10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

آیت نمبر 102۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم یہاں ایام سے مراد واقعات ہیں یعنی بمعنی وقائع ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان عالم بایام العرب یعنی فلاں عرب میں پیش آنے والے واقعات کا عالم ہے۔ حضرت قتادہ۔ نے کہا ہے : مراد وہ واقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے قوم نوح، عاد اور ثمود میں پیش آئے۔ اور عرب عذاب اور انعام دونوں کو ایام کا نام دیتے ہیں، جیسا کہ قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) وذکرھم بایام اللہ (ابراہیم : 5) اور ہم وہ جو خیر وشر میں سے گزرچکا ہے وہی ایام ہے۔ (آیت) فانتظروا یعنی تم انتظار کرو یہ تہدید (ڈانٹ ڈپٹ) اور وعید ہے۔ (آیت) انی معکم من المنتظرین بیشک میں بھی تمہارے ساتھ اپنے رب کے وعدہ کا انتظار کرنے والوں سے ہوں۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

آیت نمبر 103۔ قولہ تعالیٰ : ثم ننجی رسلناوالذین امنوا یعنی ہماری سنت میں سے ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب نازل کریں تو ان کے درمیان سے اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو نکال لیتے ہیں۔ اور ثم اس کا معنی ہے ثم اعلموا انا ننجی رسلنا (پھر تم جان لو کہ ہم اپنے رسولوں کو بچالیں گے ) (آیت) کذالک حقا علینا یعنی ہم پر واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے اور اس کی خبر میں خلاف نہیں ہوسکتا۔ اور یعقوب نے ثم ننجی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور کسائی، حفص اور یعقوب نے ننجی المومنین کو مخفف پڑھا ہے اور باقیوں نے مشدد پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغتیں فصیح ہیں۔ انجی ینجی انجاء اور نجی ینجی تنجیۃ دونوں کا معنی ایک ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ لوگو ! اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں ؟

آیت نمبر 104۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) قل یایھا الناس مراد کفار مکہ ہیں۔ (آیت) ان کنتم فی شک من دینی اگر تمہیں اس دین اسلام کے بارے میں کوئی شک ہو جس کی طرف تمہیں بلاتا ہوں۔ (آیت) فلا اعبدالذین تعبدون من دون اللہ تو (سن لو) میں ان بتوں کی عبادت نہیں کرتا جو عقل اور سمجھ نہیں رکھتے جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا۔ (آیت) ولکن اعبداللہ الذی یتوفکم لیکن میں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں مارتا ہے اور تمہاری ارواح قبض کرتا ہے۔ (آیت) وامرت ان اکون من المومنین اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان اہل ایمان سے ہوجائوں جو اپنے رب کی آیات کی تصدیق کرتے ہیں۔ (1) (تفسیر الطبری، جلد 12، صفحہ 203)
Ayahs 10:105–106

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ (اے محمد ﷺ سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

آیت نمبر 105 اور 106۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) وان اقم وجھک، ان کا عطف ان اکون پر ہے یعنی مجھے کہا گیا ہے کہ مومنین سے ہوجا اور اپنا رخ سیدھا کرلے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اور اپنا عمل سیدھا کرلے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنا آپ سیدھا کرلے، یعنی اپنی توجہ اس پر مرکوز کرلے دین میں سے جس کے بارے آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ (آیت) حنیفا یعنی ہر دین سے بچتے ہوئے سیدھا اس کی طرف کرلے (جس کا حکم دیا گیا ہے) حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ نے کہا ہے : حمدت اللہ حین ھدی فوادی من الاشراک الدین الحنیف میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی جس وقت اس نے میرے دل کو شرک سے خالص دین کی طرف ہدایت عطا فرمائی۔ اس کے مادہ اشتقاق کا ذکر سورة الانعام میں گزرچکا ہے والحمد للہ۔ (آیت) ولاتکونن من المشرکین یعنی اور مجھے کہا گیا ہے : تو شرک نہ کر۔ یہ خطاب آپ ﷺ کے ہے اور مراد غیر ہے۔ اور اسی طرح یہ ارشاد ہے : (آیت) ولاتدع یعنی تو عبادت نہ کر۔ (آیت) من دون اللہ مالا ینفعک اگر تو نے اس کی عبادت کی (تو وہ تجھے کوئی نفع نہ دے گا) (آیت) ولایضرک اگر تو نے اس کی نافرمانی کی (تو وہ تجھے ضرر نہ دے سکے گا) (آیت) فان فعلت اگر تو نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کی۔ (آیت) فانک اذامن الظلمین تو بیشک تو عبادت کو تو اس کے غیر محل میں رکھنے والا ہوجائے گا۔ (1) (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 371)
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 107 قولہ تعالیٰ : (آیت) وان یمسسک اللہ بضر یعنی اگر تجھے اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے۔ (آیت) فلاکاشف یعنی کوئی دور کرنے والا نہیں۔ (آیت) لہ الا ھو وان یردک بخیر اس کو بجز اس کے اور اگر وہ تجھے آسودگی اور نعمت پہنچائے۔ (آیت) فلارآد لفضلہ یصیب بہ تو کوئی رد کرنے والا نہیں ہر اس کو جس کا خیر وشر میں سے وہ ارادہ فرمائے۔ (آیت) من یشاء من عبادہ وھو الغفور اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں اور ان کی خطائوں کو بخشنے والا ہے الرحیم اور آخرت میں اپنے اولیاء کے ساتھ رحم فرمانے والا ہے۔ (2) (تفسیر الطبری، جلد 12، صفحہ 305)
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے۔ تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔

آیت نمبر 108۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) قل یایھا الناس قد جاء کم الحق اس میں حق سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ (آیت) من ربکم فمن اھتدی یعنی جس نے حضور ﷺ کی تصدیق کی اور اس (دین) کے ساتھ ایمان لایا جو آپ لے کر آئے۔ (آیت) فانما یھتدی لنفسہ وہ اپنے نفس کی نجات اور خلاصی کے لیے ہدایت قبول کرتا ہے۔ (آیت) ومن ضل جس نے رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کو چھوڑدیا اور بتوں کی پیروی اور اتباع کی۔ (آیت) فانما یضل علیھا تو بلاشبہ اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ (آیت) وما انا علیکم بوکیل یعنی میں تم پر محافظ ونگران نہیں ہوں کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں بلاشبہ میں تو رسول اور پیغامبر ہوں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : آیۃ السیف نے اس آیت کو منسوخ کردیا ہے۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو۔ یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 109۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) واتبع مایوحی الیک واصبر کہا گیا ہے : یہ آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے اور اس کا معنی ہے اطاعت کرنے پر اور معصیت سے بچنے پر صبر کیجئے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے انصار کو جمع کیا اور آپ ﷺ نے ان کے ساتھ کسی غیر کو جمع نہ کیا اور فرمایا :” بیشک تم میرے بعدبلا استحقاق دوسروں کی فضیلت اور ترجیح کو پائو گے پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو “۔ انکم ستجدون بعدی اثرہ فاصبروا حتی تلقونی علی الحوض (2) (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف، حدیث نمبر 3986، ضیاء القرآن، پبلی کیشنز) اور حضرت انس ؓ سے اسی کی مثل روایت ہے، پھر حضرت انس ؓ نے فرمایا : پس انہوں نے صبر نہ کیا تو آپ ﷺ نے انہیں صبر کرنے کا حکم دیا جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے حکم دیا۔ اس بارے میں عبدالرحمن بن حسان کہتے ہیں : الا ابلغ معاویۃ بن حرب امیر المومنین نثا کلامی بانا صابرون ومنظروکم الی یوم التغابن والخصام (آیت) حتی یحکم اللہ وھو خیر الحکمین یہ مبتدا اور خبر ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ سوائے حق کے کوئی فیصلہ نہیں فرماتا۔ تمت ترجمہ سورة یونس۔