Ayahs 17:90–93آیت نمبر 90 تا 93
قولہ تعالیٰ : وقالوا لن۔۔۔۔ ینبوعا یہ آیت رؤساء قریش کے بارے میں نازل ہوئی مثلا عتبہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو سفیان اور نضر بن حارث، ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف اور ابو البختری، اور ولید بن مغیرہ وغیرہم۔ اور وہ اس طرح کہ جب وہ قرآن کریم کا معارض لانے سے عاجز آگئے اور وہ اس کے معجزہ ہونے پر بھی راضی نہ ہوئے، تو ابن اسحاق وغیرہ کے باین کے مطابق وہ کعبہ معظمہ کے پاس غروب آفتاب کے بعد اکٹھے ہوئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : محمد ﷺ کے پا سچلو اور ان سے گفتگو کرو، مباحثہ کرو یہاں تک کہ تمہیں اس بارے میں الزام سے بری کردیا جائے، پس انہوں نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کی قوم کے اشراف آپ کے لئے جمع ہیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ گفتگو کریں لہٰذا آپ ان کے پاس تشریف لائیے، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے درآنحالیکہ آپ گمان کر رہے تھے کہ جس بارے میں آپ نے ان کے ساتھ گفتگو کی ہے اس بارے میں ان کیلئے کوئی چیز ظاہر ہوگئی ہے، اور رسول اللہ ﷺ حریص تھے آپ ان کی رشد و ہدایت کو پسند کرتے تھے اور ان کی سرکشی اور رعونت آپ پر گراں گزرتی تھی، یہاں تک کہ آپ ان کے پاس بیٹھ گئے تو انہوں نے آپ کو کہا : اے محمد ! ﷺ بلاشبہ ہم نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے تاکہ ہم آپ سے گفتگو کریں، اور بلاشبہ قسم بخدا ! ہم پورے عرب میں کسی آدمی کو نہیں جانتے جس نے اپنی قوم میں اس طرح مداخلت کی ہو جیسے آپ نے اپنی قوم میں مداخلت کی ہے، تحقیق آپ نے آباء و اجداد کو گالیاں دی ہیں، دین میں عیب اور نقص بیان کیا ہے، انہوں کو برا کہا ہے، جوانوں کو بیوقوف اور احمق قرار دیا ہے اور اجتماعیت کو تقسیم کردیا ہے، نتیجتاً کوئی قبیح امر باقی نہیں مگر وہ ہمارے اور آپ کے درمیان ظاہر ہوا، یا اسی طرح کی کئی باتیں انہوں نے آپ سے کیں، پس اگر آپ نے یہ بات اس لئے کی ہے کہ آپ اس کے بدلے مال چاہتے ہیں تو ہم آپ کے لئے اپنے اموال اکٹھے کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ ہم سے زیادہ مالدار ہوجائیں گے، اور اگر آپ اس سے شرف و سرداری کے طالب ہیں تو ہم آپ کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں، اور اگر آپ اس سے بادشاہی اور حکومت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنے اوپر حاکم تسلیم کرتے ہیں، اور اگر یہ آپ سے کسی جن کی اتباع کی وجہ سے ہو رہا ہے جسے آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ پر غالب ہے تو ہم کثرت سے اپنے اموال آپ کے علاج کے لئے خرث کرتے ہیں تاکہ ہم آپ کو اس سے برأت دلا سکیں یا آپ کو معذور قرار دے سکیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” مجھے اس میں سے کچھ بھی نہیں جو تم کہہ رہے ہو جو کچھ میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں وہ اس لئے نہیں لایا کہ تم سے اموال کا مطالبہ کروں اور اس لئے کہ تم میں سردار بن جاؤں اور نہ اس لئے کہ تم پر حاکم بن جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہوجاؤں، چناچہ میں نے اپنے رب کے پیغام تم تک پہنچا دئیے ہیں اور میں نے تمہیں نصیحت کردی ہے پس اگر تم مجھ سے وہ قبول کرلو جو تمہارے پاس لے کر آیا ہوں تو وہی دنیا اور آخرت میں تمہارے لئے باعث سعادت ہے اور اگر تم اسے مجھ پر لوٹا دو (رد کرو) تو میں اللہ تعالیٰ کے امر کی وجہ سے صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے “۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ ۔ انہوں نے کہا : اے محمد ! ﷺ جو چیزیں ہم نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں اگر آپ ان میں سے کوئی شے بھی قبول نہیں کرتے تو پھر آپ جان لیجئے کہ لوگوں میں سے کوئی نہیں جس کا شہر ہم سے زیادہ تنگ ہو، نہ کوئی ایسا ہے جس کے پاس ہم سے زیادہ پانی کی کمی اور قلت ہو اور نہ کوئی ایسا ہے جو ہم سے زیادہ زندگی کو سخت، تلخ اور تکلیف دہ گزارنے والا ہو، پس آپ اپنے اس رب سے التجا کیجئے جس نے آپ کو اس کے ساتھ بھیجا جس کے ساتھ آپ کو معبوث فرمایا کہ وہ ہم سے ان پہاڑوں کو دور ہٹا لے جنہوں نے ہم پر ماحول تنگ کر رکھا ہے، اور چاہئے کہ وہ ہمارے شہر کو کھول دے، وسیع کر دے اور ان میں ہمارے لئے شام کی نہروں کی طرح نہریں جاری کر دے، اور ہمارے وہ آباء جو گزر چکے ہیں انہیں ہمارے لئے زندہ کر دے، اور چاہئے کہ وہ ہمارے لئے قصی بن کلان کو زندہ کر دے، کیونکہ وہ سچے شیخ تھے اور ہم ان سے اس کے بارے پوچھیں گے جو آپ کہتے ہیں : کیا وہ حق ہے یا باطل ہے ؟ اور اگر انہوں نے آپ کی تصدیق کردی اور آپ نے وہ کیا جو ہم نے آپ سے کہا ہے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور ہم اس کے سبب اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کا مقام و مرتبہ پہچان لیں گے، اور یہ کہ اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے جیسے آپ کہتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” میں اس کے ساتھ تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہاری طرف وہ لایا ہوں جس کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور میں نے تم تک وہ پیغام پہنچا دیا ہے جس کے ساتھ میں تمہاری طرف بھیا گیا ہوں پس اگر تم اسے قبول کرلو تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہارے لئے سعادت ہے اور اگر تم اسے مجھ پر لوٹا دو (یعنی رد کر دو ) تو میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے “۔ انہوں نے کہا : اور اگر تم یہ ہمارے لئے نہیں کرتے تو اپنے آپ کو ہی لے لیجئے ! اپنے رب سے التجا کیجئے کہ وہ آپ کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجے جو آپ کی اس بارے میں تصدیق کرتا ہو جو آپ کہتے ہیں اور ہمیں آپ سے واپس لوٹا دے، اور یہ سوال کیجئے کہ وہ آپ کے لئے باغات، محلات اور سونے شاندی کے خزانے بنا دے اور وہ ان کے سبب آپ کو اس سے غنی کر دے جو ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں ؟ کیونکہ آپ بازاروں میں جاتے ہیں اور اسی طرح معاش، کاروبار تلاش کرتے ہیں جیسے ہم اسے تلاش کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے آپ کی فضیلت اور آپ کا مرتبہ جان لیں اگر آپ رسول ہیں جیسا کہ آپ گمان کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” میں یہ کرنے والا نہیں اور نہ میں وہ ہوں جو اپنے رب سے یہ سوال کرے اور نہ میں تمہاری طرف اس کے ساتھ بھیجا گیا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔۔۔ أو کما قال۔۔۔ پس اگر تم مجھ سے وہ قبول کرلو جو میں میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہاری سعادت ہے اور اگر تم اسے مجھ پر واپس لوٹا دو تو میں اللہ تعالیٰ کے امر کے لئے صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے “۔ انہوں نے کہا : پس وہ ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے جیسا کہ آپ کا گمان ہے کہ آپ کا رب اگر چاہے تو وہ یہ کرسکتا ہے، کیونکہ ہم ہرگز آپ کے ساتھ ایمان نہیں لائیں گے مگر تب کہ آپ ایسا کریں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے اگر وہ تمہارے ساتھ ایسا کرنا چاہے تو کرلے “۔ انہوں نے کہا : اے محمد ! ﷺ کیا آپ کا رب جانتا نہیں کہ ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے اور ہم آپ سے اس بارے سوال کریں گے جو ہم نے آپ سے سوالات کئے ہیں اور ہم آپ سے وہ مطالبہ کریں گے جواب ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پہلے ہی آپ کی طرف توجہ فرماتا اور آپ کو اس کے بارے آگاہ کردیتا ہے جس کے ساتھ آپ ہمیں لوٹا سکتے ہیں اور وہ آپ کو اس کے بارے خبر دے دیتا جو کچھ وہ اس بارے ہمارے ساتھ کرنے والا ہے جب ہم آپ سے وہ قبول نہ کریں جو آپ ہمارے پاس لائے ہیں ؟ بیشک ہمیں تو یہ خبر پہنچی ہے کہ یمامہ کا ایک آدمی آپ کو یہ سکھلاتا ہے اس کو رحمن کہا جاتا ہے، اور ہم قسم بخذا ! رحمن کے ساتھ کبھی ایمان نہیں لائیں گے، تحقیق ہم آپ کے بارے میں معزور ہیں۔ اے محمد ! ﷺ اور قسم بخدا ! ہم آپ کو اور جو کچھ ہماری طرف سے آپ کو پہنچا ہے اسے نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ ہم آپ کو ہلاک کردیں گے یا آپ ہمیں ہلاک کردیں گے۔ اور ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا : ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اور بعض نے کہا : ہم آپ کے ساتھ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے بارے میں کوئی ضامن لے آئیں۔ پس جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہا، تو آپ ان سے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر مخزوم بھی کھڑا ہوگیا، اور یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا تھا، اور وہ عاتکہ بنت عبد المطلب تھیں، تو اس نے کہا : اے محمد ! ﷺ آپ کی قوم نے آپ پر وہ کچھ پیش کیا جو انہوں نے پیش کیا اور آپ نے اسے ان سے قبول نہ فرمایا۔ پھر انہوں نے آپ سے اپنے بارے میں چند امور کے بارے سوال کیا تاکہ وہ اس کے سبب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کا مقام و مرتبہ پہچان لیں جیسا کہ تم کہتے ہو اور وہ تمہاری تصدیق کریں اور تمہاری اتباع کریں لیکن تم نے وہ نہیں کیا، پھر انہوں نے تم سے یہ سوال کیا کہ اپنے آپ کے لئے ایسی چیزیں لے لیں جن کے سبب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر آپ کی فضیلت اور مرتبہ ظاہر ہوجائے لیکن آپ نے وہ بھی نہیں کیا۔ پھر انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ آپ انہیں جس عذاب وغیرہ سے ڈرا رہے ہیں اس میں سے کوئی چیز ان پر فوراً اور جلدی لے آئیں، آپ نے یہ بھی نہیں کیا۔۔۔ یا جس طرح کی باتیں اس نے آپ سے کیں۔۔۔ پس قسم بخدا ! میں آپ کے ساتھ کبھی ایمان نہیں لاؤں گا یہاں تک کہ آپ آسمان کی طرف ایک سیڑھی بنائیں، پھر اس میں چڑھیں اور میں دیکھتا رہوں یہاں تک کہ آپ اس (آسمان) تک پہنچ جائیں پھر آپ وہاں سے اپنے ساتھ تحریری عہد نامہ لائیں اس کے ساتھ چار فرشتے ہوں جو آپ کی شہادت دیں کہ آپ اسی طرح ہیں جیسے آپ کہہ رہے ہیں۔ اور قسم بخدا ! اگر آپ ایسا کرلیں تو میں گمان نہیں کرتا کہ میں آپ کی تصدیق کروں گا۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ سے منہ پھیر کر چلا گیا، اور رسول اللہ ﷺ بھی غمزدہ ہو کر اپنے اہل خانہ کی طرف لوٹ آئے آپ کو اس پر شدید افسوس تھا کہ آپ اسے نہ پاسکے جو آپ اپنی قوم سے اس وقت طمع اور امید رکھتے تھے جس وقت انہوں نے آپ کو بلایا، اور اس وجہ سے کہ آپ نے انہیں اس سے بہت دور ہوتے ہوئے دیکھا ؛ یہ تمام الفاظ ابن اسحاق کے ہیں۔
اور واحدی نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے : پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وقالوا لن نؤمن لک۔۔۔۔ ینبوعا، ینبوعا کا معنی چشمہ ہے ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ یفعول کے وزن پر ہے، اور نبع ینیع سے ماخوذ ہے۔ اور ائمہ نے تفجر الانھار کے مشدد ہونے میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ ابو عبید نے کہا ہے : پہلا بھی اسی کی مثل ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : پہلا اس کی مثل نہیں ہے، کیونکہ پہلے کے بعد ینبوع ہے اور وہ واحد ہے، اور دوسرے کے بعد الأنھار ہے اور یہ جمع ہے ؛ اسی طرح حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ ینبوع کا معنی پانی کا چشمہ ہے، اور اس کی جمع ینابیع ہے۔ اور حضرت قتادہ نے او یکون لک جنۃ پڑھا ہے۔ خللھا یعنی اس کے درمیان۔ او تسقط السمآء یہ قرأت عامہ ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے اویسقط السماء پڑھا ہے یعنی فعل کی نسبت آسمان کی طرف کی ہے۔ کسفا اس کا معنی قطعہ یعنی ٹکڑا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور الکسف (سین کے فتحہ کے ساتھ) کسفۃ کی جمع ہے، اور حضرت نافع، ابن عامر، اور عاصم کی قرأت ہے۔ اور باقیوں نے کسفا (سین کے سکون کے ساتھ) پڑھا ہے۔ اخفش نے کہا ہے : جنہوں نے کسفا من السماء پڑھا ہے، انہوں نے اسے واحد بنایا ہے، اور جنہوں نے اسے کسفا پڑھا ہے انہوں نے اسے جمع بنایا ہے۔ مہدوی نے کہا ہے : جنہوں نے سین کو ساکن قرار دیا ہے اس میں یہ بھی جائز ہے کہ وہ کسفۃ کی جمع ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ مصدر ہو، اور کسف الشئ جب تو کسی شی کو ڈھانپ لے سے ماخوذ ہو، تو گویا انہوں نے یہ کہا : تو ایسا ٹکڑا ہم پر گرا جو ہمیں گھیرنے اور ڈھانپنے والا ہو۔
اور جوہری نے کہا ہے : الکسفۃ اس کا معنی ہے کسی شے کا ایک ٹکڑا، کہا جاتا ہے : أعطنی کسفۃ من ثوبک (اپنے کپڑے سے ایک ٹکڑا مجھے دے دو ) اور اس کی جمع کسف اور کسف ہے۔ اور کہا جاتا ہے : الکسف اور الکسفۃ یہ واحد ہیں۔ اوتاتی باللہ والملئکۃ قبیلا یعنی آپ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو اس طرح سامنے لے آئیں کہ انہیں دیکھا جاسکے ؛ یہ حضرت قتادہ اور ابن جریج کا قول ہے۔ اور حضرت ضحاک اور ابن عباس ؓ نے کہا ہے کہ قبیلا کا معنی کفیل (ضامن) ہے۔
حضرت مقاتل نے کہا : اس کا معنی شھیدا (گواہ، شاہد) ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ قبیلۃ کی جمع ہے، یعنی آپ ملائکہ کی اصناف درآنحالیکہ وہ قبیلہ قبیلہ ہیں انہیں لے ائیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ضامن ہیں یعنی وہ ہمیں آپ کے اسے لانے کی ضمانت دیں۔ او یکون لک بیت من زخرف یعنی یا آپ کے لئے سونے کا ایک گھر ہوجائے، یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے۔ اور اس کا اصل معنی زینت ہے اور المزخرف کا معنی مزین (جس کو آراستہ کیا ہے یہاں تک کہ میں نے اسے حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں دیکھا بیت من ذھب (سونے کا گھر) یعنی ہم اس فقر کی حالت میں جو ہم دیکھ رہے ہیں آپ کی اتباع اور پیروی نہیں کریں گے۔ اوترقی فی السمآء یا آپ آسمان میں چڑھیں ؛ کہا جاتا ہے : رقیت فی السلم ارقی رقیا ورقیا جب تو سیڑھی پر چڑھے۔ اور ارتقیت بھی اسی کی مثل ہے۔ ولن نؤمن لرقیک یعنی آپ کے چڑھنے کی وجہ سے ہم ایمان نہیں لائیں گے، اور یہ مصدر ہے، جیس مضی یمضی مضیا، اور ھوی یھوی ھویا ہیں اسی طرح رقی یرقی رقیا ہے۔ حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ یعنی یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم میں سے ہر آدمی کی طرف ایک کتاب (تحریر) اتار لائیں جسے ہم پڑھ سکتے ہوں ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ (المدثر) (بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کو کھلے صحیفے دئیے جائیں) ۔
قل سبحان ربی اہل مکہ اور شام نے قال سبحان ربی پڑھا ہے یعنی قال کا فاعل حضور نبی مکرم ﷺ ہیں یعنی آپ ﷺ نے اس سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی کہ وہ کسی شے سے عاجز ہو اور اس سے کہ اس پر کوئی کام پیش کیا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سارے کا سارا کلام ان کے کفر اور ان کی خواہشات میں افراط کے سبب اظہار تعجب کے لئے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سارے کا سارا کلام ان کے کفر اور ان کی خواہشات میں افراط کے سبب اظہار تعجب کے لئے ہے۔ اور باقیوں نے صیغہ امر کی بنا پر قل پڑھا ہے : یعنی آپ انہیں فرما دیں اے محمد ! ﷺ ۔ ھل کنت یعنی میں نہیں ہوں الا بشرا رسولا مگر آدمی (اللہ کا) بھیجا ہوا۔ میں اس کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ ان چیزوں میں سے جو انسان کی قدرت میں نہیں ہیں جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، کیا تم نے انسانوں میں سے کسی کے بارے سنا ہے کہ وہ یہ نشانیاں اور آیات لایا ہو ؟ اور بعض ملحدوں نے کہا ہے : یہ ایسا جواب نہیں ہے جس پر قناعت کی جائے۔ اور انہوں نے غلط کہا ہے، کیونکہ آپ نے انہیں جواب یہ دیا ہے اور کہا ہے : بلاشبہ میں ایک آدمی ہوں میں ان میں سے کسی شے پر قدرت نہیں رکھتا جو تم نے مجھ سے مطالبات کئے ہیں، اور نہ میرے لئے یہ ہے کہ میں اپنے رب پر انہیں ڈال دوں (یعنی ان کا اپنے رب سے مطالبہ کروں) ، کیونکہ مجھ سے پہلے انبیاء و رسل (علیہم السلام) اپنی امتوں کے پاس ان تمام میں سے کوئی شے نہیں لائے جو مطالبات اور خواہشات وہ لوگ رکھتے تھے اور میرا طریقہ بھی انہیں کا طریقہ ہے، اور وہ انہیں آیات و علامات پر اقتصار کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان علامات میں سے عطا فرمائیں جو ان کی نبوت کی صحت پر دلیل تھیں، پس جب وہ (انبیاء علیہم السلام) ان پر حجت قائم کردیں تو پھر ان کی قوم کے لئے ضروری نہیں کہ وہ ان کے سوا اور کی خواہش اور مطالبہ کریں، اور اگر اللہ تعالیٰ پر واجب ہو کہ وہ انہیں ان تمام علامات کے ساتھ بھیجے جن کی وہ خواہش اور مطالبہ کرتے ہیں تو پھر اس پر یہ بھی لازم ہے کہ رسولوں میں سے وہ بھیجے جنہیں وہ اختیار اور پسند کریں گے، اور ہر آدمی کے لئے یہ کہنا لازم ہوجائے گا کہ میں ایمان نہیں لاؤں گا یہاں تک کہ اس کے خلاف نشانی لائی جائے جس کا مطالبہ میرے سوا دوسرے نے کیا ہے۔ اور یہ اس طرف لوٹ جائے گا کہ تدبیر لوگوں کے پاس ہے، (حالانکہ) بلاشبہ تدبیر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
Ayah 17:94آیت نمبر 94
قولہ تعالیٰ : وما منع الناس۔۔۔۔۔ الھدی یعنی جب اللہ تعالیٰ کے پاس سے اس کی طرف بلانے کے لئے رسل (علیہم السلام) اور کتابیں آگئیں (تو لوگوں کو ایمان لانے سے نہیں روکا) الا ان قالوا مگر اس چیز نے کہ انہوں نے اپنی جہالت کے سبب کہا۔ ابعث اللہ بشرا رسولا یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کا رسول انسانوں میں سے ہو، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی فرط عناد اور سرکشی کو بیان کیا کیونکہ انہوں نے کہا : آپ ہماری مثل ہیں آپ کی اطاعت اور پیروی ہم پر لازم نہیں، اور وہ معجزہ سے غافل ہوگئے، پس پہلا ان حرف جر کے ساتھ ساقط ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اور دوسرا ان منع کی وجہ سے محل رفع میں ہے (تقدیر کلام اس طرح ہے) وما منع الناس من ان یؤمنوا إذجآء ھم الھدی إلا قولھم ابعث اللہ بشرا رسولا۔
Ayah 17:95آیت نمبر 95
اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ فرشتے کو فرشتوں کی طرف بھیجا جاسکتا ہے، کیونکہ اگر وہ آدمیوں کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا تو وہ اسے اس ہیئت پر دیکھنے کی قدرت نہ رکھتے جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے، اور بلاشبہ اس نے انبیاء (علیہم السلام) کو اس پر قدرت دے رکھی ہے اور ان میں وہ چیز پیدا فرما رکھی ہے جس کے ساتھ وہ قدرت رکھتے ہیں، تاکہ یہ ان کے لئے نشانی اور معجزہ ہوجائے۔ اور اس آیت کی نظیر سورة الانعام میں گزر چکی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وقالوا لولا۔۔۔۔۔۔ لجعلنہ رجلا (الانعام) (اور بولے کیوں نہ اتارا گیا ان پر فرشتہ اور اگر ہم اتارتے فرشتہ تو فیصلہ ہوگیا ہوتا ہر بات کا پھر نہ مہلت دی جاتی انہیں اور اگر ہم بناتے نبی کسی فرشتے کو تو بتاتے اس کو انسان (کی شکل میں) اس کے بارے پہلے بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 17:96آیت نمبر 96
روایت ہے کہ کفار قریش نے جس وقت یہ قول سنا : ھل کنت الا بشرا رسولا تو انہوں نے کہا : پس کون آپ کی شہادت دے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی : قل کفی باللہ۔۔۔۔۔ خبیرا بصیرا۔
Ayah 17:97آیت نمبر 97
قولہ تعالیٰ : ومن یھدی اللہ دھو المھتد یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے تو وہ یقیناً ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ ومن یضلل۔۔۔۔۔ من دونہ (جنہیں اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے) انہیں کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ونحشرھم یوم القیمۃ علی وجوھھم اس میں دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے۔۔۔ کہ اس سے مراد انہیں تیزی اور جلدی کے ساتھ جہنم کی طرف لے جانا ہے، جیسا کہ عربوں کا قول ہے : قدم القوم علی وجوھھم (یہ تب بولتے ہیں) جب وہ تیزی سے چل کر آئیں۔ اور دوسرا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ انہیں قیامت کے دن چہروں کے بل جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا جیسا کہ دنیا میں اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے جس کو انتہائی زیادہ ذلیل و رسوا کرنا اور عذاب دینا مقصود ہو۔ اور یہی معنی صحیح ہے، کیونکہ حضرت انس ؓ سے حدیث مروی ہے کہ کسی آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ، وہ لوگ جنہیں منہ کے بل اٹھایا جائے گا، کیا کافر کو اس کے منہ کے بل اٹھایا جائے گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا وہ ذات جس نے اسے دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلا دے “۔ جس وقت یہ خبر حضرت قتادہ تک پہنچی تو انہوں نے کہا : کیوں نہیں ہمیں اپنے رب کی عزت کی قسم ! (وہ اس پر قادر ہے) ۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے نقل کیا ہے اور یہ تیرے لئے کافر ہے۔ عمیا وبکما وصما حضرت ابن عباس اور حسن ؓ نے کہا ہے : یعنی وہ اندھے ہوں گے اس چیز سے جو انہیں خوش کرسکتی ہے، کوئی حجت اور دلیل بیان کرنے سے گونگے ہوں گے، اور اس شے سے بہرے ہوں گے جو انہیں نفع دے سکتی ہے : اس قول کی بناء پر ان کے حواس اپنی اس حالت پر باقی رہیں گے جس پر وہ پہلے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک انہیں اسی صفت اور کیفیت پر اٹھایا جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بیان کی ہے، تاکہ اس سے ان کے عذاب میں اضافہ ہو، پھر ان کے لئے وہ جہنم میں پیدا کر دئیے جائیں گے، پس وہ دیکھنے لگیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ورا المجرمون النار۔۔۔۔ مواقعوھا (الکہف : 53) (اور دیکھیں گے مجرم (جہنم کی) آگ کو اور وہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں) ۔ اور گفتگو بھی کرنے لگیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : دعوا ھنالک ثبورا۔ (الفرقان) ( تو پکاریں گے وہاں موت کو) ۔ اور سننے لگیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سمعوا لھا تغیظا وزفیرا۔ (الفرقان) (تو وہ سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا) ۔ اور مقاتل بن سلیمان نے کہا ہے : جب ان کو کہا جائے گا : اخسوا فیھا ولا تکلمون۔ (المومنون) (پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اس میں اور مت بولو میرے ساتھ) ۔ تو وہ اندھے ہوجائیں گے دیکھ نہیں سکیں گے، بہرے ہوجائیں گے کچھ سنیں گے نہیں، گونگے ہوجائیں گے کچھ سمجھ نہیں سکیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اندھے ہوجائیں گے جس وقت وہ جہنم میں داخل ہوں گے اس کی سیاہی کی شدت کی وجہ سے، اور ان کا بولنا ختم ہوجائے گا جس وقت انہیں کہا جائے گا : اخسوا فیھا ولا تکلمون۔ (المومنون) اور زفیر اور شہیق ان کے سننے کی قوت ختم کر دے گی اور پھر وہ کوئی شے نہ سن سکیں گے۔
ماوھم جھنم یعنی ان کا ٹھکانا اور ان کا مقام جہنم ہے۔ کلما خبت جب بھی آگ ساکن (سرد) ہونے لگے گی ؛ یہ حضرت ضحاک وغیرہ سے مروی ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : جب آگ بجھنے لگے لگی۔ کہا جاتا ہے : خبت النار تخبو خبوا أی طفئت (آگ بجھ گئی) ، واخبی تھا أنا (اور میں نے اسے بجھا دیا) زدنھم سعیرا (تو ہم ان کے لئے اس کی آنچ کو بڑھا دیں گے) یعنی وہ آگ شعلے مارنے لگے گی۔ اور اس کے شعلوں کا ساکن ہونا، کم ہونا ان کی اذیت اور درد میں کمی کے بغیر ہوگا اور اس سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب آگ سرد ہونے کے قریب ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : فاذا قرات القرآن (النحل : 98) (اور جب تو قرآن کریم پڑھنے کا ارادہ کرے) ، (تو اسی طرح جب وہ آگ سرد ہونے کا ارادہ کرے گی تو اسے اور بڑھا دیا جائے گا) ۔
Ayahs 17:98–99آیت نمبر 98 تا 99
قولہ تعالیٰ : ذلک جزا آؤھم بانھم کفروا بایتنا یعنی وہ عذاب ان کے کفر کی جزا ہے۔ وقالواء اذا کنا عظاما و رفاتاء (کیا جب ہم ہڈیاں اور) مٹی ہوجائیں گے۔ انا لمبعوثون خلقا جدیدا پس انہوں نے دوبارہ اٹھائے جانے (زندہ کئے جانے) کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا اور فرمایا : اولم یروا ان اللہ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ کہا گیا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، ای أولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والأرض، وجعل لھم أجلا لا ریب دیہ قادر علی أن یخلق مثلھم (کیا انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اور اس نے ان کے لئے ایک میعاد مقرر فرما دی ہے جس میں میں ذرا شک نہیں وہ ان کی مثل پیدا کرنے پر بھی قادر ہے) ۔ اور الأجل سے مراد دنیا میں ان کے قیام کی مدت اور پھر ان کی موت ہے، اور یہ وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں کیونکہ اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ان کے اس قول کا جواب ہے : او تسقط المسآء کما زعمت علینا کسفا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قیامت کا دن ہے۔ فابی الظلمون الا کفورا یعنی مشرکوں نے انکار کردیا (اللہ تعالیٰ کی قدرت کا) سوائے اس مدت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے کے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ مقررہ مدت وہی اٹھائے جانے کا وقت ہے، اور اس میں شک نہیں کیا جانا چاہئے۔
Ayah 17:100آیت نمبر 100
قولہ تعالیٰ : قل لو انتم۔۔۔۔ ربی یعنی اگر تم رزق کے خزانوں کے مالک ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اگر تم نعمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے، اور یہ اعم ہے۔ اذا لا مسکتم خشیۃ الانفاق تو تم بخل کے سبب ضرور ہاتھ روک لیتے، اور یہ ان کے اس قول کا جواب ہے : لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا۔ (الاسراء) یہاں تک کہ ہم معیشت میں خوشحال اور وسیع ہوجائیں، یعنی اگر تم خوشحال ہوجائیں، یعنی اگر تم خوشحال ہو بھی جاؤ تب بھی ضرور بخل کرو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر مخلوق میں سے کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک بن جائے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے سخاوت کرنے کی طرح ان کے ساتھ سخاوت نہ کرے ؛ اسکی دو وجہیں ہیں : ایک یہ ہے۔۔ کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سے اپنے خرچ اور اپنی منفعت کے حصول کے لیے ہاتھ روک لے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اسے فقر و افلاس کا خوف ہو اور ختم ہونے کا ڈر لا حق ہوجائے (لہٰذا وہ ہاتھ روک لے) ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وجود میں ان دونوں حالتوں سے بلند اور اعلیٰ ہے۔ اور اس آیت میں انفاق بمعنی فقر ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے۔ اور اہل لغت نے انفق، أصرم، أعدم اور اقتر سبھی کو مال کم ہونے کے معنی میں بیان کیا ہے۔ وکان الانسان قتورا۔ اور واقعی انسان بخیل اور تنگ دل ہے۔ کہا جاتا ہے : قتر علی عیالہ یقتر ویقتر قترا وقتورا جب آدمی اہل و عیال پر نفقہ (خرچہ) تنگ کر دے (تو مذکورہ جملہ کہا جاتا ہے) ، اور اسی طرح التقتیر اور الأقتار ہیں، اور یہ تینوں لغات ہیں۔ اور اس آیت کے بارے میں دو مختلف قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ صرف مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؛ یہ حسن نے کہا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ عام ہے، اور یہ جمہور کا قول ہے ؛ اور اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
Ayah 17:101آیت نمبر 101
قولہ تعالیٰ : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایٹ بینت ان آیات میں اختلاف ہے، پس یہ کہا گیا ہے کہ یہ کتاب کی آیات کے معنی میں ہیں، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے صفوان بن عسال مرادی سے روایت کیا ہے کہ وہ یہودی تھے ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی کو کہا : ہمارے ساتھ چلو اس نبی کے پاس ہم اس سے کچھ سوال کرتے ہیں، تو اس نے کہا : تو اسے نبی نہ کہہ کیونکہ اگر اس نے ہمیں سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی (یعنی وہ بہت زیادہ خوش ہوجائے گا) ، پس وہ دونوں حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ سے اس قول باری تعالیٰ کے بارے پوچھا : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نہ زنا کرو، حق کے سوا کسی ایسے نفس کو قتل نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، اور کسی بری الذمہ آدمی کو حاکم کی طرف لے کر نہ چلو کہ وہ اسے قتل کر دے، سود نہ کھاؤ، کسی پاکدامن عورت پر تہمت اور بہتان نہ لگاؤ اور میدان جہاد میں لشکر سے نہ بھاگو۔۔۔ شعبہ کو شک ہے۔۔ اے گروہ یہود ! تم پر خاص طور پر یہ لازم ہے کہ ہفتہ کے دن حد سے تجاوز نہ کرو “۔ پس ان دونوں نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں کو بو سے دئیے اور کہا : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ فرمایا : ” کون سی چیز تم دونوں کو روک رہی ہے کہ تم اسلام لے آؤ “۔ ان دونوں نے کہا : بیشک حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں مسلسل نبی رہے اور بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم اسلام لے آئے تو یہودی ہمیں قتل کردیں گے۔ ابو عیسیٰ نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیات سے مراد معجزات اور دلائل ہیں۔ حضرت ابن عباس اور ضحاک نے کہا ہے : تو نشانیاں یہ ہیں عصا مبارک، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، لسان، سمندر، طوفان، مکڑمی، قمل (جوئیں) مینڈک اور خون ؛ یہ مفصل علامات اور نشانیاں ہیں۔ حسن اور شعبی نے کہا ہے : پانچ سورة الاعراف میں مذکور ہیں، یعنی طوفان اور جو اس پر معطوف ہے، یدبیضاء، عصا، قحط سالی اور پھلوں میں نقصان اور کمی۔ اور اسی طرح حسن سے مروی ہے، مگر یہ قحط سالی اور پھلوں میں کمی کو ایک بناتے ہیں، اور نویں علامت عصا مبارک کا پھینکی جانے والی رسیوں کو (جھوٹ کے سانپ) جلدی سے نگل جانے کو قرار دیتے ہیں، اور اسی طرح امام مالک (رح) سے منقول ہے، مگر یہ کہ انہوں نے قحط سالی اور پھلوں میں نقصان کی جگہ سمندر اور پہاڑ کو رکھا ہے۔ اور محمد بن کعب نے کہا ہے : یہ وہی پانچ ہیں جو سورة الاعراف میں ہیں اور سمندر، عصا، پتھر اور ان کے مالوں کو مٹا دینا۔ ان آیات کی مکمل شرح پہلے گزر چکی ہے والحمد للہ۔
فسئل بنی اسرائیل اذ جآءھم یعنی اے محمد ! آپ ان سے پوچھئے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان نشانیوں اور علامات کے ساتھ ان کے پاس آئے، جیسا کہ اس کا بیان سورة یونس میں گزر چکا ہے۔ اور یہ سوال برائے استفہام ہے تاکہ یہودی اس کی صحت کو جان لیں جو کچھ حضرت محمد ﷺ کہہ رہے ہیں۔ فقال لہ فرعون انی لا ظنک یموسی مسحورا یعنی آپ تو اپنے افعال کی ندرت اور غرابت کے ساتھ جادو کرنے والے ہیں، یہ فراء اور ابو عبیدہ نے کہا ہے۔ پس اس میں مفعول کو فاعل کی جگہ رکھا گیا ہے، جیسے تو کہتا ہے : ھذا مشئوم ومیمون، ای شائم ویامن (یہ نحوست ڈالنے والا، اور یہ مبارک بنانے والا ہے) ، (یعنی اس میں مفعول کو فاعل کی جگہ رکھا گیا ہے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی مخدوعا (جس کو دھوکہ دیا گیا ہو) ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ بمعنی مغلوبا ہے (جس پر غلبہ پالیا گیا ہو) ؛ یہ مقاتل نے کہا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ اور ابو نہیک سے روایت ہے کہ ان دونوں نے اسے : فسال بنی اسرائیل خبر کی صورت میں پڑھا ہے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور ان کا راستہ چھوڑ دے اور وہ انہیں آپ کے ساتھ بھیج دے۔
Ayah 17:102آیت نمبر 102
قولہ تعالیٰ : قال لقد علمت ما انزل ھؤلاء یعنی اے فرعون ! تو ان نو نشانیوں کو خوب جانتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کیا ہے۔ اس میں انزل بمعنی أرجد (ایجاد کرنا) ہے۔ الا رب السموت والارض بصآئر یعنی یہ ایسی دلالات ہیں جن سے اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اور قرأت عامہ علمت تا کے فتحہ کے ساتھ ہے، اور یہ خطاب فرعون کو ہے۔ اور کسائی نے تا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہ حجرت علی بن ابی طالب ؓ کی قرأت ہے، اور فرمایا : قسم بخدا : اللہ تعالیٰ کے دشمن نے نہیں جانا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) وہ ہیں جنہیں اس کا علم ہوا، پس یہ خبر حضرت ابن عباس ؓ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا : بلاشبہ یہ لقد علمت ہے، اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کیا ہے : وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا (النمل : 14) (اور انہوں نے انکار کردیا ان کا حالانکہ یقین کرلیا تھا ان کی صداقت کا ان کے دلوں نے (ان کا انکار) محض ظلم اور تکبر کے باعث تھا) ۔ اور فرعون کی نسبت عناد اور سرکشی کی طرف کی۔ اور ابو عبید نے کہا ہے : اس سے جو معنی لیا گیا ہے ہمارے نزدیک اس میں تا کا فتحہ ہے، اور وہی اصح ہے اس معنی کی وجہ سے جس سے حضرت ابن عباس ؓ نے استدلال کیا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے قول علمت انا کے ساتھ استدلال نہیں کرتے، اور آپ تو دعوت دینے والے رسول ہیں، اس تمام کے باوجود اگر یہ قرأت حضرت علی ؓ سے صحیح ہوتی تو یقیناً حجت ہوتی، لیکن یہ آپ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ تو کلثوم مرادی سے مروی ہے اور وہ مجہول ہے اس کی کوئی پہچان نہیں ہے، اور ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے کسائی کے بغیر اس طرح پڑھا ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان معجزات کے بارے جاننے کی نسبت فرعون کی طرف کی ہے) کیونکہ فرعون اس مقدار کو جانتا تھا جس کا کرنا جادو گروں کے لئے ممکن تھا، اور اس کی مثل جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا کسی جادوگر کیلئے ممکن نہیں، اور یہ کہ کوئی اس کے کونے پر قدرت نہیں رکھتا مگر وہی جو اجسام بناتا ہے اور آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اور حضرت مجاہد نے کہا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پا سایک سرد اور ٹھنڈے دن میں داخل ہوئے اور وہ اپنے اوپر چادر اوڑھے ہوئے تھا، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا مبارک ڈال دیا تو وہ اژدھا بن گیا، پس فرعون نے گھر کی دونوں اطراف کو اسکے جبڑوں کے درمیان دیکھا، تو وہ خوفزدہ ہوگیا اور اپنی چادر میں داخل ہوگیا۔ (الفقم ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی جبڑا ہے، اور حدیث میں ہے من حفظ ما بین فقمیہ (یعنی جس نے اس کی حفاظت کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے (مراد زبان ہے) وانی لا ظنک یفرعون مثبورا۔ یہاں ظن بمعنی تحقیق ہے اور الثبور کا معنی ہلاکت اور خسران (نقصان اٹھانا) بھی ہے۔ کمیت نے کہا ہے :
ورأت قضاعۃ فی الأیا من رأی مثبور وثابر
ای مخسور و خاسر (یعنی جس کو خسارہ دیا گیا اور نقصان اٹھانے والا) یعنی یمن کی طرف اپنی نسبت کرنے میں (خسارے میں ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ملعون (جس پر لعنت کی گئی ہو) ہے۔ اسے منہال نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور یہ أبان بن تغلب نے کہا ہے۔ اور یہ شعر بھی کہا ہے :
یا قومنا لا تروموا حربنا سفھا ان السفاہ وإن البغی مثبور
اس میں مثبور بمعنی ملعون ہے۔ اور میمون بن مہران نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : کہ مثبورا سے مراد ناقص العقل ہے۔ اور مامون نے ایک آدمی کو دیکھا اور اس کو کہا : اے مثیور ! تو اس سے اس بارے پوچھا گیا، اس نے جواب دیا : رشید نے کہا ہے کہ منصور نے ایک آدمی کو کہا : مثبور، تو میں نے اس سے اس کے بارے پوچھا تو اس نے کہا : مجھے میمون بن مہران نے بیان کیا ہے اور اس نے اس کا ذکر کیا۔ اور حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ” ہلاک کیا گیا “ ہے۔ اوقر الثبور کا معنی ہلاکت ہے، کہا جاتا ہے : ثبر اللہ العدو ثبورا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ہلاک کردیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے جس کو خیر سے روک دیا جائے۔ اہل لغت نے بیان کیا ہے : ما ثبرک عن کذا یعنی تجھے اس سے کس نے منع کیا ہے۔ اور ثبرہ اللہ ثبرہ (ویثبرہ یہ دونوں لغتیں ہیں) ۔ ابن الزبعری نے کہا ہے :
اذ أجاری الشیطان فی سنن الغی ومن مال میلہ مثبور
حضرت ضحاک نے کہا ہے : مثبورا بمعنی مسحوراً (جس پر جادو کردیا گیا ہو) ہے۔ اختلاف الفاظ کے ساتھ اس کی مثل جو کسی نے کہا یہ اس کا جواب ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے : مثبورا اس کا معنی مخبول ہے جس کی کوئی عقل نہ ہو۔
Ayahs 17:103–104آیت نمبر 103 تا 104
قولہ تعالیٰ : فاراد ان یستفزھم من الارض یعنی فرعون نے ارادہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو مصر کی زمین سے نکال دے یا قتل کرکے یا وہاں سے دور نکال کر، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کردیا۔ وقلنا من بعدہ اور ہم نے حکم دیا اسے غرق کرنے کے بعد۔ لبنی اسراء یل اسکنوا الارض بنی اسرائیل کو کہ تم شام اور مصر کی زمین میں آباد ہوجاؤ۔ فاذا جآء وعد الاخرۃ پس جب قیامت کا وعدہ آئے گا۔ جئنابکم لفیفا تو ہم تمہیں تمہاری قبروں سے لے آئیں گے اس حال میں کہ ہر جگہ سے اکٹھے ہوگے، تحقیق مومن کافر کے ساتھ مل جائے گا اور ایک دوسرے کی پہچان نہیں کرسکیں گے، اور تم میں سے کوئی بھی اپنے قبیلہ اور اپنے محلہ کی طرف مائل نہ ہوگا۔ اور حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : ہم مختلف جہتوں سے تمہیں اکٹھا کرکے لے آئیں گے۔ دونوں معنی ایک ہی ہیں۔ جوہری نے کہا ہے : اللفیف سے مرا دلوگوں کا متفرق قبائل سے اکٹھا اور جمع ہونا ہے ؛ کہا جاتا ہے : جاء القوم بلفھم ولفیفھم، یعنی قوم مل جل کر آئی۔ اور قول باری تعالیٰ : جئنابکم لفیفا یعنی ہم تمہیں اکٹھا کر کے اور ملا جلا کرلے آئیں گے۔ اور طعام لفیف جب کھانا دو یا زیادہ جنسوں سے ملا جلا اور مخلوط ہو۔ اور فلان لفیف فلان یعنی فلاں فلاں کا دوست ہے۔ اصمعی نے کہا ہے : اللفیف جمع ہے اور اس کی واحد نہیں ہے، اور یہ جمیع کی مثل ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ انہیں قبروں سے اٹھاتے وقت منتشر مکڑیوں کی طرح نکالا جائے گا، درآنحالیکہ وہ اس طرح ملے جلے ہوں گے کہ ایک دوسرے کی پہچان نہیں کرسکیں گے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : فاذا جآء وعد الاخرۃ یعنی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان سے اترنے کا وقت آجائے گا۔
Ayah 17:105آیت نمبر 105
قولہ تعالیٰ : وبالحق انزلنہ وبالحق نزل یہ آیت سابقہ معجزات اور قرآن کے ذکر کے ساتھ متصل ہے۔ اور ضمیر قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : وبالحق نزل میں تکرار کی وجہ یہ ہے کہ یہ ممکن ہے پہلے کا معنی ہو، ہم نے اسے حق کے ساتھ اتار نے کو واجب کیا ہے۔ اور دوسرے کا معنی ہو : اور یہ نازل ہوا اور اس میں حق ہے، جیسا کہ یہ قول ہے : خرج بثیابہ (فلاں اپنے کپڑوں کے ساتھ نکلا) یعنی وعلیہ ثیابہ (اور اس پر اس کے کپڑے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : پہلے وبالحق میں با بمعنی مع ہے یعنی حق کے ساتھ، جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : رکب الامیر بسیفہ ای مع سیفہ (حاکم اپنی تلوار سمیت سوار ہوا) وبالحق نزل ای بمحمد ﷺ یعنی آپ ﷺ پر اترا، جیسا کہ تو کہتا ہے : نزلت بزید (میں زید کے پاس اترا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی ہو وبالحق قدرنا أن ینزل (حق کے ساتھ ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ نازل ہو) ، اور اسی طرح نزل بھی ہے۔
Ayah 17:106آیت نمبر 106
قولہ تعالیٰ : وقرانا فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث سیبویہ کا مذہب ہے کہ قرانا فعل مضمر کے ساتھ منصوب ہے جس کی تفسیر ظاہر فعل کر رہا ہے۔ اور جمہور لوگوں نے فرقنہ را کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور اس کا معنی ہے ہم نے اسے بیان کیا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے، اور ہم نے اس میں حق اور باطل کے درمیان فرق کیا ہے ؛ یہ حسن نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : ہم نے اسے مفصل بیان کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابی ابن کعب، حضرت قتادہ، ابو رجاء، اور شعبی ؓ نے فرقناہ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا نہ کہ یکبارگی، مگر حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں اور حضرت ابی ؓ کی قرأت میں فرقناہ علیک ہے۔ اور اس میں اختلاف ہے کہ قرآن کریم کتنی مدت میں نازل ہوا، پس کہا گیا ہے کہ پچیس برس میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تیئس برس میں۔ حضرت انس ؓ نے کہا ہے : بیس برس میں نازل ہوا۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کی عمر میں اختلاف کی وجہ سے ہے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ آسمان دنیا کی جانب سارا ایک ہی بار نازل ہوا۔ اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
علی مکث یعنی طویل مدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت کے مطابق یہ قرآن ترتیب وار نازل ہوتا رہا یعنی ہم نے اسے ایک ایک آیت کرکے اور ایک ایک سورت کرکے نازل کیا۔ اور رہا پہلا قول تو اس کے مطابق علیٰ مکث کا معنی ہوگا تلاوت اور ترتیل میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ؛ یہ حضرت مجاہد، حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جریج (رح) کا قول ہے۔ پس قاری کو چاہئے کہ وہ قرأت میں اس کا حق ادا کرے اس طرح کہ وہ اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور حسن آواز کے ساتھ بغیر تلحین اور ایسی سر اور ترنم کے جو زیادتی یا کمی کے ساتھ قرآن کے الفاظ کو تبدیل کر دے کیونکہ یہ حرام ہے جیسا کہ کتاب کے شروع میں گزر چکا ہے، جہاں تک ممکن ہو وہ اسے حسین اور عمدہ بنائے۔ اور قراء نے ابن محیصن کے بغیر مکث میں میم کے ضمہ پر اجماع کیا ہے اور ابن محیصن نے میم پر فتحہ پڑھا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : مکث و مکث اور مکث ؛ یہ تینوں لغات ہیں۔ امام مالک (رح) نے کہا ہے : علی مکث یعنی خوب مثبت اور ٹھہراؤ کے ساتھ۔ قولہ تعالیٰ : ونزلنہ تنزیلا یہ مصدر کے ساتھ سابقہ معنی میں مبالغہ اور تاکید پیدا کرنا ہے، یعنی ہم نے اسے یکے بعد دیگرے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا، اگر وہ تمام فرائض کو ایک ہی وقت میں لے لیتے تو وہ یقیناً متنفر ہوجاتے اور بھاگ جاتے۔
Ayah 17:107آیت نمبر 107
قولہ تعالیٰ : قل امنوا بہ اولا تؤمنوا یعنی قرآن کریم کے ساتھ تم ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کیلئے بطور تبکیت اور تہدید ہے نہ کہ بطور تخییر ہے (یعنی یہ انہیں ایمان لانے یا نہ لانے کا اختیار نہیں دیا جا رہا بلکہ انہیں جھڑ کا جا رہا ہے) ۔ ان الذین اوتوا العلم من قبلہ بیشک وہ لوگ جنہیں قرآن کریم کے نازل ہونے اور حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے علم دیا گیا ہے، اور وہ اہل کتاب ایمان لانے والے ہیں ؛ یہ ابن جریج وغیرہ کا قول ہے۔ ابن جریج نے کہا ہے : اذا یتلی علیھم کا معنی ہے جب ان کی کتاب پڑھی جاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب قرآن کریم ان پر پڑھا جاتا ہے۔ یخرون للاذقان سجدا اور کہا گیا ہے : یہ اولاد و اسماعیل (علیہ السلام) میں سے ایک قوم ہے انہوں نے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کو مبعوث فرمایا، ان میں سے زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل ہیں۔ اور اس معنی کی بنا پر مراد وہ نہیں جنہیں کتاب دی گئی بلکہ مراد وہ ہیں جنہیں علم دین عطا کیا گیا۔ اور حسن نے کہا ہے : وہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا وہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بیشک یہ یہود کے کچھ لوگ تھے، اور قول باری تعالیٰ من قبلہ سے یہی ظاہر ہے۔ اذا یتلی علیھم حضرت مجاہد (رح) کے قول کے مطابق جب ان پر قرآن کریم پڑھا جاتا ہے۔ جب وہ اسے سنتے جو قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے تو وہ سجدہ میں گر جاتے اور کہتے : سبحن ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولا اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب وہ اپنی کتاب اور اس قرآن کی تلاوت کرتے جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے تو وہ خشوع کرتے، سجدے کرتے اور تسبیح بیان کرتے، اور کہتے : یہ وہی ہے جو تورات میں مذکور ہے، اور یہی اس کی صفت اور انداز ہے، اور لامحالہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ واقع اور پورا ہونے والا ہے، اور وہ اسلام کی طرف مائل ہوگئے، پس انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : الذین اوتوا العلم من قبلہ سے مراد حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، اور قبلہ کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے جیسا کہ قل امنوا بہ میں ضمیر قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : دونوں ضمیریں حضور نبی کریم ﷺ کے لئے ہیں، اور نئے سرے سے قرآن کریم کا ذکر اس قول باری تعالیٰ میں ہے : اذا یتلی علیھم۔
Ayah 17:108آیت نمبر 108
یہ سجود میں تسبیح کے جواز پر دلیل ہے۔ اور صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں کثرت سے یہ کہتے تھے : سبحانک اللھم (ربنا) وبحمدک اللھم اغفرلی (تیری ذات پاک ہے اے اللہ (اے ہمارے رب) اور حمد تیرے ہی لئے ہے اے اللہ ! میری مغفرت فرما) ۔
Ayah 17:109آیت نمبر 109
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ویخرون للاذقان یبکون یہ ان کی صفت کے بیان میں مبالغہ اور ان کی مدح ہے۔ اور ہر وہ آدمی جس کی پہچان علم کے ساتھ ہے اور اس نے اس سے کچھ حاصل کیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس مرتبہ پر فائز ہو، اور وہ قرآن کریم کے سماع کے وقت خشوع، تواضع اور عاجزی کا اظہار کرے۔ اور مسند دارمی ابو محمد میں تیمی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جسے علم عطا کیا گیا جس نے اسے نہ رلایا تو زیادہ لائق اور مناسب ہے کہ اسے علم عطا نہ ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی صفت یہ بیان فرمائی ہے، پھر یہی آیت تلاوت کی۔ اسے علامہ طبری نے بھی ذکر کیا ہے۔ اور الاذقان، ذقن کی جمع ہے، اور یہ دو جبڑوں کو مجتمع ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : الاذقان یہ ڈاڑھی سے عبارت ہے، یعنی وہ اسے سجدہ کی حالت میں زمین پر رکھ دیتے ہیں۔ اور یہ حددرجہ تواضع ہے۔ اور اس میں لام بمعنی علی ہے ؛ آپ کہتے ہیں : سقط لفیہ ای علی فیہ (وہ منہ کے بل گرا) ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : یخرون للاذقان سجدا یعنی وہ مونہوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اذقان (ٹھوڑیوں) کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ ٹھوڑی انسان کے منہ سے قریب تر شے ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : ٹھوڑی پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں ذقن سے مراد الوجہ (چہرہ) ہے، اور کبھی ایک شے کو اپنے مجاور (پڑوس والی شے) سے اور کل کو بعض کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے، پس کہا جاتا ہے : خر لوجھہ ساجدا (وہ اپنے چہرے کے بل سجدے میں گرگیا ) اگرچہ اس نے اپنے رخساروں اور اپنی آنکھوں پر سجدہ نہیں کیا۔ کیا تو اس قول کی طرف نہیں دیکھتا) ۔
فخر صریعا للیدین وللفم
تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے منہ اور ہاتھوں کے بل گر پڑا۔
مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : یبکون حالت نماز میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے کے جائز ہونے پر دلیل ہے، اور اللہ تعالیٰ کے دین میں اپنی معصیت پر رونے کے جواز پر دلیل ہے، اور یہ کہ یہ نہ نماز کو توڑتا ہے اور نہ اسے کوئی نقصان پہنچاتا ہے۔ حضرت ابن مبارک نے حماد بن سلمہ سے انہوں نے ثابت بنانی سے انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے اور انہوں نے اپنے باپ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کے سبب آپ کے پیٹ میں اس طرح کھولنے کی آواز آرہی تھی جیسے ہانڈی کے کھولنے کی آواز آتی ہے۔ اور ابو داؤد کی کتاب میں ہے : رونے کے سبب آپ کے سینے میں اس طرح کی آواز تھی جیسے چکی کی آواز ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 3: کر اہنے کے بارے میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے، پس امام مالک (رح) نے کہا ہے : کراہنا مریض کی نماز کو نہیں توڑتا، اور آپ نے صحت مند آدمی کے لئے کراہنا مکروہ قرار دیا ہے ؛ اور یہی ثوری (رح) نے کہا ہے۔ اور ابن الحکم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے : کھا نسنا، کراہنا اور پھونک مارنا نماز کو نہیں توڑتا۔ اور ابن القاسم نے کہا ہے : اسے توڑ دیتا ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اگر اس کے حروف ہوں جو سنے اور سمجھے جاسکتے ہوں تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : اگر اس کا کراہنا اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہو تو نماز نہیں ٹوٹے گی، اور اگر درد کی وجہ سے ہو تو نماز کو توڑ دیتا ہے۔ اور امام ابو یوسف (رح) سے روایت ہے کہ اس کی نماز ان تمام صورتوں میں مکمل ہے ؛ کیونکہ کوئی مریض اور ضعیف آدمی کر اہنے سے خالی نہیں ہوتا۔
مسئلہ نمبر 4: قولہ تعالیٰ : ویزیدھم خشوعا خشوع کے بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے اور مزید آگے آئے گی۔