19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 19:42–47

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہوجائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلادوں گا

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا شیطان کی پرستش نہ کیجیے بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ، ابیہ سے مراد آزر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یابت، سورة یوسف میں اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ لم تعبد کس وجہ سے آپ عبادت کرتے ہیں۔ مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ دیتے ہیں۔ اس سے مراد بتہیں۔ یابت انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک یعنی اللہ کی معرفت اور یقین اور جو موت کے بعد ہونا ہے اور جسنے غیر اللہ اللہ کی عبادت کی اسے عذاب دیا جائے گا۔ فاتبعنی اس کی اتباع کرو جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں۔ اھدک صراطاً سویا۔ میں تمہاری دین مستقیم کی طرف راہنمائی کروں گا جس میں نجات ہے۔ یابت لا تعبد الشیطن وہ جو تمہیں کفر کا حکم دیتا ہے اس کی طاعت نہ کرو جس نے کسی معصیت میں شیطان کی اطاعت کی اس نے اس کی عبادت کی۔ ان الشیطن کان للرحمن عصیا۔ کان صلۃ (زائدہ) ہے۔ اور بعض علماء نے فرمایا : کان بمعنی صار ہے۔ بعض نے فرمایا : حال کے معنی ہے یعنی ھو للرحمن، عصیا اور عاص دونوں کا ایک معنی ہے ؛ یہ کسائی کا قول ہے۔ یابت انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن اگر تو اس عقیدہ پر مرگیا جس پر تو اب ہے تو میں جانتا ہوں کہ رحمن کی طرف سے تجھے عذاب ملے گا۔ اور اخاف بمعنی اعلم ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اپنے معنی میں ہو معنی یہ ہو کہ مجھے ڈر ہے کہ تو کفر پر مرے گا پھر تجھے عذاب ہوگا۔ فتکون للشیطن ولیا۔ آگ میں ساتھی ہوگا۔ قال اراغب انت عن الھتی یابرھیم کیا تو ان یتوں کو چھوڑ کر دوسرے کسی خدا کی طرف رغبت رکھتا ہے۔ لئن لم تنتہ لا رجمنک، حسین نے کہا : اس کا معنی ہے میں تجھے پتھروں سے ماروں گا۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد ہے میں تجھے گالی دوں گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس کا مطلب ہے میں تجھے سزا دوں گا۔ بعض نے کہا : اس کا معنی ہے میں تیرا معاملہ ظاہر کر دوں گا۔ واھجرنی ملیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا مطلب ہے عزت بچا کر مجھ سے الگ ہوجا کہیں ایسا نہ ہو کہ میری طرف سے تجھے کوئی فساد پہنچے، طبری نے اس کو اختیار کیا ہے۔ اس مفہوم پر ملیا، ابراہیم سے حال ہو گس۔ حسن اور مجاہد نے کہا : ملیا کا معنی ہے لمبا زمانہ (1) ؛ اسی سے المہلہل کا قول ہے : فتصدعت صم الجبال لموتہ وبکت علیہ لرملات ملیا اس شعر میں ملیا سے مراد لمبا زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال سلم علیک، حضرت ابراہیم نے جواب تندی اور ترشی میں نہیں دیا کیونکہ انہیں اس کے کفر پر اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ جمہور علماء نے کہا ہے کہ یہاں سلام سے مراد مسالمہ ہے یعنی متارکہ (چھوڑنا) ہے سلام نہیں ہے۔ طبری نے کہا : اس کا معنی ہے مجھ سے آپ کو امن ہے۔ اس بنا پر کافر کو پہلے سلام نہیں کیا جائے گا۔ نقاش نے کہا : یہ حلیم کا سفیہ سے خطاب ہے جیسے فرمایا : واذا خاطبہم الجھلون قالوا سلما۔ (الفرقان) بعض علماء نے اسے سلام کے معنی میں فرمایا، یہ جدائی کا سلام ہے اور کافر کو سلام کرنے اور اس کو پہلے سلام کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ ابن عینیہ سے پوچھا گیا : کیا کافر کو سلام کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لا ینھکم اللہ عن الذین یم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیہمط ان اللہ یحب المقسطین۔ (الممتحنہ) اور فرمایا : قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرھیم (الممتحنہ) اور حضرت ابراہیم نے اپنھے باپ سے کہا : سلم علیک۔ میں کہتا ہوں : اس آیت سے وہی ظاہر ہوتا ہے جو سفیان بن عینیہ نے کہا ہے اور اس باب میں دو صحیح احادیث ہیں۔ حضرت ابوہریرہ نے نبی پاک ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” یہود اور نصاریٰ کو پہلے سلام نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستہ میں ملو تو اسے تنگی کی صرف مجبور کرو “ (1) ۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ صحیحین میں حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ نبی پاک ﷺ گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا جس کے نیچے فدک کا بنا ہوا کپڑا تھا اور آپ نے پیچھے حضرت اسامہ بن زید کو سوار کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ حضرت سعد ببن عبادہ کی بنی الحرث بن الخزرج میں عیادت کے لیے جا رہے تھے، یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے حتیٰ کہ آپ ایک ایسی مجلس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرکین، ببت پرست اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا اور اجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے جب مجلس پر گدھے کا غببار پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانپ لی اور کہا : ہم پر غبار نہ اُڑائو۔ نبی کریم ﷺ نے ان پر سلام کیا (الحدیث) پہلی حدیث ابتداً غیر مسلموں کو سلام نہ کرنے کو ظاہر کر رہی ہے کیونکہ سلام کرنا عزت دینا ہے اور کافر اس کا اہل نہیں اور دوسری حدیث ابتداً غیر مسلموں کو سلام کرنے کو جائز ظاہر کر رہی ہے۔ طبری نے کہا : حضرت اسامہ کی مروی، حضرت ابوہریرہ کی حدیث کے معارض نہیں ہے کیونکہ ہر ایک دوسری کے خلاف نہیں ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث کا مخرج عموم ہے اور حضرت اسامہ کی حدیث بیان کرتی ہے کہ اس کا معنی خصوص ہے۔ نخعی نے کہا : جب تجھے یہودی یا نصرانی سے حاجت ہو تو اسے پہلے سلام کر، اس سے ظاہر ہوا کہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث (کہ انہیں پہلے سلام نہ کرو (2) اس صورت میں ہو تو اسے پہلے سلام کر، اس سے ظاہر ہوا کہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث (کہ انہیں پہلے سلام نہ کرو (2) اس صورت میں ہے جبب کوئی ایسا سبب نہ ہو جو سلام کرنے کا موجب ہو مثلاا کوئی فیصلہ کرانا ہو، کوئی اور حاجت ہو جو تمہیں ان کی طرف سے لاحق ہو یا سنگت کا حق ہو یا پڑوس کا حق ہو یا سفر کا حق ہو۔ طبری نے کہا : سلف سے مروی ہے کہ وہ اہل کتاب کو سلام کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے ایک کسان کو سلام کیا جو راستے میں آپ کے ساتھ تھا۔ حضرت علقمہ نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا : اے ابا عبدالرحمن ! کیا اہل کتاب کو پہلے سلام کرنا مکروہ نہیں ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا : ہاں، لیکن حق صحبت و سنگت کی وجہ سے مکروہ نہیں ہے۔ حضرت ابو امامہ جب اپنے گھر کی طرف لوٹتے تو مسلمان، نصرانی چھوٹے بڑے جس کے پاس سے گزرتے اسے سلام کرتے۔ اس کی وجہ ان سے پوچھی گئی تو فرمایا : ہمیں سلام افشاء کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ امام اوزاعی سے اس مسلمان کے بارے پوچھا گیا جو کسی کافر کے پاس سے گزرتا ہے اور پھر اسے سلام کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا : اگر تو سلام کرے تو تجھ سے پہلے نیک للوگوں نے سلام کیا ہے اگر تو سلام نہ کرے تو تجھ سے پہلے نیک لوگوں نے سلام کو ترک کیا ہے۔ حسن بصری سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : جب تو کسی ایس مجلس سے گزرے جس میں مسلمان اور کفار ہوں تو انہیں سلام کر۔ میں کہتا ہوں : پہلے مقالہ والوں نے اس سے حجت پکڑی ہے کہ سلام جس کا معنی تحیۃ ہے یہ اس امت کے ساتھ خاص ہے کیونکہ حضرت انس بن مالک کی حدیث ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ایسی تین چیزیں عطا فرمائی ہیں جو ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ (1) السلام یہ اہل جنت کا سلام ہے “ الحدیث۔ اس حدیث کو حکیم ترمذی نے ذکر کیا ہے ان کی سند کے ساتھ سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ سا ستغفرلک ربی کے معنی پر کلام گزر چکی ہے اور سلام پر رفع ابتدا کی وجہ سے ہے۔ اس کے نکرہ ہونے کے باوجود اسے مبتداء بنانا جائز ہے کیونکہ نکرہ مخصوصہ، حکم میں معرفہ کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ کان بی حفیا۔ الحفی جو نیکی کرنے اور مہربانی کرنے میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ کہا جاتا ہے : حفی بہ وتحفی، اس کا معنی ہے اس نے اس سے نیکی اور مہربانی کی۔ کسائی نے کہا : کہا جاتا ہے : حفی بی حفاوۃ وحفوۃ، فراء نے کہا : انہ کان بی حفیا، یعنی وہ عالم اور باریک بین ہے وہ میری دعا قبول فرماتا ہے جب میں اس سے دعا مانگتا ہوں۔
Ayahs 19:48–50

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق) کو یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واعتزلکم، العزلہ کا معنی جدائی ہے، سورة الکہف میں اس کا بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عسی الا اکون ببدعا ربی شقیا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اہل اور اولاد عطا کرے جن سے وہ تقویت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی قوم سے جدائی کی وجہ سے وحشت میں مبتلا نہ ہوں اسی وجہ سے فرمایا : فلما اعتزلھم وما یعبدون من دون اللہ وھبننالہ اسحاق ویعقوب ہم نے اسے بیٹے کی نعمت بخش کر اس کی وحشتکو دور کیا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ سے یہ مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عسیٰ ، اس ببات پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ معرفت پر باقی رہے یا مستقبل میں باقی رہے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ باپ کے لیے ہدایت کی جائے گی یا نہیں ؟ پہلا قول اسظہر ہے اور فرمایا : وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔ یعنی ہم نے ان کی خوب تعریف کی کیونکہ تمام ملتیں ان انبیاء کرام کی تعریف میں رطب اللسان ہوتی ہیں اور لسان، مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
Ayahs 19:51–53

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے انکو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

(تفسیر 51-53) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب موسیٰ یعنی قرآن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان پر پڑھو۔ انہ کان مخلصاً اپنی عبادت میں خلوص رکھتا تھا، ریاکار نہ تھا۔ اہل کوفہ نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے چن لیا اور چنا ہوا بنا دیا۔ ونادینہ ہم نے جمعہ کی رات اس سے کلام کی۔ من جانب الطور الایمن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے ؛ یہ طبری وغیرہ نے کہا ہے۔ کیونکہ پہاڑوں کا دایاں، بایاں نہیں ہوتا (1) ۔ وقربنہ نجیا۔ نجیا پر نصب حال کی بناء پر ہے، یعنی ہم نے بغیر وحی کے اس سے کلام کی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اسے قدرو منزلت کے اعتبار سے اتنا قرب بخشا کہ ہم نے اس سے کلام کی۔ وکیع اور قبیصہ نے سفیان سے انہوں نے عطاء بن سائب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے وقربنہ نجیا۔ کے تحت روایت کیا ہے کہ انہیں قریب کیا حتیٰ کہ انہوں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی (2) ووھبنا لہ من رحمتنا اخاہ ھرون نبیا۔ یہ اس وقت ہوا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا واجعل لی وزیر من اھلی۔ ھرون اخی۔ (طٰہ)
Ayahs 19:54–56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

(تفسیر 54-55) اس میں چھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکر فی الکتب اسمعیل اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : اس اسماعیل سے مراد اسماعیل بن حزقیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا تھا تو انہوں نے ان کے سر کی جلد اتار لی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کو عذاب دینے میں اختیار دیا تھا تو انہوں نے عفو طلب کیا اور اللہ تعالیٰ کے ثواب پر راضی ہوئے اور ان کا معاملہ، معاف کرنے یا عذاب دینے میں اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ اسماعیل ذبیح ابوالعربب ابن ابراہیم ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : ذبیح حضرت اسحاق تھے۔ پہلا قول اظہر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے٭ اور مزید بحث سورة الصافات میں آئے گی ان شاء الللہ تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وعد الصدق کے ساتھ مشرف و عزت بخشنے کے لیے خاص کیا ہے اگرچہ یہ صفت دوسرے انبیاء کرام میں بھی موجود تھی جیسے علم، اواہ اور الصدیق، لقب کے طور پر دئیے گئے ہیں نیز وہ ان خصائل سے مشہور تھے۔ مسئلہ نمر 2 ۔ وعدہ کی سچائی محمود صفت ہے اور یہ انبیاء اور مرسلین کے اخلاق سے ہے۔ اس کی ضد وعدہ خلافی ہے اور مذموم ہے یہ فاسقین اور منافقین کے اخلاق سے ہے جیسا کہ سورة برأ میں گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اسماعیل (علیہ السلام) کی تعریف کی اور وعدہ کی سچائی کی صفت سے موصوف فرمایا۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ صفت اس لیے خشی گئی کہ انہوں نے اپنے نفس پر ذبح کے وقت صبر کا وعدہ کیا تو انہوں نے صبر کیا حتیٰ کہ فدیہ دیا گیا۔ یہ ان کا قول ہے جو کہتے ہیں : ذبیح اسماعیل تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے ایک شخص سے کسی جگہ ملاقات کا وعدہ کیا حضرت اسماعیل آئے اور اس جگہ اس شخص کا ایک دن اور ایک رات انتظار کرتے رہے جب دوسرا دن تھا وہ شخص آیا تو آپ نے اسے فرمایا : میں کل سے تیرے انتظار میں یہاں ہوں۔ بعض نے فرمایا : آپ تین دن انتظار میں رہے (1) اس کی مثل ہمارے نبی کریم ﷺ سے بعثت سے پہلے واقعہ آیا ہے۔ یہ واقعہ نقاش نے ذکر کیا ہے اور ترمذی وغیرہ (2) نے عبداللہ بن ابی الحمساء سے روایت کیا ہے فرمایا میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم ﷺ سے کوئی بیع کی تو آپ کے لیے کچھ باقی رہ گیا میں نے وعدہ کیا کہ میں وہ مال اسی جگہ لے آئوں گا پھر میں بھول گیا پھر مجھے تین دن کے بعد یاد آیا، میں آیا تو آپ ﷺ اس کی جگہ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے جوان ! تو نے مجھے بہت تکلیف دی ہے میں تین دن سے یہاں تیرا انتظار کر رہا ہوں۔ “ یہ ابو دائود کے الفاظ کا ترجمہ ہے۔ یزیدرقاشی نے کہا : حضرت اسماعیل نے بائیس دن اس شخص کا انتظار کیا تھا، یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ ابن السلام کی کتاب میں ہے کہ آپ نے ایک سال انتظار کیا تھا۔ زمخشری نے یہ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ آپ نے اپنے ساتھی سے وعدہ کیا ” اس جگہ وہ اس کا انتظار کریں گے “ تو آپ نے پورا سال انتظار کیا اور قشیری نے یہ ذکر کیا ہے کہ ایک سال آپ اپنی جگہ پر رہے حتیٰ کہ جبریل امین آپ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ تاجر جس نے آپ سے بیٹھنے کا سوال کیا تھا حتیٰ کہ واپس آجائے وہ شیطان تھا آپ نہ بیٹھے اور اس کے لیے کوئی عزت نہیں۔ یہ بعید ہے اور صحیح نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے جو بھی وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ یہ صحیح قول ہے اور آیت کا ظاہر بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اس باب سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : العدۃ دین (3) (وعدہ کرنا دین ہے) اور اثر میں مومن کا وعدہ واجب ہے یعنی مومنین کے اخلاق میں وعدہ پورا کرنا واجب ہے ہم نے کہا : یہ بطور فرض واجب نہیں کیونکہ علمائء کا اس پر اجماع ہے جو ابو عمر نے حکایت کیا ہے کہ جس نے مال کا وعدہ کیا جو موجود تھا تو وہ دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ اس کو حساب سے لے گا اسی وجہ سے ہم نے کہا : وعدہ پورا کرنا مرئوت اور اچھی ببات ہے اس کا قطعی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ عرب وعدہ پورا کرنے پر مدح کرتے ہیں اور وعدہ شکنی پر مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح تم امتوں میں تھا۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے : متی ما یقل حر لصاحب حاجۃ نعم یقضھا والحر للوای ضامن ” آزاد آدمی جب اپنے کسی حاجت مند ساتھی سے ہاں کہتا ہے تو اس کی حاجت پوری کرتا ہے اور آزاد آدمی وعدے کا ضامن ہوتا ہے۔ “ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وفا کرنے والا شکر اور تعریف کا مستحق ہے جبکہ عہد شکنی کرنے والا مذمت کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ سچ کرنے والے اور نذر پوری کرنے والے کی تعریف فرمائی تو اس کے لیے یہی مدح و ثنا کافی ہے جبکہ اس کے مخالف کے لیے مذمت ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ امام مالک نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی کو ہبتہ کرنے کا سوال کرے اور وہ اسے ہاں کہے پھر اس کے لیے ایسا نہ کرنا ظاہر ہو تو میرے خیال میں اس پر کچھ لازم نہیں۔ امام مالک نے کہا : اگر یہ صورت اگر قرض کی ادائیگی میں ہو پھر وہ اس سے کہے کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دے اس نے کہا : ٹھیک ہے اور وہاں اور بہت سے افراد ہوں جو اس پر گواہی دیں تو اس پر چیز لازم ہوگی جب اس پر دو آدمی گواہی دیں۔ امام ابوحنیفہ اور اس کے اصحاب اور امام اوزاعی، امام شافعی اور تمام فقہاء نے کہا : وعدہ کرنے سے کوئی چیز لازم نہیں کیونکہ یہ منافع ہیں عار یہ چیز میں اس کا قبضہ نہیں ہوا کیونکہ وہ طاری ہے اور غیر عاریہ میں جو اشخاص اور اعیان ہیں جو ہبتإ کیے جاتے ہیں ان پر قبضہ نہ ہو تو مالک کو ان میں رجوع کا حق ہوتا ہے۔ امام بخاری میں ہے : اذکرفی الکتب اسمعیل انہ کان صادق صادق الوعد، ابن اشوع نے وعدہ کی وجہ سے فیصلہ کیا یہ انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سے روایت کر کے ذکر کیا ہے۔ امام بخاری نے فرمایا : میں نے اسحاق بن ابراہیم کو دیکھا وہ اببن اشوع کی حدیث سے حجت پکڑتے تھے (1) مسئلہ نمبر 5 ۔ وکان رسولا نبیا۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو جرہم قبیلہ کی طرف مبعوث کیا گیا اور تمام نبی جب وعدہ کرتے تھے تو اسے سچا کر دکھاتے تھے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا خصوصی اس صفت کے ساتھ ذکر کرنا ان کو شرف بخشنے کے لیے ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ وکان یامر اھلہ، حسن نے فرمایا : اہل سے مرادان کی امت ہے اور حضرت ابن مسعود کی قرأت میں اس طرح تھا۔ وکان یامر اھلہ جرھم وولدہ بالصلوٰۃ والزکاۃ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکان عند ربہ مرضیاً یعنی پسندیدہ پاکیزہ اور صالح تھے۔ کسائی اور فراء نے کہا : جنہوں نے مرضی کہا انہوں نے رضیت کی بنا پر کہا۔ کسائی اور فراء نے کہا : اہل حجاز مرضو کہتے ہیں، نیز ان نحویوں نے کہا : عربوں میں سے کچھ لوگ رضوان، رضیان کہتے ہیں۔ پس رضوان، مرضو کی بنا پر ہے۔ بصری علماء صرف رضوان اور ریوان کہنا جائز قرار دیتے ہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا میں نے ابواسحاق زجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ لکھنے میں غلطی کرتے ہیں اور ریا کو یاء کے ساتھ لکھتے ہیں، پھر اس سے بڑی شدید غلطی یہ کرتے ہیں کہ ربیان کہتے ہیں اور یہ صرف ربوان اور رضوان جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس (روم : 39) (تفسیر آیت 56-57) اللہ تعالیٰ کا ارشادہ : واذکر فی الکتب ادریسز انہ کان صدیقا نبیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھا اور کپڑے سینے اور سلے ہوئے کپڑے پہننے کا آغاز بھی آپ سے ہوا۔ علم نجوم اور حساب اور ستاروں کے چلنے میں غورو فکر بھی آپ سے شروع ہوا۔ اور ادریس کو ادریس اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کا کثرت سے درس دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تیس صحیفے نازل کیے جیسا کہ حضرت ابوذر کی حدیث میں ہے۔ زمخشری نے کہا : بعض علماء نے کہا : ادریس کو، ادریس کتاب اللہ کا کثرت سے درس دینے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ پ کا نام اخنوخ تھا اور یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر یہ درس سے افعیل کے وزن پر ہوتا تو اس میں غیر منصرف ہونے کا صرف ایک سبب ہوتا اور وہ علمیت ہے اور اس کا غیر منصرف ہونا اس کے عجمہ ہونے پر دلیل ہے اسی وجہ سے ابلیس عجمی ہے یہ ابلاس سے مشتق نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے اور اسی طرح یعقوب، العقب سے نہیں ہے اور اسرائیل، اسرال سے نہیں ہے جیسا کہ ابن السکیت نے گمان کیا ہے۔ جو تحقیق نہیں کرتا اور علوم میں مہارت حاصل نہیں کرتا اس سے اس قسم کی اغلاط کثرت سے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ ادریس کا معنی اس لغت میں اس مفہوم کے قریب ہو اور راوی نے الدرس سے مشتق خیال کرلیا ہے۔ ثعلبی اور غزنوی وغیرہ ہما نے کہا : یہ حضرت نوح کے دادا تھے اور یہ خطا ہے۔ سورة اعراف میں اس کا بیان گذر چکا ہے اسی طرح سیرت میں واقع ہے حضرت نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ یہ ادریس نبی (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ گمان کرتے ہیں واللہ اعلم۔ اور یہ پہلے شخص تھے جس کو بنی آدم سے نبوت دی گئی تھی اور قلم کے ساتھ سب سے پہلے انہوں نے لکھا اس کا شجرہ نسب یہ ہے ادریس ببن بن برد بن مہلائیل بن قنان بن یانش بن شیث بن آدم ﷺ ۔ واللہ اعلم۔
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ورفعنہ مکانا علیا۔ حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو سعید وغیرہما نے کہا (1): مکانا علیا سے مراد چوتھا آسما چھٹا آسمان ہے (2) یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : بخاری میں شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے مروی ہے فرمایا میں نے حضرت انس کو یہ فرماتے ہوئے سنا : وہ رات جس میں نبی پاک ﷺ کو کعبہ کی مسجد سے سیر کرائی گئی۔ اس حدیث میں ہے ” ہر آسمان میں انبیاء تھے۔ “ آپ نے نام بیان کیے ان میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا دوسرے آسمان میں ہونے کا ذکر کیا۔ یہ وہم ہے صحیح یہ ہے کہ چوتھے آسمان پر تھے۔ اسی طرح ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے : یہ مسلم نے صحیح میں ذکر کیا ہے۔ حضرت مالک بن صعصعہ نے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو میں ادریس (علیہ السلام) کے پاس چوتھے آسمان میں آیا “ (1) ۔ یہ بھی مسلم نے نقل کیا ہے حضرت ادریس (علیہ السلام) کو بلند کرنے کا سبب وہ ہے جو حضرت ابن عباس اور کعب وغیرہ نے کہا ہے : ایک دن وہ کسی کام کے لیے چلے تو انہیں سورج کی گرمی لگی تو انہوں نے کہا : یا رب ! میں ایک دن چلا ہوں۔ (تو یہ حالت ہے) جو ایک دن میں پانچ سو سال اس کو اٹھائے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ اس سے اس کا بوجھ ہلکا کر دے یعنی سورج کے فلک پر متعین فرشتہ۔ حضرت ادریس نے کہا : اے الللہ ! اس سے اس کا بوجھ ہلکا کر دے اور اس سے اس کی گرمی اٹھا لے۔ جب فرشتے نے صبح کی تو اس نے سورج کی خفت اور ایسا سایہ پایا جو وہ جانتا نہیں تھا۔ اس فرشتہ نے عرض کی : یا رب ! تو مجھے سورج کے اٹھانے کے لیے پیدا کیا تھا پھر یہ کیا فیصلہ فرمایا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے ادریس نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں تجھ سے اس کے بوجھ اور اس کی گرمی میں تخفیف کر دوں تو میں نے اس کی دعا قبول کی ہے۔ اس فرشتے نے عرض کی : یا رب ! مجھے اور اسے جمع کر دے، میرے اور اس کے درمیان دوستی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو اجازت دی حتیٰ کہ وہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے پاس آیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا اور کہا : مجھے خبر دی گئی ہے کہ تو ملائکہ میں سے معزز فرشتہ ہے اور مللک الموت کے ہاں تیری دوسروں کی نسبت سے زیادہ عزت ہے، تم میری اس کے پاس سفارش کرو تاکہ وہ میری عمر میں ڈھیل دے دے تاکہ اللہ کا شکر اور عبادت زیادہ کروں۔ فرشتے نے کہا : اللہ تعالیٰ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔ حضرت ادریس کو اپنے پَر کے اوپر اٹھایا اور آسمان کی طرف بلند کیا اور انہیں سورج کے مطلع کے پاس اتارا پھر فرشتے نے ملک الموت نے کہا : یہ میرے بس میں نہیں اگر تو پسند کرتا ہے کہ وہ جان لے کہ وہ کب فوت ہوگا تو میں اسے یہ بتا دیتا ہوں۔ اس نے کہا : ٹھیک ہے یہی بتا دو ۔ پھر ملک الموت نے اپنے دیوان میں دیکھا تو فرمایا : تو مجھ سے ایسے انسان کے بارے سوال کر رہا ہے میں اسے نہیں دیکھتا کہ وہ کبھی فوت ہوگا فرشتے نے کہا : وہ کیسے ؟ ملک الموت نے کہا : میں نے اس کی موت کو نہیں پایا مگر سورج کے طلوع ہونے کے پاس۔ فرمایا : میں تیرے پاس آیا ہوں جبکہ ادریس کو میں اسی جگہ چھوڑ آیا ہوں۔ ملک الموت نے کہا : تم جائو میں تجھے نہیں دیکھتا مگر یہ کہ تو اسے فوت شدہ پائے گا۔ اللہ کی قسم ! ادریس (علیہ السلام) کی عمر سے کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ وہ فرشتہ واپس آیا تو حضرت ادریس (علیہ السلام) کو فوت شدہ پایا۔ سدی نے کہا : ایک دن حضرت ادریس (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے تو انہیں سورج کی گرمی بڑی شدید لگی وہ اٹھے تو وہ اس کی وجہ سے تکلیف میں تھے۔ عرض کی : اے اللہ ! سورج کے فرشتے سے سورج کی گرمی میں تخفیف کر اور اس کی اس کے بوجھ پر مدد فرما کیونکہ وہ گرم آگ برداشت کرتا ہے سورج کے فرشتے نے صبح کی تو اس کے لیے نور کی ایک کرسی لگائی گئی تھی اور اس کے پاس ستر ہزار فرشتے دائیں طرف اور ستر ہزار فرشتے بائیں طرف اس کی خدمت کرتے تھے اور اس کا حکم اور عمل بجا لاتے ہیں تھے۔ سورج کے فرشتے نے کہا : یا رب ! یہ میرے لیے کہاں سے آیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تیرے لیے بنی آدم میں سے ایک نے دعا کی ہے جسے ادریس کہا جاتا ہے۔ پھر کعب کی حدیث کی طرح ذکر کیا ہے فرمایا : سورج کے فرشتے نے حضرت ادریس سے کہا : تیری کیا حاجت ہے ؟ حضرت ادریس نے کہا : میری خواہش ہے کہ میں جنت کو دیکھوں۔ فرمایا : اس فرشتے نے آپ کو اپنے پروں پر اٹھایا پھر اڑ گیا جب وہ چوتھے آسمان میں تھا تو اس کی ملاقات ملک الموت سے ہوئی وہ آسمان میں دائیں بائیں دیکھ رہا تھا۔ سورج کے فرشتے نے ملک الموت پر سلام کیا اور کہا : اے ادریس یہ ملک الموت ہے پس تو اس پر سلام کر۔ ملک الموت نے کہا : سبحان اللہ ! تو اسے یہاں کس لیے لایا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اسے اس لیے پسند کیا ہے تاکہ اسے جنت دکھائوں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ادریس (علیہ السلام) کی روح چوتھے آسمان پر قبض کروں۔ میں نے کہا : یا رب ! ادریس چوتھے آسمان پر کیسے۔ و گا ؟ پس میں چوتھے آسمان پر اترا تو وہ تمہارے ساتھ تھے پس اس کی روح قبض کی اور جنت کی طرف اسے بلند کیا۔ ملائکہ نے آپ کے جسم کو چوتھے آسمان میں دفن کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ورفعنہ مکانا علیا کا یہی مفہوم ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت ادریس (علیہ السلام) کی ہر روز عبادت میں سے اس کی مثل بلندہوتا تھا جتنا کہ اہل زمین کے لیے اس زمانہ میں بلند ہوتا تھا۔ ملائکہ نے اس پر تعجب کیا اور ملک الموت کو آپ کی ملاقات کا شوق ہوا۔ ملک الموت نے آپ کی زبازیارت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو آپ کی ملاقات کا شوق ہوا۔ ملک الموت نے آپ کی زیارت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو اجازت مرحمت فرمائی۔ ملک الموت انسانی شکل میں آپ کے پاس آئے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) دن کو روزہ رکھتے تھے جب افطار کا وقت ہوتا تھا تو ملک الموت کو کھانے پر بلاتے تھے تو وہ کھانے سے انکار کرتا تھا یہ اس کے ساتھ تین دن کیا پھر ادریس نے عجیب سمجھا اور اس سے پوچھا : تو کون ہے ؟ فرمایا : میں ملک اللموت ہوں۔ میں نے اپنے رب سے اجازت طلب کی تھی کہ میں آپ سے ملوں تو اس نے مجھے اجازت دی۔ حضرت ادریس نے کہا : مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ حضرت ملک الموت نے کہا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : تو میری روح قبض کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو وحی فرمائی کہ اس کی روح قبض کرلے۔ مللک اللموت نے اس کی روح قبض کرلی۔ ایک لمحہ بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی روح لوٹا دی۔ ملک اللموت نے حضرت ادریس سے کہا : تیری روح قبض کرنے میں کیا فائدہ ہوا ؟ فرمایا : تاکہ میں موت کی تکلیف چکھ لوں اور میں اس کے لیے زیادہ استعداد حاصل کروں۔ پھر حضرت ادریس نے ملک الموت سے کہا : مجھے تجھ سے ایک اور کام ہے۔ ملک الموت نے کہا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا تو مجھے آسمان کی طرف بلند کرتا کہ میں جنت اور دوزخ کو دیکھوں۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو اذن دیا کہ اسے آسمانوں کی طرف لے جائے۔ حضرت ادریس نے آگ دیکھی تو غشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو کہا : مجھے جنت دکھائو۔ وہ اسے جنت میں لے گئے پھر حضرت ادریس سے ملک الموت نے کہا : جنت سے باہر نکلو تاکہ میں تجھے اپنی جگہ پر لوٹا دوں تو حضرت ادریس نے ایک درخت کو پکڑ لیا اور کہا : میں جنت سے نہیں نکلوں گا۔ پس الللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فیصلہ کے لیے ایک فرشتہ بھیجا جس نے فیصلہ کرنا تھا اس فرشتے نے حضرت ادریس سے پوچھا : تم جنت سے کیوں نہیں نکلتے ؟ حضرت ادریس نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کل نفس ذائقۃ الموت ( آل عمران :185) (ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے) اور میں موت کا ذائقے چکھ چکا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وان منکم الاواردھا تم میں سے ہر ایک نے دوزخ پر وارد ہونا ہے۔ اور میں اس پر وارد ہوچکا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وماھم منھا بمخرجین۔ (الحجر) وہ اس (جنت) سے نکلنے والے نہیں ؟ پھر میں اس سے کیسے نکلوں ؟ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا : میرے اذن سے وہ جنت میں داخل ہوئے تھے اور میرے حکم سے ہی باہر نکلیں گے، پس حضرت ادریس (علیہ السلام) جنت میں زندہ ہیں اور ورفعنہ مکانا علیا۔ سے یہی مراد ہے۔ النحاس نے کہا : ادریس کا قول : وماھم منھا بمخرجین ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو یہ سکھایا ہو پھر اس کو قرآن میں نازل کیا ہو۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت ادریس جنت میں کبھی کھاتے پیتے ہیں اور کبھی ملائکہ کے ساتھ آسمان میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے پیغمبروں میں سے فضل کیا (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے رہتے تھے

(تفسیر 58) اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم اس سے مراد صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ وممکن حملنا مع نوح سے مراد صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ ومن ذریۃ ابرھیم سے مراد حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور (اسرائیل) کی ذریت سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ حضرت ادریس اور حضرت نوح کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے قرب کا شرف تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) سے قرب کا شرف تھا اور حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کو حضرت ابراہیم سے قرب کا شرف تھا۔ وممن ھدینا، یعنی جن کو ہم نے اسلام کی طرف ہدایت دی۔ واجتبینا اور ہم نے ایمان کے لیے چن لیا۔ اذا تتلی علیہم ایت الرحمن، شبل بن عباد مکی نے یتلی مذکر کا صیغہ پڑھا ہے کیونکہ فاعل مونث غیر حقیقی ہے اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ بھی ہے۔ خروا سجدوب کیا۔ ان کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع کا اظہار کرنے والے ہیں 0 اور اس کی بارگاہ میں رونے والے ہیں۔ یہ الفاظ سورة سبحان میں گزر چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے : بکی یبکی بکاء وب کی وب کیا۔ مگر خلیل نے کہا : جب تھوفا رونا ہو تو وہ حزن کث مثل ہے یعنی اس کے ساتھ آواز نہ ہو جیسے شاعر نے کہا : بکت عینی وحق لھا بکا ھا وما یغنی البکاء ولا الحویل اور سجداً پر نصب حال کی وجہ سے ہے اور بی کیا اس پر معطوف ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ رحمن کی آیات کا دلوں پر اثر ہے۔ حسن نے کہا : اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا وب کیا۔ یعنی نماز میں جب ان پر آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔ اصم نے کہا : ایت الرحمن سے مراد وہ کتب ہیں جو اس کی توحید اور اس کی محبتوں کو متضمن ہیں اور وہ ان کی تلاوت کے وقت سجدہ کرتے تھے اور ان کے ذکر کے وقت روتے تھے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے مراد خاص قرآن ہے اور وہ اس کی تلاوت کے وقت سجدہ کرتے تھے اور روتے تھے۔ ال کیا نے کہا : اس آیت میں حضرت ابن عباس کے قول سے اس شخص کے قول کی دلیل ہے جو کہتا ہے کہ قرآن وہ ہے تمام انبیاء پر پڑھا جاتا تھا لیکن اگر اس طرح ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس کے انزال کے ساتھ مختص نہ ہوتے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ابوبکر رازی نے اس آیت سے حجت پکڑی ہے کہ قاری اور سننے والے پر قرآن کے سجدے واجبب ہیں۔ ال کیا نے کہا : یہ بعید ہے کیونکہ ویہ وصف تو اللہ تعالیٰ کی تمام آیات کو شامل ہے اور سجود کو بکاء (رونے) کے ساتھ ملایا گیا ہے اور اس سے انبیاء کا طریقہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کی آیات کی تعظیم کرتے تھے۔ اس میں مخصوص آیت پڑھتے وقت سجدہ کے وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ علماء نے فرمایا : جو سجدہ کی آیت پڑھے وہ آیات کے مطابق اس سجدہ میں مانگے مثلاً اگر سورة السجدہ، الم تنزیل آیت سجدہ پڑھے تو یہ دعا مانگے : اللھم اجعلنی من الساجدین لوجھک المسبحین بحمدک وأعوذبک ان اکون من المستکبرین عن امرک۔ اے اللہ ! مجھے اپنی رضا کے لیے سجدہ کرنے والوں، سے ہو جائوں۔ اور اگر سورة سبحان کی آیت سجدہ پڑھے تو یہ دعا مانگے : اللھم اجعلنی من الباکین إلیک الخاشعین لک۔ اے اللہ ! مجھ اپنی بارگاہ میں رونے والوں اور خشوع کرنے والوں سے بنا دے۔ اگر یہ آیت پڑھاپڑھے تو یہ دعا مانگے : اللھم اجعلنی من عبادنک المنعم علیہم المھدین الساجدین لک الباکین عند تلاوۃ آیاتک۔ اے اللہ ! مجھے اپنے انعام یافتہ، ہدایت یافتہ اور اپنی بارگاہ میں سجدہ کرنے والے لوگوں سے (اور) آیات کی تلاوت کے وقت رونے والوں سے بنا دے۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

(تفسیر 59-63) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخلف من بعدھم خلف اس سے مراد بری اولاد ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہمیں حجاج نے بیان کیا انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے فرمایا : یہ قیامت کے قیام کے وقت ہوگا اور اس امت کے نیک لوگوں کے چلے جانے کے وقت ہوگا، لوگ گلیوں میں زنا کریں گے۔ خلف کے متعلق کلام سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اضاعوا الصلوٰۃ۔ حضرت عبدالللہ اور حسن نے اضاعوا الصلوات، پڑھا ہے یہ مذمت ہے اور نص ہے کہ نماز کا ضائع کرنا ان کبائر میں سے ہے جو انسان کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا : جس نے نماز کو ضائع کیا وہ اس کے علاوہ احکام شرع کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔ علماء کا اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون مراد ہیں ؟ مجاہد نے کہا : نصاریٰ مراد ہیں، جو یہود کے بعد آئے۔ محمد بن کعب قرظی اور مجاہد اور عطا نے کہا : اس سے مراد آخر زمانہ میں نبی کریم ﷺ کی امت سے آنے والے لوگ ہیں (1) یعنی اس امت سے ہوں جن کی یہ صفت ہوگی، نصاریٰ مراد نہیں ہیں۔ اور علماء کا نماز کو ضائع کرنے کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ قرظی نے کہا : اس سے مراد نماز کا انکار کرنا ہے۔ قاسم بن مخیمرہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا : اس کو وقت پر ادا نہ کرنا اور اسکے حقوق کو قائم نہ کرنا ہے۔ یہ قول صحیح ہے کیونکہ جب نماز وقت پر ادا نہ کی جائے اور آداب و حقوق سے خالی ہو تو وہ صحیح نہیں ہوتی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو فرمایا جس نے نماز پڑھی اور آیا اور آپ کو سلام پیش کیا : ” واپس جا اور نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی “ (2) یہ تین مرتبہ فرمایا۔ اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت حذیفہ نے ایک شخص کو فرمایا جس نے نماز میں کوتاہی کی تھی : تو کتنے عرصہ سے یہ نماز پڑھ رہا ہے ؟ اس نے کہا : چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا : تو نے نماز نہیں پڑھی اگر تو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے مرگیا تو حضرت محمد ﷺ کی سنت پر نہیں مرے گا، پھر فرمایا : انسان کو نماز مختصر پڑھنی چاہیے مکمل پڑھے اور اچھے انداز میں پڑھے۔ اس حدیث کو بخاری نے نقل کیا ہے اور یہ لفظ نسائی کے ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابو مسعود انصاری سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ نماز جائز نہیں ہوتی جس میں انسان سیدھا نہیں ہوتا یعنی رکوع اور سجود میں پیٹھ کو سیدھا نہیں کرتا ہے (1) ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اہل علم صحابہ اور تابعین کا اس پر عمل ہے ان کا نظریہ ہے کہ آدمی رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ کو سیدھا کرے۔ امام شافعی، امام احمد اور اسحاق نے کہا : جو اپنی پیٹھ رکوع اور سجود میں سیدھی نہیں کرتا اس کی نماز فاسد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” یہ نماز منافق کی نماز ہے سورج کو تاڑتے ہوئے بیٹھا رہتا ہے حتیٰ کہ جبسورج شیطان کے سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مارتا ہے وہ نماز میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا مگر تھوڑا (2) “ یہ مذمت ہے اس شخص کی جو ایسا کرتا ہے۔ فروہ بن خالد بن سنان نے کہا : ایک دفعہ ضحاک کے ساتھیوں نے نماز عصر میں امیر کا بہت دیر تک انتظار کیا حتیٰ کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ ضحاک نے اس وقت یہ آیت پڑھی پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! نماز کو ترک کرنا میرے نزدیک اسے ضائع کرنے سے بہتر ہے۔ بہر حال اس باب میں حتمی قول یہ ہے کہ جو نماز کا مکمل وضو نہیں کرتا اور رکوع و سجود صحیح نہیں کرتا وہ نماز کی حفاظت کرنے والا نہیں اور جس نے نماز کی حفاظت نہیں کی اس نے اسے ضائع کردیا اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ دوسرے احکام شرع کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔ حسن نے کہا : نماز کے ضیاع سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے مساجد کو معطل کردیا اور اپنے دنیا کے کاموں اور اسباب میں مشغول ہوگئے۔ واتبعوا الشعوت یعنی لذات اور معاصی کی پیروی کی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ترمذی اور ابو دائود بن انس بن حکیم ضبی سے روایت کیا ہے (3) کہ وہ مدینہ طیبہ آئے تو حضرت ابوہریرہ ؓ سے ملے انہوں نے کہا : اے نوجوان ! کیا میں تجھے ایسی حدیث بیان نہ کروں شاید اللہ تعالیٰ تجھے اس سے نفع دے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا : قیامت کے روز لوگوں کے اعمال میں سے جس کا پہلے محاسبہ ہوگا وہ نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ زیادہ جانتا ہے : میرے بندے کی نماز دیکھو اس نے اس کو مکمل کیا یا کو تای کی اگر وہ نماز مکمل ہوگی تو اس کے لیے مکمل لکھی جائے گی، اگر اس میں کچھ کمی ہوگی تو ارشاد ہوگا : دیکھو کیا میرے بندے کے نوافل ہیں، اگر اس کے نوافل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے ببندے کے لیے اس کے نوافل سے اس کے فرائض کو مکمل کر دو پھر اس پر دوسرے اعمال کا مؤاخذہ ہوگا۔ یونس نے کہا : میرا گمان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے ﷺ یہ ابو دائود کے الفاظ ہیں (4) فرمایا : ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا انہوں نے ہمیں حماد نے بیان کیا انہوں نے تمیم داری سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہی مفہوم روایت کیا ہے پھر فرمایا : ” زکوٰۃ بھی اس کی مثل ہے (1) پھر اس کے مطابق اعمال کا مواخذہ ہوگا۔ “ اس حدیث کو نسائی نے ہمام سے انہوں نے حسن سے انہوں نے حریث بن قبیصہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ” قیامت کے روز بندے کا جس چیز کے متعلق محاسبہ کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر نماز درست ہوگی تو وہ شخص کامیاب و کامران ہوجائے گا اگر نماز کا معاملہ خراب ہوگا تو وہ خائب و خاسر ہوگا۔ “ ہمام نے کہا : میں نہیں جانتا یہ قتادہ کے کلام سے ہے یا روایت سے ہے، اگر اس کے فرائض میں سے کچھ کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دیکھو کیا میرے بندے کے لیے کوئی نفل ہے پھر فرائض کی کمی نفل سے پوری کی جائے گی پھر تمام اعمال اس کے مطابق ہوں گے۔ ابو العوام نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے یہ قتادہ سے انہوں نیحسن سے انہوں نے ابو رافع سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے روز بندے کا سب سے پہلے جس چیز کا محاسبہ ہوگا وہ اس کی نماز ہے اگر وہ مکمل پائی جائے گی تو وہ مکمل لکھی جائے گی، اگر اس میں کچھ کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دیکھو کیا تم اس کے لیے نفل پاتے ہو فرائض نماز میں سے جو کمی ہوگی اس کے نفل سے مکمل کی جائے گی پھر تمام اعمال اس کے مطابق جاری ہوں گے (2) ۔ نسائی نے کہا ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں نضر بن شمیل نے بتایا فرمایا ہمیں حماد بن سلمہ نے خببر دی انہوں نے ازرق بن قیس سے انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی پاک ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” قیامت کے روز سب سے پہلے بندے کے جس عمل کا محاسبہ کیا جائے گا وہ اس کی نماز ہے اگر نماز درستہو گی تو وہ شخص کامیاب و کامران ہوجائے گا اگر نماز کا معاملہ خراب ہوگیا تو وہ خائب و خاسر ہوگا۔ “ (3) ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندے کے بارے میں دیکھو کیا اس کے نفل ہیں اگر نفل ہوئے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے فرائض کی کمی کو پورا کر دو ۔ ابوعمر بن عبدالبر نے کتاب التمہید میں فرمایا : نوافل سے فرائض کا مکمل کرنا اس کے لیے ہوگا جو فرض کو بھول گیا ہوگا اور اسے ادا نہ کیا ہوگا یا اس کا رکوع و سجود بہتر ادا نہ کیا ہوگا اور اسے اس کی قدر معلوم نہ ہوگی لیکن جس نے نماز کو جان بوجھ کر ترک کیا ہوگا یا پہلے بھولا ہوگا پھر اسے یاد آیا ہوگا لیکن جان بوجھ کر پھر ادا نہ کیا ہوگا اور فرض کی ادائیگی کو چھوڑ کر نوافل میں مشغول ہوا ہوگا جبکہ فرض اسے یاد بھی ہوگا تو اس کے لیے نوافل سے فرض کو مکمل نہیں جائے گا۔ اس کے بارے میں شامیین کی حدیث سے ایک منکر حدیث مروی ہے جس کو محمد بن حمیر نے عمرو بن قیس سکونی سے انہوں نے عبداللہ بن قرط سے انہوں نے نبی پاک ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں رکوع و سجود مکمل نہ کیا، اس میں اس کی تسبیحات زیادہ کہی گئیں حتیٰ کہ نماز مکمل کی جائے گی۔ ابو عمر نے کہا : یہ نبی کریم ﷺ سے محفوظ نہیں ہے مگر اسی طریق سے اور یہ قوی نہیں اور اگر یہ صحیح ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ نماز سے باہر ہوگیا اس نے اپنے خیال میں نماز کو مکمل کیا جبکہ حکم میں مکمل نہ تھی۔ میں کہتا ہوں : انسان کے لیے مناسب ہے کہ وہ فرض اور نفل اچھے طریقے سے ادا کرے تاکہ اس کے لیے نفل ہوں جو اس کے فرض سے زائد ہوں اور وہ اپنیرب کا ان کے ذریعے قرب حاصل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں “ (1) (الحدیث) رہا یہ کہ جب اس کے لیے نفل ہوگا اس کے ساتھ فرض کو پورا کیا جائے گا تو اس کا حکم معنی میں فرض کا حکم ہوگا اور جو فرائض اچھی طرح نہیں پڑھتا وہ نفل بھی احھی طرح نہیں پڑھے گا یقینا لوگوں سے نوافل میں زیادہ نقصان اور خلل ہوتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی اور اس میں وہ سستی کرتے ہیں حتیٰ کہ گویا اس کو کچھ شمار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ پایا جاتا ہے اس کے متعلق علم کا گمان کیا جاتا ہے اس کے نفل اسی طرح ہوا کرتے ہیں بلکہ فرض کو بھی مرغ کے دانہ چگنے کی طرح ادا کرتا ہے کیونکہ حدیث کی معرفت نہیں ہوتی پھر جہال کی کیا حالت ہوگی جو کچھ جانتے بھی نہیں ؟ علماء نے فرمایا : رکوع و سجود جائز نہیں ہوتا اور رکوع کے بعد وقوف جائز نہیں ہوتا اور دو سجدوں کے درمیان جلوس جائز نہیں ہوتا حتیٰ کہ اعتدال کے ساتھ رکوع کرے، وقوف کرے، سجدہ کرے اور بیٹھے۔ یہ اثر میں صحیح ہے اسی طرح جمہور اور اہل نظر کا نظریہ ہے ؛ یہ ابن وہب اور ابو مصعب کی امام مالک سے روایت ہے ؛ یہ معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ جب معاملہ اس طرح ہو تو ایسے نوافل کے ساتھ فرض کی کمی کو کیسے پورا کیا جائے گا بلکہ یہ تمام غیر صحیح اور غیر مقبول ہیں کیونکہ یہ غیر مطلوب طریقہ پر واقع ہوا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتبعوا الشعوت۔ حضرت علی ؓ سے اس ارشاد کے تحت مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے پختہ مکان بنائے، قابل دید سواری پر سوار ہوا اور مشہور اور شہرت والا لباس پہنا۔ میں کہتا ہوں : الشھوت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو انسان کے موافق ہوتی ہیں انسان ان کی خواہش کرتا ہے اور وہ اس کے مناسب ہوتی ہیں اور انسان سے نہیں بچتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے : ” جنت کا تکالیف کے ساتھ گھیرا گیا ہے اور دوزخ کو شہوات کے ساتھ گھیرا گیا ہے (2) “ اور حضرت علی ؓ سے جو مروی ہے وہ اس کا جزء ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فسوف یلقون غیا۔ ابن زید نے کہا : غیا سے مراد شریا گمراہی یا خسارہ ہے۔ شاعر نے کہا ہے : فمن یلق خیرا یحمد الناس امرہ ومن یغو لا یعدم علی الغی لائما حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : جہنم میں ایک وادی ہے (3) اہل لغت کے نزدیک تقدیر عبارت اس طرح ہے : فسوف یلقون ھذا الغی۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یفعل ذلک یلق اثاما۔ (الفرقان) ( اظہر یہ ہے کہ الغی وادی کا نام ہے، اس کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ گمراہ لوگ اس کی طرف جائیں گے۔ کعب نے کہا : آخر زمانہ میں ایک قوم ظاہر ہوگی ان کے ہاتھوں میں گائے کے دموں کی طرح کوڑے ہوں گے پھر یہ تلاوت کیا : فسوف یلقون غیا۔ یعنی وہ جہنم میں ہلاکت و گمراہی پائیں گے، ان سے یہی مروی ہے کہ غی جہنم میں ایک وادی ہے جہنم کی سب سے گہری وادی ہے اور انتہائی گرم وادی ہے اس میں ایک کنواں ہے جس کو البیہم کہا جاتا ہے، جب جہنم بجھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کنویں پر کھول دیتا ہے پس جہنم اس کے ساتھ بھڑک اٹھتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : غی جہنم میں ایک وادی ہے اور جہنم کی دوسری وادیاں اس کی گرمی سے پناہ مانگتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس وادی کو اس زانی کے لیے تیار کیا ہے جو زنا پر اصرار کرتا ہے اور اس شرابی کے لیے تیار کیا ہے جو ہمیشہ شراب پیتا ہے اور جھوٹ کی گواہی دینے والوں کے لیے تیار کیا ہے اور اس عورت کے لیے تیار کیا ہے جس نے اپنے خاوند پر ایسے بچے کو داخل کیا جو اس سے نہیں ہے۔