17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔

آیت نمبر 81 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ امام بخاری اور ترمذی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا ہے : حضور نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت کعبہ معظمہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ اپنے ہتھ کی چھڑی سے انہیں کچو کے دینے لگے۔۔۔ اور کبھی فرمایا : بعود (لکڑی سے مراد چھڑی ہی ہے) ۔۔۔ اور ساتھ فرماتے : جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا (آگیا ہے حق اور مٹ گیا ہے باطل بیشک باطل مٹنے والا ہی تھا) حق آگیا ہے اور باطل کبھی نہیں آئے گا “۔ یہ الفاظ ترمذی کے ہیں۔ اور انہوں نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اسی طرح مسلم کی حدیث میں نصبا ہے۔ اور ایک روایت میں صنما ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اس عدد کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک دن میں ایک بت کی تعظیم اور پرستش کرتے تھے اور ان کے بڑے (اور سردار) کو دو دونوں کے ساتھ خاص کرتے تھے۔ (یعنی اس کی پرستش دو دن کرتے تھے) اور آپ کا قول : فجعل یطعنھا بعود فی یدہٖ کہا جاتا ہے : بی شک وہ کیچ کے ساتھ مضبوط اور پختہ کھڑے کئے گئے تھے اور جب بھی آپ ﷺ ان میں سے کسی بت کے چہرے پر چھڑی لگاتے تو وہ گدی کے بل پیچھے گرجاتا یا گدی پر مارتے تو وہ اپنے چہرے کے بل گرپڑتا۔ اور آپ فرما رہے تھے : جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا اسے ابو عمر اور قاضی عیاض نے بیان کیا ہے۔ اور قشیری نے کہا ہے : کوئی بت باقی نہیں پچا مگر وہ اپنے بل گرگیا پھر آپ نے انکے بارے حکم دیا تو وہ توڑ دیئے گئے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں مشرکین کے بتوں اور دیگر تمام بتوں کو توڑنے پر دلیل ہے جب ان پر غلبہ پالیا جائے۔ اور اس میں معنوی طور پر باطل کے تمام آلات کو توڑنا داخل ہے، اور ہر وہ شے جو صرف اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی کے لئے استعمال ہو مثلاً آلات موسیقی جیسے ستار، سارنگی اور وہ مزامیر جن کا سوائے لہو ولعب اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرنے کے اور کوئی مقصد اور معنی نہیں۔ ابن منذر نے کہا ہے : أصنام کے معنی میں وہ صورتیں بھی ہیں جو مٹی، لکڑی اور ان کے مشابہ چیزوں سے بنائی جاتے ہیں اور ہر وہ شے جسے لوگ بناتے ہیں اور ان میں سوائے اس لہو کے جس سے منع کیا گیا ہے اور کوئی منفعت نہ ہو۔ ان میں سے کسی شے کو پیچنا جائز نہیں سوائے ان بتوں کے جو سونے، چاندی، لوہے اور تانبے وغیرہ سے بنائے گئے ہوں، جب انہیں موجودہ حالت سے تبدیل کردیا جائے اور وہ پگھلا ہوا ٹکڑا یا کٹا ہوا ٹکڑا بن جائے تو پھر اس کو بیچنا اور اس کے عوض کوئی شے خریدنا جائز ہے۔ مہلب نے کہا ہے : باطل آلات میں سے جو توڑ دیئے جائیں اور انہیں توڑنے کے بعد روک کر محفوظ رکھنے میں منفعت اور فوائد ہوں تو ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کا ان کا مالک ہی زیادہ حقدار ہے، مگر یہ کہ امام وقت مالی سزا دینے اور اس میں مزید سختی اور شدت کے لئے انہیں آگ کے ساتھ جلانا مناسب سمجھتا ہو، جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ کے جلانے کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ فرمایا جو نماز باجماعت سے پیچھے رہتے تھے ،۔ اور یہی مالی سزا میں اصل اور بنیاد ہے، اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کا ارشاد ہے اس اونٹنی کے بارے میں جس پر اس کی مالکہ نے لعنت کی ہو :” تم اسے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے، “ تو آپ ﷺ نے اس کی مالکہ کو ادب سکھانے کے لئے اس سے اس کی ملکیت ختم کردی، اور یہ اس کے لئے اس قول کی سزا ہے جو اس نے اس کے خلاف کہا اس کے ساتھ اس نے اسے پکارا۔ اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اس دودھ کو جو پانی کے ساتھ ملایا گیا، اس کے مالک پر بہا دیا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ جو کچھ ہم نے آیت کی تفسیر میں ذکر کیا ہے اسے حضور ﷺ کے اس ارشاد میں دیکھا جاسکتا ہے : ” قسم بخدا ! حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما اسلام ایک عادل حاکم کی حیثیت سے اتریں گے اور ضرور صلیب کو ٹوڑدیں گے، اور خنزیر کو یقینا قتل کریں گے اور ضرور جزیہ لگائیں گے اور یقینا نوجوان اونٹنیاں چھوڑدی جائیں گی اور انہیں پکڑنے کی کوشش نہیں کی جائے گی “ الحدیث۔ اسے صحیحین نے نقل کیا ہے۔ اور اسی باب سے حضور نبی کریم ﷺ کا اس پردے کو پھاڑنا بھی ہے جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور یہ بھی تصویروں اور آلات ملاہی کو فاسد اور خراب وبرباد کرنے پر دلیل ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، اور یہ سب ان کو بنانے سے روکتا ہے اور ان کے مالک پر انہیں تبدیل کرنے کو واجب قرار دیتا ہے۔ بیشک یہ صورتیں بنانے والوں کو (اور ان کے مالکوں کو) قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان کو کہا جائے گا : انہیں زندہ کرو جنہیں تم نے بنایا ہے اور تیرے لئے یہ کافی ہے، اور عنقریب اس کا بیان سورة النمل میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ قولہ تعالیٰ : وقل جآء الحق یعنی اسلام آگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حقو سے مراد قرآن کریم ہے، یہ حضرت مجاہد نے کہا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ مراد جہاد ہے۔ وزھق الباطل کہا گیا ہے : باطل سے مراد شرک ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد شیطان ہے : یہ حضرت مجاہد نے کہا ہے۔ اور درست یہ ہے کہ لفظ میں ممکنہ حد تک تعمیر ہے پس تفسیر یہ ہوگی کہ شریعت آگئی تمام احکام کے ساتھ جن کو وہ، تضمن ہے۔ وزھق الباطل اور باطل باطل ہوگیا۔ اور اسی سے زھوق النفس بھی ہے یعنی اسکا باطل ہونا۔ کہا جاتا ہے : زھقت نفسہ تزھق زھوقا، وأزھق تھا (اس کا نفس باطل ہوگیا، اور میں نے اسے باطل کردیا) ۔ ان الباطل کان زھوقًا یعنی اس کے لئے بقا نہیں ہے، اور حق وہ ہے جو ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

آیت نمبر 82 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وننزل جمہور نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور حضرت مجاہد نے وینزل یا اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے مروزی نے حفص سے روایت کیا ہے۔ اور من ابتدا غایت کیلئے ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ بیان جنس کیلئے ہو، گویا کہ یہ فرمایا : وننزل ما فیہ شفاء من القرآن (اور ہم قرآن میں وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے) ۔ اور حدیث میں ہے : ” جس نے قرآن کریم سے شفا طلب نہ کی تو اللہ تعالیٰ اسے شفا نہیں دے گا “۔ اور بعض متأولین نے من کے تبعیضیہ ہونے کا انکار کیا ہے، کیونکہ یہ اس سے محفوظ ہے کہ اسے یہ لازم آئے کہ اس کے بعض میں شفا نہیں ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اسے یہ لازم نہیں آتا، بلکہ یہ صحیح ہے کہ من اس اعتبار سے تبعیض کے لئے ہو کہ اس کے نازل کرنے کو فقط بعض قرار دیا گیا ہے، تو گویا یہ فرمایا : وننزل من القرآن شیئا شفاء (اور ہم قرآن میں سے کچھ چیزیں باعث شفا نازل کرتے ہیں) ، نہ کہ اس تمام میں شفا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: علمائ نے اس کے شفا ہونے میں دو مختلف قول بیان کئے ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ دلوں کے لئے ان سے جہالت دور کرنے، شک اور ریب کا ازالہ کرنے، اور معجزات اور وہ امور جو اللہ تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں انہیں سمجھنے کے لئے جہالت کے مرض سے دل کے پردے کھولنے کے اعتبار سے باعث شفا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ظاہری بیماریوں کے لئے دم اور تعوذ کے سبب باعث شفا ہے۔ تحقیق ائمہ نے روایت بیان کی ہے اور یہ الفاظ دار قطنی کے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تیس سواروں کے ایک سریہ میں بھیجا آپ نے بیان کیا : پس ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے اور ہم نے ان سے پوچھا (کیا) وہ ہماری مہمان نوازی کریں گے ؟ تو انہوں نے انکار کردیا، فرمایا : پھر قبیلے کے سردار کو ڈس لیا گیا، پس وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے : تم میں کوئی ہے جو بچھو کا دم کرتا ہو ؟ اور ابن قتہ کی روایت میں ہے : بیشک بادشاہ مر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا : میں نے کہا : ہاں میں ہوں، لیکن میں دم نہیں کروں گا یہاں تک کہ تم ہمیں کچھ دو ، تو انہوں نے کہا : ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے۔ آپ نے فرمایا : پس میں نے اس پر سات مرتبہ الحمدللہ رب العالمین پڑھ کر دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا۔ اور سلیمان بن قتہ عن ابی سعید ؓ کی روایت میں ہے : پس اسے افاقہ ہوگیا اور صحت یاب ہوگیا۔ تو اس نے ہماری طرف ضیافت کا کھانا بھی بھیجا اور بکریاں بھی ہماری طرف بھیجیں، پس ہم نے کھانا کھالیا اور میرے ساتھیوں نے بکریوں میں سے کوئی کھانے سے انکار کردیا، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوگئے اور آپ کو میں نے ساری خبر گوش گزار کردی تو آپ نے فرمایا : ” تجھے کس نے بتایا کہ یہ دم ہے “۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ ایسی شے ہے جو میرے دل میں القا کردی گئی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : کلوا وأطعمونا من الغنم (تم خود بھی کھاؤ اور بکریوں میں سے ہمیں بھی کھلاؤ) ۔ انہوں نے اسے کتاب السنن میں نقل کیا ہے۔ اور (کتاب المدیح) میں سری بن یحییٰ کی حدیث سے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا : مجھے معتمر بن سلیمان نے لیث بن ابی سلیم سے، انہوں نے حسن سے، اور انہوں نے ابو امامہ ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے حکم سے برص، جنون، جذام، پیٹ، چلنے، سل (پھیپھڑے کی بیماری، لاغری) ، بخار اور سانس کی بیماری سے نفع اور فائدہ ہوتا ہے کہ تو زعفران یا سرخ مٹی (گیرو) کے ساتھ یہ کلمات لکھے أعوذ بکلمات اللہ التامۃ وأسمائہ کلھا عامۃ من شر السامۃ والعامۃ ومن شر العین الامۃ ومن شر حاسد اذا حسد ومن أبی فروۃ وما ولد۔ اسی طرح کہا، اور من شر أبی قترہ نہیں کہا۔ العین اللامۃ سے مراد نظر بد کا لگنا ہے۔ تو کہتا ہے : میں اس کی پناہ مانگتا ہوں ہر زہریلے کیڑے سے اور نظر بد سے۔ اور رہا آپ کا یہ قول : اعیذہ من حادثات اللمۃ تو کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حوادثات زمانہ ہیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد شدت اور سختی ہے۔ اور السامۃ کا معنی الخاصہ ہے۔ کہا جاتا ہے : کیف السامۃ والعامۃ (خاص و عام کیسے ہیں) اور السامۃ سے مراد زہر بھی ہے۔ اور من فروۃ وما ولد۔ اور فرمایا : تینتیس ملائکہ اپنے رب کریم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی : ہماری زمین میں ردر اور بیماری ہے تو رب کریم نے فرمایا : اپنی زمین سے کچھ مٹی لے لو اور اپنی حاضر ہوئے اور عرض کی : ہماری زمین میں درد اور بیماری ہے تو رب کریم نے فرمایا : اپنی زمین سے کچھ مٹی لے لو اور اپنی پیشانیوں پر مل لو۔ یا فرمایا : تمہاری پیشانیوں کے لئے محمد ﷺ کا دم ہے، وہ کامیاب نہیں ہوگا جس نے اسے ہمیشہ چھپائے رکھا یا اس پر کوئی ہدیہ وغیرہ لیا “۔ پھر فاتحۃ الکتاب (الحمد شریف) سورة البقرہ کی پہلی چار آیات، اور وہ آیت جس میں ہواؤں کے چلنے کا ذکر ہے، آیۃ الکرسی اور اس کے بعد والی دو آیتیں، سورة البقرہ کی آخری آیات للہ ما فی السموت وما فی الارض سے لے کر اس کے آخر تک، سورة آل عمران کی پہلی دس آیتیں اور اس کے آخر سے دس آیتیں، سورة النساء کی پہلی آیت، سورة المائدہ کی پہلی آیت، سورة الانعام کی پہلی آیت، سورة الاعراف کی پہلی آیت، اور وہ آیت جو سورة الاعراف میں ہے۔ ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض آیت کے آخر تک ؛ اور وہ آیت جو سورة یونس میں ہے اس جگہ سے قال موسیٰ ما جئتم۔۔۔۔۔۔ عمل المفسدین۔ اور وہ آیت جو سورة طہ میں ہے۔ والق ما فی۔۔۔۔۔۔ الساحر حیث اتی۔ اور سورة الصافات کی پہلی دس آیات، اور قل ھو اللہ احد۔ اور معوذ تین لکھیں۔ یہ پاک صاف برتن میں لکھی جائیں گی پھر انہیں پاک پانی کے ساتھ تین بار دھویا جائے گا پھر اس سے تین بار دردوالی جگہ پر لگائے پھر اس سے اس طرح وضو کرے جس طرح نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے اور وہ نماز کے لئے وضو کرنے سے پہلے اس سے وضو کرے۔ یہاں تک کہ اس سے وضو کرنے سے پہلے پاکیزگی اور طہارت کی حالت پر ہو پھر وہ اپنے سر، اپنے سینے اور اپنی پیٹھ پر پانی انڈیلے اور اس کے ساتھ استنجا نہ کرے پھر وہ دو رکعتیں (نفل نماز) پڑھے پھر اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا مانگے، اسی طرح تین دن تک عمل کرے، اتنی مقدار جتنا ہر روز لکھا جاسکتا ہو۔ اور ایک روایت میں الفاظ یہ ہیں : ومن شرابی قترۃ وما ولد۔ اور فرمایا : ” پس اپنی پیشانیوں پر مل لو “۔ اور کوئی شک نہ کیا جائے۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جس مرض میں آپ کا وصال ہوا اس میں معوذات پڑھ کر اپنے آپ پر پھونکتے تھے اور جب یہ ثقیل ہوگیا (یعنی بیماری بڑھ گئی) تو میں یہ پڑھ کر آپ پر پھونکتی تھی اور میں آپ کا اپنا دست مبارک برکت کے لئے پھیرتی تھی۔ پس میں (مراد عروہ بن زبیر ہیں) نے زہری سے پوچھا آپ کیسے پھونکتے تھے ؟ تو انہوں نے بیان کیا : آپ اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے تھے پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیتے تھے۔ اور مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب تکلیف ہوتی تو آپ اپنے اوپر معوذ تین پڑھتے اور تھوکتے یا پھونک مارتے۔ ابوبکر بن الانباری نے کہا ہے : علمائے لغت نے کہا ہے کہ نفث سے مراد ایسی پھونک مارنا ہے جس کے ساتھ تھوک نہ ہو۔ اور تفل کا معنی ایسی پھونک مارنا ہے جس کے ساتھ تھوک بھی ہو۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : فإن یبرا فلم ألفث علیہ وإن یفقد فحق لہ الفقود اور ذوالرمہ نے کہا ہے : ومن جوف ماء عرمض الحول فوقہ متی یحس منہ مائح القوم یتفل اس سے مراد تھوک کے ساتھ پھونک مارنا ہے۔ اور النفث کے بارے علماء نے جو کہا ہے اس کا بیان سورة الفلق میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 3: حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت بیان کی ہے : یہ ایسی حدیث ہے جس کی مثل سے دین میں حجت پکڑنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی ناقلین میں وہ ہیں جو معروف نہیں۔ اور اگر صحیح بھی ہو تو پھر بھی یا غلط ہے یا منسوخ ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے سورة الفاتحہ کے بارے فرمایا : ” تجھے کس نے بتایا کہ یہ دم ہے ؟ “ اور جب معوذ تین کے ساتھ دم کرنا جائز ہے اور یہ دونوں قرآن کریم کی سورتیں ہیں تو پھر سارا قرآن کریم جواز میں ان دونوں کی مثل ہے کیونکہ سارے کا سارا قرآن ہے۔ اور آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” میری امت کی شفا تین چیزوں میں ہے، کتاب اللہ کی آیت میں یا شہد چاٹنے میں یا اچھی طرح پچھ لگوانے میں “۔ اور رجا الغنوی نے کہا ہے : جس نے قرآن کے ساتھ شفا طلب نہ کی تو اس کیلئے شفا نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 4: علماء نے نشرہ کے بارے اختلاف کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے یا قرآن کریم میں سے کوئی شے لکھے اسے پانی کے ساتھ دھوئے پھر اسے مریض پر ملے یا اسے پلائے، تو حضرت سعید بن مسیب نے اس جائز قرار دیا ہے۔ آپ کو کہا گیا : وہ آدمی جس اپنی بیوی سے لے لیا جاتا ہے (یعنی اس پر کوئی جادو، منتر کردیا جاتا ہے) تو کیا وہ اس سے کھولا جائے گا اور اسے کوئی دم تعویذ کیا جائے گا ؟ تو آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں، اور جو چیز نفع دیتی ہے اسے اس سے منع نہ کیا جائے۔ اور حضرت مجاہد کی یہ رائے نہیں کہ تو قرآن کریم کی آیات لکھے پھر انہیں دھوئے اور پھر اسے گھبراہٹ والے آدمی کو پلایا جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ایک برتن میں پانی پر معوذ تین پڑھتی تھیں پھر آپ حکم دیتی تھیں کہ اسے مریض پر انڈیل دیا جائے۔ مازری ابو عبد اللہ نے کہا ہے : اہل تعزیم (دم کرنے والے) کے نزدیک نشرہ (دم، تعویذ) امر معروف ہے، اور اسے یہ نام دیا گیا ہے، کیونکہ یہ اپنے صاحب کی گرہ کھول دیتا ہے (بیماری ختم کردیتا ہے) ۔ حسن اور ابراہیم نخعی نے اس سے منع کیا ہے۔ حضرت نخعی نے کہا ہے : مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی مصیبت اور بلا آپہنچے، گویا کہ آپ اس طرف گئے ہیں کہ یہ وہ ہے جس کے ساتھ قرآن کو مٹایا گیا ہے اور اسکا اپنے پیچھے کسی آزمائش اور مصیبت اور بلا آپہنچے، گویا کہ آپ اس طرف گئے ہیں کہ یہ وہ جس کے ساتھ قرآن کو مٹایا گیا ہے اور اس کا اپنے پیچھے کسی آزمائش اور مصیبت تک پہنچانا اس سے زیادہ قریب ہے کہ یہ شفا کا فائدہ دے۔ اور حسن نے کہا ہے : میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اور ابو داؤد نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کی حدیث روایت کی ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ سے نشرہ کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ شیطان کے عمل میں سے ہے “۔ علامہ ابن عبد البر نے کہا ہے : یہ آثار لینہ ہیں اور ان کے لئے کئی وجوہ کا احتمال ہو سکتا ہے۔ تحقیق کہا گیا ہے : بیشک یہ اس معنی پر محمول ہیں کہ جب یہ اس سے باہر ہو جو کچھ کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں سے ہے، اور معروف علاج سے باہر ہو۔ اور نشرہ طب کی جنس سے ہے پس یہ ایک چیز کا دھو ون ہے جو اس کیلئے بہتر ہے، پس یہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کی طرح ہوا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب اس میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو اور تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ (دم) کرے “۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : تحقیق ہم نے نشرہ کے بارے مرفوع نص ذکر کی ہے اور یہ کہ وہ نہیں ہوتا مگر کتاب اللہ سے پس چاہئے کہ اس پر اعتماد کیا جائے۔ مسئلہ نمبر 5: امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس تحریر کو مریضوں کے گلے میں تبرک کے لئے لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے ہوں جبکہ اسے لٹکانے والا اس کے لٹکانے کے ساتھ نظر کا دفاع کرنے سے نڈھال اور عاجز نہ ہو اور یہی اس کا معنی ہے قبل ان ینزل بہ شئ من العین (یعنی نظر سے کوئی تکلیف اور مصیبت آنے سے پہلے) ۔ اور اسی قول پر اہل علم کی ایک جماعت بھی ہے، ان کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ صحت مند جانروں یا افسانوں کے گلوں میں نظر لگنے کے خوف سے کوئی چیز لٹکائی جائے، اور ہر وہ چیز جو مصیبت آنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی کتاب میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے شفا اور کشادگی کی امید رکھتے ہوئے لٹکائی جاتی ہے، تو وہ اس مباح دم کی مثل ہے نظر وغیرہ کی صورت میں جس کا مباح ہونا سنت سے ثابت ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو حالت نیند میں خوف آئے تو اسے چاہئے کہ وہ یہ کہے : أعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ وسؤعقابہ ومن شر الشیاطین وأن یحضرون۔ اور حضرت عبد اللہ ؓ اپنے ان بچوں کو یہ سکھاتے تھے جو ادراک رکھتے تھے، اور جو ادراک نہ رکھتے تھے آپ ان کلمات کو لکھتے اور ان کے گلے میں لٹکا دیتے۔ اور اگر کہا جائے : تحقیق روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کوئی شے لٹکائی تو اسے اسی کے سپرد کردیا جائے گا “۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے اپنی ام ولد کے (گلے) میں ایک بندھا ہوا تعویز دیکھا تو آپ نے اسے انتہائی شدت اور سختی کے ساتھ کھینچا اور اسے توڑ دیا اور فرمایا : بیشک آل ابن مسعود اس شرک سے مستغنی ہے، پھر فرمایا : بیشک تعویذ، دم اور الثولہ یہ سب شرک ہیں۔ پوچھا گیا : یہ لاتولہ کیا ہے ؟ فرمایا : وہ جس کے ساتھ عورت اپنے خاوند کی محبوب ہوجائے۔ اور عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے تعویذ لٹکایا تو اللہ تعالیٰ اس کو مکمل نہ کرے گا اور جس نے ودعہ (منکا) لٹکایا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اطمینان عطا نہیں کرے گا “ خلیل بن احمد نے کہا : کلام عرب میں تمیمہ سے مراد قلادہ ہے، اور اہل علم کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ نظر یا مصائب کی انواع میں سے کسی کے خوف سے قلائد میں سے جو گلوں میں لٹکایا جائے تو گویا حدیث میں معنی یہ ہوا کہ جو کوئی اس تکلیف کے ڈر سے گلے میں لٹکاتا ہے جس کے نازل ہونے کی امید ہو یا یہ کہ وہ مصیبت نہ آئے اس کے آنے سے پہلے لٹکاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی صحت و عافیت کو مکمل نہ کرے۔ اور جس نے کوئی منکا وغیرہ لٹکایا اور یہ معنی میں اس کی مثل ہے پس اللہ تعالیٰ اسے اطمینان نہ دے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے برکت عطا نہ کریگا جس میں اس کے لئے عافیت ہو۔ واللہ اعلم۔ اور یہ سب اس سے ڈرانا ہے جو اہل جاہلیت تعویذات اور قلائد لٹکانے کا عمل کرتے تھے، اور یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ انہیں بچاتے ہیں اور ان سے آزمائش اور مصائب کو پھیر دیتے ہیں، حالانکہ انہیں اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں پھیر سکتا، وہی عافیت عطا فرمانے والا ہے اور وہی مبتلا کرنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس عمل سے منع فرمایا جو دور جاہلیت میں وہ کرتے تھے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جو ارشاد فرمایا ہے کہ جو آزمائش اور مصیبت آنے کے بعد لٹکایا گیا وہ تمائم (تعویذات) میں سے نہیں ہے، حالانکہ بعض اہل علم نے ہر حال میں آزمائش آنے سے پہلے اور اس کے بعد تعویذ لٹکانے کو مکروہ قرار دیا ہے، ناپسند کیا ہے۔ پہلا قول اثر و نظر میں زیادہ صحیح ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور جب حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے اس میں یہ مراد لینا بھی جائز ہے کہ آپ نے قرآن کے سوا ان چیزوں کو لٹکانا ناپسند کیا جا قیافہ شناسوں اور کاہنوں سے لی گئی ہوں، کیونکہ قرآن سے شفا طلب کرنا چاہئے اسے لٹکایا گیا ہو یا نہ لٹکایا گیا ہو وہ شرک نہیں ہے، اور آپ ﷺ کا ارشاد : ” جس نے کوئی شے لٹکائی تو اسے اسی کے سپرد کردیا جائے گا “۔ تو جس نے قرآن گلے میں لٹکا لیا تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو والی بن جائے اور اور وہ اسے کسی غیر کے حوالے نہیں کرے گا، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رغبت رکھی گئی ہے اور قرآن سے شفا طلب کرنے میں اسی پر توکل کیا گیا ہے۔ حضرت ابن مسیب ؓ سے تعویذ کے متعلق پوچھا گیا : کیا یہ لٹکایا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب وہ بانس کی لکڑی یا کپڑے کے ٹکڑے میں محفوظ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ اور یہ اس بنا پر ہے کہ لکھا ہوا قرآن ہو۔ اور حضرت ضحاک سے مروی ہے کہ وہ کوئی حرج نہیں جانتے کہ آدمی کتاب اللہ میں سے کوئی شے گلے میں لٹکائے بشرطیکہ وہ جماع اور بول و براز کے وقت اسے اتار دے۔ ابو جعفر محمد بن علی نے بچوں کو تعویذ پہنانے کے بارے رخصت دی ہے۔ اور ابن سیرین قرآن میں سے کسی شے کے بارے کوئی حرج نہ دیکھتے کہ انسان اسے لٹکائے۔ مسئلہ نمبر 6: قولہ تعالیٰ : ورحمۃ للمؤمنین یعنی غمون اور تکلیفوں کو دور کرنے والی ہے، عیوب کو پاک کرنے والی ہے اور کناہوں کو مٹانے والی ہے اسکے ساتھ ساتھ اس کی تلاوت سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب کی فضیلت بھی حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے کتاب اللہ میں سے ایک حرف پڑھا تو اس کے لئے اس کے عوض ایک نیکی ہے اور وہ ایک نیکی دس نیکیوں کی مثل ہے میں نہیں کہتا کہ الم حرف ہے بلکہ الف علیحدہ حرف ہے، لام علیحدہ حرف ہے اور میم علیحدہ حرف ہے “۔ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن، صحیح اور غریب ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ ولا یزید الظلمین الا خسارا اور یہ ظالموں کے لئے ان کی تکذیب اور جھٹلانے کی وجہ سے فقط خسارہ کو ہی بڑھاتا ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : جس نے بھی قرآن کے ساتھ مجالست اختیار کی تو وہ اس سے زیادتی یا کمی (نقصان) کے ساتھ ہی اٹھا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : وننزل من القران۔۔۔۔۔ للمؤمنین الآیہ اور اس آیت کی نظر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : قل ھو للذین۔۔۔۔۔۔ علیھم عمی (فصلت : 44) (آپ فرمائیے : یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے تو ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لائے ان کے کانوں میں بہرہ پن ہے اور وہ ان پر (ہرحال میں) مشتبہ رہتا ہے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرائض و احکام میں باعث شفا ہے، کیونکہ اس میں ان کی وضاحت اور بیان ہے۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو بھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔

آیت نمبر 83 قولہ تعالیٰ : واذا انعمتا علی الانسان اعرض ونابجانبہ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جن میں قرآن کریم خسارہ اور نقصان بڑھا دیتا ہے ان کا طریقہ اور عمل یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر اور تدبر کرنے سے اعراض کرتے ہیں اور اسکی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور نابجانبہ کا معنی ہے وہ تکبر کرتا ہے اور دور ہوتا ہے۔ اور ناء اسی سے مقلوب ہے اور اسکا معنی ہے : وہ اللہ عزوجل کے حقوق قائم کرنے سے دور رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے : نأی الشئ یعنی شے دور ہوگئی۔ اور نأیتہ اور نایت عنہ دونوں کا معنی بعدت (میں اس سے دور ہوا) ہے۔ اور أنأیتہ فأنتأ، یعنی میں نے اسے دور کیا اور وہ دور ہوگیا۔ اور تناء وا بمعنی تباعدوا (وہ ایک دوسرے سے دور ہوگئے) اور المتنأی بہت دور جگہ۔ النابغہ نے کہا ہے : فإنک کاللیل الذی ھو مدر کی وإن خلت ان المنتأی عنک واسع ابن عامر نے ابن ذکوان کی روایت میں ناء باع کی مثل پڑھا ہے، یعنی ہمزہ کو موخر کیا ہے، اور یہ نأی میں قلب کے طریقہ پر ہے، جیسے کہا جاتا ہے : راء و رأی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ النؤ سے ماخوذ ہے اس کا معنی اٹھنا اور قیام کرنا ہے۔ اور کبھی واقع ہونے اور بیٹھنے کیلئے بھی نوء کہا جاتا ہے، اور یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ اور ونئی نون کے فتحہ اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ بھی یہ پڑھا گیا ہے۔ اور عام قرأت نأی، رأی کے وزن پر ہے۔ واذا مسہ الشر کان یؤسا یعنی جب اسے فقرو افلاس، بیماری یا محتاجی کی شدت کی وجہ سے کوئی تکلیف اور پریشانی لاحق ہو تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے ؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین اور اعتماد نہیں رکھتا۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔

آیت نمبر 84 قولہ تعالیٰ : قل کل یعمل علی شاکلتہ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : ہر شخص اپنی جہت پر عمل پیرا ہے، اور یہ ضحاک نے بھی کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد نے کہا ہے : ہر شخص اپنی طبیعت پر عمل پیرا ہے۔ اور آپ ہی سے یہ بھی ہے کہ ہر شخص علیحدہ طور پر عمل پیرا ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : ہر شخص اپنے دین پر عمل پیدا ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا ہے : ہر شخص اپنی نیت پر عمل پیرا ہے۔ مقاتل نے کہا ہے : ہر شخص اپنی فطرت پر عمل پیرا ہے۔ فراء نے کہا ہے : ہر شخص اپنے اس طریقہ اور مذہب پر عمل پیرا ہے جس پر اس کی فطرت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ فرما دیجئے ہر شخص اس پر عمل پیرا ہے جو اس کے نزدیک اس کے اعتقاد کے زیادہ مشابہ اور صواب و صحیح کے زیادہ قریب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ الشکل سے ماخوذ ہے ؛ کہا جاتا ہے : لست علی شکلی ولا شاکلتی (تو میری شکل اور مزاج پر نہیں ہے) ۔ شاعر نے کہا ہے : کل امرئ یشبھہ فعلہ ما یفعل المرء فھو أھلہ پس شکل سے مراد مثل، نظیر، اور ضرب (قسم) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واخر من شکلہ ازواج۔ (ص) (اور اس کے علاوہ اس کی مانند طرح طرح کا عذاب) ۔ اور الشکل (شین کے کسرہ کے ساتھ) اس کا معنی ہیئت ہے۔ کہا جاتا ہے : جاریۃ حسنۃ الشکل (ایسی لونڈی جو ہیئت اور شکل کے اعتبار سے خوبصورت ہو) ۔ یہ تمام اقوال باہم متقارب ہیں۔ اور اس کا معنی ہے کہ ہر کوئی اس کے مطابق عمل کرتا ہے جس پر اس کی وہ اصل اور اخلاق مترتب ہوتے ہیں جن سے وہ مرکب ہے، اور یہ کافر کی مذمت اور مومن کی مدح ہے۔ یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت دونوں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں ؛ اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ فربکم اعلم بمن ھو اھدی سبیلا یعنی مومن اور کافر اور جو کچھ ان میں سے ہر ایک سے حاصل ہوتا ہے (اس کے بارے تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر گامزن ہے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اھدی سبیلا یعنی کون زیادہ تیزی سے قبول ہونے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کون دین کے اعتبار سے زیادہ حسین ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے قرآن کریم کے بارے میں باہم مذاکرہ اور گفتگو کی، پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : میں نے اول سے لے کر آخر تک قرآن کریم پڑھا اور میں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے زیادہ امید افزا اور احسن قول کوئی نہیں دیکھا : قل کل یعمل علی شاکلتہ کیونکہ بندے کی فطرت نہیں ہوتی مگر عصیان اور گناہ اور رب کریم کی فطرت نہیں مگر غفران اور بخشش۔ اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : میں نے اول سے لے کر آخر تک قرآن کریم پڑھا پس میں نے اس میں اس ارشاد باری تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی امید افزا اور احسن قول نہیں دیکھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حم۔ تنزیل۔۔۔۔۔۔۔ ذی الطول (غافر) (حا۔ میم اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے، گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا، سخت سزا دینے والا، فضل و کرم فرمانے والا ہے) ۔ اس میں گناہوں کی مغفرت کو توبہ کی قبولیت پر مقدم کیا گیا ہے، اور اس میں اشارہ مومنوں کے لئے ہے۔ اور حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا : میں نے اول سے لے کر آخر تک سارا قرآن کریم پڑھا اور میں نے اس آیت سے زیادہ حسین اور امید افزا کوئی آیت نہیں دیکھی : نبئ عبادی انی انا الغفور الرحیم۔ (الحجر) (بتا دو میرے بندوں کو کہ میں بلاشبہ بہت بخشنے والا از حد رحم کرنے والا ہوں) اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا : میں نے سارا قرآن اول سے لے کر آخر تک پڑھا اور میں نے اس آیت سے زیادہ کوئی حسین اور امید افزا آیت نہیں دیکھی : قل یعبادی۔۔۔۔۔ انہ ھو الغفور الرحیم۔ (الزمر) (آپ فرمائیے : اے میرے بندو ! جنہوں نے زیادتیاں کی ہیں اپنے نفسوں پر، مایوس نہ ہوجاؤ اللہ کی رحمت سے، یقیناً اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے سارے گناہوں کو، بلاشبہ وہی بہت بخشنے والا، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے) ۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : میں نے اول سے لے کر آخر تک قرآن کریم پڑھا اور میں نے اس قول باری تعالیٰ سے زیادہ حسین اور امید افزا کوئی آیت نہیں دیکھی : الذین امنوا ولم یلبسوا۔۔۔۔۔ مھتدون۔ (الانعام) (وہ جو ایمان لائے اور نہ ملایا انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے انہیں کے لئے ہی امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں) ۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے۔ اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔

آیت نمبر 85 امام بخاری، امام مسلم اور ترمذی نے حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : اس اثنا میں کہ میں حضور نبی مکرم ﷺ کی معیت میں ایک کھیت میں تھا درآنحالیکہ آپ کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ وہاں سے یہودی گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : تم ان سے روح کے بارے سوال کرو، تو آپ نے فرمایا : کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے ؟ اور ان میں سے بعض نے کہا : وہ تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف متوجہ نہیں کریں گے جسے تم ناپسند کرتے ہو، تو انہوں نے کہا : پس تم ان سے سوال کرو۔ چناچہ انہوں نے آپ سے روح کے بارے سوال کردیا تو حضور نبی مکرم ﷺ رکے رہے اور ان پر کوئی جواب نہ لوٹایا، تو میں جان گیا کہ آپ کی طرف وحی کی جائے گی، پس میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، تو جب وحی نازل ہوئی فرمایا : ویسئلونک عن الروح۔۔۔۔۔۔۔۔ الا قلیلا یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم میں سے : پس حضور نبی مکرم ﷺ نے سکوت اختیار فرمایا۔ اور اس میں : وما أوتوا ہے۔ تحقیق لوگوں نے اس روح کے بارے اختلاف کیا ہے جس کے بارے سوال کیا گیا کہ وہ کون سی روح ہے ؟ تو کہا گیا ہے : وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں ؛ یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ فرمایا : اور حضرت ابن عباس ؓ اسے چھپاتے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ قرآن ہے، اس کا بیان سورة شوریٰ کے آخر میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا ہے : یہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے اس کے ستر ہزار منہ ہیں، ہر منہ میں ستر ہزار زبانیں ہیں ہر زبان میں ستر ہزار لغات ہیں، وہ ان تمام لغات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے ایک فرشتہ تخلیق فرماتا ہے جو یوم قیامت تک ملائکہ کے ساتھ اڑتا رہے گا، اسے علامہ طبری نے ذکر کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : میں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ قول حضرت علی ؓ سے صحیح ہو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : علامہ بیہقی نے بیان کیا ہے کہ ہمیں ابوزکریا نے ابو اسحاق سے خبر دی ہے کہ ہمیں ابو الحسن طرائفی نے خبر دی ہے کہ ہمیں عثمان بن سعید نے بتایا ہے انہوں نے کہا ہمیں عبد اللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے انہور نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری تعالیٰ : ویستلونک عن الروح کے بارے میں بتایا کہ آپ فرماتے ہیں : روح سے مراد فرشتہ ہے۔ اور یہ اپنی اسناد کے ساتھ معاویہ بن صالح سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا مجھے ! ابو ہر ان (ھا کے کسرہ کے ساتھ) یزید بن سمرہ نے اس سے بیان کیا جس نے اسے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے بیان کیا کہ آپ نے قول باری تعالیٰ ویسئلونک عن الروح کے بارے فرمایا : یہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے اس کے ستر ہزار منہ ہیں۔۔ الحدیث۔ مذکورہ الفاظ اور معنی میں ہے۔ اور حضرت عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے نے فرمایا : روح ایک فرشتہ ہے جس کے گیارہ منہ ہیں، وہ یوم قیامت تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا رہے گا ؛ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور آپ ہی سے روایت ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے ان کے ہاتھ اور پاؤں ہیں اور وہ کھانا بھی کھاتے ہیں ؛ اسے غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ اور خطابی نے کہا ہے صفت سے متصف ہے۔ اور اکثر اہل تاویل کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے اس روح کے بارے کیا جس کے سبب جسم میں زندگی ہوتی ہے۔ اور ان میں سے اہل نظر و فکر نے کہا ہے : بیشک انہوں نے آپ سے روح کی کیفیت اور بدن انسانی میں اس کے چلنے کے بارے پوچھا، اور اس کے بارے کہ وہ کیسے بدن کے ساتھ مل جاتی ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے اتصال کی نوعیت کیا ہے ؟ اور یہ ایسی شے ہے جسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور ابو صالح نے کہا ہے کہ روح ایک مخلوق ہے جیسا کہ بنی آدم ہے اور وہ بنی آدم میں سے نہیں ہیں۔ اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بھی ہیں۔ اور صحیح یہ ہے کہ قول باری تعالیٰ : قل الروح من امر ربی کا ابہام روح کے مخلوق ہونے پر دلیل ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے امر سے ایک امر عظیم اور شان کبیر ہے، درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مبہم رکھا ہے اور اس کی تفصیل چھوڑ دی ہے، تاکہ انسان بالقین جان لے کہ وہ اپنے نفس کی حقیقت جاننے سے عاجز ہے اس کے باوجود کہ اسے اس کو وجود کا علم ہے۔ اور جب انسان اپنی ذات کی معرفت میں اس طرح ہے تو وہ حق کی حقیقت کا ادراک کرنے سے بدرجہ اولیٰ عاجز ہے۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ مخلوق کی معرفت کے ادراک سے عقل کو عاجز قرار دینا اس کا مجاور ہے اور یہ اس پر دلیل ہے، کہ وہ اپنے خالق کے ادراک سے عقل کو عاجز قرار دینا اس کا مجاور ہے اور یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ اپنے خالق کے ادراک سے زیادہ عاجز ہے۔ قولہ تعالیٰ : وما اوتیتم من العلم الا قلیلا اس بارے اختلاف ہے جسے اس کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ پس ایک فرقہ نے کہا ہے : مراد فقط سوال کرنے والے ہیں۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : ان سے مراد سارے کے سارے یہودی ہیں۔ اور اسی بنا پر حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت وما أوتوا ہے اور آپ نے اسے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : اس سے مراد سارا عالم ہے۔ اور یہی صحیح ہے۔ اور اسی کے مطابق جمہور کی قرأت وما اوتیتم ہے۔ تحقیق یہودیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : کیسے ہمیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے حالانکہ ہمیں تورات عطا کی گئی ہے اور وہ سراپا حکمت ہے، اور جسے حکمت عطا کی گئی اسے خیر کثیر عطا کردیا گیا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا مقابلہ اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ کیا تو وہ مغلوب ہوگئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے بعض احادیث میں اپنے اس قول کے ساتھ نص بیان کی : کلا یعنی وما اوتیتم سے مراد جمیع عالم ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہودیوں نے آپ کو کہا : ہم مراد لئے گئے ہیں یا آپ کی قوم ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : کلا۔ اور اس معنی میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام (لقمان :27) (اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں قلمیں بن جائیں) ۔ اسے علامہ طبری (رح) نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ روح کے متعلق سوال کرنے والے قریش تھے، یہودیوں نے ان کو کہا : تم ان سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے بارے پوچھو، پس اگر یہ تمہیں دو کے بارے خبر دے دیں اور ایک سے رک جائیں تو پھر یہ نبی ہیں، پس آپ ﷺ نے انہیں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے آگاہ کردیا جیسا کہ آگے آرہا ہے، اور روح کے بارے فرمایا : قل الروح من امر ربی یعنی روح وہ امر ہے جیسے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اسے مدوی وغیرہ مفسرین نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اسکا بڑا فضل ہے۔

آیت نمبر 86 تا 87 قولہ تعالیٰ : ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک مراد قرآن کریم ہے، یعنی جس طرح ہم اسے نازل کرنے پر قادر ہیں اسی طرح ہم اسے سلب کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں یہاں تک کہ مخلوق اسے بھول جائے اور یہ آیت اس ارشاد کے ساتھ متصل ہے : وما اوتیتم۔۔۔ قلیلا۔ یعنی اگر میں چاہوں کہ میں اس قلیل اور تھوڑے علم کو سلب کرلوں تو میں اس پر قادر ہوں۔ ثم لا تجد لک بہ علینا وکیلا پھر آپ کوئی ایسا مددگار نہ پاتے جو اسے آپ پر لوٹا سکتا۔ الا رحمۃ من ربک لیکن ہم اسے نہیں چاہیں گے (اور یہ) آپ کے رب کی رحمت ہے ؛ پس یہ استثناء پہلے سے نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مگر یہ کہ آپ کا رب آپ پر رحم فرمائے اور وہ اسے سلب نہ کرے۔ ان فضلہ کان علیک کبیرا (یقیناً اس کا فضل و کرم آپ پر بہت بڑا ہے) جبکہ اس نے آپ کو اولاد آدم کا سردار بنایا ہے، اور آپ کو مقام محمود اور یہ کتاب عزیز عطا فرمائی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : اپنے دین میں سے جو چیز تم سب سے پہلے گم کرو گے وہ امانت ہے، اور آخر میں جو چیز تم سے مفقود ہوگی وہ تمام ہے، اور یہ قرآن گویا تم سے چھین لیا جائے گا، تم ایک دن صبح کرو گے اور تمہارے پاس اس سے کوئی شے نہ ہوگی۔ تو ایک آدمی نے کہا : اے ابا عبد الرحمن ! یہ کیسے ہوگا ؟ حالانکہ ہم نے اسے اپنے دلوں میں راسخ کر رکھا ہے اور ہم نے اسے اپنے مصاحف میں لکھ رکھا ہے، ہم اپنے بیٹوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور یہ یوم قیامت تک سلسلہ جاری رہے گا، تو آپ نے فرمایا : ایک رات میں وہ کوئی ایسی چیز بھیجے گا جس کے ساتھ وہ مصاحف اور دلوں میں جو کچھ ہے وہ سب لے جائے گا، اور لوگ چوپاؤں کی مثل صبح کریں گے۔ پھر حضرت عبد اللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی : ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک الآیہ۔ اس کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے اس معنی کے ساتھ بیان کیا ہے، انہوں نے کہا : ہمیں ابو الاحوص نے عبد العزیز بن رفیع سے انہوں نے شداد بن معقل سے بیان کیا کہ انہوں نے بیان کیا، حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ نے کہا : بیشک یہ قرآن کریم جو تمہارے درمیان ہے عنقریب تم سے چھین لیا جائے گا، سلب کرلیا جائے گا۔ انہوں (شداد بن معقل) نے بیان کیا : میں نے کہا : یہ ہم سے کیسے چھین لیا جائے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے دلوں میں راسخ کر رکھا ہے اور ہم نے اسے اپنے مصاحف میں ثابت اور محفوظ کر رکھا ہےَ تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ہی رات میں اس پر کوئی ایسی چیز چلائے گا اور جو کچھ دلوں میں ہے وہ اسے چھین لے گا، سلب کرلے گا، اور جو کچھ مصاحف میں ہے اسے مٹا دے گا اور لوگ اس حال میں صبح کریں گے کہ وہ اس سے خالی اور محروم ہوچکے ہوں گے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ولئن شینا لنذھبن بالذی اوحینا الیک اور یہ اسناد صحیح ہے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ قرآن کریم ادھر لوٹ جائے گا جہاں سے نازل ہوا، اور اس کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوگی، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تجھے کیا ہوا ہے ؟ تو وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تجھ سے نکلا تھا اور تیری ہی طرف لوٹ آیا ہوں، میں تلاوت کیا جاتا رہا لیکن میرے مطابق عمل نہ کیا گیا، مجھے پڑھا جاتا رہا اور میرے ساتھ عمل نہ کیا گیا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : تحقیق اس معنی میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور حضرت حذیفہ ؓ سے مرفوع حدیث مروی ہے، حضرت حذیفہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اسلام مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ معلوم نہیں ہوگا کہ روزہ کیا ہے اور نہ ہی نماز، قربانی اور صدقہ وغیرہ کے بارے کوئی علم ہوگا پس ایک ہی رات میں کتاب اللہ پر کوئی چیز چلائی جائے گی تو زمین میں کوئی آیت باقی نہ رہے گی اور لوگوں کے کچھ گروہ باقی رہ جائیں گے، بوڑھے مرد اور عورتیں کہیں گے، ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس کلمہ لا الہ الا اللہ پر پایا تھا۔ اور وہ یہ نہیں جانتے تھے نماز کیا ہے اور نہ وہ روزے، قربانی اور صدقہ وغیرہ کے بارے جانتے تھے “۔ صلہ (بن زفر عبسی) نے انہیں کہا ! انہیں لا الہ الا اللہ کوئی فائدہ نہیں دے گا ! درآنحالیکہ وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے نماز کیا ہے اور روزہ، قربانی اور صدقہ وغیرہ کے بارے بھی نہیں جانتے ہوں گے، تو حضرت حذیفہ ؓ نے ان سے منہ پھیرلیا، پھر انہوں نے یہی بات تین بار دہرائی، اور حضرت حذیفہ ؓ ہر بار اس سے اعراض کرتے رہے۔ پھر آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے صلہ ! یہ انہیں آتش جہنم سے نجات دلا دے گا اور آپ نے یہی جملہ (تنحیھم من النار) تین بار فرمایا۔ اسے ابن ماجہ نے سنن میں نقل کیا ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا، حضور نبی مکرم ﷺ باہر تشریف لائے اس حال میں کہ آپ اپنے سر مبارک کو درد کی وجہ سے لپیٹے ہوئے تھے، پس آپ ﷺ مسکرائے اور منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا : ” اے لوگو ! کیا یہ تحریریں اور کتابیں جو تم لکھ رہے ہو کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سوا کوئی کتاب ہےَ قریب ہے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی وجہ سے ناراض ہوجائے پس وہ کوئی ورق (کاغذ) نہیں چھوڑے گا اور نہ کوئی دل مگر اس سے سلب کرلے گا “۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ تو اس وقت مومن مرد اور مومن عورتوں کا حال کیا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جس کے لئے اس کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ فرمائے گا تو اس کے دل میں لا الہ الا اللہ باقی رکھے گا “۔ اسے ثعلبی اور غزنوی وغیرہما نے تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

آیت نمبر 88 یعنی ظہیر کا معنی معاون و مددگار ہے، جس طرح شعراء شعر کے بیت میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور وہ اسے قائم کرتے ہیں۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار نے کہا : اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس کی مثل کہہ دیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جھٹلا دیا۔ قرآن کے اعجاز کے بارے میں بحث کتاب کے شروع میں گزر چکی ہے۔ والحمدللہ۔ اور لا یاتون، لئن میں موجود قسم کا جواب ہے اور شرط کے ارادہ پر اسے جزم دی جاسکتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے : لئمن کا ماحدثتہ الیوم صادقا اقم فی نھار القیظ للشمس بادیا
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

آیت نمبر 89 قولہ تعالیٰ : ولقد صرفنا۔۔۔۔ کل مثل یعنی ہم نے اس میں ہر مثال کے ساتھ قول کی توجیہ بیان کی جس کے ساتھ اعتبار اور نظرو فکر واجب ہوتی ہے، مثلا آیات، عبرتیں، ترغیب و ترہیب، اوامرو نواہی، پہلے لوگوں کے قصص اور واقعات، جنت و دوزخ اور قیامت وغیرہ۔ فابی اکثر الناس الا کفورا اور ان سے مراد اہل مکہ ہیں، ان کے لئے حق واضح کردیا اور ان کے لئے (اسے) کھول دیا اور انہیں مہلت دی یہاں تک کہ ان کیلئے ظاہر ہوگیا کہ یہ حق ہے، لیکن انہوں نے حق واضح اور ظاہر ہونے کے وقت سوائے کفر کے (ہر شے کا) انکار کردیا۔ مہدوی نے کہا ہے : ان کے اس قول میں قدریہ کے لئے کوئی حجت نہیں ہے۔ ابی (اس نے انکار کیا) کا لفظ نہیں بولا جاتا مگر اس کے لئے جو اسے کرنے سے انکار کرے جس پر وہ قادر ہو، کیونکہ کافر اگرچہ ایمان لانے پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے اعراض کرنے اور اپنے دل پر اس کے مہر لگائے جانے کے سبب قادر نہیں ہے، لیکن وہ وسعت اور مہلت کے وقت میں تو حق کی طلب اور باطل سے اسے ممتاز کرنے پر قادر ہے۔