Ayah 10:19آیت نمبر : 19۔
اس کا معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے اور اعادہ کی ضرورت نہیں، اور زجاج نے کہا ہے : وہ عرب شرک پر تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے، پھر وہ بالغ ہونے کے وقت مختلف ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون “۔ یہ قضاء وقدر کی طرف اشارہ ہے، یعنی اگر اس کے حکم میں پہلے سے نہ ہوتا کہ وہ ان کے درمیان ان امور میں قیامت سے فیصلہ نہیں کرے گا جن ثواب و عقاب کے اعتبار سے وہ اختلاف کرتے ہیں تو ان کے درمیان دنیا میں فیصلہ کردیا جاتا، پس وہ مومنوں کو ان کے اعمال کے عوض جنت میں اور کافروں کو ان کے اعمال کے بدلے جہنم میں داخل کردیتا، لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے کرتوتوں کا علم رکھنے کے باوجود پہلے ایک مدت مقرر ہے اور اس نے ان کے لیے جائے وعدہ قیامت کو بنا رکھا ہے۔ (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 146 ) ۔ یہ حسن نے کہا ہے۔ اور ابو روق نے کہا ہے : (آیت) ” لقضی بینھم “۔ تو ان پر قیامت قائم کردیتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو وہ ان کی ہلاکت سے فارغ ہوچکا ہوتا۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : الکلمۃ “ ، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مہلت دی ہے کہ وہ انہیں دنیا میں یوم قیامت تک عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں کرے گا، پس اگر یہ مہلت نہ ہوتی تو ان کے درمیان عذاب نازل کرتے یا قیامت قائم کرکے فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ آیت حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے لیے باعث تسلی ہے ان لوگوں سے عذاب کی تاخیر کے بارے میں جنہوں نے آپ کے ساتھ کفر اختیار کیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلمہ سابقہ یہ ہے کہ وہ کسی کو بغیر حجت اور دلیل کے نہیں پکڑے گا اور وہ رسولوں کو بھیجنا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (الاسرائ)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الکلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : سبقت رحمتی غضبی (1) (صحیح بخاری کتاب الوحید، جلد 2، صحہ 1127)
(میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے) اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ گنہگاروں کو توبہ کی مہلت نہ دیتا، اور عیسیٰ نے لقضی کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 10:20آیت نمبر : 20۔
مراد ہل مکہ ہیں، یعنی کیوں نہ نازل کی گئی ان پر کوئی آیت یعنی معجزہ جو اس معجزہ کے سوا ہوتا کہ وہ ہمارے پہاڑوں کو سونا بنا دے اور اس کے لیے انتہائی خوبصورت (سونے کا) گھر ہو اور ہمارے لیے انہیں زندہ کرے جو ہمارے آباء و اجداد میں سے مر چکے ہیں، اور ضحاک (رح) نے کہا ہے : مراد عصا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا تھا (یعنی ایسا معجزہ کیوں نہ نازل کیا گیا) (آیت) ” فقل انما الغیب للہ “۔ یعنی آپ فرما دیجئے اے محمد ﷺ بیشک آیت کا نازل ہونا غیب ہے، (آیت) ” فانتظروا “۔ پس تم انتظار کرو۔ (آیت) ” انی معکم من المنتظرین “۔ بیشک میں بھی اس کے نازل ہونے کا تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : حق کو باطل پر غالب کرنے کے بارے ہمارے درمیان تم اللہ تعالیٰ کا فیصلے کا انتظار کرو۔
Ayah 10:21آیت نمبر : 21۔
مراد کفار مکہ ہیں : (آیت) ” رحمۃ من بعد ضرآء مستھم “۔ کہا گیا ہے : مراد سختی اور تنگی کے بعد آسودگی اور خوشحالی کا آنا ہے اور خشک سالی کے بعد شادابی کا آنا ہے (2) (تفسیر ماوردی، سورة ، جلد 11، صفحہ 429)
(آیت) ” اذا لھم مکر فی ایاتنا “۔ اس میں مکر سے مراد استہزاء اور تکذیب ہے، (تو فورا وہ ہماری آیتوں کے ساتھ استہزا اور ان کی تکذیب کرنے لگتے ہیں) اور خلیل اور سیبویہ کے قول کے مطابق (آیت) ” واذا اذقنا “ کا جواب (آیت) ” اذالھم “۔ ہے۔ (آیت) ” قل اللہ اسرع “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے۔ (آیت) ” مکرا “ یہ بیان ہونے کی بنا پر منصوب ہے، یعنی وہ ان کے مکروفریب کی جزا کے طور پر سزا دینے میں بہت جلدی کرنے والا ہے، یعنی جو کچھ انہوں نے مکروفریب سے کیا اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ انہیں ہلاک کرنے کے لیے وہ ان پر عذاب لا سکتا ہے۔ (آیت) ” ان رسلنا یکتبون ما تمکرون “۔ یہاں رسل سے مراد کراما کاتبین ہیں۔ اور قرات عامہ تمکرون تا خطاب کے ساتھ ہے اور یعقوب نے ارویس کی روایت میں اور ابو عمرو نے ہارون العس کی کی روایت میں یمکرون یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس قول کی وجہ سے : (آیت) ” اذالھم مکر فی ایاتنا “۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو سفیان نے عرض کی : آپ کی دعا سے ہم پر قحط مسلط کردیا گیا ہے پس اگر آپ ہمیں سیراب کردیں تو ہم آپ کی تصدیق کردیں گے پس آپ ﷺ کے بارش کی دعا کرنے کے ساتھ انہیں بارش عطا کردی گئی لیکن وہ ایمان نہ لائے پس یہی ان کا مکر اور دھوکا تھا۔
Ayahs 10:22–23آیت نمبر : 22 تا 23۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وھو الذی یسیرکم فی البروالبحر، حتی اذا کنتم فی الفلک، وجرین بھم “۔ یعنی وہ تمہیں خشکی میں چوپاؤں پر اور سمندر میں کشتیوں پر سوار کرتا ہے اور کلبی (رح) نے کہا ہے : وہ سیر میں تمہارے حفاظت کرتا ہے، اور یہ آیت ان نعمتوں کے شمار کرنے کو متضمن ہے جو اس کے راستے میں لوگوں کو جانوروں پر اور سمندر میں سوار کرنے میں سے پائی جاتی ہیں۔ سمندر میں سوار ہونے کے بارے میں کلام سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور (آیت) ” یسیرکم “۔ قرات عامہ ہے۔ ابن عامر نے ینشرکم نون اور شین کے ساتھ قراءت کی ہے، یعنی وہ تمہیں پھیلاتا ہے اور متفرق کردیتا ہے، اور الفلک کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے اور اسے مذکر اور مونث دونوں طرح لایا جاتا ہے، اور اس کے بارے گفتگو پہلے گزر چکی ہے، اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجرین بھم “۔ یہ خطاب سے غیب کی طرف خروج ہے اور قرآن کریم اور اشعار عرب میں ایسا کثرت سے موجود ہے جیسا کہ نابغہ نے کہا ہے :
یا دارمیۃ بالعلیاء فالسند اقوت وطال علیھا سالف الامد :
ابن انباری نے کہا ہے : لغت میں یہ جائز ہے کہ غیب کے خطاب سے صراحۃ لفظ خطاب کی طرف رجوع کیا جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” وسقھم ربھم شرابا طھورا “۔ ان ھذا کان لکم جزآء وکان سعیکم مشکورا “۔ (الدہر) (اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ شراب (انہیں کہا جائے گا) یہ تمہارا صلہ ہے اور (مبارک ہو) تمہارے کوششیں مقبول ہوئیں) تو اس میں کاف کو ہاف کے بدلے لایا گیا ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” بریح طیبۃ وفرحوا بھا “۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ (آیت) ” جآء تھا ریح عاصف “۔ جا تھا من ہا ضمیر سفینہ (کشتی) کے لیے ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مرجع ریح طیبۃ ہے۔ اور العاصف کا معنی شدید اور تندوتیز (ہوا) ہے کہا جاتا ہے : عصفت الریح واعصفت، فھی عاصف ومعصف ومعصفہ ای شدیدۃ (یعنی شدید آندھی) شاعر کا قول ہے :
حتی اذا اعصفت ریح مزعزعۃ فیھا قطار ورعد صوتہ زجل : (1) (تفسیر طبری، سورة ، جلد 11، صفحہ 117)
اور فرمایا : عاصف مذکر لایا گیا ہے کیونکہ لفظ ریھ مذکر ہے اور یہی قاصف (ہر شے کو توڑنے والی) بھی ہے، اور طیبہ سے مراد ایسی ہوا ہے جو نہ تندوتیز ہو اور نہ انتہائی سست ہو۔ (آیت) ” وجآء ھم الموج من کل مکان “۔ موج سے مراد وہ لہر ہے جو پانی سے اٹھتی ہے۔ (آیت) ” وظنوا “۔ یعنی وہ یقین کرلیں۔ (آیت) ” انھم احیط بھم “۔ کہ انہیں مصیبت اور آزمائش نے گھیر لیا ہے۔ جو کوئی کسی مصیبت اور آزمائش میں واقع ہوجائے تو کہا جاتا ہے : قد احیط بہ گویا آزمائش اور مصیبت نے اسے گھر لیا ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ دشمن جب کسی جگہ کو گھیر لے اور وہاں کے رہنے والے ہلاک ہوجائیں۔ (آیت) ” دعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ یعنی اس وقت صرف اکیلے اسی کو پکارتے ہیں اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں جن کی پرستش کررہے ہوتے ہیں، اس میں اس پر دلیل ہے کہ مخلوق کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے کہ وہ شدائد اور مصائب میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے اور یہ کہ مضطر (مجبور محض) کی دعا کو قبول کرلیا جاتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو، اس لیے کہ اس کے اسباب ختم ہوچکے ہیں اور اس نے وحدہ لاشریک رب الارباب کی طرف رجوع کرلیا جیسا کہ اس کا بیان سورة النمل میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ اور بعض مفسرین نے کہا ہے : بیشک انہوں نے اپنید عا میں اھیا شراھیا یعنی یا حی یا قیوم کہا ہے اور یہ عجم کی لغت ہے۔
مسئلہ : یہ آیت مطلق سمندر میں سوار ہونے پر دلالت کرتی ہے اور سنت سے ثابت ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے : بیشک ہم سمندر ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی بھی اٹھا لیتے ہیں (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 3، صفحہ : 1048) الحدیث اور ام حرام کے قصہ میں حضرت انس ؓ کی حدیث جنگ کے دروران سمندر میں سوار ہونے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ یہ مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے اور اعراف کے آخر میں سمندر کے موجیں مارنے اور اس میں طوفان آنے کی حالت میں اس میں سوار ہونے والے کا حکم گزر چکا ہے کیا اس کا حکم تندرست آدمی کا حکم ہے یا اس مریض کا جس کو روک دیا گیا ہے ؟ وہاں اس میں غور کرلو۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لئن انجیتنا من ھذہ “۔ اگر تو ہمیں بچا لے اس شدید طوفان اور ہولناکی سے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : اس ہوا سے۔ (آیت) ” لنکونن من الشکرین “ تو ہم یقینا اس نجات اور خلاصی پانے کی نعمت پر شکر بجا لاتے ہوئے تیری اطاعت وفرمانبرداری میں عمل کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ (آیت) ” فلما انجھم “۔ پس جب وہ انہیں بچا لیتا ہے، اور خلاصی عطا فرما دیتا ہے۔ (آیت) ” اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق “۔ تو پھر وہ زمین میں فساد اور معاصی کا عمل ہی کرتے ہیں۔ اور البغی کا معنی فساد اور شرک ہے : یہ بغی الجرح سے ہے جب زخم فاسد اور خراب ہوجائے۔ اس کا اصل معنی طلب ہے یعنی وہ فساد برپا کر کے غلبہ چاہتے ہیں۔ (آیت) ” بغیر الحق “۔ یعنی جھٹلانے کے ساتھ۔ اور اسی سے بغت المراۃ ہے جب عورت خاوند کے سوا کسی اور کی خواہش کرے (یعنی زنا کا ارتکاب کرے)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “۔ یعنی اس کا وبال تم پر ہی لوٹ کر آئے گا، یہاں کلام مکمل ہوگئی، پھر کلام کا آغاز کیا اور فرمایا : (آیت) ” متاع الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی یہ دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے، اس کے لیے کوئی بقا نہیں ہے، نحاس نے کہا ہے : (آیت) ” بغیکم مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور اس کی خبر (آیت) ” متاع الحیوۃ الدنیا ہے اور (آیت) ” علی انفسکم “۔ البغی کے فعل کے معنی کا مفعول ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کی خبر (آیت) ” علی انفسکم “۔ اہو اور مبتدا مضمر ہو یعنی ذالک متاع الحیاۃ الدنیا یا ھو متاع الحیاۃ الدنیا اور دونوں معنوں کے درمیان انتہائی لطیف اور باریک سا فرق ہے، جب تو متاع کو (آیت) ” بغیکم “ کی خبر ہونے کی وجہ سے رفع دے تو معنی یہ ہوگا : بیشک تم میں سے بعض کا وبال بعض پر پڑھے گا۔ مثلا (آیت) ” فسلموا علی انفسکم “۔ (النور : 61) (تم سلامتی کی دعا دو اپنوں کو) اور اسی طرح (آیت) ” لقدم جآء کم رسول من انفسکم “۔ (التوبہ : 128) (بےشک تشریف لایا ہے تمہارے پاس ایک برگزیدہ رسول تم میں سے) اور جب خبر (آیت) ” علی انفسکم “۔ ہو تو معنی ہوگا بےتمہارا فساد تمہیں پر لوٹے گا۔ جیسا کہ (آیت) ” وان اساتم فلھا (لا اسراء : 7)
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ارادہ یہ کیا ہے کہ فساد دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے، یعنی اس کی سزا دنیا میں اس کے مالک کے لیے جلدی آتی ہے جیسے کہا جاتا ہے : البغی مصرعۃ (فساد تو بچھاڑ ہے) اور ابن ابی اسحاق نے متاع کو منصوب پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ مصدر ہے، یعنی تم دنیوی زندگی سے انتہائی لطف اندوز ہوتے ہو یا پھر حرف جر کے حذف کی وجہ سے منصوب ہے اصل میں لمتاع تھا یا یہ مصدر ہے اور حال ہونے کی بنا پر بمعنی مفعول ہے۔ ای متمتعین یا یہ ظرف کی بنا پر منصوب ہے، یعنی فی متاع الحیاۃ الدنیا اور ظرف، جار مجرور اور حال کا متعلق البغی میں فعل کا معنی ہے اور (آیت) ” علی انفسکم “۔ اس معنی کا مفعول ہے۔
Ayah 10:24آیت نمبر : 24۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا کمآء انزلنہ من السمآء “۔ آیت کے معنی میں تشبیہ اور تمثیل ہے، یعنی دنیوی زندگی اپنے فناہ ہونے، زوال پذیر ہونے، اپنے رتبہ کے کم ہونے اور اس پر فخر کرنے کے اعتبار سے پانی کی مثل ہے، پس آیت میں کاف رفع کے محل میں ہے، اس تشبیہ کا مزید بیان سورة الکہف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ :
(آیت) ” انزلنہ من السمآء “۔ یہ ماء کی صفت ہے : (آیت) ” فاختلط “۔ حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (آیت) ” فاختلط “۔ پر وقف کیا ہے یعنی پانی زمین کے ساتھ مل گیا، پھر ابتدا کی۔ (آیت) ” بہ نبات الارض “۔ یعنی پانی کے ساتھ زمین کی سرسبزی ہے۔ پس زمین نے طرح طرح کی نباتات نکالیں، پس اس بنا پر نبات مبتدا ہے اور اس کے مطابق جنہوں نے (آیت) ” فاختلط “۔ پر وقف نہیں کیا نبات اختلط کے سبب مرفوع ہے یعنی نباتات بارش کے ساتھ مل گئیں یعنی نباتات بارش سے سیراب ہوئیں اور نمی حاصل کی، خوبصورت ہوئی اور خوب سرسبزوشاداب ہوکراگی اور اختلاط کا معنی ہوتا ہے ایک چیز کا آپس میں ایک دوسرے کے اندر داخل ہوجانا۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” مما یا کل الناس “۔ جس سے انسان بھی کھاتے ہیں مثلا دانے (اناج) پھل اور سبزیاں (آیت) ” والانعام “۔ اور حیوان بھی، مثلا گھاس، بھوسہ اور جو وغیرہ، (آیت) ” حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “۔ یہاں تک کہ جس زمین نے اپنا حسن اور اپنا سنگار لے لیا، اور الزخرف کا معنی ہے کسی شے کا حسن و کمال اور اسی وجہ سے سونے کو بھی زخرف کہا گیا ہے۔ (آیت) ” وازینت “۔ یعنی وہ دانوں، پھلوں اور پھولوں کے ساتھ خوب آراستہ ہوگئی، یہ لفظ اصل میں تزینت ہے اس میں تا کو زا میں ادغام کیا گیا ہے اور ابتدا میں ہمزہ وصل لایا گیا ہے، کیونکہ حرف مدغم قائم مقام دو حرفوں کے ہوتا ہے ان میں سے پہلا ساکن ہوتا ہے اور ساکن سے ابتدا ممکن نہیں ہوتی، اور حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابی بن کعب رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے وتزینت اصل کے مطابق پڑھا ہے، اور حسن، اعرض، اور ابو العالیہ نے وازینت پڑھا ہے یعنی غلہ اور کھیتی اس پر زینت اور سنگار لائی۔ اور یہ فعل کو اپنے اصل کے مطابق لائے ہیں اگرچہ اس کی تعلیل کی ہے اور کہا ہے : وازانت، اور عوف بن ابی جمیلہ اعرابی نے کہا ہے : ہمارے اشیاخ نے واز یانت پڑھا ہے اس کا وزن اسوادت ہے۔ اور مقدمی کی روایت میں وازاینت ہے اور اس میں اصل تزاینت ہے، اس کا وزن تقاعست ہے پھر اس میں ادغام کیا گیا ہے، اور حضرت شعبی اور قتادہ (رح) نے وازینت، افعلت کی مثل پڑھا ہے اور ابو عثمان نہدی (رح) نے وازینت، افعلت کی مثل پڑھا ہے، اور ان سے وازیانت، افعالت کی مثل بھی ہے اور ان سے ازیانت ہمزہ کے ساتھ بھی مروی ہے، یہ تین قراءتیں ہیں۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وظن اھلھا “۔ اور اس کے ماملکوں نے یقین کرلیا۔ (آیت) ” انھم قدرون علیھا “۔ کہ اب وہ اس کے کاٹنے اور اس سے نفع اٹھانے پر قادر ہیں، زمین کے بارے خبر دی ہے اور اس سے مقصود نباتات ہے جب اس کو سمجھا گیا اور وہ اسی سے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضمیر غلہ کی طرف لوٹ رہی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زینت کی طرف لوٹ رہی ہے۔ (آیت) ” اتھا امرنا “۔ تو اس پر اچانک ہمارا عذاب آپڑا یا اسے ہلاک کرنے کے بارے ہمارا حکم آپڑا۔ (آیت) ” لیلا اونھارا “۔ یہ دونوں ظرفیں ہیں۔ (آیت) ” فجعلنھا حصیدا “۔ یہ دو مفعول ہیں، یعنی پس ہم نے اسے کٹا ہوا بنا دیا (گویا) اس میں کوئی شے نہ تھی اور فرمایا (آیت) ” حصیدا “۔ اور اسے مونث ذکر نہ کیا گیا کیونکہ یہ فعیل بمعنی مفعول ہے۔ ابو عبید نے کہا ہے : الحصید کا معنی مستاصل جڑ سے کٹا ہوا ہے۔ (آیت) ” کان لم تغن بالامس “۔ یعنی گویا کہ وہ کل آباد نہ تھی، یہ غنی سے ہے جب کوئی کسی جگہ مقیم ہو اور اسے آباد کرے۔ اور لغت میں مغانی سے مراد وہ منازل (گھر) ہیں جنہیں لوگ آباد کرتے ہیں، اور حضرت قتادہ (رح) نے بیان کیا ہے : گویا وہ خوشگوار اور سر سبز ہوئی ہی نہیں۔ لبید نے کہا ہے :
وغنیت سبتا قبل مجری داحس لوکان للنفس اللجوج خلود (1)
عام قرات تغن تا کے ساتھ ہے، کیونکہ الارض مونث ہے، اور حضرت قتادہ (رح) نے یغن یاء کے ساتھ قرات کی ہے اور یہ اس کی نسبت زخرف کی طرف کرتے ہیں، یعنی جس طرح وہ اس کھیتی کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ دنیا کو بھی ہلاک وبرباد کر دے گا، (آیت) ” نفصل الایت “۔ یعنی ہم نشانیاں اور علامات بیان کرتے ہیں۔ (آیت) ” لقوم یتفکرون “۔ اس قوم کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور وفکر کرتے ہیں۔
Ayah 10:25آیت نمبر : 25۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واللہ یدعوا الی دار السلم “۔ جب اللہ تعالیٰ اس دار یعنی دار دنیا کا وصف ذکر کرچکا تو اس نے آخر کا وصف بیان فرمایا اور کہا : بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا جمع کرنے کی طرف دعوت نہیں دیتا بلکہ وہ تمہیں طاعت کی طرف بلاتا ہے تاکہ تم دارالسلام یعنی جنت کے اہل ہوجاؤ، حضرت قتادہ (رح) اور حسن نے فرمایا : السلام تو خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس دار جنت ہے (1) (تفسیر طبری، سورة ، جلد 11، صفحہ 121)
اور جنت کو دارالسلام کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ جو اس میں داخل ہوگیا وہ آفات سے محفوظ ومامون ہوجائے گا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اسماء میں سے ” السلام “ ہے، تحقیق ہم نے اسے الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی “ میں بیان کیا ہے اور اس ذکر سورة الحشر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور اللہ تعالیٰ امن وسلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے، اور السلام اور السلام ۃ ایک ہی معنی میں ہیں جیسے الرضاع اور الرضاعۃ ہیں۔ یہ زجاج نے کہا ہے۔ شاعر کا قول ہے :
تحی بالسلامۃ ام بکر وھل لک بعد قومک من سلام :
اور کہا گیا ہے : مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دارالتحیہ کی طرف بلاتا ہے، کیونکہ اس کے باسی اللہ تعالیٰ کی جانب سے تحیہ اور سلام پائیں گے اور اسی طرح ملائکہ کی طرف سے بھی (سلام پائیں گے) حسن نے کہا ہے : بیشک اہل جنت سے سلام منقطع نہ ہوگا اور یہ ان کا تحیہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وتحیتھم فیھا سلام “۔ (یونس : 10) اور ان کی دعا یہ ہوگی کہ ” سلامتی ہو “ اور یحی بن معاذ نے کہا ہے : اے ابن آدم ! اللہ تعالیٰ تجھے دارالسلام کی طرف بلا رہا ہے سو تو دیکھ ہم اسے کہاں سے جواب دے رہے ہیں روک دیا جائے گا، اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : جنتیں سات ہیں : دارالجلال، دارالسلام، جنت عدن، جنۃ الماؤی، جنۃ الخلد، جنۃ الفردوس، اور جنۃ النعیم۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم “۔ اپنی حجت کے اظہار لیے دعوت کو عام کیا اور اپنی سے استغنا برتتے ہوئے ہدایت کو خاص کردیا۔ اور صراط مستیقم کے بارے کہا گیا ہے کہ مراد کتاب اللہ ہے (2) (جامع ترمذی، فضائل القرآن، جلد 2، صفحہ 114، (مفہوم)
اسے حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صراط مستقیم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسلام ہے۔ اسے نواس بن سمعان نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حق ہے، یہ حضرت قتادہ (رح) اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ اور آپ کے بعد آپ کے دونوں صحابی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ ہیں، اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) میرے سر کے پاس اور حضرت میکائیل (علیہ السلام) میرے پاؤں کے پاس کھڑے ہیں تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو کہا : ان کی مثال بیان کیجئے تو اس نے اسے کہا : تو سن تیرے کان سنیں اور اپنے دل کی عقل کے ساتھ اسے سمجھ بلاشبہ تیری اور تیری امت کے مثال اس بادشاہ کی مثل ہے جس کا ایک دار ہو پھر وہ اس میں گھر بنائے پھر اس میں ایک دعوت کا اہتمام کرے پھر وہ ایک قاصد بھیجے جو لوگوں کو اس کھانے کی دعوت دے پس ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اس قاصد کی دعوت کو قبول کیا اور بعض وہ ہیں جنہوں نے اسے چھوڑ دیا پس اللہ تعالیٰ وہ بادشاہ ہے اور وہ دار السلام ہے اور وہ بیت (گھر) جنت ہے اور اے محمد ﷺ آپ وہ قاصد اور رسول ہیں پس جس نے آپ کی دعوت کو قبول کرلیا اور وہ اسلام میں داخل ہوگیا اور جو اسلام داخل ہوگیا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو جنت میں داخل ہوگا وہ اس سے کھائے گا جو کچھ (اللہ تعالیٰ کی نعمتیں) اس میں ہیں “۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب الامثال، جلد 2، صفحہ 109، ایضا حدیث نمبر 2787، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
پھر رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم “۔ تلاوت فرمائی، پھر حضرت قتادہ (رح) اور حضرت مجاہد (رح) نے یہ آیت تلاوت کی۔ (آیت) ” واللہ یدعوا الی دارالسلم “۔ اور یہ آیت قدریہ کے خلاف ان کے رد میں واضح اور بین دلیل ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے : (آیت) ” ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم “۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ پر نصوص قرآن کو واپس لوٹا دیا (اور انہیں قبول نہ کیا)
Ayah 10:26آیت نمبر : 26۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “۔ حضرت انس ؓ کی حدیث سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ سے قول باری تعالیٰ وزیادۃ کے بارے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : للذین احسنوا العمل فی الدنیا لھم الحسنی وھی الجنۃ والزیادۃ النظر الی وجہ اللہ الکریم “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 115)
(ان کے لیے جنہوں نے دنیا میں نیک عمل کیے ان کے لیے نیک جزا ہے اور وہ جنت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور وہ اللہ کریم کے چہرہ قدرت کا دیدار ہے) یہی قول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ہے اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے بھی ایک روایت ہے، اور حضرت حذیفہ، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت کعب بن عجرہ، حضرت ابو موسیٰ ، حضرت صہیب رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت میں ہے اور یہی تابعین کی جماعت کا قول ہے اور یہی باب میں صحیح ہے، امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں حضرت صہیب ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت نقل کی ہے، آپ نے فرمایا : ” جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرمائے گا : تم کوئی چیز چاہتے ہو میں تمہارے لیے اس کا اضافہ کر دوں، تو وہ عرض کریں گے : کیا تو نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیا، کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے نجات عطا فرما دی ؟ آپ نے فرمایا : پس اللہ تعالیٰ حجاب اٹھا دے گا پھر انہیں کوئی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے نزدیک اپنے رب کریم کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو “۔ (3) (جامع ترمذی، کتاب الامثال، جلد 2، صفحہ 535)
اور ایک روایت میں ہے : پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “۔ اور اسے نسائی نے بھی حضرت صہیب ؓ سے بیان کیا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کی گئی : یہ (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو ایک ندا دینے والا پکارے گا : اے اہل جنت ! بیشک تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے وہ چاہتا ہے کہ اسے تمہارے لیے پورا کر دے تو وہ کہیں گے : کیا اس نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیا اور ہمارے میزانوں کو بھاری نہیں کردیا اور ہمیں جہنم سے نجات عطا نہیں فرما دی ؟ آپ نے فرمایا : پس وہ حجاب اٹھا دے گا اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگیں گے پھر قسم بخدا ! اللہ کریم نے انہیں کوئی چیز عطا نہیں فرمائی جو ان کے نزدیک اس رویت سے زیادہ محبوب ہو اور ان کی آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈا کرنے والی ہو “۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر سورة یونس، جلد 2، صفحہ 137)
اور اسے ابن المبارک نے اپنے دقائق میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے موقوف روایت ہے کیا ہے اور ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے اور ہم نے وہاں کشف الحجاب کا معنی بھی ذکر کیا ہے۔ والحمد للہ، اور ترمذی حکیم ابو عبداللہ (رح) نے روایت کیا ہے کہ ہمیں علی بن حجر نے بیان کیا (انہوں نے کہا) ہمیں ولید بن مسلم نے زہیر سے اور انہوں نے ابو العالیہ اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو زیادتیوں کے بارے پوچھا جن کا ذکر کتاب اللہ میں ہے، ایک اس قول میں (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : النظر الی وجہ الرحمن (2) (تفسیر طبری، جلد 3، صفحہ 198)
(رحمن کے چہرہ قدرت کا دیدار کرنا) اور دوسرا اس ارشاد میں : (آیت) ” وارسلنہ الی مائۃ الف او یزدیدون “۔ (الصافات) تو آپ نے فرمایا : ”(اس سے مراد) بیس ہزار ہیں “۔
تحقیق یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک زیادۃ سے مراد یہ ہے کہ ایک نیکی کی جزا کو دس نیکیوں سے لے کر اس سے زیادہ گنا تک کردیا جائے، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ زیادۃ ایک موتی سے بنا ہوا کمرہ ہے جس کے چار ہزار دروازے ہیں، اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : الحسنی سے مراد نیکی کی مثل نیکی ہے، اور زیادۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کی جانب سے مغفرت اور رضا مندی کا حاصل ہونا ہے (3) (تفسیر طبری، جلد 3، صفحہ 126)
اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے کہا ہے : الحسنی سے مراد جنت ہے، اور زیادۃ سے مراد وہ افضل ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا اور قیامت کے دن وہ اس کے بارے ان کا محاسبہ نہیں کرے گا (4) (تفسیر طبری، جلد 3، صفحہ 126)
اور عبدالرحمن بن سابط نے کہا ہے : الحسنی سے مراد بشارت اور خوشخبری ہے اور زیادۃ سے مراد رب کریم کے چہرہ قدرت کی طرف دیکھنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ، الی ربھا ناظرۃ “۔ (القیامہ)
اور یزید بن شجرہ نے کہا ہے : زیادۃ یہ ہے کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا اور وہ ان پر ایسی تمام نادر نعمتیں برسائے گا جو انہوں نے نہ دیکھی ہوں گی اور وہ کہے گا : اے اہل جنت ! کیا تم کوئی شے چاہتے ہو کہ میں تم پر اسے برسا دوں ؟ پس وہ جو بھی خواہش کریں گے وہ ان پر اسے برسا دے گا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : زیادۃ یہ ہے کہ ان پر ایام دنیا میں سے ایک دن کی مقدار بھی نہیں گزرے گی مگر یہ کہ ان میں سے ہر ایک گھر کا ستر ہزار فرشتے طواف کرلیں، ہر فرشتے کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے تحائف اور ہدایا ہوں گے جو ان کے ساتھی فرشتے کے پاس نہ ہوں گے اور انہوں (اہل جنت) نے ان ہدایا کی مثل کبھی نہ دیکھے ہوں گے، پس پاک ہے وہ جو الواسع، العلیم، الغنی، الحمید، العلی، الکبیر، العزیز، القدیر، البر، الرحیم المدبر، الحکیم اور اللطیف، الکریم، ہے جس کی مقدورات لا متناہی اور لامحدود ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : احسنوا جنہوں نے لوگوں کے ساتھ معاملہ نیکی اور اچھائی کے ساتھ کیا۔ اور الحسنی، ان کے لیے شفاعت ہے اور زیادۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اس (شفاعت) کی اجازت دینا اور اسے قبول کرنا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یرھق “۔ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے یلحق (اور لاحق نہ ہوگا) اور اسی معنی میں کہا گیا ہے : غلام مراھق جب بچہ (بالغ ہونے کے قریب پہنچ کر) مردوں کے ساتھ مل جائے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے یعلو (بلندہونا، غالب ہونا) اور بعض نے کہا ہے : یغشی (ڈھانپ لینا) یہ معنوی اعتبار سے آپس میں قریب قریب ہیں، قتر۔ اس کا معنی ہے غبار، ولا ذلۃ اور نہ ذلت ورسوائی، جیسا کہ اہل جہنم کو لاحق ہوگی، یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب انہیں اٹھائے جانے کے وقت غبار انہیں لاحق نہیں ہوگا اور نہ ذلت ورسوائی انہیں ڈھانپے گی، ابو عبیدہ نے فرزدق کا یہ شعر بیان کیا ہے :
متوج برداء الملک یتبعہ موج تری فوقہ الرایاوالقترا : (1) (تفسیر ماوری، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 433)
حسن نے قتر “ تا کو ساکن پڑھا ہے۔ اور القتر والقترۃ والقترۃ تمام ایک ہی معنی میں ہیں، یہ نحاس نے کہا ہے : اور القتر کی واحد قترۃ ہے۔ اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ترھقھا قترۃ “۔ (عبس) یعنی ان پر گرد و غبار غالب یعنی چھایا ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے : قتر کا معنی غمزدہ ہونا اور حالت کا خراب ہونا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : القتر سے مراد چہروں کا سیاہ ہونا ہے۔ ابن بحر نے کہا ہے : اس سے مراد آگ کا دھواں ہے۔ اور اسی سے قتار القدر (ہنڈیا کی بھاپ) ہے۔ اور ابن ابی لیلیٰ نے کہا ہے : یہ ان کا اپنے رب کے دیدار سے محروم رہنا ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں : یہ محل نظر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” ان الذین سبقت لھم من الحسنی اولئک عنھا مبعدون “۔۔۔۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔۔۔ لا یحزنھم الفزع الاکبر “۔ (الانبیائ) (بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے مقدر ہوچکی ہے ہمارے طرف سے بھلائی تو وہی اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے، نہ غمناک کرے گی انہیں وہ بڑی گھبراہٹ)
اور دوسری آیت میں فرمایا : (آیت) ” لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ (یونس) (اور نہیں کوئی اندیشہ ان کے لیے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اور مزید فرمایا : (آیت) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا “۔ الآیہ (حم السجدہ : 30) (بےشک وہ (سعادت مند) جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ اس قوم پر پختگی سے قائم رہے اترتے ہیں ان پر فرشتے (اور انہیں کہتے ہیں) کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو) اور یہ عام ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نیکی کرنے والے کا چہرہ غم واندوہ کی سیاہی کے ساتھ کسی مقام میں بھی متغیر اور تبدیل نہیں ہوگا نہ دیدار الہی سے پہلے اور نہ اس کے بعد اور جہنم وغیرہ کے دھوئیں میں سے کوئی شے اس پر غالب نہیں آئے گی، (آیت) ” واما الذین ابیضت وجوھھم ففی رحمۃ اللہ ھم فیھا خلدون “۔ (آل عمران) (اور وہ (خوش نصیب) لوگ روشن ہوں گے جن کے چہرے تو وہ رحمت الہی (کے سائے) میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 10:27آیت نمبر : 27۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والذین کسبوا السیات “ اور جنہوں نے گناہ کے اعمال کیے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد شرک ہے (یعنی جنہوں نے شرک کیا) (آیت) ” جزآء سیئۃ بمثلھا “۔ جزآء یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور اس کی خبر (آیت) ” بمثلھا “ ہے، ابن کیسان نے کہا ہے : اس میں ہازائدہ ہے اور اس کا معنی ہے (آیت) ” جزآء سیئۃ بمثلھا “۔ (برائی کی سزا اس کی مثل ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہا اپنے ما بعد سمیت خبر ہے اور یہ محذوف کے متعلق ہے اور یہ اس کے قائم مقام ہے اور اس کا معنی ہے : جزاء سیئۃ کائن بمثلھا (برائی کی سزا اسی جیسی ہوگی) جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : انما انا بک یعنی انما انا کائن بک اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ جزا کے متعلق ہو، تقدیر کلام ہو : جزاء سیئۃ بمثلھا کائن پھر مبتدا کی خبر حذف کردی گئی، اور یہ بھی جائز ہے کہ جزا مرفوع ہو اور تقدیر کلام یہ ہو فلھم جزاء سیئۃ پس یہ اس قول کی مثل ہوجائے گا : (آیت) ” فعدۃ من ایام اخر “۔ (البقرۃ : 185) یعنی فعلیہ عدۃ اور اس کے مشابہ کوئی شے اور اس تقدیر کے مطابق بامحذوف کے متعلق ہوگی، گویا کہ یہ کہا : لھم جزاء سیئۃ ثابت بمثلھا (ان کے لیے برائی کی سزا اسی کی مثل ثابت ہے) یا پھر یہ بامؤکدہ یا زائدہ ہوگی۔
اور اس مثلیت کا معنی یہ ہے کہ وہ سزا جو شمار کی جارہی ہے وہ ان کے گناہوں کے مماثل ہے، یعنی وہ مظلوم نہیں ہیں، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جارہی اور اللہ تعالیٰ کا فعل کسی علت کے ساتھ معلل نہیں ہوتا۔ (آیت) ” وترھقھم ذلۃ “۔ یعنی انہیں یبوست اور ذلت ورسوائی ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ (آیت) ” مالھم من اللہ من عاصم “۔ ان کے لیے اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا جو انہیں اس سے بچا لے گا۔ ” کالما اغثیت “ گویا ڈھانپ دیئے گئے ہیں۔ وجوھھم قطعا “ ان کے چہرے، قطع قطعۃ کی جمع ہے اور اس بنا پر مظلما اللیل سے حال ہوگا، یعنی ان کے چہرے ڈھانپ دیئے گئے ہیں رات کے ٹکڑے سے اس حال میں کہ وہ تاریک اور اندھیری تھی،
کسائی اور ابن کثیر نے قطعا طا کو ساکن پڑھا ہے، اور اس بنا پر مظلما صفت ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللیل سے حال ہو۔ اور القطع نام ہے اس شے کا جس کو کاٹ دیا جائے اور وہ گر جائے، اور ابن السکیت نے کہا ہے : رات کا ایک حصہ اور طائفہ ہے۔ اس کا بیان سورة ہود میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ؛
Ayah 10:28آیت نمبر : 28۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویوم نحشرھم “۔ اور جس دن ہم انہیں جمع کریں گے اور حشر کا معنی جمع کرنا ہے، (آیت) ” جمیعا “ یہ حال ہے، (آیت) ” ثم نقول للذین اشرکوا “۔ پھر ہم حکم دیں گے ان کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنائے، (آیت) ” مکانکم “ یعنی تم اپنی اپنی جگہ کو لازم پکڑو اور اسی پر ثابت قدم رہو۔ اور اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔ (آیت) ” انتم وشرکآؤکم “۔ (تم اور تمہارے جھوٹے معبود) اور یہ وعید ہے۔
(آیت) ” فزیلنا بینھم “۔ یعنی ہم تفریق ڈال دیں گے اور ہم اس دوستی اور تعلق کو توڑ دیں گے جو ان کے درمیان دنیا میں قائم تھا، کہا جاتا ہے : زیلتہ فتزیل، ای فرقتہ فتفرق (میں نے اسے علیحدہ کیا پس وہ علیحدہ ہوگیا) اور یہ فعلت کیونکہ اس کے مصدر میں تو تزیلا کہتا ہے (مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ باب تفعیل ہے) اور اگر فیعلت ہوتا تو پھر تو مصدر زیلۃ کہتا، اور المزایلۃ کا معنی المفارقۃ ہے : کہا جاتا ہے : زایلہ اللہ مزایلۃ وزیالا جب اللہ تعالیٰ اسے جدا اور علیحدہ کر دے، اور التزایل کا معنی التباین (جدا ہونا) ہے، فراء نے کہا ہے : بعض نے فزایلنا بینھم پڑھا ہے، کہا جاتا ہے : لا ازایل فلانا، ای لا افارقہ (میں اسے جدا نہیں کروں گا) اور اگر تو کہے : لا ازاولہ تو اس کا معنی دوسرا ہے اور وہ ہے لا اخاتلہ (میں اسے فریب اور دھوکہ نہیں دوں گا)
(آیت) ” وقال شرکآؤھم اس میں شرکاء سے مراد ملائکہ ہیں، بعض نے کہا ہے : شیاطین ہیں، اور بعض نے کہا ہے : بت ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں بولنے کی قدرت دے گا اور یہ گفتگو ان کے اپنے درمیان ہوگی، اور یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے ان شیاطین کے خلاف دعوی کیا جن کی انہوں نے اطاعت وپیروی کی اور ان بتوں کے خلاف دعوی کیا جن کی وہ عبادت کرتے رہے کہ انہوں نے اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا اور وہ کہیں گے : ہم نے تمہاری عبادت نہیں کی یہاں تک کہ تم نے ہمیں حکم دیا۔ حضرت مجاہد (رح) نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ بتوں کو بولنے کی قدرت دے گا، پس وہ کہیں گے : ہم تو اس بارے شعور ہی نہیں رکھتے تھے کہ تم ہماری عبادت کر رہے ہو اور نہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا، اور اگر شرکاء کو شیاطین پر محمول کیا جائے تو معنی یہ ہوگا تو معنی یہ ہوگا کہ وہ مدہوش ہو کر یہ کہتے ہیں یا وہ جھوٹ اور خلاصی کا حیلہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں، اور اس کی مثل کل جاری ہوگا، اگرچہ معارف ضروریہ اور بدیہی ہے۔
Ayah 10:29آیت نمبر : 29۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فکفی باللہ شھیدا بیننا وبینکم، شھیدا “۔ یہ مفعول ہے یعنی کفی اللہ شھیدا یا یہ تمیز ہے، یعنی اکتف بہ شھیدا بیننا وبینکم یعنی اللہ تعالیٰ پر اکتفا کرو بطور گواہ ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان اگر ہم نے تمہیں اس بارے حکم دیا ہے یا ہم نے اسے تم سے پسند کیا ہے (اور رضا مندی کا اظہار کیا ہے) (آیت) ” ان کنا “ یعنی ہم نہیں تھے۔ عن عبادتکم لغفلین “۔ تمہاری پر ستش کے بارے میں بالکل بیخبر ، نہ ہم سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے اور نہ عقل رکھتے تھے، کیونکہ ہم تو جمادات تھے ہم میں روح نہ تھی۔
Ayah 10:30آیت نمبر : 30۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھنالک یہ ظرف ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے، (آیت) ” تبلوا “ یعنی اس وقت میں (آزمالے گا) تبلو بمعنی تذوق یعنی چکھ لے گا، اور کلبی نے کہا : بمعنی تعلم ہے یعنی ہر شخص جان لے گا، اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بمعنی تختبر ہے یعنی آزما لے گا۔ (آیت) ” کل نفس ما اسلفت “۔ یعنی اس عمل کی جزا جو اس نے کیا اور آگے بھیجا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بمعنی تسلم (وہ حوالے کر دے گا) یعنی حقوق میں سے جو اس پر تھے وہ ان کو ان کے مالکوں کے حوالے کر دے گا ان کے اختیار اور ان کی پسند کے بغیر اور حمزہ اور کسائی نے تتلوا پڑھا ہے یعنی ہر نفس اپنے اس نامہ عمل کو پڑھ لے گا جو اس میں لکھا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : تتلوا “ بمعنی تتبع ہے یعنی ہر نفس اس کی اتباع کرے گا جو اس نے دنیا میں آگے بھیجا، یہ سدی نے کہا ہے۔ اس میں معنی میں شاعر کا قول ہے :
ان المریب یتبع المریبا کما رایت الذیب یتلو الذیبا : (1) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 434)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وردوا الی اللہ مولھم الحق “۔ الحق بدل یا صفت ہونے کی بنا پر مجرور ہے۔ اور حق کو نصب دینا بھی جائز ہے اس کی تین وجوہ ہو سکتی ہیں : تقدیر کلام ہو : وردوا حقا (اور انہیں لوٹا دیا جائے گا حق) پھر اسے الف لام کے ساتھ لایا گیا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر کلام اس طرح ہو : مولاھم حقا لا مایعبدون من دونہ (جوان کا مالک ہے از روئے حقیقت کے نہ کہ وہ جن کی وہ اس کے سوا عبادت کرتے ہیں) اور تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ بطور مدح کے منصوب ہو ای اعنی الحق (میری مراد حق ہے) اور یہ بھی جائز ہے کہ الحق کو رفع دیا جائے، اس صورت میں معنی ہوگا : مولاھم الحق یہ مبتدا اور خبر ہوگا اور ماقبل سے منقطع ہوگا۔ (اللہ ان کا حقیقی مالک ہے) نہ کہ وہ جن کو وہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے بالحق کے ساتھ اپنا وصف بیان کیا ہے کیونکہ حق اسی کی طرف سے ہوتا ہے جیسا کہ اس نے اپنی ذات کو عدل کے ساتھ متصف کیا ہے، کیونکہ عدل اسی سے ہوتا ہے، یعنی ہر عدل اور حق وہ اسی کی طرف سے ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : (آیت) ” مولھم الحق “۔ یعنی وہ جو انہیں حق کے ساتھ جزا دے گا۔ (آیت) ” وضل عنھم “۔ یعنی باطل ہے۔
(آیت) ” ماکانوا یفترون، یفترون “ ، محل رفع میں ہے اور یہ مصدر کے معنی میں ہے، ای افتراھم (یعنی ان کا افتراء باندھنا باطل ہے) پس اگر کہا جائے : کیسے یہ کہا : (آیت) ” وردوا الی اللہ مولھم الحق “۔ حالانکہ خبر یہ دی گئی ہے کہ کافروں کا کوئی مولی نہیں ؟ تو جوابا یہ کہا جائے گا : ان کے لیے مددونصرت کرنے کا کوئی مالک نہیں اور رزق اور نعمتیں عطا کرنے میں تو ان کا مولی ہے۔
Ayah 10:31آیت نمبر : 31۔
(آیت) ” من السمآء “ یعنی بارش کے ساتھ۔ (آیت) ” والارض “ یعنی زمین سے اگنے والے اناج کے ساتھ (1) (المحرر الوجیز، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 117)
(آیت) ” امن یملک السمع والابصار “۔ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں (کان اور آنکھ) کو بنایا ہے اور انہیں تمہارے لیے پیدا کیا ہے ؟ (آیت) ” ومن یخرج الحی من المیت “۔ یعنی کون ہے جو نباتات کو زمین سے اور انسان کو نطفہ سے اور کھیتی (کی) بالی کو دانے سے، پرندے کو انڈے سے اور مومن کا کافر سے نکالتا ہے ؟ (آیت) ” ومن یدبر الامر “ یعنی کون ہے جو امور کو مقرر کرتا ہے اور ان کا فیصلہ کرتا ہے ؟ (آیت) ” فسیقولون اللہ “۔ (تو وہ (جوابا) کہیں گے : اللہ، کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے یا وہ کہیں گے : وہ اللہ ہی ہے اگر وہ غور وفکر کریں اور انصاف سے کام لیں، (آیت) ” فقل “ ، اے محمد ﷺ آپ انہیں فرمائیے۔ (آیت) ” افلا تتقون “۔ یعنی کیا وہ دنیا اور آخرت میں اس کی سزا اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟