Ayah 17:44آیت نمبر 44
قولہ تعالیٰ : تسمح لہ السمٰوٰت السبع والارض ومن فیھن اس میں آسمانوں اور زمین کی طرف ذوی العقول کی ضمیر لوٹ رہی ہے، اس لئے کہ ان کی عاقل کا فعل منسوب کیا گیا ہے اور وہ تسبیح کرنا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : ومن فیھن میں مراد فرشتے، انسان اور جنات ہیں، پھر اس کے بعد تمام اشیاء کو اپنے اس قول میں شامل کیا : وان من شیء الا یسبح بحمدہٖ اور تسبیح الدلالت ہے۔ کیا یہ مخصص ہے یا نہیں ؟ تو ایک فرقہ اور جماعت نے کہا ہے : یہ عام مخصوص نہیں ہے اور اس سے مراد تسبیح الدلالۃ ہے۔ اور ہر پیدا ہونے والی شے اس کی ذات پر یہ شہادت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حالق بھی ہے اور قادر بھی۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : یہ تسبیح حقیقی ہے، اور علی العموم ہر شے ایسی تسبیح بیان کرتی ہے جسے انسان نہ سن سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے، اور اگر مراد وہ ہو جو پہلے فریق نے کہا ہے کہ مراد صنعت کا اثر اور دلالت ہے تو یقینا یہ ایسا امر ہے جو سمجھا جاسکتا ہے، آیت یہ بیان کررہی ہے کہ یہ تسبیح سمجھی نہیں جاسکتی۔ اور انہیں جواب یہ دیا گیا ہے کہ قول باری تعالیٰ : لا تفقھون سے مراد وہ کفار ہیں جو غور وخوض کرنے سے منہ پھیر لیتے ہیں پس وہ اشیاء میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : من شیء میں عموم ہے لیکن اس کا معنی پر زندہ اور نامی (بڑھنے والا) کے ساتھ خاص ہے، اور یہ جمادات کو شامل نہیں، اسی سے عکرمہ کا قول ہے : درخت تسبیح بیان کرتے ہیں اور ستون تسبیح بیانن نہیں کرتے۔ یزیددقاشی نے حسن کو کہا اور یہ دونوں کھانے پر تھے اس حال میں کہ دسترخوان سامنے بچھا ہو اتھا : اے ابا سعید ! کیا یہ دسترخوان بھی تسبیح بیان کرتا ہے، لیکن اب یہ عمدہ خوشبودار دسترخوان بن چکا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس قول کے لئے اس سنت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے ثابت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :” بلاشبہ ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ میں انہیں عذاب نہیں دیا جارہا ہے، ان میں سے ایک چغلخوی کرتا تھا اور رہا دوسرا ! تو وہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔ “ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : پس آپ ﷺ نے ایک تر ٹہنی منگائی اور اسکے دو حصے کردیئے، پھر ایک حصہ ایک قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا دوسری قبر پر گاڑ دیا۔ پھر ارشاد فرمایا :” ان سے عذاب ہلکا کردیا جائے گا جب تک یہ خشک نہیں ہوں گے۔ “ پس آپ ﷺ کا ارشاد : مالم یبسا (جب تک یہ خشک نہ ہوئے) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں حصے جب تک تر
رہیں گے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہیں گے، اور جب خشک ہوجائیں گے تو جماد ہوجائیں گے۔ واللہ اعلم۔
اور مسندابی داؤد طیالسی میں ہے : پس آپ ﷺ نے نصف ایک پر اور نصف دوسری پر رکھ دی اور فرمایا : ” ان دونوں پر عذاب ہلکا اور نرم کردیا جائے گا جب تک ان دونوں میں ان کی تری میں سے کوئی شے رہی۔ “ (لعلہ أن یھون علیھما العذاب ما دام فیھا من بلو لتھما شئ) ہمارے علماء نے کہا ہے : اسی سے قبروں پر درخت لگانا اور قرآن کریم پڑھنا مستفاد ہوتا ہے، جب دوختوں کے سبب ان سے تخفیف کردی جاتی ہے تو پھر مومن آدمی کے قرآن کریم پڑھنے سے کیسے نہیں ہوگی۔ ہم نے اس کا مفصل اور شافی بیان ” کتاب التذکرہ “ میں کیا ہے، اور یہ بھی کہ میت کو جو ثواب ہدیہ اور تحفہ بھیجا جاتا ہے وہ اس تک پہنچ جاتا ہے۔ والحمد للہ علی ذالک۔ دوسری تاویل کی بنا پر اس کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کے مطابق ہر شے چائے جماد ہو یا غیر جماد وہ تسبیح بیان کرتی ہے
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس تاویل اور اس قول کے لئے اللہ سے اس ارشاد گرامی سے استدلال کیا جاتا ہے : واذکر عبدنا داود ذا الاید ؕانہ اواب۔ انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والا شراق۔ (ص) (یاد فرماؤ ہمارے بندے داؤد کو جو بڑا طاقتور تھا۔ وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے فرمانبردار بنایا تھا پہاڑوں کو وہ ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے عشاء اور اشراق کے وقت۔ ) اور قول باری تعالیٰ : وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ (البقرہ : 74) (اور کئی ایسے بھی ہیں جو گرپڑتے ہیں خوف الہٰی سے) ۔ یہ حضرت مجاہد (رح) کے قول کے مطابق ہے۔ اور قول باری تعالیٰ ہے : وتحرالجبال ھدا۔ ان دعواللرحمٰن ولدا۔ (مریم) (پہاڑ گرپڑیں لرزتے ہوئے، کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ رحمٰن کا ایک بیٹا ہے۔ )
اور ابن مبارک نے (اپنی دقائق) میں ذکر کیا ہے کہ ہمیں مسعر نے عبداللہ بن واصل سے انہوں نے عوف عبداللہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : بیشک ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کو کہتا ہے : اے فلاں ! کیا تیرے پاس سے آج کوئی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والاگزرا ہے ؟ پس اگر وہ کہے : ہاں، تو اس کے سبب اسے انتہائی مسرت اور خوشی ہوتی ہے۔ پھر حضرت عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی : وقالوا اتخذالرحمٰن ولدا۔ الایہ (مریم) (اور کفار کہتے ہیں : بنالیا رحمٰن نے (فلاں کو اپنا) بیٹا۔ ) فرمایا : کیا تم انہیں دیکھ رہے ہو وہ جھوٹ سن سکتے ہیں اور خیر اور نیکی کی بات نہیں سن سکتے۔ اور اسی بارے میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : کوئی صبح اور شام نہیں مگر زمین کے ٹکڑے آپس میں ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں : اے میرے پڑوسی ! کیا آج تیرے پاس سے کوئی ایسا بندہ گزرا ہے جس نے تجھ پر اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھی ہو یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کہا ہو ؟ تو ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں : نہیں اور بعض کہتے ہیں : ہاں، پس جب وہ ہاں کہے تو وہ اسکے سبب اسے اپنے سے افضل دیکھتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤذن کی آواز جن وانس، شجرو حجر، مٹی کا ڈھیلا کیا اور کوئی شے ہمیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لئے شہادت اور گواہی دیں گے۔ اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں، امام مالک (رح) نے مؤطا میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : تحقیق ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ وہ کھایا جارہا تھا۔ اور اس روایت کے علاوہ دوسری روایت میں حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں کھانا کھا رہے تھے اور ہم اس کی تسبیح سن رہے تھے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلاشبہ میں مکہ مکرمہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھ پر سلام کیا کرتا تھا بلاشبہ اب بھی اسے پہچانتا ہوں “۔ کہا گیا ہے کہ وہ حجر اسود ہے۔ واللہ اعلم۔ اس بارے میں بہت سی اخبار ہیں اور ہم سے بہت سی روایات پر اللمع اللولوتۃ فی شرح العشرنیات النبویہ للغاداری (رح) تعالیٰ میں اگاہ ہوئے ہیں۔ اور اسی بارے میں جزع (یعنی کھجور کے تنا) والی روایت بھی مشہور ہے۔ جسے امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ اور جب یہ ایک جماد میں ثابت ہے تو پھر دیگر جمادات میں بھی اس کا پایا جائز ہے، اور اس میں کوئی شے بھی محال نہیں ہے، پس اعموم کی بنا پر ہر شے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اسی طرح حضرت نخعی (رح) وغیرہ نے کہا ہے : یہ ان تمام چیزوں کو بھی عام اور شامل ہے۔ اور انہوں نے انہیں اخبار سے استدلال کیا ہے جو ہم نے ذکر کی ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جمادات کی تسبیح یہ ہے کہ وہ اپنی طرف دیکھنے والے کو یہ کہنے کی دعوت دیتی ہیں : سبحان اللہ ! کیونکہ ان میں ادراک نہیں ہوتا۔ اور شاعر کا قول بھی ہے :
تلقی بتسبیحۃ من حیث ما انصرفت و تستقر حشا الرابی بترعاد
یعنی صحیح یہ ہے کہ تمام چیزیں تسبیح بیان کرتی ہیں کیونکہ اخبار وروایات اس پر دلالت کرتی ہیں، اور اگر وہ تسبیح تسبیح الدلالۃ ہی ہو تو پھر داؤد کی تخصیص کون سی ہے ؟ بلاشبہ وہ تسبیح مقال ہے اللہ تعالیٰ کے ان میں حیات اور زندگی پیدا کرنے کے ساتھ اور تسبیح کے ساتھ بولنے کی قوت عطا کرنے کے ساتھ جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں۔ اور سنت اس پر نص ہے جس پر ہر شے کے تسبیح بیان کرنے میں سے قرآن کریم کا ظاہر دلالت کرتا ہے پس اس کے کلام کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔ حسن، ابوعمر، یعقوب، حفض، حمزہ، کسائی اور خلف نے تفقھون فاعل کے مونث ہونے کی وجہ سے تا کے ساتھ قرأت کی ہے۔ باقیوں نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے، اور ابوعبید نے اسے ہی اختیار کیا ہے، انہوں نے کہا : فعل اور تانیث کے درمیان فاصلہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہے۔ انہ کان حلیما بیشک وہ دنیا میں اپنے بندوں کے گناہوں سے حلم کا اظہار کرنے والا ہے۔ غفورا اور آخرت میں مومنوں کو بخشے والا ہے۔
Ayah 17:45آیت نمبر 45
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة تبت یدا ابی لھب (لہب :1) نازل ہوئی تو کانی ام جمیل بنت حرب آئی وہ بڑے جوش اور غصے میں تھے اور اس کے ہاتھ میں پتھر تھا اور وہ کہہ رہی تھی : مذمماعصینا (ہم نے مذمم کی نادفرمانی کی) وامرہ أبینا (ہم نے اس کے حکم کا انکار کیا) ودینہ قلینا (اور ہم نے اس کے دین کو ناپسند کیا) ۔
اور حضور نبی مکرم ﷺ مسجد میں تسریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے، پس جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے دیکھا تو عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ وہ آرہی ہے اور مجھے خوف ہے کہ وہ آپ کو دیکھ لے گی ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انھا لن ترانی (بےشک وہ مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گی) اور آپ ﷺ نے قرآن کریم پڑھا اور اس کے ساتھ محفوظ رہے جیسے آپ نے فرمایا تھا۔ اور آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : واذاقرات القراٰن جعلنا بینک وبین الذین لایؤمنوں بالاٰخرۃ حجابًا مستورا پس وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آکر رکی اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا اور کہنے لگی : اے ابابکر ! مجھے خبر دی گئی ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے ! تو آپنے فرمایا : نہیں اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تیری ہجو نہیں کی۔ آپ فرماتے ہیں : پس وہ واپس مڑی تو یہ کہہ رہی تھی : تحقیق قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔
اور حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے : جب تبت یدا ابی لھب وتب۔ (لہب) نازل ہوئی تو ابو لہب کی بیوی حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف آئی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے، تو حضرت صدیق ؓ نے عرض کی : کاش آپ اس سے دورہٹ جائیں تاکہ ہو آپ کو کوئی ایسا کلمہ نہ سنا دے جو آپ کو اذیت اور تکلیف پہنچائے، کیونکہ یہ فحش بکنے والی عورت ہے۔ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : إنہ سیحال بینی وبینھا (بلاشبہ میرے درمیان اور اس کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا جائے گا) پس وہ آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکی۔ اور اس نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے پوچھا : اے ابابکر ! تیرے ساتھی نے میری ہجو بیان کی ہے ! تو آپ نے فرمایا : قسم بخدا ! نہ وہ شعر بناتے ہیں اور نہ شعر کہتے ہیں تو اس نے کہا : بلاشبہ آپ تو ان کی تصدیق کرتے ہیں، پھر وہ وہیں سے واپس لوٹ گئی، تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” نہیں۔ میرے اور اس کے درمیان حائل ہو کر فرشتے نے مجھے مسلسل ڈھانپے رکھا یہاں تک کہ وہ چلی گئی۔ “ (لا۔ مازال ملک بینی وبینھا یسترنی حتی ذھبت) اور حضرت کعب نے اس آیت کے تحت کہا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ تین آیات کے ساتھ مشرکین کی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے تھے : ایک آیت وہ ہے جو سورة انعام میں ہے : وجعلنا علیٰ قلوبھم اکنہ ان یفقھوہ فی اٰذانھم وقرا (الانعام :25) (ہم نے ڈال دیئے ان کے دلوں پر پردے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی۔ ) اور ایک آیت وہ جو سورة نحل میں ہے : اولٰئک الذین طبع اللہ علیٰ قلوبھم وسمعھم وابصارھم (النحل :108) (یہ وہ لوگ ہیں مہر لگادی ہے اللہ تعالیٰ نے جن کے دلوں، جن کے کانوں اور آنکھوں پر۔ ) اور ایک آیت وہ ہے جو سورة جاثیہ میں ہے : افرءیت من ات خدا لٰھہ ھوئہ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہٖ وقلبہٖ وجعل علیٰ بصرہٖ غشٰوۃً الآیہ (الجاثیہ :23) (ذرا اس کی طرف تو دیکھو جس نے بنالیا ہے اپنا خدا اپنی خواہش کو اور گمراہ کردیا ہے اسے اللہ نے باوجود علم کے اور مہر لگادی ہے اس کے کانوں اور اس کے بدل پر اور ڈال دیا ہے اس کی آنکھوں پر پردہ۔ ) حضور نبی کریم ﷺ جب یہ آیات پڑھ لیتے تھے تو مشرکین سے اوجھل ہوجاتے تھے، حضرت کعب ؓ نے بیان کیا : میں نے ان کے بارے اہل شام میں سے ایک آدمی کو بتایا، پس وہ روم آگیا اور وہیں طویل عرصہ تک قیام پذیر رہا، پھر وہاں سے بھاگ نکلا تو وہ لوگ اسکی تلاش میں نکلے تو اس نے یہی آیات پڑھ لیں تو وہ اس طرح ہوگئے کہ راستے میں اس کے ساتھ ہونے لے باوجود اسے دیکھ نہ سکتے تھے۔ ثعلبی (رح) نے کہا ہے : یہ وہی ہے جسے وہ حضرت کعب سے اس طرح روایت کرتے ہیں کہ میں نے اس کے بارے اہل الری میں سے ایک آدمی کو بتایا اور وہ دیلم میں قید ہوگیا کافی عرصہ وہاں ٹھہرا رہا پھر وہاں سے بھاگ نکلا تو وہ اس کی تلاش میں نکلے تو اس نے یہ آیات پڑھ لیں۔ یہاں تک کہ ان کے کپڑے اس کے کپڑوں کے ساتھ مس ہونے لگے لیکن وہ اسے دیکھ نہیں سکتے تھے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ہم ان آیات میں سورة یٰسین کی ابتدا سے لے فھم لایبصرون تک کا اضافہ کرتے ہیں، کیونکہ سیرت میں حضور نبی مکرم ﷺ کے ہجرت فرمانے اور حضرت علی ؓ کے آپ کے بستر پر آرام فرمانے کا تذکرہ موجود ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ایک مشت مٹی اپنے ہاتھ میں اٹھائی، اور اللہ عزوجل نے ان کی آنکھوں پر آپ کو دیکھنے پردہ ڈال دیا۔ پس وہ آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکے، اور آپ نے وہ مٹی ان کے سروں پر پھینک دی اور آپ سورة یٰسین کی یہ آیت پڑھتے رہے : یٰسٓۚ والقراٰن الحکیم ۙانک لمن المرسلینۙعلیٰ صراطٍ مستقیمؕ تنزیل العزیز الرحیمۙ لتنذر قومآ انذر اٰباؤھم فھم غٰفلون۔ لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایؤمنون۔ اناجعلنا فی اعناقھم اغلٰلاً فھی الی الاذقان فھم مقمحون۔ وجعلنا من بین ایدیھم سدًاو من خلفھم سدًا فاغشینٰھم فھم لایبصرون۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ان آیات سے فارغ ہوگئے، اور ان میں سے کوئی آدمی باقی نہ رہا جس کے سر پت مٹی نہ پڑی ہو، پھر آپ اس طرف چلے گئے یہاں جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ہمارے علاقے اندلس میں اعمال قرطبہ میں حصن منشور کے ساتھ اسی طرح کا واقعہ مجھے پیش آیا، وہ یہ کہ دشمن کے سامنے سے بھاگ گیا اور میں اس سے ایک طرف پیچھے ہٹ گیا، پس ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ رد گھڑسوار میری تلاش میں نکل پڑے اور میں زمین کی کھلی فضا میں بیٹھا ہوا تھا اور کوئی چیز مجھے ان سے چھپانے اور ڈھانپنے والی نہ تھی، اور میں سورة یٰسین شروع سے اور علاوہ ازیں قرآن کریم کی آیات پڑھنے لگا، تو وہ دونوں مجھ سے آگے گزر گئے پھر اسی جگہ سے واپس لوٹے تو ان سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا یہ تو دیبلہ یعنی شیطان (جن) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا اور وہ مجھے نہ دیکھ سکے، والحمد للہ حمدا کثیرا علی ذالک۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ پردہ (مستور) ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کی مہر ہے یہاں تک کہ نہ وہ اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ اس میں موجود حکمت کا ادراک کرسکتے ہیں۔ یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اور حسن (رح) نے کہا ہے : یعنی یہ کہ ان کے آپ کی قرأت سے اعراض کرنے اور آپ سے تغافل برتنے کے سبب یہ اس طرح ہے کہ آپ کے درمیان اور ان کے درمیان آپ کو نہ دیکھنے کے بارے میں حجاب اور پردہ ہے گویا ان کے دلوں پر پردہ سا پڑگیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ آیت اس قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاتے تھے جب آپ قرآن کریم پڑھتے تھے، اور وہ ابوجہل، ابوسفیان، نضر بن حارث، ابولہب کی بیوی ام جمیل، اور حویطب تھے، پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کو قرآن کریم پڑھنے کے وقت ان کی آنکھوں سے اوجھل کردیا، چھپا دیا۔ وہ آپ ﷺ کے پاس سے گزرتے تھے اور آپ کو دیکھتے نہ تھے : یہ زجاج وغیرہ نے کہا ہے۔ اور یہی پہلے قول کا بعینہ معنی ہے، اور یہی آیت میں اظہر ہے۔ واللہ اعلم۔ اور قول باری تعالیٰ : مستورًا اس میں دو قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے۔۔۔ کہ حجاب تم سے چھپا ہوا ہے تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ اور دوسرا یہ ہے۔۔۔ کہ حجاب تم سے اپنے ورا کو چھپانے اور ڈھانپنے والا ہے اور اس صورت میں مستور بمعنی ساتر ہوگا۔
Ayah 17:46آیت نمبر 46
قولہ تعالیٰ : وجعلنا علیٰ قلوبھم اکنۃ، اکنۃ، کنان کی جمع ہے، اور اس سے مراد ہر وہ شے ہے جو کسی شے کو ڈھانپ لے۔ اس کا ذکر سورة الانعام میں گزرچکا ہے۔ ان یفقھوہ یعنی تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں، یا اس کے سمجھنے کو ناپسند کریں، یعنی اس میں اوامرو تواہی اور حکم ومعانی میں سے جو کچھ ہے اسے سمجھنا (انہیں ناپسند ہو) یہ قدریہ کا رد ہے۔
وفیٓ اٰذانھم وقرًا اور ان کے کانوں میں بہرہ پن اور گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اس کلام میں اضمار ہے یعنی أن یسمعوہ (کہ وہ اسے سن سکیں) ۔ واذاذکرت فی کرت فی القراٰن وحدہ یعنی آپ کہیں : لا الٰہ الا اللہ اس حال میں کہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہوں۔ اور ابوالجوازء اوس بن عبداللہ نے کہا ہے : کوئی شے نہیں ہے جو لآ الٰہ الا اللہ کے قول سے بڑھ کر شیطان کو دل سے بھگانے والی ہو، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : واذاذکرت ربک فی القراٰن وحدہ ولواعلیٰٓ ادبارھم نفورًا اور علی بن حسین نے کہا ہے : اس سے مراد آپ کا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہنا ہے۔ اس کا ذکر پہلے بسم اللہ شریف کی بحث میں گزر چکا ہے۔ ولوا علیٰ ادبارھم نفورًا کہا گیا ہے : اس سے مشرکین مراد لئے گئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ شیاطین مراد ہیں۔ اور نفورًا یہ نافر کی جمع ہے، جیسا کہ شھود، شاھد کی جمع ہے، اور قعود، قاعد کی جمع ہے۔ اور یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر ہو جو فعل کے الفاظ کے سوا ہے، جبکہ قول باری تعالیٰ : ولوا بمعنی نفروا ہو اور اس کا معنی یہ ہو نفرو انفورًا۔
Ayah 17:47آیت نمبر 47
قولہ تعالیٰ : نحن اعلم بما یستمعون بہٖ اذیستمعون الیک کہا گیا ہے : قول باری تعالیٰ بہٖ میں بازائدہ ہے مراد ہے یستمعونہ (یعنی ہم اس کے بارے خوب جانتے ہیں جس کے لئے یہ اسے سنتے ہیں) اور وہ حضور نبی کریم ﷺ سے قرآن کریم سنتے تھے پھر نفرت کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے : یہ ساحر (جادوگر) ہے اس پر جادو کردیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے اس کے بارے خبر دی ہے : یہ حضرت قتادہ وغیرہ نے کہا ہے : واذھم نجوٰی یعنی (ہم خوب جانتے ہیں) جب وہ آپ کے معاملے میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے : ان کی سرگوشیاں ان کا یہ قول ہوتا تھا : بیشک یہ مجنون ہے ؛ بئ شک یہ ساحر ہے، اور بیشک یہ پہلے لوگوں کے افسانے لاتا ہے، اور اس طرح کی اور باتیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب عتبہ نے معززین قریش کو کھانے پر بلایا جو اس نے ان کے لئے تیار کیا، پس حضور نبی مکرم ﷺ بھی تشریف لے گئے اور ان پر قرآن کریم پڑھا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، تو وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے اور کہنے لگے : یہ جادوگر اور مجنون ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ کھانے کا اہتمام کریں اور مشرکین میں سے اشراف قریش کو اس کی دعوت دیں، پس حضرت علیٰ ؓ نے دعوت کا اہتمام کیا اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان ہر قرآن کریم پڑھا اور انہیں توحید کی طرف دعوت دی، اور فرمایا :” کہو لا الٰہ الا اللہ یقینا عرب تمہارا عجم تمہارا دین قبول کرلیں گے۔ “ لیکن انہوں نے انکار کردیا، وہ حضور نبی کریم ﷺ سے قرآن سنتے تھے اور پھر آپس سرگوشیاں کرتے ہوئے کہتے تھے : یہ تو جادوگر ہے اس پر جادو کردیا گیا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور زجاج نے کہا ہے : النجوی اسم مصدر ہے، یعنی اذھم ذونجوی (جب وہ سرگوشیاں کررہے ہوتے ہیں) اذیقول الظلمون اس سے مراد ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور ان جیسے دیگر لوگ ہیں۔ ان تتبعون الا رجلا مسحورا (کہ تم پیروی نہیں کررہے مگر ایسے آدمی کی) جس پر جادو کردیا گیا ہے تحقیق سحر (جادو) نے اسے خراب کردیا ہے اور اس کا معاملہ خلط ملط ہوچکا ہے، وہ یہ اس لئے کہتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بھاگ جائیں (نفرت کرنے لگیں) ۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مسحورا اس کا معنی ہے دھوکا دیا ہوا مثلاً قول باری تعالیٰ ہے : فانی تسحرون۔ (المومنون) یعنی کہاں سے تمہیں دھوکا دیا جارہا ہے۔ اور ابوعبیدہ نے کہا ہے : مسحورًا اس کا معنی ہے کہ ان کے تابع ایک جن ہے، لہٰذا ایک جن ہے، لہٰذا وہ کھانے پینے سے مستغنی نہیں ہیں، پس وہ تمہاری ہی مثل ہیں اور وہ فرشتہ نہیں ہیں۔ اور عرب بزدل آدمی کے لئے کہتے ہیں : قد اتنفخ سحرہ (وہ تو بزدل اور ڈرپوک نکلا) ۔ آدمی وغیرہ میں سے جو بھی کھائے یا پیئے اسے مسحور اور مسحر کہا جاتا ہے۔ لبید نے کہا ہے :
فإن تسألینا فیم نحن فإننا عصافیر من ھذا الأنام المسحر
اور امرء القیس نے کہا ہے :
أرانا موضعین لأمر غیب ونسحر بالطعام و بالشراب
یعنی ہم کھانا کھلائے جاتے ہیں اور باربار پلائے جاتے ہیں۔
اور حدیث طیبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : کون ہے جو حضور نبی مکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے میرے مقابلے میں فخر کرسکتی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے کے ساتھ لگے ہوئے وصال فرمایا۔
Ayah 17:48آیت نمبر 48
قولہ تعالیٰ : انظر کیف ضربوالک الامثال یہ ان کے عمل اور کارستانی پر اطہار تعجب کیا ہے کہ وہ کبھی کہتے ہیں : یہ جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں : یہ مجنون ہے اور کبھی کہتے ہیں : یہ شاعر ہے۔ فضلوا فلا یستطیعون سبیلا پس وہ لوگوں کو آپ سے روکنے کا حیلہ کرکے گمراہ ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ حق سے گمراہ ہوگئے ہیں پس اب وہ ہدایت کی طرف لے جانے والے راستے کو نہیں پاسکتے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ (گمراہی سے) نکلنے کی راہ نہیں پاسکتے کیونکہ ان کے قول میں ان کا کلام متناقض ہے، یعنی وہ کبھی مجنون، کبھی ساحر اور کبھی شاعر کہتے ہیں۔
Ayah 17:49آیت نمبر 49
قولہ تعالیٰ : اذا کناعظاما ورفاتًاء یعنی انہوں نے یہ کہا اس حال میں کہ وہ سرگوشیاں کررہے تھے جب انہوں نے قرآن کریم سنا اور دوبارہ زندہ کئے جانے کا حکم سنا کہ اگر یہ جادو کیا ہوا اور دھوکا دیا ہوا نہ ہوتا تو یہ اس طرح نہ کہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الزقات کا معنی غبار ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی تراب (مٹی) ہے۔ اور الرفات ہر وہ شے جو زیزہ ریزہ ہوجائے اور ہر وہ شے جو بوسیدہ اور پرانی ہوجائے، جیسا کہ فتات، حطام اور رضاض (تینوں کا معنی ٹوٹی ہوئی چیز کے ٹکڑے اور چورا ہے۔ ) یہ ابو عبیدہ، کسائی، فراء اور اخفش سے منقول ہے، اسی سے تو کہتا ہے : رفت الشئ رفتا، یعنی چیز کو توڑ دیا گیا فھومرفوت (پس وہ ٹوٹی ہوئی ہے) انالمبعوثون خلقًا جدیدًا، أئنا استفہام ہے اور اس سے مراد حجد اور انکار ہے۔ اور خلقًا منصوب ہے کیونکہ یہ مصدر ہے، یعنی بعثا جدیدا (نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھانا، تو یہ مفعول مطلق ہے۔ ) اور یہ ان کی طرف سے حددرجے کا انکار ہے
Ayahs 17:50–51آیت نمبر 50 تا 51
قولہ تعالیٰ : قل کونوا حجارۃً اوحدیدًا یعنی اے محمد ! ﷺ آپ انہیں فرمایئے (اگرچہ) تم عاجز کرنے کی جہت سے تم شدت اور قوت میں پتھر یا لوہا بھی ہوجاؤ (تب بھی ایسا ہی ہوگا۔ ) علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : اگر تمہیں اس پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ہڈیاں اور گوشت پیدا کرے گا تو تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ اگر تم قدرت رکھتے ہو۔ اور علی بن عیسیٰ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ تم اگر پتھر یا لوہا بھی ہوئے تو تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے جب اس نے تمہارا ارادہ کرلیا، مگر یہ کلام امر کے محل میں ہے، کیونکہ الزام میں یہ زیادہ بلیغ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر تم پتھر یا لوہا بھی ہوئے تو وہ یقیناً تمہیں دوبارہ اٹھائے گا جس اس نے پہلی بار پیدا کیا ہے، اور وہ یقیناً تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم جو چاہو ہوجاؤ تم عنقریب دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ قول اچھا ہے کیونکہ وہ یہ استطاعت اور طاقت نہیں رکھتے کہ وہ پتھر ہوجائیں۔ اور بلاشبہ اس کا معنی یہی ہے کہ انہوں نے اپنے خالق کے بارے اقرار کرلیا اور دوباررہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا تو انہیں کہا گیا کہ یہ سمجھ لو کہ تم جو چاہو ہوجاؤ، پس اگر تم پتھر یا لوہا بھی ہوئے تو بھی تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے جس طرح پہلی بار پیدا کئے گئے۔ اوخلقًا ممایکبرفی صدورکم حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مراد آسمان، زمین اور پہاڑ ہیں کیونکہ لوگوں کے خیال میں یہ بڑے عظیم ہیں۔ اور یہی معنی حضرت قتادہ کے قول کا ہے۔ وہ کہتے ہیں : تم جو چاہو ہوجاؤ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں موت دے گا اور پھر تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا۔ اور حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت عبداللہ بن عاص، ابن جبیر، مجاہد نے بھی، عکرمہ، ابوصالح، اور ضحاک ؓ نے کہا ہے : مراد موت ہے، کیونکہ ابن آدم (انسان) کے خیال میں اس سے بڑی اور کوئی شے نہیں ہے، جیسا کہ امیہ بن ابی صلت نے کہا ہے :
وللمؤت خلق فی النفوس فظیع (لوگوں کے خیال میں موت خوفناک مخلوق ہے۔ )
اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے : بیشک تم اگر پتھر یا لوہے سے پیدا کئے جاتے یا تم موت ہوتے تو میں ضرور تمہیں موت دوں گا اور یقینا تمہیں دوبارہ اٹھاؤں گا، کیونکہ وہ قدرت جس کے ساتھ میں نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی کے ساتھ تمہیں دوبارہ اٹھاؤں گا۔ اور یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا : فسیقولون من یعیدنا قل الذی فطر کم اول مرۃ اور حدیث میں ہے کہ ” قیامت کے دن چتکبرے مینڈھے کی صورت میں موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد بعث (دربارہ زندہ کیا جانا) ہے، کیونکہ لوگوں کے خیال میں یہی سب سے بڑی شے ہے : یہ کلبی (رح) نے کہا ہے۔ فطرکم جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں پیدا کیا اور تمہیں بنایا۔ فسینضون الیک رء وسھم یعنی وہ بطور استہزا اپنے سروں کو حرکت دیتے ہیں : کہا جاتا ہے : نغض رأسہ ینغض وینغض نغضا ونغوضاً ، یعنی اس کے سر نے حرکت کی۔ اور أنغض رأسہ یعنی اس نے اپنے سر کو ہلایا، حرکت دی، اسطرح جیسا کہ کوئی کسی شے سے تعجب کرنے والا کرتا ہے۔ اور اسی سے قول باری تعالیٰ ہے : فسینغضون الیک رء وسھم۔
راجز لا قول ہے : أنغض نحوی رأسہ وأقنعا (اس نے میری طرف اپنے سر کو ہلایا اور اسے اوپر اٹھالیا) اور یہ بھی کہا جاتا ہے : نغض فلان رأسہ (یعنی فلاں نے اپنے سر کو حرکت دی) یہ متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح آتا ہے، اسے اخفش نے بیان کیا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : نغضت سنہ یعنی اس کا دانت ہل گیا اور اکھڑ گیا۔ راجز نے کہا ہے :
و نغضت من ھرم أسنانھا
(بڑھاپے کے سبب اس کے دانت ہل گئے) اور دوسرے نے کہا ہے :
لما رأتنی انغضت لی الرأسا
(جب اس نے مجھے دیکھا تو میرے لئے اپنا سر ہلا دیا) ۔ اور ایک اور نے کہا ہے :
لا ماء فی المقراۃ إن لم تنھض بمسد فوق المحال النغض
المحال اور المھالۃ سے مراد وہ بڑی چرخی ہے جس کے ساتھ اونٹوں کو پانی پلایا جاتا ہے۔
ویقولون متیٰ ھو یعنی وہ کہتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کیا جانا، لوٹا نا اور وہ وقت کب ہوگا۔ قل عسیٰ ان یکون قریبًا یعنی آپ فرمایئے وہ قریب ہے، کیونکہ عسیٰ واجب کے معنی میں ہے : اس کی نظیریہ ہے : ومایدریک لعل الساعۃ تکون قریبًا۔ (الاحزاب) (اور (اے سائل ! ) تو کیا جانے شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو۔ ) اور لعل الساعۃ قریب۔ (الشوریٰ ) (شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو۔ ) اور ہر وہ شے جو
آنے والی ہو تو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔
Ayah 17:52آیت نمبر 52
قولہ تعالیٰ : یوم یدعوکم فتستجیبون بحمدہٖ ، الدعا سے مراد میدان حشر کی طرف ایسے کلام کے ساتھ بلانا اور ندا دینا ہے جسے تمام سنے گی، اس میں اللہ تعالیٰ انہیں (قبروں سے) نکلنے کے بارے ندا دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ایسی چیخ ہے جسے وہ سب سنیں گے، پس وہی ان کو قیامت کی زمین میں جمع ہونے کی دعوت ہوگی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بیشک قیامت کے دن تمہیں اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے بلایا جائے گا اس لئے اپنے نام خوبصورت رکھو۔ “ فتستجیبون بحمدہٖ
یعنی اس کے حمد کے مستحق ہونے کے سبب (تم اس کی حمد کرتے ہوئے جواب دو گے) اور ابوسہل نے کہا ہے : مراد الحمد للہ کہنا ہے۔
جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
فانی بحمد اللہ لاثوب فاجر لبست ولا من غدرۃ أتقنع
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد ہے : تم جواب دوگے اس حل میں کہ تم اپنی زبانوں سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کررہے ہو گے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے : کفار اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ کہہ رہے ہوں گے سبحانک وبحمدک، لیکن اس کا اعتراف انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : بحمدہٖ سے مراد بامرہ (یعنی اس کے حکم سے) ہے، یعنی تم اقرار کر گے کہ وہی تمہارا خالق ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اس کی معرفت اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اس کی قدرت کے ساتھ۔ اور یہ قول بھی ہے : اس کے تمہیں بلانے کے ساتھ۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اور یہی صحیح ہے، کیونکہ صور میں پھونکنا ان کے قبروں سے نکلنے کا سبب ہوگا اور بالحقیقت یہ حق کی دعوت و پکار کے ساتھ مخلوق کا باہر نکلنا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یوم یدعو کم فتستجیبون بحمدہٖ پس وہ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوں گے سبحانک اللھم وبحمدک۔ فرمایا : پس قیامت کا دن وہ دن ہے جس کا آغاز بھی حمد سے ہوگا اور اسی کے ساتھ اختتام ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یوم یدعوکم فتستجیبون بحمدہٖ اور اس کے آخر کے بارے میں فرمایا : وقضی بینھم بالحق وقیل الحمدللہ رب العٰلمین۔ (الزمر) (اور فیصلہ کردیا گیا ہوگا ان کے درمیان حق کے ساتھ اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ کے لئے جو رب العالمین ہے۔ )
وتظنون ان لبثتم الاقلیلاً یعنی دو نفخوں کے درمیان (تم نہیں ٹھہرے مگر ٹھوڑا عرصہ) اور یہ اس لئے ہوگا کہ دو نفخوں کے درمیان ان سے عذاب روک دیا جائے گا جنہیں پہلے عذاب دیا جارہا تھا، اور وہ عرصہ چالیس برس ہوگا وہ سوجائیں گے اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : من بعثنا من مرقدنا (یٰسین :52) (کس نے ہمیں اٹھاکھڑا کیا ہے ہماری خواب گاہ سے ؟ ) اور یہ کفار کے لئے خاص ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : قیامت کے دن سے پہلے کافروں کو ہلکی سی نیند آئے گی وہ اس میں نیند کا ذائقہ ہی پائیں گے ؛ تو اچانک اہل قبور کے لئے چیخ ماری جائے گی تو وہ خوفزدہ، گھبرائے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ ان کی نگاہوں میں حقیر اور قلیل ہوجائے گی جس وقت وہ قیامت کے دن کو دیکھیں گے۔ حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ ان کی نگاہوں میں حقیر اور قلیل ہوجائے گی جس وقت وہ قیامت کے دن کو دیکھیں گے۔ حسن نے کہا : و تظنون ان لبثتم الاقلیلا آخرت میں اپنے طویل ٹھہرنے کی وجہ سے تم گمان کروگے کہ دنیا میں تم نہیں ٹھہرے مگر تھوڑا عرصہ۔
Ayah 17:53آیت نمبر 53
قولہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن اس کے اعراب اور ترکیب کا یبان پہلے گزرچکا ہے۔ اور یہ آیت حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور وہ اس طرح کہ آپ نے عرب میں سے دو آدمی کو خوب سب وشتم کیا اور اس کے قتل کا ارادہ کیا، قریب تھا کہ فتنہ بھڑک اٹھتا تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن اسے ثعلبی، ماوردی، ابن عطیہ اور واحدی نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ہمیں ان کے قتال کے بارے میں اجازت عطا فرمایئے تحقیق ان کی اذیت رسائی ہمارے لئے بڑھ گئی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا :” مجھے ابھی تک قتال کے بارے حکم نہیں دیا گیا ہے “۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : و قل لعبادی یقولوا التی ھی احسن، یہ کلبی (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے آپ حکم دیجئے میرے ان بندوں کو جنہوں نے اعتراف کیا کہ کہ میں ان کا خالق ہوں اور وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہت عمدہ ہوں کلمہ توحید میں سے اور اقرارنبوت میں سے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور حکم دیجئے میرے ایمان والے بندوں کو جب وہ توحید کے بارے میں کفار سے جھگڑا کریں، مباحثہ کریں، تو وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہت ہی عمدہ ہوں، جیسا کہ ارشاد فرمایا : ولاا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم (الانعام :108) ( اور تم نہ برابھلا کہوا نہیں جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا (ایسا نہ ہو) کہ وہ بھی برا بھلا کہنے لگیں اللہ کو زیادتی کرتے ہوئے جہالت سے۔ ) اور حسن نے کہا ہے کہ وہ کافر کو کہے جب وہ زیادتی کرے : اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے ! اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ! اور یہ انہیں جہاد کے بارے حکم دیئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے آپ انہیں حکم دیجئے کہ وہ اس چیز کے بارے حکم دیں جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور وہ اس سے منع کریں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے : اس معنی کی بناء پر آیت مومن اور کافر کے بارے میں عام ہوگی، یعنی آپ کو حکم دیجئے۔ واللہ اعلم۔
اور ایک گروہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنوں کو ان امور کے بارے میں حکم دیا ہے جو ان کے درمیان خاص ہیں، حسن ادب کے ساتھ اور قول کی نرمی کے ساتھ، پر چمکانے کے ساتھ اور شیطان کے فسادات کو پرے پھینکنے کے ساتھ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :” اے اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی ہوجاؤ “۔ یہ احسن قول ہے، یہ آیت محکم ہے۔
قولہ تعالیٰ : ان الشیطٰن ینزغ بینھم بیشک شیطان ان کے درمیان فساد اور عدوات وگمراہی پھیلانا چاہتا ہے۔ سورة الاعراف اور سورة یوسف میں اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے بیننا شیطان نے ہمارے درنیان فساد برپا کیا : یزیدی نے یہ کہا ہے۔ اور کسی اور نے کہا ہے : النزع کا معنی ہے الاغراء برانگیختہ کرنا، ابھارنا۔ ان الشیظٰن کان للانسان عدوامبینًا بیشک شیطان انسان کا شدید عدوات کے سبب کھلادشمن ہے۔ اور یہ سورة البقرہ میں پہلے گزرچکا ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ ” ایک قول بیٹھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کررہے تھے پس شیطان آیا تاکہ ان کی مجلیس کو ختم کردے تو ملائکہ نے ا سے روک دیا تو وہ ایک قوم کے پاس آیا جو قریب ہی بیٹھے تھے وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کررہے تھے پس اس نے انہیں آپس میں اکسایا تو وہ آپس میں جھگڑپڑے اور ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے تو ان ذکر کرنے والوں نے کہا : ہمارے ساتھ اٹھوہم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرادیں، پس وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی مجلس ختم کردی اور اس سے شیطان خوش ہوگیا، پس یہ اس کی عدوات اور دشمنی میں سے ہے “۔
Ayah 17:54آیت نمبر 54
قولہ تعالیٰ : ربکم اعلم بکم ؕان یشایرحکم او ان یشا یعذبکم یہ خطاب مشرکین کو ہے، اور اس کا معنی ہے : اگر چاہے تو تمہیں اسلام کی ترفیق عطا فرمادے اور تم پر رحم وکرم فرمادے، یا تمہیں شک پر موت دے دے اور تمہیں سزا اور عذاب میں مبتلاکردے : یہ ابن جریج نے کہا ہے۔ اور أعلم بمعنی علیم (خوب جاننے والا) ہے، جیسا کہ ان کا قول : اللہ اکبر میں اکبر بمعنی کبیر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطاب مومنین کے لئے ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو تم پر رحم وکرم فرمائے اس طرح کہ وہ کفار مکہ سے تمہیں محفوظ رکھے، یا اگر وہ چاہے تو وہ تمہیں ان کو تم پر مسلط کرکے سزا دے : یہ کلبی نے کہا ہے۔ ومآ ارسلنک علیھم وکیلاً یعنی ہم نے آپ کو انہیں کفر سے روکنے کے بارے میں ذمہ راد نہیں بنایا اور نہ ہم نے ان کے ایمان کو آپ کے سپرد کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہم نے آپ کو ان کفیل نہیں ننایا کہ آپ کو ان کے بدلے پکڑلیا جائے گا۔ اور شاعر نے کہا ہے :
ذکرت أبا أروی فبت کأننی برد الأمور الماضیات وکیل
اس میں وکیل بمعنی کفیل ہے۔
Ayah 17:55آیت نمبر 55
قولہ تعالیٰ : وربک اعلم بمن فی السمٰوٰت والاض ولقدفضلنا بعض النبیٖن علی بعصٍ اس قول وربک اعلم بمن کے بعد اس کا اعادہ کیا تاکہ وہ یہ واضح کردے کہ وہی ان کا خالق ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اخلاق، اشکال، احوال اور مال میں مختلف بنایا ہے : الایعلم من خلق (الملک :14) (کیا وہ نہیں جابتا جس نے پیدا کیا ہے) ۔ اور اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اسے ان کے اس حال کے بارے خوب علم ہے۔ اس بارے بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ واٰتینا داود زبورًا زبور وہ کتاب ہے جس میں حلال و حرام میں کوئی نہیں ہے، اور نہ اس میں حدود وفرائض ہیں، بلکہ وہ تو فقط دعا اور تحمیدوتمجید ہے، یعنی جس طرح ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی ہے پس محمد ﷺ کو قرآن دیئے جانے کا انکار نہ کرو اور یہ یہودیوں کے جھگڑے اور اختلاف کے بارے میں ہے۔
Ayah 17:56آیت نمبر 56
قولہ تعالیٰ : قل ادعوا الذین زعمتم من دونہٖ جب قریش کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی تم ان کو بلاؤ جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کرتے ہو اور گمان کرتے ہو کہ وہ خدا ہیں۔ اور حسن نے کہا ہے : یعنی ملائکہ، عیسیٰ اور عزیر (کوبلاؤ) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا ہے۔ یعنی جنوں کو بلاؤ۔ فلا یملکون کشف الضرعنکم یعنی وہ قحط جو سات سال تک ان پر مسلط رہا (وہ اس تکلیف کو دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ) ، یہ مقاتل کے قول کے مطابق ہے۔ ولا تحویلاً اور نہ ہی وہ اسے فقر سے غنی (خوشحالی) کی طرف اور بیماری سے صحت کی طرف بدل سکتے ہیں۔
Ayah 17:57آیت نمبر 57
قولہ تعالیٰ : اولٰئک الذین یدعون۔ اولٰئک مبتدا ہے۔ الذین، اولٰئک کی صفت ہے۔ اور صلہ کی ضمیر محذوف ہے، یدعونھم
یعنی وہ جنہیں پکارا جاتا ہے۔ اور یبتغون خبر ہے یا یہ حال ہوگا، اور الذین یدعون خبر ہے، ای یدعون إلیہ عبادا (أوعبادہ) إلی عبادتہ۔ (وہ اس کی طرف اس کے بندوں کو اس کی عبادت کے لئے پکارتے ہیں ) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے تدعون صیغہ خطاب کی بنا پر تاکہ ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے خبر کی بناء پر یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یبتغون میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ یا کے ساتھ ہے۔ اور صحیح مسلم میں کتاب التفسیر میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے قول باری تعالیٰ : اولٰئک الذی یدعون یبتغون الی ربہم الوسیلۃ کے بارے کہا ہے : جنوں کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا حالانکہ ان کی عبادت کی جاتی تھی، پس وہ جوان کی عبادت کرتے تھے ان کی عبادت اور پرستش پر باقی رہے حالانکہ جنوں کا ایک گروہ اسلام لاچکا تھا۔ اور ایک روایت میں انہوں نے کہا : اور ایک روایت میں انہوں نے کہا : یہ آیت عربوں کے ایک گروہ کے بارے نازل ہوئی وہ جنوں کے گروہ کی عبادت کرتے تھے پس جنوں سے تعلق رکھنے والے تو اسلام لے آئے اور وہ انسان جو ان کی عبادت کرتے تھے وہ یہ شعور نہیں رکھتے تھے، پس یہ آیت نازل ہوئی : اولٰئک الذین یدعون یبتغون الیٰ ربھم الوسیلۃ، اور انہی سے یہ روایت بھی ہے کہ وہ ملائکہ ہیں عرب قبائل ان کی پرستش کرتے تھے : اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد نے کہا ہے کہ وہ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) تھے۔ اور یبتغون کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے قریب اور بزدی کی کا ذریعہ تلاش کررہے ہیں، اور جنت کی طلب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع اور زاری کر رہے ہیں، اور یہی وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کردیا کہ ان کے معبود اپنے دب سے قرب اور نزدیکی تلاش کررہے ہیں۔ اور ربہم میں ھا اور میم عبادت کرنے والوں کی طرف یا معبودوں کی طرف یا ان تمام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اور رہا یدعون تو اس کی ضمیر عبادت کرنے والو کی طرف ہے۔ اور یبتغون کی ضمیر معبودوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ایھم اقرب، یبتغون میں موجود ضمیر سے بدل ہو، اور اس کا معنی یہ ہو تلاش کرنا چاہئے کہ کون سا وسیلہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہے ؟ ویرجون رحمتہ ویخافون عذابہ ان عذاب ربک کان محذورًا بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے اس سے کسی کو کوئی امان نہیں، پس چاہیئ کہ اس سے ڈرا جائے اور اس سے خوف کیا جائے۔ اور اسہل بن عبداللہ نے کہا ہے : مید اور خوف انسان پر دو زمانے ہیں، پس جب یہ دونوں برابر ہوں اس کے احوال صحیح اور درست ہوتے ہیں، اور اگر
ان میں سے ایک تدجیح پاجائے تو دوسرا باطل ہوجاتا ہے۔
Ayah 17:58آیت نمبر 58
قولہ تعالیٰ : وان قریۃٍ الانحن مھلکوھا اور کوئی ایسی بستی نہیں ہے مگر اسے خراب اور برباد کریں گے۔ قبل یوم القیٰمۃ او معذ بوھا عذابًا شیدیدًا مقاتل نے کہا ہے : اگر اس بستی کے رہنے والے نیک اور صالح لوگ ہیں تو موت کے ساتھ اس بستی کو ختم کردیں گے، اور وہ بدکار اور نافرمان ہیں تو پھر عذاب کے ساتھ اسے برباد کردیں گے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان کی ہلاکت و بربادی کا اعلان فرما دیتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے اور اگر وہ ظالموں کی بستی میں سے ہو۔ اور اسے یہ قول باری تعالیٰ تقویت دیتا ہے : وماکنا مھل کی القرٰی الا واھلھا ظٰلمان۔ (القصص) (اور نہیں ہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر یہ کہ ان کے بسنے والے ظالم ہیں۔ ) یعنی مشرکوں کو ڈرنا چاہئے، کیونکہ کافروں کی کوئی بستی نہیں ہے مگر اس میں عنقریب عذاب آئے گا۔ کان ذٰلک فی الکتب یعنی یہ فیصلہ کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہے۔ مسطورًا لکھا ہوا۔ اور السطر اس کا معنی لکھنا ہے اور یہ اصل میں مصدر ہے۔ اور السطر طا متحرکہ کیساتھ ہو تو اسی طرح ہے۔ جریر نے کہا ہے :
من شاء بایعتہ ما لی دخلعتہ ماتکمل التیم فی دیوانھم سطرا
الخلعۃ خا کے ضمہ کے ساتھ اس کا معنی مال کا اختیار ہے۔ اور السطر کی جمع اسطار ہے، جیسے سبب کی جمع اسباب ہے، پھر اس کی جمع الجمع اساطیر ہے۔ اور السطر کی جمع أسطر اور سطور ہے، جیسے أفلس اور فلوس ہیں۔ اور یہاں الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Ayah 17:59آیت نمبر 59
قولہ تعالیٰ : وما منعنآ انرسل بالاٰیٰت الا ان کذب بھا الا ولون اس کلام میں حذف ہے، اور تقدیر کلام ہے : وما منعنا أن نرسل بالآیات ألتی اقتر حوھا إلا أن یکذبوا بھا فیھلکوا کما فعل بمن کان قبلھم (اور نہیں روکا ہمیں اس امر سے کہ ہم وہ نشانیاں بھیجیں جن کو کفار نے تجویز کیا مگر اس بات نے کہ وہ انہیں جھٹلائیں اور ہلاک کردیئے جائیں جیسا کہ ان کے ساتھ کیا گیا جو ان سے پہلے تھے۔ )
اس کا یہ معنی قتادہ اور ابن جریج وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے کفار قریش سے عذاب کو مؤخر کردیا کیونکہ اس کے علم میں تھا کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ایمان لائیں گے اور ان میں وہ بھی ہیں جو مومنوں کو جنم دیں گے۔ اس کا ذکر سورة انعام وغیرہ میں گزر چکا ہے کہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے صفا کو سونے میں بدل سے اور پہاڑ ان سے دور ہٹا دیئے جائیں، تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا : اگر آپ چاہیں تو وہی ہوجائے جو آپ کی قوم نے مانگا ہے لیکن اگر یہ وہ ایمان نہ کا ئے تو پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی اور اگر آپ چاہیں تو ان کے بارے انتظار کرلیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” نہیں، بلکہ میں ان کے بارے انتظار کروں گا۔ “ اور پہلا أن محل نصب میں ہے اس لئے کہ منع ان پر واقع ہوا، اور دوسرا أن محل رفع میں ہے۔ اور بالاٰیٰت میں باء زائدہ ہے۔ اور مجاز کلام یہ ہے : ومامنعناإرسال الآیات لاتکذیب الأولین۔ (اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر پہلوں کے جھٹلانے نے) اور اللہ تعالیٰ کو کسی شے سے روکا نہیں جاسکتا، پس یہ اس معنی میں اظہار مبالغہ نہیں کرے گا متو گویا اسے اس سے روک دیا گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرمائی جو کچھ اس نے ان کے ساتھ کیا جنہوں نے نشانیوں کا مطالبہ کیا اور وہ ان کے ساتھ ایمان نہ لائے۔ پس فرمایا : واٰتینا ثمود الناقۃ مبصرۃً یعنی ہم نے قوم ثمود کو ایسی نشانی عطا فرمائی جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر انتہائی واضح اور روشن دلیل تھی، اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ فظلموابھا یعنی انہوں نے اسے جھٹلانے کے ساتھ زیادتی کی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے اس کا انکار کیا اور اسے تسلیم نہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے پس اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ساتھ انہیں تباہ برباد کردیا۔ ومانرسل بالاٰیٰت الاتخویفًا اس میں پانچ قول ہیں : (1) وہ نصائح اور معجزات جو ڈرانے والے دلائل میں سے جھٹلانے والوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل علیہم الصلوٰت والتسلیمات کے ہاتھوں پر ظاہر فرمائے۔ (2) کہ یہ گنہگاروں کو ڈرانے کے لئے انتقام کی علامات اور نشانیاں ہیں۔ (3) یہ احوال کو بچپن سے جوانی کی طرف پھر بڑھاپے کی طرف اور پھر شیخوخت کی طرف پھیرنا اور بدلنا ہے، تاکہ تو اپنے احوال کے بدلنے سے عبرت حاصل کرے اور اپنے انجام سے ڈرنے لگے : اور یہ امام احمد بن حنبل رحہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ (4) اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ (5) اس سے مراد جلدی اور تیزی سے آنے والی موت ہے) یہ قول حسن نے کہا ہے۔