیا اور اس قول پر اجماع کیا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔
Ayahs 19:38–39

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اور وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا، ابوالعباس نے کہا : عرب یہ صیغے تعجب کی جگہ استعمال کرتے ہیں تو کہتا ہے : أسمع بزید وابصر یزید زید کتنا سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ فرمایا : اس کا معنی ہے اس نے اپنے نبی کو ان پر متعجب کیا۔ کلبی نے کہا : کوئی ان سے زیادہ قیامت کے دن سننے اور دیکھنے والا نہ ہوگا جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا : ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (المائدہ : 16) بعض علماء نے فرمایا : اسمع کا معنی ہے اس دن وہ اللہ تعالیٰ کی کتنی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین۔ یعنی دنیا میں ظالم کھلی گمراہی میں ہیں۔ اس سے زیادہ کھلی گمراہی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک آدمی اپنے جیسے شخص کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے وہ خدا ہے جبکہ اسے رحم نے اٹھایا، اس نے کھایا، پیا، حدث کیا اور محتاج ہوا۔ اسی گمراہی کی بنا پر فرمایا : وہ بہرہ اور اندھا ہے لیکن آخرت میں دیکھے گا اور سنے گا جب عذاب کو دیکھے گا لیکن اس وقت کا سننا اور دیکھنا مفید نہ ہوگا۔ یہ مفہوم قتادہ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانشرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر، حضرت عببداللہ بن مسعود سے مروی ہے فرمایا : جو بھی دوزخ میں داخل ہوگا اس کے لیے جنت میں بھی گھر ہوگا پس وہ اس پر حسرت و افسوس کرے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ اس وقت حسرت کرے گا جب نامہ اعمال اسے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اذ قضی الامر، یعنی حساب مکمل ہوجائے گا۔ اہل جنت، جنت میں اور اہل نار آگ میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو سیعد خدری سے مروی ہے (1) فرمایا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوں گے تو قیامت کے روز موت کو لایا جائے گا گویا وہ چتکبرا مینڈھا ہے، پس اسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ کہا جائے گا : اے اہل جنت ! کیا تم اسے جانتے ہو ؟ پس وہ اپنی گردنیں لمبی کر کے دیکھیں گے اور وہ کہیں گے : ہاں یہ موت ہے۔ “ فرمایا : ” پھر کہا جائے گا : اے دوزخیو ! کیا تم اسے جانتے ہو وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھیں گی اور کہیں گے : ہاں یہ موت ہے “۔ فرمایا : ” پھر اسے ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا تو وہ ذبح کردی جائے گی پھر کہا جائے گا : اے جنتیو ! تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے اب موت نہیں ہے اور (کہا جائے گا) اے دوزخیو ! تمہیں یہاں ہمیشہ رہنا ہے اب موت نہیں ہے۔ “ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : وانذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر وھم فی غفلۃ وھم لا یومنون۔ اس حدیث کو امام بخاری نے حضرت ابن عمر سے، ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے ترمذی نے حضرت ابو سعید سے مرفوع روایت کی ہے (1) اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم نے یہ اپنی کتاب ” التذکیرہ “ میں ذکر کی ہے اور وہاں ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ ان احادیث اور آیات کی وجہ سے کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ہم نے ان کے قول کا رد کیا ہے جو کہتے ہیں کہ غضب کی صفت ختم ہوجائے گی۔ ابلیس اور پیرو کار کفار جیسے فرعون، ھامان، قارون اور ان کے مشابہ لوگ بھی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا نحن نرث الارض ومن علیھا یعنی ہم زمین کے رہنے والوں کو موت دیں گے اور ہم اس کے وارث ہوں گے۔ والینا یرجعون۔ قیامت کے روز ہم ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔ یہ مفہوم سورة الحجر وغیرہ ہا میں گزر چکا ہے۔
Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب ابرہیم انہ کان صدیقا نبیا۔ یعنی وہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی اس میں حضرت ابراہیم کے واقعہ کا ذکر کریں۔ الصدیق کا معنی سورة نساء میں گزر چکا ہے اور الصدق کا اشتقاق سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ آیت کا معنی ہے کہ اے محمد ! ﷺ قرآن میں حضرت ابراہیم کے مکالمہ کا ذکر ان پر پڑھئے یہ جان چکے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے ہیں وہ حنیف مسلم تھے اور اللہ تعالیٰ کے مدمقابل نہیں بناتے تھے یہ کیوں اللہ کے مدلمقابل بناتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے : ومن یرغب عن ملۃ ابرہم الا من سفہ نفسہ (البقرہ :130)