37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 37:156

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے

ام لکم سلطن مین۔ ہاں ‘ کیا تمہارے پاس (اس عقیدہ اور قول کی) کوئی واضح دلیل موجود ہے ؟
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

فاتوا بکتبکم ان کنتم صدقین سو اگر تم اس میں سچے ہو تو اپنی وہ کتاب پیش کرو۔ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌکھلی ہوئی دلیل جو اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہو اور بتارہی ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اسباب علم (بقول اشاعرہ) ہیں : عقل ‘ حس اور سچی خبر ‘ اور سچی خبر جب تک حس پر مبنی نہ ہو مفید یقین ہوتی ‘ یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملی ہو (تو ایسی خبر موجب یقین ہوتی ہے) دلالت عقل کی نفی تو پہلی آیت میں کردی اور فرما دیا : اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمْ الْبَنُوْنَ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ کا صاحب اولاد ہونا عقلاً محال ہے ‘ اس پر مزید یہ کہ کوئی ہوشمند ملائکہ کو عورتیں نہیں سمجھ سکتا ‘ کوئی صحیح عقل ادراک نہیں کرسکتی کہ فرشتے مؤنث ہوں ‘ خالق کی اولاد تو عاجز اور کم درجہ ہو اور مخلوق کیلئے جو اولاد ہو ‘ وہ اعلیٰ اور اشرف ہو۔ رہی دلالت حس تو ظاہر ہے کہ کوئی شہادت نہیں دے سکتا کہ میرے سامنے فرشتوں کو مؤنث بنایا گیا تھا ‘ اسی مضمون کے متعلق فرمایا : اَمْ خَلَقْنَا الْمَلآءِکَۃَ اِنَاثًا وَّھُمْ شَاھِدُوْنَ ۔ تیسری چیز مفید یقین خبر صادق ہے ‘ یہ اس وقت موجب یقین ہوگی جب اللہ کی طرف سے بیان کی گئی ہو ‘ اسی کے متعلق فرمایا : اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ یعنی کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کوئی واضح دلیل اتری ہے ‘ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے لیکن (ہٹ دھرمی اور ضد کے طور پر) وہ کہہ سکتے تھے کہ ہاں ‘ اللہ نے ہم کو اس کی تعلیم دی ہے جیسے کہ دوسری آیت میں آیا ہے : اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَا اٰبَآءَنَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا۔ اس (عناد آگیں) قول کی تردید کیلئے فرمایا : (اگر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نازل شدہ کوئی ایسی کتاب ہے جس میں ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہا گیا ہو تو) اپنی وہ کتاب لاؤ ‘ پیش کرو۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا۔ حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے

وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا اور ان لوگوں نے اللہ اور جنات کے درمیان رشتہ داری قرار دے رکھی ہے۔ جویبر کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت قریش کے تین قبائل کے متعلق نازل ہوئی : سلیم ‘ خزاعہ اور جہینہ۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : الجِنّۃ سے مراد ملائکہ ہیں۔ فرشتے (انسان کی) نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں ‘ اسلئے ان کو الجِنّۃ فرمایا (جِنّ کا معنی ہے پوشیدہ ہونا) ۔ میں کہتا ہوں : ملائکہ کو الجِنّۃ کے لفظ سے ذکر کرنا یہ بات بتارہا ہے کہ وہ ابنیت خدا کے سزاوار نہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ملائکہ کا ہی ایک خاص گروہ ہے جن میں سے ابلیس بھی ہے ‘ ان کو جِنّ کہا جاتا ہے۔ انہی کو وہ لوگ اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ کلبی نے کہا : ان کا قول تھا کہ خدا نے کسی جنّی عورت سے اپنا جوڑ لگا لیا اور اس سے ملائکہ پیدا ہوگئے (نعوذ باللہ منہا) ۔ بعض قریشیوں نے جب ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہا تو حضرت ابوبکر صدیق نے پوچھا : ان کی مائیں کون ہیں ؟ بولے : جنات کی شریف ترین اعلیٰ عورتیں (یعنی پریاں) ان کی مائیں ہیں۔ کذا اخرج البیہقی فی شعب الایمان عن مجاہد۔ ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون اور (خود) جنّات جانتے ہیں کہ (ان میں جو کافر ہیں) وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔ اِنَّھُمْ یعنی اس قول کے قائل ‘ یا انسان (جو اسی قول کے قائل ہیں) یا جنّات (لیکن یہ مرجع اس وقت ہوگا) جب یہ کہا جائے کہ جنّات کا لفظ ملائکہ کو بھی شامل ہے۔
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

سبحن اللہ عما یصفون جو کچھ (ا اللہ کا صاحب اولاد ہونا اور جنات سے اس کی رشتہ داری ہونا) بیان کرتے ہیں ‘ اللہ اس سے پاک ہے۔ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ الخ جملہ معترضہ ہے اور سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ دوسرے جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)

الا عباد اللہ المخلصین مگر جو اللہ کے خاص (ایمان والے) بندے ہیں۔ یہ استثناء متصل ہے۔ اگر انھم کی ضمیر تمام انسانوں کی طرف راجع ہو ‘ خواہ وہ مؤمن ہو یا کافر ‘ یا استثناء منقطع ہے ‘ اگر ھُم کی ضمیر صرف ان لوگوں کی طرف راجع کی جائے جو اللہ کو صاحب اولاد کہتے ہیں۔
Ayah 37:161

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو

فانکم وما تعبدون۔ سو تم اور تمہارے سارے معبود ‘
Ayah 37:162

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے

ما انتم علیہ بفاتنین۔ اللہ کے معاملہ میں کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے
Ayah 37:163

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے

الا من ھو صال الجحیم ‘ مگر اسی کو جو (ا اللہ کے علم میں) جہنم رسیدہ ہونے والا ہے۔ یہ خطاب مکہ والوں کو ہے اور فَ جزائیہ ہے ‘ شرط محذوف ہے یعنی جب تم نے اللہ کی جنات سے رشتہ داری قائم کر رکھی ہے تو تم اور تمہارے سارے معبود اس قول سے کسی کو اغواء نہیں کرسکتے۔
Ayah 37:164

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور (فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

وما منا الا لہ مقام معلوم اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین درجہ ہے۔ یعنی جنات (ملائکہ) نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقرر مقام عبودیت ہے ‘ یا آسمانوں میں ایک معین مقام ہے جہاں وہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آسمان چرچرایا اور اس کو چرچرانا چاہئے۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! چار انگل کی کوئی جگہ آسمان میں ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے سجدہ نہ کر رہا ہو۔ رواہ البغوی مقام معلوم سے یا مرتبۂ قرب سے مراد ہے ‘ سدی نے اس آیت کی تشریح میں یہی کہا کہ قرب اور مشاہدہ کا درجہ ہر فرشتے کا مقرر ہے۔ ابوبکر وراق نے کہا : مقام عبودیت مراد ہے جیسے خوف ‘ امید ‘ محبت ‘ رضا۔ میں کہتا ہوں : (یہ بات تو صرف ملائکہ کیلئے ہے) انسان مراتب قرب میں برابر ترقی کرتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا ارشاد نقل کیا ہے : میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ مجھے اس سے محبت ہوجاتی ہے الخ ‘ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ۔ ملائکہ اپنے معین درجہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ حضرت زرارہ بن ابی اوفٰی راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبریل سے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ جبرئیل نے یہ سنتے ہی بازو پھڑپھڑائے (یعنی خوف کی وجہ سے ان پر لرزہ طاری ہوگیا) اور کہا : محمد ﷺ ! میرے اور اس کے درمیان تو ستر ہزار نوری حجاب حائل ہیں ‘ ان پردوں میں سے اگر میں کسی کے قریب بھی پہنچ جاؤں تو جل جاؤں ‘ ھکذا فی المصابیح۔ ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس ؓ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے ‘ لیکن اس روایت میں حضرت جبرئیل کے بازو پھڑپھڑانے کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے جب سے اسرافیل کو پیدا کیا ہے ‘ اسی وقت سے وہ برابر اپنے قدموں پر کھڑا ہے ‘ نظر اوپر نہیں اٹھاتا۔ اس کے اور رب کے درمیان ستر نور (یعنی نوری پردے) حائل ہیں۔ اگر ایک کے بھی قریب چلا جائے تو جل جائے۔ رواہ الترمذی و صححہ۔ اس آیت میں ملائکہ پرستوں کے خیال کی تردید ہے ‘ جیسے (مسیح پرستوں کی تردید میں) اللہ نے فرمایا : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْعُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوَاہ النَّارُ وَمَا للظَّلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ (ترجمہ) جن لوگوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے ‘ وہ کافر ہوگئے۔ مسیح نے تو کہا تھا : اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ جو اللہ کے ساتھ عبادت میں کسی کو ساجھی قرار دے گا ‘ اللہ نے اس کیلئے جنت حرام کردی ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
Ayah 37:165

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم صف باندھے رہتے ہیں

وانا النحن الصآفون اور (عبادت کے وقت یا اللہ کا حکم سننے کے وقت) ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن مالک کی روایت سے بیان کیا کہ لوگ منتشر طور پر نماز پڑھا کرتے تھے (یعنی قطار نہیں بناتے تھے) جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو صف بندی کا حکم دے دیا۔ ابن المنذر اور ابن جریج نے بھی اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ کلبی نے کہا : آسمان پر عبادت کے فرشتوں کی صفیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے (نماز میں) زمین پر آدمیوں کی صفیں۔ مسلم نے حضرت جابر بن سمرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم ملائکہ کی صفوں کی طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے ؟ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ملائکہ کیسے صف بندی کرتے ہیں ؟ فرمایا : ملائکہ اپنے رب کے سامنے اس طرح صف بندی کرتے ہیں کہ اگلی صفوں کو پورا (پورا) بھر دیتے ہیں اور باہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادائے طاعت کے وقت ہم اپنے قدموں کو صف بستہ رکھتے ہیں۔
Ayah 37:166

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور (خدائے) پاک (ذات) کا ذکر کرتے رہتے ہیں

وانا لنحن المسبحون اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں (بھی) لگے رہتے ہیں۔ یعنی تمم عیوب اور نازیبا نقائص سے ‘ جیسے اللہ کا صاحب اولاد ہونا وغیرہ ‘ اس کا پاک ہونا بیان کرتے رہتے ہیں۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَکا جملہ مفید حصر ہے ‘ اسی طرح وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَکا جملہ بھی مفید حصر ہے (اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا مسلمان آدمی اللہ کے سامنے عبادت میں صف بستہ نہیں ہوتے ؟ کیا وہ اللہ کی پاکی بیان نہیں کرتے ؟ اسلئے کہا جائے گا کہ) یہ حصر اضافی ہے ‘ کافروں کے مقابلہ میں ان اوصاف کی خصوصیت ملائکہ کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم کافروں کی طرح نہیں ہیں کہ عبادت اور تسبیح میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنائیں۔
Ayah 37:167

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہا کرتے تھے

وان کانوا الیقولون۔ اور یہ لوگ (یعنی کفار مکہ) کہا کرتے تھے
Ayah 37:168

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت (کی کتاب) ہوتی

لو ان عندنا ذکرًا من الاولین۔ کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کے (کتابوں کے) طور پر آتی
Ayah 37:169

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم خدا کے خالص بندے ہوتے

لکنا عباد اللہ المخلصین۔ تو ہم اللہ کے مخلص بندے ہوتے ‘
Ayah 37:170

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

لیکن (اب) اس سے کفر کرتے ہیں سو عنقریب ان کو (اس کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا

فکفروا بہ فسوف یعلمون اب (جبکہ ان کے پاس نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی کتابوں کے طور پر آگئی تو) یہ اس کا انکار کرنے لگے۔ خیر آئندہ ان کو (اس انکار کا انجام) معلوم ہوجائے گا (تفسیری ترجمہ از مولانا اشرف علی) ۔ حضرت مفسر نے فرمایا : لیقولون یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے۔ ذِکْرًا یعنی پہلے لوگوں پر جو کتابیں نازل ہوئی تھیں ‘ ان میں سے کوئی کتاب ہمارے پاس ہوتی تو ہم اللہ کی خالص عبادت کرتے اور کتاب کی مخالفت نہ کرتے۔ فَکَفَرُوْا بِہٖ لیکن جب وہ کتاب آگئی جو سب کتابوں سے (تعلیم و ہدایت میں) بڑھ کر ہے تو اس کا انکار کردیا۔ آئندہ ان کو اپنے کفر کا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ جان لیں گے کہ ان سے کیسا انتقام لیا جاتا ہے اور ان پر کیسا عذاب نازل ہوتا ہے۔
Ayah 37:171

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے

ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین۔ اور ہمارے خالص بندوں یعنی پیغمبروں کیلئے ہمارا یہ قول پہلے سے ہی مقررہو چکا ہے
Ayah 37:172

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں

انھم لھم المنصورون۔ کہ بلاشبہ وہی غالب کئے جائیں گے
Ayah 37:173

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا لشکر غالب رہے گا

وان جندنا لھم الغلبون اور (ہمارا تو عام قاعدہ ہے کہ) ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے۔ میں کہتا ہوں : آیت میں بیان کردہ ضابطۂ خداوندی اگر (کبھی) صادق نہیں ہوتا ہے تو انسان کی نافرمانی کی نحوست کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا۔ دوسری آیت میں ہے : اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْءًا وَّضاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَجُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ 5 جبکہ تم کو اپنی کثرت تعداد پر غرور ہوگیا ‘ لیکن کثرت نے تم کو کچھ فائدہ نہ دیا اور زمین باوجود فراخ ہونے کے تمہارے لئے تنگ ہوگئی ‘ آخرکار تم منہ پھیر کر ‘ پیٹھ موڑ کر بھاگ نکلے۔
Ayah 37:174

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو

فتول عنھم حتی حین اب تھوڑے وقت کیلئے آپ ان سے بےرخی اختیار کرلیجئے (اور ان کی طرف سے ایذارسانی کا اندیشہ نہ کیجئے) حضرت ابن عباس نے فرمایا : حِیْنَ سے مراد ہے وقت موت۔ بعض کے نزدیک عذاب دنیا کا دن مراد ہے۔ مجاہد کے نزدیک بدر کا دن مراد ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی کی طرف بھی اسی قول کی نسبت کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سدی نے کہا : (حِیْنَ کی تشریح میں) جس روز کہ اللہ کافروں سے جہاد کرنے کا حکم دے گا۔ مقاتل نے نزدیک بھی یہی تشریح مراد ہے ‘ کیونکہ انہوں نے کہا : اس حکم کو آیت قتال نے منسوخ کردیا۔
Ayah 37:175

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے

وابصرھم فسوف یبصرون اور (ذرا) ان کو دیکھتے رہئے ‘ یہ بھی عنقریب (اپنا انجام ( دیکھ لیں گے) ۔ وَاَبْصِرْھُمْ یعنی اپنے سامنے ان کو مقتول ‘ مغلوب اور عذاب میں ماخوذ دیکھ لیجئے۔ مطلب یہ کہ یہ باتیں عنقریب ہونے والی ہیں ‘ گویا آپ کے سامنے موجود ہی ہیں۔ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ یعنی ہم نے جو آپ کی مدد کرنے ‘ اور دنیا میں فتح عطا کرنے ‘ اور آخرت میں آپ کو ثواب عنایت کرنے اور ان کو عذاب میں ماخوذ کرنے کا وعدہ کیا ہے ‘ وہ عنقریب دیکھ لیں گے۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ نازل ہوئی تو کافروں نے پوچھا : یہ عذاب کب آئے گا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ جویبر کی روایت سے بھی حضرت ابن عباس کا یہ قول منقول ہے۔
Ayah 37:176

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں

افبعذ ابنا یستعجلون کیا ہمارا عذاب جلد آنے کے یہ خواستگار ہیں ؟ اس جملہ کا ایک محذوف کلام پر عطف ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : کیا ہماری عظمت شان کو یہ نہیں جانتے اور عذاب کا تقاضا کرتے ہیں ؟
Ayah 37:177

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اُترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا

فاذا نزل بساحتھم فسآء صباح المنذرین سو وہ عذاب جب ان کے رو در رو آ نازل ہوجائے گا ‘ سو وہ دن ان لوگوں کا جن کو ڈرایا گیا ہے ‘ بہت ہی برا ہوگا (ٹل نہ سکے گا) ۔ ساحتصحن۔ فراء نے کہا : عرب ‘ قوم کی جگہ ساحت کا ذکر کافی سمجھتے ہیں (یعنی ساحت سے مراد وہ قوم ہوتی ہے جس کا وہ ساحت ہو ‘ یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کے ساتھ جس روز ان کے صحن میں اتریں گے ‘ وہ دن ان کیلئے برا دن ہوگا۔ صباح سے مراد ہے شبخون مارنے والے لشکر کے حملہ کرنے کی صبح۔ عرب کا حملہ کرنے کا زیادہ قاعدہ یہی تھا کہ آخر شب میں صبح کے قریب چھاپہ مارتے تھے ‘ اسلئے چھاپہ مارنے اور لوٹنے کو صباح کہنے لگے ‘ خواہ غارت گری کسی وقت ہو۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیبر کی طرف نکل چلے اور رات کو وہاں پہنچے اور آپ کا قاعدہ تھا کہ رات کو اگر (دشمن) قوم پر پہنچ جاتے تھے تو صبح تک حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو خیبر کے یہودی اپنے پھاوڑے اور ٹوکرے لے کر (شہر کے باہر) نکلے اور جونہی رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے : خدا کی قسم ! محمد ﷺ ہیں اور (ان کے ساتھ) پورا لشکر بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! خیبر ویران ہوگیا۔ ہم جب ان کے صحن میں اتر گئے تو ان لوگو کا دن بہت برا ہوگیا جن کو (پہلے سے) ڈرایا گیا تھا (رواہ البغوی) ۔ صحیحین میں حضرت انس کا بیان آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ہم کو لے کر کسی قوم پر حملہ (کرنا) چاہتے تھے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں کرتے تھے ‘ انتظار کرتے رہتے تھے۔ صبح کو اگر (ان کی آبادی کی طرف سے) اذان کی آواز سن لیتے تھے تو حملہ سے باز رہتے تھے ‘ اگر اذان نہیں سنتے تھے تو ان پر حملہ کردیتے تھے۔ چناچہ جب ہم خیبر کی طرف چلے تو رات کو وہاں پہنچے (اور حملہ نہیں کیا) صبح ہوئی اور آپ نے (بستی کے اندر سے) اذان کی آواز نہیں سنی تو سوار ہوگئے۔ میں بھی ابو طلحہ کے پیچھے سوار ہوگیا ‘ میرا قدم رسول اللہ ﷺ کے قدم سے لگ لگ جاتا تھا۔ جب وہ لوگ اپنے ٹوکرے اور پھاوڑے لے کر نکلے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے : خدا کی قسم ! محمد ﷺ ہیں اور پورا لشکر بھی ہے ‘ پھر جا کر قلعہ بند ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھ کر فرمایا : اللہ اکبر ! خیبر کی ویرانی ہوگئی۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کیلئے وہ دن بہت برا ہوتا ہے جن کو ڈرا دیا جاتا ہے۔ وعید عذاب کی تاکید کیلئے اللہ نے دوبارہ فرمایا :
Ayah 37:178

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرے رہو

وتول عنھم حتی حین آپ ان سے ایک وقت تک منہ پھیر لیجئے
Ayah 37:179

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (نتیجہ) دیکھ لیں گے

وابصر فسوف یبصرون اور ان کو دیکھتے رہئے۔ یہ خود عنقریب (اپنے برے انجام کو) دیکھ لیں گے۔
Ayah 37:180

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے)

سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (کافر) بیان کرتے ہیں۔ الْعِزَّت غلبہ ( عظمت) قوت ‘ رب کی اضافت عزت کی طرف بتارہی ہے کہ عزت اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ‘ یا ان پیغمبروں اور مؤمنوں کی عزت (واقعی) حاصل ہے جو اللہ سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ آیت میں دلالت ہے اس امر پر بھی کہ اللہ کی صفات بذات خود واجب ہیں ‘ ذات خداوندی ان صفات کی متقضی ہے۔ عَمَّا یَصِفُوْنَ یعنی مشرکوں کے اس بیان سے اللہ پاک ہے جو اس سورت میں آیا ہے اور اسی کے ذیل میں اللہ کے اپنی اور سلبی صفات کا ذکر کردیا ہے اور توحید پر بھی تنبیہ کردی ہے۔
Ayah 37:181

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور پیغمبروں پر سلام

وسلم علی المرسلین اور تمام پیغمبروں پر سلام ہو۔ یعنی ان تمام پیغمبروں پر سلام ہے جنہوں نے اللہ کی واقعی صفات بیان کی ہیں۔ اس جملہ میں اللہ کے تمام پیغمبر داخل ہیں ‘ سب کیلئے سلامتی ہے۔
Ayah 37:182

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور سب طرح کی تعریف خدائے رب العالمین کو (سزاوار) ہے

والحمد اللہ رب العلمین اور ساری خوبیاں اللہ ہی کیلئے ہیں ‘ جو رب العٰلمین ہے۔ یعنی اللہ رب العالمین کیلئے حمد و شکر ہے جس نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے اور انبیاء کی مدد کر کے اور کافروں کو تباہ کر کے اپنی ذات وصفات کی سچی معرفت مؤمنوں کو عطا فرمائی۔ حضرت علی کا قول مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ قیامت کے دن پورے ناپ سے اس کو اجر ناپ کردیا جائے ‘ اس کا مجلس سے اٹھنے کے وقت آخری کلام سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہونا چاہئے۔ رواہ البغوی فی تفسیرہ وعبد بن رنجویہ فی الترغیب۔ والحمد اللہ ربّ العٰلمین وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین وعلٰی سائر الانبیاء والمرسلین وعلی اھل طاعتہ اجمعین الحمد اللہ کہ سورة الصافات کی تفسیر بروز شنبہ 28/جمادی الاوّل 1207 ھ ؁ کو ختم ہوئی اس کے بعد سورة صٓ کی تفسیر انشاء اللہ آئے گی۔