Ayah 17:28آیت نمبر 28
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنے اس قول کے ساتھ خاص کیا ہے : واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃٍ من ربک ترجوھا اور یہ انتہائی عجیب اور خوبصورت تاویب ہے اور انتہائی عمدہ اور لطیف قول ہے، یعنی آپ ان سے غنی اور قدرت کے ہوتے ہوئے حقیر سمجھنے والوں کے اعراض کی طرح اعراض نہ کریں کہ آپ انہیں محروم کردیں۔ بلاشبہ کسی عارض آنے والے عجز اور پیش آنے والی رکاٹ (تنگدستی) کے وقت آپ کا ان سے اعراض کرنا (منہ پھیرنا) جائز ہے، اور آپ اس وقت اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے خوشحالی کا دروازہ کھولنے کی توقع اور مید رکھیں تاکہ آپ اس کے سبب سائل کی دلجوئی اور غمخواری کرسکیں، پس اگر آپ پر ایسی حالت طاری ہو تو اس دوران سے بڑمی نرمی کے ساتھ بات کرو۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس کے سبب نزول کے بارے میں ابن زید نے کہا ہے : یہ آیت ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے مانگتے تھے اور آپ انہیں دینے سے انکار فرما دیتے تھے، کیونکہ آپ ان کے بارے یہ جانتے تھے کہ وہ مال فساد وغیرہ پھیلانے میں خرچ کرتے ہیں، پس ان سے رغبت کے تحت منہ پھیر لیتے تھے کہ ان کو فساد سے روکنے میں اجر ہے تاکہ ان کے فساد میں ان کے معاون اور مددگار ثابت نہ ہوں۔ اور عطا خراسانی نے قول باری تعالیٰ : واما تعرض ضمق عنھم ابتغآء رحمۃٍ من ربک ترجوھا کے بارے میں کہا ہے : یہ والدین کے ذکر میں نہیں ہے، (بلکہ) مزینہ قبیلے سے کچھ لوگ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے وہ آپ سے سواریوں کا مطالبہ کرنے لگے، تو آپ ﷺ نے فرمایا :” میں کوئی شے نہیں پاتا جس پر میں تمہیں اٹھاؤں “ (سوار کروں) پس وہ واپس پھرے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں غم کے آنسو بہارہی تھیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃٍ من ربک ترجوھا اس میں رحمۃ سے مراد الفیء (مال فئ) ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : فقل لھم قولاً میسورًا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کے لئے دعا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا، یعنی ان کے لئے اپنی دعا کے ساتھ ان کا فقرو افلاس ان پر آسان کردو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے لئے ایسی دعا کرو جوان کے لئے فتح اور اصلاح کو متضمق ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : واما تعرضمن کا معنی ہے : یعنی اے محمد ! ﷺ اگر آپ اپنے ہاتھ کے تنگ ہونے کی وجہ سے انہیں دینے سے منہ پھیریں تو اس اثنا میں ان سے بات کرو بڑی نرمی سے کرو، یعنی انتہائی حسین اور خوبصورت انداز میں بات کریں اور اپنا عذر بیان فرمادیں، اور ان کے لئے وسعت رزق کی دعا فرمادیں، اور یہ کہیں : جب میں نے وسعت پائی تو میں ضرور دوں گا اور عزت و تکریم بھی کروں گا، کیونکہ مواسات اور غمخواری کا عمل اپنے نفس کی خوشی اور خوشحالی کی حالت میں کیا جاسکتا ہے۔ اور آپ ﷺ سے جب کسی چیز کے بارے سوال کیا جاتا اور آپ کے پاس دینے کے لئے وہ چیز نہ ہوتی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے رزق آنے کا خاموشی سے انتظار کرتے (کیونکہ آپ) سائل کو رد کرنا ناپسند کرتے تھے، پس یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی اور آپ ﷺ کے پاس دینے کے لئے وہ چیز نہ ہوتی تو آپ فرماتے :” اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنے فضل سے عطا فرمائے گا۔ “ پس اس تاویل کی بنا پر رحمۃ سے مراد وہ رزق ہے جس کا انتظار کیا جائے۔ اور یہ حضرت ابن عباس، مجاہد اور عکرمہ ؓ کا قول ہے۔ اور عنھم کی ضمیر ان کی طرف لوٹ رہی ہے جن کا ذکر آباء، قرابتداروں، مساکین اور مسافروں میں سے پہلے گزر چکا ہے۔ اور قولاً میسورًا یعنی ایسی بات جو انتہائی نرم، لطیف اور اچھی ہو، یہ مفعول بمعنی فاعل ہے، اور لفظ یسر سے ماخوذ ہے جیسا کہ میمون ہے، یعنی حسین و جمیل وعدہ، جیسا کہ ہم نے اسے بیان کردیا ہے۔ اور کسی نے کیا خوب کہا ہے :
الا تکن ورق یوما أجود بھا للسائلین فانی لین العود
لایعدم السائلون الخیر من خلقی إمانوالی واما حسن مردودی
تو کہتا ہے : یسرت لک کذاجب تو اسے تیار کردے (تو تو کہے گا میں نے تیرے لئے اس طرح آسانی کردی) ۔
Ayah 17:29آیت نمبر 29
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولاتجعل یدک مغلولۃً الی عنقک یہ مجاز ہے اور اس کے ساتھ اس بخیل کو تعبیر کیا گیا ہے جو اپنے دل سے اپنے مال میں سے کوئی شے نکالنے کی قدرت نہیں رکھتا، پس اس کی مثال اس طوق کے ساتھ بیان کی گئی جو تصرف بالید سے مانع ہوتا ہے۔ اور صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال بیان فرمائی کہ وہ ایسے دو آدمیوں کی طرح ہیں جن پر لوہے کے دو جنے ہوں اس حال میں کہ ان کے ہاتھ ان کے سینے اور ان کی ہنسلی کی جانب جکڑے ہوئے ہوں پس صدقہ کرنے والا جب بھی کوئی صدقہ دیتا ہے تو وہ (جبہ) اس سے کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پوروں کو ڈھانپ لیتا ہے اور اسکے (چلنے کے) اثر (نشان) مٹا دیتا ہے، ختم کردیتا ہے۔ اور بخیل کو اس طرح بنایا ہے کہ جب بھی صدقہ کا قصد اور ارادہ کرتا ہے تو وہ (جبہ) اور سکڑ جاتا ہے اور پر حلقہ اپنی جگہ کو مضبوطی سے پکڑلیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا : پس میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی انگلیاں اس طرح اپنے گریبان میں ڈال کر یہ بیان کرتے ہوئے دیکھا ہے پس اگر تو آپ کو اسے وسیع (کھلا) کرتے ہوئے دیکھتا اور تو وسیع نہ کرتا (تو تجھے تعجب ہوتا۔ )
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تبسطھا کل البسط مال کو ختم کرنے کے لئے کھلے ہاتھ کے ساتھ مثال بیان فرمائی، پس اگر ہتھیلی کو بند کر کیا جائے تو جو کچھ اس میں ہوتا ہے وہ اسے روک لیتی ہے، اور اسے بالکل کھول دینا اسے ختم کردیتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔ یہ سارے کا سارا خطاب حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے، اور ایسا قرآن کریم میں کثرت سے آیا ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ جب ان کے سردار ہیں اور ان کے رب کے پاس ان کے لئے واسطہ ہیں تو پھر آپ کی ذات کے ساتھ ان کو تعبیر کیا گیا ہے اور یہ اس بارے میں عربوں کی عادت جاریہ کے مطابق ہے۔ اور یہ بھی کہ حضور ﷺ کوئی چیز دوسرے دن کے لئے ذخیرہ نہ کرتے تھے، اور فاقہ کشتی کرتے تھے حتیٰ کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے۔ اور بہت سے صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام اموال کردیتے تھے، اور حضور نبی کریم ﷺ ان پر کوئی سختی نہیں کرتے تھے اور نہ انہیں منع کرتے تھے اس لئے کہ ان کا یقین صحیح اور ان کی بصیرت مضبوط اور پختہ تھی۔ بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خرچ کرنے میں افراط سے منع فرمایا ہے، اور اس آدمی کو اپنا سارا مال نکالنے سے منع فرمایا ہے جس کے بارے اپنے ہاتھ سے نکالے گے مال پر حسرت و درماندگی کا خوف ہو، اور رہاوہ جس کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر وثوق ہو اور اس نے خرچ کیا ہے اس پر ثواب جزیل کا یقین ہو تو وہ اس آیت کی مراد نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ خطاب صرف حضور نبی کریم کی ذات کے ساتھ خاص ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو خرچ کرنے کی کیفیت کی تعلیم دی ہے اور آپ کو میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت جابر اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : ایک بچہ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : میری ماں اس اس طرح لا آپ سے سوال کررہی ہے (یعنی فلاں فلاں چیز مانگ رہی ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا :” آج تو ہمارے پاس کوئی شے نہیں ہے “۔ اس نے کہا : پس وہ آپ کو کہتی ہے اپنی قمیص مجھے پہنادو۔ پس آپ ﷺ نے اپنی قمیص مبارک اتاری اور وہ اسے دے دی اور خود گھر میں ننگے بیٹھ گئے۔ اور حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے : پس حضرت بلال ؓ نے نماز کے لئے اذان کہی اور رسول اللہ ﷺ کے باہر تشریف لانے کا انتظار کرنے لگے، اور دل مشغول ہوگئے، تو ان میں سے بعض اندر آئے دیکھا تو آپ ننگے بدن (یعنی قمیص کے بغیر) تھے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ سب خیر اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کے بارے ہے، اور رہا فساد کے لئے خرچ کرنا تو وہ قلیل ہو یا کثیر سب حرام ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اس آیت نے ان امور میں ساری دولت خرچ کرنے سے منع کیا ہے جن میں مومنین کیطرف سے پہلے مطالبہ ہوتا ہے، اسلئے کہ جو اس کے بعد آئے وہ اس شے سے محروم نہ رہے یا پھر منفق اپنے اہل و عیال کو محروم نہ کر دے۔ اور اسی طرح کسی حکیم اور دانا کا قول ہے : میں نے کبھی کوئی فضول خرچی نہیں دیکھی مگر یہ کہ وہ اپنے ساتھ کوئی حق ضائع کرنے والی ہوتی ہے۔ اور یہ آیت فقاہت حال سے متعلقہ آیات میں سے ہے پس اس کا حکم نہیں بیان کیا جاسکتا مگر لوگوں میں سے ایک ایک شخص کے اعتبار سے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : فتقعد ملو مًاامحسورًا ابن عرفہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے آپ نہ فضول خرچی کریں اور نہ اپنا مال ضائع کریں کہ آپ درماندہ ہو کر اور نفقہ و تصرف سے بالکل کٹ کر باقی رہ جائیں، جیسے تھکا ماندہ اونٹ ہوتا ہے، اور یہ وہ ہے جس کی قوت ختم ہوجائے اور اس کے سبب اس کے لئے اٹھنا، چلنا ممکن نہ رہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ینقلب الیک البصر خاسئا وھو حسیر۔ (ملک) (لوٹ آئے گی تیری طرف (تیری) نگاہ ناکام در انحالی کہ وہ تھکی ماندی ہوگی۔ ) یعنی آنکھ تھکی اور کٹی ہوگی۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : یعنی ورنہ تم اپنے کئے پر نادم ہو کر بیٹھ جاؤ گے، پس انہوں نے اسے حسرت سے بنایا ہے، اور اس میں بہت بعد اور دوری ہے، کیونکہ الحسرۃ سے فاعل حسر اور حسران آتا ہے اور محسور نہیں آتا۔ اور الملوم سے مراد وہ ہے جس پر مال ضائع کرنے کی وجہ سے ملامت کی جاتی ہو، یا اسے وہ ملالت کرتا ہے جسے وہ دیتا نہیں۔
Ayahs 17:30–31آیت نمبر 30 تا 31
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت کے بارے میں سورة الانعام میں بحث گزر چکی ہے، والحمدللہ۔ اور الإملاق سے مراد فقر و افلاس اور ملکیت کا نہ ہونا ہے۔ أملق الرجل یعنی اس کے لئے سوائے ملقات کے کچھ باقی نہیں رہا اور ملقات سے مراد بڑے بڑے ہموار اور چکنے پتھر ہیں
ہذلی نے شکاری کا وصف بنان کرتے ہوئے کہا ہے :
أتیح لھا أقیدر ذو حشیف إذا سامت علی الملقات ساما
ملقات کا واحد ملقۃ ہے۔ اور أقیدر، اقدا کی تصیغر ہے، مراد چھوٹے قد کا آدمی ہے۔ اور الحشیف من الشیاب سے مراد پرانا کپڑا ہے۔ اور سامت کا معنی مرت (وہ گزری) ہے، مراد شمرنے کہا ہے : املق لازم اور متعدی دونوں طرح ہے، املق جب کوئی محتاج ہوجائے، اور أملق الدھر مابیدہ (زمانے نے اس کے ہاتھ میں جو تھا اسے ختم کردیا۔ ) اوس نے کہا ہے :
واملق ما عندی خطوب تنبل
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : خطاً خا کے کسرہ، طا کے سکون اور ہمزہ کے ساتھ جمہور کی قرات ہے۔ اور ابن عامر نے خطاً خا اور طا کے فتحہ اور ہمزہ مقصورہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہی ابوجعفر یزید کی قرأت ہے۔ اور یہ دونوں قرأتیں خطی سے ماخوذ ہیں جب کوئی آدمی جان بوجھ کر گناہ کرے۔ ابن عرفہ نے کہا ہے : کہا جاتا ہے خطی فی ذنبہ خطاجب وہ اسمیں گنہگار ہو، اور أخطاً جب کوئی راستے پر چلے چاہے بالارادہ چلے یا بغیر ارادہ کے۔ فرمایا : اور خطی أخطأ کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اور ازہری نے کہا ہے : کہا جاتا ہے خطی یخطا خطئا جب کوئی خطا اور غلطی کا قصد کرے جیسا کہ أثم یاثم اثما ہے۔ اورأخطاجب وہ ارادہ قصد نہ کرے، اخطاء وخطا۔ شاعر نے کہا ہے :
دعینی إنما خطئی وصوبی علی وان ما أھلکت مال
اس میں خطبئ بالقصد غلطی کرنے کے معنی میں ہے۔
اور الخطا اسم الاخطاء کے قائم مقام ہوتا ہے، اور یہ صواب کی ضد ہے اور اس میں دو لغتیں ہیں، ایک قصر اور یہی جید اور عمدہ ہے، اور دوسری مد کے ساتھ اور یہ قلیل ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے خطاخا کے فتحہ، طا کے سکون اور ہمزہ کے ساتھ مروی ہے۔ اور ابن کثیر نے اسے خا کے کسرہ، طا کے فتحہ اور ہمزہ کی مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : میں اس قرأت کی کوئی وجہ اور دلیل نہیں پاتا، اسی وجہ سے ابوحاتم نے اسے غلط قرار دیا ہے۔ ابوعلی نے کہا ہے : یہ خاطایخاطی سے مصدر ہے، اگرچہ ہم ضاطا تمہیں پاتے، لیکن ہم نے تخاطا پالیا ہے، اور یہ خاطا کا مطاوع ہے، پپس اس پر انہوں نے ہماری راہنمائی کی ہے۔
اور اسی سے شاعر کا قول ہے :
تخاطات النبل أحشاءہ وأخر یومی فلم أعجل
اور مھاۃ (حسن) کے وصف میں کسی دوسرے نے کہا ہے :
تخاطأہ القناص حتی وجدتہ وخرطومہ فی منقع الماء راسب
اور جوہری نے تخاطأہ بمعنی أخطأہ کیا ہے۔ اور اوفی بن مطرمازنی نے کہا ہے :
ألا أبلغا خلتی جابرا بان خلیلک لم یقتل
تخاطأت النبل أحشاءہ وأخر یومی فلم یعجل
اور حسن نے خطاء کا اور طا کے فتحہ اور ہمزہ کو مد کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے کہا ہے : یہ لغت میں معروف نہیں ہے پس یہ غلط ہے، جائز نہیں ہے۔ اور ابوالفتح نے کہا ہے : الخطا اخطات سے ہے جیسا کہ عطاء اعطیت سے ہے، اور یہ اسم بمعنی مصدر ہے، اور یہ اسم بمعنی مصدر ہے، اور حسن سے بھی خطئی خا کے فتحہ کے ساتھ اور طا کی تنوین کے ساتھ بغیر ہمزہ کے مروی ہے۔
Ayah 17:32آیت نمبر 32
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : ولا تقربوا الزنی یہ ولا تزنوا کہنے سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے تم بدکاری کے قریب نہ جاؤ۔ اور الزنی کے لفظ میں مد اور قصر دونوں لغتیں ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
جانت فریضۃ ما تقول کما کان الزناء فریضۃ الرجم
اور سبیلا تمیز کی بناء پر منصوب ہے : تقدیر کلام ہے : وساء سبیلہ سبیلاً (اور اس کا راستہ بہت ہی براراستہ ہے) یعنی کیونکہ یہ جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔ اور زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور اس میں اور اس کی قبح میں کوئی اختلاف نہیں ہے بالخصوص جب یہ پڑوسی کی بیوی کیساتھ ہو، اس سے غیر کے بچے کو خادم اور نائب بنانا ہوتا ہے اور اسے ہی بیٹا بنانا ہوتا ہے اور علاوہ ازیں اسے میراث سے حصہ دیا جاتا ہے اور پانیوں کے اختلاط کے سبب نسبوں میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور صحیح میں روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ باب فسطاط پر ایک حاملہ عورت کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ” شاید وہ چاہتا ہے کہ وہ اس سے وطی کرے “۔ تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تحقیق میں نے قصد کیا ہے کہ میں اس پر لغت بھیجوں جو اس کی قبر میں اسکے ساتھ داخل ہو وہ کیسے اسے وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگا کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگا ؟
Ayah 17:33آیت نمبر 33
قولہ تعالیٰ : ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق سورة الانعام میں اس کے بارے کلام گزرچکی ہے۔ ومن قتل مظلومًا فقد جعلنا لولیہٖ سلطٰنًا فلا یسرف فی القتل ؕانہ کان منصورا۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ومن قتل مظلومًا اور جو آدمی بغیر ایسے سبب کے قتل کیا گیا جو قتل کو واجب اور ثابت کرتا ہو۔ فقد جعلنا لولیہٖ تو ہم نے اس کے یعنی اس کے خون کے مستحق کو (قصاص کے مطالبہ کا حق سے دیا ہے) ۔ ابن خویزمنداد نے کہا ہے : ولی کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرد ہو، کیونکہ لفظ مذکر کے ساتھ اسے ولایت کے ساتھ مفردذکر کیا ہے۔ اور اسماعیل بن اسحاق نے قول باری تعالیٰ : فقد جعلنا لولیہ ٖ میں ذکر کیا ہے کہ یہ ارشاد مطلق لفظ ولی سے عورت کے نکلنے پر دلالت کرتا ہے۔ اور بالخصوص عورتوں کے لیے قصاص میں اس کا کوئی حق نہیں ہے اور اس (عورت) کے معاف کرنے کے بارے میں بھی کوئی روایت نہیں ہے، اور نہ اسکے لئے پورا حق لینا ہے۔ اور مخالف نے کہا ہے : بیشک یہاں ولی سے مراد وارث ہے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : والمؤمنون والمؤمنٰت بعضھم اولیآء بعض (التوبہ :71) (نیز مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مدرگار ہیں ) ۔
اور مزید فرمایا : والذین اٰمنوا ولم یھاجروامالکم من ولا یتھم من شیءٍ (الانفال :72) (اور جو لوگ ایمان قولے آئے لیکن ہجرت نہیں کی نہیں تمہارے لئے ان کی وراثت سے کوئی چیز) اور مزید فرمایا : واولوا الارھام بعضھم اولیٰ ببعضٍ فی کتٰب اللہ (الانفال :75) (اور قریبی رشتہ راد ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، کتاب اللہ کی رو سے) ۔ پس یہ تمام وارثوں کے لئے قصاص کے اثبات کا تقاضا کرتا ہے، اور رہا وہ جو انہوں نے ذکر کیا ہے کہ لفظ ولی اپنے ظاہر کے اعتبار سے مذکر ہے اور وہ واحد ہے، مفرد ہے، تو گویا وہ اس کی طرح ہے جو جنس کے معنی میں ہوتا ہے اور جنس میں مذکر ومونث سبھی برابر ہوتے ہیں، اور اس کی مکمل بحث مختلف کتب میں ہے (جو دونوں نظریات سے متعلق ہیں ) ۔
سلطٰناً یعنی ہم نے اسے اس پر ایسے مسلط کردیا ہے کہ اگر چاہے تو وہ اسے (قاتل کو) قتل کردے اور اگر چاہے تو اسے معاف کردے، اور اگر چاہے تو اس سے دیت لے لے : یہ حضرت ابن عباس ؓ، ضحاک، اشہب اور امام شافعی رحہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ اور ابن وہب نے بیان کیا ہے کہ امام مالک (رح) نے کہا : سلطان سے مراد اللہ تعالیٰ کا امر (حکم) ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سلطان حجت اور دلیل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : سلطان سے مراد اس کا مطالبہ کرنا ہے یہاں تک کہ وہ اسے دے دیا جائے۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : یہ اقوال باہم قریب قریب ہیں، اور ان میں زیادہ واضح امام مالک (رح) کا قول ہے : بیشک یہ اللہ تعالیٰ کا امر ہے پھر بلاشبہ اللہ عزوجل کا امر بطور نص واقع نہیں ہوا لہٰذا اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے، پس ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے : (کہ اسے) صرف قتل کا حق حاصل ہے۔ اور اشہب نے کہا ہے : اسے اختیار ہے، جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے، اور اسی طرح امام شافعی (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : فلا یسرف فی القتل اس میں تین اقوقل ہیں : مقتول کے قاتل کے سوا کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا : یہ حضرات حسن، ضحاک، مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے۔۔۔ اس کے ولی کے بدلے دوقتل نہیں کئے جائیں گے جیسا کہ عرب اس طرح کرتے تھے۔ تیسرا قول یہ ہے۔۔۔۔ قاتل کا مثلہ نہیں کیا جائے گا : یہ مطلق بن حبیب نے کہا ہے۔ اور یہ سب ہی مراد ہیں کیونکہ ان میں وہ اسراف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ اور اس بارے مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور جمہور نے یسسرف یا کے ساتھ ہے، مراد ولی ہے (یعنی وہ اسراف نہ کرے) ، اور ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے تسرف کے ساتھ قرات کی ہے، اور یہی حضرت حذیفہ کی قرات ہے۔ اور عطاء بن عبدالکریم نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : یہ (حکم) پہلے قاتل کیلئے ہے۔ اور ہمارے نزدیک اسکا معنی یہ ہے فلاتسرف ایھا القاتل۔ (اے قاتل ! تو اسراف نہ کر) اور علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : یہ حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے ائمہ کو خطاب کے معنی میں ہے، یعنی تم غیر قاتل نہ کرو۔ اور حضرت ابی ؓ کی قرات میں ہے : فلا تسرفوافی القتل (پس تم قتل میں اسراف نہ کرو) ۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : انہ کان منصورا یعنی بلاشبہ اس کی مدد اور معاونت کی جائے گی، یعنی ولی کی مدد کی جائے گی۔ اور اگر کہا جائے : کتنے ولی ہیں جن کی مدد چھوڑ دی گئی اور وہ اپنے حق تک نہ پہنچ سکے ؟ تو ہم کہیں گے : معونت کبھی حجت اور دلیل کے ظاہر ہونے کیساتھ ہوتی ہے اور کبھی اسے ہوتی ہے اور کبھی اسے مکمل طور پر پانے کے ساتھ ہوتی ہے اور کبھی ان کے مجموعے کے ساتھ ہوتی ہے، پس ان میں سے جو بھی ہو وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے مدد ونصرت ہی ہے۔ اور ابن کثیر نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : بیشک مقتول مدد کیا گیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس قول کا معنی یہ ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے اسکا ولی کے ساتھ اسکی مدد کی ہے۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابی کی قرات میں ہے فلاتسرفوأ فی القتل ان ولی المقتول کان منصورا ( پس تم قتل میں اسراف نہ کرو بیشک مقتول کے ولی کی مدد کی جائے گی) ۔ نحاس (رح) نے کہا ہے : زیادہ بین یا ہے اور وہ ولی کے لئے ط ہوگی، کیونکہ بلاشبہ یہ کہا جارہا ہے : وہ اسراف نہ کرے اگر اس کو قتل کرنے کا احتیار حاصل ہو، اور یہ ولی کے لئے ہی ہے۔ اور تا کے ساتھ ہو تب بھی ولی کے لئے جائز ہوسکتا ہے، مگر اس میں وہ مخاطب کی تحویل کا محتاج ہوگا۔ ضحاک نے کہا ہے : یہ پہلی آیت ہے جو قتل کے بارے میں قرآن کریم میں نازل ہوئی، اور یہ مکی ہے۔
Ayah 17:34آیت نمبر 34
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تقربوا مال الیتیم الابالتی ھی احسن حتی یبلغ اشدہ اس کے بارے میں کلام سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : واوفوابالعھد اس کے بارے کئی مقامات پر کلام گزرچکی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : ہر وہ کام جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جس سے منع کیا ہے پس وہی عہد ہے۔ ان العھد کان مسولا عنہ، بیشک اس عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس کلام میں عنہ محذوف ہے، جیسا کہ یہ قول ہے : ویفعلون مایؤمرون۔ (لتحریم) بہ (اور وہی کرتے ہیں جس کے بارے وہ حکم دیئے جاتے ہیں ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک عہد کے بارے عہد توڑنے والے کو رلانے اور رسوا کرنے کے لئے سوال کیا جائے گا : تو نے کیوں توڑا ہے ؟ جیسا کہ زندہ درگور کی گئی بچی سے درگور کرنے والے کو رلانے اور رسوا کرنے کیلئے سوال کیا جائے گا
Ayah 17:35آیت نمبر 35
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واوفوا الکیل اذا کلتم اس کے بارے کلام سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ اور یہ آیت یہ تقاضا کرتی ہے کہ کیل (ماپ) کرنا بائع کے ذمہ ہے، یہ سورة یوسف میں گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور القسطاس (قاف کے ضمہ اور کسرہ کیساتھ) سے مراد میزان (ترازو) ہے اور یہ لغت روم کا لفظ ہے : یہ ابن عزیز نے کہا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : القسطاس، ترازو چھوٹا ہو یا بڑا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : القسطاس سے مراد عدل کرنا ہے۔ اور آپ فرماتے تھے : یہ لغت رومیہ سے ہے، گویا کہ لوگوں کو کہا گیا ہے : اپنے وزنوں میں عدل کرتے ہوئے وزن کرو۔ اور ابن کثیر، ابو عمرو، نافع، ابن عامر اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں القسطاس قاف کے کسرہ کیساتھ روایت کیا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ذٰلک خیرواحسن تاویلا یعنی پورا پورا ماپ کرنا اور صحیح صحیح وزن کرنا تیرے رب کے نزدیک بہتر اور زیادہ باعث برکت ہے۔ واحسن تاویلا اور اسکا انجام بھی بہت اچھا ہے۔ حسن نے کہا ہے : ہمارے لئے ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی حرام پر قادر نہیں ہوتا پھر وہ اسے چھوڑ دیتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے تو اللہ تعالیٰ اسے آخرت سے پہلے دنیا میں جلدی ملنے والی نعمت کیساتھ بدل دیتا ہے جو اس کے لئے اس (حرام) سے بہتر ہوتی ہے۔
Ayah 17:36آیت نمبر 36
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تقف یعنی پیروی نہ کرو اس کی جسے تم جانتے نہیں اور نہ وہ مقصود اور مراد ہوسکتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : تو نہ کہہ میں نے دیکھا ہے حالانکہ تو نے نہیں دیکھا، اور میں نے سنا ہے حالانکہ تو نے نہیں سنا، اور میں جانتا ہوں حالانکہ تو نہیں جانتا : اور یہی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : تو اس چیز کے سبب کسی کی مذمت نہ کر جس کے بارے تیرے پاس علم نہیں ہے : اور یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور حضرت محمد بن حنیفہ ؓ نے کہا ہے : یہ چھوٹے آدمی کا شہادت دینا ہے۔ اور قتبی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے ظن اور وہم کی پیری نہ کر۔ اور یہ تمام معانی باہم متقارب ہیں۔ اور القفوکا اصل معنی بہتالگانا اور کسی باطل کی تمہمت لگانا ہے اور اسی سے آپ ﷺ کا ارشاد ہے :” ہم بنونضر بن کنانہ اپنی ماں کی پیروی نہیں کرتے اور نہ ہم اپنے باپ سے نفی کرتے ہیں “۔ یعنی ہم اپنی ماں کو برا نہیں کہیں گے۔ اور کمیت نے کہا ہے :
فلا أرمی البرئ بغیر ذنب ولا أتفو الحواصن ان قفینا
کہا جاتا ہے : قفوتہ اقفوہ اور قفتہ اقوفہ اور قفیتہ جب تو کسی کے نشان کی پیروی کرے۔ اور اسی سے القافۃ ہے کیونکہ وہ ان کے آثار ونشانات قدم کی پیروی کرتا ہے اور ہر شی کے قافیہ سے مراد اس کا آخر ہوتا ہے، اور اسی سے قافیۃ الشعر بھی ہے، کیونکہ وہ شعرکا آخر ہوتا ہے۔ اور اسی سے حضور نبی مکرم ﷺ کا اسم گرامی المقفی ہے، کیونکہ آپ ﷺ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے آخر میں تشریف لائے۔ اور اسی سے لقائف ہے۔ یہ وہ ہے جو کسی شبہ کے اثر اور نشان کا پیچھا کرتا ہے (کھرا تلاش کرنے والا) ۔ کہا جاتا ہے : قاف القائف یقود جب وہ ایسا کرے (یعنی کھرا تلاش کرلے) اور آپ کہتے ہیں : فقوت الاثر (میں نے نشان کا پیچھا کیا) اس میں فاقاف پر مقدم ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : شبہ یہ ہے کہ یہ لفظ ان بعض الفاظ میں سے ہو جس میں عرب کھیل اور تفریح کا عمل کرتے رہتے ہیں، جیسے وہ کہتے ہیں : رعملی فی لعمری میں ایسا کرتے ہیں۔ اور علامہ طبری (رح) نے ایک فرقہ کی جانب سے بیان کیا ہے کہ اس نے کہا ہے : قفاوقاف، جیسا کہ عتاوعات ہے۔ اور منذرین سعید اس طرف گئے ہیں کہ قفا اور قاف جبذ اور جذب کی مثل ہے۔
المختصر یہ کہ یہ آیت جھوٹے قول اور تہمت لگانے سے اور پر اس سے جو جھوٹے اور ردی اقوال میں سے اس کے مشابہ ہو یہ اس سے منع کرتی ہے اور روکتی ہے۔ کسائی نے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں نے تقف قاف کو ضمہ اور فا کو سکون کیساتھ پڑھا ہے۔ اور جراح (قاضی بصرہ) نے دالفآدفا کو فتحہ کیساتھ پڑھا ہے، اور یہ بعض لوگوں کی لغت ہے، اور ابوحاتم وغیرہ نے اسکا انکار کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن خویزمنداد نے کہا ہے : یہ آیت قافہ (آثار دیکھ کر پہچان کرنے والا) کے حکم کو متضمن ہے، کیونکہ جب یہ فرمایا : تم اس کی پیروی نہ کرو جس کے بارے تمہیں علم نہ ہو۔ تو یہ اس کے جواز پر دلیل ہے جس کے بارے ہمیں علم ہو، تو پر وہ چیز جسے انسان جان لے یا اس کے بارے اسے ظن حاصل ہوجائے تو اس کے ساتھ اس کا حکم لگانا جائز ہے، اور اسی سے ہم نے قرعہ اندازی اور تخمینہ لگانے کے اثبات پر استدلال کیا ہے، کیونکہ یہ بھی غلبہ ظن کی ایک قسم ہے، اور اسے وسعت علم کا نام دیا جاتا ہے، پس (اعضاء وآثار دیکھ کر پہچان کرنے والا) بیٹے کو باپ کے ساتھ ان دونوں کے درمیان مشابہت پائے جانے کی وجہ سے ملا دیتا ہے، جیسا کہ ایک فقیہ فرع کو اصل کے ساتھ بطریق مشابہت ملا دیتا ہے۔ اور صحیح میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انتہائی مسرت و فرحت کی کیفیت میں میرے پاس تشریف لائے آپ کے چہرے کے خدوخال چمک رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا :” کیا تو نہیں جانتی کہ ایک اعضاء بدن دیکھ کر پہچان کرنے والے نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت اسامہ بن زید ؓ کی طرف دیکھا ہے اس حال میں کہ ان دونوں پر ایک چادر تھی وہ اپنے سروں کو ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پاؤں ظاہر تھے تو اس (دیکھنے والے) نے کہا ہے : بیشک ان قدموں کا بعض اس کا بعض ہے “۔ (یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کا جز ہیں۔ ) اور حدیث میں مجزز سے مراد قائف ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ امام ابو عبداللہ مازری نے کہا ہے : زمانہ جاہلیت میں حضرت اسامہ ؓ کے نسب میں جرح قدح ہوتی تھی کیونکہ ان کا رنگ انتہائی زیادہ سیاہ تھا، اور ان کے والد حضرت زید ؓ روئی سے زیادہ سفید تھے، اسی طرح اسے ابو داؤد نے احمد بن صالح سے ذکر کیا ہے۔ اور قاضی عیاض (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : اور احمد کے سوا کسی نے کہا کہ حضرت زید ؓ کا رنگ انتہائی صاف اور روشن تھا اور حضرت اسامہ ؓ انتہائی شدید سیاہ رنگ کے تھے اور حضرت زید بن حارثہ ؓ
عنہ عربی کلب قبیلہ سے تھے، اور آپ کو قید اور دوری آپہنچی، جیسا کہ اس کا بیان سورة الاحزاب میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ جمہور علماء نے بیٹے میں تنازع اور اختلاف کے وقت قیافہ شناس کی طرف رجوع کرنے پر اس سے استدلال کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ اس قیافہ شناس کے قول سے بہت خوش ہوئے اور آپ ﷺ وہ نہیں تھے کہ آپ کو باطل اور غلط طریقہ سے خوش کیا جاسکے اور نہ اس پر تعجب اور خوشی کا اظہار فرماتے۔ اور امام ابوحنیفہ، اسحاق، ثوری اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح نہیں لیا ہے اور استدلال اس سے کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حدیث کے اصحاب رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح نہیں لیا ہے اور استدلال اس سے کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حدیث لعان میں مشابہت کو لغو قرار دیا ہے، جیسا کہ سورة النور میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ قیافہ شناس کے اقوال کو لینے والوں نے اختلاف کیا ہے کہ کیا ان اقوال کو آزاد عورتوں اور لونڈیوں دونوں کی اولاد میں قبول کیا جائے گا یا یہ لونڈیوں کی اولاد کے ساتھ مختص ہے ؟ تو اس کے بارے دو قول ہیں : پہلا قول ہیں : پہلا قول حضرت امام شافعی (رح) اور امام مالک (رح) کا ہے اس روایت میں جو آپ سے ابن وہب (رح) نے نقل کی ہے۔ اور آپ کا مشہور مذہب یہ ہے صرف لونڈی کی اولاد میں محصور ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو آپ سے ابن وہب (رح) نے روایت کی ہے اور وہی امام شافعی (رح) نے کہا ہے، کیونکہ وہ حدیث جو اس باب میں اصل ہے بلاشبہ وہ آزاد عوتوں کے بارے میں واقع ہے، کیونکہ حضرت اسامہ اور ان کے والد ؓ دونوں آزاد تھے تو اس سبب کو کیسے لغو قرار دیا جاسکتا ہے جس پر حکم کی دلیل کا انحصار ہے اور وہ اس کا باعث بنا ہے ؟ یہ علماء اصول کے نزدیک صروری ہے کیونکہ یہ شہادت ہے ؟ پہلا قول ابن قاسم نے کہا ہے اور یہی خبر کا ظاہر ہے بلکہ اسکی نص ہے۔ اور دوسرا قول امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ قولہ تعالیٰ : ان السمع النصر والفؤادکل اولٰئک کان عنہ مسولاً یعنی ان میں سے ہر ایک سے اسکے بارے پوچھا جائے گا جو اس نے عمل کیا، پس دل سے اس کے بارے پوچھا جائے گا جس میں اس نے غور فکر کیا اور اسکا اعتقاد بنایا۔ اور کان اور آنکھ سے اس کے بارے پوچھا جائے گا جو اس نے دیکھا اور جو سنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ انسان سے اس کے بارے پوچھے گا جسے اسکے کان، آنکھ اور اس کے دل نے جمع کیا ہوگا اور اس کی نظیر حضور ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے :” تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی اپنی رعیت کے بارے پوچھا جائے گا “۔ پس انسان اپنے اعضاء پر حاکم ہے، تو گویا فرمایا یہ کہ تمام کے بارے انسان سے پوچھا جائے گا، تو اس صورت میں مضاف حذف ہوگا، لیکن حجت میں پہلا معنی زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ اس کی تکذیب اس کے جوارح سے واقع ہوگی، اور یہ ذلت ورسوائی کی انتہا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الیوم نختم علیٰ افواھھم و تکلمنآ ایدیھم وتشھد ارجلھم بماکانو ایکسبون۔ (یٰسین) (آج ہم مہر لگا دیں گے کفار کے مونہوں پر اور بات کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان (بدکاریوں پر) جو وہ کمایا کرتے تھے) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون۔ (حم السجدہ) (اس وقت) گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے) ۔ اور انہیں سمع، بصر اور فواد سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ ان کا ارداک کرنے والے حواس ہیں، اور اس آیت میں انہیں مسئولہ بنایا ہے، اور یہ اس کی حالت ہے جو عقل اور سمجھ رکھتا ہے، پس اسی وجہ سے ان کو ان کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔ اور سبیویہ نے قول باری تعالیٰ رایتھم لی سٰجدین۔ (یوسف) میں کہا ہے : بلاشبہ انہوں نے کہا : رایتھم میں نے ستاروں میں دیکھا، کیونکہ جب انہیں سجود کے ساتھ متصف کیا اور یہ (سجدہ کرنا) اس کا فعل ہے جو عقل رکھتا ہے تو پھر انہیں کنایۃ ان سے تعبیر کیا جو عقل رکھتے ہیں : اور یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور زجاج نے بیان کیا ہے کہ عرب ذوالعقول اور غیر ذوالعقول کو ان کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں نے اور طبری نے یہ شعر بیان کیا ہے :
ذم المناذل بعد منزلۃ اللوی والعیش بعد أولئک الأیام
یہ امر ہے ان کے نزدیک اس پر وقف کیا جاتا ہے، اور شعر تو اس میں ایک روایت الاقوام کی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 17:37–38آیت نمبر 37 تا 38
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تمش فی الارض مرحًا یہ غرور اور تکبر سے نہی ہے اور تواضع اور انکساری کا حکم ہے۔ المرح کا معنی ہے بہت زیادہ خوشی اور فرحت کا اظہار کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی چلنے میں تکبر کا اظہار کرنا (یعنی اکڑ کر چلنا) ہے۔ بعض نے کہا ہے : انسان کا اپنی قدر اور مقام سے تجاوز کرجانا ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : اس سے مرادچال میں غرور اور خودپسندی کا اظہار کرنا ہے : اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی کسی نعمت پر اترانا اور اسکا شکرادا نہ کرنا ہے اور اکڑنا ہے۔ بعض نے کہا ہے : اس سے مراد نشاط اور چستی کا اظہار کرنا ہے۔ یہ تمام اقوال معنوی اعتبار سے قریب قریب ہیں لیکن یہ دو قسموں میں منقسم ہیں : ان میں سے ایک قسم مذموم (قابل مذمت) ہے اور دوسری محمود (قابل تعریف) ہے، پس تکبر کرنا، اترانا، غرور کرنا، اور انسان کا اپنی قدر سے تجاوز کرنا یہ سب مذموم ہے اور مذموم ہے اور فرحت و انبساط اور نشاط وچستی کا اظہار کرنا محمود اور اچھا ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان دو میں سے ایک کے ساتھ (یعنی فرحت اور نشاط) اپنے آپ کو متصف فرمایا ہے، پس صحیح حدیث میں ہے اللہ أفرح بتوبۃ العبد من رجل۔۔۔ الحدیث (اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس آدمی کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے) ۔ اور سستی شرعاً مذموم ہے اور نشاط اس کی ضد ہے۔ اور کبھی تکبر اور جو چیزیں اس کے معنی میں ہیں محمود اور اچھی ہوتی ہیں، اور وہ یہ کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور ظالموں کے خلاف ہوں۔ ابوحاتم محمد بن حبان نے ابن جابر بن عتیک سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسند روایت بیان کی ہے کہ آپ محمد ﷺ نے فرمایا :” غیرت میں سے وہ بھی جسے اللہ تعالیٰ مبغوض اور ناپسند جانتا ہے اور وہ بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور غرور اور تکبر میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے اور اس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ مبغوض قرار دیتا ہے، پس وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے وہ وہ غیرت ہے جو دین کے بارے میں ہو اور وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت ہے جو دین کے معاملہ میں نہ ہو اور وہ عونت وتکبر جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ آدمی کا جنگ کے وقت اور صدقہ دیتے وقت اپنے نفس کے ساتھ اظہار فخر کرنا ہے اور وہ تکبر و غرور جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ باطل اور غلط کاموں میں اس کا غرور اور تکبر کرنا ہے “۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مصنف وغیرہ میں نقل کیا ہے۔
اور انہوں نے یہ اشعار کہے ہیں :
ولا تمش فوق الأرض إلا تواضعا فکم تحتھا قوم ھمومنک أرفع
توزمین کے اوپر تواضع اور انکساری کے بغیر نہ چل پس اس کے نیچے کتنی قومیں ہیں جو تجھ سے بلند اور ارفع تھیں۔
و إن کنت فی عز و حرز و منعۃ فکم مات من قوم ھم منک أمنع
اور اگر تو عزت، حفاظت اور قوت میں ہے، تو قوم میں سے کتنے مرگئے جو تجھ سے زیادہ محفوظ اور طاقتور تھے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ انسان کا بغیر حاجت کے محض برتری اور غلبے کے اظہار کے لئے شکار کرنا بھی اس آیت میں داخل ہے، اس میں حیوان کو عذاب دینا اور اسے جاری رکھنا بغیر کسی حاجت اور مقصد کے وہ بھی داخل ہے۔ اور رہا وہ آدمی جو کسی دن اور اس دن کی کسی ساعت و سکون حاصل کرتا ہے، اور اس میں وہ اپنے آپ کو اس مقابلے اور راحت میں قوت و طاقت باہم پہنچاتا ہے تاکہ وہ اس کے سبب نیکی اور خیر میں مشغول رہنے کے لئے مدد حاصل کرسکے، مثلاً علم پڑھنا یا نماز پڑھنا وغیرہ، تو یہ اس آیت میں داخل نہیں ہے
قولہ تعالیٰ : مرحًا جمہور کی قرأت را کے فتحہ کیساتھ ہے۔ اور اس میں ایک گروہ کی قرأت جسے یعقوب نے بیان کیا ہے وہ اسم فاعل ہو نیکی بنا پر را کے کسرہ کیساتھ ہے۔ اور پہلی زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ بلاشبہ تیرا یہ قول : جاء زید رکضًا تیرے قول جاء زید راکضا کی نسبت زیادہ بلیغ ہے، پس اسی طرح تیرا قول : مرحا بھی ہے۔ اور المرح مصدر ہے لہٰذا اس میں مرحا کہنے کی نسبت مبالغہ زیادہ ہے
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : انک لن تخرق الارض یعنی تو ہر گز زمین کے اندر داخل نہیں ہوسکتا کہ تو اسے جان لے جو کچھ اس میں ہے۔ ولن تبلغ الجبال طولا یعنی تو ہرگز پہاڑوں کے برابر نہیں ہوسکتا نہ اپنی طوالت ولمبائی کے ساتھ اور نہ اپنے فخر وتکبر کے ساتھ۔ اور کہا جاتا ہے : خرق الثوب یعنی اس نے کپڑا پھاڑ دیا، اور خرق الارض اس نے زمین کاٹ دی۔ اور الخرق سے مراد زمین کی کشادگی ہے۔ یعنی تو اپنے تکبر اور زمین پر چلنے کے ساتھ زمین کو کشادہ نہیں کرسکتا، یعنی تو اپنی قدرت کے ساتھ اس مقام اور حد تک نہیں پہنچ سکتا، بلکہ تو تو ذلیل اور حقیر بندہ ہے، تو اپنے نیچے اور اپنے اوپر سے ہر طرف سے گھرا ہوا ہے، اور جو گھرا ہوا ہو وہ محصور اور ضعیف ہوتا ہے، پس تیرے لئے تکبر اور رعونت مناسب اور موزوں نہیں ہے، اور یہاں خرق الارض سے مراد زمین کو نقب لگانا، اس کو پھاڑنا ہے نہ کہ اسے مسافت کے ساتھ طے کرنا ہے۔ واللہ اعلم۔ اور ازہری (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے وہ ہرگزا سے کاٹ نہیں سکتا۔ نحاس نے کہا ہے : یہ زیادہ بین اور واضح ہے، کیونکہ یہ الخرق سے ماخوذ ہے اور اس سے مراد وسیع صحرا ہے۔
اور کہا جاتا ہے : فلاں أخرق من فلان، یعنی فلاں سفر، عزت اور قوت کے اعتبار سے فلان سے زیادہ ہے۔ اور روایت کیا جاتا ہے کہ سبا نے اپنے لشکروں کے ساتھ زمین کے شرق وغرب اور اس کے میدانوں اور پہاڑوں کا چکر لگایا اور بڑے بڑے سرداروں کو قتل کیا اور قیدی بنایا۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے اس کا نام سبارکھا گیا۔۔۔ اور مخلوق خدا اس کے قریب ہوگئی پس جب اس نے دیکھا تو اپنے ساتھیوں سے تین دن الگ اور خلوت میں رہا پھر ان کی طرف نکلا تو کہا : بلاشبہ جو میں نے پایا ہے وہ کوئی بھی نہیں پاسکا میں نے ان تعمتوں کے شکر کے سبب ابتدا کو دیکھ لیا ہے، اور میں نے اس میں سورج سے زیادہ سجود کا اہل کوئی نہیں دیکھا جب وہ طلوع ہوتا ہے، نیتجاً انہوں نے ا سے سجدہ کیا اور یہی سورج کی عبادت اور پرستش کا آغاز ہے، پس یہی غرور، تکبر اور اکڑنے والوں کا انجام ہے۔ نعوذباللہ من ذالک۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : کل ذٰلک کان سیئہ عند ربک مکروھًا، ذٰلک یہ اشارہ امرونہی میں سے اس تمام کی طرف ہے جس کا ذکر پہلے گزرچکا ہے۔ اور ذٰلک واحد، جمع اور مونث ومذکر سبھی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عاصم، ابن عامر، حمزہ، کسائی اور مسروق رحمہم اللہ تعالیٰ نے سیئہ، سیء کو ضمیر کی طرف مضاف کرکے پڑھا ہے، اور اسی لئے فرمایا : مکرؤھا یہ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور السیء سے مراد مکروہ (اور ناپسندیدہ) عمل ہے۔ اور یہ وہ ہوتا ہے جس سے ط نہ اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور نہ اس کے بارے حکم دیتا ہے۔ تحقیق اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان آیات میں یعنی وقضٰی ربک سے لے کر۔۔۔ تاقولہ۔۔۔۔ کان سیئہ کچھ وہ امور ذکر کئے ہیں جن کے بارے حکم دیا گیا ہے اور کچھ وہ ہیں جن سے منع کیا گیا ہے۔ پس وہ سیئۃ سے ان تمام کے بارے خبر دے رہا کہ مامور بہ بھی منھی عنہ امور میں داخل ہوجائیں۔ اس قرأت کو ابوعبید نے اختیار کیا ہے، کیونکہ حضرت ابی ؓ کی قرأت میں ذالک کان سیئاتہ ہے۔ اور یہ اضافت کے لئے ہی ہوتا ہے۔ ابن کثیر، نافع، اور ابوعمرو نے سیئۃ تنوین کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہر وہ عمل جس سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے وہ اسی بنا پر کلام باری تعالیٰ : واحسن تاویلا پر منقطع ہوگئی۔ پھر فرمایا : ولا تقف مالیس لک بہٖ علم، ولا تمش، پھر کہا : کل ذٰلک کان سیئہ تنوین کے ساتھ کہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک قول باری تعالیٰ : ولا تقتلوٓا اولادکم سے لے کر اس آیت تک یہ سیئہ ہی ہے اس میں کوئی حسنہ اور نیکی نہیں ہے، پس انہوں نے کلا کو صرف منھی عنہ کے لئے محیط بنایا ہے نہ کہ کسی اور کے لئے۔ اور قول باری تعالیٰ : مکروھًا۔ سیئہ کی صفت نہیں ہے، بلکہ یہ اس سے بدل ہے اور تقدیر کلام ہے : کان سیئۃ وکان مکروھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکروھا کان کی دوسری خبر ہے اس لئے کہ اسے لفظ کل پر محمول کیا گیا ہے، اور سیئۃ اس سے پہلے مذکورہ تمام اشیاء میں معنی پر محمول ہے۔ اور ان میں سے بعض نے کہا ہے : یہ سیئۃ کی صفت ہے، کیونکہ جب اس کی تانیث مونث غیر حقیقی ہے تو پھر جائز ہے کہ مذکر کیساتھ اس کی صفت لگائی جائے۔ اور ابوعلی فارسی (رح) نے ا سے ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے : بیشک مونث کو جب مذکربنایا جائے تو پھر یہ چاہئے کہ اس کا مابعد بھی مذکر ہو، اور یہ تساہل اور سستی ہے کہ پہلے وہ فعل ہو جو مونث کی طرف منسوب ہو اور وہ ایسے صیغہ میں ہو جو مذکر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
کیا آپ شاعر کا یہ قول نہیں دیکھتے :
فلا مزنۃ ودقت ودقھا ولأارض أبقل إنقالھا
یہ ان کے نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی کہنے والا کہے : أبقل أرض تو یہ قبیح نہیں ہے۔
ابوعلی نے کہا ہے : لیکن قول باری تعالیٰ : مکروھًا میں یہ جائز ہے کہ وہ سیئہ سے بدل ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس ضمیر
سے حال ہو جو عندربک میں ہے اور عند ربک، سیئۃ کی صفت کے محل میں ہو۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ علماء نے اس آیت سے رقص اور اس میں مشغول ہونے کی مذمت پر استدلال کیا ہے۔ امام ابوالوفاء ابن عقیل نے بیان کیا ہے : رقص سے نہی پر قرآن کریم نے نص بیان کی ہے اور فرمایا : ولا تمش فی الارض مرحا اور اکڑنے والے کی مذمت بیان کی ہے۔ اور رقص شیدید ترین غرور کرنا اور اترانا ہے۔ کیا ہم وہ نہیں ہیں جنہوں نے نیند کو خمر پر قیاس کیا ہے اس لئے کہ یہ دونوں چستی اور نشہ لانے میں باہم متفق ہیں، تو ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ شعر کی کاٹ اور اس کو ترنم اور سر کے ساتھ کہنے کو آلات موسیقی ستار، بانسری اور طبلے پر ان دونوں کے اجتماع اور اتفاق کے باوجود قیاس نہیں کرتے۔ تو یہ صاحب ریش سے کتنا قبیح ہے اور کیسا لگتا ہے جب وہ بوڑھاہو، اور وہ اس سر اور کاٹ پر رقص کررہا ہو اور تالی بجارہا ہو، اور بالخصوص اس وقت جبکہ اس وقت جبکہ عورتوں اور مردوں کی آوازیں ہوں، کیا یہ اس کے لئے اچھا لگتا ہے جس کے سامنے موت، سوال، حشر اور پل صراط ہو، پھر وہ دارین میں سے ایک کی طرف جانے والا ہو، وہ رقص کے ساتھ جانوروں کے اچھلنے کی طرح اچھلتا کو دتا ہے، اور عورتوں کے تالی بجانے کی طرح تالی بجاتا ہے۔ قسم بحدا ! میں نے اپنی عمریں کئی مشائخ کو دیکھا ہے کہ تبسم کے سبب ان کا کوئی دانت ظاہر نہیں ہوا چہ جائیکہ ضحک کے سبب ظاہر ہو اس کے باوجود کہ میرا ان کے ساتھ اختلاط اور میل جول ہمیشہ رہا۔ اور ابوالفرج علامہ ابن جوزی (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : بعض مشائخ نے امام غزالی (رح) کے بارے میں مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ رقص دو کندھوں کے درمیان حماقت ہے اور یہ لعب کے بغیر زائل نہیں ہوتی اس باب کا مزید بیان سورة الکہف وغیرہ میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 17:39آیت نمبر 39
ذٰلک سے اشارہ ان آداب، قصص اور احکام کی طرف ہے جنہیں وہ سابقہ آیات متضمن ہیں جنہیں لے کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے، یعنی یہ ان محکم افعال میں سے ہیں جن کا تقاضا اللہ عزوجل کی حکمت اپنے بندوں کے بارے میں کرتی ہے، اور اس نے انہیں ان کے لئے محاسن اخلاقی کیا ہے۔ یہ خطاب حضور نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد ہر وہ انسان ہے جس نے اس آیت کو سنا۔ اور المدحور سے مراد ذلیل ورسوا کیا گیا اور (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے) بہت دور ہٹایا گیا ہے۔ اور یہ اس سورت میں گزر چکا ہے۔ اور دعا میں کہا جاتا ہے : اللھم ادحرعنا الشیطان (اے اللہ ! شیطان کو ہم سے دور کردے) ۔
Ayah 17:40آیت نمبر 40
یہ آیت ان عربوں کا رد کرتی ہے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اور ان کے لئے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیاں بھی ہیں لیکن اس نے ارادہ یہ کیا اس نے اپنے سوا تمہارے لئے بیٹوں کو خالص کیا ہے اور بیٹیوں کو اپنے اور تمہارے درمیان مشترک بنایا ہے۔ انکم لتقولون قولاً عظیما تم تو ایسی بات کہہ رہے ہو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت سخت گناہ ہے۔
Ayah 17:41آیت نمبر 41
قولہ تعالیٰ : ولقد صرفنا اور بلاشبہ ہم نے بیان کیا۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے بار بار بیان کیا۔ فی ھٰذا القراٰن کہا
گیا ہے کہ : فی زائدہ ہے۔ اور تقدیر کلام ہے : ولقد صرفنا ھذا القرآن (بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو بیان کیا) مثلاً : اصلح لی فی ذریتی (الاحقاف :15) ای اصلح ذریتی۔ (میری اولاد کی اصلاح فرما) ۔ اور تصریف کا معنی ہے : کسی شی کو ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف پھیرنا۔ اور اس تصریف سے مراد بیان اور تکریر (یعنی باربار کسی چیز کو بیان کرنا) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد مغایرت ہے یعنی ہم نے مواعظ ونصائح کے انداز کو بدل بدل کر بیان کیا تاکہ وہ غور وفکر کریں، عبرت پکڑیں اور نصیحت حاصل کریں۔ اور عام قرأت صرفنا کثرت کے معنی کی بنا پر نشدید کے ساتھ ہے۔ اور حسن نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : فی ھٰذا القراٰن اس سے مراد امثال، باعث عبرت قصص، حکمتیں، مواعظ اور احکام واخبار ہیں۔ ثعلبی نے بیان کیا ہے : میں نے ابوالقاسم حسین کو امام شیخ ابوالطیب کی موجودگی میں یہ کہتے سنا ہے کہ قول باری تعالیٰ : صرفنا کے دو معنی ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے (قرآن مجید کو) ایک نوع پر نہیں رکھا بلکہ وعدہ و وعید، محکم و متشابہ، امرونہی، باسخ ومنسوخ اور اخبار وامثال کے متنوع انداز میں بیان کیا ہے، جیسا کہ ہواؤں کو صبا، دبور، جنوب اور شمال کی متنوع اقسام میں چلاتا ہے، اور افعال کو ماضی، مستقبل، امر، نہی، فعل وفاعل اور مفعول وغیرہ کی طرف پھیرا جاتا ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس نے اسے ایک ہی بار نازل نہیں کیا بلکہ آہستہ آہستہ اور تدریجاً نازل کیا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وقراٰ نًا فرقنٰہ (الاسراء :106) اور اس کا معنی ہے ہم نے کثرت سے جبرئیل (علیہ السلام) کو آپ کی طرف بھیجا ہے : لیذکروا (الفرقان :50) یحییٰ ، اعمش، حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ تعالیٰ کی قرأت لیذکرواتخفیف کے ساتھ ہے۔ اور اسی طرح فرقان حمید میں ہے : ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (الفرقان :50) اور باقیوں نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابوعبیدہ نے اسے اختیار کیا ہے، کیونکہ اس کا معنی لیتذکروا لیتعظوا (تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) ہے
مہدوی نے کہا ہے : جنہوں نے لیذکروا کو شددی ہے، انہوں نے اس سے تدبر کرنے اور غورو فکر کرنے کا معنی مراد لیا ہے۔ اور اسی طرح جنہوں نے لیذکروا پڑھا ہے۔ اور پہلے کی نظیریہ ارشاد ہے : ولقد وصلنا لھم القول لعلھم یتذکرون، (القصص) ( اور ہم مسلسل بھجتے رہے ان کی طرف اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت قبول کریں ) ۔ اور دوسرے کی نظیر واذکروامافیہ (البقرہ :63) ہے۔
ومایریدھم یعنی باربار بیان کرنے اور نصیحت کرنے نے ان میں اضافہ نہیں کیا۔ الانفورًا مگر حق سے دور کرنے اور نظر و فکر سے غفلت برتنے کا اور یہ اسلئے ہوا کیونکہ انہوں نے قرآن کریم کے بارے یہ اعتقاد رکھا کہ یہ محض حیلہ، سحر، کہانت اور شعر ہے
Ayahs 17:42–43آیت نمبر 42 تا 43
قولہ تعالیٰ : قل لو کان معہٓ اٰلھۃ یہ اس ارشاد کے ساتھ متصل ہے : ولا تجعل مع اللہ الٰھا (الاسراء :29) اور یہ بتوں کی پر سیش کرنے والوں کا رد ہے۔ کمایقومون ابن کثیر اور خفض نے یقولقون ای کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے تقولون خطاب کی بنا پر تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اذالا بتغوا یعنی ان الہٰوں نے تلاش کرلی ہوتی۔ الیٰ ذی العرش سبیلاً حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرنے اور جنگ کرنے کا مطالبہ کرتے جیسا کہ دنیا کے بادشاہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تب انہوں نے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوئی راہ تلاش کرلی ہوتی تاکہ وہ اس کی بادشاہی کو زائل اور ختم کرسکیں، کیونکہ وہ اس کے شریک ہیں۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تب ان خداؤں نے صاحب عرش کے پاس قرب کی رہ تلاش کرلی ہوتی، اور اس کی نزدیکی تلاش کرچکے ہوتے کیونکہ وہ اس کے سوا ہیں، اور قوم یہ اعتقاد رکھتی ہے کہ وہ بت انہیں اللہ تعالیٰ کے بہت قریب کردیتے ہیں، پس انہوں نے بتوں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھا کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے محتاج ہیں تو پھر یہ باطل ہوگیا کہ وہ الٰہ ہیں۔ سبحٰنہ وتعلیٰ عمایقولون علوًا کبیرًا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی ہر اس شے سے پاکی، عظمت اور بزرگی بیان کی ہے جو اس کے لائق اور مناسب نہیں۔ اور تسبیح کا معنی تنزیہ (پاکی بیان کرنا) ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔