Ayah 17:7آیت نمبر 7
قولہ تعالیٰ : ان احسنتم احسنتم لانفسکم یعنی اگر تم اچھے کام کرو گے تو تمہاری نیکی اور اچھے کام کا نفع تم پر ہی لوٹ کر آئے گا۔ وان اساتم فلھا ای فعلیھا۔ اور اگر تم برائی کروگے تو اس کی سزا بھی تمہیں پر ہوگی، جیسا کہ سلام لک بمعنی سلام علیک ہے (یعنی تجھ پر سلام ہو) ۔ کسی شاعر کا قول ہے :
فخر صریعا للیدین و للفم
اس میں بھی لام بمعنی علی ہے (یعنی وہ ہاتھوں اور منہ کے بل پر گرا) ۔ اور طبری نے کہا ہے : لام بمعنی الی ہے، یعنی وان اسأتم فإلیھا، یعنی اگر تم برائی کروگے تو اسی (نفس) کی طرف برائی کی سزا لوٹے گی) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : بان ربک اوحٰی لھا۔ (الزلزال) اس میں بھی لھا بمعنی إلیھا ہے (بےشک تیرے رب نے اس کی طرف وحی کی۔ ) اور کہا گیا ہے : فلھا الجزاء والعقاب۔ پس اسی کے لئے جزا اور سزا ہوگی۔ اور حسین بن فضل نے کہا ہے : فلھا رب یغفر الاساءۃ۔ (پس اس کے لئے رب ہے جو برائی کو معاف فرماسکتا ہے) ۔ پھر یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب پہلی بار میں بنی اسرائیل کو ہو، یعنی تم نے برے عمل کئے تو تمہیں قتل کتنا، اور تباہ وبرباد کرنا حلال ہوگیا بعد ازان تم نے اچھے عمل کئے تو بادشاہی، بلندی اور انتظام حال تمہاری طرف لوٹ آئے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے ساتھ حضور نبی مکرم ﷺ کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ہو، یعنی تم نے گناہوں کی وجہ سے سزا کیلیے اپنے اسلاف کا استحقاق پہچان لیا ہے پس تم بھی اسی کی مثل کا انتظام کرویا یہ اسی وجہ کی بنا پر مشرکین قریش کو خطاب ہو
فاذاجآء وعدالاٰخرۃ پس جب تمہارے فساد پھیلانے کے بارے دوسرا وعدہ آگیا : اور وہ یہ کہ انہوں نے دوسری مرتبہ حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو قتل کردیا، انہیں بنی اسرائیل کے بادشاہ نے قتل کیا تھا اس کو لاخت کہا جاتا تھا : یہ قتبی نے کہا ہے۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : اس کا نام ہیردوس تھا، اسے انہوں نے تاریخ میں ذکر کیا ہے۔ اور ایک آزبیل نامی عورت نے اسے آپ کے قتل پر ابھارا تھا۔ اور علامہ سدی نے کہا ہے : بنی اسرائیل کا بادشاہ حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کی بڑی عزت و تکریم کرتا تھا اور وہ معاملات میں آپ سے مشاورت کرتا تھا، پس بادشاہ نے آپ سے یہ مشورہ طلب کیا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے تو آپ نے اسے اس سے منع کردیا اور فرمایا : بلاشبہ وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے، پس اس کی ماں کے دل میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے حقد اور عداوت پیدا ہوگئی، پھر اس نے اپنی بیٹی کو باریک سرخ کپڑے پہنائے اور اسے خوب معطر کیا اور اسے خوب معطر کیا اور اسے بادشاہ کی طرف بھیج دیا اس حال میں کہ وہ شراب میں مست تھا۔ اور اس نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے چھیڑ چھاڑ کرے، اور اگر وہ اس کی طرف متوجہ ہو تو وہ انکار کردے یہاں تک کہ وہ اسے وہ کچھ عطا کرے جو وہ اس سے مانگتی ہے، اور جب اسے قبول کرلے تو پھر وہ اس سے مطالبہ کرے کہ یحییٰ بن زکریا کا سرسونے کی ٹرے میں رکھ کر لایا جائے، پس اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ وہ حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کا سر لے آیا اور سر گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ جب وہ اس کے سامنے رکھا گیا تو وہ کہہ رہا تھا : لاتحل لک، لاتحل لک (یہ تیرے لئے حلال نہیں ہے، یہ تیرے لئے حلال نہیں ہے) پس جب صبح ہوئی تو ان کا خون ابھی کھول رہا تھا، پس اس نے اس پر مٹی ڈالی تو وہ پھر اس سے زیادہ کھولنے لگا، پس وہ مسلسل اس پر مٹی ڈالتا رہا یہاں تک کہ وہ شہر کی فصیل تک پہنچ گیا اور وہ اس میں بھی کھولتا رہا : اسے ثعلبی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔
اور حافظ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت حسین بن علی سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ ان بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ مرگیا اور اس نے اپنی بیوی اور ایک بیٹی پیچھے چھوڑی اور اس کی سلطنت کا وارث اس کے بھائی کو بنایا گیا، تو اس نے اپنے بھائی کی بیوی سے شادی کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے اس بارے میں حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) سے مشاروت کی، اس زمانے میں بادشاہ انبیاء (علیہم السلام) کے حکم کے مطابق عمل کرتے تھے، تو آپ نے اسے کہا : تو اس سے شادی نہ کر کیونکہ وہ فاحشہ عورت ہے، پس اس عورت کو بتادیا گیا کہ اس کا ذکر کیا ہے اور آپ نے اسے اس سے پھیر دیا ہے، تو اس عورت نے پوچھا : یہ کہاں سے ہوا ہے ؟ یہاں تک کہ اس تک یہ خبر پہنچ گئی کہ یہ یحییٰ کی جانب سے ہوا ہے، تو اس نے کہا کہ یحییٰ کو ضرور قتل کیا جائے گا یا اسے اس ملک سے نکال دیا جائے گا، پس اس نے اپنی بیٹی کو بلایا اور اس کا خوب بناؤ سنگار کرکے اسے تیار کیا، پھر اسے کہا : تو اپنے چچا کے پاس مجلس کے وقت جا کیونکہ وہ جب تجھے دیکھے گا تو وہ تجھے بلائے گا اور تجھے اپنے حجرہ میں بٹھالے گا، اور وہ کہے گا : مجھ سے مانگ جو تو چاہتی ہے، کیونکہ جو شے بھی مجھ سے مانگے کی وہ میں تجھے عطا کروں گا، پس جب وہ تجھے یہ کہے، تو تو یہ کہنا : مجھے یحییٰ کے سر کے سوا کچھ نہیں چاہئے۔ راوی نے کہا : پس اس نے ایسا ہی کیا۔ اس نے کہا : یحییٰ کو قتل کرنے سے بھی اسے موت آئے گی اور اپنی سلطنت سے باہر نکلنے سے بھی اسے موت آئے گی، چناچہ اس نے اپنے ملک کو اختیار کیا اور آپ کو قتل کردیا۔ راوی نے بیان کیا : پس اس لڑکی کی ماں کو زمین نے اپنے اندر نگل لیا (یعنی وہ زمین میں دھنس گئی) ۔
ابن جدعان نے کہا ہے : میں نے یہ حدیث حضرت ابن مسیب (رح) کے پاس بیان کی تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کیسے قتل کئے گئے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، تو انہوں نے بیان کیا ؛ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بیٹے کو جس وقت قتل کیا گیا تو وہ ان سے بھاگ نکلے اور ان لوگوں نے ان کا تعاقب کیا یہاں تک کہ آپ ایک موٹے تنے والے درخت کے پاس پہنچ گئے تو اس نے آپ کو اپنی طرف بلایا اور آپ کو اپنے اندر چھپا لیا اور آپ کے کپڑے کا ایک کنارہ (جھالر) باہر رہ گئی ہوائیں اسے اڑانے لگیں، پس وہ بھی چلتے ہوئے اس درخت کے پاس آپہنچے اور انہوں نے اس درخت کے بعد آپ کا کوئی اثر اور نشان نہ پایا، اور انہوں نے اس کپڑے کے ٹکڑے کی طرف دیکھا اور پھر آری منگائی اور اس درخت کو کاٹ دیا اور اس کے ساتھ آپ کو بھی کاٹ دیا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : علامہ طبری نے ” التاریخ الکبیر “ میں بیان کیا ہے کہ ابوالسائب نے مجھے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے انہوں نے منہال سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) نے یحییٰ بن زکریا کو ان بارہ حواریوں میں بھیجا جو لوگوں کو تعلیم دیتے تھے، فرمایا : وہ چیزیں جن سے انہوں نے لوگوں کو منع کیا ان میں بھائی کی بیٹی سے نکاح بھی تھا، فرمایا : اور ان کے بادشاہ کے بھائی کی بیٹی تھی جو اس پسند تھی۔۔۔ آگے خبرمذکورہ خبر کے مثل ہی بیان کی۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو ان حواریوں میں بھیجا گیا جو لوگوں کو تعلیم دیتے تھے، اور جو وہ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اس میں وہ انہیں بھانجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کرتے تھے، اور ان کے بادشاہ کی بھانجی تھی وہ اسے چاہتی تھی، اور وہ ارادہ رکھتا تھا کہ اس سے شادی کرلے، ہر روز اس کی حاجت ہوتی تھی تو وہ اسے پورا کردیتا تھا، پس جب یہ خبر اس کی ماں کو پہنچی کہ انہوں نے بھانجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے تو اس نے اسے کہا : جب بادشاہ کے پاس جائے اور وہ پوچھے : کیا تیری کوئی حاجت ہے ؟ تو تو یہ کہنا : میری حاجت یہ ہے کہ یحییٰ بن زکریا کو ذبح کردے، پس بادشاہ نے اس سے کہا : تو اس کے سوا مجھ سے مانگ ! تو اس نے کہا : میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگتی۔ پس جب اس نے اس کا انکار کیا تو اس نے ایک ٹب منگایا اور آپ کو بھی بلایا اور آپ کو ذبح کردیا، پس آپ کے خون کا قطرہ زمین کے چہرے پر نمایاں ہوگیا پس وہ مسلسل ابلتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا اور ان کے دل میں یہ بات القا کعدی کہ وہ انہیں اسی خون پر قتل کرے یہاں تک کہ یہ خوب ساکن ہوجائے، پس اس نے اس پر ان میں سے ستر ہزار افراد قتل کئے، اور ایک روایت میں پچھتر ہزار کا ذکر ہے۔ حضرت سعید ابن مسیب ؓ نے بیان کیا ہے : یہ ہر نبی (علیہ السلام) کی دیت ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف وحی کی ہے کہ میں نے حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے بدلے ستر ہزار افراد کو قتل کیا، اور میں تمہارے تو اسے کے بدلے ستر ہزار کو قتل کروں گا۔ اور سمیر بن عطیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہے : وہ چٹان جو بیت المقدس میں ہے اس پر ستر انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا گیا ان میں سے حضرت یحییٰ بن زکریا بھی ہیں۔ اور زید بن واقد سے روایت ہے انہوں نے کہا : میں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے سر کو اس وقت دیکھا جب انہوں نے مسجد دمشق بنانے کا ارادہ کیا، وہ اس گنبد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے نیچے سے نکلا جو اس محراب کے ساتھ ملتا ہے جو مشرق کی جانب ملتا ہے، اور آپ کا چہرہ اور بال مبارک اپنی اصلی حالت پر تھے کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی تھی۔ اور قرہ بن خالد نے کہا ہے : حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) اور حضرت امام حسین بن علی ؓ کے سوا آسمان کسی پر نہیں رویا اور اس کی سرخی اس کا رونا ہی ہے۔ اور حضرت سفیان بن عینیہ نے کہا ہے : تین مقامات میں ابن آدم زیادہ وحشت زدہ ہوتا ہے : ایک پیدا ہونے کے دن پس وہ غم واندوہ کے دار کی طرف نکل کر آتا ہے، اور ایک اس رات جو وہ مردوں کے ساتھ گزارتا ہے ہو ایسے پڑوسیوں کا پڑوسی بن جاتا ہے جن کی مثل اس نے پہلے نہیں دیکھے، اور ایک اس دن جب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور وہ اس جگہ حاضر ہوگا جس کی مثل اس نے پہلے نہیں دیکھی : اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے لئے ان تینوں مقامات کے بارے فرمایا : وسلم علیہ یوم ولدویوم یموت ویوم یبعث حیا۔ (میریم) (اور سلامتی ہو ان پر جس روز وہ پیدا ہوئے اور جس روز وہ انتقال کریں گے اور جس روز انہیں اٹھایاجائے گا زندہ کرکے) یہ سب مذکورہ تاریخ سے لیا گیا ہے۔ اور اس کے بارے میں اختلاف ہے جسے ان پر دوسری بار بھیجا گیا، پس کہا گیا ہے کہ وہ بخت نصر تھا۔ اور یہ قشیری ابونصر نے کہا ہے، ان کے سوا کسی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ سہیلی نے کہا ہے : یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بعد قتل کیا گیا، اور بخت نصر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) سے بہت عرصہ پہلے اور اسکندر سے بھی پہلے ہوا ہے اور اسکندر اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تقریباً تین سو سال کا عرصہ ہے، لیکن دوسری بار سے مراد وہ لی گئی ہے جس وقت انہوں نے ئ حضرت شعیا کو قتل کیا تھا، اس وقت بخت نصر زندہ تھا، پس یہی وہ ہے جس نے انہیں قتل کیا اور بیت المقدس کو خراب اور برباد کیا اور مصر تک ان کا پیچھا کیا اور انہیں وہاں سے نکال دیا۔ اور ثعلبی (رح) نے کہا ہے : جس نے یہ روایت کیا ہے کہ بخت نصر وہ ہے جس نے بنی اسرائیل پر اس وقت حملہ کی اجس وقت انہوں نے حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا تھا وہ اہل السیر والا خبار کے نزدیک غلط ہے، کیونکہ ان تمام کا اس پر اجماع ہے کہ بخت نصر نے نبی اسرائیل پر اس وقت حملہ کیا تھا جس وقت انہوں نے حضرت شعیا (علیہ السلام) کو قتل کیا تھا اور یہ ارمیاء کے عہد میں ہوا تھا۔ انہوں نے بیان کیا : ارمیاء کے عہد اور بخت نصر کے بیت المقدس کو خراب وبرباد کرنے سے لے کر حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کی ولادت تک درمیان میں چار سواکسٹھ برس کی مدت ہے، اور یہ کہ وہ بیت المقدس کی تخریب سے لے کر کو سک کے عہد میں اس کی آبادی تک ستر برس کا عرصہ ہے، پھر اس کی آبادی کے بعد سے لے کر بیت المقدس پر اسکندر کے غلبہ تک اٹھاسی برس ہیں، پھر اسکندر کی مملکت کے بعد سے لے کر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت تک تین سوتریسٹھ سال ہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ سب علامہ طبری (رح) نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔ ثعلبی (رح) نے کہا ہے : اس
میں سے صحیح وہ ہے جو محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو
اٹھالیا اور انہوں نے یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا۔۔۔۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف باہل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ بھیجا اس کو خردوس کہا جاتا تھا۔ پس وہ اہل باہل کے ساتھ ان کی طرف چلا اور ان پر شام کے ساتھ غلبہ پالیا، پھر اس نے اپنے سالار لشکر کو کہا : میں نے اپنے الہ کی قسم کھائی ہوئی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بیت المقدس پر غلبہ دیا تو میں ضرور انہیں قتل کروں گا یہاں تک کہ ان کا خون سیرے لشکر کے درمیان سے بہے گا، اور اس نے اسے حکم دیا کہ وہ انہیں قتل کریں یہاں تک کہ وہ ان تک پہنچ جائے، پس وہ سالارلشکر بیت المقدس میں داخل ہوا تو اس نے اس میں ابلتا ہوا خون دیکھا تو اس نے ان سے اس کے بارے پوچھا تو انہوں نے بتایا : یہ قربانی کا خون ہے ہم نے اسے قربان کیا کین اسی برس سے یہ ہماری طرف سے قبول نہیں ہوئی۔ اس نے کہا : تم نے میرے سامنے سچ نہیں کہا، پس اس نے ان سرداروں میں سے سات سو ستر افراد کو اس خون پر ذبح کیا لیکن وہ پر سکون نہ ہوا، پھر ان کئ بچوں میں سے سات بچے لائے گئے اور وہ اس خون پر ذبح کئے گئے لیکن وہ پرسکون نہ ہوا پھر اس نے ان کے قیدیوں اور ان کی عورتوں میں سے سات ہزار لانے کا حکم دیا اور اس نے انہیں اس خون پر ذبح کیا لیکن وہ ٹھنڈا نہ ہوا، تب اس نے کہا : اے بنی اسرائیل ! مجھے سچ سچ بتاؤ اس سے پہلے کہ میں تم میں سے کوئی عورت آگ کو پھونک مارنے کے لئے بھی بہ چھوڑوں اور نہ کوئی مرد چھوڑوں مگر اسے قتل کردوں۔ پس جب انہوں نے مشقت اور تکلیف کو دیکھا تو کہنے لگے : بیشک یہ ہمارے نبی (علیہ السلام) کا خون ہے وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بننے والے بہت سے امور سے منع کرتے تھے تو ہم نے انہیں قتل کردیا، پس یہ انہی کا خون ہے، ان کا اسم گرامی حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) تھا، انہوں نے کبھی آنکھ جھپکنے کی دیر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ معصیت کا قصد کیا، تو اس نے تم نے مجھے سچ بیان کیا ہے، اور وہ سجدہ میں گرگیا پھر اس نے کہا : اب اس کی مثل کا تم سے انتقام لیا جائے گا، اور اس نے دروازے بند کرنے کا حکم دیا اور کہا : خردوس کے لشکر میں سے جو یہاں ہیں تم باہر نکل جاؤ، اور وہ بنی اسرائیل کے لئے خالی ہوگئی اس نے کہا : اے نبی اللہ ! اے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) تحقیق میرا اور آپ کا رب جانتا ہے آپ کی وجہ سے آپ کی قوم پر جو آفت اور مصیبت آئی، پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرسکون ہوجاؤ اس سے پہلے کہ میں ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑوں۔ پس حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کا خون اللہ عزوجل کے حکم سے ٹھنڈا ہوگیا، اور اس نے ان سے قتل کو اٹھا لیا اور کہا : اے میرے رب ! بلاشبہ میں اس کے ساتھ ایمان لایا جس کے ساتھ بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے رؤس الا نبی اء میں سے ایک رأس کی طرف وحی بھیجی۔ بیشک یہ سالار مومن ہے اور سچا ہے۔ پھر اس نے کہا : بت شک اللہ تعالیٰ کے دشمن خردوس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم میں سے اتنے لوگوں کو قتل کروں کہ تمہارا خون اس کے لشکر کے درمیان سے بہہ کرجائے۔ اور بلاشبہ میں اس کی نافرمانی اور حکم عدولی نہیں کرسکتا، پس اس نے انہیں حکم دیا کہ وہ خندق کھودیں اور انہیں اپنے مالوں میں سے اونٹ، گھوڑے، خچر، گدھے، گائیں اور بکریاں وغیرہ لانے کا حکم دیا پس انہوں نے انہیں ذبح کیا یہاں تک کہ خون لشکر کی طرف بہہ گیا، اور وہ مقتول جو اس سے پہلے قتل کئے گئے تھے انہیں ان ذبح کئے گئے جانوروں پر پھینک دیا گیا، پھر وہ ان سے باہل کی طرف لوٹ گیا، حالانکہ یہ قریب تھا
کہ وہ بنی اسرائیل کو تباہ وبرباد کردیتا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس باب میں طویل حدیث مرفوع موجود ہے حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے، ہم نے
اسے (کتاب التذکرہ) میں ابواب فی اخبار المہدی میں مقطوع ذکر کیا ہے، ہم اس میں سے یہاں اتنا ذکر کریں گے جو آیت کے معنی کی وضاحت کردے گا اور اس کی تفسیر بیان کردے گا یہاں تک کہ اس کے ساتھ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہوگی، حضرت حذیفہ ؓ نے بیان فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بیت المقدس اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی عظیم، عالیشان اور قدرو مرتبہ کے اعتبار سے عظیم الشان ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یہ ان اعلیٰ وارفع اور بلند مرتبہ گھروں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کے لئے سونے، چاندی، موتی، یاقوت اور زمرد سے بنایا۔ “ اور وہ اس طرح کہ حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے جب اسے بنایا تو اللہ تعالیٰ نے جب ان کے لئے مسخر کردیئے (ان کے تابع بنادیئے) پس وہ معاون (کانیں) سے سونا اور چاندی لے آتے تھے، اور وہ آپ کے پاس جواہر، یاقوت اور زمرد لے آتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے جن آپ کے تابع رکھے یہاں تک کہ انہوں نے ان اصناف سے اسے بنادیا۔ حضرت حذیفہ ؓ نئے بیان فرمایا : سو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ : یہ چیزیں بیت المقدس سے کیسے اٹھالی گئیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور انہوں نے انبیاء السلام کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا وہ مجوسی (آتش پرست) تھا اور اس کی حکومت سات سو سال تک رہی، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : فاذاجآء وعداولٰھما بعثنا علیکم عبادًالنآ اولی باس شدیدٍ فجا سوا خلٰل الدیار وکان وعدًا مفعولاً پس وہ بیت المقدس میں داخل ہوئے اور مردوں کو قتل کردیا اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا اور اموال اور وہ سب کچھ جو ان اصناف میں سے بیت المقدس میں تھا سب جمع کرلیا اور اسے ایک لاکھ ستر ہزار سامان لادنے والی گاڑیوں پر لاددیا یہاں تک کہ اسے بابل پہنچا دیا، پس وہ وہیں مقیم رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور فارس کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کو یہ القا کیا کہ وہ بابل کی زمین میں مجوسیوں کی طرف چلے، اور ان کے قبضے میں بنی اسرائیل میں سے جو ہیں انہیں نجات دلائے پس وہ بادشاہ ان کی طرف چل پڑا یہاں تک کہ وہ بابل کے علاقے میں داخل ہوگیا اور مجوسیوں کے ہاتھوں میں جو بنی اسرائیل کے لوگ باقی تھے انھیں چھڑایا اور وہ زیورات جو بیت المقدس سے وہ لے آئے تھے وہ بھی ان سے لے لئے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اسی مقام پر واپس لوٹا دیا جس پر وہ پہلے تھے پس اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : اے بنی اسرائیل اگر تم پھر گناہوں اور نافرمانی کی طرف لوٹ گئے تو ہم بھی قید اور قتل و غارت کو تم پر لوٹا دیں گے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : عسیٰ ربکم ان یرحمکم ۚوان عدتم عدنا (الاسراء :8) (قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم فسق وفجور کی طرف دوبارہ لوٹے تو ہم بھی لوٹیں گے) اور جب بنی اسرائیل بیت المقدس کی طرف لوٹ کر آئے تو دوبارہ گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کرنے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر شاہ روم قیصر کو مسلط کردیا، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول : فاذاجآء وعدالاٰخرۃ لیسوٓء اوجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃٍ ولیتبروا ماعلوا تتمیرًا۔ پس اس نے ان پر بحروبر میں حملہ کیا اور انہیں قیدی بنایا انہیں قتل کیا اور ان کے اموال اور ان کی عورتوں کو اٹھالیا، اور بیت المقدس کے جمیع زیوات بھی اٹھالئے اور انہیں ایک لاکھ ستر ہزار سامان والی گاڑیوں پر لادا، یہاں تک کہ انہیں کنیسۃ الذھب میں پہنچا دیا۔ پس وہ اب بھی اس میں ہیں حتیٰ کہ حضرت مہدی (علیہ السلام) اسے اٹھائیں گے اور اسے بیت المقدس کی طرف لوٹا دیں گے، اور ایک ہزار سات سو کشتیوں کو فا پر لنگر انداز کیا جائے گا یہاں تک کہ اسے بیت المقدس کی طرف منتقل کردیا جائے گا اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اولین وآخرین کو جمع کردے گا “۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔
قولہ تعالیٰ : فاذاجآء وعدالاٰخرۃ یعنی دونوں باریوں میں سے جب دوسرا وعدہ آگیا۔ اور اذا کا جواب محذوف ہے، تقدیر کلام ہے : بعثناھم (تو ہم نے ان پر مسلط کردیا) اور اس پر دلیل پہلا بعثنا ہے۔ لیسوٓء اوجوھکم تاکہ قید اور قتل کے ساتھ تمہارے چہروں کو غمناک بنادیں۔ اور اس غم کا اثر تمہارے چہروں میں ظاہر ہونے لگے۔ پس لیسوٓءا محذوف کے متعلق ہے، یعنی ہم نے ایسے بندے بھیج دیئے (مسلط کردیئے) تاکہ وہ تمہارے ساتھ ایسا برتاؤ اور سلوک کریں جو تمہارے چہروں کو سیاہ اور غمزدہ کردے۔ یہ بھی کہا گیا ہے : الوجوہ سے مراد سرداری ہے یعنی تاکہ وہ انہیں ذلیل ورسوا کردیں۔ اور کسائی نے لنسوء نون اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اپنے بارے میں خبر دینے والے کا فعل عظیم الشان ہے، اور یہ کہ اسے قول باری تعالیٰ : وقضینا اور بعثنا، رددنا پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہا ہے۔ اور اسی طرح علی سے مروی ہے۔ اور اس کی تصدیق حضرت ابی قرأت لنسؤن نون اور حرف تاکید کے ساتھ ہوتی ہے۔ ابوبکر، اعمش، ابن دثاب، حمزہ اور ابن عامر نے لیسوء صیغہ واحد کی بنا پر یاء اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کی دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے لیسؤ اللہ وجوھکم (تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کو غمناک بنادے۔ ) اور دوسری یہ ہے۔۔۔۔ لیسؤ الوعدوجوھکم (تاکہ وہ وعدہ تمہارے چہرون کو غمزدہ کردے) اور باقیوں نے لیسوء واصیغہ جمع کی بنا پر یا اور ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی تاکہ وہ لوگ جو کرخت اور قوت و طاقت والے ہیں تمہارے چہروں کو غمناک بنادیں۔ ولید خلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃٍ ولیتبروا اور تاکہ وہ (جبراً ) مسجد میں داخل ہوجائیں جیسے وہ پہلی بار اس میں داخل ہوئے تھے تاکہ وہ تباہ و برباد اور ہلاک کردیں۔ اور قطرب نے کہا ہے : تاکہ وہ اسے گرادیں۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
فما الناس إلا عاملان فعامل یتبر ما یبنی و آخر رافع
ماعلوا یعنی تمہارے شہروں میں سے جس پر وہ غالب آجائیں۔ تتبیرًا (مکمل طور پر تباہ و برباد کرنا)
Ayah 17:8آیت نمبر 8
قولہ تعالیٰ : عسٰی ربکم ان ہر حمکم اور یہ (خبر) ان میں سے ہے جس کے بارے انہیں ان کی کتاب میں خبر دی گئی ہے اور عسیٰ اللہ تعالیٰ لی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ ان سے (اس تکلیف اور غم کو) دور فرمادے گا، اور عسی کا لفظ اللہ تعالیٰ سے واجب (اور ثابت) ہونے کے معنی میں ہوتا ہے۔ ان ترحمکم کہ تیرا رب تم سے اپنا انتقام لینے کے بعد تم پر رحم فرمائے گا، اور پھر اسی طرح ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کو پڑھادیا اور ان سے کئی بادشاہ بنائے۔ وان عدتم عدنا حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے : پس وہ دربارہ (فسق وفجور کی طرف) لوٹ آئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کو غالب فرمادیا۔ اور وہ بڑی رذالت اور حقارت کے ساتھ جزیہ دینے لگے : اور یہ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ اور یہ اس کے خلاف ہے جو پہلے حدیث وغیرہ میں گزر چکا ہے۔ اور قشیری نے کہا ہے : تحقیق بنی اسرائیل پر عذاب اور سختی دوبارہ کفار کے ہاتھوں سے آئی اور ایک بار مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔ اور یہ اس وقت ہوا جب وہ دوبارہ فسق وفجور کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ (کی گرفت) بھی ان پر لوٹ آئی۔ اور اس بنا پر حضرت قتادہ کا قول صحیح لگتا ہے۔ وجعلنا جھنم للکٰفرین حصیرًا اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ اور جیل بنادیا ہے۔ یہ الحصر سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی حبس (قید کرنا) ہے۔ جوہری نے کہا ہے : کہا جاتا ہے حصرہ یحصرا اس نے اس پر تنگ کردیا اور اس کا احاطہ کرلیا۔ اور الحصیر : الضیق البخیل (سخت بخیل) اور الحصیر کا معنی الباریۃ (تراشیدہ) ہے۔ اور الضصیر سے مراد پہلو بھی ہے۔ اصمعی نے کہا ہے : وہ ہڈی جو اونٹ اور گھوڑے کے پہلو میں ظاہر ہوتی ہے اس سے لے کر عرضاً اوپر کی جانب پہلو کے ختم ہونے تک درمیان میں جو (گوشت) ہے وہ حصیر کہلاتا ہے۔ اور الحصیر سے مراد بادشاہ بھی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ لبید نے کہا ہے :
و قماقم غلب الرقاب کأنھم جن لدی باب الحصیر قیام
اس میں الحصیر سے مراد بادشاہ لیا گیا ہے۔ اور روایت کیا جاتا ہے : ومقامۃ غلب الرقاب۔۔۔۔ یہ اس بنا پر ہے کہ غلب، مقامۃ سے بدل ہو گویا کہ اس طرح کہا : ورب غلب الرقاب۔ اور ابوعبیدہ سے مروی ہے :
لدی طرف الحصیر
قیام یعنی نعمان بن مندز کی چٹائی کے کنارے کے پاس۔ اور الحصیر کا معنی قید خانہ بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وجعلنا جھنم للکٰفرین حصیرًا اور علامہ قشیری نے کہا ہے : جس کو بچھایا جاتا ہے وہ حصیر کہلاتی ہے، کیونکہ بنائی کے سبب اس کے بعض حصے بعض کو روکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور حسن نے کہا ہے : أی فراشاومھادا (یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنم کو کافروں کے لئے فرش اور بچھونا بنا دیا ہے) (یعنی) یہ اس طرف گئے ہیں کہ حصیر وہ ہے جسے بچھایا جاتا ہے، کیونکہ عرب چھوٹی چٹائی کو حصیر کا نام دیتے ہیں، ثعلبی نے کہا ہے : اور یہ خوبصورت توجیہ ہے۔
Ayahs 17:9–10آیت نمبر 9 تا 10
قولہ تعالیٰ : ان ھٰذا القراٰن یھدی للتی ھی اقوم جب اللہ تعالیٰ نے معراج کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ بنی اسرائیل کے بارے جو وعدہ اور فیصلہ کیا اس کا ذکر کیا، اور یہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ق کی نبوت پر دلیل ہے، پھر یہ بیان فرمایا کہ وہ کتاب جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی وہ ہدایت پانے کا سبب اور ذریعہ ہے۔ اور للتی ھی اقوم کا معنی ہے الطریقۃ التی ھی اسدوأعدل وأصوب۔ یعنی یہی وہ راہ ہے جو زیادہ سیدھی، موزوں اور صحیح ہے، پس التی موصوف محذوف کی صفت ہے یعنی الطریقۃ التی اقوم اور زجاج نے کہا ہے : یہی وہ حال ہے جو تمام حالات سے زیادہ صحیح اور موزوں ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسولوں کے ساتھ ایمان لانا ہے، اور یہ کلبی اور فراء نے کہا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ویبشر المؤمنین الذی یعملون الصلحٰت اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ ان لھم ای بان لھم (اعمال صالحہ کے سبب) ان کے لئے اجرًا کبیرًا (بڑا اجر ہے) یعنی جنت ہے۔ وان الذی الایؤمنون بالاٰخرۃ یعنی اور انہیں مثردہ سنارہا ہے کہ ان کے دشمنوں کے لئے عذاب و عقاب ہے۔ اور قرآن کریم اس کی شان اور عظمت وعدہ وعید ہے۔ اور
حمزہ اور کسائی نے ویشرومخفف یا کے فتحہ اور شین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے : اس کا ذکر بھی پہلے کردیا گیا ہے۔
Ayah 17:11آیت نمبر 11
قولہ تعالیٰ : ویدع الانسان بالشر دعآءہ بالخیر حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : یہ آدمی کا اپنی ذات اور اپنی اولاد کے خلاف غصے اور تنگی کی حالت میں دعا کرنا ہے ایسی شے کے بارے جس کے قبول ہونے کو وہ پسند نہیں کرتا کہ اے اللہ ! اسے ہلاک کردے وغیرہ دعآءہ بالخیرجیسا کہ وہ اپنے رب سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اس کو عافیت عطا فرمائے پس اگر اللہ تعالیٰ شر اور برائی کے بارے اس کی دعا اس کے اپنے خلاف قبول کرلے تو وہ ہلاک ہوجائے لیکن وہ اپنے فضل کے ساتھ اس کے لئے اسے قبول نہیں کرتا۔ اس کی نظیریہ ہے : ولو یعجل اللہ للناس الشراستعجالھم بالخیر (یونس :11) (اور اگر جلد بازی کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر پہنچانے میں کیسے وہ جلدبازی کرتے ہیں بھلائی کے لئے) اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ دعا مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا : اللھم ان کان ھٰذا الحق من عندک فامطر علینا حجارۃً من السمآء اوئتنا بعذاب الیم۔ (الانفال) (اے اللہ ! اگر ہو یہی (قرآن) سچ تیری طرف سے تو برساہم پر پتھر آسمان سے اور لے آہم پر دردناک عذاب۔ ) اور کہا گیا ہے کہ وہ ممنوع چیز کی طلب میں دعا مانگتا ہے جیسا کہ مباح چیز کی طلب میں دعا مانگتا ہے۔
جیسا کہ شاعر ابن جامع نے کہا ہے :
أطوف بالبیت فیمن یطوف وأرفع من مئزری المسبل
میں بیت اللہ کا طواف کرنے والوں میں اس کا طواف کرتا ہوں اور اپنی لٹکی ہوئی چادر اٹھالیتا ہوں۔
وأسجد باللیل حتی الصباح وأتلو من المحکم المنزل
اور میں رات کے وقت صبح تک عبادت کرتا ہوں اور نازل کی گئی محکم کتاب کی تلاوت کرتا ہوں۔
عسی فارج الھم عن یوسف یسخرلی ربہ المحمل
پس قریب ہی تو یوسف سے غم دور ہونے کا امید وار وہ، وہ میرے لئے محمل کے مالک کو تابع کر دے گا۔
علامہ جوہری نے کہا ہے : کہا جاتا ہے ماعلی فلان محمل جیسا کہ مجلس ہے یہ بمعنی معتمد ہے یعنی (فلاں پر اعتماد نہیں) اور محمل، محامل الحاج کا واحد بھی ہے (حاجیوں کو اٹھانے والا ہو وج) اور محمل جیسا کہ مرجل ہے اس کا معنی ہے تلوار کی پیٹی۔ اور ویدع الانسان سے لفظ اور خط (یعنی پڑھنے اور لکھنے) میں واوحذف کردی گئی لیکن معنی میں یہ حذف نہیں ہوئی کیونکہ یہ محل رفع میں ہے لیکن اس کے سامنے لام ساکن آنے کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے، جیسا کہ قول باری تعالیٰ ہے : سندع الزبانیۃ۔ (العلق) ویمح اللہ الناطل (الشوریٰ : 24) وسوف یؤت اللہ المؤمنین (النساء :146) ینادالمناد (ق :41) فماتغن النذر (القمر) (ان میں پہلی دو آیتوں میں واؤ آخری تین میں یاء لام ساکنہ کی وجہ سے حذف کردی گئی ہیں ) ۔ وکان الانسان عجولاً یعنی انسان کے مزاج اور طبیعت میں جلد بازی اور تیزی ہے، پس یہ برائی کے سوال میں اسی طرح جلد بازی اور تیزی کرتا ہے جس طرح خیر اور بھلائی مانگنے میں جلدی کرتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے اشارہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف ہے کہ جس وقت وہ روح کے مکمل طور پر اپنے بدن میں داخل ہونے سے پہلے بھی اٹھ بیٹھے۔ حضرت سلمان ؓ نے بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا سر تخلیق فرمایا پس وہ دیکھتے رہے رد آنحالیکہ ان کا جسم تخلیق ہوتا رہا۔ پس جب عصر کا وقت ہوا ان کی ٹانگیں ابھی باقی تھیں ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی تو انہوں نے کہا : اے میرے پروردگار ! رات آنے سے پہلے پہلے جلدی کیجئے : تو اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکان الانسان عجولاً اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : جب پھونک ان کی ناف تک پہنچ گئی تو انہوں نے اپنے جسم کی طرف دیکھا اور اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ قادر نہ ہوسکے : پس اس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : و کان الانسان عجولاً اور حضرت مسعود ؓ نے بیان فرمایا : جب روح ان کی آنکھوں میں داخل ہوئی تو انہوں نے جنت کے پھلوں کی طرف دیکھا، اور جب ان کے پیٹ میں داخل ہوئی توط کھانے کی چاہت پیدا ہوئی تو روح کے اپنی ٹانگوں کی طرف پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے پھلوں کیطرف جلدی سے اچھل پڑے، تو اسی وقت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : خلق الانسان من عجل (الابنیاء :37) (انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے) اسے بیہقی نے ذکر کیا ہے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تصویر بنائی تو جتنا اللہ تعالیٰ نے چھوڑنا چاہا اسے چھوڑ دیا تو ابلیس اس کے اردگرد چکر لگاتا رہا اور دیکھتا رہا کہ وہ کیا ہے ؟ پس جب اس نے آپ کا پیٹ دیکھا تو وہ پہچان گیا کہ یہ ایسی مخلوق پیدا کی گئی ہے جو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکے گی “۔ یہ روایت پہلے بھی کزر چکی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ ﷺ نے ایک قیدی حضرت سودہ ؓ کے حوالے کیا تو وہ رات کے وقت کر اہنے لگا، آپ نے اس سے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا : میرے کر اہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ چمڑے کا تسمہ شدید اور سخت بندھا ہوا ہے، چناچہ آپ نے اسے بندھے ہوئے تسمے کو تھوڑا ڈھیلا کردیا پس جب آپ سوگئیں تو وہ بھاگ گیا، تو آپ نے اس کی اطلاع حضور نبی مکرم ﷺ کو دی تو آپ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ تیرے پاتھ کاٹ دے “۔ پس جب صبح ہوئی تو آپ اس آفت کی توقع کرنے لگیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا :” بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی ہے کہ وہ میری دعا اس کے خلاف کردے جو میری اہل میں رحمت کا مستحق نہیں ہے کیونکہ میں بھی انسان ہوں غصے میں ہوجاتا ہوں جیسا کہ انسان غصے میں ہوجاتا ہے “۔ اور یہ آیت نازل ہوئی : اسے ابونصر قشیری نے ذکر کیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :” اے اللہ ! بلاشبہ محمد ﷺ بشر ہے غضبناک ہوتا ہے جیسے انسان غصے میں ہوتا ہے اور بلاشبہ میں نے تجھ سے ایک عہدلے رکھا ہے اور تو ہرگز میرے ساتھ اس کا خلاف نہیں کرے گا پس جس مومن کو بھی کوئی اذیت پہنچاؤں یا اسے گالی دوں یا اسے کوڑے کے ساتھ ماروں تو تو اسے اسکے لئے کفارہ اور ذریعہ قربت بنادے اسے اس کے سبب قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمانا “ اور اس باب میں حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت جابر ؓ سے بھی روایات ہیں۔ اور کہا گیا ہے : وکان الانسان عجولاً کا معنی ہے کہ وہ جلدی ملنے والی شے (دنیا) کو ترجیح دیتا ہے اگرچہ وہ قلیل ہے دیر سے ملنے والی پر (آخرت پر) اگرچہ وہ عظیم اور زیادہ ہے۔
Ayah 17:12آیت نمبر 12
قولہ تعالیٰ : وجعلنا الیل والنھار اٰیتین یعنی ہم نے رات اور دن کو اپنی وحدانیت، وجود اور اپنے کمال علم وقدرت پر دو علامتیں اور نشایناں بنایا۔ اور ان دونوں میں علامت اور نشانی یہ ہے : ان دونوں میں سے ہر ایک کا وہاں سے آنا جسے کوئی نہیں جانتا اور اس کی طرف واپس لوٹنا ہے جسے کوئی نہیں جانتا۔ اور دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے مقابلے میں کم اور زیادہ ہونا اور پھر اس کا برعکس ہوجانا، یہ بھی علامت اور نشانی ہے۔ اور اسی طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریک ہونا بھی ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ فمحونآ اٰیۃ الیل اور یہ نہیں فرمایا : فمحونااللیل (ہم نے رات کو مٹا دیا) پس جب آیت (نشانی) کی اضافت رات اور دن کی طرف کی تو اس پر دلیل ہے کہ مذکورہ دونوں آتیں (نشانیاں) ان دونوں کے لیے ہیں نہ کہ یہ دونوں ہیں۔ اور محونا کا معنی ہے ہم نے مٹا دیا۔
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم فرمایا تو انہوں نے اپنا پر چاند کے چہرہ پر سے گزارا تو اس کی روشنی مٹ گئی حالانکہ وہ نور اور روشنی میں سورج کی مثل تھا، اور وہ سیاہی جو چاند میں دکھائی دیتی ہے وہ اسی مٹنے کا اثر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سورج کے ستر جز بنائے اور چاند کے بھی ستر جز بنائے، پھر چاند کے نور سے انہتر جز مٹادیئے اور انہیں سورج کے نور کے ساتھ رکھ دیا۔ پس سورج کے نور کے ایک سوانتالیس جز بن گئے، اور چاند کا ایک جز باقی رہا۔ اور آپ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے نور سے دو سورج پیدا کئے، اور پھر وہ کیا جو اس کے علم میں پہلے تجا کہ اس دنیا کے مشارق و مغارب کی مقدار برابر اس پر ایک سورج ہو، اور چاند کو سورج سے کم بنایا۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہوں نے اپنا پر تین بار چاند کے چہرہ پر پھیرا اور اس وقت سورج تھا پس اس کی روشنی مدہم پڑگئی اور اس کا نور باقی رہا، پس وہ سیاہی جو تم چاند میں دیکھتے ہو وہ اس مٹنے کا اثر ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ اسے سورج ہی باقی رہنے دیتا تو پھر رات اور ان کے درمیان پہچان نہ ہوسکتی۔ پہلے قول کو ثعلبی نے اور دوسروں کو مہدوی نے ذکر کیا ہے اور عنقریب یہ مرفوع روایت بھی آئے گی۔
اور حضرت علی ؓ اور حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے کہ محو سے مراد وہ سیاہ داغ ہے جو چاند میں دکھائی دیتا ہے، تاکہ چاند کی روشنی سے کم ہوجائے اور رات دن سے ممتاز ہوجائے۔ وجعلنا اٰیۃ النھار مبصرۃً یعنی ہم نے دن کے سورج کو آنکھوں کو روشن کرنے والا بنایا۔ ابوعمر وبن علاء نے بیان کیا ہے : یعنی وہ اس کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : اور یہ عربوں کے قول میں سے ہے أبصرالنھار جب دن خوب روشن ہوجائے، اور وہ اس حال میں ہوجائے کہ اس کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے اس قول کی طرح ہے خبیث مخبث جب اس کے ساتھی خبثاء ہوں۔ اور رجل مضعف جب اس کی سواری کمزرو ہو، پس اسی طرح النھار مبصرا جب اس کے اہل دیکھنے والے ہوں۔ لتبتغوافضلا من ربکم اس سے مراد معاش (اور کاروبار حیات) میں تصرف کرنا ہے۔ اور رات کے وقت آرام اور سکون کا ذکر نہیں کیا اسی پر اکتفا کرتے ہوئے جو دن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے : ھوالذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرًا (یونس : 67) (وہ ہے جس نے بنائی تمہارے لئے رات تاکہ تم آرام کرو اس میں اور روشن دن بنایا۔ ) ولتعلموا عددالسنین والحساب یعنی اگر وہ اس طرح نہ کرتا تو رات دن سے نہ پہچانی جاسکتی، اور نہ ہی حساب اور تعداد معلوم ہوسکتی۔ وکل شیء فصلنٰہ تفصیلاً یعنی احکام تکلیبی میں سے ہر شے ہم نے تفصیل سے بیان کردی ہے، اور یہ اس ارشاد کی طرح ہے : تبیانًا لکل شیءٍ (النحل :89) (اس میں تفصیل بیان ہے ہر چیز کا) مافرطنا فی الکتٰب من شیءٍ (الانعام : 38) (نہیں نظر انداز کیا ہم نے کتاب میں کسی چیز کو ) ۔
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور اس کی مخلوق میں سے آدم کے کوئی باقی نہ رہا تو اس نے اپنے عرش کے نور سے سورج اور چاند پیدا فرمائے اور یہ دونوں سورج تھے پس وہ جو اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے تھا کہ وہ ان میں سے ایک کو سورج چھوڑے گا پس اس نے اسے اس دنیا کی مثل پیدا کیا جو اس کے مشارق ومغارب کے درمیان ہے اور رہا وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ ایک کو چاند بنا دے گا تو اسے اس نے سورج سے کم تخلیق فرمایا لیکن آسمان کی انتہائی بلندی میں ہونے اور زمین میں بہت دور ہونے کی وجہ سے یہ دونوں چھوٹے دکھائی دیتے ہیں پس اگر اللہ تعالیٰ سورج اور چاند دونوں کو اسی طرح چھوڑ دیتا جیسے اس نے ان دونوں کو تخلیق فرمایا تو رات کو دن سے نہ پہچانا جاسکتا اور نہ ایک مزدور یہ جان سکتا کہ وہ کب تک لام کرے گا اور نہ روزے دار کو معلوم ہوتا کہ وہ کب تک روزہ رکھے گا اور نہ عورت جان سکتی کہ وہ عدت کیسے گزارے گی اور نہ نمازوں اور حج کے اوقات معلوم ہو سکتے اور نہ قرض اتارے جاسکتے اور نہ یہ معلوم ہوسکتا کہ کس وقت بیج ڈالنا ہے اور فصل کاشت کرنی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا کہ وہ اپنے بدنوں کو راحت پہنچانے کے لئے کب آرام کرسکتے ہیں گویا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف دیکھا اور وہ ان کے ساتھ ان کے اپنے آپ سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہوں نے چاند کے چہرے پر اپنا پر تین بار پھیرا اور وہ اس وقت سورج تھا پس اس سے روشنی مٹ گئی اور اس میں نور باقی رہ گیا پس اسی کے بارے یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛ وجعلنا الیل والنھار اٰیتین الآیۃ “۔
Ayahs 17:13–14آیت نمبر 13 تا 14
قولہ تعالیٰ : وکل انسانٍ الزمنٰہ طٰئرہ فی عنقہٖ زجاج نے کہا ہے : عنق (گردن) کا ذکر لزوم (لازم ہونا) سے عبارت ہے جیسا کہ گردن کے لئے قلادہ (ہار) کا لازم ہونا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : طٰٓئرہ یعنی اس کا عمل اور جو اس پر خیر وشر میں سے مقدر ہے، اور وہ اسے لازم ہوتا ہے جہاں وہ ہو۔ اور مقاتل (رح) نے کہا ہے : اس کی نیکی اور اس کی برائی اس کے ساتھ ہوگی۔ اس کا عمل اور اس کا رزق (اس کے ساتھ لازم ہے) اور انہی سے مروی ہے : کوئی بچہ نہیں جو پیدا ہوتا ہے مگر اس کی گردن میں ایک کاغذ ہوتا ہے جس میں اس کا شقی (بدبخت ہونا) یا سیعد (سعاد تمند ہونا) لکھا ہوتا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : الزمنٰہ طٰٓئرہ یعنی اس کی شقاوت اور سعادت اور جو کچھ خیر و شر میں سے اس کے لئے لکھا ہوا ہے اور جو اس کے لئے تقدیر میں سے لکھا ہوا ہے۔ (ہم نے وہ اسے لازم کردیا ہے) یعنی وہ ازل میں تقسیم کے وقت اس کے لئے ہوگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے اردہ تکلیف (مکلف بنانا) کا ہے، یعنی ہم نے اسے شریعت کو لازم پکڑنے کا پابند دیا ہے۔ اور وہ اس حیثیت سے ہے کہ وہ وہ کام کرنا چاہے جس کا سے حکم دیا گیا ہے اور اس سے باز رہے جس سے اسے روکا گیا ہے تو یہ اس کے لئے ممکن ہے۔ ونخرج لہ یوم القیٰمۃ کتباً یلقٰہ منشورًا یعنی اس کی وہ کتاب جو اس کے گلے میں لٹکی ہوگی (اسے وہ قیامت کے دن اپنے سامنے کھلاہوا پائے گا) حسن، ابو رجا اور مجاہد رحمۃ اللہ علیہم نے طیرہ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ اور اسی کے مطابق وہ ہے جو خبر میں مروی ہے اللھم لاخیر إلاخیرک ولا طیر آلاطیرک ولا رب غیرک (اے اللہ ! کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے سوائے تیری بھلائی کے اور کوئی نصیب نہیں ہے سوائے تیرے نصیب (عطا کرنے کے) اور تیرے سوا کوئی رب (پروردگار) نہیں ہے۔ ) حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد، ابن محیصن، ابو جعفر، اور یعقوب نے ویخرج یا کے فتحہ اور را کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، اس کا معنی ہوگا ویخرج لہ الطائر کتابا (اور اس کا نصیب ظاہر ہوگا اس حال میں کہ وہ لکھا ہوگا) ۔ پس کتاباً حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اسکا معنی یہ ہو : ویخرج الطائر فیصیر کتاباً (اور اس کا نصیب ظاہر ہوگا پس وہ لکھا جائے گا) ۔ اور یحییٰ بن وثاب نے ویخرج یا کے ضمہ اور را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نکالے گا۔ اور شیبہ بن سمیقع نے اور اسی طرح ابوجعفر سے بھی روایت ہے : ویخرج فعل مجہول کی بنا پر یا کے ضمہ اور را کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور اس کا معنی ہے : اور اس کے لئے قسمت کا نوشتہ نکالا جائے گا۔ اور باقیوں نے ویخرج نون کے ضمہ اور را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے : بمعنی ونحن نخرج (اور ہم نکالیں گے) ابو عمرو نے اس قرأت میں قول باری تعالیٰ : الزمنٰہ سے اتدلال کیا ہے۔ اور ابوجعفر، حسن اور ابن عامر نے یلقاہ یا کو ضمہ، لام کو فتحہ اور قاف کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، بمعنی یوتاہ (وہ اسے دیا جائے گا) اور باقیوں نے یا کے فتحہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ای یراہ منشورا (وہ اسے کھلادیکھے گا) اور فرمایا : منشورًا یعنی نیکی کے سبب بشارت اور خوشخبری میں اور برائی کے سبب زجروتوبیخ میں جلدی کرنے والا۔ ابوالسوار عدوی نے کہا ہے : اور یہ آیت پڑھی وکل انسان الزمنٰہ طٰٓئرہ فی عنقہٖ اور فرمایا : یہ دونوں کھلے اور لپٹے ہوئے ہیں پس اے انسان ! جب تک تو زندہ ہے تو تیرا صحیفہ کھلاہوا ہے سو تو جو چاہے اس میں لکھوالے، اور جب تو فوت ہوجائے گا تو اسے لپیٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ جب تجھے دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو اسئ کھولا جائے گا۔ اقراکتٰبک حسن نے کہا ہے : ہر انسان اپنا نامہ عمل پڑھ لے گا چاہے وہ پڑھا ہوا ہو یا نہ پڑھا ہوا ہو۔ کفیٰ بنفسک الیوم علیک حسیباً (آج کے دن تم خود ہی اپنے محاسبے کے لئے کافی ہو، ) اور بعض صلحاء نے کہا ہے : یہ کتاب ہے، تیری زبان اس کی قلم ہے، اور تیرا لعاب اس کی سیاہی ہے، اور تیرے اعضاء اس کے کاغذ ہیں اور تو ہے کہ تو اپنے محافظ فرشتوں (کراماً کاتبین) کو لکھوانے والا ہے نہ اس میں زیادتی اور اضافہ کیا جائے گا اور نہ اس سے کچھ کم کیا جائے گا، اور جب تو اس سے کسی چیز کا انکار کرے گا تو اس بارے میں تجھ سے ہی تیرے خلاف شاہد اور گواہ ہوں گے۔
Ayah 17:15آیت نمبر 15
قولہ تعالیٰ : من اھتدی فانما یھتدی لنفسہٖۚ ومن ضل فانما یضل علیھا یعنی بلاشبہ ہر ایک سے اس کی اپنی ذات کے بارے میں حساب لیا جائے گا کسی دوسرے کے بارے میں نہیں، پس جو راہ ہدایت پر چلتا ہے تو اس کے راہ ہدایت پر چلنے کا ثواب اسی کے لئے ہوگا، اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کے کفر (اور نافرمانی) کی سزا اسی پر ہوگی۔ ولاتزروازرۃ وزر اخرٰی یہ سورة الانعام میں گزرچکا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے اہل مکہ کو کہا تھا : تم میعی اتباع کرو اور (حضرت) محمد ﷺ کے ساتھ کفر کرو اور تمہارا بوجھ مجھ پر ہوگا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی بلاشبہ ولید تمہارے گناہوں کو نہیں اٹھائے گا بلکہ پر ایک کا گناہ اس کے اپنے اوپر ہوگا۔ کہا جاتا ہے : وزیزروزرا و وزرۃً ، معنی یے اس نے گناہ کیا۔ اور الوزر کا معنی ہے بھاری پھر کم بوجھ اور اس کی جمع اوزار ہے، اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : یحملون اوزارھم علیٰ ظھورھم (الانعام :31) یعنی وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائیں گے۔ وقد وزر جب وہ اٹھالے فھو وازر (تو وہ اٹھانے والا ہوگیا) اور اسی سے بادشاہ کا وزیر ہوتا ہے جو اس کی مملکت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ اور قول میں ھا ضمیر النفس سے کنایہ ہے، یعنی کسی گناہ کرنے والے نفس کو دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑا جائے گا، یہاں تک کہ والدہ قیامت کے دن اپنے بیٹے کو کہے گی : اے میرے بچے ! کیا میری گود تیرے لئے فرش (بچھونا) نہیں رہی، کیا میری چھاتی تیرے لئے باعث سیرابی نہیں رہی، کیا میرا پیٹ تیرے لئے حفاظت کی جگہ نہیں رہا ! تو وہ کہے گا : ہاں (کیوں نہیں) اے میری ماں ! تو وہ کہے گی : اے میرے بچے ! کیونکہ میرے گناہوں نے مجھے بوجھل کردیا ہے پس تو مجھ سے ان میں سے ایک گناہ اٹھالے۔ تو وہ کہے گا : اے میری ماں ! مجھ سے دور ہوجا کیونکہ آج میں اپنے گناہوں کے سبب تجھ سے مشغول ہوں (یعنی میں تیرا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ )
مسئلہ : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس آیت سے حضرت ابن عمر ؓ کے رد میں دلیل اخذ کی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : بیشک میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : بیشک حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اس شے نے اس پر ابھارا ہے کہ وہ یہ ہے جسے آپ نے سنا نہیں، اور دوسرا یہ کہ یہ آیت کے معارض ہے، حالانکہ ان کے انکاری کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ اس معنی کے راوی کثیر ہیں، مثلاً حضرت عمر اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور قیلہ بنت مخرمہ ؓ اور یہ تمام روایت کے ساتھ یقین رکھنے والے ہیں، ان کے غلطی کرنے کی کوئی وجہ اور دلیل نہیں ہے، اور آیت اور حدیث کے درمیان کوئی معارضیت نہیں ہے، کیونکہ حدیث اس معنی پر محمول ہے جب توحہ میت کی وصیت سے ہو اور اس کا طریقہ ہو، جیسا کہ وہ جاہلیت میں کرتے تھے۔
یہاں تک کہ طرفہ نے کہا ہے :
إذا مت فانعینی بھا أنا اھلہ وشقی علی الجیب یا بنت معبدٍ
اور مزید کسی نے کہا :
إلی الحول ثم اسم السلام علیکما ومن یبک حولا کاملا فقد اعتذر
امام بخاری (رح) نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت ان میں سے داؤد بھی ہیں وہ ظاہر حدیث کے اعتقاد کی طرف گئے ہیں کہ اسے ان کے نوحہ کے سبب عذاب دیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے انہیں اپنی موت سے پہلے اس (نوحہ) سے روکا نہیں، اور اس نے انہیں اس بارے ادب نہیں سکھایا، لہٰذا اسی تفریط کے سبب اسے عذاب دیا جائے گا اور اس ذمہ درای کو ترک کرنے کے سبب اسے عذاب دیا جائے گا جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : (التحریم :6) (تم بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے) نہ کہ کسی دوسرے کے گناہ کے عوض اسے عذاب دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : وماکنامعذبین حتیٰ نبعث رسولاً یعنی ہم نے مخلوق کو مہمل چھوڑدیا، بلکہ ہم نے رسول بھیجے۔ اور اس میں اس پر دلیل ہے کہ احکام ثابت نہیں ہوتے مگر شریعت کے ساتھ، بخلاف معتزلہ کے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ عقل قبیح اور حسین اور مباح اور ممنوع قرار دیتی ہے۔ اس بارے میں بحث سورة البقرہ میں گزرچکی ہے۔ اور جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ یہ دنیا کے حکم میں ہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی امت کو عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں کرے گا مگر ان کی طرف رسول اور ڈرانے والے بھیجنے کے بعد۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے کہ یہ دنیا اور آخرت میں عام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کلمآ القی فیھا فوج سانھم خزنتھا الم یاتکم نذیر۔ قالوابلیٰ قد جآءنا (الملک) (جب بھی اس میں کوئی جتھا جھونکا جائے گا تو اس سے دوزخ کے محافظ پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا، وہ کہیں گے : کیوں نہیں، بیشک ہمارے پاس آیا تھا)
ابن عطیہ نے کہا ہے : وہ جس پر نظر وفکر پہنچاتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی بعثت توحید کے ساتھ ہوئی اور آپ نے دلائل قائم کرکے اپنی اولاد میں اعتقادات پھیلائے جو کہ فطرت کی سلامتی کے ساتھ صانع پر دلالت کرتی ہیں اور عالم میں سے ہر ایک پر ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کی شریعت کی اتباع کرنا واجب قرار دیتی ہیں، پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کفار کے غرق ہونے کے بعد تجدید ہوئی، اور اس آیت کے الفاظ یہ احتمال بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ان کے بارے میں ہو جن تک کوئی پیغام رسالت نہیں پہنچا، اور وہ زمانہ فترت کے لوگ ہیں جن کے وجود کو بعض اہل علم نے مقدر کیا ہے۔
اور یہ جو روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف، مجانین (پاگل لوگ) اور بچوں کی طرف (رسول) بھیجے گا یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور نہ یہ وہ ہے جس کا تقاضا شریعت کرتی ہے کیونکہ آخرت دار تکلیف نہیں ہے۔ مہدوی نے کہا ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہل فترت، گونگوں اور بہروں کی طرف رسول بھیجے گا پس وہ انہیں وہ کچھ عطا کرے گا جو وہ چاہتا تھا کہ وہ دنیا میں انہیں عطا کرے، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : اسے معمر نے ابن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، اور اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ حدیث موقوف ہے، اور عنقریب سورة طہٰ کے آخر میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور یہ صحیح نہیں ہے اور ایک قوم نے اس بارے میں استدلال کیا ہے کہ اہل جزائر جب اسلام کے بارے میں سنیں اور اس پر ایمان لے آئیں تو جو گزرچکا ہے ان پر اس کی کوئی پابندی نہیں ہے اور یہ صحیح ہے۔ اور جن تک دعوت نہیں پہنچی تو وہ عقلی اعتبار سے عذاب کے مستحق
نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔