Ayah 17:72آیت نمبر 72
قولہ تعالیٰ : ومن کان فی ھٰذہ اعمیٰ یعنی جو دنیا میں نظر وفکر کرنے سے اور حق کو دیکھنے سے اندھا بنا رہے گا۔ فھو فی الاٰخرۃ تو وہ آخرت کے معاملہ میں بھی اعمٰی اندھا ہوگا۔ اور حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : اہل یمن کی ایک جماعت حضرت ابن عباس ؓ کے پاس حاضر ہوئی اور انہوں نے اس آیت کے بارے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس کے ماقبل کو پڑھو۔ ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر۔۔۔ تاقولہٖ ۔۔۔۔ تفضیلاً ۔ (الاسراء) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جو آدمی ان نعمتوں اور ان آیات اور نشانیوں کے بارے جو اس نے دیکھیں اندھا بنا رہا تو اس آخرت کے بارے میں جسے اس نے دیکھا نہیں اندھا ہی ہوگا اور بڑا گم کردہ راہ ہوگا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے جو ان نعمتوں سے اندھا رہا جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اس پر دنیا میں فرمائی ہیں تو وہ آخرت کی نعمتوں سے بھی اندھا ہوگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ آدمی جو اس دنیا میں جس میں مہلت دی گئی ہے اور اس کو وسعت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ توبہ قبول کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ اندھا بنارہا تو وہ اس آخرت میں جس میں کوئی توبہ نہیں اندھا ہی ہوگا۔ اور حسن (رح) نے کہا ہے : جو آدمی اس دنیا میں کافر اور گمراہ رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا اور گم کردہ راہ ہوگا۔ اور یہ بھی قول ہے : وہ آدمی جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دلائل سے اندھا بنارہا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اندھا ہی اٹھائے گا : جیسا کہ اس نے ارشاد فرمایا : ونحشرہ یوم القیٰمۃ اعمٰی۔ الآیات۔ (طہٰ ) (اور ہم اسے اٹھائیں گے قیامت کے دن اندھا کرکے) اور مزید فرمایا : ونحشرھم یوم القیٰمۃ علیٰ وجوھھم عمیًا وبکمًا وصمًا ماوٰئھم جھنم (الاسراء :97) (اور ہم اٹھائیں گے انہیں قیامت کے روز منہ کے بل اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام اقوال میں فی الاٰخرۃ اعمٰی میں اس کا معنی ہے : سخت اندھا ہوگا، کیونکہ وہ دل کا اندھا ہونا ہے، اور آنکھ کے اندھے کے بارے میں اس کی مثل نہیں کہا جاسکتا۔ خلیل اور سیبویہ نے کہا ہے : کیونکہ وہ بھی خلقت نے اعتبار سے ہاتھ اور پاؤں کی طرح ہی ہے، لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا ما اعماہ جیسا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا ما ایداہ۔ اخفش نے کہا ہے : اس میں یہ نہیں کہا گیا کیونکہ اس کے حروف تین سے زائد ہیں۔ اور اس کی اصل اعمی ہے۔ اور بعض نحویوں نے ماأعماہ اور ماأعشاہ کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس کا فعل اس کا فعل عمی اور عشی ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : ایک
بصری شیخ نے مجھے شام میں بتایا کہ اس کے عربوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ما اسود شعرہ۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
ما فی المعالی لکم ظل و لا ثمر و فی المخازی لکم أشباح أشیاخ
أما الملوک فأ نت الیوم الأمھم لؤما و أبیضھم سربال طباخ
اور ابوبکر، حمزہ، کسائی اور خلف نے دو حرفوں اعمی اور اعمی میں امالہ کہا ہے اور باقیوں نے ان میں فتح پڑھا ہے۔ اور ابوعمرو نے پہلے میں امالہ کیا ہے اور دوسرے کو فتح دیا ہے۔ واضل سبیلا یعنی وہ ہدایت کی طرف کوئی راہ نہیں پائے گا۔
Ayah 17:73آیت نمبر 73
حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ طواف کے دوران حجر اسود کا استلام کررہے تھے، تو قریش نے آپ کو منع کیا اور کہا : ہم تمہیں استلام کی اجازت نہیں دیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے الہٰوں کے بھی قریب ہو، تو آپ نے اپنے دل میں خیال کیا اور کہا : مجھ پر نہیں ہے کہ میں ان کے قریب ہوں اس کے بعد کہ وہ مجھے استلام حجر کی اجازت دیں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا انکار کیا اور آپ پر یہ آیت نازل فرمائی، یہ حضرت مجاہد اور قتادہ نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت عطا کی روایت میں کہا ہے : یہ آیت ثقیف کے وفد کے بارے نازل ہوئی، اور انہوں نے آپ ﷺ سے ایسا مطالبہ کیا جو حق سے دور تھا انہوں نے کہا : ایک سال تک ہمیں اپنے خداؤں سے منافع حاصل کرنے دیں یہاں تک کہ ہم وہ لے لیں جو انہیں ہدایا پیش کئے جاتے ہیں، پس جب ہم اسے لے لیں گے تو ہم انہیں توڑ دیں گے اور ہم اسلام قبول کرلیں گے، آپ ہماری وادی کو اسی طرح حرم قرار دیجئے جیسے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، تاکہ عرب اپنے اوپر ہماری فضیلت کو جان لیں، پس رسول اللہ ﷺ نے یہ انہیں عطا کرنے کا قصد و ارادہ کیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اکا برین قریش نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : آپ ان گرنے والے (کمزور لوگوں) کو اور ان غلاموں کو ہم سے دور بھگایئے تاکہ ہم آپ کے ساتھ بیٹھیں اور آپ سے کچھ سن سکیں، تو آپ ﷺ نے اس کا ارادہ کرلیا یہاں تک کہ آپ کو اس سے منع کردیا گیا۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ قریش ایک رات صبح تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خلوت اور تنہائی میں رہے اور آپ کے ساتھ گفتگو کرتے رہے، آپ کی شان کرتے رہے، آپ کو سردار بنانے اور آپ کو اپنے قریب لانے کی کوشش کرتے رہے، اور کہنے لگے : بلاشبہ آپ جو شے لائے ہیں وہ لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں لاسکتا، اے ہمارے آقا ! آپ تو ہمارے سردار ہوئے، وہ اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ان بعض امور میں ان کے قریب ہونے لگے جو وہ چاہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے محفوظ رکھ لیا، بچالیا، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور لیفتنونک کا معنی ہے وہ آپ کر برگشتہ کرتے ہیں، پھیلاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : فتنت الرجل من رأیہ جب تو کسی آدمی کو اس رائے سے پھسلادے، پھر دے جس پر وہ تھا : یہ ہر وی نے کہا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : وہ آپ کو پھراتے ہیں (یزیلونک اور یصرفونک) دونوں کا معنی ایک ہی ہے، عن الذی اوحینآ الیک یعنی قرآن کریم کے حکم سے، کیونکہ انہیں وہ دینے میں جس کا انہوں نے سوال اور مطالبہ کیا ہے اس میں قرآن کریم کی مخالفت ہے۔ لتفتری علینا غیرہ یعنی تاکہ آپ ایسا بہتان تراش کر ہماری منسوب کردیں جو اس کے خلاف ہو جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے، اور وہ ثقیف کا یہ قول ہے کہ آپ ہماری وادی کو اسی طرح حرام قرار دیجئے جیسے آپ نے مکہ مکرمہ کو حرام قرار دیا ہے، (یعنی) اس کے درختوں کو، اس کے پرندوں کو، اور اس کے وحشی جانوروں کو، اور اگر عرب آپ سے پوچھیں : آپ نے انہیں کیوں خاص کیا ؟ تو آپ یہ فرمایئے : اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے مجھے حکم دیا ہے، تاکہ وہ آپ کے لئے عذر ہوجائے۔ واذلا تخذوک خلیلاً یعنی اگر آپ وہ کریں جو وہ چاہتے ہیں تو وہ آپ کو گہرا دوست بنالیں گے، یعنی وہ آپ سے محبت کریں گے اور آپ کی طرف مائل ہوجائیں گے : (خلیل) الخلہ (خا کے ضمہ کے ساتھ) سے ماخوذ ہے اور اس سے مراد دوستی ہے کیونکہ آپ ان کے ساتھ موافقت کریں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : لاتخذوک خلیلاً یعنی وہ آپ کو فقیر اور محتاج بنادیں گے۔ یہ الخلۃ (خا کے فتحہ کے ساتھ) سے ماخوذ ہے اور اس سے مراد فقر ہے کیونکہ آپ ان کے حاجت مند اور محتاج ہوجائیں گے۔
Ayahs 17:74–75آیت نمبر 74 تا 75
قولہ تعالیٰ : ولولا ان ثبتنٰک یعنی اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور ہم نے آپ کو ان کی موافقت سے نہ بچایا ہوتا۔ لقد کدت ترکن الیھم تو آپ اس کی طرف مائل ہوجاتے۔ شیئا قلیلاً یعنی تھوڑا اور کچھ نہ کچھ۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ عرض کی : اللھم لاتکلنی إلی نفسی طرفۃ عین (اے اللہ ! تو مجھے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔ ) اور کہا گیا ہے : خطاب کا ظاہر حضور نبی کریم ﷺ کے لئے ہے اور اس کا باطن ثقیف کے بارے خبر دے رہا ہے۔ اور اس کا معنی ہے : وان کا دوالیرکنونک، یعنی قریب تھا کہ وہ آپ کے بارے یہ خبر دیتے کہ آپ ان کے قول کی طرف مائل ہوگئے ہیں، پس ان کے فعل کو مجاز أاور وسعۃ آپ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جیسا کہ تو کسی آدمی کو کہتا ہے : کدت تقتل نفسک (قریب ہے تو اپنے کو قتل کردے) یعنی قریب ہے لوگ تجھے اس سبب سے قتل کردیں جو تو نے فعل کیا ہے، اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی طرف سے ان کی طرف مائل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں بنا، بلکہ اس کا معنی ہے : اگر آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو آپ یقینا ان کی موافقت کی طرف مائل ہوجاتے، لیکن آپ پر مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا فضل رہا دو آپ نے ایسا نہ کیا : یہ علامہ قشیری (رح) نے ذکر کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : رسول اللہ ﷺ معصوم ہیں، لیکن یہ امت کی تعریف ہے تاکہ ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی شرائع میں سے کسی شی میں مشرکین کی طرف مائل نہ ہو۔
اور قولہ تعالیٰ : اذًا لاذقنٰک ضعف الحیٰوۃ وضعف الممات یعنی (بفرض محال) اگر آپ مائل ہوتے تو آپ کو دنیا میں دنیا کے عذاب کی دو مثل اور آخرت میں موت کے عذاب کی دو مثل چکھاتے : یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد ؓ وغیرہ نے کہا ہے۔ اور یہ انتہائی وعید ہے۔ اور جب بھی رتبہ اور درجہ اعلیٰ اور بلند ہو تو مخالفت کی صورت میں عذاب بھی اتنا بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یٰنسآء النبی من یات منکن بفاحشۃٍ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین (الاحزاب :30) (اے نبی کریم کی بیبیو ! جس کسی نے تم میں سے کھلی بیہودگی کی تو اس کے لئے عذاب کو دو چند کردیا جائے گا۔ )
اور ضعف الشی سے مراد دو مرتبہ اس کی مثل ہوتا ہے (دوگنا) ، اور کبھی ضعف کا معنی حصہ بھی ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لکل ضعف (الاعراف : 38) یعنی ہر ایک کے لئے ایک حصہ ہے، یہ معنی سورة الاعراف میں گزرچکا ہے۔
Ayah 17:76آیت نمبر 76
اس آیت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مدنی ہے، جیسا کہ سورت کے آغاز میں بیان ہوچکا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ یہویوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے مدینہ طیبہ میں قیام فرماہونے کے ساتھ حسد کیا اور کہا : بیشک انبیاء (علیہم السلام) شام بھیجے گئے ہیں، پس اگر آپ نبی ہیں تو آپ بھی وہاں چلے وہاں جائیں، کیونکہ اگر آپ نے اس کی طرف خروج کیا تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ ایمان لے آئیں گے، پس یہ بات آپ ﷺ کے دل میں راسخ ہوگئی کیونکہ آپ اب کے اسلام لانے کو پسند کرتے تھے، چناچہ آپ نے مدینہ طیبہ سے ایک مرحلہ (منزل) تک سفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور عبدالرحمن بن غنم نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے آپ صرف شام کا ارادہ رکھتے تھے، پس جب آپ تبوک اترے تو یہ ارشاد وان کا دو لیستفزونک من الارض سورت کے ختم ہونے کے بعد نازل ہوا، اور آپ کو واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : یہ آیت اہل مکہ کے آپ کو نکالنے کے ارادہ کے بارے نازل ہوئی، اور اگر انہوں نے آپ کو نکال دیا تو پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم ارشاد فرمایا تو آپ وہاں سے نکل آئے، یہ قول اصح ہے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور اس لئے بھی کہ اس آیت کا ماقبل اہل مکہ کے بارے خبر ہے، اور ییہ یہودیوں کا ذکر جاری نہیں۔
اور قولہ تعالیٰ من الارض سے مراد مکہ مکرمہ کی زمین ہے، جیسا کہ یہ قول ہے : فلن ابرح الادض (یوسف : 80) (سو میں تو نہیں چھوڑوں گا اس زمین کو۔ ) اس میں مرادارض مصر ہے، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃً من قریتک التیٓ اخرجتک (محمد :13) (اور بہت سی ایسی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں تمہاری اس بستی سے کہیں زیادہ تھیں جس (کے باشندوں نے) آپ کو نکال دیا) اس میں قریہ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کا معنی ہے : اس کے باسیوں نے آپ کو نکالنے کا ارادہ کیا، اسی وجہ سے اضافت اس کی طرف کی اور فرمایا اخرجتک اور یہ بھی کہا گیا ہے : تمام کفار نے یہ قصد کیا کہ وہ آپ پر غلبہ پا کر آپ کو حقارت اور رسوائی کے ساتھ سر زمین عرب سے نکال دیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی (اور آپ کو روک لیا) اور اگر وہ آپ کو عرب میں زمین سے نکال دیتے تو پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی، اور یہی معنی اس قول باری تعالیٰ کا ہے : واذًا لا یلبثون خلٰفک الاقلیلاً (اور (اگر انہوں نے یہ حماقت کی) تب وہ نہیں ٹھہریں گے (یہاں) آپ کے بعد مگر ٹھوڑا عرصہ ) ۔ حضرت عطا ابن ابی رباح نے لایلبثون کو بامشددہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ خلٰفک حضرت نافع، ابن کثیر، ابوبکر، اور ابوعمرو رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اس کا معنی ہے بعدک (یعنی آپ کے بعد وہ یہاں نہیں ٹھہریں گے مگر تھوڑا عرصہ) ۔ اور ابن عامر، حفص، حمزہ اور کسائی نے خلافک پڑھا ہے اور ابو حاتم نے اسے اختیار کیا ہے، اور انہوں نے اس قول پر قیاس کیا ہے : فرح المخلفون بمقدھم خلٰف رسول اللہ (التوبہ :81) (خوش ہوگئے پیچھے چھوڑے جانے والے اپنے (گھر) بیٹھے رہنے پر اللہ کے رسول کی (جہاد پر) روانگی کے بعد) ۔ اور اس کا معنی بھی بعدک ہے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
عفت الدیار خلافھم فکأنما بسط الشواطب بینھن حصیرا
اس میں خلافھم، بعدھم (ان کے بعد) کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔
ماوردی میں بسط البواسط ہے۔ کہا جاتا ہے : شطبت المرأۃ الجرید جنب عورت ٹہنیاں چیرے تاکہ ان سے چٹائیاں بنائے بعدک (آپ کے بعد) ہے۔ اور خلٰقک بمعنی مخالفتک (آپ کی مخالفت میں) ہے : اسے ابن الانباری نے ذکر کیا ہے۔ الاقلیلاً اس میں دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے۔۔۔ کہ اس مدت دے مراد وہ جتنی مدت وہ آپ کو نکالنے کے بعد سے لے کر بدر کے دن اپنے قتل ہونے تک وہاں ٹھہرے رہے، اور یہ ان کا قول ہے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ یہاں مراد قریش ہیں۔ اور دوسری وجہ یہ ہے۔۔۔۔ کہ اس کے درمیان اور بنی قریظہ کے قتل اور بنی نضیر کے جلاوطن ہونے کے درمیان جو مدت ہے وہ مراد ہے، اور یہ ان کا قول ہے جنہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ مراد یہودی ہیں۔
Ayah 17:77آیت نمبر 77
قولہ تعالیٰ : سنۃ من قدارسلنا قبلک من رسلنا یعنی یہ عذاب دیئے جائیں گے جیسا کہ ان کے بارے ہمارا دستور ہے جہنیں ہم نے بھیجا، پس یعذبون کو مضمر کرکے سنۃ کو نصب دی گئی ہے پس جب جردینے والا حرب (کاف، کسنۃ میں) ساقط ہوگیا تو فعل نے عمل کیا، یہ فراء نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اس معنی کی وجہ سے منصوب ہے سنتا سنۃ من قدأرسلنا (ہم نے ان کے لئے دستور بنارکھا ہے جنہیں ہم نے بھیجا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ یہ کاف کے حذف کی تقدیر پر منصوب ہے : تقدیر کلام ہوگی : لا یلبثون خلفک الا قلیلا کسنۃ من قد أرسلنا (وہ نہیں ٹھہریں گے آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ جیسا کہ ان کے بارے ہمارا دستور ہے جنہیں ہم نے بھیجا۔ ) پس اس تقدیر پر وقف الا قلیلا پر نہیں کیا جائے گا اور پہلے اور دوسرے قول کے مطابق وقف کیا جائے گا۔ قبلک من رسلنا اس میں وقف اچھا ہے۔ ولا تجد لسنتنا تحویلاً یعنی اس دستور اور وعدے میں کوئی خلاف اور دو بدل نہیں ہے۔
Ayah 17:78آیت نمبر 78
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس جب مشرکین کے مکروفریب کو ذکر کر چلے تو ساتھ ہی اپنے نبی ﷺ کو صبر کرنے اور نماز کی محافظت کا حکم ارشاد فرمایا، اور اس میں دشمنوں کے خلاف مدد ونصرت کی طلب موجود ہے۔ اور اسی کی مثل یہ ارشاد بھی ہے ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون۔ فسبح بحمد ربک وکن من السجدین۔ (الحجر) (اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو وہ کیا کرتے تھے سو آپ پاکی بیان کیجئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اور جایئے سجدہ کرنے والوں سے) اور إقامۃ الصلوٰۃ کے بارے میں بحث سورة البقرہ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ اور باجماع مفسرین یہ آیت فرض نمازوں کی طرف اشارہ ہے۔ علماء نے دلوک کے معنی میں دو مختلف قول بیان کئے ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد آسمان کے درمیان سے سورج کا ڈھل جانا، زوال پذیر ہوجانا ہے : یہ حضرت عمر، آپ کے صاحبزادے، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس ؓ اور ان کے سوا علماء تابعین وغیرہ کی ایک جماعت نے کہا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ دلوک سے مراد سورج کا غروب ہونا ہے : یہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ ماوردی نے کہا ہے : جنہوں نے دلوک کو سورج کے غروب ہونے کا نام قرار دیا ہے وہ اس لئے ہے کیونکہ انسان سورج کے غروب ہونے کی حالت میں اس کے بالکل ظاہر اور بین ہونے کی وجہ سے اپنی آنکھوں کو اپنی ہتھیلی کے ساتھ رگڑتا ہے، اور جنہوں نے اسے سورج کے زوال کا نام دیا ہے تو وہ اس لئے کیونکہ وہ سورج کی شدت اور تیزی کی وجہ سے اپنی آنکھوں کو رگڑتا ہے۔ اور ابوعبید نے کہا ہے : سورج کے دلوک کا معنی غروب ہونا ہے۔ اور دلکت براح کا معنی ہے سورج غروب ہوگیا۔ جیسا کہ قطرب نے کہا ہے :
ھذا مقام قدمی رباح ذبب حتی ذلکت براح
اس میں براح (با کے فتحہ کے ساتھ) حذام، قطام اور رقاش کے وزن پر ہے اور یہ سورج کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور فراء نے اسے (با کے کسرہ کے ساتھ) پڑھا ہے اور یہ راحۃ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہتھیلی ہے، یعنی وہ غائب ہوگئی حالانکہ وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس نے اپنی ہتھیلی اپنی بھنوؤں پر رکھ لی۔ اور اسی سے عجاج کا قول بھی ہے :
والشمس قد کا دت تکون دنقا أدفعھا بالراح کی تزحلفا
ابن الاعرابی نے کہا ہے : الرحلوفۃ سے مراد ملائم گرنے کی جگہ ہے، (یعنی ڈھلوان کی جگہ ) ، کیونکہ وہ اس میں لڑھکتے اور پھسلتے ہیں۔ مزید کہا : الزخلفۃ دحرجۃ کی طرح ہے اور الدفع کی طرح، (یعنی لڑھکنا اور دھکا دینا ) ، کہا جاتا ہے : زحلفتہ فتزحلف (میں نے اسے دھکا دیا پس وہ پھسل گیا، لڑھک گیا۔ ) اور کہا جاتا ہے : دلکت الشمس جب سورج غروب ہوجائے۔ ذوالرمہ نے کہا ہے :
مصابیح لیست بالواتی تقودھا نجوم ولا بالآفلات الدوالک
ابن عطیہ نے کہا ہے : دلوک کا لغوی معنی مائل ہونا، جھکنا اور ڈھلنا ہے پس دلوک کی ابتدا سورج کا زوال پذیر ہونا ہے اور اس کی انتہا اس کا غروب ہونا ہے۔ اور زوال کے وقت سے لے کر غروب ہونے تک کے وقت کو دلوک کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ڈھلنے اور جھکنے کی حالت میں ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان نمازوں کا ذکر کیا ہے جو دلوک کی حالت اور اس کے قریب ہوتی ہیں، پس اس میں ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں داخل ہیں، اور یہ بھی صحیح ہے کہ مغرب کی نماز عسق اللیل میں داخل ہو۔ اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ظہر کا وقت زوال سے لے کر غروب آفتاب تک پھیلا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے واجب ہونے کو دلوک پر معلق کیا ہے، اور یہ سارے کا سارا دلوک ہی ہے، اور یہ امام اوزاعی اور امام ابوحنیفہ رحمہا اللہ تعالیٰ نے تفصیل میں کہا ہے۔ اور امام مالک اور امام شافعی رحمہا اللہ تعالیٰ نے حالت ضرورت میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ،
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : الیٰ غسق الیل امام مالک (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ دلوک الشمس سے مراد سورج کا ڈھلنا ہے، اور غسق اللیل سے مراد رات کا جمع ہونا اور اس کا تاریک ہونا ہے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : الغسق سے مراد رات کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ ابن قیس رقیات نے کہا ہے :
إن ھذا اللیل قد غسقا واشتکیت الھم والأرقا
اور یہ بھی کہا گیا ہے : غسق اللیل سے مراد شفق کا غروب ہونا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد رات کی تاریکی کا آنا ہے۔ جیسا کہ زہیر نے کہا ہے :
ظلمت تجود یداھا وھی لاھیۃ حتی إذا جنح الإظلام والغسق
کہا جاتا ہے : غسق اللیل غسوقا۔ اور الغسق یہ اسم سین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اور کلمہ کی اصل السیلان سے ہے۔ (یعنی اس کا معنی بہنا ہے) ، کہا جاتا ہے : غسقت العین جب چشمہ بہہ پڑے، تغسق۔ اور غسق الجرح غسقانًا، یعنی زخم سے زرد پانی بہنے لگا۔ اور اغسق المؤذن یعنی مؤذن نے مغرب کو رات آنے تک مؤخر کردیا۔ اور فراء نے بیان کیا ہے : غسق اللیل وأغسق، ظلم وأظلم، دجاوأدجی، غبس وأغبس، غبش وأغبش (ان تمال میں رات کے آنے اور اس کے تاریک ہونے کا معنی پایا جاتا ہے) ۔ اور ربیع بن خثیم بادل کے دن اپنے مؤذن کو فرماتے ہیں : أغسق أغسق۔ وہ کہتے : مغرب کو مؤخر کرو یہاں تک کہ رات کی تاریکی چھاجائے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء نے مغرب کے آخری وقت میں اختلاف کیا ہے، پس کیا گیا ہے : اس کا وقت ایک ہی وقت ہے اور اس کا وقت نہیں ہے مگر اس وقت جب سورج غروب ہوجاتا ہے، اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی امامت میں بالکل بین اور واضح ہے، کیونکہ آپ نے یہ نماز دو دن ایک ہی وقت میں پڑھائی اور وہ غروب آفتاب کا وقت تھا، اور یہی امام مالک (رح) کا ان کے اصحاب کے نزدیک ظاہر مذہب ہے۔ اور یہی امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ایک ہے اور آپ سے مشہور بھی ہے، اور اسی طرح ثوری (رح) نے بھی کہا ہے۔ اور امام مالک (رح) نے مؤطا میں کہا ہے : پس جب شفق غائب ہوجائے تو مغرب کا وقت نکل جاتا ہے اور عشاء کا وقت داخل ہوجاتا ہے۔ اور اسی طرح ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب، حسن بن حی، احمد، اسحاق، ابوثور، اور داؤ درحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہےِ کیونکہ غروب سے لے کر شفقت تک کا وقت سارے کا سارا غسق ہے۔ اور حضرت ابوموسیٰ ؓ کی حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے مغرب کے وقت کے بارے سوال کرنے والے کو دوسرے دن مغرب کی نماز پڑھائی اور اسے موخر کیا یہاں تک کہ وہ شفق غروب ہونے کے قریب تھی : اسے مسلم (رح) نے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : یہ حدیث امامت جبرائیل (علیہ السلام) کی اخبار سے اولیٰ ہے، کیونکہ یہ حدیث متاخر ہے کیونکہ یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں پیش آیا اور جبرائیل (علیہ السلام) نے امامت مکہ مکرمہ میں کرائی، اور آپ کے فعل اور امر میں سے متاخر اولیٰ ہے، کیونکہ وہ اپنے کے لئے ناسخ ہے۔ اور ابن عربی نے خیال کیا ہے کہ یہی قول امام مالک (رح) کے مذہب سے مشہور ہے۔ اور آپ کا وہ قول جو آپ کی موطا میں ہے آپ نے وہ طویل عمر تک پڑھا یا اور اپنی زندگی میں اسے املاء کروایا۔
اس میں نکتہ یہ ہے کہ وہ احکام جو اسماء سے متعلق ہوتے ہیں کیا وہ ان کے اوائل سے متعلق ہوتے ہیں یا ان کے آخر سے یا پھر حکم ان تمام سے متعلق یہ ہے کہ وہ احکام جو اسماء سے متعلق ہوتے ہیں کیا وہ ان کے اوائل سے متعلق ہوتے ہیں یا ان کے آخر سے یا پھر حکم ان تمام سے متعلق ہوتا ہے ؟ تو نظر وفکر میں اقویی یہی ہے کہ حکم کا تعلق ان کے اوائل سے متعلق ہوتے ہیں یا ان کے آخر سے یا پھر حکم ان تمام سے متعلق ہوتا ہے ؟ تو نظر وفکر میں اقویی یہی ہے کہ حکم کا تعلق ان کے اوائل سے ہوتا ہے تاکہ اس کا ذکر لغونہ ہوجائے پس جب حکم انکے اوائل سے مربوط ہوجائے تو پھر اس کے بعد اس کا تعلق تمام کے ساتھ آخر تک جاری رہے گا
میں (مفسر) کہتا ہوں : جس قول میں وسعت ہے وہ راجح ہے۔ تحقیق امام حافظ ابومحمد عبد الغنی بن سعید نے اجلح بن عبداللہ کندی کی حدیث بیان کی ہے، انہوں نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے اسے نقل کیا ہے، آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے سورج غروب ہونے کے قریب نکلے اور آپ نے مغرب کی نماز ادا نہ فرمائی یہاں تک کہ آپ مقام سرف پر آگئے۔ اور وہ نو میل سفر ہے۔ اور رہا نسخ کے بارے قول تو وہ بین اور واضح نہیں ہے اگرچہ تاریخ معلوم ہے، کیونکہ ان روایات میں تطبیق اور انہیں جمع کرنا ممکن ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : مغرب کے وقت کے بارے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی احادیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے گا، اسی وجہ سے امت نے سورج غروب ہونے کے وقت اس میں تعجیل کرنے اور اسے فوراً ادا کرنے پت اتفاق کیا ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : ہم مسلمانوں میں سے کسی کو بھی نہیں جانتے جس نے جماعت والی مسجد میں غروب آفتاب سے مغرب کی اقامت کو موخر کیا ہو۔ اور وسعت والی احادیث جواز کے وقت کو ظاہر کرتی ہیں، پس اس طرح تعارض ختم ہوجاتا ہے اور ان کو جمع کرنا صحیح ہوتا ہے، اور بااتفاق اصولیین یہ ترجیح سے اولیٰ ہے کیونکہ اس میں دو دلیلوں میں سے ہر ایک پر عمل کرنا ثابت ہوتا ہے اور ترجیح یا نسخ کے قول میں ایک کو ساقط کرنا لازم آتا ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : وقراٰن الفجر اس میں قراٰن دو وجہوں سے منصوب ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ الصلوٰۃ پر معطوف ہو، اس کا معنی ہوگا : أقم قرآن الفبر یعنی صبح کی نماز قائم کرنا، یہ فراء نے کہا ہے۔ اور اہل بصرہ نے کہا ہے : یہ اغراء کی بنا پر منصوب ہے، یعنی فعلیک بقرآن الفجر (تجھ ہر صبح کی نماز لازم ہے) : یہ زجاج نے کہا ہے۔ خاص کر اس نماز کو قرآن سے تعبیر کیا گیا ہے دوسری نماز روں کو نہیں، کیونکہ قرآن ان سے عظمت وشان والا ہے، جبکہ صبح کی نماز کی قرأت طویل اور بالجہر ہے جیسا کہ یہ مشہور بھی ہے اور لکھی ہوئی بھی : یہ بھی زجاج سے مروی ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : صبح کی نماز میں قرأت کو طویل کرنے کے مستحب ہونے پر اہل مدینہ کا پختہ عمل ہے اتنی مقدار تک جو پیچھے کھڑے ہونے والوں کے لئے تکلیف دہ نہ ہو۔ وہ اس میں طوال مفصل پڑھتے ہیں، اور ظہر اور جمعہ کی نمازوں کو بھی اس میں اس کے ساتھ ملاتے ہیں۔ اور مغرب کی نماز میں قرأت میں تخفیف کرتے ہیں اور عصر اور عشاء میں متوسط قرأت کرتے ہیں۔ اور عصر کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اس میں بھی مغرب کی طرض تخفیف کی جائے گی۔ اور جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جو صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ ان نمازوں میں قرأت طویل کرنا جن میں مختصر قرأت پر استقرار ہے، اور ان نمازوں میں قرآت مختصر کرنا جن میں طریل قرأت کرنے پر عمل ہے، جیسا کہ فجر کی نماز معوذتین پڑھنا۔۔۔ جیسا کہ اسے نسانی نے روایت کیا ہے۔۔۔ اور مغرب کی نماز میں سورة اعراف، مرسلات اور طور کی قرأت کرنا، پس اس پر عمل متروک ہے اور اس وجہ سے بھی کہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو قرأت طویل کرنے سے منع کیا تھا جس وقت آپ نے اپنی قوم کو عشاء کی نماز کی امامت کرائی کرائی اور اس میں سورة البقرہ پڑھی، اسے صحیح نے روایت کیا ہے۔ اور اس وجہ سے بھی کہ آپ نے ائمہ کو تخفیف کرنے کا حکم ارشاد فرمایا :” اے لوگو ! بیشک تم میں سے بھگانے والے بھی ہیں پس تم میں سے جو کوئی لوگوں کی امامت کرائے تو اسے چاہئے کہ وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بچے بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی، مریض بھی ہوتے ہیں اور درد والے بیمار بھی، اور ضعیف اور کمزور بھی ہوتے ہیں اور صاحب حاجت بھی “۔ اور فرمایا :” پس جب تم میں سے کوئی اکیلے نماز پڑھے تو وہ جتنی چاہے لمبی اور طویل پڑھے۔ “ یہ سب صحیح حدیث میں لکھا ہوا ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ : وقراٰن الفجر یہ اس پر دلیل ہے کہ کوئی نماز بغیر قرات کے نہیں ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز کو قرآن کا نام دیا ہے۔ علماء نے نماز میں قرأت کے بارے اختلاف کیا ہے پس جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ امام کے لئے اور اکیلے نماز پڑھنے والے کے لئے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ اور یہی امام مالک (رح) کا مشہور قول ہے۔ اور آپ سے یہ بھی روایت ہے کہ نماز کے بڑے حصے میں اس کی قرأت واجب ہے، اور یہ اسحاق کا قول ہے۔ اور آپ سے یہ بھی ہے کہ ایک رکعت میں اس کی قرات واجب ہے : یہ مغیرہ اور سحنون نے کہا ہے۔ اور یہ اسحاق کا قول ہے۔ اور آپ سے یہ بھی ہے کہ ایک رکعت میں اس کی قرات واجب ہے : یہ مغیرہ اور سحنون نے کہا ہے۔ اور ان سے یہ بھی ہے کہ نماز میں سے کسی شے میں قرأت واجب نہیں ہوتی۔ اور یہ آپ اے انتہائی شاذ روایات میں سے ہے۔ اور امام مالک (رح) سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرأت نماز میں نماز میں واجب ہے، اور اسی طرف امام اوزاعی (رح) بھی گئے ہیں۔ اور امام اوزاعی (رح) سے بھی اور ایوب سے ایوب سے بھی روایت ہے کہ امام پر، اکیلے نماز پڑھنے والے پر اور مقتدی پر ہر حال میں قرات واجب ہوتی ہے۔ اور یہی امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ایک ہے، مکمل بحث سورة قاتحہ میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ قولہ تعالیٰ : کان مشھودًا ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے قول باری تعالیٰ : وقراٰن الفجر ان قراٰن الفجر کان مشھودًا کے بارے میں فرمایا :” اس نماز میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سبھی حاضر ہوتے ہیں “۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اسے علی بن مسہر نے اعمش سے انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کی افضیلت اکیلے آدمی کی نماز پر پچیس درجے ہے اور صبح کی نماز میں رات کے ملائکہ اور دن کے ملائکہ جمع ہوجاتے ہیں “۔ اسی وجہ سے اس نماز کو جلدی (صبح سویرے) پڑھا جاتا ہے، پس جس نے یہ نماز سویرے نہ پڑھی تو اس کی نماز میں ملائکہ کے دو گروہوں میں سے صرف ایک گروہ حاضر ہوگا۔ اور اس معنی کی بناء پر امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : صبح کی نماز اندھرے میں پڑھا افضل ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ ر حمۃ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے : اندھیرے اور روشنی کو جمع کرنا (یعنی ان کے درمیان پڑھنا) افضل ہے، اور اگر یہ نہ ہوسکے تو پھر روشن کرکے پڑھنا اندھیرے میں پڑھنے سے افضل ہے اور یہ اس کے مخالف ہے جو آپ ﷺ تغلیس پر مداومت اختیار کرتے تھے، اور یہ بھی کہ اس میں رات کے ملائکہ کی حاضری کو بھی فوت کرنا آتا ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ بعض علماء نے آپ ﷺ کے اس قول سے اس پر استدلال کیا ہے : ” اس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں “۔ کہ صبح کی نماز نہ رات کی نماز میں سے ہے اور نہ دن کی نماز میں سے۔
میں (مسفر) کہتا ہوں : اس بنا پر تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عصر کی نماز بھی نہ رات کی نماز میں سے ہو اور نہ دن کی نماز میں سے، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ سے صحیح روایت میں مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اس کی راوی ہیں : ” تم میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں، پس وہ عصر کی نماز میں اور فجر کی نماز میں جمع ہوجاتے ہیں “۔ الحدیث۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ عصر کی نماز دن میں سے ہے پس اسی طرح میں اور فجر کی نماز رات کی نماز میں سے ہوگی اور یہ اس طرح نہیں ہے، بلاشبہ یہ عصر کی نماز کی طرح دن کی نمازوں میں سے ہی ہے اور اس کی دلیل روزہ اور قسم وغیرہ ہے، اور یہ بالکل واضح ہے
Ayah 17:79آیت نمبر 79
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ومن الیل یہ من تبعیض کے لئے ہے۔ اور فتھجد میں فا مضمر کلام پر عطف کے لئے ہے ای قم فتھجد (یعنی اٹھو اور نماز تہجد اد اکرو) بہٖ یعنی تل اورت قرآن کریم کے ساتھ۔ اور التھجد ھجود سے ہے اور یہ اضداد میں سے ہے۔ کہا جاتا ہے : ھجد بمعنی نام (وہ سوگیا) اور ھجد بمعنی سھر (وہ جاگ گیا ( ، تو یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے بھی کہا ہے :
ألا زارت و اھل منی ھجود ولیت خیالھا بمنیٰ یعود
اور دوسرا کہتا ہے :
ألا طرقتنا والرفاق ھجود فباتت بعلات النوال تجود
مراد نیام (سونا) ہے۔ اور ھجد اور تھجد دونوں ہم معنی ہیں۔ اور ھجدتہ أی أنمتہ (میں نے اسے سلادیا) ، اور ھجدتہ ای أیقظتہ (میں نے اسے جگادیا) اور لتھجد سے مراد سونے کے بعد جاگنا ہے، اور پھر یہ نماز کا نام ہوگیا ہے، کیونکہ آدمی اس نماز کے لئے نیند سے بیدار ہوتا ہے، پس تھجد کا معنی نیند سے بیدار ہو کر نماز کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اس کا یہ معنی اسود، علقمہ اور عبدالرحمن بن اسودرحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ اور اسماعیل بن اسحاق قاضی نے حضور نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت حجاج بن عمر ؓ کی حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :” کیا تم میں سے کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ جب اس نے ساری قیام کیا تو اس نے تہجد ادا کرلیے ! بلاشبہ تہجد وہ نماز ہے جو نیند کے بعد ہو “۔ پھر فرمایا :” وہ نماز ہے جو نیند کے بعد ہو “۔ پھر فرمایا :” وہ ہے جو سونے کے بعد ہو “۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی نماز ہوتی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الھجود کا معنی النوم (سونا) ہے۔ کہا جاتا ہے : تھجد الرجل جب آدمی نیند سے بیدار ہو، اور القی الھجودوھو النوم وہ اپنی نیند پھینک دے، دور کردے۔ اور وہ آدمی کو نماز کے لئے اٹھا اسے متھجد کا نام دیا جائے گا : کیونکہ متھجد وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ سے اپنی نیند کو دور پھینک دیتا ہے۔ اور یہ فعل تحوب (گناہ سے پچنا) ، تحرج (گناہ سے بچنا) تأثم تحنث (گناہ سے نفرت کرنا، اسے چھوڑدینا) تفذر اور تنجس (نجاست اور پلیدی سے پچنا) کے قائم مقام ہے جب آدمی انہیں اپنے آپ سے دور کردے، پھینک دے۔ اور اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : فظلتم تفکھون۔ (الواقعہ) ۔
اس کا معنی ہے تندمون (کئے پر یشمان ہونا) ، یعنی تم اپنے آپ سے فکاہت پھینک دو گے، دور کردو گے اور اس سے مراد نفوس کا انتہائی فرحت و سرور میں ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے : رجل فکہ جب آدمی بہت زیادہ بہت دو گے، دور کردوگے اور اس سے مراد نفوس کا انتہائی فرحت و سرور میں ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے : رجل فکہ جب آدمی بہت آدمی بہت زیادہ خوش اور ہنسنے والا ہو۔ اور آیت میں اس کا معنی ہے : ووقنا من الللیل اسھرتہ فی صلاۃ وقرأۃ (اور رات میں کچھ وقت ہو جو اس کو نماز وقرات کے لئے بیدار کرے) ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : نافلتہ لک یعنی یہ آپ کے لئے اعزاز ہے : یہ مقاتل نے کہا ہے۔ اور علماء نے حضور نبی مکرم ﷺ کی امت کو چھوڑکر خاص طور پر حضور علیہ السلوٰۃ اولسلام کا ذکر کرنے میں اختلاف کیا ہے، پس کہا گیا ہے کہ رات کی نماز آپ ﷺ پر فرض تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نافلۃ لک یعنی یہ زائد فریضہ ہے اس فریضہ سے جو امت پر لازم کیا گیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہون : اس تاویل میں دواعتبار سے بعد ہے : ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ فرض کو نفل کا نام دیا گیا ہے، اور یہ مجاز ہے حقیقت نہیں ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے۔۔۔ کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے :” پانچ نمازیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کی ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھن خمس وھن خمسون لایبدل القول لدی ( یہ پانچ ہیں (دراصل) یہ پچاس ہیں میرے نزدیک قول تبدیل نہیں کیا جائے گا) ۔ اور یہ نص ہے، تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ پر پانچ سے کوئی زائد نماز فرض ہوئی، یہ وہ ہے جو صحیح نہیں ہوسکتا، اگرچہ حضور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے :” تین چیزیں ہیں جو مجھ پر فرض ہیں اور میری امت کے لئے نفل امت کے لئے نفل ہیں رات کا قیام، وتر، اور مسواک کرنا “۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ رات کی نماز آپ کے لئے بھی نقل ہے اور ابتدا میں یہ تمام پر واجب تھی، پھر وجوب منسوخ ہوگیا اور رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نقل ہوگیا، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان کیا، اس کا مفصل بیان سورة المزمل میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور اس بنا پر نفل کے بارے امر ندب کے معنی میں ہوگا اور خطاب حضور نبی کریم ﷺ کو ہورہا ہے کیونکہ آپ کی
مغفرت فرمادی گئی ہے (یعنی آپ معصوم ہیں) پس آپ وہ نقل ادا کریں گے جو آپ پر واجب نہیں ہیں تو وہ آپ کے لئے ردجات میں اضافہ اور بلندی کا باعث ہوں گے اور آپ کے علاوہ امت کا نفل ادا کرنا فرائض میں واقع ہونے والے خلل کا تدارک اور کفارہ ہوتے ہیں : اس کا یہ معنی حضرت مجاہد وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ عطیہ ہے، کیونکہ کوئی بندہ سعادت میں عبادت کی توفیق سے افضل کوئی عطا نہیں پائے گا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : عسیٰ ان یبعثک ربک مقامًا محمودًا مقام محمود کے بارے میں چار مختلف قول ہیں۔
(1) اور یہی زیادہ صحیح ہے۔۔۔ کہ یہ قیامت کے دن لوگوں کی شفاعت کا مقام ہے : یہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے کہا ہے۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : بیشک لوگ قیامت کے دن گروہ گروہ ہوجائیں گے اور ہر امت اپنے نبی (علیہ السلام) کی اتباع کرے گی اور یہ کہے گی : اے فلاں ! تو شفاعت کر، یہاں تک کہ حضور نبی مکرم ﷺ پر شفاعت انتہا کو پہنچ جائے گی، پس اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر درفراز فرمائے گا۔ اور صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بیان فرمایا :” جب قیامت کا دن ہوگا لوگ آپس میں بعض سے اضطراب کا اظہار کریں گے اور پھر وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے : اپنی اولاد کی شفاعت کیجئے، تو آپ فرمائیں گے اور پھر وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے : اپنی اولاد کی شفاعت کیجئے، تو آپ فرمائیں گے : میں یہ نہیں کرسکتا، لیکن تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ جاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں پھر وہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو آپ بھی فرمائیں گے : میں نہیں کرسکتا، البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ والسلام کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں، چناچہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور وہ بھی کہیں گے : نہیں میں شفاعت نہیں کرسکتا، لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ کیونکہ وہ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں، چناچہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو وہ بھی فرمائیں گے : میں اس کے لئے تیار نہیں البتہ تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس جاؤ چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا : میں اس لئے تیار ہوں “۔ آگے حدیث ذکر کی۔ اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے، انہوں نے ییان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قول باری تعالیٰ : عسیٰ ان یبعتک ربک مقامًا محمودًا کے بارے فرمایا جب اس کے بارے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ (مقام) شفاعت ہے “۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ مقام محمود ہی اس شفاعت کا امر ہے جیسے انبیاء (علیہم السلام) ایک دوسرے کے ذمہ لگائیں گے، یہاں تک کہ یہ امر ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک انتہا کو پہنچ جائے گا۔ پس آپ اہل موقف کی یہ شفاعت کریں گے تاکہ ان کا حساب جلدی میں ہوجائے اور وہ اپنے موقف (ٹھہرنے کا محل، میدان حشر) کے ہول اور خوف سے راحت اور سکون پالیں، اور یہ شفاعت آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، اور اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس پر فخر نہیں “۔ نق اس نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ کے لئے تین شفاعتیں ہیں : شفاعت عامہ، جنت کی طرف سبقت لے جانے کی شفاعت، اور اہل کبائر کی شفاعت۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : مشہور یہ ہے کہ یہ صرف دو شفاعتیں ہیں : شفاعت عامہ، جہنم سے گنہگاروں کو نکالنے کی شفاعت اور یہ دوسری شفاعت وہ ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) دور نہیں ہٹائیں گے اور نہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالیں گے بلکہ وہ شفاعت کریں گے اور علماء بھی شفاعت کریں گے۔ اور قاضی ابو الفضل عیاض (رح) تعالیٰ نے ییان کیا ہے : قیامت کے دن ہمارے نبی مکرم ﷺ کی شفاعتیں پانچ ہیں ! شفاعت عامہ، دوسری بغیر حساب کے قوم کو جنت میں داخل کرنے کے بارے، تیسری آپ کی امت کے موحدین کی ایک جماعت جنہوں نے اپنے گناہوں کے سبب جہنم واجب کرلی ہوگی پس ان کے بارے میں ہمارے نبی مکرم ﷺ شفاعت کریں گے، اور اللہ تعالیٰ جس کے بارے چاہے گا کہ وہ شفاعت کریں اور وہ جنت داخل ہوجائیں گے۔ اور یہی وہ شفاعت ہے جس کا مبتدع خوازج اور معتزلہ نے انکار کیا ہے، اور انہوں نے اس کا انکار اپنے فاسد اصولوں کی بنا پر کیا پر کیا، اور وہ استحاق عقلی پر کسی کو حسین اور قبیح قرار دینے کا دار و مدار ہے اور چوتھی ان گنہگاروں کے بارے میں ہے جو جہنم میں داخل ہوں گے اور انہیں ہمارے نبی مکرم ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام، ملائکہ اور ان کے مومن بھائیوں کی شفاعت سے باہر نکالا جائے گا۔ اور پانچویں شفاعت جنت میں اہل جنت کے درجات میں زیادتی اور ان کی بلندی کے بارے ہوگی۔ اور یہ شفاعت ہے جس کا معتزلہ انکار نہیں کرتے اور نہ وہ حشر اول کی شفاعت کا انکار کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ حضرت قاضی عیاض (رح) تعالیٰ نے بیان فرمایا : سلف صالحین کا حضور نبی رحمت ﷺ کی شفاعت کی التجا کرنا اور ان کا اس میں رغبت رکھنا خبر مشہور اور مستفیض سے ثابت اور معلوم ہے، لہٰذا اس بنا پر اس کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا جس نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میرا یہ دعا کرنا مکروہ ہے کہ وہ تجھے حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت عطا فرمائے، کیونکہ یہ تو فقط گنہگاروں کے لئے ہوگی۔ اس لئے کہ یہ حساب میں تخفیف اور درجات اور مراتب میں زیادتی اور بلندی کے لئے بھی ہوگی جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ پھر ہر عقلمند کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے اور وہ معافی کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ اپنے عمل کے سبب سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والا نہیں ہوتا اور وہ اس سے ذرتا رہتا ہے کہ کہیں وہ ہلاک ہونے والوں میں سے نہ ہوجائے، اور مذکورہ قول کرنے والے کے قول سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ مغفرت اور رحمت کی دعا ہی نہ مانگے کیونکہ یہ بھی گناہ کرنے والوں کے لئے ہے۔ اور یہ سب اس کے خلاف ہے جو کچھ سلف وخلف کی دعا سے معلوم ہوا ہے : امام بخاری (رح) نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس کسی نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلواۃ القآئمۃ آت محمدان۔۔۔ ﷺ ۔۔۔۔ الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمودان الذی وعدتہ قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگئی “۔
دوسرا قول یہ ہے۔۔۔ کہ مقام محمود سے مراد اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺ کو قیامت کے دن لواء الحمد عطا کرنا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس قول اور پہلے قول کے درمیان کوئی منافرت نہیں ہے، کیونکہ لواء الحمد آپ ﷺ کے دست
مبارک میں ہوگا اور آپ شفاعت کریں گے۔ ترمذی نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت بیان کی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں قیامت کے دن اولاد کا سردار ہوں گا اور یہ میں فخر سے نہیں کہہ رہا اور میرے ہاتھ میں لواء الحمد ہوگا اور اس پر مجھے فخر نہیں اور اس دن آدم (علیہ السلام) اور ان کے سوا کوئی نبی نہ ہوگا مگر وہ میرے جھنڈے کے نیچے ہوگا “۔ الحدیث۔
تیسرا قول یہ ہے۔۔۔ اسے علامہ طبری (رح) نے ایک جماعت سے بیان کیا ہے، اس میں سے حضرت مجاہد بھی ہیں، اس جماعت نے یہ کہا ہے کہ مقام محمود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنے ساتھ اپنی کرسی پر بٹھائے گا اور اس بارے میں انہوں نے ایک حدیث بھی روایت کی ہے۔ اور علامہ طبری نے اس کے جواز کو ایک قول کی زیادتی سے تقویت دی ہے۔ اور وہ نہیں نکل سکتا مگر معنی میں حیلہ اور انتہائی نرمی برتنے کے ساتھ، اور اس میں حقیقت سے بہت بعد اور دوری ہے۔ اور اس کے باوجود روایت کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اور اس کے معنی میں تاویل ہوگی۔ اور نقاش نے ابوداؤد سجستانی سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا ؛ جس نے اس حدیث کا انکار کیا تو وہ ہمارے نزدیک متہم ہوگا، اہل علم اس کے بارے مسلسل بیان کرتے رہے ہیں، جس نے اس کی تاویل کی بنا کی بنا پر اس کے جواز کا انکار کیا ہے۔ ابوعمر نے کہا ہے : حضرت مجاہد اگرچہ ائمہ میں سے ایک ہیں آپ قرآن کریم کی تاویل کرتے ہیں کیونکہ آپ کے دو قول ہیں جو اہل علم کے نزدیک چھوڑ دیئے گئے ہیں : ان میں سے ایک یہی ہے۔ اور دوسرا اس قول باری تعالیٰ کی تاویل میں ہے : وجوہ یومئذناضرۃ۔ الیٰ ربھا ناظرۃ۔ (القیا مۃ) فرمایا : وہ ثواب کا انتظار کرے گا، یہ نظر (یعنی رب کریم کو دیکھنے) سے نہیں ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ابن شہاب نے حدیث التنزیل کے باپ میں اے ذکر کیا ہے۔ اور حضرت مجاہد سے بھی اس آیت میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عرش پر بٹھائے گا۔ اور یہ تاویل محال نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام اشیاء اور عرش کو پیدا کرنے سے پہلے اپنی ذات کے ساتھ قائم اور موجود تھا، پھر اس نے بغیر حاجت اشیاء کو تخلیق فرمایا مگر اسے ان کی حاجت اور ضرورت نہ تھی، بلکہ صرف اپنی قدرت اور حکمت کے اظہار کے لئے ایسا کیا، اور اس لئے تاکہ اس کا وجود، اس کی توحید، کمال قدرت اور تمام افعال محکمہ کے بارے اس کا علم معلوم ہوجائے، اور اس نے اپنے لئے عرش تخلیق فرمایا اور اپنی قدرت اور شان کے مطابق اس پر قرار پذیر ہوا بغیر اس کے کہ اللہ کریم نے اس کو مس کیا ہو، یا عرش اس کے مکان بنا ہو، کہا گیا ہے : وہ اب بھی اسی صفت پر ہے جس پر وہ زمان ومکان کو پیدا کرنے سے پہلے تھا، پس اس بناء پر جواز میں یہ قول کرنا برابر ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو عرش یا زمین پر بیٹھا یا گیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر قرار پذیر ہونا انتقال، زوال، احوال کا تبدیل ہونا مثلاً اٹھنا، بیٹھنا وغیرہ اوعر وہ حالت جو عرش کو مشغول کردے، کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے عرش پر بلاکیف متمکن ہوا جیسا کہ اس نے اپنے بارے میں خبردی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا حضرت محمد ﷺ کو عرش پر بٹھانا نہ تو آپ کے لئے صفت ربوبیت کو ثابت کرتا ہے اور نہ آپ کو صفت عبودیت سے نکالنے کا سبب ہے، بلکہ یہ تو آپ کے مقام ومحل کو بلند کرنا اور آپ کو اپنی مخلوق پر شرف وعزت عطا کرنا ہے۔ اور رہا اخبار میں آپ کا قول معہ تو یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کی طرح ہے : ان الذین عند ربک (الاعراف :126) (بےشک جو مقرب ہیں تیرے رب کے) اور رب ابن عندک بیتا فی الجنۃ (التحریم :11) (اے میرے رب ! بنا دے میرے لئے ایک گھر جنت میں۔ ) اور وان اللہ لمع المحسنین (العنکبوت :69) (اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ (ہر وقت) محسنین کے ساتھ ہے) اور اسی طرح کے دیگر ارشادات۔ یہ تما بلند رتبہ، اور درجہ کی طرف عائد ہیں نہ کہ مکان کی طرف۔
چوتھا قول یہ ہے کہ آپ کا اپنی شفاعت کے ساتھ جہنم سے انہیں نکالنا ہے جو نکلیں گے : یہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے کہا ہے۔ اسے مسلم نے ذکر کیا ہے۔ ہم نے اسے ” کتاب لتذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔ واللہ الموفق۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ رات کے قیام کے مقام محمود کا سبب ہونے کے بارے میں علماء کے دو مختلف قول ہیں :
ان میں سے ایک یہ ہے۔۔۔۔ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فعل میں سے جسے چاہے اپنے فضل کا سبب بنا دیتا ہے چاہے تو اس میں وجہ حکمت کی پہچان نہ کرائے، یا وجہ حکمت کی معرفت عطا کردے۔
دوسرا قول یہ ہے۔۔۔ کہ رات کے وقت قیام کرنے میں لوگوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوت اختیار کرنا اور اس کی مناجات کرنا ہے، پس اس نے رات کے قیام میں اپنے ساتھ خلوت نشینی اور اپنی مناجات عطا فرمادی ہے اور یہی مقام محمود ہے اور اس میں مخلوق اپنے درجات کے اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت پاتی ہے اور مخلوق میں درجہ کے اعتبار سے سب سے اشرف و اعلی حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای ہے، کیونکہ آپ کو وہ کچھ عطا کیا جاتا ہے جو کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا اور آپ اس وقت شفاعت کریں گے جب کوئی شفاعت نہیں کرے گا۔
اور عسیٰ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ واجب اور ثابت کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور مقامًا ظرف کی بنا پر منصوب ہے، یعنی بمعنی فی مقام اوإکی مقام۔ اور طبری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مقام محمود وہی مقام ہے جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا ؛۔ پس مقام وہ جگہ ہے جس میں انسان امور عظیمہ سر انجام دینے کے لئے کھڑا ہوتا ہے جیسا کہ وہ مقامات جو بادشاہوں کے سامنے ہوتے ہیں۔
Ayah 17:80آیت نمبر 80
کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تو مجھے موت عطا فرما سچائی کی موت، اور مجھے قیامت کے دن اٹھا سچائی کے ساتھ، تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متصل ہوجائے : عسیٰ ان یبعتک ربک مقامًا محمودًا گویا جب آپ کے ساتھ اس کا وعدہ فرمایا تو آپ کو حکم دیا کہ دعا مانگا کریں تاکہ آپ کے لئے وعدہ پورا کردیا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو مجھے ان امور میں داخل فرما دے جن کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے مجھے نکال لے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دعا کی تعلیم دی کہ آپ حالت نماز اور دیگر اوقات میں مشرکین کے درمیان سے نکالے جانے اور پر امن جگہ میں پہنچائے جانے کی دعا مانگا کیجئے، پس اللہ تعالیٰ کو مکہ مکرمہ سے نکالا اور آپ کو مدینہ طیبہ پہنچادیا۔ اس معنی کو ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا پس یہ آیت نازل ہوئی : وقل رب ادخلنی مدخل صدقٍ اوخرجنی مخرج صدقٍ اوجعل لی من کدنک سلطٰنًا نصیرًا فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : یہ مکہ مکرمہ سے نکلنا اور فتح کے دن حالت امن میں مکہ مکرمہ میں داخل ہونا ہے۔ ابو سہل نے کہا ہے : جس وقت آپ ﷺ تبوک سے واپسی تشریف لائے تو منافقین نے کہا تھا : لیخرجن الاعزمنھا الاذل (المنافقون :8) (تع نکال دیں گے عزت والے وہاں سے ذلیلوں کو ) ۔ تو اس ارشاد میں مراد عزت کے ساتھ داخل کرنا اور مدد ونصرت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف نکالنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تو مجھے اس امر میں سچائی کے ساتھ داخل فرمادے جس کے ساتھ تو نے عزت و تکریم عطا فرمائی ہے (اور وہ) نبوت ہے، اور مجھے اس سے سچائی کے ساتھ نکال لے جب تو مجھے موت عطا فرمائے) ، اس کا یہ معنی حضرت مجاہد نے بیان کیا ہے۔ اور لمدخل اور المخرج (میم کے ضمہ کے ساتھ) یہ بمعنی ادخال (داخل کرنا) اور اخراج ( نکالنا) ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : انزلنی منزلا مبٰرکًا (المومنون : 29) (اے میرے رب ! اتار مجھے بابرکت منزل پر۔ ) یعنی یہ بمعنی انزال ہے میں اس جگہ میں ایسی شے نہ دیکھوں جو میں ناپسند کرتا ہوں اور یہی قرأت عامہ ہے۔ حسن، ابوالعالیہ، اور نصربن عاصم رحمہم اللہ تعالیٰ نے مدخل اور مخرج دونوں میموں کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بمعنی دخول اور خروج ہیں ( یعنی داخل ہونا اور نکلنا) ، پس پہلا رباعی ہے اور یہ ثلاثی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : مجھے موت کے وقت سچائی کے ساتھ قبر میں داخل فرما اور دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت سچائی کے ساتھ وہاں سے نکال۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو مجھے سچائی کے ساتھ لے جا جہاں کہیں تو مجھے لے جائے اور سچائی کے ساتھ وہاں سے لے آ، یعنی تو مجھے ان سے نہ بنا جو من وجہ داخل ہوتے ہیں اور من وجہ خارج ہوتے ہیں، کیونکہ دو چہروں والا تیرے نزدیک پسندیدہ نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ہر اس کے بارے میں عام ہے جو امور میں پائے جاتے ہیں اور سفروں اور اعمال میں سے جن کا قصد کیا جاتا ہے، اور موت وحیات میں تقدیر کے جس تصرف کا انتظار کیا جارہا ہے۔ پس یہ ایک دعا ہے، اور اس کا معنی ہے : اے میرے رب ! تمام امور میں میرے داخل ہونے اور ان سے نکلنے کے بارے میری اصلاح فرما۔ اور قول باری تعالیٰ : وجعل لی من لدنک سلطٰنًا نصیرًا شعبی اور عکرمہ نے کہا ہے سلطٰناً نصیرا سے مراد حجۃ ثابتہ ہے۔ اور حسن اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد عزت، مدد ونصرت اور تمام دینوں پت آپ کے دین کو غالب کرنا ہے۔ فرمایا : پس اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ فارس اور روم وغیرہ کی سلطنتیں ان سے چھین لے گا اور اسے آپ کے حوالے کردے گا۔