17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے۔

آیت نمبر 60 قولہ تعالیٰ : واذقلنا لک ان ربک احاطہ بالناس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہاں الناس سے مراد اہل مکہ ہیں، اور اس کے انہیں گھیرنے سے مراد اس کا انہیں ہلاک کرنا ہے، یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب انہیں ہلاک کردے گا۔ اور اس کو ماضی کے لفظ کے ساتھ ذکر کرنا اس کے تحقیق اور وقوع کے یقینی ہونے کی وجہ سے ہے۔ اور وہ ہلاک کرنا جس کا وعدہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ ہے جو کچھ یوم بدر اور یوم فتح کو ہوا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احاطہ بالناس کا معنی ہے، یعنی اس کی قدرت نے ان کا احاطہ کیا ہوا ہے، پس وہ اس کے قبضے میں ہیں اور وہ اس کی مشیت سے نکلنے پر قدرت نہیں رکھتے : یہ حضرت مجاہد اور ابن ابی نجیح نے کہا ہے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے اس کا معنی ہے اس کے علم نے لوگوں کو گھیرا ہوا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگو سے ذپ کی حفاظت اور نگہبانی فرمائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں یہاں تک کہ آپ اپنے رب کا پیغام پہنچادیں، یعنی ہم نے آپ کو ان نگران اور محافظ بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ آپ پر تبلیغ کرنے اور پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہے، پس آپ اپنی محبت اور کوشش کے ساتھ تبلیغ کریں کیونکہ ہم آپ کو ان اسے بچائیں گے اور ہم آپ کی حفاظت کریں گے، پس آپ ان سے نہ ڈریں اور وہ کام کریں تبلغ رسالت میں سے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے، پس ہماری قدرت تمام کو محیط اور گھیرے ہوئے ہے : اس کا یہ معنی حضرت حسن، عروہ اور قتادہ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : وماجعلنا الرءیا التی ارینٰک الافتنۃً للناس جب یہ بیان کیا کہ قرآن کریم کی آیات کو نازل کرنا ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کو متضمن ہے تو اس کے ساتھ آیۃ الاسراء کا ذکر ملادیا، اور وہ آیت اس سورت کے آغاز میں مذکور ہے۔ صحیح بخاری اور ترمذی میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے قول باری تعالیٰ : وما جعلنا الرءیا التی ارینٰک الافتنۃ للناس کے تحت فرمایا : یہ آنکھ کے ساتھ دیکھا ہے جو حضور نبی مکرم ﷺ کو اس رات دکھایا گیا جس رات آُ کو بیت المقدس کی طرف لے جایا گیا۔ فرمایا : والشجرۃ الملعونۃ فی القراٰن یہ زقوم (تھور) کا ردخت ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی (رح) نے کہا ہے : یہ حدیث صحیح ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی مثل ہی حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت معاویہ، حسن، مجاہد، قتادہ، سعید بن جبیر، ضحاک، ابن ابی نجیح اور ابن زید ؓ نے کہا ہے۔ اور فتنہ سے مراد قوم کا مرتد ہوتا ہے جو اسلام لاچکے تھے ( اور اس وقت مرتد ہوگئے) جب نبی مکرم ﷺ نے انہیں خبر دی کہ انہیں معراج پر لے جایا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ حالت نیند کی رؤیت ہے۔ اور یہ آیت اس قول کے فاسد ہونے کا تقاضا کرتی ہے، اور وہ اس لئے کہ حالت خواب میں دیکھنے میں کوئی فتنہ نہیں ہے۔ اور کوئی بھی نہیں ہے جو اس کا انکار کرے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اس آیت میں جس رؤیا کا ذکر ہے وہ رسول اللہ ﷺ کا حدیبیہ کے سال میں یہ دیکھنا ہے کہ آیت مکہ مکر مکہ میں داخل ہوں گے، لیکن آپ کو واپس لوٹا دیا گیا پس مسلمان اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوگئے، تب یہ آیت نازل ہوئی، پس جب آئندہ سال آیا تو آپ اس میں داخل ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : لقد صدق اللہ رسولہ الرءیا بالحق (الفتح : 27) (یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ) اس تاویل میں ضعف ہے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور وہ نظارہ آپ نے مدینہ طیبہ میں دیکھا تھا۔ اور تیسری روایت میں آپ نے کہا آپ ﷺ نے خواب میں بنی مروان کو دیکھا کہ وہ آپ کے منبر پر بندروں کے کودنے کی طرح کود رہے ہیں، تو آپ کو یہ بہت برا لگا تو کہا گیا : بلاشبہ یہ دنیا ہے جو انہیں عطا کی گئی ہے، پس آپ سے فکر دور کردی گئی، اور آپ کا مکہ مکرمہ میں کوئی منبر نہ تھا لیکن یہ جائز ہے کہ آپ نے مکہ مکرمہ میں مدینہ منورہ والے منبر کا نظارہ دیکھا ہو۔ اور یہ تیسری تاویل حضرت سہل بن سعد نے بھی بیان کی ہے۔ حضرت سہل (رح) نے کہا ہے : بیشک یہی نظارہ وہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبی امیہ کو اپنے منبر پر بندروں کے کودنے کی طرح کودتے دیکھا، تو آپ اس سے غمزدہ ہوگئے، اور اس دن سے آپ کھل کر نہ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہوگیا، پس یہ آیت اس کی خبر دینے کے لئے نازل ہوئی کہ ان کی بادشاہی اور ان کے غالب آنے کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے فتنہ (آزمائش) اور امتحان بنادے گا۔ اور امام حسن بن علی ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کے ہاتھ پر اپنی بیعت کے بارے میں اپنے خطبہ میں پڑھا : وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الیٰ حین (الابنیاء) (اور میں کیا جانوں (اس ڈھیل سے) شاید تمہارا امتحان لینا اور ایک وقت تک تمہیں لطف اندروز کرنا مطلوب ہو) ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ تاویل محل نظر ہے۔ اور اس رویا میں حضرت عثمان، حضرت عمر بن عبدالعزیز، اور حضرت معاویہ ؓ داخل نہیں ہیں۔ قولہ تعالیٰ : و الشجرۃ الملعونۃ فی القراٰن اس میں تقدیم وتاخیر ہے، یعنی ماجعلنا الرؤیا ألتی أریناک والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن إلافتنۃ للناس۔ (ہم اس نظارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا اور اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے نہیں بنایا مگر لوگوں کے لئے آزمائش) اور اس کا فتنہ یہ تھا کہ انہیں جب اس کے ساتھ خوفزدہ کیا گیا تو ابوجہل نے استہزا کیا : یہ محمد ﷺ ہیں تمہیں ایسی آگ سے ڈرا رہے ہیں جو پتھروں کو جلاتی ہے، پھر یہ گمان کرتے ہیں کہ درختوں کو اگاتی ہے حالانکہ آگ درختوں کو کھاتی ہے، اور ہم زقوم کو نہیں پہچانتے مگر یہ کہ وہ کھجور اور مکھن ہے، پھر ابوجہل نے اپنی لونڈی کو حکم دیا پس وہ کھجور اور مکھن لے آئی اور اس نے اپنے ساتھیوں کو کہا : تزقموا زقوم کھاؤ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ قول کہ ہم زقوم کو نہیں جانتے مگر کھجور اور مکھن، کہنے والا ابن زبعری ہے جس وقت اس نے کہا : کثر اللہ من الزقوم فی راد کم (اللہ تعالیٰ تمہارتے گھر میں زقوم زیادہ کرے) ، کیونکہ لغت یمن میں اس سے مراد مکھن اور کھجور ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں نے اس طرح کہا ہو۔ پس بعض ضعیف اور کمزور لوگ اس قول کی وجہ سے بھی آزمائش اور فتنہ میں پڑگئے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خبر دی ہے کہ بیشک واقعہ معراج اور زقوم کے درخت کے ذکر کو آزمائش اور امتحان بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ کافر ہوجائے جس پر کفر سبقت لے گیا ہے اور وہ تصدیق کرلے جس کے لئے ایمان سبقت لے گیا ہے۔ (یعنی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کافر ہے وہ انکار کردے اور جو مومن ہے وہ تصدیق کردے۔ ) جیسا کہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو معراج کی صبح کہا گیا : بیشک آپ کا ساتھی کہہ رہا ہے کہ وہ گزشتہ رات بیت المقدس میں سے ہو آیا ہے ! تو آپ نے فرمایا : ان کان قال ذالک فقد صدق اگر آپ نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔ تو آپ کو کہا گیا : کیا آپ ان کی تصدیق کررہے ہیں اس سے پہلے کہ آپ ان سے سنیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : تمہاری عقلیں کہاں ہیں ؟ میں آسمان کی خبر کے بارے ان کی تصدیق کرتا ہوں، تو میں بیت المقدس کی خبر کے بارے کیسے ان کی تصدیق نہیں کروں گا، حالانکہ آسمان اس سے بہت زیادہ دور ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ خبر ابن اسحاق نے ذکر کی ہے، اور انہوں نے بیان کیا ہے : فرمایا حضور نبی مکرم ﷺ کے سفر معراج کے بارے میں جو حدیث مجھ تک پہنچی ہے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو خدری، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان، حسن بن ابیالحسن، ابن شہاب زہری اور قتادہ ؓ ان کے علاوہ دیگراہل علم اور حضرت ام ہانی سے مروی ہے، جو کچھ اس حدیث میں جمع ہے، ہر کوئی ان بعض امور کو بیان کرتا ہے جو حضور نبی مکرم ﷺ کے واقعہ اسراء کے وقت بیان کئے گئے، اور آپ ﷺ کے سفر اسراء میں اور جو کچھ اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس میں آزمائش، امتحان اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی سلطنت سے متعلقہ امور میں سے کئی امور ہیں، اس میں صاحب عقل لوگوں کے لئے سامان عبرت ہے، اور ان کے لئے ہدایت، رحمت اور اثبات ہے جو ایمان لائے اور تصدیق کی۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ امر تو یقینی ہے کہ اس نے آپ ﷺ کو سیر کرائی جیسے چاہی اور جہاں تک چاہی تاکہ وہ آپ ﷺ کو اپنی وہ نشانیاں دکھائے جن کا اس نے ارادہ کیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے امر، اس کی عظیم سلطنت اور اس کی وہ قدرت جس کے ساتھ وہ جو چایتا ہے کرتا ہے کا معائنہ اور مشاہدہ کیا۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس روایت میں جو ان سے مجھ تک پہنچی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس براق لایا گیا۔۔۔۔ اور یہ وہ جانور ہے جس پر آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو اٹھا یا جاتا رہا وہ اپنا قدم اپنی حدنگاہ پر رکھتا ہے۔۔۔۔ پس آپ ﷺ کو اس پر سوار کیا گیا، پھر اس کا صاحب (لانے والا) اسے لے کر نکلا آپ آسمان و زمین میں موجود علامات اور آیات دیکھتے رہے، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس تک پہنچ گئے، تو اس میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو گروہ انبیاء میں دیکھا وہ آپ کے لئے گئے تھے تو آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی پھر آپ کے پاس تین برتن لائے گئے : ایک برتن میں دودھ تھا، ایک برتن میں شراب تھی، اور ایک برتن میں پانی تھا۔ انہوں نے بیان کیا ؛ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سو میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا جس وقت وہ مجھ پر پیش کئے گئے کہ اگر انہوں نے پانی لیا تو غرق ہوجائیں گے اور ان کی امت بھی غرق ہوجائے گی، اور اگر انہوں نے شراب پکڑی تو گمراہ ہوجائیں گے اور ان کیا امت بھی گمراہ ہوجائے گی، اور اگر انہوں نے دودھ لیا تو خود بھی ہدایت پا جائیں گے اور ان کی امت بھی ہدایت پاجائے گی “۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” پس میں نے دودھ والا پی لیا تو جبرائیل امین نے مجھے کہا :” اے محمد ! ﷺ آپکی راہنمائی کردی گئی اور آپکی امت کی بھی راہنمائی کردی گئی۔ “ ابن اسحاق نے کہا ہے : میں نے حسن سے حدیث نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اس اثنا میں کہ میں حجرے میں سو رہا تھا میرے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے اپنے پاؤں کے ساتھ مجھے دبایا تو میں بیٹھ گیا لیکن میں نے کوئی شے نہ دیکھی پھر میں اپنے بستر کی طرف لوٹ گیا پھر وہ دوسری بار میرے پاس آئے اور انہوں نے اپنے پاؤں کے ساتھ مجھے دبایا تو میں بیٹھ گیا لیکن میں نے کوئی شے نہ دیکھی پھر میں نے اپنے بستر کی طرف لوٹ گیا۔ پھر وہ تیسری بار میری طرف آئے اور اپنے قدموں کے ساتھ مجھے دبایا تو میں پیٹھ گیا اور انہوں نے میرا بازو پکڑا لیا اور میں ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور وہ مسجد کے دروازے کی طرف نکل گئے وہاں سفید رنگ کا جانور تھا جو (قد میں) خچر اور گدھے کے ردمیان تھا اس کی رانوں پر دو پر تھے وہ انہیں اپنی ٹانگوں پر مارتا تھا اور اپنا قدم اپنی انتہائے نگاہ پت رکھتا تھا پس انہوں نے مجھے اس پر سوار کردیا پھر میرے ساتھ نکل پڑے پھر نہ وہ مجھ سے الگ ہوئے اور نہ میں ان سے الگ ہوا۔ “ ابن اسحاق نے بیان کیا ہے اور مجھے حضرت قتادہ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا، مجھے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب میں اس کے قریب ہوا کہ میں اس پر سوار ہوں تو وہ اچھلنے اور بدکنے لگا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اس کی کلغی والی جگہ پر رکھا اور فرمایا : اے براق ! کیا تو اس سے حیا نہیں کرتا جو تو کررہا ہے ؟ قسم بحدا ! حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ تجھ پر سوار نہیں ہوا جوان سے زیادہ معزز ومکرم ہو، فرمایا : پس اسے حیاء آگئی یہاں تک کہ پسینہ بہنے لگا پھر وہ پرسکون ٹھہر گیا اور میں اس پر سوار ہوگیا۔ “ حسن نے اپنی حدیث میں کہا ہے : پس رسول اللہ ﷺ چلے اور ان کے ساتھ جبرائیل امین بھی چلتے رہے یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچ گئے، پس وہاں آپ نے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو گروہ انبیاء (علیہم السلام) میں پایا، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کی امامت کرائی اور انہیں نماز پڑھائی پھر آپ کے پاس دو برتن لائے گئے : ان میں سے ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا، فرمایا : پس رسول اللہ ﷺ نے دودھ کا برتن پکڑلیا اور اس سے پی لیا اور شراب کا برتن چھوڑدیا۔ راوی نے کہا : تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو کہا : آپ کی راہنمائی فطرت کی طرف کردی گئی اور آپ کی امت کو ہدایت دے دی گئی اور تم پر شراب حرام کردی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹ کر آئے، پس جب صبح کی اور قریش کی ملاقات ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں واقعہ کی خبر دی، تو اکثر لوگوں نے کہا : قسم بخدا ! یہ معاملہ تو بین اور واضح ہے ؟ قسم بخدا ! بیشک ایک قافلہ مکہ سے شام کی طرف مسلسل ایک مہینہ چلتا ہے ایک مہینہ جاتے ہوئے اور ایک مہینہ واپس آتے ہوئے، اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ وہاں ایک رات میں جاتے ہیں اور مکہ کی طرف واپس بھی لوٹ آتے ہیں ! راوی نے بیان کیا : پس سے وہ مرتد ہوگئے جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف گئے : اے ابوبکر ! کیا تجھے اپنے ساتھی کے بارے خبر ہے ؟ اس کا خیال ہے کہ وہ اس رات بیت المقدس آیا، اور اس میں نماز پڑھی اور واپس مکہ لوٹ آیا۔ تو حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے فرمایا : بیشک تم ان کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہو، تو انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ وہ وہاں مسجد میں بیٹھے لوگوں سے بیان کررہا ہے۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : قسم بخدا ! اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو یقیناً وہ سچ ہے اس میں سے کون سی شے تمہیں تعجب میں ڈال رہی ہے ؟ قسم بخدا ! بلاشبہ وہ مجھے خبر دیتے ہیں کہ یہ خبر آسمان سے زمین کی طرف رات یا دن کی ایک ساعت میں آتی ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں، تو یہ اس سے بہت بعید اور دور ہے جس سے تم تعجب کررہے ہو۔ پھر آپ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے اور عرض کی : یا نبی اللہ ! ﷺ کیا آپ نے انہیں یہ بیان کیا ہے کہ آپ اس رات بیت المقدس تشریف لے گئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں “ آپ نے عرض کی : یانبی اللہ ! ﷺ آپ اس کے بارے مجھے بیان فرمایئے، کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہوا ہے پس حسن نے بیان کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اسے میرے لئے اٹھایا گیا یہاں تک کہ میں اسے دیکھنے لگا۔ “ اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سامنے اس کی ہئت بیان فرمانے لگے اور ابوبکر ؓ کہنے لگے : آپ نے سچ فرمایا ہے، میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جب بھی آپ اس میں اس میں سے کوئی شے بیان فرماتے تو یہ کہتے : صدقت، أشھد أنک رسول اللہ (آپ نے سچ فرمایا ہے، میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ) راوی نے بیان کیا : یہاں تک جب بات مکمل ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو فرمایا : وأنت یا ابابکر الصدیق (اے ابابکر تو تو صدیق ہے) پس اس دن آپ نے آپ کا نام صدیق رکھ دیا۔ حسن نے بیان کیا ہے : اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے یہ آیت نازل فرمائی جو اس وجہ سے اسلام سے مرتد ہوگئے : وما جعلنا الرءیا التیٓ ارینٰک الا فتنۃ للناس الشجرۃ الملعونۃ فی القراٰن ونخوفھم فما یزید ھم الا طغیاناً کبیرًا۔ پس یہ رسول اللہ ﷺ کے واقعہ اسراء کے بارے حسن کی حدیث ہے اور کچھ اس میں حضرت قتادہ کی حدیث سے بھی داخل ہے، اور ان سے باقی واقعہ معراج کا ذکر کتب میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ درخت بنو امیہ ہیں، اور یہ کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حکم کو شہر بدر کردیا۔ یہ قول ضعیف اور من گھڑت ہے اور یہ سورت مکی ہے، اور یہ تاویل بعید ہے، مگر اس صورت میں کہ یہ آیت مدنی ہو، لیکن یہ ثابت نہیں۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے مروان کو کہا تھا : اللہ تعالیٰ نے تیرے باپ پر لعنت کی ہے اور تو اس کی صلب میں تھا پس تو بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بعض اور جز ہے۔ پھر فرمایا : والشجرۃ الملعونۃ فی القراٰن اور قرآن میں اس درخت پر لعنت جائز نہیں، لیکن (اس طرح کہ) اللہ تعالیٰ نے کفار پر لعنت کی ہے اور وہ اسے کھانے والے ہیں۔ اور اس کا معنی ہے : والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن آکلوھا۔ (اور وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے وہ اسے کھانے والے ہیں) اور یہ بھی ممکن ہے کہ عربوں کے اس قول کی بنا پر ہو کہ وہ ہر ناپسند اور نقصان دہ کھانے کے لئے کہتے ہیں : ملعون ( اس پر لعنت کی گئی ہے۔ ) اور حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا : الشجرۃ الملعونہ سے مراد وہی درخت ہے جو درختوں پر لپٹ جاتا ہے اور انہیں ماردیتا ہے (یعنی خشک کردیتا ہے) مراد الکشوث ہے (یعنی ایک قسم کی گھاس ہے جو کانٹوں اور درختوں پر لپٹی ہوتی ہے نہ اس کی جڑ ہوتی ہے نہ اس کے پتے ہوتے ہیں۔ المنجد) ونخوفھم اور ہم انہیں زقوم (تھور) کے ساتھ ڈراتے ہیں۔ فما یزیدھم اور یہ ڈرانا سوائے ھفر کے ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتا۔
Ayahs 17:61–62

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا بولا بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

آیت نمبر 61 تا 62 قولہ تعالیٰ : واذقلنا للملٰٓئکۃ اسجدو الاٰدم شیطان کے انسان کا دشمن ہونے کا ذکر پہلے ہوچکا ہے، پس کلام کو ذکر آدم کی طرف متوجہ کیا۔ اور اس کا معنی ہے : ان مشرکین کی سرکشی اور اپنے رب کے بارے میں ان کی رعونت کے ساتھ ابلیس کے قصہ کو یاد کرو جس وقت اس نے رب کی نافرمانی کی تھی اور سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا ؛ اور وہ کہا جو کہا، اور وہ وہ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں دی ہے : فسجدوٓا الا ابلس قالء اسجد لمن خلقت طینا یعنی کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو کیچڑ سے پیدا کیا ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے بحث سورة البقرہ اور الانعام میں مکمل طور گزرچکی ہے۔ قال ارء یتک یعنی یہ ابلیس نے کہا۔ اور اس میں کاف خطاب کی تاکید کے لئے ہے۔ (اس نے کہا : مجھے بتا) ھٰذاألذی کر مت علی یعنی یہ آدم ہے جسے تو نے مجھ پر فضلیت دی ہے۔ اس نے آگ کے جوہر کو کیچڑ اور مٹی کے جوہر سے بہتر کے جو ہر سے بہتر دیکھا اور اسے یہ علم نہ ہوا کہ جو اہر متماثل اور برابر ہیں۔ یہ اعراف میں گزرچکا ہے۔ اور ھذا، أرأیت کے سبب منصوب ہے۔ اور الذی اس کی صفت ہے۔ اور الاکرام : ایسا اسم ہے جو ہر اس شے کو جماع ہے جس کی تعریف کی جارہی ہو۔ اور کلام میں حذف ہے تقدیر عبارت یہ ہے : أخبرنی عن ھذا الذی فضلتہ علی (مجھے اس کے بارے خبر دے جسے تو نے مجھ پت فضیلت دی ہے) تو نت اسے کیوں فضیلت دی ہے حالانکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اسے تو نے کیچڑ سے پیدا کیا ہے ؟ سامع کو علم ہونے کی وجہ سے کلام کو حذف کردیا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تقدیر حذف کی کوئی حاجت نہیں مجھے بتا تو سہی کیا تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی ہے میں ضرور اس کے ساتھ اس اس طرح کروں گا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق لاحتنکن کا معنی ہے : میں ان پر غالب آجاؤں گا۔ اور یہ فراء نے بھی کہا ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : میں ضرور انہیں کرلوں گا۔ ابن زید نے کہا ہے : اس کا معنی ہے انہیں گمراہ کروں گا۔ اور اس کا معنی قریب قریب ہے، یعنی میں اس کی اولاد کو بھٹکانے اور گمراہ کرنے کے سبب جڑ سے اکھیڑ دوں گا، اور ضرور انہیں ہلاک وبرباد کردوں گا۔ اور عربوں سے مروی ہے : احتک الجراد الزرع جب ٹڈی دل (مکڑی) ساری کھیتی کو تباہ کر دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے انہیں ضرور چلاؤں گا جہاں میں چاہوں گا اور میں انہیں ادھر ہی کھینچوں گا جہاں کا میں نے ارادہ کیا۔ یہ ان کے اس قول سے ماخوذ ہے : حنکت الفرس أخن کہ وأحنکہ حنکا جب تو گھوڑے کے منہ میں رسی ڈال لے اور اسی طرح إحتنکہ بھی ہے اور پہلا قول اس کے قریب ہے، کیونکہ وہ کھیتی پر تباہی و بربادی لاتا ہے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے : أشکوا إلیک سنۃ قد أجحفت جھدأ إلی جھد بنا وأضعفت واحتنکت أموائنا واجتلفت اس میں آجتنک ہلاک اور برباد کرنے کے معنی میں ہی ہے۔ الاقلیلاً مراد وہ ہیں جو مخفوظ اور بچے ہوئے ہیں، اور وہ وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں فرمایا ہے : ان عبادی لیس لک علیھم سلطٰن (الحجر : 42) (بےشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔ ) ابلیس نے یہ ظنا کہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ (السبا :20) ( اور بیشک سچ کردکھایا ان (ناشکروں) پر شیطان نے اپنا گمان) یا اس نے انسان کی طبع اور مزاج کو جان لیا کہ ان میں شہوت رکھی ہوئی ہے، یا اس نے ملائکہ کے اس قول پر بنیاد رکھی : اتجعل فیھا من یفدس فیھا (البقرہ :30) (کیا تو مقرر کرتا ہے زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں ) ۔ اور حسن نے کہا ہے : یہ اس کا ظن اور ھمان ہے کیونکہ اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) میں وسوسہ اندازی کی اور اس نے انہیں پختہ عزم نہ پایا۔
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزاء جہنم ہے (اور وہ) بری سزا ہے۔

آیت نمبر 63 قولہ تعالیٰ : قول اذھب یہ امر برائے اہانت (و حقارت) ہے، یعنی تو پوری کوشش کرلے تحقیق ہم تجھے دیکھ لیں گے۔ فمن تبعک اولاد آدم میں سے جس نے تیری اطاعت وپیروی کی۔ فان جھنم جزآؤکم جزآءً موفورًا تو بیشک جہنم تم سب کی پوری اور وافر سزا ہے۔ یہ معنی حضرت مجاہد (رح) وغیرہ سے منقول ہے۔ اور یہ مصدر ہونے کی بناء پر منصوب ہے، کہا جاتا ہے : وفرتہ أفرہ وفرا (میں نے اسے پورا کردیا) ، اور قفر المال بنفسہ یفروفورا فھو وافر (مال خود بخود پورا ہوگیا) ، پس یہ لازم بھی ہے اور متعدی بھی
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔

آیت نمبر 64 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واستفزز یعنی تو پھسلا اور دور ہٹا اور اس کا اصل معنی لقطع (کاٹنا) ہے۔ اور اسی سے ہے تفزز الثواب جب کپڑا کٹ جائے، اور اس کا معنی ہے تو اسے حق سے کاٹ کر (یعنی گمراہ کرکے) اسے پھسلا دے۔ اور استفزہ الخوف یعنی خوف نے اسے ہلکا کردیا، دور ہٹادیا اور قعد مستوفزًا یعنی وہ غیر مطمئن بیٹھا۔ واستفزز یہ امر برائے تعجیز (عاجز کرنے کے لئے) ہے، یعنی تو کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا، اور نہ تجھے کسی پر کوئی غلبہ ہوسکتا ہے پس تو جو چاہے کرلے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : بصوتک اور اس کی آواز ہر وہ داعی ہے جو اللہ تعالیی کی معصیت و نافرمانی کی طرف بلاتا ہے، دعوت دیتا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : گیت، بانسری، اور لہو (ولہب) ہے۔ ضحاک (رح) نے کہا ہے : بانسری کی آواز مراد ہے۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہابیل کی اولاد کو پہاڑ کی چوٹی پر سکونت دی، اور قابیل کی اولاد کو اس کے نیچے رکھا، اور ان میں حسین و جمیل بیٹیاں تھیں، پس شیطان لعین نے بانسری بجائی اور وہ نیچے اترنے سے آپ کو روک نہ سکے پس انہوں نے بدکاری کی : اسے غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے۔ بصوتک سے مراد ہے تو اپنے وسوسہ کے ساتھ۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : واجلب علیھم بخیلک ورجلک، الاجلاب کا اصل معنی ہے السوق بجلبۃ من السائق (ہانکنے والے کا کسی چیز کو سختی سے ہانک کرلے آنا) ، کہا جاتا ہے : أجلت اجلاباً (وہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھا) اور الجلب اور الجلبۃ کا معنی آوازیں (شوروشغب) ہے۔ تو اسی سے کہتا ہے : جلبوا (یعنی تشدید کے ساتھ) انہوں نے شور مچایا۔ اور جلب الشئ یجلبہ ویجلبا وجلبا (اس نے شے کو ہانکا) اور جلبت الشئ إلی نفسی اور إجتلبتہ دونوں کا معنی ایک ہے۔ اور أجلت علی العدوإجلاباً ، یعنی اس نے دشمن پر دھاوا بول دیا (یکبارگی حملہ کردیا ) ۔ پس آیت کا معنی یہ ہوا تو ان پر دھاوا بول دے جب بھی تو اس پر اپنے مکروفریب سے قدرت رکھے۔ اور اکثر مفسرین نے کہا ہے : مراد اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی میں ہر گھوڑ سوار اور پیدل چلنے والا ہے۔ اور حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : بیشک جنوں اور انسانوں میں سے اس کے گھوڑ سوار اور پیدل (دستے) ہیں، پس جو بھی گھوڑ سوار پیدل چلنے والا اللہ تعالیٰ کی معصیت ونافرمانی میں قتال کرتا ہے تو وہی ابلیس کے گھوڑ سوار اور پیدل دستے ہیں، اور حضرت سعید بن جبیر اور حضرت مجاہد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہر وہ گھوڑا جو اللہ تعالیٰ ی معصیت میں چلا، اور ہر وہ پاؤں جو اللہ تعالیٰ کی مصیت ونافرنانی میں چلا، اور ہر وہ مال جو حرام سے حاصل کیا گیا، اور ہر وہ بچہ جو بدکار اور باغی ہو تو وہ شیطان کے لئے ہے۔ اور الرجل واجل کی جمع ہے (پیدل) جیسا کہ صحب صاحب کی جمع ہے۔ اور حفص نے ورجلک جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں، کہا جاتا ہے : رجل ورجل بمعنی راجل (پیدل چلنے والا) ۔ اور حضرت عکرمہ اور قتادہ نے ورجالک صیغہ کے ساتھ قرأت کی ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ وشارکھم فی الاموال والا ولاد یعنی تو اپنے آپ کو ان میں شریک بنالے، پس اموال میں اس کی شرکت انہیں اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی میں خرچ کرنا ہے : یہ حسن نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہ ا گیا ہے : یہ شرکت وہ ہے جس کے سبب وہ مالوں کو غیر حلال تک پہنچادیں : یہ حضرت مجاہد نے کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : یہ وہ ہے جو وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اور یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ ضحاک (رح) نے کہا ہے : یہ وہ جانور مراد ہیں جنہیں وہ اپنے بتوں کے نام پت ذبح کرتے تھے۔ اور اولاد میں شرکت کے بارے یہ کہا گیا ہے کہ مراد زنا سے پیدا ہونے والی اولاد ہے : یہ حضرت مجاہد، ضحاک اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور انہین سے یہ بھی ہے : مراد وہ ہے جو انہوں نے اپنے بچوں میں سے قتل کئے اور ان میں جرائم پیدا کردیئے۔ اور اس کے بارے میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد ان کا عبدالحارث، عبدالعزی، عبدالحارث، عبد الللات اور عبد سمش وغیرہ نام رکھنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کا اپنے بچوں کو کفر میں رنگنا ہے یہاں تک کہ انہوں نے انہیں یہودی بنادیا اور انہیں عیسائی بنا دیا جیسا کہ عیسائی اپنے بچوں کو اس پانی میں ڈبونے کا عمل کرتے تھے جو ان کے لئے تیار کرتے : یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے : اور پانچواں قول ہے۔ حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے انہوں نے کہا : جب آدمی جماع کرے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو جن (شیطان) اس کے خشفہ کے ساتھ لپیٹ جاتا ہے اور وہ بھی اس کے ساتھ جماع کرتا ہے، اور اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لم یطمثھن انس قبلھم ولاجآن۔ (الرحمٰن) (جن کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے ) ۔ اس کا بیان آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حدیث مرومی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک تم میں مغربین ہیں “۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ مغربون کون ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” وہ لوگ جن میں جن شریک ہوجاتے ہیں “ اے حکیم ترمذی نے نو ادرالاصول میں روایت کیا ہے۔ ہر وی نے کہا ہے : پس جنوں کے انسانوں کیساتھ بعض امور اور میل جول میں مفاجر ہوتے ہیں پس ان میں بعض کی ان میں شادی ہوتی ہے اور سبا کی ملکہ بلقیس کے والدین میں سے ایک جنوں میں سے تھا اسکابیان انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئیگا مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ : وعدھم یعنی انہیں جھوٹی امیدیں دلا، اور یہ کہ کوئی قیامت نہیں اور نہ کوئی حساب ہے، اور یہ کہ اگر حساب، جنت اور جہنم ہوئے بھی تو بھی دوسروں کی نسبت تم جنت کے زیادہ مستحق اور اہل ہو۔ اس معنی کو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مزید قوت دیتا ہے : یعدھم ویمنیھم وما یعد ھم الشیطٰن الاغرورًا۔ (النساء) (شیطان (جھوٹے) وعدے کرتا ہے ان سے اور (غلط) امیدیں دلاتا ہے انہیں اور نہیں وعدہ کرتا شیطان مگر فریب کا) یعنی شیطان ان سے صرف باطل وعدہ کرتا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : وعدھم یعنی تو ان کی مدد نصرت کا وعدہ کر ہر اس کے خلاف جو ان کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے۔ اور یہ امر شیطان کے لئے جھڑک اور سخت وعید ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اسے اور اس کی اتباع کرنے والوں کو حقیر اور ہلاک سمجھنا ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ اس آیت میں وہ بھی ہے جو بانسری، گیت، گانے اور لہو (ولہب) کے حرام ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واستفزز من استطعت منھم بصوتک واجلب علیھم یہ حضرت مجاہد (رح) کے قول کے مطابق ہے۔ اور ہر وہ شیطان کی آواز یا اس کے فعل سے ہو اور وہ چیز جسے وہ اچھا سمجھتا ہو اس سے بچنا واجب ہے۔ حضرت نافع (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں رکھ لیں اور راستے سے اپنی سواری کو پھیرلیا اور یہ کہنے لگے : اے نافع ! کیا تو سن رہا ہے ؟ تو میں نے کہا : ہاں، پس آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا : نہیں، پس اپنے ہاتھ رکھ دیئے اور اپنی سواری کو اپنے راستے پر لوٹا دیا۔ اور فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : جب اس آواز کے حق میں ان کا فعل اور عمل یہ ہے جو اعتدال سے نہیں تکلتی، تو پھر اس زمانے کے باسیوں کے گانے اور ان کی بانسری، بجانے کے بارے کیفیت اور حالت کیا ہوگی ؟ اس کا مزید بیان سورة لقمان میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر ﷺ تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

آیت نمبر 65 قولہ تعالیٰ : ان عبادی لیس لک علیھم سلطٰن حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ مومنین ہیں۔ اس پر بحث پہلے گزرچکی ہے۔ وکفیٰ بربک وکیلاً یعنی تیرا رب قبول کرکے ابلیس سے بچانے کے لئے، اس کے فریب اور اس کے مکر کی برائی سے حفاظت کرنے کے لئے کافی ہے۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے

آیت نمبر 66 قولہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر، الإزجاء کا معنی ” چلانا “ ہے۔ اور اسی سے یہ قول باری تعالیٰ بھی ہے : الم تران اللہ یزجی سجابًا (النور : 43) (کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ لے جاتا ہے بادل کو ) ۔ اور شاعر نے کہا ہے : یأیھا الراکب المزجی مطیتہ سائل نبی أسد ما ھذہ الصوت تو اس میں بھی مزجی چلانے والے کے معنی میں ہے۔ اور ازجاء الفلک کا معنی ہے کشتیوں کو نرم ہوا کے ساتھ چلانا۔ اور الفلک یہاں جمع ہے، اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور البحر سے مراد کثیر پانی ہے چاہے وہ میٹھا ہو یا نمکین ہو، اور یہ اسم مشہور معنی پر غالب ہے۔ اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے بندوں پر اسکے فضل وکرم کے بارے واقفیت دلاتی ہے، یعنی تمہارا رب وہ ہے جسنے تم پر اس اسطرح کی نعمتیں فرمائی ہیں پس تم اس کیساتھ کسی شی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ لتبتغوا من فضلہٖ تاکہ تم تجارت میں اسکا فضل تلاش کرو۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ انہ کان بکم رحیماً ۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔

آیت نمبر 67 قولہ تعالیٰ : واذمسکم الضر فی البحر، والضر کا لفظ غرق ہونے اور چلنے سے روکنے کے خوف اور اس کے حالات کے خوفناک ہونے (یعنی) اس کے اضطراب اور اس کے موجیں مارنے وغیرہ سبھی کو شامل ہے۔ ضل من تدعون الا ایاہ، ضل اس کا معنی ضائع ہونا اور مفقود ہونا، اور گم ہونا ہے اور یہ ان کی تحقیر سے عبارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا بطور الہٰ پکارا جاتا ہے۔ اور اس آیت میں اس کا معنی یہ ہے کہ کفار بلاشبہ اپنے بتوں کے بارے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ شفاعت اور سفارش کرنے والے ہیں، اور یہ کہ ان کو فضیلت حاصل ہے، اور ان میں سے ہر ایک فطرت کے مطابق یہ علم رکھتا ہے جو وہ اپنے دفاع پر قدرت نہیں رکھتا کہ ان بڑی بڑی مصیبتوں اور تکلیفوں میں بتوں کا کوئی عمل اور فعل نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس سے متعلق سمندر کی حالت پر انہیں واقفیت دلائی کہ جہاں حیلے اور وسائل کٹ جاتے ہیں، ختم ہوجاتے ہیں۔ فلما تجکم الی البراعر ضتم پس جب وہ تمہیں خلاصی عطا فرما کر ساحل پر پہنچا دیتا ہے توط تم در گردانی کرنے لگتے ہو۔ وکان الانسان کفورًا (اور انسان (واقعی) بڑا ناشکرا ہے) یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : نعمتوں کی ناشکری انسان کی طبع اور مزاج ہے سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ بچالے۔ پس یہاں انسان بطور جنس کے مذکور ہے۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔

آیت نمبر 68 قولہ تعالیٰ : افامنتم ان یخسف بکم جانب البر یہ بیان فرمایا کہ وہ خشکی میں بھی انہیں ہلاک کرنے پر قادر ہے اگرچہ وہ سمندر سے صحیح سالم بچ جائیں۔ اور الخسف کا معنی ہے زمین کا کسی چیز کے ساتھ دھنس جانا) ۔ کہا جاتا ہے : بئر خسیف جب کنوئیں کی اصل اور بنیاد گرجائے۔ اور عین خاسف یعنی آنکھ کی سیاہی سر میں دھنس گئی اور عین من الماء خاسفۃ یعنی چشمے کا پانی دھنس گیا۔ اور خسفت الشمس یعنی سورج زمین سے چھپ گیا (سورج کو گرہن لگ گیا) ۔ اور ابوعمر و نے کہا ہے : الخسیف وہ کنواں ہے جو پتھروں میں کھودا جاتا ہے۔ اور اس کا پانی کثیر اور زیادہ ہونے کے سبب ختم نہ ہو۔ اور اس کی جمع خسف ہے۔ اور جانب البر سے مراد زمین کا کنارہ ہے۔ اور اس کا نام جانب رکھا ہے کیونکہ وہ دھنسنے کے بعد جانب (کنارہ) ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی کہ سمندر ایک جانب ہے اور خشکی ایک جانب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ ساحل سمندر پر تھے، اور اس کا ساحل خشکی کا کنارہ ہے، اور وہ اس میں سمندر کی ہولناکیوں سے پرامن تھے، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے ڈرایا جس سے وہ خشکی میں محفوظ تھے جیسا کہ انہیں اس سے ڈرایا جس کا انہیں سمندر میں خوف تھا۔ ان یرسل علیکم حاصبًا (الملک : 17) یعنی یا وہ تم پر شدید آندھی بھیج دے۔ اور یہ وہ ہے جو سنگریزے پھینکتی ہے۔ اور الحصباء سے مراد یہ ہے کہ وہ آسمان سے پتھر ان پر برسائے، جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ کیا گیا۔ اور اس باول کو بھی حاصب کہا جاتا ہے جو اولے برساتا ہے : حاصب اور اس ہوا کو جو مٹی اور سنگریزے کو اٹھا کر لاتی ہے حاصب کہا جاتا ہے اور حصبۃ بھی۔ جیسا کہ لبید نے کہا ہے : جرت علیھا أن خوت من اھلھا أذیالھا کل عصوف حصبہ اور فرزدق نے کہا ہے : مستقبلین شمال الشام یضربنا بحاصب کندیف القطن منثور ثم لاتجدوالکم وکیلاً پھر اس وقت اپنے لئے تم کوئی محافظ اور مددگار نہیں پاؤ گے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچالے۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا (اس سے) بےخوف ہو کہ تم کو دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔

آیت نمبر 69 قولہ تعالیٰ : ام امنتم ان یعید کم فیہ تارۃً اخرٰی (کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوسری مرتبہ لے جائے) سمندر میں۔ فیرسل علیکم قاصفًا من الریح، القاصف، وہ سخت اور تیز ہوا جو اپنی شدت کے ساتھ (ہرشے کو) توڑ دیتی ہے۔ یہ قصف الشئ یقصفہ سئ ماخوذ ہے، یعنی اس نے اسے شدت اور سختی کے ساتھ توڑ دیا۔ اور القصف کا معنی توڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے : قصفت الریح السفینۃ (ہوا نے کشتی کو توڑدیا) اور ریح قاصف یعنی شدید آندھی۔ اور رعد قاصف، سخت آواز والی گرج۔ کہا جاتا ہے : قصف الرعد وغیرہ قصیفا (گرج وغیرہ نے سخت آواز نکالی) اور لتقصف کا معنی ہے درختوں کو توڑنے والی۔ اور التقصگ، اس کا معنی ٹوٹنا اور توڑنا ہے۔ اور التقصف کا معنی لہو ولعب بھی ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ (معنی) نیا پایا گیا ہے۔ فیغرقکم بما کفرتم پھر وہ تمہیں تمہارے کفر کے سبب غرق کردے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے نخسف بکم، اوترسل علیکم، ان نعید کم، فنرسل علیکم، فنغرقکم پانچواں مقامات پر تعظیم کی بنا پر نون کے ساتھ پڑھا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے قول علمنا کی وجہ سے (نون کے ساتھ پڑھا ہے) اور باقیوں نے یا کے ساتھ، کیونکہ آیت میں اس سے پہلے ایاہ ہے۔ اور ابوجعفر، سیبہ، رویس اور مجاہدرحمہم اللہ تعالیٰ نے فتغرقکم یا کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ ریح (ہوا) کی صفت ہے۔ اور حسن اور قتادہ سے فیغرقکم یا اور را کی تشدید کے ساتھ منقول ہے۔ اور ابو جعفر نے یہاں اور پورے قرآن میں الریاح پڑھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک قاصف وہ ہے جو خشکی میں ہلاک کرنے والی ہو، اور عاصف وہ ہے جو سمندر میں غرق کرنے والی ہو : اسے مارودی نے بیان کیا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : ثم لاتجدوالکم علینا بہٖ تبیعًا حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : پھر تم اس پر ہم سے کوئی بدلہ لینے والا نہیں پاؤ گے۔ نحاس نے کہا ہے : (ثائر) یہ الثار سے ماخوذ ہے۔ اسی طرح پر انتقام اور بدلہ کرنے کو تبیع اور تابع کہا جاتا ہے : اور اسی سے فاتباع بالمعروف (البقرہ :178) ہے ای مطالبۃ نیکی کا مطالبہ کرنے والا۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

آیت نمبر 70 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولقد کرمنا بنی ادم الآیہ۔ جب ترہیب اور ڈرانے والی چیزوں میں سے جن کا ذکر کیا سو کیا تو ساتھ ہی ان پر انعام وکرام کا بھی ذکر کیا۔ کرمنا یہ کرم کو مضاعف بنا کر (یعنی عین کلمہ کو مشدد کرکے) پڑھا ہے، یعنی ہم نے انہیں عزت اور شرف وفضل عطا فرمایا۔ یہ وہ عزت ہے جس نے نقصان اور کمی کی نفی کی ہے نہ کہ اس سے مراد مال کی عزت ہے۔ اور اس عزت و کرامت میں انہیں اس ہیئت یعنی سیدھے قد اور حسین صورت پر پیدا کرنا بھی داخل ہے۔ اور انہیں بروبحر میں سوار کرنا ان چیزوں سے ہے جو سوائے انسان کے کسی حیوان کے لئے صحیح نہیں کہ وہ اپنے ارادہ۔ قصد اور تدبیر کے ساتھ سوار ہوسکے۔ اور ان کی تخصیص ان چیزوں کے ساتھ بھی ہے کھانے، پینے اور لباس میں سے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں خاص کیا ہے۔ اور اس میں انسان کی وسعت کی مثل کوئی حیوان وسعت نہیں رکھتا، کیونکہ خاص طور پر وہی مال کماتے ہیں نہ کہ دیگر حیوان، اور وہ کپڑے پہنتے ہیں اور طرح طرح کے مرکب کھانے کھاتے ہیں۔ اور ہر حیوان کی غایت یہ ہے کہ وہ کچاگوشت یا غیر مرکب کھانا کھاتا ہے۔ اور علامہ طبری نے ایک جماعت سے یہ بیان کیا ہے کہ ابن آدم کی وجہ فضیلت یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کھاتا ہے اور باقی حیوان منہ سے کھاتے ہیں۔ اور یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : اسے مہدوی اور بحاس نے ذکر کیا ہے اور یہی کلبی اور مقاتل کا قول ہے : اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں بولنے اور تمیز کی قوت کے ساتھ عزت عطا فرمائی۔ حضرت عطا نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں سیدھے قد اور اس کے بڑھنے کی فضلیت دی۔ یمان نے کہا ہے : حسن صورت کے ساتھ فضیلت دی۔ محمد بن کعب نے کہا ہے : انہیں اس سے فضیلت دی کہ حضور نبی مکرم ﷺ کو ان سے بنایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوں کو داڑھی کے ساتھ عورتوں کو مینڈھیوں کے ساتھ فضیلت دی۔ اور محمد بن جریز طبری نے کہا ہے : انہیں تمام مخلوق پر مسلط کرکے اور تمام مخلوق کو ان کے لئے مسخر کرکے انہیں عزت و تکریم عطا کی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کلام کرنے اور لکھنے کی قوت کے ساتھ فضیلت دی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : فہم و فراست اور تمیز کی قوت کے ساتھ فضیلت دی۔ اور وہ صحیح قول جس پر تعویل کی جاسکتی ہے کہ بلاشبہ انسان کی فضیلت کا سبب عقل ہے جو مکلف بنائے جانے کی اصل اور بنیاد ہے، اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اسی سے اس کا کلام سمجھا جاتا ہے، اور اس کی نعمتوں اور رسل (علیہم السلام) کی تصدیق تک پہنچا جاسکتا ہے، مگر یہ کہ بندے کے لئے تمام مقصود اور مدعیٰ واضح نہ ہوا تو رسول مبعوث کئے گئے اور کتابیں نازل کی گئیں۔ پس شریعت کی مثال سورج ہے، اور عقل کی مثال آنکھ ہے، پس جب وہ کھلی ہوا اور صحیح و تندرست بھی ہو تو سورج کو دیکھ سکتی ہے اور اشیاء کی تفاصیل کا ادراک کرسکتی ہے۔ اور جو اقوال اوپر مذکور ہوئے ہیں ان میں سے بعض سے قوی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے بعض حیوانوں میں ایسے خصائل رکھ دیئے ہیں جن کے ساتھ ابن آدم سے بھی افضل ہیں، مثلاً گھوڑے کا دوڑنا، اس کا سننا اور اس کا دیکھنا، ہاتھی کی قوت، شیر کی شجاعت اور بہادری اور مرغ کی سخاوت، تو بلاشبہ تکریم و تفصیل عقل کے ساتھ ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ایک جماعت نے کہا ہے : یہ آیت انسانوں اور جنوں پر ملائکہ کو فضیلت دینے کا تقاضا کرتی ہے اس حیثیت سے کہ ان کی اس قول باری تعالیٰ میں استثنا کی گئی ہے : ولا الملٰئکۃ المقربون (النساء :172) (اور نہ ہی مقرب فرشتے (اس کو عار سمجھیں گے) اور یہ آیت سے لازم نہیں آتا، بلکہ اس میں انسانوں اور جنوں کے درمیان فضیلت کا ذکر ہے، کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر وہ چیزیں شمار کرائی ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حیوانوں سے خاص کیا ہے، اور جن تو بہت زیادہ مفضوک ہیں (یعنی ان پر تو بہت زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔ ) اور ملائکہ ان بہت زیادہ مفضول سے خارج ہیں، لہٰذا آیت نے ان کے ذکر کو نہیں چھیڑا، بلکہ یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ افضل ہوں، اس کے برعکس کا احتمال بھی ہوسکتا ہے، اور مساوی ہونے کا احتمال بھی ہوسکتا ہے، المختصر یہ کہ کلام اس مسئلہ میں کسی یقین کی حد تک نہیں پہنچتی۔ تحقیق ایک قوم اس بارے میں کلام کرنے سے دوررہی جیسا کہ وہ بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بعض پر فضیلت دینے کے بارے کلام کرنے سے دور رہے اور بچے رہے، کیونکہ حدیث میں ہے :” تم انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان پسند واختیار کے اعتبار سے موازنہ نہ کرو تم مجھے یونس بن متی پر فضیلت دو ۔ “ اور یہ کوئی شے نہیں ہے، کیونکہ قرآن کریم میں انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان بعض کو بعض پر فضلیت دینے کے بارے نص موجود ہے۔ ہم نے اسے سورة البقرہ میں بیان کردیا ہے۔ اور اس میں ملائکہ اور مومن کی تفصیل کے بارے کلام گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : ورزقھم من الطیبٰت یعنی ہم نے انہیں لذیز کھانے اور مشروبات عطا فرمائے۔ مقاتل نے کہا : مراد گھی، شہد، مکھن، کھجور اور حلوا (اور میٹھا پھل وغیرہ) ہیں، اور انسانوں کے سوا دیگر حیوانوں کا جو رزق بنایا وہ تم پر مخفی نہیں ہے مثلاً بھوسہ اور ہڈیاں وغیرہ۔ وفضلنھم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلاً اور ہم نے انہیں بہت سے چوپاؤں، جانوروں، ، درندوں، پرندوں پر غلبہ اور تسخیر کے ساتھ، ثواب اور جزا، حفظ وتمیز اور صحیح فہم و فراست کے ساتھ فضیلت دی ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ یہ آیت اسے رد کرتی ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اپنے آپ کو عمدہ کھانے سے دور رکھو کیونکہ یہ شیطان کو قوی کرتا ہے وہ اس قوت سے رگوں میں دوڑتا ہے۔ “ اور اس سے بہت سے صوفیاء لذیز اور عمدہ کھانے تدک کرنے پر استدلال کرتے ہیں، اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے، کیونکہ قرآن کریم اس کا رد کرتا ہے، اور سنت ثابتہ اس کے خلاف ہیں، جیسا کہ کئی مقامات پر بیان ہوچکا ہے۔ اور ابوحامد طوسی نے بیان کیا ہے کہ حضرت سہل ایک مدت تک بیری کے پتوں سے خوراک حاصل کرتے رہے، اور دقاق نے تین سال تک بھوسہ کے پتہ کھائے۔ اور ابراہیم ابن البنا نے ذکر کیا ہے کہ میں اخمم سے اسکندریہ تک ذوالنون کے ساتھ رہا، پس جب بھی آپ کی افطاری کا وقت آتا تو میں ایک روٹی اور نمک نکالتا جو میرے پاس تھا، اور میں کہتا : آؤ، تو وہ مجھے کہتے : کیا تیرا نمک کو ٹا ہوا ہے ؟ میں کہتا : ہاں۔ فرماتے : تو کامیاب نہیں ہوگا، تو میں ان کے توشہ دان کی طرف دیکھا تو اس میں تھوڑے سے جو کے ستو تھے وہ ان سے پھانک لیتے تھے۔ اور ابو یزید نے کہا ہے : میں نے چالیس سال تک ان میں سے کوئی شے نہیں کھائی جو بنی آدم کھاتے ہیں، ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ ان چیزوں میں سے ہے جس پر نفس کو ابھارنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو گندم کے ساتھ عزت و تکریم دی ہے اور اس کے چھلکے کو جانوروں کے لئے بنایا ہے، لہٰذا بھوسہ کھانے میں چوپاؤں کی مزاحمت کرنا صحیح نہیں ہے، اور رہے جو کے ستو تو یہ قولنج کا سبب بنتے ہیں، اور جب انسان جو کی روٹی اور کوٹے ہوئے نمک پر اقتصار کرے تو اس کا مزاج بدل جاتا ہے، کیونکہ جو کی روٹی خشک ٹھنڈی ہے، اور نمک خشک قابض ہے جو دماغ اور بصارت کو نقصان دیتا ہے۔ اور جب نفس اس شے کی طرف مائل ہو جو اس کی اصلاح کرتی ہے اور پھر اسے روک دیا جائے تو اس طرح اسے رد کرکے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حکمت کا مقابلہ کیا گیا، پھر یہ بدن میں بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ پس یہ فعل شرع اور عقل دونوں کے مخالف ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ آدمی کی سواری ہے، اور جب اس نے سواری کے ساتھ دوستی کا برتاؤنہ کیا تو وہ اسے (منزل پر) نہیں پہنچائے گی۔ اور حضرت ابراہیم بن ادہم (رح) تعالیٰ سے مروی ہے کہ انہوں نے مکھن، شہد، اور سفید آٹے کی روٹی خریدی، تو انہیں کہا گیا : یہ سب کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جب ہم نے پایا تو ہم مردوں کی طرح کھائیں گے، اور جب ہم نے کچھ نہ پایا تو ہم مردوں کے صبر کرنے کی طرح صبر کریں گے۔ اور حضرت توری (رح) گوشت، انگور، اور فالوذج (آٹے، پانی اور شہد سے تیار کیا ہوا کھانا) کھاتے تھے پھر نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے۔ اسلاف میں اس کی کثیر مثالیں ہیں۔ اور اس میں کچھ سورة المائدہ اور الاعراف وغیرہ میں گزر چکا ہے اور وہ کافی ہے۔ اور پہلا نظریہ غلو ہے اگر ان کے بارے میں یہ صحیح ہے۔ ورھبابیۃ ابتد عوھا ماکتبنٰھا علیھم (الحدید : 27) (اور رہبا نیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ )
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو انکے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

آیت نمبر 71 قولہ تعالیٰ : یوم ندعواکل اناس بامامھم ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے قول باری تعالیٰ : یوم ندعوا کل اناس بامامھم کے بارے میں فرمایا :” ان میں سے ایک کو بلایا جائے گا اور اس کا بامۂ عمل اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور اس کا جسم اس کے لئے ساٹھ گز تک پھیلادیا جائے گا اور اس کا چہرہ روشن کردیا جائے گا اور اس کے سر پر موے تیوں کا تاج رکھا جائے گا جو چمک رہا ہوگا پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف چل کر آئے گا اور وہ دور سے ہی اسے دیکھ لیں گے اور کہنے لگیں گے : اے اللہ ! ہمیں اس کی مثل عطا فرما اور ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پہنچ جائے گا۔ اور کہے گا : تمہیں بشارت (اور مبارک) ہو تم میں سے ایک کے لئے اسی کی مثل ہے۔۔۔ فرمایا۔۔۔۔۔ اور رہا کافر ! تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا اور اس کا جسم اس کے لئے آدم کی صورت پر ساٹھ گز بڑھا دیا جائے گا اور اسے ایک تاج پہنایا جائے گا پس اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے، تو کہیں گے : ہم اللہ تعالیٰ سے اس شر سے پناہ مانگتے ہیں ! اے اللہ ! تو ہمیں اس طرح کا نہ دینا۔ بیان فرمایا : پس وہ ان کے پاس آئے گا اور وہ کہیں گے : اے اللہ ! اسے رسوا اور ذلیل کر، تو وہ کہے گا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں (رحمت سے) دور ہٹا دیا ہے کیونکہ تم سے ہر آدمی کے لئے اسی کی مثل ہے۔ “ ابو عیسیٰ (رح) نے کہا ہے : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور اس کی نظیر یہ قول باری تعالیٰ ہے : وترٰی کل امۃ جاثیہ کل امۃ تدعیٰ الیٰ کتٰبھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون۔ (الجاثیہ) (اور آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا۔ ہر گروہ کو بلایا جائے گا اس کے صحیفۂ (عمل) کی طرف۔ (انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ ) اور کتاب (نامۂ عمل) کو امام کا نام دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے اعمال کی پہچان کے لئے اس کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اور حضرت ابن عباس۔ حسن، قتادہ، اور ضحاک ؓ نے کہا ہے : بامامھم سے مراد بکتابھم ہے یعنی ان میں سے ہر انسان کو اس کتاب کے ساتھ بلایا جائے گا جس میں اس کے عمل ہوں گے۔ اور اس کی دلیل فمن اوتی کتٰبہ بیمینہٖ ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے : اس سے مراد ان پر نازل کی گئی کتاب ہے، یعنی ہر انسان کو اس کتاب کے ساتھ بلایا جائے گا جس کی وہ تلاوت کرتا تھا، پس اہل تورات کو تورات کے ساتھ اور اہل قرآن کو قرآن کے ساتھ بلایا جائے گا، اور کہا جائے گا : اے اہل قرآن ! تم نے کون سے عمل کئے ہیں، کیا تم نے اس کے اوامر کی پیروی کی ہے، کیا تم نے اس کی نواہی سے اجتناب کیا ہے ؟ اور اسی طرح کے سوال کئے جائیں گے اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بامامھم سے مراد بنبیھم ہے (یعنی انہیں اپنے نبی کے ساتھ پکارا جائے گا۔ ) اور امام وہ ہوتا ہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے، اور کہا جائے گا : آؤ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والو ! آجاؤ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والو ! آجاؤ شیطان کی اتباع کرنے والو ! آجاؤ بتوں کی پیروی کرنے والو !۔ پس اہل حق اٹھیں گے اور وہ اپنے نامۂ عمل اپنے دائیں ہاتھوں میں پکڑیں گے، اور اہل باطل اٹھیں گے اور وہ اپنے نامہ عمل اپنے بائیں ہاتھوں میں پکڑیں گے۔ اور یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اور حضرت علی ؓ نے کہا ہے : مراد یامام عصرھم ہے (یعنی انہیں اپنے زمانے کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا۔ ) اور حضور نبی مکرم ﷺ سے قول باری تعالیٰ : یوم ندعوا کل اناس بامامھم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہر ایک کو اپنے زمانے کے امام اور اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے ساتھ بلایا جائے گا “ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والو ! آجاؤ، اے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والو تم آجاؤ ! اے عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کرنے والو ! تم آجاؤ، اور اے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع کرنے والو ! تم آجاؤ۔۔۔ پس اہل حق اٹھیں گے اور اپنا نامۂ عمل اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑلیں گے اور پھر وہ فرمائے گا : اے شیطان کی اتباع کرنے والو ! تم آجاؤ، اے ضلالت وگمراہی کے سرداروں کی پیروی کرنے والو تم آجاؤ در آنحالیکہ پر ایک کے لئے ہدایت کا امام بھی ہوگا اور گمراہی کا امام بھی ہوگا۔ “ (اسی کے ساتھ اسے بلایا جائے گا ) ۔ حسن اور ابولعالیہ نے کہا ہے : بامامھم سے مراد بأعمالھم ہے (یعنی انہیں ان کے اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا۔ ) اور یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے کہ کہا جائے گا : کہاں ہیں تقدیر کے ساتھ راضی ہونے والے ؟ کہاں ہیں اس چیز سے صبر کرنے والے جس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ان کے مذاہب ہیں، پس انہیں ان کے ساتھ پکارا جائے گا جن کی وہ دنیا میں اقتدا کرتے تھے، اے حنفی، اے شافعی، اے معتزلی، اے قدری وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ اس کی اتباع کرتے ہوں خیر میں یا شر میں، حق پر باطل پر، اور ابو عبیدہ کے قول کا یہی معنی ہے۔ اور وہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے : صدقہ دینے والوں کو باب الصدقہ سے اور جہاد کرنے والوں کو باب الجہاد سے بلایا جائے گا۔۔۔ الحدیث۔ یہ طویل حدیث ہے۔ ابوسہا نے کہا ہے : کہا جائے گا فلاں نمازی اور روزے دار کہاں ہیں ؟ اور اس کا برعکس دف بجانے والے اور چغلخور ہیں۔ اور محمد بن کعب نے کہا ہے بامامھم سے مراد بأمھاتھم ہے (یعنی انہیں اپنی ماؤں کے ساتھ پکارا جائے گا) اور امام ام کی جمع ہے۔ حکماء نے کہا ہے : اس میں حکمت کی تین وجہیں ہیں : ان میں ایک یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے۔ اور دوسری یہ ہے۔۔۔ امام حسن اور امام حسین ؓ کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے۔ اور تیسری وجہ یہ ہے۔۔۔ تاکہ زنا کی اولاد رسوانہ ہو میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ قول محل نظر ہے، کیونکہ حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین وآخرین تمام کو جمع فرمائے گا ہر خیانت کرنے والے کے لئے جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا : یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے “۔ اسے مسلم (رح) اور بخاری (رح) دونوں نے روایت کیا ہے۔ پس آپ ﷺ کا قول : ھذا غدرۃ فلاں بن فلاں یہ اس پر دلیل ہے کہ آخرت میں لوگوں کو ان کے اپنے ناموں سے بلایا جائے گا کیونکہ اسمیں ان کے باپوں کے بارے ستر پوشی ہے۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : فمن اوتی کتٰبہ بیمینہٖ یہ ان کے قول کو تقویت دیتا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ بامامھم سے مراد بکتاکھم ہے۔ اور اسے یہ قول بھی قوت دیتا ہے : وکل شیءٍ احصینٰہ فی امام مبین۔ (یٰسین) (اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے لوح محفوظ میں ) ۔ فاولٰئک یقرءون کتٰبھم ولا یظلمون فتیلا، الفتیل وہ ہے جتنی گٹھلی کی ایک طرف یا ایک حصہ ہوتا ہے اور یہ سوۃ النساء میں گزر چکا ہے