10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

آیت نمبر : 54۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولو ان لکل ظلمت “ یعنی اگر ہر شخص کے لیے جس نے شرک کیا اور کفر کیا۔ (آیت) ” ما فی الارض “ یعنی وہ سب اس کی ملکیت ہو جو زمین میں ہے۔ (آیت) ” لافتدت بہ “ وہ ساری دولت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بدلے فدیہ دے دے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ان الذین کفروا وما توا وھم کفار فلن یقبل من احدھم ملء الارض ذھبا ولو افتدی “۔ (آل عمران : 91) (جن لوگوں نے کفر کیا اور مرگئے کفر ہی کی حالت میں تو ہر گز قبول نہ کیا جائے گا ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا اگرچہ وہ (اپنی نجات کے لیے) عوضا نہ دے اتنا سونا) اور یہ بحث گزر چکی ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واسروا الندامۃ “۔ یعنی انہوں نے ندامت کو مخفی رکھا، یعنی ان کے سرداروں نے، مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ندامت کو اپنے متبعین سے چھپا کر رکھا (1) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 438) (آیت) ” لما راوالعذاب “۔ (جب انہوں نے عذاب کو دیکھا) اور یہ آگ میں جلائے جانے سے پہلے ہے اور جب وہ جہنم میں واقع ہوں گے تو آگ انہیں ایسا کرنے سے غافل کر دے گی، اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے : (آیت) ” ربنا غلبت علینا شقوتنا “۔ (المومنوں : 106) (اے ہمارے رب ! غالب آگئی تھی ہم پر ہماری بدبختی) پس ظاہر ہوگیا کہ وہ اسے نہیں چھپاسکیں گے جو انہیں لاحق ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اسروا بمعنی اظھروا (یعنی وہ ظاہر کردیں گے) اور یہ کلمہ اضداد میں سے ہے اور اس پر دلیل یہ بھی ہے کہ آخرت مضبوطی اور صبر دکھانے کا دار نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اپنے دلوں میں حسرت کا درد پانے لگے، کیونکہ ندامت کو ظاہر کرنا ممکن نہیں ہوتا، کثیر نے کہا ہے : فاسررت الندامۃ یوم نادی برد جمال غاضرۃ المنادی : اور مبرد نے اس میں ایک تیسری وجہ ذکر کی ہے کہ ان کے چہروں کے خطوط ندامت کو ظاہر کردیں اور یہ پیشانی کی لکیریں (اور خدوخال) ہیں، اور اسرہ کا واحد سرار ہے، اور ندامت سے مراد وہ حسرت ہے جو کسی شے کے واقع ہونے یافوت ہونے کی وجہ سے ہو، اور اس کا اصل معنی تو لازم ہوتا ہے، اور اسی سے ندیم ہے کیونکہ وہ مجالس کو لازم پکڑتا ہے، اور فلان نادم سادم (فلاں نادم اور غمگین ہے) اور السدم اللھج بالشیء (سدم کا معنی شیفتہ ہونا ہے) اور ندم وتندم بالشی یعنی کسی شی کے سبب غمگین ہوا، جوہری نے کہا ہے : السدم کا معنی ندامت اور حزن ہے۔ اور سدم کسرہ کے ساتھ ہو تو معنی غمگین ہونا اور پریشان ہونا ہے، اور رجل نادم سادم، وندمان سدمان “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس (نادم) کے تابع ہے اور مالہ ھم ولا سدم الا ذالک یعنی اس کے لیے نہ کوئی غم ہے نہ پریشانی سوائے اس کے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الندم الدمن کا مقلوب ہے۔ اور الدمن کا معنی لازم ہونا ہے، اور اس سے ہی فلان مدمن الخمر فلان شراب کو لازم پکڑنے والا ہے یعنی ہمیشہ شراب پینے والا ہے) اور الدمن سے مراد وہ شے ہے جو گھر میں جمع ہو اور تلبد من الابوال والابعار (اور بول وبراز اور گوبر (کھاد) جمع ہوگیا) اس کے لازم ہونے کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا ہے، اور الدمنۃ اس سے مراد وہ کینہ ہے جو سینے کو لازم پکڑے ہوتا ہے۔ اور اس کی جمع دمن ہے۔ اور قد دمنت قلوبھم (ان کے دل کینے سے بھر گئے) کہا جاتا ہے : دمنت علی فلان ای ضفنت (یعنی میں نے فلان کے لیے کینہ رکھا) (آیت) ” وقضی بینھم بالقسط “ یعنی رؤسا اور ادنی لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کردیا گیا، (آیت) ” وھم لا یظلمون “ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

آیت نمبر : 55۔ الا سامع کے لیے یہ حرف تنبیہ ہے یہ کلام کے اول میں زائد کیا جاتا ہے یعنی تم ان کے بارے آگاہ ہوجاؤ جو میں تمہیں کہہ رہا ہوں۔ (آیت) ” ان للہ ما فی السموت والارض، الا ان وعد اللہ حق “۔ (بےشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو ! یقینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے) (آیت) ” لہ ملک السموت والارض “۔ (البقرہ : 107) (آسمانوں اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے) اور کوئی مانع جو اسے اپنے وعدہ کو نافذ کرنے سے روک سکے (1) (اعراب القرآن للخاص، جلد 2، صفحہ 259) (آیت) ” ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

آیت نمبر : 56۔ اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

آیت نمبر : 57۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الناس “۔ مراد قریش ہیں۔ (آیت) ” قدجآء تکم موعظۃ “۔ اس میں موعظۃ کا معنی نصیحت ہے، (آیت) ” من ربکم “۔ (تمہارے پروردگار کی طرف سے) یعنی قرآن کریم میں جس میں نصیحتیں اور حکمت آموز باتیں ہیں۔ (آیت) ” وشفآء لما فی الصدور “ اور (آگئی ہے) ان روگوں سے شفاجوشک، نفاق، اختلاف اور افتراق میں سے سینوں میں ہیں۔ (آیت) ” وھدی “ اور ان کے لیے رشد وہدایت جنہوں نے اس کی اتباع اور پیروں کی۔ (آیت) ” ورحمۃ “ اور رحمت ونعمت (آیت) ” للمؤمنین “۔ (اہل ایمان کے لیے) انہیں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ یہی ایمان کے ساتھ نفع حاصل کرتے ہیں، اور یہ تمام قرآن کی صفات ہیں اور عطف مدح کی تاکید کے لیے ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے : الی الملک القرم وابن الھمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم : اس میں بھی یہ تمام صفات بادشاہ کی ہیں اور عطف برائے تاکید ہے۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

آیت نمبر : 58۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ فضل اللہ سے مراد قرآن کریم اور رحمت سے مراد اسلام ہے، اور انہی دونوں سے یہ بھی روایت ہے کہ فضل اللہ سے مراد قرآن کریم ہے اور رحمت سے مراد یہ ہے کہ اس نے تمہیں اس کے اہل بنایا (1) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 144) اور حضرت حسن (رح) ضحاک ؓ ، مجاہد ؓ اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : فضل اللہ سے مراد ایمان ہے اور رحمتہ سے مراد قرآن ہے (2) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 164) یہ پہلے قول کے برعکس ہے، اس کے علاوہ بھی قول کیے گئے ہیں۔ (آیت) ” فبذلک فلیفرحوا “۔ یہ اشارہ فضل اور رحمت کی طرف ہے اور عرب، ذالک کو واحد، تثنیہ اور جمع کے لیے بطور اشارہ لاتے رہتے ہیں، اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فبذالک فلتفرحوا تا کے ساتھ قرات کی ہے۔ اور یہ یزید بن قعقاع اور یقوب وغیرہ کی قرات ہے۔ اور حدیث میں ہے۔ لتاخذوا مصافکم “۔ (3) (جامع ترمذی باب من سورة ص، حدیث نمبر 3159، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (چاہیے کہ تم اپنی صفوں میں رہو) اور الفرح سے مراد لذۃ فی القلب بادراک المحبوب (وہ لذت ہے جو محبوب کے ملنے سے دل میں محسوس ہوتی ہے) اور کئی مقامات پر فرح (خوشی) کی مذمت بیان کی گئی ہے، مثلا قول باری تعالیٰ : (آیت) ” لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین “۔ (القصص) (زیادہ خوش نہ ہو بیشک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا اترانے والوں کو) اور (آیت) ” انہ لفرح فخور “۔ (ہود) (بےشک وہ بڑا خوش ہونے والا اترانے والا ہے) لیکن یہ مطلق ہے اور فرحت کو مقید کردیا جائے تو وہ مذموم نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا ارشاد ہے : (آیت) ” فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ “۔ (آل عمران : 170) (شاد ہیں ان (نعمتوں) سے جو عنایت فرمائی ہیں انہیں اللہ نے اپنے فضل وکرم سے) اور یہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فبذلک فلیفرحوا “۔ یعنی قرآن اور اسلام کے ساتھ چاہیے کہ وہ خوشی منائیں پس یہ مقید ہے۔ ہارون نے کہا ہے : حضرت ابی ؓ کی قرات میں فذالک فافرحوا “ ہے، نحاس نے کہا ہے : امر کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لام کے ساتھ ہوتا کہ اس کے ساتھ حرف جازم ہو جیسا کہ نہی کے ساتھ حرف ہوتا ہے، مگر وہ امر سے مخاطب کے لیے حذف کردیتے ہیں کیونکہ اس کے خطاب کے سبب اس کی ضرورت نہیں ہوتی، اور بسا اوقات وہ اسے اپنے اصل کے مطابق لے آتے ہیں۔ اور اسی سے فبذالک فلتفرحوا ہے۔ (آیت) ” ھو خیرمما یجمعون “۔ یعنی یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو وہ دنیا میں جمع کرتے ہیں، دونوں فعلوں میں عام قرات یا کے ساتھ ہے، اور ابن عامر سے روایت ہے کہ انہوں نے فلیفرحوا یا کے ساتھ اور تجمعون، تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 164) اس لیے کہ یہ خطاب کافروں کو ہے، اور حضرت حسن (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے پہلے میں تا کے ساتھ قرات کی ہے۔ اور (آیت) ” یجمعون “ میں یا کے ساتھ یعنی پہلے قول کا برعکس ہے، اور ابان نے حضرت انس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا :” سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور قرآن کریم کا علم سکھایا پھر وہ فاقہ کی شکایت کرے اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان فقر لکھ دے گا اس دن تک جس میں وہ اسے ملے گا “۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” قفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا، ھو خیر مما یجمعون “۔ (من ھداہ اللہ الاسلام وعلمہ القرآن ثم شکا الفاقۃ کتب اللہ الفقر بین عینیہ الی یوم یلقاہ) (2) (تفسیر ماوردی سورة یونس، جلد 2، صفحہ 439، تفسیر درمنثور)
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

آیت نمبر : 59۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ارء یتم ماانزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حرام وحللا “۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” قل ارء یتم “۔ یہ کفار مکہ کو خطاب ہو رہا ہے، (آیت) ” ماانزل اللہ لکم من رزق “ اس میں ما محل نصب میں ہے، ارایتم کے سبب اور زجاج نے کہا ہے : یہ انزل کے سبب محل نصب میں ہے۔ اور انزل بمعنی خلق ہے، جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” وانزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج “۔ (الزمر : 6) (اور پیدا کیے تمہارے لیے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے) اور (آیت) ” وانزلنا الحدید فیہ باس شدید “۔ (الحدید : 25) (اور ہم نے پیدا کیا ہے لوہے کو اس میں بڑی قوت ہے) پس یہ بھی جائز ہے کہ خلق کو انزال کے ساتھ اس لیے تعبیر کیا گیا ہو کیونکہ زمین میں جو بھی رزق ہے وہ وہی ہے جو آسمان سے بارش کے سبب نازل ہوتا ہے : (آیت) ” فجعلتم منہ حراما وحللا “۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ وہ ہے جو انہوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کی تحریم کے بارے حکم لگایا، اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : (آیت) ” وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا “۔ (الانعام : 136) (اور انہوں نے بنا رکھا ہے اللہ کے لیے اس سے جو پیدا فرماتا ہے فصلوں اور مویشوں سے مقررہ حصہ) (آیت) ” قل آللہ اذن لکم “۔ پوچھیے کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حلال و حرام کرنے کی اجازت دی ہے۔ (آیت) ” ام علی اللہ “ اس میں ام بمعنی بل ہے۔ (آیت) ” تفترون “ یہ ان کا قول ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے (یعنی یہ کہہ کر تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہے ہو) مسئلہ نمبر : (2) اس آیت سے قیاس کی نفی کے بارے استدلال کیا گیا ہے اور یہ بعید (از حقیقت) ہے کیونکہ قیاس اللہ تعالیٰ کی دلیل ہے، پس تحریم وتحلیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ایسی دلیل کے پائے جانے کے وقت جو اللہ تعالیٰ نے حکم پر قائم کی ہے پس اگر کوئی قیاس کے اللہ تعالیٰ کی دلیل ہونے میں اختلاف کرے تو یہ اس غرض (اور مقصد) سے خروج ہے اور اس کے غیر کے طرف رجوع ہے۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

آیت نمبر : 60۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ “ اس میں یوم ظرف ہونے کی بنا پر منصوب ہے یا ظن کی وجہ سے جیسا کہ ما ظنک زیدا ہے اور اس کا معنی ہے کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان کا مواخذہ نہیں فرمائے گا (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 165) (آیت) ” ان اللہ لذو فضل علی الناس “۔ بیشک اللہ تعالیٰ (اس میں) تاخیر کر کے اور مہلت دے کر لوگوں پر فضل وکرم فرماتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے اہل مکہ کا ارادہ کیا ہے جس وقت انہیں حرم پاک میں پرامن بنا دیا۔ (آیت) ” ولکن اکثرھم “۔ یعنی کفار (آیت) ” لا یشکرون “ اللہ تعالیٰ کا اس کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے سے عذاب کو مؤخر کرنے میں (اس کا شکر کرتے ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے : لا یشکرون کا معنی ہے لا یوحدون یعنی اس کی وحدانیت کا اقرار نہیں کرتے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

آیت نمبر 61 قولہ تعالیٰ : (آیت) وماتکون فی شان اس میں ما برائے انکار ہے، یعنی آپ کسی حال میں نہیں ہوتے، مراد یہ کہ وہ عبادت کی حالت ہو یا اس کے سوا کی مگر اللہ تعالیٰ آپ پر مطلع ہے۔ شان حالت اور امر (کام) کو کہتے ہیں اس کی جمع شئون ہے۔ اخفش نے کہا : عرب کہتے ہیں : ماشاء نت شاء نہ یعنی میں نے اس کا کام نہیں کیا (ماعملت عملہ) ، (آیت) وماتتلو منہ من قرآن فراء اور زجاج نے کہا ہے : منہ ہاضمیر شان کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی آپ ﷺ جو نیاکام کرتے ہیں پھر اس کی وجہ سے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کا حکم کیا ہے یا اس بارے میں قرآن کریم نازل ہوتا ہے اور اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : منہ سے مراد من کتاب اللہ تعالیٰ ہے (1) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 149) (یعنی نہ آپ تلاوت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے) من قرآن تفخیم شان کے لیے اس کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ اس قول میں ہے :ـ (آیت) انی انا اللہ (القصص : 30) (بےشک میں اللہ ہوں) (آیت) ولاتعمولون من عمل اللہ تعالیٰ حضور ﷺ اور آپ کی امت کو خطاب فرمارہا ہے : (اور نہ تم کچھ عمل کرتے ہو ) اور قول باری تعالیٰ : (آیت) وماتکون من شان یہ خطاب آپ ﷺ کو ہے لیکن مراد آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت ہے۔ اور کبھی خطاب رسول کو کیا جاتا ہے اور مراد وہ اور اس کے متبعین ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہاں مراد کفار قریش ہیں۔ (آیت) الا کنا علیکم شہودا (مگر ہر حال میں ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں) یعنی ہم اسے جانتے ہیں، اور اس کی نظیر یہ ارشاد ہے (آیت) مایکون من نجوی ثلاثۃ الاھو رابعھم (المجادلۃ : 7) (نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ) (آیت) اذتفیضون فیہ یعنی جب تم اس میں شروع ہوتے ہو۔ فیہ میں ہاضمیر عمل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کہا جاتا ہے : افاض فلان فی الحدیث والعمل جب وہ بات اور کام میں لگ جائے۔ الراعی کا قول ہے : فافضن بعد کظومھن بجرۃ من ذی الاباطح اذ رعین حقیلا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : تفیضون فیہ، تفعلون (جب تم اس میں داخل ہوتے ہو) ابن کیسان نے کہا ہے : تنشرون القول (جب تم بات مشہور کرتے ہو ) ۔ اور ضحاک نے کہا ہے : ہاضمیر قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے، اس کا معنی ہوگا : جب تم قرآن میں جھوٹ ملاتے ہو۔ (آیت) ومایعذب عن ربک حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : آپ ؓ کے رب سے غیب نہیں ہوتا (2) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 51 1 ) ۔ اور ابو روق نے کہا ہے : آپ ﷺ کے رب سے دور نہیں ہوتا۔ اور ابن کیسان نے کہا ہے : وہ آپ کے رب سے جا نہیں سکتا۔ اور کسائی نے یعذب زا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے جہاں واقع ہوا ہے اور باقیوں نے عین کلمہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں فصیح لغتیں ہیں، جسے یعرش اور یعرش ہے۔ (آیت) من مثقال اس میں من صلہ ہے۔ ذرۃ یعنی ذرے کا وزن۔ مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے رب سے ذرے کے وزن کے برابر بھی کوئی شی مخفی اور چھپی ہوئی نہیں، یعنی سرخ رنگ کی چھوٹی سی چیونٹی کے برابر بھی۔ اور سورة نساء میں یہ پہلے گزرچکا ہے۔ (آیت) فی الارض ولافی السماء ولا اصغر من ذالک ولا اکبر اس کا عطف لفظ مثقال پر ہے اور اگر چاہیں تو ذرہ پر کرلیں۔ اور یقوب اور ہمزہ نے دونوں میں را کو رفع کے ساتھ مثقال کے محل پر عطف کرتے ہوئے پڑھا ہے کیونکہ من زائدہ تاکید کے لیے ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : مبتدا ہونے کی بنا پر رفع بھی جائز ہے اور اس کی خبر (آیت) الا فی کتاب مبین ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہونے کے ساتھ لوح محفوظ میں بھی ہے۔ علامہ جرجانی نے کہا ہے : الاوائونسق کے معنی میں ہے یعنی وھوفی کتاب مبین، (اور وہ لوح محفوظ میں ہے) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) انی لایخاف لدی المرسلون الا من ظلم (النمل) ای ومن ظلم (میرے حضور ڈرا نہیں کرتے جنہیں رسول بنایا جاتا ہے مگر وہ شخص جو زیادتی کرے (وہ ڈرے) اور قول باری تعالیٰ : (آیت) لئلایکون لناس علیکم حجۃ الا الذین ظلموا منھم (البقرہ : 150) ای وارحمۃ اللہ علیہلذین ظلموامنھم (تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم پر اعتراض (کی گنجائش) بجز ان لوگوں کے جو ناانصافی کریں ان سے) پس الا بمعنی وائو نسق ہے، اور اس کے بعد ھو مضمر ہے۔ جیسا کہ یہ ارشاد ہے : (آیت) وقولو حطۃ (البقرۃ : 85) ای ہی حطۃ (اور کہتے جانا بخش دے ہمیں ) اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ولاتقولوا ثلاثہ (النساء : 171) ای ھم ثلاثۃ (اور نہ کہو تین خدا ہیں) اور اس کی نظیر اس میں بھی ہے جس میں ہم ہیں : (آیت) وماتسقط من ورقۃ الا یعلمھا ولاحبۃ فی ظلمات الارض ولارطب ولایابس الا فی کتاب مبین (الانعام) ای وھو فی کتاب مبین (اور نہیں گرتا کوئی پتامگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز مگر وہ لکھی ہوئی ہے روشن کتاب میں )
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

آیت نمبر 62 قولہ تعالیٰ : (آیت) الاان اولیاء اللہ لاخوف علیھم یعنی بیشک آخرت اولیاء اللہ کو کوئی خوف نہیں۔ (آیت) ولاھم یحزنون اور نہ وہ دنیا کے مفقود ہونے کی وجہ سے غمگین ہون گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) لاخوف علیھم ولاھم یحزنون یعنی جس کا والی اللہ تعالیٰ ہو اور اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اس نے لی ہوئی ہو اور وہ اس سے راضی اور خوش بھی ہو تو قیامت کے دن نہ اسے خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ان الذین سبقت لھم من الحسنی اولئک عنھا …یعنی جہنم سے …مبعدون …تاقولہ …(آیت) لایحزھم الفزع الاکبر (الانبیاء : 103) (بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے مقدر ہوچکی ہے ہماری طرف سے بھلائی تو وہی اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان (نعمتوں) میں جن کی خواہش انہوں نے کی تھی ہمیشہ رہیں گے نہ غم ناک کرے گی انہیں وہ بڑی گھبراہٹ ) اور حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اولیاء اللہ کون ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” الذین یذکر اللہ بروئیتھم (یعنی وہ جنہیں دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کی یاد آجاتی ہے) اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اس آیت کی (وضاحت) میں فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ہیں (لیکن) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مرتبے کی وجہ سے انبیاء (علیہ السلام) اور شہداء ان پر رشک کریں گے “۔ عرض کی گئی : یارسول اللہ ! ﷺ آپ ہمیں خبر دیجئے وہ کون ہیں اور ان کے اعمال کیا ہیں تاکہ ہم ان سے محبت کرنے لگ جائیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ ایسی قوم ہے جو آپس میں نسبی رشتہ داری کے بغیر اور ایسے مالوں کے بغیر جن کے سبب وہ ایک دوسرے سے مہربانی کرتے ہوں محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ قسم بخدا ! بیشک ان کے چہرے نور ہوں گے اور بلاشبہ وہ نور کے منبروں پر ہوں گے وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے جب لوگوں کو خوف ہوگا اور وہ غمگین نہیں ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے “۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : (آیت) الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولاھم یحزنون (1) (سنن ابی دائود، باب فی الرحم، حدیث نمبر 3060، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا : اولیاء اللہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے جاگنے کے سبب زرد ہوں، آنسوئوں کے سبب آنکھیں کمزور ہوں، بھوک کے سبب پیٹ دبلے اور خالی ہوں اور ان کے ہونٹ گرمی یا پیاس کے سبب خشک ہوں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) لاخوف علیھم یعنی انہیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی خوف نہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی ذمہ داری لے لیتا ہے۔ (آیت) ولاھم یحزنون اور نہ انہیں اپنی دنیا پر کوئی غم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں عوض عطا فرما دیتا ہے اور ان کے پہلوں میں بھی اور ان کے پچھلوں میں بھی کیونکہ وہ ان کا ولی اور ان کا مددگار ہے۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

آیت نمبر 63 یہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی صفت ہے پس الذین، ان کے اسم سے بدل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور وہ اولیاء ہے اور اگر چاہیں تو اس سے پہلے اعنی مقدر مان لیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر : (آیت) لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرہ ہے پس اس طرح یہ (ترکیبی اعتبار سے) ماقبل سے کٹ جائے گا، یعنی وہ جو شرک اور گناہوں سے بچتے ہیں۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

آیت نمبر 64 قولہ تعالیٰ : (آیت) لھم البشری فی الحیوۃ الدنیاحضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے تیرے سوا کسی نے اس کے بارے میں مجھ سے نہیں پوچھا، یہ سچے خواب ہیں جنہیں ایک مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں “ (2) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 138) ۔ اسے ترمذی۔ نے اپنی جامع میں ذکر کیا ہے۔ اور زہری، عطا اور قتادہ۔ نے کہا ہے : بشارت سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ ملائکہ دنیا میں موت کے وقت ایک مومن کو خوشخبری دیتے ہیں۔ اور محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے انہوں نے کہا ہے : جب بندہ مومن کی روح نکلنے کے ارادہ سے جمع ہوجائے اس کے پاس ملک الموت (علیہ السلام) آتے ہیں اور کہتے ہیں : السلام علیک ولی اللہ اللہ یقرئک السلام (1) (شعب الایمان، جلد 1، صفحہ 361، حدیث نمبر 402 بتغیر قلیل) (اے اللہ تعالیٰ کے دوست (ولی) تجھ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ تجھے سلام فررہا ہے) پھر وہ اس آیت کے ساتھ نکال لیتے ہیں : (آیت) الذین تتوفھم الملائکۃ طیبین یقولون سلام علیکم (النحل : 32) (وہ متقی جن کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ خوش ہوتے ہیں (اس وقت) فرشتے کہتے ہیں (اے نیک بختو ! ) سلامتی ہو تم پر۔ اسے ابن مبارک نے ذکر کیا ہے۔ اور حضرت قتادہ اور ضحاک۔ نے کہا : بشارت یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے جان لیتا ہے کہ وہ کہاں ہوگا۔ اور حسن۔ نے کہا ہے : یہ وہی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی کتاب میں جنت اور عظیم ثواب کے بارے عطا فرما دیتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے : (آیت) یبشرھم ربھم برحمۃ منہ ورضوان (التوبہ : 21) (خوشخبری دیتا ہے انہیں ان کا رب اپنی رحمت اور اپنی خوشنودی کی) مزید ارشاد ہے : (آیت) وبشرارحمۃ اللہ علیہلذین امنواوعملوا الصلحت ان لھم جنت (البقرہ : 25) (اور خوشخبری دیجئے انہیں جو ایمان لائے اور کیے نیک عمل (کہ) یقینا ان کے لیے باغات ہیں) مزید فرمایا : (آیت) وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون (فصلت) (تمہیں بشارت ہو جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) اور اسی لیے ارشاد فرمایا : (آیت) لاتبدیل لکلمات اللہ یعنی اس کے وعدوں کے خلاف نہیں ہوسکتا اور یہ اس لیے ہے کیونکہ اس کے وعدے اس کے کلمات ہیں۔ (آیت) وفی الآخرۃ کہا گیا ہے : اخرت میں جنت کے بارے بشارت ہوگی جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے۔ اور بعض نے کہا ہے : جب روح نکلتی ہے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارت دی جاتی ہے۔ اور ابو اسحاق ثعلبی نے ذکر کیا ہے : میں نے ابوبکر محمد بن عبداللہ جو زقی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میں نے ابو عبداللہ الحافظ کو خواب میں ترکی گھوڑے پر سوار دیکھا وہ اپنے اوپر کمبل لیے ہوئے اور عمامہ باندھے ہوئے تھے، میں نے انہیں سلام کیا اور انہیں کہا : خوش آمدید، بیشک مسلسل تمہارا ذکر کرتے رہتے ہیں اور تمہارے محاسن اور خوبیاں بیان کرتے رہتے ہیں، تو انہوں نے کہا : اور ہم بھی تمہارا ذکر کرتے ہیں اور تمہاری خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرۃ (ان کے لیے) اچھی تعریف ہے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ بھی کیا۔ (آیت) لاتبدیل لکلمات اللہ یعنی اس کے وعدہ کے خلاف نہیں ہوسکتا (2) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 68 1) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی خبریں تبدیل نہیں ہوتیں، یعنی وہ انہیں کسی شی کے ساتھ منسوخ نہیں کرتا اور وہ نہیں ہوتی مگر اسی طرح جیسے وہ فرمائے (آیت) ذلک ھو الفوزالعظیم یعنی جس مقام پر اولیاء اللہ ہوں گے وہی عظیم کامیابی ہے۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

آیت نمبر 65 قولہ تعالیٰ : (آیت) ولایحزنک قولھم کلام مکمل ہوگئی، یعنی ان کا افتراباندھنا اور ان کا آپ کو جھٹلانا آپ کو غمزدہ نہ کرے، پھر کلام کا آغاز کیا اور فرمایا : (آیت) ان العزۃ للہ یعنی بیشک قوت کاملہ، غلبہ شاملہ اور قدرت تامہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ہے پس وہی آپ کا ناصر، مددگار اور محافظ ہے۔ جمیعا یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول اس کے معارض نہیں ہے۔ (آیت) وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین (المنافقون : 8) (حالانکہ (ساری) عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے) کیونکہ تمام عزتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہیں اور وہ تمام کی تمام اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا : (آیت) سبحان ربک رب العزۃ عمایصفوں (الصافات) پاک ہے آپ کا رب جو عزت کا مالک ہے ان (ناسزا باتوں سے) جو وہ کیا کرتے ہیں) (آیت) ھوالسمیع العلیم وہ ان کی باتیں اور ان کی آوازیں سننے والا ہے اور ان کے اعمال، ان کے افعال اور ان کی جمیع حرکات کو جاننے والا ہے۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

آیت نمبر 66 قولہ تعالیٰ : (آیت) الا ان للہ من فی السموات ومن فی الارض یعنی (بےشک جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملک میں ہے) وہ ان کے بارے میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور جو وہ ارادہ فرماتا ہے اور ان میں وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ومایتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء اس میں ما نفی کے لیے ہے، یعنی وہ حقیقتا دوسرے شریکوں کی پیروی نہیں کرتے ہیں، بلکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ شفاعت کریں گے یا نفع دیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے، یعنی کون سی شے ہے جس کی وہ پیروی کررہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے شریکوں کو پکار رہے ہیں (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 169) (یہ) ان کی فعل کی قباحت (اور برائی) بیان کرنے کے لیے ہے، پھر جواب دیا اور فرمایا : (آیت) ان یتبعون الا الظن وان ھم الا یخرصون یعنی وہ محض تخمینے لگا رہے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں، اس کا بیان پہلے گزرچکا ہے۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

آیت نمبر 67 قولہ تعالیٰ : (آیت) ھوالذی جعل لکم الیل لتسکنو فیہ یہ بیان فرمایا کہ واجب اس کی عبادت ہے جو رات اور دن کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے جو اس چیز پر قدرت نہیں رکھتا وہ عبادت کے لائق نہیں۔ (آیت) لتسکنو فیہ تاکہ تم اس میں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کے ساتھ آرام کرو تاکہ تم سے تھکاوٹ اور سستی زائل ہوجائے۔ اور سکون سے مراد اضطراب اور پریشانی سے پر سکون ہونا ہے، آرام پانا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) والنھار مبصرا اور دن کو روشن بنایاتا کہ تم اس کے ساتھ اپنی حوائج و ضروریات میں ہدایت اور رہنمائی پاسکو اور المبصروہ ہوتا ہے جو دیکھنے والا ہو، اور دن میں دیکھا جاتا ہے۔ اور فرمایا : مبصرا یہ مجازا ہے اور عربوں کی عادت کے مطابق اس میں یہ وسعت ہے جیسا کہ ان کا قول ہے، لیل قائم (رات قیام پزیر ہے) اور نھار صائم (اور دن روزے دار ہے) اور جریر نے کہا ہے : لقد لمتنا یا ام غیلان فی السری ونمت وما لیل لمطی بنائم (1) (المحرر الوجیز، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 130) اور قطرب نے کہا ہے : کہا جاتا ہے اظلم الیل یعنی رات تاریکی والی ہوگی۔ (صارذا ظلمۃ) اور اضاء النھار وابصر (دن روشن اور دیکھنے والا ہوگیا) ای صار ذا ضیاء و بصر۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ان فی ذلک لایات بیشک اس میں علامات اور دلائل ہیں۔ (آیت) لقوم یسمعون یعنی ان لوگوں کے لیے جو گہری غوروخوض سے سنتے ہیں۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

آیت نمبر 68 قولہ تعالیٰ : (آیت) قالوا اتخذاللہ ولدا یعنی کافروں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا بنالیا۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ (آیت) سبحنہ اس نے اپنے آپ کو بیوی اور اولاد سے اور شرکاء اور مد مقابل الہوں سے پاک رکھا ہوا ہے۔ (آیت) ھوالغنی لہ مافی السموات ومافی الارض پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مطلق غننی اور بےنیاز ہونے کی خبر دی اور یہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اس کی ملک، اس کی مخلوق اور اس کی غلام ہے : (آیت) ان کل من فی السموات والارض الا اتی الرحمن عبدا (مریم ) (آیت) ان عندکم من سلطان بھذا یعنی تمہارے پاس اس بیہودہ بات پر کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ (آیت) اتقولون علی اللہ مالاتعلمون اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹے کو ثابت کرکے (کیا تم اس پر بہتان باندھتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں) کیونکہ بیٹا تو مجانست اور مشابہت کا تقاضا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہ کسی شے سے مجانست رکھتا ہے اور نہ کسی شی سے مشابہت رکھتا ہے۔
Ayahs 10:69–70

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

قولہ تعالیٰ : (آیت) قل ان الذین یفترون یعنی بیشک وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔ (آیت) علی اللہ الکذب لایفلحون یعنی نہ وہ کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ پر امن ہو سکتے ہیں، کلام مکمل ہوئی۔ (آیت) متاع فی الدنیا یعنی ذالک متاع اوھو متاع فی الدنیا (یہ دنیا میں ( چند روزہ) لطف اندوزی ہے) یہ کسائی نے کہا ہے اور اخفش نے کہا ہے : لھم متاع فی الدنیا (ان کے لیے لطف اندوزی ہے دنیا میں) ابو اسحاق نے کہا ہے : قرآن کے علاوہ (دوسری عبارت میں) نصب پڑھنا بھی جائز ہے معنی یہ ہوگا یتمتعون متاعا (وہ لطف اندوزہو رہے ہیں دنیا میں) (آیت) ثم الینا مرجعھم پھر ہماری طرف ان کا رجوع ہے۔ (آیت) ثم نذیقھم العذاب الشدید پھر ہم انہیں انتہائی سخت عذاب چکھائیں گے۔ (آیت) بماکانو یکفرون یعنی ان کے کفر کے سبب۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

آیت نمبر 71 قولہ تعالیٰ : (آیت) واتل علیھم نبا نوح اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے حکم ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے سام نے پہلے لوگوں کے قصے اور واقعات بیان فرمائیں اور انہیں کفر اختیار کرنے پر دردناک عذاب سے ڈرائیں (اور خوفزدہ کریں) اتل میں وائو کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ یہ امر ہے، یعنی آپ ان پر حضرت نوح (علیہ السلام) کی خبر پڑھ کر بیان کریں۔ (آیت) اذقال لقومہ اس میں اذمحل نصب میں ہے۔ (آیت) لقوم ان کان کبر علیکم یعنی اگر تم بھاری اور ثقیل ہے۔ مقامی، المقام (میم کے فتحہ کے ساتھ ہو) تو معنی وہ جگہ ہے جس میں قیام ہوتا ہے۔ اور المقام (میم کے ضمہ کے ساتھ ہو) تو معنی الاقامۃ (قیام کرنا ہوتا ہے ) ۔ اور جہاں تک مجھے علم ہے اس کے ساتھ نہیں پڑھا گیا، یعنی اگر تم میں میرا ٹھہرنا تم پر گراں ہے۔ وتذکیری اور تمہیں میرا پندونصیحت کرنا اور تمہیں میرا ڈرانا۔ (آیت) بایات اللہ (اللہ تعالیٰ کی آیات سے) اور تم نے میرے قتل کا اور مجھے بھگانے کا ارادہ کرلیا ہے (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 171) ۔ (آیت) فعل اللہ توکلت تو میں نے اللہ پر اعتماد کرلیا۔ اور یہ جواب شرط ہے۔ اور آپ (علیہ السلام) ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل کرتے رہے، لیکن یہاں خاص طور پر بیان فرمایا کہ وہ متوکل ہے تاکہ ان کی قوم جان لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے معاملہ میں آپ کے لیے کافی ہوگا، یعنی اگر تم میری مدد نہیں کروگے تو میں بلاشبہ اس پر اعتماد اور توکل کرتا ہوں جو میری مدد کرے گا۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) فاجمعوا امرکم وشرکاء کم عام قراءت میں فاجمعوا ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اور شرکاء کم منصوب ہے اور عاصم جحدری نے فاجمعوا ہمزہ وصلی اور میم کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے یہ جمع یجمع سے ماخوذ ہے اور شرکاء کم نصب کے ساتھ ہے۔ اور حسن، ابن اسحاق اور یعقوب نے فاجمعوا کو ہمزہ قطعی کے ساتھ اور شرکاء کم کو مرفوع پڑھا ہے۔ پس پہلی قرات اجمع علی الشی سے ہے جب کوئی اس کا عزم کرلے۔ اور فراء نے کہا ہے : اجمع الشی کا معنی ہے اس نے اسے تیار کیا۔ اور مورج نے کہا ہے : اجمعت الامر، اجمعت علیہ سے زیادہ فصیح ہے۔ اور یہ شعر بھی بیان کیا ہے : یالیت شعری والمنی لاتنفع ھل اغدون یوم وامری مجمع نحاس نے کہا ہے : اس قراءت کے مطابق شرکاء کے نصب میں تین وجہیں ہیں : کسائی اور فراء نے کہا ہے : یہ بمعنی وادعوشرکاء کم لنصرتکم ہے (اور تم اپنے شریکوں کو اپنی مدد کے لیے بلالو) ان دونوں کے نزدیک اس فعل مضمر کے ساتھ اسے نصب دی گئی ہے۔ اور محمد بن یزید نے کہا ہے : یہ معنی پر معطوف ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : یالیت زوجک فی الوغی متقلد سیفا و رمحا (2) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 163 ) تو اس رمح (نیزہ) کو لٹکایا نہیں جاتا، مگر یہ کہ وہ تلوار کی طرح اٹھایا جاتا ہے (لہذا اس معنوی مشابہت کی وجہ سے رمحا سیفا پر معطوف ہے) اور ابو اسحاق الزجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے : مع شرکاء کم علی تناصرکم (پس تم بھی اپنے شریکوں سمیت ایک دوسرے کی مدد کرنے پر جمع ہو جائو) جیسے کہا جاتا ہے : التقی الماء والخشبۃ (پانی لکڑی کے ساتھ مل گیا) اور دوسری قراءت جمع کے بارے میں ہے، اس میں اس قول باری تعالیٰ کا اعتبار کیا گیا ہے : (آیت) فجمع کیدہ ثم اتی (طہ) (اور اکٹھا کیا اپنی فریب کاریوں کو پھر خود آیا ) ۔ ابو معاذ نے کہا ہے : اور یہ بھی جائز ہے کہ جمع اور اجمع دونوں ایک ہی معنی میں ہوں، اس قراءت کے مطابق وشرکاء کم، امرکم پر معطوف ہے یا پھر یہ معنی ہے فاجمعوا مرکم واجمعوا شرکاء کم (پس تم متفقہ فیصلہ کرلو اور اپنے شریکوں کو بھی جمع کرلو) اور اگر چاہیں تو بمعنی مع بنالیں (پس تم متفقہ فیصلہ کرلو اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ) ۔ ابو جعفر نحاس نے کہا ہے : میں نے ابو اسحاق کو سنا ہے وہ قام زید وعمرا کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اور تیسری قراءت اس بنا پر ہے کہ شرکاء کا اجمعوا میں ضمیر مرفوع پر عطف کیا جائے۔ اور یہ اچھا ہے، کیونکہ کلام طویل ہوچکی ہے۔ نحاس وغیرہ نے کہا ہے : اور یہ قراءت بہت بعید ہے، کیونکہ اگر یہ مرفوع ہوتا تو پھر واجب تھا کہ اسے وائو کے ساتھ لکھا جاتا اور مصاحف میں وشرکاء کم میں وائو نہیں دیکھی گئی اور یہ بھی کہ ان کے شرکاء بت تھے اور بت کچھ نہیں کرسکتے اور ان کا کوئی فعل نہیں یہاں تک کہ انہیں جمع بھی کرلیا جائے۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ شرکاء مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہو اور خبر محذوف ہو، یعنی وشرکاء کم لیجمعوا امرھم (اور تمہارے شرکاء چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے پر متفق ہوجائیں) اور اس کی نسبت شرکاء کی طرف کی گئی ہے حالانکہ یہ نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ تمیز کرسکتے ہیں، تو یہ ان کی عبادت کرنے والوں کی زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ یہ یکن کا اسم ہے اور اس کی خبر ہے۔ اور غمۃ اور غم دونوں برابر ہیں اور اس کا معنی ہے ڈھانپنا، چھپانا۔ یہ ان کے اس قول سے ہے : غم الحلال جب چاند چھپ جائے، یعنی چاہیے کہ تمہار فیصلہ ظاہر ہو اور واضح ہو تم اس میں اس کی قدرت رکھتے ہو جو تم چاہو۔ اس کی طرح نہ ہو جس کا فیصلہ مخفی ہوتا ہے اور وہ اس پر قادر نہیں ہوتا جو وہ ارادہ کرتا ہے۔ طرفہ نے کہا ہے : لعمرک ما امری علی بغمۃ نھاری ولالیلی علی بسرمد زجاج نے کہا ہے : غمۃ کا معنی ذاغم سے ہے الغم والغمۃ کرب اور کر بۃ (غم و پریشانی، تکلیف) کی طرح ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک غمۃ سے مراد امر کی وہ تنگی ہے جو غم اور پریشانی کو واجب کردیتی ہے پس جسے یہ لاحق ہو وہ اپنے لیے کوئی ایسا ماخذ اور مصدر نہیں پاتا جس کے سبب وہ اس کیفیت سے نکل جائے جو اسے پریشان اور غمزدہ کررہی ہے۔ اور صحاح میں ہے کہ الغمۃ کا معنی الکربۃ (تکلیف) ہے۔ عجاج نے کہا ہے : بل لو شہدت الناس اذتکموا بغمۃ لولم تفرج غموا (1) (المحررالوجیز، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 132) کہا جاتا ہے : امر غمۃ یعنی ایسا امر جو مبہم ہو اور اس میں التباس ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ ابو عبیدہ نے کہا ہے : اس کا مجازی معنی ظلمۃ (تاریکی) اور تنگی ہے اور رحمۃ اللہ علیہالغمۃ کا معنی گھی کی مشک کا پیندا بھی ہے۔ اور کسی اور نے کہا ہے : اس میں اصل یہ ہے کہ یہ تمام الغامۃ سے مشتق ہیں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ثم اقضوا الی ولاتنظرون، اقضوا میں الف ہمزہ وصل ہے، یہ قضی یقضی سے ہے۔ اخفش اور کسائی نے کہا ہے : اور اس کی مثل یہ ہے : (آیت) وقضینا الیہ ذلک الامر (الحجر : 66) یعنی ہم نے اسے اس تک پہنچادیا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے ثم اقضوا الی ولاتنظرون کے معنی میں فرمایا : پھر تم کر گزرو اور تم مجھے مہلت نہ دو ۔ نحاس نے کہا ہے : لغت کے مطابق یہ قول صحیح ہے اور اسی سے قضی المیت یعنی (میت گزر گیا) ہے۔ اور انہیں یہ بتایا کہ وہ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے اور یہ نبوت کے دلائل میں سے ہے۔ اور فراء نے بعض قراء سے ثم اقضوا الی بیان کیا ہے یعنی یہ فا اور ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے، یعنی پھر تم میری طرف توجہ کرو۔ کہا جاتا ہے : افضت الخلافۃ الی فلان واقضی الی لاوجع (میں فلاں کی طرف خلافت (نیابت) کو متوجہ کیا اور اس نے مجھے درد اور تکلیف پہنچائی) اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے خبر دی جارہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت کے ساتھ یقین رکھتے تھے اور ان کی تدبیر اور مکروفریب سے خوفزدہ نہ ہوئے، کیونکہ انہیں یہ یقین تھا کہ وہ خود اور ان کے معبود نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان اور نہ تکلیف پہنچاسکتے ہیں۔ اور یہ حضور ﷺ کے لیے تسلی اور آپ کے دل کے لیے باعث تقویت ہے۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

آیت نمبر 72 قولہ تعالیٰ : (آیت) فان تولیتم فماسالتکم من اجر یعنی پس اگر تم نے اس سے اعراض کرلیا ہے جو میں لے کے تمہارے پاس آیا ہوں تو یہ اس لیے نہیں کہ میں نے تم سے کوئی اجر طلب کیا ہے پس میر امعاوضہ اور بدلہ تم پر بھاری اور ثقیل ہوجائے گا۔ (آیت) ان اجری الا علی اللہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے سلسلہ میں میرا اجر تو فقط اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (آیت) وامرت ان اکون من المسلمین اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ماننے والوں میں سے ہوجائوں۔ اہل مدینہ ابو عمرو، ابن عامر اور حفص نے اجری میں یاکوفتحہ دیا ہے جہاں بھی واقع ہوا اور باقیوں نے اسے ساکن پڑھا ہے۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

آیت نمبر 73 قولہ تعالیٰ : (آیت) فکذبوہ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا۔ (آیت) فنجینہ ومن معہ پس ہم نے آپ کو اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (آیت) فی الفلک یعنی جو کشتی میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے۔ اس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ (آیت) وجعلنکم خلئف اور ہم نے انہیں زمین کی باسی اور غرق ہونے والوں کا جانشین بنادیا۔ (آیت) فانظر کیف کان عاقبۃ المذرین یعنی ذرا دیکھو ان کے معاملے کا انجام کیسا ہوا جنہیں رسولوں نے ڈرایا اور وہ ایمان لائے۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

آیت نمبر 74 قولہ تعالیٰ : (آیت) ثم بعثنا من بعدہ یعنی پھر ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد بھیجے۔ (آیت) رسلا الی قومہ رسول جیسے حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہ السلام) وغیرہ۔ (آیت) فجائوھم بالبینت پس وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے۔ (آیت) فماکانوالیؤمنوابماکذبو ابہ من قبل تقدیر کلام یہ ہے : تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اس سے پہلے جھٹلاچ کی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) بماکذبو بہ من قبل یعنی جسے وہ پہلے یوم الذر (یوم میثاق) کو جھٹلاچکے تھے، کیونکہ ان میں وہ تھے جنہوں نے اپنے دل سے جھٹلایا تھا اگرچہ تمام نے بلی (ہاں) کہا تھا۔ نحاس نے کہا ہے : اس بارے میں جو سب سے اچھا قول کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ اس قوم کے سرداروں کے بارے ہے، جیسا کہ یہ ارشاد ہے : (آیت) ء انذرتھم ام لم تنذرھم لایوء منون (البقرہ) (چاہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے) (آیت) کذالک نطمع یونہی ہم مہر لگادیتے ہیں۔ (آیت) علی قلوب المعتدین کفر اور تکذیب میں حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر، پس وہ ایمان نہیں لاسکتے۔ اور یہ آیت قدریہ کے قول کا رد کرتی ہے جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

آیت نمبر 75 قولہ تعالیٰ : (آیت) ثم بعثنا من بعدھم پھر ہم نے ان رسولوں اور امتوں کے بعد بھیجا۔ (آیت) موسیٰ وھرون الی فرعون وملاءہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کے اشراف کی طرف۔ (آیت) بایتنایہاں مراد آیات تسع (نومعجزات) ہیں، ان کا ذکر پہلے گزرچکا ہے۔ (آیت) فاستکبرواتو انہوں نے حق (قبول کرنے سے) غرور وتکبر کیا۔ (آیت) وکانوا قومامجرمین اور وہ مشرک لوگ ہے۔
Ayahs 10:76–77

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

آیت نمبر 76 اور 77 قولہ تعالیٰ : (آیت) فلماجاء ھم الحق من عندنا اس سے مراد فرعون اور اس کی قوم ہے (یعنی جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا) (آیت) قالوا ان ھذا لسحرمبین تو انہوں نے معجزات کو سحر (جادو) پر محمول کیا۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا : (آیت) اتقولون للحق لماجاء کم اسحر ھذا۔ کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے، اس کا معنی ہے : کیا تم حق کے متعلق کہتے ہو یہ سحر ہے، پس اتقولون یہ انکار ہے اور ان کا قول ھذا لسحر (یہ جادو ہے) محذوف ہے، پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ازسرنودوسرا انکار ہوا اور فرمایا : (آیت) اسحر ھذا (کیا یہ جادو ہے) پس ان کا پہلا قول ان کے دوسرے قول پر اکتفاء کرتے ہوئے حذف کردیا گیا، درآنحالیکہ اس میں فرعون اور اس کے درباریوں کا انکار کیا گیا ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : یہ ان کے قول میں سے ہے اور ان کے قول کی حکایت کے لیے اس پر الف استفہام داخل کردیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا : (آیت) اسحر ھذا تو انہیں کہا گیا : کیا تم حق کے متعلق کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا : کیا یہ جادو ہے ؟ اور یہ حسن سے مروی ہے۔ (آیت) ولایفلح الساحرون یعنی وہ کامیاب نہیں ہوتے جو اس کے ساتھ آئے (یعنی جادو لے کر آئے )
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

آیت نمبر 78 قولہ تعالیٰ : (آیت) قالوا اجئتنا لتلفتنا کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ ہمیں پھیر دو اور موڑ دو ۔ کہا جاتا ہے : لفتہ یلفتہ لفتا جب وہ اسے موڑدے اور پھیر دے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : تلفت نحوالحی حتی رایتنی وجعت من الا صفاء لیتا واخدعا اور اسی سے التفت (میں مڑگیا) ہے بیشک اس کا معنی سام نے کی جہت سے پھرجانا اور مڑجانا ہے۔ (آیت) عماوجدناعلیہ اباء نامراد بتوں کی عبادت سے ہٹادینا ہے۔ (آیت) وتکون لکما الکبریاء اور صرف تم دونوں کے لیے عظمت، بادشاہی اور سلطنت ہوجائے۔ (آیت) فی الارض مراد سرزمین مصر ہے۔ اور بادشاہی (ملک) کے لیے الکبریاء کہا جارہا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑی (شے) ہے جس کی طلب دنیا میں کی جاتی ہے۔ (آیت) ومانحن لکما بموء منین (اور ہم لوگ تو تم کو نہیں مانیں گے ) ۔ حضرت ابن مسعود اور حسن ؓ وغیرہ نے ویکون یا کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ مونث غیر حقیقی ہے اور ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔ اور سیبویہ نے بیان کیا ہے : حضرالقاضی الیوم امراتان (آج قاضی کے پاس دو عورتیں حاضر ہوئیں )
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

آیت نمبر 79 اس نے یہ تب کہا جب اس نے عصا مبارک اور یدبیضادیکھا اور یہ اعتقاد بنایا کہ یہ دونوں چیزیں جادو ہیں۔ حمزہ، کسائی، ابن وثاب اور اعمش نے سحار پڑھا ہے اور سورة الاعراف میں ان دونوں کی بحث گزرچکی ہے۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

آیت نمبر 80 یعنی انہیں زمین پر پھینکو جو تمہارے پاس رسیاں اور لاٹھیاں ہیں۔ اس کے بارے میں مکمل بحث سورة الاعراف میں گزرچکی ہے۔
Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا جو چیزیں تم (بناکر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔

آیت نمبر 81 قولہ تعالیٰ : (آیت) فلما القواقال موسیٰ ماجئتم بہ السحر اس میں مامبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہوگا اور اس کی خبر جئتم بہ ہے۔ اور تقدیر عبارت ہے : ای شی جئتم بہ (جو شے بھی تم لے کر آئے ہو) یہ ایک توزجر وتوبیخ کے لیے ہے اور دوسرا جو جادولے کر آئے اس کی حقارت بیان کرنے کے لیے ہے۔ اور ابو عمرو کی قراءت السحر استفہام کی طرز پر ہے اس صورت میں مبتدا مضمر ہوگا اور تقدیر عبارت ہوگی اھوالسحر (کیا وہ جادو ہے ) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہو اور خبر محذوف ہو اور تقدیر عبارت ہو : السحر جئتم بہ۔ اور جنہوں نے استفہام کی صورت میں قراءت کی ہے ان کے مطابق مابمعنی الذی نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی کوئی خبر نہیں۔ اور باقیوں نے خبر ہونے کی بنا پر السحر پڑھا ہے۔ اور اس قراءت کی دلیل حضرت ابن مسعود ؓ کی قراءت ہے : ماجئتم بہ سحر اور حضرت ابی ؓ کی قراءت : ما آتیتم بہ سحر (جو تم لائے ہوجادو ہے) پس مابمعنی الذی ہے اور جئتم بہ صلہ ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مامحل رفع میں ہے۔ اور السحرمبتدا کی خبر ہے اور ماکوجب بمعنی الذی بنائیں گے تو پھر وہ منصوب نہیں ہوگا کیونکہ صلہ موصول میں عمل نہیں کرسکتا۔ اور فراء نے السحر کو جئتم کے سبب نصب دینے کو جائز قرار دیا ہے اور ماشرط کے لیے ہو، اور جئتم محل جزم میں ہو اور فاء محذوف ہو۔ اور تقدیر ہوگی : فان اللہ سیبطلہ (تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے باطل (ختم) کردے گا) اور یہ بھی جائز ہے کہ السحر کو مصدر ہونے کی بنا پر نصب دی جائے۔ ای ماجئتم نہ سحرا، پھر اس پر الف لام زائدہ داخل کردیا گیا ہو، پس اس تقدیر پر حذف فا کی حاجت اور ضرورت نہیں ہوگی اور نحاس نے اس قول کو پسند کیا ہے اور کہا ہے : مجازات میں فاء کے حذف کو اکثر نحوی جائز قرار دیتے مگر ضرورت شعر کے لیے، جیسا کہ کسی نے کہا ہے : من یفعل الحسنات اللہ یشکرھا ” جو نیکیاں کرتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی قدر کرتا ہے “۔ بلکہ بسا اوقات بعض نے کہا ہے : یہ قطعاجائز نہیں ہے۔ اور میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، مجھے محمد بن یزید نے بیان کیا اس نے کہا مجھے مازنی نے بیان کیا، اس نے کہا میں نے اصمعی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : نحویوں نے اس شعر کو بدل دیا ہے اور روایت یہ ہے : من یفعل الخیر فالرحمن یشکرہ۔ اور میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : مجازاۃ میں فاکاحذف جائز ہے، انہوں نے کہا ہے : اس پر دلیل یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ومآاصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم (الشوری : 30) وما اصابکم من مصیبۃ بماکسبت ایدیکم اس میں یہ دونوں قراءتیں (فا کے ساتھ اور فا کے بغیر) مشہورومعروف ہیں۔ (آیت) ان اللہ لایصلح عمل المفسدین مراد سحر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جو کوئی رات کے وقت اپنے بستر پر گیا پھر یہ آیت پڑھی : (آیت) ماجئتم بہ السحر ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لایصلح عمل المفسدین کسی جادوگر کی تدبیر اور مکر اسے نقصان نہیں دے گا اور اگر کسی سحرزدہ کو یہ لکھ کردی گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے سحر دور فرمادے گا۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

آیت نمبر 82 قولہ تعالیٰ : (آیت) ویحق اللہ الحق یعنی اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرتا ہے اور اس کی وضاحت کرتا ہے۔ (آیت) بکلمتہ یعنی اپنے کلام، حجج اور اپنے دلائل کے ساتھ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اپنی مدد نصرت عطا کرکے (حق کو حق کردکھاتا ہے) (آیت) ولو کرہ المجرمون آل فرعون کے مجرم اسے ناپسند ہی کریں۔