10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

آیت نمبر : 32۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق، فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق “۔ یعنی وہ جو اس قسم کے کام کرتا ہے وہ تمہارا حقیقی پروردگار ہے، نہ کہ وہ جنہیں تم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔ (آیت) ” فما ذا بعد الحق “۔ ذا صلہ ہے ای بابعد عبادۃ الالہ الحق اذاترکت عبادتہ الا الضلال (یعنی الہ حقیقی کی عبادت کے بعد جب تو اس کی عبادت کو چھوڑ دے گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے) اور بعض متقدمین نے کہا ہے : اس آیت کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد جو ہے وہ گمراہی ہے، کیونکہ اس کا اول حصہ (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق “۔ اور آیت کا آخر (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ ہے پس یہ ایمان اور کفر کے بارے میں ہے، اعمال کے بارے میں نہیں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : بیشک کفر حق کو ڈھانپ دیتا ہے اور ہر وہ جو حق کے سوا ہے وہ اس کے قائم مقام ہوگا، پس حرام گمراہی ہے اور مباح ہدایت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مباح کرنے والا اور حرام کرنے والا ہے صحیح پہلا قول ہے کیونکہ پہلے فرمایا : (آیت) ” قل من یرزقکم من السمآء والارض “۔ پھر فرمایا : (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق “۔ یعنی یہ ہے وہ جو تمہیں رزق دیتا ہے اور یہ سب اس کا فعل ہے (آیت) ” ربکم الحق “۔ وہی تمہارا حقیقی پروردگار ہے الوہیت جس کا حق ہے اور اس کی عبادت واجب ہے اور جب صورت حال یہ ہے تو پھر کسی اور کا شریک ٹھہرانا گمراہی اور غیر حق ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) ہمارے علماء نے کہا ہے : اس آیت نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ حق اور باطل کے درمیان کوئی تیسری منزل نہیں یہ اس مسئلہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے بارے ہے اور اس کی نظائر میں بھی حکم اسی طرح ہے اور یہ ان اصولی مسائل میں سے ہے جن میں ایک طرف میں حق ہے، کیونکہ کلام اسی میں ہے بلاشبہ وہ وجود ذات کے بیان میں ہے کہ وہ کیسے ہے اور یہ ان فروعی مسائل کے خلاف ہے جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعتہ ومنھاجا (الما 48) (ہر ایک کے لیے بنائی ہے ہم نے تم میں سے ایک شریعت اور عمل کی راہ) اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” حلال بین اور واضح ہے اور حرام بھی بین اور واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان امور متشابہات ہیں “۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 13) اور کلام فروع کے بارے ہے اور بلاشبہ یہ ایسے احکام کے بارے ہے جو طاری ہوتے ہیں ایسے پختہ اور مضبوط اصول پر جن میں کوئی اختلاف نہیں کیا جاتا بلکہ ان سے متعلقہ احکام میں اختلاف کیا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث سے ثابت ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ جب رات کے وسط میں نماز کے لیے قیام فرما ہوتے تو کہتے : ” اے اللہ تیرے لیے ہی حمد ہے “ الحدیث۔ اور اس میں یہ ہے ” تو حق اور انبیاء حق ہیں اور محمد ﷺ حق ہیں “ (1) (صحیح بخاری، کتاب التہجد، جلد 1، صفحہ 151) الحدیث۔ پس آپ ﷺ کا قول : انت الحق اس کا معنی ہے تو واجب الوجود ہے، اور اس کی اصل حق الشیء سے ہے، یعنی جب کوئی شے ثابت اور واجب ہوجائے۔ حقیقی طور پر یہ وصف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے کیونکہ اس کو وجود اپنا ذاتی ہے نہ اس سے پہلے عدم تھا اور نہ اسے عدم لاحق ہوگا (یعنی کوئی ایسی ساعت نہیں گزری جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات موجود نہ ہو اور کوئی ایسی ساعت نہیں آئے گی جس میں وہ موجود نہ ہوگا وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ تک رہے گا) اور اس کے سوا جس پر بھی یہ اسم بولا جائے گا اس سے پہلے عدم ہے اور اور اس پر عدم کا لاحق ہونا جائز ہے اور اس کا وجود اپنے موجد کی جانب سے ہے اپنی ذات کی طرف سے نہیں ہے، اور اس معنی کے اعتبار سے صحیح ترین کلام وہی ہے جو شاعر نے کہا ہے لبید کا قول ہے : الا کل شی ما خلا اللہ باطل : خبردار سنو : اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے باطل ہے۔ اور اسی کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : (آیت) ” کل شیء ھالک الا وجھہ لہ الحکم والیہ ترجعون “۔ (ہر چیز ہلاک ہونے والی سوائے اس کی ذات کے اسی کی حکمرانی ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹا یا جائے گا) مسئلہ نمبر : (4) حق کا مقابلہ ضلال کے ساتھ کرنا لغۃ اور شرعا معروف ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور اسی طرح حق کا مقابلہ باطل کے ساتھ کرنا بھی لغۃ اور شرعا معروف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ذلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھو الباطل “۔ (الحج : 62) (نیز اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خدائے برحق ہے اور جسے وہ پوجتے ہیں اس کے علاوہ وہ سراسر باطل ہے) اور ضلال کا حقیقی معنی حق سے نکلنا ہے، یہ ضلال الطریق سے لیا گیا ہے اور یہ راستے کی سمت سے پھرجانا، ابن عرفہ نے کہا ہے : عربوں کے نزدیک ضلالۃ سے مراد ایسے راستے پر چلنا ہے جو مقصود اور منزل کا نہ ہو۔ کہا جاتا ہے : ضل عن الطریق (وہ راستے سے بھٹک گیا) اور اضل الشی جب وہ کسی شے کو ضائع کر دے۔ اور شرعا یہ اس عبارت کے ساتھ خاص ہے۔ العدول عن السدادفی الاعتقاد دون الاعمال (اعتقاد میں صحیح (سمت) سے پھرجانا نہ کہ اعمال میں) اور اس کے بارے میں غریب قول یہ بھی ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کے بارے معرفت نہ ہونے کو ضلال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب اس کے مقابلے میں غفلت ہو اور اس کے عدم کے ساتھ جہالت یا شک مقترن نہ ہو، اور اسی پر علماء نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو محمول کیا ہے : (آیت) ” ووجدک ضالا فھدی “۔ (الضحی) ای غافلا یہ اس کی کئی تاویلات میں سے ایک ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کا یہ قول کرتا ہے (آیت) ” ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان “۔ (الشوری : 52) (نہ آپ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے ) مسئلہ نمبر : (5) عبداللہ بن عبدالحکم اور اشہب نے امام مالک (رح) سے اس قول باری تعالیٰ : (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ میں روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا : شطرنج اور چوسر (نرد) کھیلنا گمراہی میں سے ہے، اور یونس نے ابن وہب سے روایت کیا ہے کہ ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ چودہ گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے، تو امام مالک (رح) نے فرمایا : میرے لیے یہ کتنی تعجب کی بات ہے، حالانکہ یہ مومنین کی شان نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ (پس حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے) اور یونس نے اشہب سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا : امام مالک (رح) سے شطرنج کھیلنے کے بارے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا : اس میں خیر اور بھلائی نہیں ہے اور یہ کوئی شے نہیں ہے اور یہ باطل ہے اور کھیل تمام کے تمام باطل میں سے ہیں، بلاشبہ صاحب عقل کو چاہیے کہ اس کی ریش اور بڑھاپا اسے باطل سے روکے (1) (احکام القرآن لابن العربی، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 1052) اور زہری (رح) سے جب شطرنج کے بارے پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا : یہ باطل میں سے ہے اور میں اسے پسند نہیں کرتا۔ مسئلہ نمبر : (6) علماء نے شطرنج وغیرہ کھیلنے کے جواز میں اختلاف کیا ہے جب یہ جوئے کی صورت پر نہ ہو، پس شطرنج کے بارے میں امام مالک (رح) اور جمہور فقہاء کے مذہب کا ماحصل یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ جوا نہ کھیلے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر میں چھپ کر مہینے میں یا سال میں ایک بار کھیلے۔ اس پر نہ کوئی مطلع ہو اور نہ اس کے بارے کسی کو علم ہو تو وہ اس کے لیے معفوعنہ ہے، نہ اس پر حرام ہے اور نہ اس کے لیے مکروہ ہے۔ اور اگر وہ اس میں منہمک ہوگیا اور اس میں مشہور ہوگیا تو اس کی مروت اور عدالت ساقط ہوجائے گی اور اس کی شہادت رد کردی جائے گی، اور رہے امام شافعی (رح) تو ان کے اصحاب کے مذہب میں نرد (چوسر) اور شطرنج کھیلنے والے کی شہادت ساقط نہیں ہوتی، جب کہ وہ اپنے جمیع ساتھیوں میں عادل ہو اور اس کی طرف سے سفاہت، شک اور گناہ کبیرہ ظاہر نہ ہو مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ جوا کھیلنے لگے، پس اگر اس کے ساتھ اس نے جوا کھیلا اور وہ اس کے ساتھ معروف ہوگیا تو اس کی عدالت ساقط ہوجائے گی اور باطل کے ذریعے مال کھانے کی وجہ سے اس نے اپنے آپ کو سفیہ (بےوقوف) بنا دیا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کہ شطرنج، نرد، اربعہ عشر کھیلنا اور ہر لہو مکروہ ہے۔ اور اگر ان کے ساتھ کھیلنے والے سے گناہ کبیرہ ظاہر نہ ہو اور اس کی خوبیاں اور نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں تو ان کے نزدیک اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : شافعیہ نے کہا ہے بیشک شطرنج نرد کے مخالف ہے، کیونکہ اس میں فہم کو تیز کرنے اور طبیعت کو عمل کے قابل بنانے کی صلاحیت ہے اور نرد جوا ہے، دھوکا ہے وہ اسے نہیں جانتا جو اس میں اس کے لیے نکلے گا جیسا کہ فال کے تیروں کے ساتھ تقسیم کا مطالبہ کرنا۔ مسئلہ نمبر : (7) ہمارے علماء نے کہا ہے : نرد وہ کٹا ہوا ٹکڑا ہے جو بقس کی لکڑی سے اور ہاتھی کی ہڈی سے بھرا ہوا ہو اور اسی طرح شطرنج بھی ہے، کیونکہ یہ اس کا بھائی ہے اسی کے دودھ سے اسے غذا دی گئی ہے اور نرد وہ ہے جو باطل کے نام سے معروف ہے، اس کی پہچان کعاب کے نام سے بھی ہے اور اسے دور جاہلیت میں ارن کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور یہ نرد شیر کے نام سے بھی معروف ہے۔ اور صحیح مسلم میں سلیمان بن بریدہ سے انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جو کوئی نرد شیر کے ساتھ کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور اس کے خون میں ڈالا “ (1) (صحیح مسلم، کتاب تحریم اللعب، جلد 2، صفحہ 240) ہمارے علماء نے کہا ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس آدمی کی طرح ہے جس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت میں ڈالا جو اس نے تیار کیا ہوا تھا تاکہ اسے کھائے اور خنزیر میں ایسا کرنا حرام ہے، جائز نہیں ہے، آپ ﷺ کا ارشاد اسے بیان کرتا ہے : ” جو نرد کے ساتھ کھیلا تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی “ (2) (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، صفحہ 275، موطا امام مالک، کتاب الجامع، صفحہ 724) اسے امام مالک (رح) وغیرہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے، اور آپ نرد کے ساتھ کھیلنا کلی طور پر حرام قرار دے رہے ہیں اور اسی طرح شطرنج بھی ہے، آپ نے کسی وقت کی استثنا نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی حال کی استثنا کی ہے اور یہ خبر دی ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والا ہے، مگر اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ نرد جس کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد جوئے کی طرز پر کھیلنا ہو، کیونکہ بغیر جوئے کے شطرنج کھیلنے کی اجازت تابعین سے مروی ہے۔ (لیکن) اسے عموم پر محمول کرنا چاہے اس میں جوا ہو یا نہ ہو زیادہ اولی ہے اور اس میں احتیاط زیادہ ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ابو عبداللہ حلیمی نے کتاب ” منہاج الدین “۔ میں کہا ہے : شطرنج کے بارے میں جو حدیث آئی ہے اس میں اسی طرح روایت کیا گیا ہے جیسے نرد کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو کوئی شطرنج کے ساتھ کھیلا تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی “۔ اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ بنی تمیم کی مجالس میں سے ایک مجلس کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ شطرنج کھیل رہے تھے تو آپ اس کے پاس ٹھہرگئے اور فرمایا : ” خبردار سنو ! قسم بخدا ! تم اس کے سوا کے لیے پیدا کیے گئے ہو ! خبردار سنو ! قسم بخدا ! اگر یہ سنت نہ ہوتی (1) (المنباج میں یہاں لفظ سبۃ ہے، مترجم) تو میں اسی کے ساتھ تمہارے چہروں پر مارتا “۔ اور آپ ﷺ سے ہی مروی ہے کہ آپ ایک قوم کے پاس سے گزرے وہ شطرنج کھیل رہے تھے تو آپ نے فرمایا : یہ کیسے بت ہیں جن کے ساتھ تم چمٹے پڑے ہو، کیونکہ تم میں سے کسی کا (آگ کا) انگارہ پکڑنا اسے پکڑنے سے بہتر ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے بجھا دے، اور حضرت ابن عمر ؓ سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ نرد سے زیادہ بری ہے، اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا : شطرنج کے ساتھ نہیں کھیلتا مگر خطا اور گناہ کرنے والا، اور ابو جعفر سے شطرنج کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : ہم نے اس مجوسیت کو چھوڑ دیا ہے۔ اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے ایک طویل حدیث میں ہے :” بیشک جو کوئی نرد، شطرنج، جوز (اخروٹ) اور کعاب کے ساتھ کھیلا اللہ تعالیٰ اس سے نفرت رکھتا ہے اور جو کوئی نرد اور شطرنج کھیلنے والوں کے پاس بیٹھا تاکہ ان کی طرف دیکھے تو اس سے اس کی ساری نیکیاں مٹا دی گئیں اور وہ ان میں سے ہوگیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبغوض بنادیا “۔ یہ تمام آثار اس پر دلالت کرتے ہیں کہ بغیر جوئے کے بھی ان کے ساتھ کھیلنا حرام ہے، واللہ اعلم، اور ہم نے سورة المائدہ میں اس کی تحریم کا بیان ذکر کیا ہے اور یہ کہ یہ تحریم میں خمر (شراب) کی مثل ہے، کیونکہ یہ اسی کے ساتھ مقترن ہے، واللہ اعلم۔ ابن عربی نے قبس میں کہا ہے : امام شافعی (رح) نے اسے جائز قرار دیا ہے اور ان میں سے بعض کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ کہنے لگے : یہ مندوب (مستحب) ہے یہاں تک کہ انہوں نے اسے مدرسہ میں رکھا دیا اور جب طالب پڑھنے سے تھک جاتے تو وہ اس کے ساتھ مسجد میں کھیلتے، اور انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت کی طرف اس کی نسبت کی ہے کہ وہ اس کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں اور یہ کبھی نہیں ہوا۔ قسم بخدا ! کسی متقی کے ہاتھ نے اسے مس نہیں کیا۔ اور وہ کہتے ہیں : بیشک یہ ذہن کو تیز کرتی ہے اور ظاہر ان کی تکذیب کرتا ہے، کسی ذہین آدمی نے اس میں کبھی تجربہ حاصل نہیں کیا، میں نے امام ابو الفضل عطا مقدسی کو مسجد اقضی میں مناظرہ کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا ہے : بیشک یہ (فن) حرب سکھاتی ہے، تو انہیں طرطوشی نے کہا : بلکہ یہ تو جنگ کی تدبیر کو فاسد کرتی ہے، کیونکہ جنگ سے مقصود تو بادشاہی اور اس کی مدہوشی ہوتا ہے، اور شطرنج میں تو کہتا ہے : شاہ تو بچ ! بادشاہ کو میرے راستے سے دور کردے، پس اس نے حاضرین کو ہنسا دیا۔ اور کبھی امام مالک (رح) نے اس بارے میں سختی کی ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے اور اس بارے میں کہا ہے : (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ اور کبھی اس میں تھوڑی سہولت اور آسانی پیدا کی ہے۔ لیکن پہلا قول ہی اصح ہے۔ واللہ اعلم۔ اگر کوئی کہنے والا کہے : حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ان سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے پوچھا : شطرنج کیا ہے ؟ تو آپ کو بتایا گیا : بیشک ایک عورت کا ایک بیٹا تھا اور وہ بادشاہ تھا پس وہ جنگ میں اپنے ساتھیوں کے بغیر مارا گیا، تو اس نے کہا : یہ کیسے ہو سکتا ہے تم مجھے یہ واضح اور ظاہر کرکے دکھاؤ، تو اس کے لیے شطرنج کا عمل کیا گیا، پس جب اس نے اسے دیکھا تو اسے اس سے تسلی ہوگئی اور انہوں نے حضرت عمر ؓ کے لیے شطرنج کا وصف بیان کیا تو آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں جو آلہ حرب میں سے ہے۔ تو اسے جوابا یہ کہا جائے گا : اس میں کوئی حجت نہیں ہے، کیونکہ آپ نے شطرنج کے بارے لاباس (کوئی حرج نہیں) کے الفاظ نہیں کہے بلکہ آپ نے کہا : لا باس بما کان من الۃ الحرب (اس میں کوئی حرج نہیں جو آلہ حرب میں سے ہے) بلاشبہ آپ نے یہ کہا : کیونکہ آپ پر یہ مشتبہ ہوگیا کہ شطرنج کے ساتھ کھیلنا ان میں سے ہے جن کے ساتھ اس جنگ کی پہچان میں مدد حاصل کی جاتی ہے، پس جب آپ کو یہ بتایا گیا اور آپ کا علم اسے محیط نہ ہوا تو آپ نے کہا : لاباس بما کان میں آلۃ الحرب اگر اسی طرح ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں اور اس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے وہ جس نے آپ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ آپ نے اس سے منع نہیں کیا، تو بیشک آپ سے اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ کا گمان تھا کہ یہ وہ ہے جس کے ساتھ مشغولیت اور غفلت نہیں ہوتی، بلکہ اس سے جنگ اور اس کے دوران باہم ضرب لگانے کے علم کا سبب بننے کا ارادہ کیا جاتا ہے یا اس بنا پر کہہ دیا کہ خبر مسند ان تک پہنچی ہی نہیں، حلیمی نے کہا ہے : جب خبر صحیح ہے تو پھر اس کے ہوتے ہوئے کسی کے لیے کوئی حجت نہیں، بلاشبہ اس میں تمام کے خلاف حجت ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) ابن وہب نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بچوں کے پاس سے گزرے وہ کجہ کے ساتھ کھیل رہے تھے اور یہ (چھوٹا سا) گڑھا کھود کر اس میں سنگریزوں کے ساتھ کھیلتے تھے، ابن وہب نے بیان کیا ہے : پس حضرت ابن عمر ؓ نے اسے بند کردیا اور انہیں اس سے منع فرمایا۔ اور ہر وی نے باب (الکاف مع الجیحم) میں حضرت ابن عباس ؓ کی حدیچ میں ذکر کیا ہے : ہر شے میں جوا ہے حتی کہ کجہ کے ساتھ بچوں کے کھیل میں بھی ہے، ابن الاعرابی (رح) نے کہا ہے : وہ یہ ہے کہ ایک بچہ کپڑے کا ٹکڑا لیتا ہے اور اسے گول بنا لیتا ہے گویا کہ وہ گیند ہے، پھر اس کے ساتھ جوا کھیلتے ہیں اور دکج جب کوئی کجہ کے ساتھ کھیلے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فانی تصرفون “۔ یعنی تمہاری عقلوں کو کیسے ان کی عبادت کی طرف پھیرا جارہا ہے جو نہ رزق دے سکتے ہیں نہ زندہ کرسکتے ہیں اور نہ موت دے سکتے ہیں۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

آیت نمبر : 33۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک “ یعنی یونہی آپ کے رب کا حکم اس کا فیصلہ اور اس کا علم سابق ثابت ہوچکا ہے، (آیت) ” علی الذین فسقوا “ ان پر جو طاعت سے نکل گئے اور انہوں نے کفر کیا اور تکذیب کی۔ (آیت) ” انھم لایؤمنون “۔ کہ وہ تصدیق نہیں کریں گے، اور اس میں قدریہ کے خلاف مکمل دلیل موجود ہے، نافع اور ابن عامر نے یہاں اور اس کے آخر میں (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک “ اور سورة غافر میں تینوں مقامات پر اسے جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے صیغہ مفرد کے ساتھ۔ اور ان محل نصب میں ہے، یعنی بانھم یا لانھم “ ، زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ یہ کلمات سے بدل ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہو، فراء نے کہا ہے : استیئاف کی بنا پر کسرہ کے ساتھ انھم پڑھنا بھی جائز ہے۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

آیت نمبر : 34۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھل من شرکائکم “ یعنی کیا تمہارے الہوں اور تمہارے معبودوں میں کوئی ہے ؟ (آیت) ” من یبدؤا الخلق ثم یعیدہ “۔ یعنی اے محمد ! ﷺ زجر وتوبیخ اور تقریر کی جہت پر آپ انہیں فرمائیے (جو آغاز افرینش بھی کرے اور پھر (فنا کے بعد) اسے لوٹا بھی دے) پس اگر وہ آپ کو جواب دیں (توبہتر) ورنہ آپ انہیں فرمائیں : (آیت) ” قل اللہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ “ (اللہ ہی آفرینش کی ابتدا بھی کرتا ہے اور (فنا کے بعد) اسے لوٹا بھی دیتا ہے) اور اس کے سوا کوئی ایسا نہیں کرسکتا۔ (آیت) ” فانی تؤفکون “۔ یعنی تم کیسے حق سے باطل کی طرف پلٹ رہے ہو اور پھر رہے ہو۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

آیت نمبر : 35۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھل من شرکائکم، من یھدی الی الحق “۔ کہا جاتا ہے : ھداہ الطریق والی الطریق دونوں کا معنی ایک ہے (اس نے اسے راستے کی رہنمائی کی) اور یہ پہلے گزر چکا ہے، یعنی کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو دین اسلام کی طرف رہنمائی کرسکتا ہو۔ پس جب وہ کہیں نہیں اور یہ ضروری ہے۔ (آیت) ” قل اللہ یھدی للحق “۔ تو پھر آپ انہیں فرمائیے : اللہ ہی حق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔ پھر آپ انہیں زجر وتوبیخ کرتے ہوئے اور بات کو پختہ کرتے ہوئے فرمائیے :) (آیت) ” افمن یھدی “ تو کیا وہ جو رہنمائی کرتا ہے (آیت) ” الی الحق “۔ (حق کی طرف) اور وہ اللہ سبحانہ وہ تعالیٰ ہے۔ (آیت) ” احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی “۔ مراد وہ بت ہیں جو کسی رہنمائی نہیں کرسکتے، نہ وہ چل سکتے ہیں مگر یہ کہ انہیں اٹھایا جائے اور نہ وہ اپنی جگہ سے منتقل ہو سکتے ہیں مگر یہ کہ انہیں منتقل کیا جائے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے : للفتی عقل یعیش بہ حیث تھدی ساقہ قدمہ : نوجوان کے لیے عقل ہے جس کے ساتھ وہ زندگی گزارتا ہے اس طرح کہ اس کے پاؤں اس کی پنڈلی کی رہنمائی کرتے ہیں، اور کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ رؤسا اور گمراہ کرنے والے ہیں جو اپنی بھی ہدایت کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ ان کی رہنمائی کی جائے اور (آیت) ” یھدی “ میں چھ قراءتیں ہیں : (1) سوائے ورش کے اہل مدینہ نے (آیت) ” یھدی “ یا کے فتحہ، ہا کے سکون اور دال کی تشدید کے ساتھ قرات کی ہے، پس انہوں نے اپنی قرات میں وو ساکنوں کو جمع کیا ہے جیسا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قول : (آیت) ” لا تعدوا “ اور تخصمون “ میں کیا ہے، نحاس نے کہا ہے : وو ساکنوں کے جمع ہونے کی صورت میں کوئی بھی اسے بولنے پر قدرت نہیں رکھتا، محمد بن یزید نے کہا ہے : جو بھی اس طرح کا قصد کرے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسرہ کی طرف مائل کرکے خفیف سی حرکت دے اور سیبویہ اسے اختلاس حرکت کا نام دیتے ہیں۔ (2) ابو عمرو اور قالون نے ایک روایت میں اسے فتحہ اور اسکان کے درمیان پڑھا ہے، یہ اخفا اور اختلاس کے بارے میں ان کے مذہب کی بنا پر ہے۔ (3) ابن عامر، ابن کثیر، ورش، اور ابن محیصن نے (آیت) ” یھدی “ یا اور ہا کے فتحہ اور دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، نحاس نے کہا ہے : یہ قرات عربی میں بین اور واضح ہے، یہ اصل میں یھتدی ہے تاکہ دال میں ادغام کردیا گیا ہے اور اس کی حرکت ہا کو دے دی گئی ہے۔ (4) حفص، یعقوب اور اعمش نے ابوبکر سے ابن کثیر کی قرات کی مثل قرات کی ہے، مگر یہ کہ انہوں نے ہا کو کسرہ دیا ہے انہوں نے کہا ہے : کیونکہ جزم کو جب مجبورا حرکت دی جائے تو اسے کسرہ کی حرکت دی جاتی ہے، ابو حاتم نے کہا ہے : یہ سفلی مضر کی لغت ہے۔ (5) ابوبکر نے عاصم سے یھدی یا اور ہا کے کسرہ اور دال کی تشدید کے ساتھ قرات کی ہے، یہ تمام کسرہ کی اتباع کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں یخطف کے تحت گزر چکا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کی لغت ہے جنہوں نے (آیت) ” نستعین “ اور (آیت) ” لن تمسنا النار “۔ وغیرہ پڑھا ہے۔ اور سیبویہ (آیت) ” یھدی “ کو جائز قرار نہیں دیتے البتہ تھدی، یھدی، اور ھدی میں جائز قرار دیتے ہیں انہوں نے فرمایا : کیونکہ یا میں کسرہ ثقیل ہوتا ہے۔ (6) حمزہ، کسائی، خلف، یحییٰ بن وثاب اور اعمش نے یھدی یا کے فتحہ، ہا کے سکون اور دال کی تخفیف کے ساتھ قرات کی ہے۔ یہ ھدی یھدی سے ہے۔ نحاس نے کہا ہے : عربی میں اس قرات کی دو وجہیں ہیں اگرچہ وہ بعید ہیں، دو وجہوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسائی اور فراء دونوں نے کہا ہے : یھدی بمعنی یھتدی ہے۔ ابو العباس نے کہا ہے : یہ معروف نہیں ہے، لیکن تقدیر عبارت ہے امن لایھدی غیرہ (کیا وہ جو غیر کی رہنمائی نہیں کرسکتا) کلام مکمل ہوگئی، پھر کہا : (آیت) ” الا ان یھدی “۔ یہ اول سے نیا کلام ہے، یعنی لیکن وہ محتاج ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے، پس یہ استثنا منقطع ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : فلان لا یسمع غیرہ الا ان یسمع ای لکنہ یحتاج ان یسمع (فلاں غیر کو سنا نہیں سکتا لیکن وہ محتاج ہے کہ اسے سنایا جائے) ابو اسحاق نے کہا ہے : (آیت) ” فمالکم “۔ یہ کلام تام ہے اور اس کا معنی ہے : پس بتوں کی عبادت میں تمہارے لیے کون سی شے ہے، پھر انہیں کہا گیا : (آیت) ” کیف تحکمون “ تم اپنے لیے کیسے فیصلے کرتے ہو اور تم یہ صریح باطل فیصلے کر رہے ہو تم ایسے معبودوں کی عبادت کرتے ہو جو اپنے آپ کو بھی کسی چیز کا نفع نہیں دے سکتے مگر یہ کہ ان کے ساتھ کوئی عمل کیا جائے، اور اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اور تم اس کی عبادت چھوڑ رہے ہو۔ پس (آیت) ” کیف تحکمون “۔ کے سبب محل نصب میں ہے۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

آیت نمبر : 36۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما یتبع اکثرھم الا ظنا “۔ مراد ان کے رؤسا (سردار) ہیں، یعنی وہ اس بارے میں محض تیز فہمی اور ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں کہ وہ معبود ہیں اور وہ شفاعت کریں گے اور ان کے پاس اس پر کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ اور رہے ان کی اتباع والے تو وہ صرف تقلید کے طور پر ان کی پیروی کرتے ہیں۔ (آیت) ” ان الظن لا یغنی من الحق شیئا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے (وہم و گمان انہیں بےنیاز نہیں کرسکتا) اور حق تو خود اللہ تعالیٰ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں الحق سے مراد یقین ہے، یعنی ظن یقین کی مثل نہیں ہے، اور اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ عقائد میں صرف ظن پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔ (آیت) ” ان اللہ علیم بما یفعلون “۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ کفر اور تکذیب کا عمل کرتے ہیں، یہ آیت تہدید (جھڑک) کے محل میں واقع ہے۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

آیت نمبر : 37۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان ھذا القران ان یفتری من دون اللہ “۔ اس میں ان، یفتری کے ساتھ مل کر مصدر ہے اور اس کا معنی ہے : وما کان ھذا القرآن افتراء (یہ قرآن گھڑا ہوا نہیں ہے) جیسا کہ آپ کہتے ہیں : فلان یحب ان یرکب، ای یحب الرکوب (فلاں سوار ہونے کو پسند کرتا ہے) یہ کسائی نے کہا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اس قرآن کے لیے مناسب نہیں کہ اسے گھڑ لیا گیا ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وما کان لنبی ان یغل “۔ (آل عمران : 161) (اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ خیانت کرے) (آیت) ” وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ (التوبہ : 122) (اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کے سارے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان بمعنی لام اور تقدیر کلام یہ ہو : وما کان ھذا القرآن لیفتری (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 157) (اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا گیا ہو) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بمعنی لا ہے، ای لا یفتری (اسے گھڑ انہیں گیا ہے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ غیر اللہ کی جانب سے اس قرآن کی مثل لائے پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دے اس قرآن کے اعجاز، اس کے وصف، اس کے معانی اور اس کی تالیف و ترکیب کی وجہ سے۔ (آیت) ” ولکن تصدیق الذی بین یدیہ “۔ کسائی، فراء اور محمد بن سعدان نے کہا ہے : تقدیر عبارت ہے ولکن کان تصدیق (بلکہ یہ تصدیق کرنے والا ہے) (آیت) ” الذی بین یدیہ) (اس وحی کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہے) یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتب، کیونکہ انہوں نے اس کی بشارت دی اور یہ اس بشارت میں اور توحید اور قیامت کے ساتھ ایمان لانے کی دعوت میں ان کی تصدیق کرنے والا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے بلکہ یہ تو اس نبی کی تصدیق کرنے والا ہے جو قرآن سے پہلے آیا ہے اور وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں کیونکہ انہوں نے آپ کو مشاہدہ کیا ہوا تھا، اس سے پہلے کہ وہ آپ سے قرآن سنتے۔ (آیت) ” و تفصیل “ میں نصب اور رفع دونوں جائز ہیں انہی دو وجہوں کی بنا پر جو تصدیق میں مذکور ہیں۔ اور التفصیل کا معنی تبیین (وضاحت کرنا) ہے، یعنی قرآن کریم اس کی وضاحت کرتا ہے، جو کچھ اللہ تعالیٰ نے سابقہ کتابوں میں لکھا، اور الکتاب اسم جنس ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ تفصیل الکتاب سے مراد وہ ہے جو قرآن کریم میں احکام کی وضاحت کی گئی ہے۔ (آیت) ” لا ریب فیہ “ اس میں ہاضمیر قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی قرآن کریم میں کوئی شک نہیں یعنی اس کے اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونے میں کوئی شک نہیں۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

آیت نمبر : 38۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افترہ “۔ یہاں ام ہمزہ استفہام کے محل میں ہے، کیونکہ یہ اپنے ماقبل کے ساتھ متصل ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ ام منقطعہ ہے جو بل اور ہمزہ کے معنی کے ساتھ مقدر ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” الم، تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین ام یقولون افترہ “۔ (السجدہ) ای بل ایقولون افتراہ (بلکہ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اسے گھڑ لیا ہے) اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : ام بمعنی واؤ ہے، اور یہ جائز ہے : ویقولون افتراہ (اور وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اسے گھڑ لیا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ میم صلہ ہے اور تقدیر کلام ہے : ایقولون افتراہ، ای اختلق محمد القرآن من قبل نفسہ “ (کہ محمد ﷺ نے قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے) پس یہ استفہام تقریع اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” قل فاتوا بسورۃ مثلہ “۔ کلام کا معنی حجت بیان کرنا ہے، کیونکہ پہلی آیت اس پر دلیل ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، کیونکہ یہ اپنے سے پہلے ہونے والی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے ساتھ موافقت کرتا ہے بغیر اس کے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہو۔ اور یہ آیت ان پر لازم کر رہی ہے کہ وہ اس کی مثل ایک سورت لے آئیں اگر یہ گھڑا ہوا ہے، اور قرآن کریم کے اعجاز کے بارے میں کلام پہلے مقدمۃ الکتاب میں گزر چکی ہے، کہ یہ معجز ہے۔ والحمد للہ۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

آیت نمبر : 39۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” بل کذبوا بمالم یحیطو بعلمہ “۔ یعنی انہوں نے قرآن کو جھٹلایا اور وہ اس کے معانی اور اس کی تفسیر سے جاہل اور ناواقف تھے اور ان پر لازم ہے کہ وہ اسے سوال کے ذریعے جانیں، پس یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ واجب ہے کہ تاویل میں غور وفکر کی جائے، اور قولہ تعالیٰ : ولما یاتھم تاویلہ “۔ یعنی ان پر عذاب نازل ہو کر جھٹلانے کے انجام کی حقیقت ظاہر نہیں ہوئی یا انہوں نے اسے جھٹلایا جو موت کے بعد اٹھائے جانے، جنت اور دوزخ کے ذکر میں سے قرآن کریم میں موجود ہے اور جوان کے لیے کتاب میں وعید کی گئی اس کی حقیقت ان کے پاس نہیں آئی، یہ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے، اور حسین بن فضل سے پوچھا گیا : کیا تم قرآن کریم میں یہ پاتے ہو (جو کسی شی سے جاہل ہو وہ اس کا دشمن ہوتا ہے) ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، یہ دو مقام پر ہے : (آیت) ” بل کذبوا بمالم یحیطو بعلمہ “۔ اور ایک قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” واذلم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم “۔ (الاحقاف) (اور کیونکر انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوئی قرآن سے تو اب ضرور کہیں گے کہ (اجی) یہ تو وہی پرانا جھوٹ ہے) (آیت) ” کذلک کذب الذین من قبلھم “۔ اس میں مراد گزشتہ امتیں ہیں (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 158) یعنی جیسے ان کا طریقہ تھا، اور کاف محل نصب میں ہے۔ (آیت) ” فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین “۔ یعنی کیسے انہیں ہلاکت اور عذاب نے پکڑ لیا (اس میں دیکھ لو)
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

آیت نمبر : 40۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من یؤمن بہ “۔ کہا گیا ہے : اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یعنی ان میں سے کچھ مستقبل میں آپ کے ساتھ ایمان لائیں گے اگرچہ ان کی تکذیب طویل ہوجائے، کیونکہ ان کے بارے میں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ انہیں یہ سعادت حاصل ہوگی۔ اور من مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور خبر جارومجرور ہے، اور اسی طرح یہ بھی ہے (آیت) ” ومنھم من لایؤمن بہ “ اور اس کا معنی ہے اور ان میں سے کچھ اپنے کفر پر مصر رہیں گے یہاں تک کہ مر جائیں گے، جیسا کہ ابو طالب، ابو لہب وغیرہما، اور بعض نے کہا ہے : مراد اہل کتاب ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام کفار کے لیے عام ہے، اور یہی صحیح ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک بہ میں ضمیر حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ اس نے سزا اور عذاب کو مؤخر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان میں سے کچھ عنقریب ایمان لے آئیں گے۔ (آیت) ” وربک اعلم بالمفسدین “۔ یعنی آپ کا رب انہیں خوب جانتا ہے جو اپنے کفر پر اصرار کر رہے ہیں، اور یہ ان کے لیے تہدید اور جھڑک ہے۔
Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

آیت نمبر : 41۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان کذبوک فقل لی عملی، عملی مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور اس کا معنی ہے : تبلیغ کرنے، ڈرانے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بارے میں میرے عمل کا ثواب میرے لیے ہے۔ (آیت) ” ولکم عملکم “۔ اور تمہارے عمل شرک وغیرہ کی جزا تمہارے لیے ہے۔ (آیت) ” انتم بریؤن مما اعمل وانا بریء مما تعملون “۔ اس کی مثال یہ ہے، یعنی کسی ایک سے دوسرے کے گناہ کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ آیت آیت السیف سے منسوخ ہے۔ یہ حضرت مجاہد (رح)، کلبی، مقاتل، اور ابن زید کے قول میں ہے۔
Ayahs 10:42–43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

آیت نمبر : 42 تا 43۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من یستمعون الیک “۔ مراد ان کے ظواہر ہیں۔ اور ان کے دل تو اس میں سے کسی چیز کو محفوظ نہیں کرتے جو آپ انہیں حق میں سے کہتے ہیں اور جو قرآن کریم میں سے ان پر تلاوت کرتے ہیں، اسی لیے فرمایا ہے : (آیت) ” افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون “۔ ای لا تسمع (یعنی آپ نہیں سناتے) کلام میں بظاہر استفہام ہے لیکن اس کا معنی نفی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دلوں پر مہر لگ جانے کی وجہ سے بہروں کی مانند بنا دیا، یعنی آپ اسے ہدایت دینے پر قدرت نہیں رکھتے جسے ہدایت کی بات سننے سے اللہ تعالیٰ نے بہرہ کردیا ہو، اور اسی طرح معنی اس میں بھی ہے : (آیت) ” ومنھم من ینظر الیک افانت تھدی العمی ولو کانوا لا یبصرون “۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ کوئی بھی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا (1) (تفسیر الطبری، زیر آیت، ہذہ) یہ اور جو کلام اس کی مثل ہو وہ قدریہ کے اقوال کا رد کرتا ہے، جب کہ کئی مقامات پر گزر چکا ہے، اور فرمایا ہے : یستمعون “ تو یہ من کے اعتبار سے ہے اور ینظر، من کے لفظ کے اعتبار سے ہے اور مراد حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی جس طرح آپ اسے سنانے کی جرات نہیں رکھتے جس کی قوت سماعت سلب کرلی گئی ہو اور آپ یہ قدرت نہیں رکھتے کہ اندھے کے لیے بصارت کو پیدا کردیں کہ وہ اس کے ساتھ رہنمائی حاصل کرسکے، پس اسی طرح آپ ان کو ایمان کی توفیق دینے کی قدرت نہیں رکھتے اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے فیصلہ کردیا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور (آیت) ” ینظر الیک “ کا معنی ہے یعنی وہ مسلسل آپ کی طرف دیکھتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” ینظرون الیک تدورا اعینھم کالذی یغشی علیہ من الموت “۔ (الاحزاب : 19) (کہ وہ آپ کی طرف یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرا رہی ہوتی ہیں اس شخص کی مانند جس پر موت کی غشی طاری ہو) کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت استہزا کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

آیت نمبر : 44۔ جب شقی (اور بدبخت) لوگوں کا ذکر کیا تو ساتھ ہی یہ ذکر بھی کیا کہ اس نے ان کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا اور یہ کہ ان پر شقاوت کا چھا جانا اور دل کی سماعت اور بصارت کا سلب ہوجانا اس کی طرف سے ظلم اور زیادتی نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف کرسکتا ہے اور وہ اپنے جمیع افعال میں عادل ہے۔ (آیت) ” ولکن الناس انفسھم یظلمون “۔ لیکن لوگ اپنے نفسوں پر کفر، معصیت اور اپنے خالق کے حکم کی مخالفت کرکے ظلم کرتے ہیں (1) (تفسیر الطبری، زیر آیت ہذہ) حمزہ اور کسائی نے (آیت) ” مخفف اور (آیت) ” الناس “ کو مرفوع پڑھا ہے، نحاس نے کہا ہے : نحویوں کی جماعت جس میں فراء بھی ہیں ان کا خیال ہے کہ عرب جب کہیں ولکن واؤ کے ساتھ تو تشدید کو ترجیح دیتے ہیں (یعنی ولکن پڑھتے ہیں) اور جب واؤ کو حذف کردیں تو تخفیف کو ترجیح دیتے ہیں (یعنی لکن پڑھتے ہیں) اور اس میں علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ جب بغیر واؤ کے ہو تو یہ بل کے مشابہ ہوتا ہے پس انہوں نے اسے مخفف کردیا تاکہ اس کا مابعد کی طرح ہوجائے اور جب یہ واؤ کے ساتھ آئے تو بل کے مخالف ہوتا ہے پس انہوں نے اسے مشدد کردیا اور اس کے ساتھ (مابعد کو) نصب دی، کیونکہ یہ ان ہے جس پر لام اور کاف کا اضافہ کیا گیا ہے اور اسے ایک حرف بنا دیا گیا ہے اور شاعر کا قول ہے : ولکننی من حبھا لعمید : پس لعمید لام کے ساتھ ہے، کیونکہ (لکن) اصل میں ان ہے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

آیت نمبر : 45۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا “۔ یہ بمعنی کا نھم ہے پھر اسے مخفف کردیا گیا، یعنی گویا کہ وہ اپنی قبروں میں نہیں ٹھہرے، (آیت) ” الا ساعۃ من النھار “۔ یعنی دن کی ایک گھڑی کی مقدار، مراد یہ ہے کہ وہ قبروں میں اپنے طویل قیام کو اس خوف اور ڈر کی وجہ سے کم اور قلیل سمجھیں گے جو خوف دوبارہ اٹھائے جانے کے سبب وہ دیکھ رہے ہوں گے، اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے : (آیت) ” لبثنا یوم اوبعض یوم “۔ (الکہف : 19) (ہم ٹھہرے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک دنیا میں ان کے ٹھہرنے کی مدت اس ہول اور خوف سے کم ہے جو انہیں مستقبل میں ہوگا نہ کہ ان کے قبروں میں ٹھہرنے کی مدت۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اپنی عمروں کی طوالت کو خلود (اور دوام) کے مقابلہ میں ایک گھڑی کی مثل دیکھیں گے۔ (آیت) ” یتعارفون بینھم “ یہ یحشرھم میں ہا اور میم (ہم) سے حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ (اس سے) منقطع ہو اور گویا یہ فرمایا : فھم یتعارفون (پس وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے) کلبی (رح) نے کہا ہے : ان میں سے بعض بعض کو پہچان لیں گے جیسا کہ وہ دنیا میں پہچانتے تھے جب وہ اپنی قبور سے نکلیں گے اور یہ تعارف زجر وتوبیخ اور ذلت ورسوائی کا تعارف ہوگا۔ ان میں سے بعض بعض کو کہیں گے : تو نے مجھے گمراہ کیا تھا اور تو نے مجھے بھٹکایا تھا اور تو نے مجھے، کفر پر ابھارا تھا، یہ شفقت، نرمی اور مہربانی ورحم کا تعارف نہیں ہوگا، پھر معرفت اور پہچان ختم ہوجائے گی جب قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو دیکھیں گے جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” ولا یسئل حمیم حمیما “۔ (المعارج) (اور کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کا حال نہ پوچھے گا) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زجر وتوبیخ کا تعارف باقی رہے گا اور یہی صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ولو تری اذا الظلمون موقوفون۔۔۔۔۔۔ تاقولہ۔۔۔۔۔۔ وجعلنا الا غلل فی اعناق الذین کفروا “۔ (سبا) (کاش ! تم (وہ منظر) دیکھو جب یہ ظالم کھڑے ہوجائیں گے اپنے رب کے روبرو۔۔۔۔۔ اور ہم ڈال دیں گے طوق ان لوگوں کی گردنوں میں جنہوں نے کفر کیا (خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے) اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کلما دخلت امۃ لعنت اختھا “۔ الآیہ (الاعراف : 38) (جب بھی داخل ہوگی کوئی امت وہ لعنت بھیجے گی دوسری امت پر) اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ربنا انا اطعنا سادتنا وکبرآء نا “۔ الآیہ (الاحزاب : 67) (اے ہمارے رب ! ہم نے پیروی کی اپنے سرداروں کی اور اپنے بڑے لوگوں کی) اور رہا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : (آیت) ” ولا یسئل حمیم حمیم “۔ (المعارج) اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم “۔ (المومنون : 101) (تو جب صور پھونکا جائے گا تو کوئی رشتہ داریاں نہ رہیں گی ان کے درمیان) تو اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی رحمت و شفقت کا سوال اس سے نہیں پوچھے گا، واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت کے کئی مقامات اور جگہیں ہیں (ان کے احکام مختلف ہوں گے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” یتعارفون “ کا معنی ” یتسالون “ ہے، یعنی وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے تم کتنی مدت ٹھہرے ہو، جیسا کہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “۔ (الصافات) (اور متوجہ ہوں گے ایک دوسرے کی طرف (اور) سوال جواب کریں گے) اور یہ اچھا ہے، اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : یہ مومنین کے ایک دوسرے پر مہربان ہونے اور رحم کرنے کا تعارف ہے۔ اور کافروں پر کوئی مہربانی اور رحم نہیں ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” فلا انساب بینھم “۔ (المومنون : 101) اور پہلا قول زیادہ واضح اور ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : قد خسر الذین کذبوا بلقآء اللہ “۔ وہ لوگ گھاٹے میں رہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے کو جھٹلایا، پھر کہا گیا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب کی جانب سے خبر ہو بعث ونشور پر دلالت کرنے کے بعد، یعنی وہ جنت کے ثواب سے محروم ہوگئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے کی حالت میں خسارے میں رہے، کیونکہ خسارہ اس حالت میں ہوتا ہے جس میں اقالہ کی امید نہ ہو اور نہ ہی توبہ اور نفع دے۔ نحاس نے کہا ہے : اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی (آیت) ” یتعارفون بینھم “۔ ہو وہ یہ کہتے ہیں۔ (آیت) ” ماکانوا مھتدین “۔ مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہدایت یافتہ نہ تھے۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

آیت نمبر : 46۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واما نرینک “۔ یہ شرط ہے۔ (آیت) ” بعض الذی نعدھم “۔ یعنی آپ کی حیات میں آپ کے دین کو غالب کرنے کا (جو وعدہ ہم نے کیا ہے) اور مفسرین نے کہا ہے : وہ بعض جس کا ان کے ساتھ وعدہ تھا وہ ان کے قتل اور قید کا تھا جو بدر میں قتل کردیئے گئے اور قیدی بنالیے گئے۔ (آیت) ” اونتوفینک “ اس کا عطف (آیت) ” نرینک “ پر ہے یعنی یا ہم آپ کو اس سے پہلے اٹھا لیں۔ (آیت) ” فالینا مرجعھم “۔ یہ اما کا جواب ہے اور مقصود یہ ہے اگر آپ ان سے جلدی انتقام نہیں لیا تو ہم نے ان سے تاخیر کے ساتھ انتقام لے لیا۔ (آیت) ” ثم اللہ شھید “۔ یعنی اللہ تعالیٰ شاہد (گواہ) ہے جو کسی شاہد کا محتاج نہیں (آیت) ” علی ما یفعلون “ اس پر جو وہ آپ کے ساتھ جنگ اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور اگر کہا جائے : (آیت) ” ثم اللہ شھید “ بمعنی ھناک (پھر اللہ تعالیٰ وہاں گواہ ہوگا) یہ بھی جائز ہے۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

آیت نمبر : 47۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولھم قضی بینھم بالقسط “۔ معنی یہ ہوگا : ہر امت کے لیے ایک رسول ہے وہ ان پر شاہد ہوگا، جب ان کا رسول قیامت کے دن آئے گا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس کی مثل یہ ہے (آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید “۔ (النساء : 41) (تو کیا حال ہوگا (ان نافرمانوں کا) جب ہم لے آئیں گے ہر امت سے ایک گواہ) اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کل (قیامت کے دن) کفار اپنے رسولوں کے آنے کا انکار کردیں گے، تو ایک رسول لایا جائے گا اور وہ کہے گا : تحقیق میں نے تم تک پیغام پہنچایا، تو اس وقت ان کے خلاف عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ویکون الرسول علیکم شھید “۔ (البقرہ : 43) (اور (ہمارا) رسول تم پر گواہ ہوگا) اور یہ بھی جائز ہے کہ معنی یہ ہو بیشک وہ دنیا میں عذاب نہیں دیئے جائیں گے یہاں تک کہ وہ ان کی طرف رسول بھیجے پس جو ایمان لایا وہ کامیاب ہوا اور نجات پا گیا اور جو ایمان نہ لایا وہ ہلاک ہوگیا اور اسے عذاب دیا گیا، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (الاسرائ) (اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم نے بھیجیں کسی رسول کو) اور القسط کا معنی عدل ہے۔ (آیت) ” وھم لا یظلمون “ یعنی بغیر گناہ کے نہ انہیں عذاب دیا جائے گا اور نہ بغیر حجت کے ان کا مواخذہ کیا جائے گا۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

آیت نمبر : 48۔ مراد کفار مکہ ہیں کیونکہ وہ اپنے انکار کی زیادتی اور اپنے لیے عذاب کے جلدی آنے کی طلب میں یہ کہتے تھے : عذاب کب آئے گا یا وہ قیامت کب آئے گی جس کے بارے محمد ﷺ ہم سے وعدہ کرتے ہیں ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ عام ہے ہر اس امت کو جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

آیت نمبر : 49۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل لا املک لنفسی ضرا ولا نفعا “۔ جب انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا : اے محمد ﷺ آپ انہیں فرما دیجئے میں اپنے آپ کے لیے ضرر کا اور نہ نفع کا مالک نہیں ہوں، یعنی اس کی ملکیت نہ اپنے لیے ہے اور نہ اپنے سوا کسی اور کے لیے۔ (آیت) ” الا ما شآء اللہ “۔ مگر جتنا اللہ تعالیٰ چاہے کہ میں اس کا مالک ہوں اور اس پر قادر ہوں، تو میں کیسے قادر ہو سکتا ہوں کہ میں اس کا مالک بنوں جس کے جلدی آنے کا تم نے مطالبہ کیا پس تم جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔ (آیت) ” لکل امۃ اجل “۔ یعنی ہر قوم کی ہلاکت اور اس پر عذاب آنے کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علم میں ایک معین وقت ہے۔ (آیت) ” اذا جآء اجلھم “۔ جب ان کی میعاد گزرنے کے ساتھ وہ معین وقت آئے گا۔ (آیت) ” فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “۔ تو پھر ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا، کہ وہ دنیا میں باقی رہتے ہوئے ایک لمحہ بھی پیچھے رہ سکیں اور نہ وہ آگے بڑھ سکیں گے پس انہیں مہلت دی جارہی ہے۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

آیت نمبر : 50۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتا اونھارا “۔ یہ دو ظرفیں ہیں۔ اور یہ ان کے اس قول کا جواب ہے : (آیت) ” متی ھذا الوعد “۔ (یونس : 48) اور یہ ان کے عذاب کے جلدی آنے کے مطالبہ میں ان کی آراء کی بےوقوفی اور احمقانہ پن ہے، یعنی اگر تم پر عذاب آجائے تو اس میں تمہارا نفع کیا ہے اور اس وقت ایمان تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکے گا۔ (آیت) ” ماذا یستعجل منہ المجرمون “۔ یہ استفہام بمعنی تہویل وتعظیم ہے، یعنی کتنی بڑی اور عظیم ہے وہ شے جس کے جلدی آنے کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، جیسے اس کے لیے کہا جاتا ہے جو ایسے امر کا مطالبہ کرتا ہو جس کا انجام مضر ہو : تو اپنے خلاف کون سی چیز چن رہا ہے ؟ منہ میں ضمیر کے بارے بعض نے کہا ہے : وہ عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے، اور بعض نے کہا ہے : وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے، نحاس نے کہا ہے : اگر تو منہ میں ھاء ضمیر کو بنائے کہ وہ عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے تو پھر تیرے لیے ماذا میں دو تقدیریں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مامبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہو اور ذا بمعنی الذی ہو اور وہ ما کی خبر ہو اور ضمیر عائد محذوف ہو۔ اور دوسری تقدیر یہ ہے کہ ماذا ایک اسم مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہو اور مابعد جملہ اس کی خبر ہو، یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور اگر منہ کی ہا ضمیر کو بنائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسم کی طرف لوٹ رہی ہے تو پھر تو ما اور ذا کو ایک شے بنائے گا اور یہ یستعجل کے سبب محل نصب میں ہوگا، اور اس کا معنی ہوگا : ای شی یستعجل منہ المجرمون من اللہ عزوجل (کون سی شے کو مجرم اللہ تعالیٰ سے جلدی طلب کر رہے ہیں)
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

آیت نمبر : 51۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اثم اذا ما وقع امنتم بہ “۔ آلئن “ اس کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام ہے : اتامنون ان ینزل بکم العذاب ثم یقال لکم اذاحل : الان امنتم بہ ؟ (کیا تم ایمان لاؤگے کہ تم پر عذاب نازل کیا جائے پھر تم تم کو کہا جائے گا جب وہ آجائے : اب تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ گے ؟ کہا گیا ہے : یہ ان کے ساتھ بطور استہزا ملائکہ کا قول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے قول میں سے ہے اور ہمزہ استفہام ثم پر داخل ہوا ہے یہ تقریر وتوبیخ کے لیے ہے اور تاکہ یہ اس پر دلالت کہ دوسرے جملے کا معنی پہلے بعد ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہاں ثم بمعنی ثم (ثا کے فتحہ کے ساتھ) ہے پس یہ ظرف ہوگی اور اس کا معنی ہوگا : اھنالک یہ علامہ طبری کا مذہب ہے (1) (تفسیر طبری سورة یونس : جلد 11، صفحہ 141) اور اس وقت اس میں استفہام کا معنی نہ ہوگا۔ اور الآن کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ اصل میں حان کی مثل فعل مبنی ہے اور پھر اسے اسم کی طرف پھیرنے کے لیے اس پر لام لگایا گیا ہے اور خلیل نے کہا ہے : اسے التقاء ساکنین کی وجہ سے بنایا گیا ہے اور الف لام عہدی ہے اشارہ وقت کی طرف ہے، اور یہ دو زمانوں کی حد ہے۔ (آیت) ” وقد کنتم بہ “۔ تم تو اس عذاب کے لیے (آیت) ” تستعجلون “ جلدی مچا رہے تھے۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

آیت نمبر : 52۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم قیل للذین ظلموا “۔ یعنی ان کو جہنم کے داروغے کہیں گے۔ (آیت) ” ذوقوا عذاب الخلد “۔ یعنی چکھو وہ عذاب جو ختم نہیں ہوگا۔ (آیت) ” ھل تجزون الا بما کنتم تکسبون “۔ یعنی تمہارے کفر کا بدلہ تمہیں دیا جائے گا۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

آیت نمبر : 53۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویستنبؤنک “۔ اے محمد ﷺ وہ آپ سے عذاب آنے اور قیامت قائم ہونے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں : (آیت) ” احق “ یہ مبتدا ہے۔ ھو یہ سد مسد الخبر ہے۔ اور سیبویہ کا قول ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ھو مبتدا ہو اور احق خبر ہو، یہ قسم ہے : (آیت) ” انہ لحق “۔ یہ جواب قسم ہے، یعنی بیشک یہ ہونے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں (آیت) ” وما انتم بمعجزین “۔ یعنی تم اس کے عذاب اور اس کے بدلے سے بچ نہیں سکتے۔