10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

آیت نمبر 83 قولہ تعالیٰ : (آیت) فمآامن لموسی الا ذریۃ من قومہ اس میں ہاضمیر موسیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت مجاہد۔ نے کہا ہے : یعنی ان میں سے کوئی ایمان نہ لایا، بلاشبہ بنی اسرائیل میں سے ان کی اولاد ایمان لائی جن کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجا گیا تھا، طویل وقت گزر گیا آبا و اجداد ہلاک ہوگئے اور بیٹے باقی رہے پس وہ ایمان لائے (1) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 172 (مفہوم ) ۔ اور یہ علامہ طبری کی پسند ہے اور ذریت سے مراد انسان کے پیچھے آنے والی نسل ہے اور کبھی یہ کثیر ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت سے بنی اسرائیل کے مومن مراد لیے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ چھ لاکھ تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں بہتر افراد کے ساتھ داخل ہوئے پھر وہ مصر میں بچوں کی ولادت کے سبب بڑھتے رہے یہاں تک کہ چھ لاکھ تک پہنچ گئے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بھی فرمایا : من قومہ یعنی فرعون کی قوم سے۔ ان میں سے آل فرعون کے مومن اور فرعون کا خازن اور اس کی بیوی اور فرعون کی بیٹی کی ماشطہ (اسے بنائو سنگار کرنے والی) اور اس کے خازن کی بیوی (یہ مومن تھے) اور یہ بھی کیا گیا ہے : یہ وہ اقوام ہیں جن کے آباء قبطی تھے اور ان کی مائیں بنی اسرائیل میں سے تھیں پس انہیں ذریت کا نام دیا گیا جیسا کہ ان گھوڑوں کی اولاد کو ابناء کا نام دیا جاتا ہے جو یمن اور بلاد عرب سے پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی مائیں ان کا باپوں کی جنس سے نہیں۔ یہ فراء نے کہا ہے۔ اور اس بنا پر قومہ میں ہاضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ انہیں مائوں کی جہت سے قرابت حاصل ہے اور فرعون کی طرف لوٹتی ہے جب وہ (آبائ) قبطی ہوں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) علی خوف من فرعون کیونکہ وہ سرکشی کرتے ہوئے ان پر مسلط ہے (اس لیے وہ فرعون سے ڈرتے ہیں) (آیت) وملاء ھم (اور اپنے سرداروں سے) یہاں وملئہ نہیں کہا۔ اسکے چھ جواب دیئے گئے ہیں : (1) کہ فرعون جب جابر و ظالم تھا تو اس کی طرف سے تمام کے فعل کی خبر دی گئی (2) کہ فرعون کا جب ذکر کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ اور بھی ہیں پس ضمیر اس (فرعون) کی طرف اور دوسرے تمام کی طرف لوٹائی۔ یہ فراء کے دو قولوں میں سے ایک ہے۔ (3) کہ فرعون کو ثمود کی طرف جماعت کا نام دیا گیا ہے (اس لیے ضمیر جمع لوٹائی گئی) (4) تقدیر عبارت یہ ہو : علی خوف من آل فرعون پس یہ مضاف کے حذف کے باب سے ہوگا جیسا کہ واسئل القریۃ میں ہے اور یہ فراء کا دوسرا قول ہے۔ اور یہ جواب سیبویہ اور خلیل کے مذہب کے مطابق غلط ہے۔ ان دونوں کے نزدیک یہ جائز نہیں قامت ھند کہہ کر تیری مراد اس کا غلام ہو۔ (5) اخفش سعید کا مذہب یہ ہے کہ ضمیر ذریۃ کی طرف لوٹ رہی ہے مراد ذریۃ (اولاد) کے سردار ہیں اور یہی علامہ طبری کی پسند ہے (6) کہ ضمیر فرعون کی قوم کی طرف لوٹ رہی ہو۔ نحاس نے کہا ہے : یہ جواب گویا زیادہ بلیغ ہے۔ ان یفتنھم فرعون کے بارے خبر دینے کی بنا پر یفتنھم کو واحد ذکر کیا ہے کہ انہیں سزائوں کے سبب اپنے دین سے پھیر دے اور یہ محل جر میں ہے اس بنا پر کہ یہ بدل اشتمال ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ خوف کے سبب نسخ کے محل میں ہو اور فرعون غیر منصرف ہے کیونکہ یہ عجمی اسم ہے اور یہ معرفہ ہے۔ (آیت) وان فرعون لعال فی الارض یعنی فرعون سرکشی کرنے والا متکبر ہے۔ (آیت) وانہ لمن المسرفین اور بیشک وہ کفر میں حد سے بڑھنے والوں میں سے ہے، کیونکہ وہ بندہ ہے اور اس نے دعوی ربوبیت کا کیا ہے۔
Ayahs 10:84–85

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے قوم اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسا رکھو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

آیت نمبر 85 قولہ تعالیٰ : (آیت) وقال موسیٰ یا قوم ان کنتم امنتم یعنی اگر تم نے تصدیق کی ہے۔ (آیت) باللہ فعلیہ توکلوا اللہ تعالیٰ کی تو اسی پر اعتماد کرو۔ (آیت) ان کنتم مسلمین شرط بطور تاکید مکرر ذکر کی گئی ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ کمال ایمان امر کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔ (آیت) فقالوا علی اللہ توکلنا انہوں نے عرض کی ہم نے اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیئے۔ اور ہم اس کی قضاء قدر کے ساتھ راضی ہیں اور ہماری انتہا اس کے امر تک ہے۔ (آیت) ربنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین یعنی تو ہمارے خلاف ان کی مدد نہ کر، پس وہ ہمارے لیے دین کے بارے فتنہ ہوجائے گا یا تو ہمیں نہ مٹادے کہ تو ہمیں ان کے سام نے عذاب دے۔ اور حضرت مجاہد۔ نے کہا ہے : ان کا معنی ہے تو ہمیں ہمارے دشمنوں کے سام نے ہلاک نہ کر اور ہمیں اپنی طرف سے کوئی عذاب نہ دے، پس ہمارے دشمن کہیں گے : اگر وہ حق پر ہوتے تو ہم ان پر مسلط نہ کیے جاتے پس کہ وہ آزمائیں جائیں (1) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 175) ۔ ابو مجلز اور ابو الضحاء نے کہا ہے : مراد یہ ہے تو ان پر غلبہ نہ دے کہ وہ یہ خیال کرنے لگیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں، پس ان کی سرکشی بڑھ جائے گی۔
Ayah 10:86

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے ہمیں نجات بخش۔

آیت نمبر 86 قولہ تعالیٰ : (آیت) ونجنا برحمتک یعنی ہمیں خلاصی عطا فرما اپنی رحمت کے ساتھ۔ (آیت) من القوم الکافرین یعنی فرعون اور اس کی قوم سے، کیونکہ وہ انہیں مشقت آمیز اور تکلیف دہ کاموں کے ساتھ پکڑلیتے تھے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھیراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔

آیت نمبر 87 قولہ تعالیٰ : (آیت) واوحینا الی موسیٰ واخیہ ان تبواٰلقومکمابمصر بیوتا اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) واوحینا الی موسیٰ واخیہ ان تبوا یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم بنائو۔ (آیت) لقومکمابمصر بیوتا کہا جاتا ہے : بوات زید امکانا اور بوات لزید مکانا (میں نے زید کے لیے مکان بنایا) اور المبوا وہ گھر اور منزل ہے جسے لازم پکڑا گیا ہو۔ اور اسی سے ہے بواہ اللہ منزلا یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے لازم کردیا ہے اور اسے سکونت عطا کردی۔ اور اسی معنی میں یہ حدیث طیبہ بھی ہے :” جس نے جان بوجھ کر میرے بارے میں جھوٹ بولاتو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے “ (2) (جامع ترمذی، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 90) ۔ اور راجز کا قول ہے : نحن بنو عدنان لیس شک تبوا المجد بناوالملک (3) (تفسیرم اور دی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 446) ہم بنو عدنان ہیں اس میں کوئی شک نہیں بزرگی اور بادشاہی ہمارے ساتھ لازم ہے۔ اس آیت میں مصر سے مراد سکندریہ شہر ہے۔ یہ حضرت مجاہد۔ کا قول ہے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : بیشک یہ ایک شہر ہے جس کا نام مصر ہے اور مصر بحر (سمندر) سے اسوان کی طرف جاتے ہوئے درمیان میں واقع ہے اور اسکندریہ سرزمین مصر میں سے ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) وجعلو بیوتکم قبلۃ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ بنی اسرائیل صرف اپنی مساجد اور گرجاگھروں میں نماز پڑھتے تھے اور وہ ظاہر تھے، پس جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا گیا تو فرعون نے بنی اسرائیل کی مساجد کے بارے میں حکم دیا اور تمام کی تمام گرادی گئیں اور انہیں نماز سے روک دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ وہ دونوں بنی اسرائیل کے لیے مصر میں چند گھر بنائیں اور پسند کریں، مراد مساجد ہیں، اللہ تعالیٰ نے رہائشی گھر مراد نہیں لیے۔ یہ قول ابرہیم، ابن زید، ربیع، ابی مالک اور حضرت ابن عباس ؓ کا ہے۔ اور حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ہے : تم اپنے گھر بنائو جو بعض بعض کے بالمقابل ہوں، آم نے سام نے ہوں۔ پہلا قول اصح ہے، یعنی تم قبلہ رخ اپنی مسجد بنائو۔ کہا گیا ہے کہ بیت المقدس ہے اور وہی آج تک یہودیوں کا قبلہ ہے۔ یہ ابن بحر نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد کعبہ معظمہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ کعبہ معظمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 176) اور ان کے ساتھیوں کا قبلہ تھا اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نماز میں قبلہ (رخ ہونا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت تھی۔ (لہذا) نماز میں طہارت، ستر عورت اور قبلہ سمت منہ کرنے کی شرط لگانے سے اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، کیونکہ یہ تکلیف اور پابندی تک زیادہ پہنچانے والی ہیں اور عبادت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ تم اپنے گھروں میں چھپ کر نماز پڑھو تاکہ تم امن میں رہو۔ اور یہ اس وقت ہوا جب فرعون نے انہیں خوف زدہ کیا تو انہیں صبر اختیار کرنے اور گھروں میں مساجد بنانے کا حکم دیا گیا اور نماز اور دعا کا اقدام کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمادے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے : (آیت) قال موسیٰ لقومہ استعینو باللہ واصبروا الآیہ (الاعراف : 128) (فرمایا موسیٰ نے اپنی قوم کو (اس آزمائش میں) مدد طلب کرو اللہ سے اور صبر و استقامت سے کام لو) اور ان کے دین میں سے یہ تھا کہ وہ فقت عبادت گاہوں اور گرجاگھروں میں نماز پڑھتے تھے جب تک وہ امن وسلامتی میں رہے اور جب انہیں خوف لاحق ہوا تو انہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیں۔ ابن عربی نے کہا ہے : دونوں قولوں میں سے پہلا زیادہ ظاہر اور واضح ہے کیونکہ دوسرا تو دعوی ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : قول دعوی یہ صحیح ہے، کیونکہ صحیح میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے :” میرے لیے زمین کو مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے “۔ اور یہ ان میں سے ہے جو آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے نہ کہ دیگر انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ، پس ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے ساتھ مساجد اور گھروں میں نماز پڑھتے ہیں اور ہر اس جگہ جہاں نماز (کاوقت) ہمیں پالے، مگر گھروں میں نفل نماز ادا کرنا مساجد میں پڑھنے کی نسبت افضل ہے، یہاں تک کہ جمعہ سے پہلے اور بعد کی رکعتیں بھی۔ اور فرض نمازوں سے پہلے اور بعد میں (بھی دیگر نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے) کیونکہ نوافل میں ریاکا امکان ہوتا ہے اور فرائض میں اس کا امکان نہیں ہوتا۔ اور جب بھی کوئی عمل ریا سے خالص اور پاک ہو تو وہ زیادہ وزنی اور اللہ سبحانہ وتعالی کے زیادہ قریب کرنے والا ہوتا ہے۔ مسلم۔ نے عبداللہ بن شقیق سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا، میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ ﷺ میرے حجرہ میں ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے پھر آپ ﷺ (حجرہ میں) تشریف لاتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے اور اور آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ مغرب کی نماز ادا فرماتے تھے، پھر آپ ﷺ (حجرہ میں) تشریف لاتے اور دورکعتیں پڑھتے تھے، پھر آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے اور میرے حجرہ میں تشریف لاتے اور دورکعتیں نماز پڑھتے تھے …الحدیث “۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے حضور ﷺ کی معیت میں ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور اس کے بعد دورکعتیں اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں، پس جہاں تک مغرب، عشاء اور جمعہ کا تعلق ہے تو میں نے حضور ﷺ کے ساتھ آپ کے کاشانہ اقدس میں نماز پڑھی ہے۔ اور ابو دائود نے حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ بنی اشہل کی مسجد میں تشریف لائے اور اس میں مغرب کی نماز پڑھائی۔ پس جب وہ اپنی نماز پوری کرچکے تو آپ نے انہیں اس کے بعد نفل پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ گھروں میں پڑھی جانے والی نماز ہے “۔ (1) (سنن ابی دائود، باب رکعتی المغرب این تصلیان، حدیث نمبر 1106، ضیاء القرآن، پبلی کیشنز) مسئلہ نمبر 3۔ اس باب میں قیام رمضان کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، کیا گھر میں رمضان کی تراویح ادا کرنا افضل ہے یامسجد میں ؟ تو اس میں امام مالک۔ کا موقف یہ ہے اس کے لیے گھر میں قیام کرنا افضل ہے جو اس کی قوت اور طاقت رکھتا ہو اور یہی امام ابو یوسف اور بعض اصحاب شافعی۔ نے کہا ہے۔ اور ابن عبدالحکم، امام احمد اور بعض اصحاب شافعی اس طرف گئے ہیں کہ انہیں جماعت کی صورت میں پڑھنا افضل ہے۔ اور لیث نے کہا ہے : اگر لوگ اپنے گھروں میں قیام کریں اور کوئی بھی مسجد میں قیام نہ کرے تو بھی نہیں چاہیے کہ وہ اس (مسجد) کی طرف نکلیں۔ امام مالک اور جس نے یہ قول کیا ہے ان کی دلیل آپ ﷺ کا وہ ارشاد ہے جو حضرت زید بن ثابت ؓ کی حدیث میں ہے ” پس تم پر اپنے گھروں میں نماز پڑھنالازم ہے، کیونکہ فرض نماز کے سوا آدمی کی بہتریں نماز اس کے گھر میں ہے “۔ اسے امام بخاری۔ ذکر کیا ہے۔ مخالف کا استدلال یہ ہے کہ حضور ﷺ نے مسجد میں جماعت کے ساتھ یہ نماز پڑھائی، پھر اس مانع کے بارے بھی بتایاجس نے آپ کو اس پر دوام اختیار کرنے سے روک دیا اور وہ ان پر فرض ہونے کا خوف اور اندیشہ تھا پس اسی لیے آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : فعلیکم باالصلوۃ فی بیوتکم (پس تم پر اپنے گھروں میں نماز پڑھنالازم ہے) پھر صحابہ کرام ؓ مسجد میں متفرق گروہوں کی صورت میں نماز پڑھتے رہے یہاں تک حضرت عمر ؓ نے ایک قاری پر جمع کردیا اور اسی پر یہ امر پختہ ہوگیا اور سنت ثابت ہوگئی۔ مسئلہ نمبر 4۔ اور جب ہم اس پر آچکے ہیں کہ ان کے لیے اپنے گھروں میں نماز پڑھنا مباح ہے جب کہ انہیں اپنے آپ پر خوف اور خطرہو تو پھر اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ معذور آدمی کے لیے خوف کے ساتھ اور خوف کے بغیر دونوں حالتوں میں جماعت اور جمعہ ترک کرنا جائز ہے۔ اور وہ عذر جو اس کو مباح قرار دیتا ہے (وہ یہ ہے) مثلا وہ بیماری جو روکنے والی ہو یا خوف کا زیادہ ہونا یا مال یابدن میں بغیر کسی حق کے فیصلے کے حاکم وقت کے ظلم کا خوف ہونا اور موسلہ دھار بارش کیچڑ کے ساتھ یہ بھی عذر ہے اگر وہ نہ رکے اور وہ آدمی جس کے لیے وہ قریبی ولی ہے وہ قریب المرگ ہوجائے اور اس کے پاس اس کی تیمار داری اور دیکھ بھال کرنے والا اور کوئی نہ ہو (تو یہ بھی ایک عذر ہے) تحقیق حضرت ابن عمر ؓ نے ایسا کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) وبشرالمومنین کہا گیا ہے : یہ خطاب حضور ﷺ کو بھی ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے۔ اور یہ زیادہ واضح اور بین ہے، یعنی بنی اسرائیل کو بشارت دے دو کہ عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں اپنے دشمن پر غالب کردے گا۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) ساز وبرگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مآل یہ ہے کہ تیرے راستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔

آیت نمبر 88 قولہ تعالیٰ : (آیت) وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاءہ اس میں اتیت بمعنی اعطیت (تو نے عطا کیا ہے) (آیت) زینتاواموالافی الحیوۃ الدنیا یعنی مال دنیا، ان کے لیے فسطاط مصر سے لے کی سرزمین حبشہ تک ایسے پہاڑ تھے جن میں سونے، چاندی، زبر جد، زمرد اور یاقوت کی کانیں تھیں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ربنالیضلوا عن سبیلک اس لام کے بارے میں اختلاف ہے۔ اور اس بارے میں جو کہا گیا ہے اصح وہ ہے جو خلیل اور سیبویہ کا قول ہے وہ یہ کے لام برائے عاقبت اور صیرورت ہے۔ اور حدیث میں ہے ” بیشک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جو ہر روز ندا دیتا ہے جنو موت کے لیے اور بنائو ویران اور خراب ہونے کے لیے “ یعنی جب ان کے معاملہ کا انجام گمراہی ہے تو وہ اس طرح ہوگیا گویا اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا کہ وہ گمراہ ہوجائیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لام کئی ہے یعنی میں نے انہیں (مال) تاکہ وہ گمراہ ہوں اور رعونت وتکبر اختیار کریں (1) (تفسیر طبری، جلد 12، صفحہ 262) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لام اجل ہے یعنی میں نے انہیں عطا کیا اور ان کے آپ سے اعراض کرنے کی وجہ سے کہ وہ خوف زدہ نہ ہوں کہ ان سے اعراض کرلیا گیا ہے۔ اور ایک قوم نے گمان کیا ہے کہ اس کا معنی ہے : میں نے انہیں یہ اس لیے دیا ہے تاکہ وہ گمراہ نہ ہوں۔ پھر لاکو کلام سے حذف کردیا گیا ہے (اعطیتم ذالک لئلا یضلوا، فخدفت لا) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : (آیت) یبین اللہ لکم ان تضلوا (النساء : 176) اس کا معنی ہے لان لاتضلوا (تاکہ تم گمراہ نہ ہو) نحاس نے کہا ہے : ظاہرا یہ جواب اچھا ہے، مگر عرب ان کے بغیر صرف لاکو حذف نہیں کرتے۔ اور اس جواب والے نے قول باری تعالیٰ : (آیت) ان تضلوا کے بارے میں محض بناوٹ کی ہے (یعنی جھوٹ بولا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لام دعا کے لیے ہے، یعنی تو انہیں اپنے راستے سے گمراہ کرکے آزما، کیونکہ اس کے بعد یہ ارشاد ہے : (آیت) اطمس علی اموالھم واشدد (برباد کردے ان کے مالوں کو اور سخت کردے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ فعل مصدر کے معنی میں ہے یعنی اضلالھم جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : (آیت) لتعرضوا عنھم (التوبہ : 95) (یعنی یہ بمعنی اعراضھم ہے) اور کو فیوں نے لیضلوا یا کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ اضلال سے ہے اور باقیوں نے اسے فتحہ دیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ربنااطمس علی اموالھم یعنی انہیں ان کے کفر پر اور ان کے مالوں کو ہلاک و برباد کر کے سزا دے۔ زجاج نے کہا ہے : طمس الشی کا معنی ہے کسی چیز کو اپنی اصل صورت سے ختم کردینا (شکل بگاڑدینا) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت محمد بن کعب ؓ نے بیان کیا ہے : ان کے اموال اور ان کے دراہم منقش پتھر بن گئے جیسا کہ ان کی ہیت تھی مکمل، تہائی اور نصف۔ اور ان کی کوئی معدن باقی نہ رہی مگر اللہ تعالیٰ نے اسے مٹادیا اور اس کے بعد کوئی اس سے فائدہ حاصل نہ کرسکا۔ اور حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے اموال اور ان کی کھیتیاں پتھر ہوگئیں۔ اور حضرت مجاہد اور حضرت عطیہ۔ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک وبرباد کردیا یہاں تک کہ وہ دکھائی نہ دیتے تھے۔ کہا جاتا ہے : عین مطموسۃ (ایسی آنکھ جس کی بنائی جاتی رہے) اور طمس الموضع جب کسی جگہ کو مٹادیا جائے بالکل ختم کردیا جائے۔ اور ابن زید نے کہا ہے : ان کے دنانیر و دراہم، ان کے قالین اور ان کی ہر شے پتھر ہوگئی۔ محمد بن کعب نے کہا ہے : ان میں سے ایک آدمی اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے بستر میں تھا اور وہ دونوں پتھر ہوگئے۔ بیان کیا : حضرت عمر بن عبد العزیز نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس کے بارے آپ کو ذکر کیا تو آپ نے ایک تھیلہ منگایاجو مصر سے لایا گیا تھا تو آپ نے اس سے پھل، دراہم اور دنانیر نکالے اس حال میں کہ وہ سب پتھر تھے اور علامہ سدی نے کہا ہے : یہ نو معجزات میں سے ایک تھا۔ (آیت) واشدد علی قلوبھم حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی تو انہیں ایمان لانے سے روک دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو انہیں (ان کے دلوں کو) سخت کردے اور ان پر مہر لگا دے تاکہ وہ ایمان کے لیے کھل نہ سکیں۔ اس کا معنی ومفہوم ایک ہی ہے۔ فلایومنوا کہا گیا ہے : اس کا عطف لیضلوا پر ہے۔ ای اتیتھم النعم لیضلوا ولایوء منوا (یعنی میں نے انہیں سامان دنیا عطا فرمایا تاکہ وہ گمراہ ہوجائیں اور ایمان نہ لائیں) یہ زجاج اور مبرد نے کہا ہے : اس بنا پر اس میں دعا کے معنی میں سے کوئی شے نہ ہوگی۔ اور قولہ (آیت) ربنا اطمس علی اموالھم واشدد کلام متعرض ہوگا اور فراء اور کسائی اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : یہ دعا ہے، پس وہ ان کے نزدیک جزم کے محل میں ہے۔ ای اللھم فلایومنوا (اے اللہ ! پس چاہیے کہ وہ ایمان نہ لائیں) یعنی پس وہ ایمان نہ لائے۔ اور اس سے اعشی کا قول ہے : فلاینبسط من بین عینیک ماانزدی ولا تلقنی الا وانفسک راغم یعنی لاانبسط ہے اور جنہوں نے کہا ہے کہ لیضلو ادعا ہے یعنی تو انہیں گمراہی میں مبتلا کردے۔ انہوں نے کہا ہے : اس پر فلایومنوا کا عطف کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ جواب امر ہے ای واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا (تو ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ وہ ایمان نہ لائیں) یہ قول اخفش اور فراء کا بھی ہے۔ اور فراء نے یہ شعر بھی کہا ہے : یاناق سیری عنقا فصیحا الی سلیمان فنستریحا پس اسی بنا پر فلایومنوا میں نون کو حذف کردیا گیا ہے، کیونکہ وہ منصوب ہے۔ (آیت) حتی یروالعذاب العلیم حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہی فرق ہے۔ تحقیق بعض لوگوں نے اس آیت میں اشکال ظاہر کیا ہے اور کہا ہے : یہ ان کے لیے بدعا کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ رسل (علیہ السلام) کو تو حکم اپنی قوم کے ایمان لانے کی دعا کرنے کا ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ جائز نہیں کہ کوئی نبی (علیہ السلام) اپنی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر بدعا کرے اور اس اطلاع کے بغیر کہ ان میں کوئی ایسا نہیں جو ایمان لائے گا اور نہ ان کی پشتوں سے کوئی ایسا نکلے گا جو ایمان لائے گا، اس کی دلیل حضرت نوح (علیہ السلام) (کی طرف وحی کیا گیا اللہ تعالی) کا یہ قول ہے : (آیت) انہ لن یوء من من قومک الا من قد آمن (ہود : 36) (کہ نہیں ایمان لائیں گے آپ کی قوم سے بجز ان کے جو ایمان لاچکے) اور اس وقت آپ نے یہ دعا مانگی : (آیت) ربی لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا الآیہ (نوح) واللہ اعلم (اے میرے رب نہ چھوڑ روئے زمین پر کافروں میں سے کسی کو بستا ہوا )
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے نہ چلنا۔

آیت نمبر 89 قولہ تعالیٰ : (آیت) قال قد اجیبت دعوتکما ابو العالیہ نے کہا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہی، چونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے دعا پر آمین کہی اسی وجہ سے انہیں داعی (دعا مانگنے والا) کہا گیا اور التامین علی الدعا کا معنی آمین کہنا ہے۔ اور تیرا قول ” آمین “ یہ بھی دعا ہے، یعنی اے میرے پروردگار ! میرے لیے اسے قبول فرما۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر دعا بھی کی۔ اور اہل معانی نے کہا ہے : یہ اس قبیل میں سے ہے جس میں عرب واحد کو خطاب تثنیہ کے صیغے کے ساتھ خطاب کرتے ہیں، جیسا کہ شاعر کا قول ہے : فقلت لصاحبہ لاتعجلانا بنزع اصولہ فاجتز شیحا یہ اس بنا پر ہے کہ آمین دعا نہ ہو اور یہ کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے دعا نہ کی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : میں نے علی بن سلیمان کے یہ کہتے ہوئے سنا ہے : اس پر دلیل کہ دعا دونوں نے کی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ربنا ہے کیونکہ آپ نے رب (اے میرے رب) نہیں کہا۔ اور علی اور سلمی نے دعواتکما پڑھا ہے اور اس کے بعد دعوۃ کو نصب دی ہے۔ اور آمین کے بارے میں مکمل بحث سورة فاتحہ کے آخر میں گزرچکی ہے۔ اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کے ساتھ ہمارے نبی حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اور حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خاص کیا گیا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کو تین چیزیں عطا فرمائی ہیں جو ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں اسلام اور اہل جنت کا تحیہ اور سلام ہے اور ملائکہ کا صفیں بنانا اور آمین مگر یہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے پاس بھی تھی “ (1) (نوادرالاصول، صفحہ 185) ۔ اسے حکیم ترمذی نے ” نوادرالاصول “ میں ذکر کیا ہے۔ اور سورة فاتحہ میں اس کا ذکر پہلے گزرچکا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) فاستقیمافراء وغیرہ نے کہا ہے : یہ دونوں کو اپنے امر پر استقامت اختیار کرنے اور فرعون اور اس کی قوم کو ایمان کی طرف دعوت دینے کے معاملہ میں ثابت قدم رہنے کا حکم ہے یہاں تک کہ دونوں پر دعا کی قبولیت کا اثر ظاہر ہوجائے۔ محمد بن علی اور ابن جریج نے کہا ہے : فرعون اور اس کی قوم اس دعا کے قبول ہونے کے بعد چالیس برس تک باقی رہے پھے ہلاک کردیئے گئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : استقیما تم دونوں دعا پر استقامت اختیار کرو۔ اور دعا میں استقامت کا معنی حصول مقصود میں جلدی کرنے کو ترک کرنا ہے اور یہ جلدی کا مطالبہ دل سے زائل نہیں ہوتا مگر اس میں راحت اور سکون کے آنے کے ساتھ اور وہ راحت اور سکون حاصل نہیں ہوسکتا مگر اس سب کے ساتھ حسن رضا مندی کے ساتھ جو غیب سے ظاہر ہوتا ہے۔ (آیت) ولا تتبعان سبیل الذین لایعلمون یہ نون مشدد ہا کے ساتھ ہے اور صیغہ نہی ہونے کی وجہ سے محل جزم میں ہے اور نون توکیر ہے اور اسے التقاء ساکنین کی وجہ سے حرکت دی گئی ہے اور اس کے لیے کسرہ کو اختیار کیا گیا ہے، کیونکہ یہ نون تثنیہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اور ابن ذکوان نے نفی کی بنا پر نون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استقیما سے حال ہے ای استقیما غیر متبعین اور اس کا معنی ہے تم دونوں اس کے راست پر نہ چلو جو میرے وعدہ اور وعید کی حقیقت کو نہیں جانتا۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

آیت نمبر 90 قولہ تعالیٰ : (آیت) وجاوزنا ببنی اسرئیل البحر اس بارے میں بحث سورة بقرہ میں اس قول (آیت) واذفرقنا بکم البحر (البقرہ : 50) کے تحت گزرچکی ہے۔ اور حسن۔ نے وجوزنا قراءت کی ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ (آیت) فاتبعھم فرعون و جنودہ کہا جاتا ہے : تبع اور اتبع دونوں ایک ہی معنی میں ہیں جب کوئی پیچھے سے جا ملے اور اسے پالے اور اتبع (تشدید کے ساتھ) جب کوئی کسی کے پیچھے چلے۔ اور اسمعی نے کہا ہے : اتبعہ (ہمزہ قطعی کے ساتھ) جب وہ اسے پیچھے سے جا ملے اور اسے پالے۔ اور اتبعہ (ہمزہ وصلی کے ساتھ ہو) جب وہ اس کے پیچھے چلے چاہے اسے پائے یا نہ پائے۔ اور اسی طرح ابو زید نے کہا ہے۔ اور قتادہ نے فاتبعھم ہمزہ وصل کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے اتبعہ (ہمزہ وصل کے ساتھ) فی الامر یعنی اس نے کام میں اس کی اقتدا کی۔ اور اتبعہ (ہمزہ قطعی کے ساتھ ہو) خیرا وشرا (اور اس نے خیر یاشر میں اس کی اتباع کی) یہ ابو عمر و کا قول ہے۔ تحقیق یہ بھی کیا گیا ہے : یہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرئیل کے ساتھ نکلے اور ان کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار تھی اور فرعون صبح کے وقت چھبیس لاکھ کا لشکر لے کر ان کے پیچھے نکلا۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ بغیا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ وعدوا یہ اس پر معطوف ہے، یعنی سرکشی اور ظلم و زیادتی کی حالت میں (نکلا) ۔ کہا جاتا ہے : عدا یعدو عدواجیسا کہ غزا یغزو غزوا ہے۔ اور حسن نے وعدوا یہ عین اور دال کے ضمہ کے ساتھ اور وائو کی تشدید کے ساتھ ہے، جیسے علایعلو علوا ہے۔ اور مفسرین نے کہا ہے : بغیا کا معنی ہے قول میں بغیر حق کے بلندی اور غلبہ کا طالب ہونا۔ وعدوا فعل میں (غلبہ کا طالب ہونا) اور یہ دونوں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ (آیت) حتی اذا ادر کہ الغرق یہاں تک کہ جب غرق نے اسے پالیا اور اس تک پہنچ گیا (مراد یہ کہ وہ ڈوبنے لگا) قال آمنت تو کہنے لگا میں نے تصدیق کی۔ انہ یعنی بانہ، (آیت) لا الہ الا الذی اٰمنت بہ بنو اسرائیل پس جب حرف جار حذف کردیا گیا تو فعل متعدی ہوا اور اس نے اسے نصب دی اور اسے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، یعنی میں مومن ہوگیا پھر یہ نیاکلام ہے۔ اور ابو حاتم کا خیال یہ ہے کہ قول محذوف ہے، یعنی آمنت فقلت انہ اور اس وقت کا ایمان نفع بخش ثابت نہیں ہوتا اور توبہ وہ مقبول ہوتی ہے جو عذاب دیکھنے سے پہلے ہو اور رہی وہ توبہ جو عذاب دیکھنے یا اس کے آجانے کے بعد ہو تو وہ قبول نہیں کی جاتی، جیسا کہ اس کا بیان سورة نساء میں گزرچکا ہے۔ بیشک فرعون سمندر میں داخل ہونے سے ـڈرگیا وہ سیاہ رنگ کے گھوڑے پر سوار تھا اور اس کے گھوڑوں میں کوئی بھی مونث گھوڑا نہ تھا، پس حضرت جبریل (علیہ السلام) (علیہ السلام) ہامان کی صورت میں انتہائی شہوت والی گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور اسے کہا : آگے بڑھ، پھر وہ سمند میں اتر گئے اور اس کے پیچھے فرعون کا گھوڑا بھی اتر گیا۔ اور حضرت میکائیل (علیہ السلام) انہیں پیچھے سے ہانکتے رہے تاکہ ان میں سے کوئی بھاگ نہ جائے۔ جب ان میں سے آخری آدمی سمندر میں اتر گیا اور ان کے پہلے نے باہر نکلنے کا قصد کیا تو ان پر سمندر مل گیا اور پانی فرعون کو منہ تک آگیا تو اس نے کہا : میں اس کے ساتھ ایمان لایا جس کے ساتھ بنی اسرئیل ایمان لائے۔ تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اس کے منہ میں سمندر کی مٹی ڈال دی۔ (1) (تفسیر طبری، زیر آیت ھذہ ) اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تو اس نے کہا : میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جس کے ساتھ بنی اسرائیل ایمان لائے حضرت جبریل (علیہ السلام) نے کہا : اے محمد ! ﷺ کاش تم مجھے دیکھتے اس حال میں کہ میں سمندر کی مٹی لے رہا ہوں اور اسے اس کے منہ میں ڈال رہا ہوں اس ڈر اور خوف سے کہ رحمت اسے پالے گی “۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن ہے (2) (جامع ترمذی، باب من سورة یونس، حدیث نمبر 3032، ضیاء القرآن، پبلی کیشنز) ۔ حال البحر سے مراد وہ سیاہ مٹی ہے جو سمندر کی تہہ میں ہوتی ہے۔ یہ اہل لغت نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ ذکر کیا گیا ہے :” حضرت جبریل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی دینے لگے اس ڈر اور خوف سے کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگے اور اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمادے یا اس خوف سے کہ وہ اس پر رحم کردے “۔ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے (3) (جامع ترمذی، باب من سورة یونس، حدیث نمبر 3033، ضیاء القرآن، پبلی کیشنز) ۔ اور عون بن عبداللہ نے کہا ہے : مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضور ﷺ کو بتایا : ابلیس نے میرے نزدیک فرعون سے زیادہ مبغوض کسی کو جنم نہیں دیا کیونکہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا ” میں ایمان لایا “ الایہ۔ تو مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ وہ یہ کلمہ کہے اور اس پر رحم ہوجائے، تو میں نے مٹی اٹھائی اور اسے اس کے منہ میں دبادیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس کے ساتھ اس عمل کی سزا کے طور پر کیا گیا جو وہ انتہائی سرکشی کا عمل کررہا ہے۔ اور کعب الاحبار نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کے زمانے میں دریائے نیل کو چلنے سے روک دیا، تو قبطی نے اس کو کہا : اگر تو ہمارا رب ہے تو ہمارے لئے پانی جاری کردے، پس وہ سوار ہوا اور اپنے لشکر کو آگے آگے چلنے کا حکم دیا اور وہ اپنے درجات پر ٹھہر نے لگے اور وہ وہاں بیٹھ گیا جہاں وہ اسے نہ دیکھ سکتے تھے اور اپنی سواری سے نیچے اترا اور اپنا دوسرا لباس پہنا اور سجدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے لیے انتہائی خشوع و خضوع اور زاری کی، پس اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی جاری کردیا، تو حضرت جبریل (علیہ السلام) اس کے پاس آئے اس حال میں کہ وہ اپنی ہی حالت پر اکیلا تھا اور اس سے فتوی طلب کرنے لگے : امیر اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہے جس کا ایک غلام ہے اور وہ اس کے احسان اور نعمت میں ہی پروان چڑھا اور اس کے سوا اس کا کوئی سہارا نہیں، پھر اس نے اس کی نعمت کی ناشکری کی اور اس کے حق کا انکار کردیا اور اس نے اس کے سوا کسی کے سردار ہونے کا دعوی کردیا۔ پس فرعون نے لکھ دیا : ابو العباس الولید بن مصعب بن ریان کہتے ہیں اس کی سزا یہ ہے کہ اسے سمندر میں غرق کردیا جائے۔ پس حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اسے لے لیا اور چلے گئے پس جب وہ ڈوبنے لگا تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اس کا لکھا ہوا اسے دے دیا۔ یہ سورة بقرہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور حضرت ابن عباس ؓ سے مسند روایت کے ساتھ گزرچکا۔ اور یہ عاشورہ کا دن تھا اس کا بیان بھی سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) وانا من المسلمین یعنی موحدین میں سے ہوں اور طاعت وپیروی کے ساتھ تسلیم کرنے والوں میں سے ہوں
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا ؟

آیت نمبر 91 کہا گیا ہے کہ : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ حضرت جبریل (علیہ السلام) امین کا قول ہے اور بعض نے کہا ہے : یہ حضرت میکائیل (علیہ السلام) کا قول ہے یا ان دونوں کے علاوہ کسی اور فرشتے کا قول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (رح) : یہ فرعون کا اپنی ذات کے بارے میں قول ہے۔ اور وہاں زبان کے ساتھ یہ قول نہیں ہوا بلکہ یہ اس کے دل میں واقع ہوا ہے پس اس نے اپنے دل میں جو کہا ہے اس حیثیت سے کہ ندامت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور اس کی نظیر یہ ہے (آیت) انما نطعمکم لوجہ اللہ (الدھر : 9) اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے اس کے سبب جو ان کے دلوں میں مخفی تھا، نہ کہ انہوں نے یہ اپنے لفظوں میں کہا اور حقیقی کلام دل کا کلام ہی ہے۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

آیت نمبر 92 قولہ تعالیٰ : (آیت) فلیوم ننجیک ببدنک یعنی ہم تجھے زمین کے ایک بلند حصے میں پھینک دیں گے اور یہ اس لیے کہا کیونکہ بنی اسرائیل تصدیق نہ کرتے کہ فرعون غرق ہوچکا ہے۔ اور وہ کہتے : اس کی شان اس سے کہیں زیادہ اور عظیم ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اسے زمین کے ایک بلند حصہ پر پھینک دیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کا مشاہدہ کرلیا۔ اوس بن حجر بارش کا وصف بیان کرتا ہے : فمن بعقوتہ کمن بنجوتہ والمستکن کمن یمشی بقرواح یزیدی اور ابن السمیقع نے ننحیک حا کے ساتھ پڑھا ہے یہ تنحیۃ سے ماخوذ ہے اور اسے علقمہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے بیان کیا ہے، یعنی تو سمندر کے کنارے پر ہوگا۔ ابن جریج نے کہا ہے : پس اسے ساحل سمندر پر پھینک دیا گیا یہاں تک کہ اسے بنی اسرائیل نے دیکھ لیا، وہ چھوٹے قد کا اور سرخ رنگ کا تھا گو یا کہ وہ بیل ہے۔ علقمہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے بندائک پڑھا ہے اور یہ النداء سے ماخوذ ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا ہے : اور یہ ہمارے مصحف کے حروف ہجہ کے مخالف نہیں ہے، کیونکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے یا اور دال کے بعد کاف سے لکھا جائے، کیونکہ مصحف کے خط کی ترتیب میں ندائک سے الف گرجاتا ہے جیسا کہ ظلمات اور سموات سے ساقط ہوگیا ہے، پس جب اس میں حذف واقع ہوا تو بدنک اور ندائک کے حروف ہجہ برابر ہوگئے، اسی بنا پر اس قراءت سے اعراض برتا گیا ہے، کیونکہ یہ شاذ ہے اور جو عام مسلمانوں کی قراءت ہے وہ اس کے خلاف ہے، قراءت سنت ہے اسے بعد میں آنے والا پہلے سے لیتا ہے اور ہماری قراءت کی تاویل کے سبب اس کے معنی میں نقص ہے، کیونکہ اس میں زرہ کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اور وہ معنی جس کے بارے مسلسل آثار ہیں وہ یہ ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے بارے بنی اسرائیل کے درمیان اختلاف ہوگیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجاء کی کہ وہ انہیں غرق شدہ فرعون دکھائے چناچہ انہوں نے اسے زمین کے بلند حصہ پر اس کے بدن سمیت پالیا اور یہ اس کی وہ زرہ ہے جو وہ جنگوں میں پہنا کرتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی نے کہا ہے : اس کی زرہ پر وئے ہوئے موتیوں سے بنی ہوئی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سونے کی تھی اور وہ اسی کے سبب پہچانا جاتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوہے کی تھی۔ ابو الصخر نے کہا ہے : البدن سے مراد چھوٹی سی زرہ ہے۔ اور ابو عبیدہ نے اعشی کا شعر بیان کیا ہے : وبیضاء کالنھی موضونۃ لھاقونس فوق جیب البدن اور عمر بن معدیکرب کا بھی شعر بیان کیا ہے : ومضی نساء ھم بکل مفاضۃ جدلاء سابغۃ وبالابدان اور کعب بن مالک نے کہا ہے : تری الابدان فیھا مسبغات علی الابطال والیلب الحصینا اس میں ابدان سے مراد زرہیں ہیں اور یلب سے مراد یمنی زرہیں ہیں، یہ چمڑے سے بنائی جاتی تھیں اسے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ سیا جاتا تھا۔ اور یہ اسم جنس ہے اس کا واحد یلبۃ ہے عمرو بن کلثوم نے کہا ہے : علینا البیض والیلب الیمانی واسیاف یقمن و ینحنینا اور یہ بھی کہا گیا ہے : ببدنک سے مراد وہ جسم ہے جس میں روح نہ ہو۔ یہ مجاہد۔ نے کہا ہے۔ اخفش نے کہا ہے : رہا ان کا قول جنہوں نے بدرعک (تیری زرہ کے ساتھ) تو یہ کوئی شے نہیں ہے۔ ابوبکر نے کہا ہے : کیونکہ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زاری کی اور غرق شدہ فرعون کو دیکھنے کی التجا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے لیے ظاہر کردیا اور انہوں نے وہ جسم دیکھ لیا جس میں روح نہ تھی، پس جب بنی اسرائیل نے اسے دیکھ لیاتو کہا : ہاں، اے موسیٰ ! یہ فرعون ہی ہے اور غرق کردیا گیا ہے۔ پس ان کے دلوں سے شک نکل گیا اور سمندر نے فرعون کو نگل لیا جیسے وہ پہلے تھا۔ اس بنا پر ننجیک ببدنک دو معنوں کا احتمال رکھتا ہے ؟ ایک یہ ہے کہ ہم تجھے زمین کے بلند حصے پر پھینک دیں گے اور دوسرا یہ کہ ہم تیرے اس جسم کو ظاہر کردیں گے جس میں روح نہیں۔ اور شاذ قراءت بیدنک اس کا معنی جمہور کی قراءت کے معنی کی طرف ہی راجع ہے، کیونکہ ندا کی دو تفسیریں بیان کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے ہم تجھے تیرے کلمہ توبہ کہنے کے سبب بلند جگہ پر ڈال دیں گے اور تیرے اس قول کے سبب جو اس کا دروازہ بند ہونے کے بعد اور اس کے قبول ہونے کا وقت گزرجانے کے بعد تو نے کہا : (آیت) امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنو اسرائیل وانا من المسلمین اور دوسرا معنی یہ ہے کہ آج ہم تجھے سمندر کی گہرائی سے تیری ندا کے سبب جدا کردیں گے جو تونے یہ کہا : اناربکم الاعلی پس اسے بدن سمیت نجات دینا رب العالمین کی طرف سے بطور سزا تھا اس کے اس کفر میں انتہائی غلو اور زیادتی کرنے کے سبب جس میں اس نے اللہ تعالیٰ پر افترا باندھا اور مبہوت ہوگیا۔ اور قدرت اور ایسے امر کا دعوی کیا جس کے بارے وہ جانتا تھا کہ وہ اس میں جھوٹ بول رہا ہے، اس سے عاجز ہے اور اس کا مستحق نہیں ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا ہے : پس ہماری قراءت ان معانی کو متضمن ہے جو قراءت شاذہ میں پائے جاتے ہیں بلکہ ان سے زائد کو بھی متضمن ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) لتکون لمن خلفک ایۃ یعنی بنی اسرائیل کے لیے اور قوم فرعون کے ان باقی ماندہ لوگوں کے لیے جو غرق نہیں ہوئے اور ان تک یہ خبر نہیں پہنچی۔ (آیت) وان کثیرا من الناس عن ایتنا لغافلون یعنی بہت سے لوگ ہماری آیات میں غورو فکر کرنے اور ان میں سوچ و بچار کرنے سے اعراض کرنے والے ہیں۔ اور لمن خلفک لام کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، یعنی ان کے لیے جو تیرے بعد باقی رہیں گے اور تیری زمین میں تیرے پیچھے آئیں گے۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے لمن خلقک قاف کے ساتھ قراءت کی ہے یعنی تاکہ تو اپنے خالق کی نشانی ہوجائے۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم حاصل ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔

آیت نمبر 93 قولہ تعالیٰ : (آیت) ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو پسندیدہ قابل ستائش اور بہترین ٹھکانا عطا فرمایا، مراد مصر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اردن اور فلسطین ہے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : وہ مصر اور شام ہے۔ (آیت) ورزقنھم من الطیبت اور ہم نے انہیں پاکیزہ رزق یعنی پھل وغیرہ عطا فرمایا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد قریظہ، نظیر اور بنی اسرائیل میں سے حضور ﷺ کے زمانے کے لوگ ہیں، کیونکہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ ایمان لاتے تھے اور آپ کے ظہور کا انتظار کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ نے فرمایا تو وہ آپ کے ساتھ حسد کرنے لگے اور اسی لیے فرمایا : (آیت) فما اختلفوا پس انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے بارے معاملہ میں اختلاف نہ کیا۔ (آیت) حتی جاء ھم العلم یہاں تک کہ ان کے پاس قرآن کریم اور حضرت محمد ﷺ آگئے۔ اس میں علم بمعنی معلوم ہے۔ کیونکہ وہ آپ کو آپ کے خروج سے پہلے ہی جانتے تھے۔ یہ علامہ ابن جریر طبری نے کہا ہے۔ (آیت) ان ربک یقضی بینھم یعنی آپ کا رب ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرق کردے گا۔ (آیت) یوم القیامۃ فیما کانوفیہ یختلفون قیامت کے دن جن باتوں میں وہ دنیا میں جھگڑا کیا کرتے تھے، پس وہ طاعت کرنے والے کو ثواب دے گا اور نافرمانی کرنے والے کو سزادے گا۔
Ayahs 10:94–95

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اتری ہوئی) کتابیں پڑھ تے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

آیت نمبر 94 اور 95 قولہ تعالیٰ : (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک یہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کے سوا دوسرے ہیں، یعنی آپ تو شک میں نہیں ہیں لیکن آپ کے علاوہ دوسرے شک میں ہیں۔ ابو عمر محمد بن عبدالواحد الزاہد نے کہا ہے : میں نے دو اماموں ثعلب اور مبرد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ (آیت) فان کنت فی شک کا معنی ہے : اے محمد ﷺ کافرکو فرمادیجئے اگر تو اس سے متعلق شک میں ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے۔ (آیت) فسئل الذین یقرء ون الکتاب من قبلک یعنی اے بتوں کی پوجا کرنے والے اگر تجھے قرآن کریم کے بارے میں کوئی شک ہے تو ان لوگوں سے دریافت کرلے جو یہود میں سے اسلام لاچکے ہیں، یعنی حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور انہی کی مثل دیگر افراد کیونکہ بتوں کی پرستش کرنے والے یہودیوں کے بارے میں یہ اقرار کرتے تھے کہ وہ اس بارے ان سے زیادہ عالم ہیں، کیا اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی اور رسول مبعوث فرمائے گا ؟ اور قتبی نے کہا ہے : یہ خطاب ان کو ہے جو نہ یقین کے ساتھ حضور ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور نہ تصدیق کرتے ہیں، بلکہ شک میں ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : خطاب سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے کوئی اور نہیں اس کا معنی ہے : اگر آپ کو کوئی شک لاحق ہوجائے اس بارے میں جس کے متعلق ہم نے آپ کو خبر دی ہے تو آپ اہل کتاب سے دریافت کرلینا میں آپ سے شک زائل کردوں گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : شک سے مراد سینے کی تنگی ہے، یعنی اگر آپ کا سینہ ان کے کفر کے سبب تنگ ہوجائے تو آپ صبر کیجئے۔ اور ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) نے اپنی قوموں کی اذیت پر کیسے صبر کیا اور ان کے معاملے کا انجام کیا ہوا ؟ لغت میں شک کا اصل معنی تنگی ہے۔ کہا جاتا ہے : شک الثوب یعنی وہ اس کے سوراخوں کو بند کردے یہاں تک کہ وہ برتن کی طرح ہوجائے۔ اور اسی طرح مسافر کا توشہ دان ہے اس کے علائق (یعنی باندھنے کے دھاگے) کو کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ بند ہوجائے، پس شک سینے کو بند کردیتا ہے اور اسے سکیڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ تنگ ہوجاتا ہے۔ اور حسین بن فضل نے کہا ہے : حروف شرط کے ساتھ فانہ فعل کو واجب کرتی ہے اور نہ اسے ثابت کرتی ہے، اور اس پر دلیل وہ روایت ہے جو حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی : واللہ لا اشک قسم بخدا میں شک نہیں کرتا۔ پھر نیاکلام کیا اور فرمایا : (آیت) لقد جاءک الحق من ربک فلاتکونن من الممترین یعنی شک کرنے والوں سے نہ ہوجانا۔ (آیت) ولا تکونن من الذین کذبوا بایات اللہ فتکون من الخاسرین ان دونوں آیتوں میں خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو ہے اور مراد کوئی اور ہے۔ (1) (معالم التنزیل، زیر آیت ہذہ )
Ayahs 10:96–97

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔

آیت نمبر 96 قولہ تعالیٰ : (آیت) ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایوء منون اسی صورت میں اس کے بارے کلام پہلے گزرچکی ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : یعنی وہ لوگ جن پر ان کی معصیت اور گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور اس کی ناراضگی ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (آیت) ولو جاء تھم کل ایۃ اس میں کلا کو مونث ذکر کیا ہے اس لے کہ اس کلام کا معنی یہ ہے۔ ولوجاء تھم الآیات (اگر چہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں) (آیت) حتی یروا العذاب الالیم یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب دیکھ لیں تو اس وقت وہ ایمان لائیں گے (لیکن) وہ انہیں نفع نہیں دے گا۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم ' کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔

آیت نمبر 98 قولہ تعالیٰ : (آیت) فلولاکانت قریۃ امنت اخفش اور کسائی نے کہا ہے : فلولا بمعنی فھلا (پس کیوں ایسا نہ ہوا) ہے اور حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ کے مصحف میں فھلا ہی ہے۔ دراصل کلام میں لولا تخضیض (ابھارنے اور برانگیختہ کرنے) کے لیے آتا ہے یا غیر کے پائے جانے کی وجہ سے کسی کام سے روکنے پر دلالت کرنے کے لیے۔ اور آیت کے معنی سے بستی والوں کے ایمان کی نفی سمجھی جارہی ہے پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی استثنا کی گئی ہے، پس یہ لفظ کے اعتبار سے تو استثنا منقطع ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے استثنا متصل ہے، کیونکہ اس کی تقدیر عبارت یہ ہے : ما امن اھل قریۃ الا قوم یونس (یعنی بستی والوں میں سے سوائے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے کوئی ایمان نہ لایا) اور قوم کے منصوب ہونے کی یہی وجہ ہے اور اسی طرح سیبویہ نے اسے باب مالایکون الامنصوبا (یعنی ان کا بیان جو فقط منصوب ہوتے ہیں) میں داخل کیا ہے (2) (المحررالوجیز، جلد 3، صفحہ 143، 144 ) ۔ اور نحاس نے کہا ہے : (آیت) الا قوم یونس اسے نصب دی گئی ہے، کیونکہ یہ استثنا ہے جو اول (کلام میں) سے نہیں ہے۔ ای لکن قوم یونس (یعنی لیکن حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم ایمان لائی) یہ کسائی، اخفش اور فراء کا قول ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الاقوم یونس رفع کے ساتھ ہو۔ اور رفع کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سب سے احسن وہ ہے جو ابو اسحاق زجاج نے کہا ہے انہوں نے کہا ہے : اس کا معنی ہوگا غیر قوم یونس، پس جب کلام الا کے ساتھ آیا تو اس کے مابعد اسم کو غیر کا اعراب دے دیا گیا، جیسا کہ کسی شاعر نے بھی کہا ہے : وکل اخ مفارقہ اخوہ لعمر ابیک الا الفرقدان (اس میں الا بمعنی غیر ہے ) مفسرین کی ایک جماعت سے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے قصہ میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم موصل کی سرزمین میں نینوی کے مقام پر آباد تھی اور وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو ان کی طرح بھیجا اور آپ انہیں اسلام کی طرف اور جن نظریات پر وہ تھے انہیں ترک کرنے کی دعوت دینے لگے لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پس کہا گیا ہے کہ بیشک آپ انہیں نو سال تک دعوت دیتے رہے بالآخر آپ ان کے ایمان سے مایوس اور ناامید ہوگئے۔ تو آپ کو کہا گیا : آپ انہیں اطلاع کریں کہ تین دن تک ان پر عذاب آنے والا ہے چناچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور وہ کہنے لگے : یہ آدمی جھوٹ نہیں بولتا ہے پس تم اس کی تاک میں رہو پس اگر یہ تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان مقیم رہے تو پھر تم پر کچھ بھی نہیں آئے گا اور اگر یہ تم سے کوچ کرجائے (نکل جائے) تو بلاشک وہی عذاب کے نازل ہونے کا وقت ہوگا۔ پس جب رات آئی تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے زادراہ لیا اور ان سے نکل گئے پس جب انہوں نے صبح کی تو آپ کو نہ پایا تو وہ توبہ کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے اور انہوں نے ٹاٹ پہن لیے اور انسانوں اور جانوروں میں سے مائوں اور بچوں کو علیحدہ علیحدہ کردیا اور اس حالت میں انہوں نے مظالم چھوڑ دیئے۔ (1) (تفسیر الطبری، المحررالوجیز، زیر آیت ہذہ) اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : ایک آدمی پتھر لارہا تھا اور اس پر اپنی عمارت کی بنیاد رکھتاتو وہ اسے اکھیڑ نے لگا اور اسے رد کرنے لگا۔ جو کچھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے اس کے مطابق عذاب ان سے ایک میل کے دوتہائی فاصلے پر تھا۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہیں بادل نے ڈھانپ لیا اور اس میں سرخی تھی پس وہ مسلسل قریب آتا رہا حتی کہ وہ اس کی گرمی اپنے کندھوں کے درمیان پانے لگے۔ اور حضرت ابن جبیر ؓ نے بیان کیا ہے : عذاب نے انہیں اس طرح ڈھانپ لیا جیسے کپڑ اقبر کو ڈھانپ لیتا ہے، پس جب انہوں نے صحیح توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اٹھا لیا۔ اور علامہ طبری۔ نے کہا ہے : تمام امتوں میں سے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا یہ خاصہ ہے کہ عذاب کا معائنہ کرلینے کے بعد ان پر رحمت کی توجہ کی گئی اور ان کی توبہ قبول کرلی گئی۔ اور انہوں نے اسے مفسرین کی ایک جماعت سے ذکر کیا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : بیشک ابھی ان پر عذاب واقع نہیں ہوا تھا، بلکہ انہوں نے فقط اس علامت اور نشانی کو دیکھا تھا جو عذاب پر دلالت کرتی ہے اور اگر وہ عین عذاب کو دیکھ لیتے تو پھر ایمان انہیں کوئی فائدہ نہ دیتا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : زجاج کا قول اچھا ہے، کیونکہ وہ مشاہدہ جس کے ساتھ توبہ نفع بخش نہیں ہوتی وہ عذاب کے ساتھ ملتبس ہونا اور اس میں واقع ہوجانا ہے جیسا کہ فرعون کا واقعہ ہے۔ اور اسی لیے حضرت یونسعلیہ السلام کی قوم کا واقعہ فرعون کے قصہ کے پیچھے ذکر ہوا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایمان لایا جب اس نے عذاب دیکھ لیا پس وہ اس کے لیے نفع بخش ثابت نہ ہوا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے اس سے پہلے توبہ کرلی۔ اور اسے حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی تقویت دیتا ہے :” بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک غرغر کی آواز نہ نکلے “۔ اور الغرغرہ کا معنی ہے جان کنی کے وقت سانس کا غرغرانا۔ اور یہ موت کے ساتھ ملنے کی حالت ہوتی ہے۔ اور اس سے پہلے اس طرح نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔ اور جو معنی ہم نے بیان کیا ہے وہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب ان سے تین دن تک عذاب آنے کا وعدہ کیا اور آپ ان سے نکل گئے پس جب انہوں نے صبح کی اور آپ کو نہ پایا تو وہ توبہ کرنے لگے اور انہوں نے مائوں کو اپنے بچوں سے علیحدہ کردیا (1) (تفسیر الطبری، جلد 12، صفحہ 296) ۔ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی توبہ عذاب کی علامت دیکھنے سے پہلے ہوئی۔ عنقریب سورة والصافات میں اس کا واضح اور کھلابیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور (آیت) کشفنا عنھم عذاب الخزی کا معنی ہوگا یعنی ہم نے ان سے وہ عذاب دور کردیا جس کے بارے حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان پر نازل ہوگا، نہ یہ کہ انہوں نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا تھا اور نہ یہ کہ انہیں اس کا خیال تھا۔ اس بنا پر اس میں نہ کوئی اشکال ہے، نہ تعارض اور نہ ہی کوئی خصوصیت ہے واللہ اعلم۔ المختصر یہ کہ نینوی کے باسی اللہ تعالیٰ کے علم سابق میں سعادت مند تھے۔ اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : بیشک خوف اور ڈر تقدیر کو رد نہیں کرتا، بلکہ دعا تقدیر کو رد کردیتی ہے، یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (آیت) الا قوم یونس لما امنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیاحضرت علی ؓ نے فرمایا : وہ عاشورہ کا دن تھا (یعنی دسویں محرم) قولہ تعالیٰ : (آیت) ومتعنھم الی حین کہا گیا ہے : اور ہم نے انہیں ان کی مقررہ مدت تک لطف اندوز ہونے دیا۔ یہ سدی۔ نے کہا ہے اور یہ قول بھی ہے : اور ہم نے انہیں لطف اندوز ہونے دیا اس وقت تک کہ وہ جنت کی طرف چلے جائیں یا جہنم کی طرف۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

آیت نمبر 99 قولہ تعالیٰ : (آیت) ولوشاء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعا یعنی وہ ان تمام کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا۔ (آیت) کلھم، من کی تاکید ہے اور (آیت) جمیعاسیبویہ کے نزدیک حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے کہ جمیعا کا لفظ بھی کل کے بعد تاکید کے لیے آیا ہے، جیسا کہ یہ قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) لاتتخذوا الھین اثنین (النحل : 51) (یعنی اس میں اثنین الھین کی تاکید کے لیے ہے) قولہ تعالیٰ : (آیت) افانت تکرہ الناس حتی یکونوا موء منین حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضور ﷺ تمام لوگوں کے ایمان لانے کے حریص تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ کوئی ایمان نہیں لاسکتا مگر وہی جو ذکر اول میں پہلے سعادت مند ہو اور کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا مگر وہی جو ذکر اول میں پہلے شقی ہو (1) (تفسیر الطبری، جلد 12، صفحہ 298) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں الناس سے مراد ابو طالب ہیں۔ اور یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں کہ خدا کے حکم بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔

آیت نمبر 100۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) وماکان لنفس ان توء من الا باذن اللہ اس میں مانافیہ ہے، یعنی یہ مناسب نہیں کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کی مشیت و ارادہ کے بغیر ایمان لاسکے۔ (آیت) ویجعل الرجس حسن، ابوبکر اور مفضل نے ونجعل تعظیم کے لیے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور الرجس کا معنی عذاب ہے۔ را کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ اس کی دو لغتیں ہیں۔ علی الذین لایعقلون یعنی ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کے امر ونہی کو نہیں سمجھتے۔ (2) (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 370)
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔

آیت نمبر 101 قولہ تعالیٰ : (آیت) قل انظروا ماذا فی السموات والارض یہ کفار کے لیے ان مصنوعات میں غوروفکر اور تدبر کرنے کے بارے امر ہے جو صانع پر اور اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس بارے میں مکمل بحث کئی مقامات پر پہلے گزرچکی ہے۔ (آیت) وماتغنی یہ مانافیہ ہے ای ولن تغنی (یعنی آیتیں ہرگز فائدہ نہیں پہنچائیں گی) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما استفہامیہ ہے اور تقدیر کلام ہے ای شی تغنی (کون سی شے کا نفع آیات پہنچاسکتی ہیں ) الآیات مراد دلالات اور نشانیاں ہیں۔ والنذر یعنی رسل (علیہ السلام) اور یہ نذیر کی جمع ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ (آیت) عن قوم لایوء منون یعنی اس قوم کو جن کے بارے پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔