37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 37:41

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے

اولئک لھم رزق معلوم۔ ان کیلئے (ایسی) غذائیں ہیں (جن کا حال دوسری آیات سے) معلوم (ہو چکا ہے)
Ayah 37:42

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

فواکہ وھم مکرمون۔ یعنی میوے اور وہ لوگ بڑی عزت سے
Ayah 37:43

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

فی جنت النعیم۔ آرام کے چمنستانوں میں
Ayah 37:44

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)

علی سرر متقابلین تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ رزق معلوم یعنی ایسا رزق جس کی خصوصیات معلوم ہیں مثلاً لازوال ہونا ‘ خالص لذت بخش ہونا۔ فواکہ ‘ فاکھۃ کی جمع ہے۔ فاکھۃ وہ پھل ہے جس کا مقصد محض لذت اندوزی ہو ‘ غذا یابی نہ ہو اور قوت اس (ماکول و مشروب) چیز کو کہتے ہیں جس سے مقصد لذت اندوزی نہ ہو ‘ بلکہ غذائیت مقصود ہو۔ رزق کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔ چونکہ اہل جنت کے اجسام ہر طرح کے انحلال سے محفوظ ہوں گے ‘ اسلئے (ان کو غذائیت کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ) ان کے ماکولات فواکہ ہوں گے (جن کا مقصد صرف لذت اندوزی ہوگا) وھم مکرمون یعنی عزت کے ساتھ ان کو رزق ملے گا ‘ حاصل کرنے میں کوئی تکلیف نہ ہوگی ‘ نہ مانگنا پڑے گا۔ دنیوی زرق کے حصول کی حالت اس کے خلاف ہوتی ہے ‘ اس کو حاصل کرنے میں تکلیف بھی ہوتی ہے اور مانگنا بھی پڑتا ہے۔ فی جنّٰت النّعیم یعنی ان کا مقررہ رزق راحت کے باغوں میں ہوگا ‘ جہاں سکھ اور عیش کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔
Ayah 37:45

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا

یطاف علیھم بک اس من معین۔ بیضاء لذۃ للشاربین ان کے سامنے دور کیا جائے گا ایسے ساغروں کا جو سفید شراب سے بھرے ہوں گے اور وہ شراب پینے والوں کیلئے سراسر لذت ہوگی۔ کَاْسٍشراب یا وہ برتن جس میں شراب موجود ہو۔ ایک شاعر کا قول ہے : وَکَاْسٍ شَرِبْتُ عَلٰی لَذَّۃٍ (اس مصرع میں کاْس بمعنی شراب ہے کیونکہ پینے کی چیز شراب ہے ‘ برتن نہیں) ۔ اخفش کا قول ہے : قرآن میں جس جگہ بھی لفظ کاْس آیا ہے ‘ اس سے مراد شراب ہے۔ معین نہروں میں بہتی ہوئی شراب جو آنکھوں سے نظر آئے گی (اس وقت معین عین سے ماخوذ ہوگا اور عین کا معنی ہے آنکھ) یا چشموں سے نکلتی ہوئی شراب (اس وقت بھی لفظ معین کا مادہ عین ہی ہوگا ‘ لیکن عین سے مراد ہوگا چشمہ) معین حقیقت میں پانی کی صفت ہوتی ہے۔ عَانَ الْمَآء پانی پھوٹ نکلا ‘ لیکن جنت کی شراب بھی پانی کی طرح رواں ہوگی ‘ اسلئے اس کو معین فرمایا ‘ یا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جنت کو جو چیز پینے کیلئے ملے گی ‘ اس میں ہر قسم کے شربت کی لذت ہوگی۔
Ayah 37:46

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی

بَیْضَآءَ لَذَّۃٍ حسن نے کہا : جنت کی شراب دودھ سے زیادہ سفید ہوگی۔ لذّۃ یا مصدر ہے زیادہ لذیذ ہونے کی وجہ سے اس کو بعینہ لذت قرار دیا ‘ یا لذّۃ مؤنث ہے اس کا مذکر لَذٌّ آتی ہے اور لَذٌّ کا وزن فَعْلٌ ہے ‘ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جیسے لذیذ صیغۂ صفت ہے۔
Ayah 37:47

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس سے دردِ سر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے

لا فیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون اس سے نہ سر چکرائے گا ‘ نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔ لَا فِیْھاَ غَوْلٌ۔ غال ‘ یغول سے ہے خرابی۔ غَال تباہ کردیا ‘ بگاڑ دیا۔ مطلب یہ ہے کہ دنیوی شراب کی طرح جنت کی شراب میں کوئی خرابی نہیں ہوگی ‘ نہ پیٹ میں اینٹھن ہوگی ‘ نہ درد سر ‘ نہ قے ‘ نہ پیشاب ‘ نہ ہوش و خرد کا بگاڑ۔ یُنْزَفُوْنَ - نَزِف الشارب پینے والے کی عقل جاتی رہی۔ اَنْزَفَ الشارب (باب افعال سے) پینے والے کی عقل یا شراب ختم ہوگئی۔ نَزْفٌکا اصل لغوی ترجمہ ہے کسی چیز کا ختم ہوجانا ‘ یہ لازم بھی ہے اور متعدی بھی ‘ کذا فی القاموس۔ نزف سے باب افعال کا وزن معنی کی کثرت اور شدت پر دلالت کرتا ہے ‘ یعنی خمر جنت کے پینے سے پینے والوں کی عقل بالکل زائل نہیں ہوگی اور نہ وہ پینا ختم کریں گے۔ عقل کا بگاڑ اور مشروب کا ختم ہوجانا پینے والے کیلئے بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

وعندھم قاصرات الطرف عین۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی
Ayah 37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

کانھن بیض مکنون جو ایسے صاف رنگ کی ہوں گی جیسے چھپے ہوئے انڈے۔ قَاصِرَات الطَّرْفِ یعنی ان حوروں کی نظریں صرف اپنے شوہروں پر مقصور ہوں گی ‘ دوسرے لوگوں کے حسن کی طرف وہ نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے۔ عِیْنٌ وہ حسین آنکھوں والیاں ہوں گی۔ مرد کیلئے اَعْین اور عورت کیلئے عینائبولا جاتا ہے ‘ یعنی حسین چشم۔ عِیْنٌ کا اطلاق حسن چشم مردوں کیلئے بھی ہوتا ہے اور عورتوں کیلئے بھی۔ بَیْضٌ انڈے ‘ یعنی شتر مرغ کے انڈے۔ بیض ‘ بیضۃٌ کی جمع ہے۔ حسن نے کہا : شترمرغ اپنے انڈوں کو ہوا اور غبار سے محفوظ رکھنے کیلئے پروں میں چھپا لیتا ہے اور شترمرغ کے انڈوں کا رنگ سفید مائل بزردی ہوتا ہے۔ عرب کے نزدیک عورتوں کا یہ رنگ حسین ترین رنگ ہے ‘ اسی لئے عورتوں کو شترمرغ کے انڈوں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ابن جریر نے حضرت ام سلمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عِیْن موٹی آنکھوں والیاں (جن کی پلکیں آنکھوں کو چھپا لیں گی اس طرح) جیسے گدھ کے پر (یعنی حوروں کی آنکھیں غلافی ہوں گی) یہ بھی حضور ﷺ کا فرمان اسی آیت کے ذیل میں منقول ہے کہ حوروں کی کھال اتنی باریک ہوگی جیسے انڈے کے بیرونی چھلکے کے اندر چمٹا ہوا ایک باریک غلاف ہوتا ہے۔ مَکْنُوْنٌ چھپایا ہوا ‘ یعنی جس کو شترمرغ نے اپنے پروں سے چھپالیا ہو۔
Ayah 37:50

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے

فاقبل بعضھم علی بعض یتساء لون پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے۔ بَعْضُھُمْ یعنی بعض اہل جنت دوسرے لوگوں سے دور شراب چلنے کے وقت باتیں کریں گے ‘ دور شراب کے وقت باہم بات چیت بہت لذیذ ہوتی ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے ؂ وَمَا بَقِیَتْ مِنَ اللَّذَّات الاَّ اَحَادِیْثَ الْکِرَامِ عَلَی الدُاَمِ اب کوئی لذت باقی نہیں رہی ‘ صرف اتنی لذت باقی ہے جو (شراب کے) دور کے وقت شریف سرداروں کی گفتگو میں ہوتی ہے۔ اَقْبَلَ بصیغۂ ماضی مفہوم جملہ کو پختہ بنانے کیلئے ہے (گویا ایسا ہی ہوچکا) ۔
Ayah 37:51

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا

قال قائل منھم انی کان لی قرین۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ (دنیا میں) میرا ایک ساتھی تھا
Ayah 37:52

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

(جو) کہتا تھا کہ بھلا تم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو

یقول ئانک لمن المصدقین۔ جو کہتا تھا : کیا تو قیامت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہے ؟
Ayah 37:53

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا؟

اذامتنا وکنا ترابا وعظاما انا لمدینون کیا جب ہم مرجائیں تے اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم جزا و سزا پائیں گے ؟ یعنی اہل جنت میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھ تھا جو قیامت کا منکر تھا۔ مجاہد نے کہا : قریب سے شیطان مراد ہے ‘ یعنی شیطان میرا ساتھی تھا۔ دوسرے اہل تفسیر کے نزدیک قرین سے مراد انسان ہی ہے جو دنیا میں اس جنتی کا ساتھی تھا۔ مقاتل کے نزدیک قرین سے مراد ہے بھائی ‘ دنیا میں دونوں بھائی تھے۔ بعض علماء کا قول ہے : وہ دونوں دنیا میں شریک تھے۔ ایک کافر تھا جس کا نام مطروس تھا ‘ دوسرا مؤمن تھا جس کا نام یہودا تھا۔ انہی دونوں کے بارے میں سورة کہف کی آیت واضْرِبْ لَھُمْ مَثَلاً رَّجُلَیْنِ الخ میں بیان فرمایا۔ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ یعنی کیا تو قیامت بپا ہونے کو صحیح مانتا ہے اور جو لوگ اس کو سچ مانتے ہیں ‘ کیا تو بھی انہی میں سے ہے ؟ کیا خاک اور ہڈیاں رہ جانے کے بعد ہم کو پھر زندہ کر کے سزا اور جزا دی جائے گی ؟ یعنی ایسا ہونا بہت ہی عجیب اور بعید از عقل ہے۔ ءَاِنَّا میں استفہام تعجبی ہے۔
Ayah 37:54

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

(پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟

قال ھل انتم مطلعون (ارشاد ہوگا :) کیا تم جھانک کر اس کو دیکھنا چاہتے ہو ؟ اس جملہ کا قائل بھی وہی ہوگا جو پہلے جملہ کا قائل ہوگا ‘ یعنی وہ شخص کہے گا : کیا تم دوزخیوں کو جھانک کر دیکھو گے کہ ان کے ساتھ میرا ساتھی بھی ہے ؟ یا یہ قول اللہ کا یا کسی فرشتہ کا ہوگا ‘ یعنی کوئی فرشتہ کہے گا کہ دوزخ میں اس شخص کو جھانک کر دوسرے دوزخیوں کے ساتھ دیکھو کہ ان کا مقام تمہارے مقام کے مقابلہ میں کیسا ہے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جنت میں کچھ دریچے ہوں گے جن سے اہل جنت دوزخیوں کو دیکھ سکیں گے۔
Ayah 37:55

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا تو اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا

فاطلع فراء فی سواء الجحیم سو وہ شخص جھانکے گا تو اپنے ساتھی کو وسط جہنم میں دیکھے گا۔ سَوَآءِ الْجَحِیْمِدوزخ کے درمیان۔ وسط شئ کو سواء اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس کے تمام اطراف کا فاصلہ برابر ہوتا ہے۔ ہنّاد نے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ وہ شخص دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا ‘ پھر اپنے ساتھیوں سے کہے گا : میں نے لوگوں کی کھوپڑیاں ابال کھاتی ہوئی دیکھیں۔
Ayah 37:56

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا کہ خدا کی قسم تُو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا

قال تا اللہ ان کدت لتردین۔ (اس کو دوزخ میں دیکھ کر) کہے گا : خدا کی قسم ! تو تو مجھے تباہ ہی کرنے کو تھا
Ayah 37:57

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں

ولو لا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین ‘ اگر میرے رب کا مجھ پر فضل نہ ہوتا تو میں بھی ماخوذ لوگوں میں ہوتا۔ یعنی قریب تھا کہ بہکا کر تو مجھے ہلاک کردیتا۔ نِعْمَۃُ رَبِّیْ یعنی اللہ کی طرف سے مجھے ہدایت اور میرا بچاؤ نہ ہوتا تو میں بھی تیرے ساتھ دوزخ میں ڈال دیا جاتا۔
Ayah 37:58

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

افما نحن بمیتین۔ کیا ہم بجز پہلی بار مر چکنے کے
Ayah 37:59

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

ہاں (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا

الا موتتنا وما نحن بمعذبین پھر (کبھی) نہیں مرنے کے اور نہ ہم کو (کبھی) عذاب ہوگا ؟ یعنی کیا سوائے اس موت کے جو دنیا میں ہوچکی ‘ آئندہ ہم کبھی مرنے والے نہیں ؟ یہ استفہام تقریری ہے ‘ مخاطب کو دنیا میں جس بات کا انکار تھا ‘ اس کے اقرار پر آمادہ کیا گیا ہے۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ جنتی شخص اپنے جہنمی ساتھی سے جو بات کہے گا ‘ یہ جملہ اس کا آخری حصہ ہے اور اس کلام سے اس کو توبیخ کرنی مقصود ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنتی کے اس کلام کے مخاطب اس کے جنتی ساتھی ہوں ‘ اس صورت میں اللہ کی نعمت کا ذکر اور اس پر تعجب کا اظہار اور دوزخی ساتھی پر طنز اس کلام کا مقصود ہوگا۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ جب موت کو ذبح کردیا جائے گا تو اہل جنت بطور بشارت و مسرت ملائکہ سے کہیں گے : کیا ہم کو پھر کبھی مرنا ہوگا ؟ فرشتے کہیں گے : نہیں۔ اس پر جنتی کہیں گے :
Ayah 37:60

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بےشک یہ بڑی کامیابی ہے

ان ھذا الھو الفوز العظیم (جنت کے اندر) یہ (دوامی زندگی) بلاشبہ بڑی کامیابی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہو۔
Ayah 37:61

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں

لمثل ھذا فلیعمل العاملون ایسے ہی (مقام یا راحت و نعمت) کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے۔ یعنی دنیوی منافع کے حصول کیلئے کوشش بیکار ہے۔ اول تو دنیوی کامیابی دکھوں سے بھری ہوئی ہے ‘ پھر فنا پذیر بھی ہے۔
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت؟

اذلک خیر نزلا ام شجرۃ الزقوم یہ (یعنی اہل جنت کی راحت و نعمت) بہتر دعوت ہے یا زقوم کا درخت ؟ شجرۂ زقوم دوزخیوں کا کھانا ہے۔ زقوم ایک نہایت بدبودار ‘ بدمزہ ‘ مکروہ شکل کا درخت ہوگا۔ دوزخیوں کو مجبور کر کے کھلایا جائے گا ‘ انتہائی کراہت کے باوجود وہ زقوم کھانے پر مجبور ہوں گے۔ عربی محاورہ ہے : تَزَقَّمَ الطَّعَام بڑی ناگواری اور دشواری کے ساتھ اس نے کھانا کھایا۔ نُزُلْ وہ چیز جو مہمان کے آتے ہی اس کے سامنے لائی جاتی ہے (ابتدائی پیشکش) اس لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورۂ بالا نعمتیں تو اہل جنت کو ابتدائی پیشکش کے طور پر دی جائیں گی ‘ اس کے بعد کیا کیا عطا کیا جائے گا ‘ اس کو سمجھنے سے عقل قاصر ہے۔ اسی طرح دوزخیوں کو ابتدائی پیشکش کے طور پر زقوم دیا جائے گا (اور اس کے بعد کیسا عذاب ہوگا ‘ اس کو سمجھنا عقل کی رسائی سے خارج ہے) ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو باشندگان زمین کی (ساری) معاش بگڑ جائے (اس سے اندازہ کرو کہ) جس کا کھانا زقوم ہو ‘ اس کی (بدمزگی ‘ کراہت طبع اور ناگواری کی) کیا حالت ہوگی۔ ابو عمران خولانی کی روایت سے ابونعیم نے اور زوائد الزہد میں عبد اللہ بن احمد نے بیان کیا ہے کہ زقوم میں سے آدمی جتنا نوچے گا ‘ زقوم اس آدمی کا بھی اتنا ہی (گوشت) نوچ لے گا۔
Ayah 37:63

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے

انا جعلناھا فتنۃ للظالمین ہم نے اس درخت کو کافروں کیلئے آزمائش بنایا ہے۔ فتنہ سے مراد ہے دنیا میں آزمائش اور آخرت میں عذاب اور تکلیف۔ ظالمین سے مراد ہیں کافر۔ کافر کہا کرتے تھے : آگ تو درخت کو جلا ڈالتی ہے ‘ پھر آگ میں درخت کیسے ہوگا ؟ ابن زبعری نے سرداران قریش سے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں ‘ حالانکہ بربری زبان میں زقوم کا معنی ہے مکھن اور کھجور۔ ابوجہل ‘ ابن زبعری کو اپنے گھر میں لایا اور باندی سے کہا : جاریہ ! ہمارے لئے زقوم لا۔ باندی مکھن اور کھجوریں لے آئی ‘ ابوجہل نے کہا : زقوم کھاؤ ‘ یہی وہ زقوم ہے جس سے محمد ﷺ تم کو ڈراتے ہیں۔ ابن جریر نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابوجہل نے کہا : تمہارا ساتھی کہتا ہے کہ آگ کے اندر ایک درخت ہوگا ‘ حالانکہ آگ درخت کو کھا لیتی ہے (پھر آگ میں درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ ) ہم تو خدا کی قسم ! زقوم ‘ کھجوروں اور مکھن ہی کو جانتے ہیں۔ اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی۔
Ayah 37:64

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اُگے گا

انھا شجرۃ تجرج فی اصل الجحیم۔ وہ بلاشبہ ایک درخت ہوگا جو قعر جہنم سے برآمد ہوگا ‘ اَصْلِ الْجَحِیْمِ یعنی قعر جہنم۔ سدی کا تفسیری قول اسی طرح آیا ہے ‘ لیکن حسن نے کہا : (جحیم سے مراد قعر جہنم ہے یعنی) اس درخت کی جڑ قعر جہنم میں ہوگی اور شاخیں دوزخ کے مختلف طبقات میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ طَلْعُھَا یعنی اس کے پھل ‘ پھل کو طلع اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس کا طلوع یعنی خروج (درخت سے) ہوتا ہے۔ الشَّیَاطِیْنَ ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : شیاطین سے مراد شیاطین (جن) ہی ہیں۔ بدصورتی میں زقوم کے پھلوں کو شیاطین کے سروں سے تشبیہ دی ہے ‘ کسی چیز کی انتہائی برائی ظاہر کرنے کیلئے اس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ شیاطین (اصلی شکل میں) اگرچہ نظر نہیں آتے ‘ لیکن دماغ میں ان کی (مفروضہ) صورتوں کا تصور بری ہی شکلوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک شیاطین سے مراد ہیں وہ بدصورت ‘ کریہہ المنظر سانپ جن کے سروں پر بال ہوتے ہیں ‘ شاید اسی کراہت شکل اور ہیبت ناک صورت کی وجہ سے ان کو شیاطین کہا جاتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ صحراء میں ایک نہایت بدنما ‘ تلخ ‘ بدبودار درخت ہوتا ہے جس کو عرب رؤس الشیاطین کہتے ہیں۔
Ayah 37:65

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اُس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر

اس کے پھل ایسے ہوں گے جیسے شیاطین کے سر۔
Ayah 37:66

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

فانھم لاکلون منھا فما لؤن منھا البطون سو دوزخی اس (درخت یا درخت کے پھلوں) کو کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے۔ مَلْاٌ برتن کو اتنا بھرنا کہ اس سے زیادہ ممکن نہ ہو (لبریز کردینا) یعنی بھوک کے غلبہ کی وجہ سے یا کسی جابر کے جبر کی وجہ سے وہ پیٹ بھر کر زقوم کھائیں گے۔
Ayah 37:67

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کر دیا جائے گا

ثم ان لھم علیھا لشوبا من حمیم پھر ان کو کھولتا ہوا پانی (پیٹ میں) ملا کردیا جائے گا۔ عَلَیْھَا یعنی پیٹ بھر کر کھانے کے بعد جب سخت پیاس لگے گی اور پانی طلب کریں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ثُمَّ (ترتیب زمانی کیلئے نہ ہو بلکہ) کراہت کی زیادتی اور ترقی کیلئے ہو (یعنی کھانا تو مکروہ ہوگا ہی ‘ پینا اس سے زیادہ مکروہ اور ناگوار ہوگا) ۔ لَشَوْبًاشوب ‘ آمیزش ‘ ملاوٹ۔ حمیم انتہائی گرم پانی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور پیٹ میں پہنچ کر وہ زقومی غذا سے خلط ملط ہوجائے گا۔
Ayah 37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا

ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم پھر ان کی واپسی جحیم کی طرف ہوگی۔ بغوی نے لکھا ہے : پہلے گرم پانی پلانے کیلئے ان کو کھولتے پانی کے مقام پر لے جایا جائے گا ‘ پھر لوٹا کر جحیم میں لے آیا جائے گا ‘ گرم پانی کا مقام جحیم سے باہر ہوگا۔ اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے آیت یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ وہ چکر کاٹتے رہیں گے دوزخ اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان۔
Ayah 37:69

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا

انھم الفوا بآءھم ضآلین۔ انہوں نے پایا اپنے باپ دادا کو گمراہ ‘
Ayah 37:70

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں

فھم علی اثارھم یھرعون تو یہ بھی ان کے نقش قدم پر (بغیر سوچے سمجھے) تیزی کے ساتھ دوڑے جا رہے ہیں۔ یعنی باپ دادا کی اندھی تقلید کی وجہ سے یہ بھی عذاب کے مستحق ہوئے۔
Ayah 37:71

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان سے پیشتر بہت سے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے

ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین۔ اور ان سے پہلے (اگلے لوگوں میں) اکثر گمراہ ہوچکے ہیں
Ayah 37:72

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے

ولقد ارسلنا فیھم منذرین۔ اور ہم نے ان میں بھی ڈرانے والے (پیغمبر) بھیجے تھے۔
Ayah 37:73

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا

فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین۔ سو دیکھ لو ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا ‘ جن کو ڈرایا گیا تھا
Ayah 37:74

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)

الا عباد اللہ المخلصین۔ ہاں ‘ وہ بندے جو خالص کر لئے تھے ‘ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اَلْاَوَّلِیْنَ یعنی گذشتہ امتیں۔ مُنْذِرِیْنَ یعنی انبیاء جنہوں نے کافروں کو انجام دے ڈرایا تھا۔ فَانْظُرْ روئے خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے ‘ لیکن مرکز تخاطب قوم ہے ‘ جس نے گذشتہ اقوام کے واقعات سنے اور آثار باقیہ دیکھے تھے۔ کَیْفَ کَان میں استفہام تعجب آگیں ہے ‘ اس سے مقصود طلب علم نہیں ‘ بلکہ محقق طور پر یہ بتادینا مقصود ہے کہ دنیا اور آخرت میں یقینی طور پر کافروں کو سزا اور پاداش عمل ملتی ہے۔ اِلاَّ عِبَاد اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ یعنی وہ لوگ بدانجام سے مستثنیٰ ہیں جو پیغمبروں کے خوف دلانے سے متنبہ ہوگئے اور بغیر شرک کی آمیزش کے خالص طور پر اللہ کی فرمانبرداری کی ‘ ایسے لوگ یقیناً عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ بطور اجمال مُنْذِرین (انبیاء) اور مُنْذَرین (امم انبیاء) کا ذکر آیات بالا میں کرنے کے بعد آئندہ آیات میں بعض قصوں کی کچھ تفصیل بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا :
Ayah 37:75

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں

ولقد نادانا نوح فلنعم الجیبون اور ہم کو نوح نے پکارا ‘ سو ہم خوب فریاد سننے والے ہیں۔ سابق آیت میں فرمایا تھا : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْھِمْ مُّنْذِرِیْنَ 5 اس میں عموماً سارے پیغمبروں کا ذکر ہوگیا ‘ اب خصوصیت کے ساتھ حضرت نوح کا ذکر شروع فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے ایک زمانہ میں قوم نوح گمراہ ہوگئی تھی ‘ ہم نے ان کو ہدایت کیلئے نوح کو بھیجا ‘ نوح نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ قوم نے دعوت نہیں مانی اور نوح کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا کہ جو لوگ ایمان لانے والے تھے ‘ وہ لا چکے ‘ آئندہ قوم کا کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا۔ نوح جب مایوس ہوگئے تو انہوں نے ہم سے دعا کی کہ ان کی قوم کو تباہ کردیا جائے۔ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ہم (اپنے خاص بندوں کی دعا) اچھے قبول کرنے والے ہیں۔
Ayah 37:76

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

ونجینہ واھلہ من الکرب العظیم اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل (یعنی پیرو وں) کو بڑے دکھ سے نجات دی۔ کَرْبِ عَظِیْم سے مراد ہے قوم والوں کے ہاتھوں سے پہنچنے والا دکھ اور تکلیفیں۔
Ayah 37:77

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

وجعلنا ذریتہ ھم البقین اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا۔ یعنی نوح کی قوم میں سے کسی کی نسل سوائے نوح کی نسل کے باقی نہیں رہی۔ ترمذی وغیرہ نے حضرت سمرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وہ) حام ‘ سام اور یافث (تین لڑکے باقی) رہ گئے تھے۔ دوسرے سلسلۂ روایت میں آیا ہے کہ سام عرب کے جد اعلیٰ اور حام حبش کے جد اعلیٰ اور یافث روم کے جد اعلیٰ تھے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ کشتی سے اترنے کے بعد حضرت نوح کے لڑکوں اور ان کی بیبیوں کے علاوہ سب لوگ مرگئے۔ بظاہر قرآنی بیان سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں : نمبر 1 طوفان نوح سے سارے روئے زمین کے باشندے ڈوب گئے ‘ صرف وہی لوگ محفوظ رہے جو حضرت نوح پر ایمان لائے اور کشتی میں سوار ہوگئے ‘ نمبر 2 پھر سوائے اولاد نوح کے اور کسی مؤمن کی نسل باقی نہیں رہی۔ قیامت تک جتنے آدمی ہوں گے ‘ وہ سب نوح کی نسل سے ہوں گے (گویا نوح ‘ آدم ثانی ہیں۔ مترجم) سعید بن مسیب کا قول ہے کہ نوح کے تین بیٹے (محفوظ رہے) تھے : سام ‘ حام ‘ یافث۔ سام عرب ‘ فارس اور روم کے جداعلیٰ ہوئے ‘ حام کی نسل میں سارے افریقن ہیں اور یافث کی اولاد میں ترک ‘ خرز ‘ یاجوج ماجوج اور وہاں کے ‘ یعنی ہند کے بلاد شرقیہ کے رہنے والے ہیں۔ میری (یعنی مفسر کی) تحقیق یہ ہے کہ حضرت نوح کی بعثت سارے انسانوں کیلئے نہیں تھی ‘ یہ خصوصیت تو صرف رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ حضرت نوح کی بعثت صرف ان کی قوم کیلئے مخصوص تھی ‘ جب قوم والے ایمان نہ لائے تو آپ نے ان کیلئے بددعا کی اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا : رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا اس جگہ الارض سے مراد ہے محدود خطہ ارض ‘ یعنی ان کافروں کی سرزمین جو حضرت نوح پر ایمان نہیں لائے (یعنی عراق) اس تشریح پر ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ سے مراد یہ ہوگی کہ اس ملک میں حضرت نوح کی نسل کے علاوہ اور کوئی انسان باقی نہیں رہا ‘ اس صورت میں آیت میں حصر اضافی ہوگا ‘ یعنی نوح کی قوم میں سے سوائے ان کی اولاد کے اور کوئی باقی نہیں رہا۔
Ayah 37:78

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا

وترکنا علیہ فی الاخرین۔ اور ہم نے ان کیلئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی
Ayah 37:79

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام

سلام علی نوح فی العلمین کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں۔ الاٰخَرِیْن سے مراد ہیں پیچھے آنے والے لوگ۔ سَلاَمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ آنے والے لوگوں کا مقولہ ہوگا جس کو اللہ نے نقل فرما دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آئندہ لوگ نوح کیلئے دعا کریں گے اور سلام بھیجیں گے اور یہ الفاظ کہیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ جملہ اللہ ہی کا قول ہے اور اللہ ہی نے حضرت نوح پر سلام بھیجا ہے ‘ آنے والے لوگوں کا مقولہ نقل نہیں کیا۔ اس صورت میں ترکْنَا کا مفعول محذوف ہوگا ‘ یعنی ہم نے نوح کیلئے آئندہ لوگوں میں اچھا ذکر اور قابل ستائش شہرت کردی۔
Ayah 37:80

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

انا کذلک نجزی المحسنین ہم بھلائی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ جیسے نوح کو دی کہ ان پر اپنی طرف سے سلام بھیجا اور آنے والے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل باقی رکھا۔