37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 37:121

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بےشک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

انا کذلک نجری المحسنین۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
Ayah 37:122

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

انہما من عبادنا المؤمنین دونوں بلاشبہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔ ان جملوں کی تشریح سطور بالا میں گذر چکی ہے۔
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے

وان الیاس لمن المرسلین اور یقیناً الیاس پیغمبروں میں سے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : الیاس ‘ ادریس ہی تھے (دونوں نام ایک ہی پیغمبر کے تھے) مصحف ابن مسعود میں وان ادریس لمن المرسلین لکھا ہوا تھا۔ عکرمہ کا قول بھی یہی ہے۔ باقی دوسرے علماء قائل ہیں کہ الیاس ‘ ادریس کے علاوہ ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : الیاس ‘ حضرت الیسع کے چچا کے بیٹے تھے۔ محمد بن اسحاق نے حضرت الیاس کا نسب اس طرح بیان کیا ہے : الیاس بن بشیر بن قیحاص بن عیراز بن ہارون بن عمران۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے : اصحاب روایت کہتے ہیں کہ جب الیاس سے پہلے جو پیغمبر تھے ‘ ان کی وفات ہوگئی تو بنی اسرائیل میں نئی نئی بدعتیں بڑھ گئیں ‘ شرک پھیل گیا ‘ بت نصب کر دئیے گئے ‘ بتوں کی پوجا ہونے لگی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کیلئے الیاس کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ حضرت موسیٰ کے بعد انبیاء کی بعثت اس غرض سے ہوتی تھی کہ توریت کے بھولے ہوئے احکام کو ازسرنو تازہ کردیا جائے۔ بنی اسرائیل شام میں پھیلے ہوئے تھے ‘ اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت یوشع بن نون نے جو ملک شام فتح کیا تھا تو وہاں بنی اسرائیل کو بسا دیا تھا اور ان میں سے ایک سبط (خاندان) کو بعلبک اور اس کے اطراف میں آباد کردیا تھا ‘ انہی میں سے الیاس پیغمبر ہوئے ‘ اللہ نے ان کی ہدایت کیلئے الیاس کو نبی بنا کر بھیجا۔ اس زمانہ میں بعلبک کا بادشاہ اجب تھا۔ اجب نے بنی اسرائیل کو بت پرستی پر مجبور کیا ‘ کیونکہ وہ خود بت پرست تھا ‘ بعل نامی بت کی پوجا کرتا تھا۔ یہ بت دس ہاتھ لمبا تھا اور اس کے چارمنہ تھے۔ حضرت الیاس تنہا اللہ کی عبادت کی ان کو دعوت دیتے تھے ‘ لیکن آپ کی بات کوئی نہیں سنتا تھا ‘ صرف بادشاہ کے حکم کو مانتے تھے اور بادشاہ بت کو مانتا اور اس کی پوجا کو صحیح قرار دیتا تھا۔ الیاس ‘ بادشاہ کو بھی راہ راست دکھاتے اور اس کے احکام کی درستی کرتے رہتے تھے۔ بادشاہ کی ایک بیوی تھی جس کا نام ازبیل تھا۔ بادشاہ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی لڑائی پر یا اور کسی غرض سے ملک سے باہر جاتا تھا تو ازبیل کو اپنا جانشین بنا جاتا تھا۔ عورت باہر نکل کر حکومت کرتی تھی اور انبیاء کی (بڑی دشمن اور) زبردست قتالہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ بن زکریا پیغمبر کو بھی اسی نے قتل کرایا تھا۔ اس کا ایک پیشکار تھا جو دانشمند مرد مؤمن تھا ‘ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے تین سو انبیاء کو جن کو قتل کرنے کا ازبیل نے ارادہ کرلیا تھا ‘ اس قتالہ کے پنجے سے رہائی دلائی تھی اور جن انبیاء کو یہ قتالہ قتل کرچکی تھی ‘ ان کو تو قتل کرچکی تھی (ان کا تو ذکر ہی نہیں) یہ عورت بجائے خود باعصمت بھی نہیں تھی۔ سات اسرائیلی پیغمبروں سے نکاح کرچکی تھی اور ہر ایک کو دھوکے سے اس نے قتل کردیا تھا۔ اس کی عمر بہت تھی ‘ روایت میں آیا ہے کہ اس کی ستر اولادیں ہوئیں۔ بادشاہ اجب کا ایک ہمسایہ بڑا صالح تھا ‘ جس کا نام مزدکی تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا جس پر اس کا گذر بسر تھا ‘ اسی کی درستی اور اصلاح میں وہ مشغول رہتا تھا۔ یہ باغیچہ شاہی قصر کے برابر تھا ‘ بادشاہ اور اس کی بیگم دونوں اس باغیچہ میں سیر و تفریح کرتے ‘ وہاں کھاتے پیتے اور غسل کرتے تھے۔ اجب اپنے ہمسایہ سے اچھا سلوک کرتا تھا ‘ لیکن اس کی بیوی ازبیل ہمسایہ سے جلتی تھی اور کسی حیلے بہانے سے اس کو قتل کردینا چاہتی تھی تاکہ باغیچہ چھین لے ‘ کیونکہ لوگوں میں باغیچہ کی بڑی شہرت تھی اور لوگ اس کی خوبصورتی کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اجب اپنی بیوی کو روکتا رہتا تھا ‘ اسلئے بی بی کو مقصد برآری کا کوئی راستہ نہیں ملتا تھا۔ ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ بادشاہ دور کے سفر پر چلا گیا اور طویل مدت تک اپنے ملک سے غیرحاضر رہا۔ ازبیل نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور کچھ لوگوں کو حکماً اس امر پر آمادہ کرلیا کہ وہ مزدکی کے خلاف شہادت دیں اور یہ کہیں کہ مزدکی نے بادشاہ کو ہمارے سامنے گالی دی ہے۔ اس زمانہ کا یہ قانون تھا کہ بادشاہ کو گالی دینے والے کی سزا قتل تھی۔ ملکہ نے شہادت مرتب کرلی تو مزدکی کو طلب کیا اور اس سے کہا : تو نے بادشاہ کو گالی دی ہے ‘ مجھے یہ اطلاع ملی ہے۔ مزدکی نے انکار کیا تو ملکہ نے گواہوں کو بلوایا ‘ گواہوں نے مزدکی کے خلاف جھوٹی شہادت دی۔ ملکہ نے مزدکی کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اس کے باغیچے پر خود قبضہ کرلیا۔ اس بندۂ صالح کے (ناحق ‘ ظلماً ) قتل کئے جانے پر وہ لوگ غضب خداوندی میں مبتلا ہوگئے۔ بادشاہ سفر سے واپس آیا تو ملکہ نے اس کو یہ خبر سنائی۔ بادشاہ نے کہا : تو نے اچھا نہیں کیا۔ میرا خیال ہے کہ ہم آئندہ فلاح نہیں پائیں گے۔ ایک مدت سے وہ ہمارے پڑوس میں رہتا تھا اور ہم نے بھی اس کا پڑوس اچھی طرح نباہا تھا اور ہر طرح کی ایذارسانی کو اس سے دور رکھا تھا ‘ کیونکہ اس کا حق ہم پر واجب تھا ‘ لیکن تو نے بدترین سلوک کے ساتھ اس کا کام تمام کردیا۔ عورت بولی : مجھے تو آپ کی وجہ سے غصہ آیا اور آپ ہی کے فیصلہ کے موافق میں نے فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے کہا : کیا تیرے لئے برداشت کی گنجائش نہ تھی کہ اس کے حق ہمسائیگی کا لحاظ کرتی ؟ عورت نے کہا : اب تو جو کچھ ہوگیا ‘ سو ہوگیا۔ اللہ نے حضرت الیاس کو شاہ اجب اور اس کی قوم کے پاس یہ اطلاع دینے کیلئے بھیجا کہ اللہ کے ولی کو جب لوگوں نے ظلم سے قتل کردیا تو اس حرکت سے اللہ سخت ناراض ہوگیا اور اس نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اگر بادشاہ اور اس کی ملکہ اپنی حرکت سے توبہ نہیں کریں گے اور باغیچہ مزدکی کے وارثوں کو لوٹا کر نہیں دیں گے تو اللہ ان کو تباہ کر دے گا اور باغیچہ کے اندر ہی دونوں کی مردار لاشیں پھینک دے گا کہ ان کی ہڈیاں گوشت سے ننگی ہوجائیں گی۔ الیاس نے حسب الحکم یہ پیام پہنچا دیا ‘ بادشاہ یہ بات سن کر سخت غضبناک ہوگیا اور کہنے لگا : الیاس ! تو جس بات کی مجھے دعوت دے رہا ہے ‘ وہ غلط ہے۔ فلاں فلاں بادشاہوں نے ہماری طرح بتوں کی پوجا کی ‘ اس کے باوجود وہ کھاتے رہے ‘ مزے اڑاتے رہے ‘ حکومت کرتے رہے اور جس بات کو تو باطل (غلط اور بےحقیقت) قرار دے رہا ہے ‘ ان کو اس باطل پرستی سے کوئی دنیوی نقصان نہیں پہنچا ‘ اور ہم اپنے خیال میں ان سے برتر نہیں ہیں۔ غرض بادشاہ نے حضرت الیاس کو قتل کرنے اور دکھ پہنچانے کا ارادہ کرلیا۔ حضرت الیاس کو جب بادشاہ کی شرارت کا احساس ہوگیا تو آپ اس کو چھوڑ کر چل دئیے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کہیں سکونت پذیر ہوگئے۔ بادشاہ دوبارہ بعل کی پوجا کرنے لگا۔ الیاس کسی بڑے اونچے دشوار گذار پہاڑ پر چڑھ گئے اور وہاں ایک غار میں داخل ہوگئے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ سات برس آپ نے آوارگی ‘ خوف (اور خانہ بدوشی) کی حالت میں چھپتے پھرتے ‘ زمین کی گھاس اور درختوں کے پھل کھا کھا کر گذار دئیے۔ بادشاہ کے آدمی آپ کی تلاش میں رہے ‘ آپ کے پیچھے جاسوس بھی لگا دئیے ‘ لیکن اللہ نے آپ کو پوشیدہ رکھا۔ سات سال پورے ہوگئے تو اللہ نے آپ کو برآمد ہونے اور قوم سے انتقام لینے کی اجازت عطا فرمائی۔ چناچہ اجب کا سب سے پیارا بیٹا جو باپ کا بہت زیادہ ہم شکل تھا ‘ بحکم خدا اتنا سخت بیمار ہوگیا کہ باپ کو اس کی طرف سے ناامیدی ہوگئی۔ اجب نے اپنے معبود بعل سے دعا کی (لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا) اجب اور اس کی رعایا ‘ سب بعل کی پرستش میں مبتلا تھے ‘ اس کی تعظیم اس حد تک کرتے تھے کہ اس کی نگرانی اور خدمت کیلئے چار سو مجاور مقرر کر رکھے تھے جن کو وہ انبیاء کہتے تھے۔ شیطان بعل کے پیٹ میں گھس کر بولتا تھا اور یہ خدام کان لگا کر اس کا کلام سنتے تھے۔ شیطان کوئی گمراہ کن قانون مجاروں کے دلوں میں ڈال دیتا تھا اور مجاور وہ حکم لوگوں کو بتا دیتے تھے ‘ اسی لئے ان مجاروں کو انبیاء کہا جاتا تھا۔ شاہزادے کی بیماری جب شدت پکڑ گئی تو اس نے مجاوروں سے درخواست کی کہ بعل سے اس کے بیٹے کیلئے سفارش کریں۔ مجاوروں نے بعل سے دعا کی ‘ لیکن بعل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اللہ نے شیطان کو بت کے اندر گھسنے سے روک دیا ‘ اسلئے بت بول نہ سکا اور مجاور اس کے سامنے گڑگڑاتے رہے۔ جب مجاوروں کو زاری کرتے زیادہ وقت ہوگیا (اور کوئی نتیجہ نہ نکلا ‘ یہاں تک کہ بت نے کوئی بات بھی نہ کی) تو لوگوں نے اجب سے کہا : اطراف شام میں کچھ معبود اور ہیں ‘ آپ ان انبیاء کو ان کے پاس بھیجئے تاکہ وہ بعل سے سفارش کردیں۔ بعل آپ سے سخت ناراض معلوم ہوتا ہے ‘ اگر ناراض نہ ہوتا تو جواب ضرور دیتا اور آپ کی دعا قبول کرلیا۔ اجب نے کہا : بعل مجھ سے ناراض کیوں ہے ؟ میں تو اس کی پوجا کرتا اور اس کے حکم کو مانتا ہوں۔ لوگوں نے کہا : بعل کی ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اب تک الیاس کو قتل نہیں کیا۔ اس کے قتل کرنے میں آپ سے کوتاہی ہوئی کہ وہ صحیح سالم بچ کر چلا گیا اور وہ آپ کے معبود کا منکر ہے۔ اجب نے کہا : میں الیاس کو کیسے قتل کرسکتا ہوں ؟ میں تو اپنے بیٹے کی بیماری میں لگا ہوا ہوں۔ میری یہی مشغولیت الیاس کی تلاش سے روک رہی ہے اور الیاس کا مقام بھی مجھے معلوم نہیں کہ وہاں سے اس کو گرفتار کرلیا جائے۔ میرا بیٹا اچھا ہوجائے تو الیاس کو ڈھونڈنے کی مجھے فراغت مل جائے گی ‘ پھر میں اس کو کہیں پا کر قتل کر دوں گا اور اپنے معبود کو راضی کرلوں گا۔ اس کے بعد اجب نے چار سو انبیاء کو ملک شام کے بتوں کے پاس یہ درخواست کرنے کیلئے بھیجا کہ وہ اجب کے معبود سے بیٹے کو تندرست کردینے کی سفارش کردیں۔ حسب الحکم انبیاء روانہ ہوگئے۔ جب یہ لوگ پہاڑ کے سامنے پہنچے ‘ جس میں الیاس سکونت پذیر تھے تو اللہ نے الیاس کے پاس وحی بھیجی کہ اب تم نیچے اتر کے ان کے سامنے جاؤ اور ان سے گفتگو کرو ‘ ان سے کوئی خوف نہ کرو۔ میں ان کی شرارت کو تمہاری طرف پھیر دوں گا (یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے) اور ان کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دوں گا۔ حسب الحکم الیاس پہاڑ سے اتر آئے۔ جب ان کے سامنے پہنچے تو ان کو ٹھہر جانے کا حکم دیا ‘ سب رک گئے۔ الیاس نے فرمایا : اللہ نے مجھے تمہارے پاس اور ان لوگوں کے پاس جن کو تم اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہو ‘ ایک پیام دے کر بھیجا ہے کہ لوگو ! اپنے رب کا پیام خوب سن لو اور واپس جا کر اپنے آقا کو بھی پہنچا دو اور اس سے کہہ دو کہ اللہ فرماتا ہے : اے اجب ! تو نہیں جانتا کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ؟ میں ہی بنی اسرائیل کا خدا ہوں ‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور رزق دیا ہے اور وہی ان کو زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ تو دوسروں کو میرا شریک قرار دیتا اور میرے سوا ان سے اپنے بیٹے کی شفا مانگتا ہے ‘ جن کے قبضے میں اگر میں نہ چاہوں تو کچھ بھی نہیں۔ میں اپنے نام کی قسم کھاتا ہوں کہ بیٹے کے سلسلے میں تجھے ضرور غضب میں مبتلا کروں گا اور ضرور ضرور اس پر موت کو مسلط کر دوں گا تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ میرے سوا کوئی بھی اس کیلئے کچھ نہیں کرسکتا۔ حضرت الیاس کا یہ کلام سن کر مجاور خوف زدہ ہوگئے اور لوٹ پڑے اور بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس کو بتایا کہ الیاس ہمارے پاس اتر کر آیا تھا اور اس نے ہمیں ٹھہر جانے کا حکم دیا ‘ ہم ٹھہر گئے۔ ہمارے دلوں میں اس کا رعب بیٹھ گیا اور ہیبت چھا گئی ‘ ہماری زبانیں بند ہوگئیں۔ ہم اتنی کثیر تعداد میں تھے ‘ لیکن اس سے بات بھی نہ کرسکے ‘ نہ اس کی بات کو جواب دے سکے۔ وہ ایک دراز قامت ‘ دبلاپتلا آدمی تھا ‘ سر کے بال جھڑ گئے تھے ‘ بدن کی کھال کھردری ہوگئی تھی۔ بالوں کا بنا ہوا ایک کرتہ اور چغہ پہنے ہوئے تھا ‘ کانٹوں سے اس نے کرتے کا گریبان سی لیا تھا۔ آخر ہم آپ کے پاس لوٹ آئے۔ غرض حضرت الیاس کی بات انہوں نے بادشاہ کو پہنچا دی۔ اس کے بعد الیاس کے زندہ رہتے ہوئے اجب کو اپنی زندگی بےسود معلوم ہونے لگی ‘ لیکن بغیر دھوکے اور فریب کے الیاس تک اس کی دسترس بھی ممکن نہ تھی ‘ اسلئے (اس نے ایک چال چلی) اپنی قوم کے پچاس طاقتور ‘ قوی آدمی مقرر کئے اور ان کو ذمہ دار بنا دیا اور حکم دے دیا کہ فریب سے کام لیں اور دھوکے میں ڈال کر الیاس کو قتل کردیں اور الیاس کو جا کر لالچ دیں کہ ہم اور وہ لوگ جن کو ہم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہیں ‘ سب کے سب آپ پر ایمان لے آئے ہیں۔ ایسی باتیں سن کر الیاس کو اطمینان ہوجائے گا اور وہ دھوکا کھا جائیں گے اور اپنے آپ پر تم لوگوں کو قابو دے دیں گے ‘ تم ان کو لے کر بادشاہ کے پاس آجانا۔ حسب الحکم یہ لوگ روانہ ہوگئے اور جس پہاڑ میں الیاس سکونت گزیں تھے ‘ جب اس پر چڑھے تو منتشر ہوگئے اور انتہائی اونچی آواز سے الیاس کو پکارنے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! آپ ہم پر کرم کیجئے اور ہمارے سامنے آ جائیے ‘ ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں اور ہمارا بادشاہ اجب اور سارے لوگ بھی آپ پر ایمان لا چکے ہیں۔ تمام بنی اسرائیل آپ کو سلام کہتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ آپ کا پیام ہم کو پہنچ گیا اور جو کچھ آپ نے فرمایا ‘ ہم نے اس کو جان لیا اور آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی دعوت کو قبول کرلیا۔ اب آپ ہمارے پاس آ جائیے اور ہمارے ساتھ قیام فرمائیے۔ جو کچھ آپ ہم کو حکم دیں گے ‘ ہم اس کی اطاعت کریں گے اور جس بات سے روکیں گے ‘ اس سے باز رہیں گے۔ اب جبکہ ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں اور آپ کے فرمانبردار ہوگئے ہیں تو آپ کیلئے ہم سے الگ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ ہمارے پاس واپس آ جائیے۔ ان لوگوں کی باتیں ایک دھوکا تھیں ‘ ایک فریب تھا۔ حضرت الیاس کے دل میں ان کا کلام بیٹھ گیا۔ آپ کو ان کے مؤمن ہونے کا خیال بھی ہوا اور (ایسی حالت میں) برآمد نہ ہونے سے اللہ کی ناراضگی کا اندیشہ بھی ہوا ‘ لیکن اللہ کی طرف سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ ابھی توقف کرنا چاہئے اور اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔ چناچہ آپ نے (دعا کی اور) کہا : اے اللہ ! اگر یہ لوگ اپنے قول میں سچے ہیں تو مجھے برآمد ہونے کی اجازت عطا فرما دے اور اگر یہ جھوٹے ہیں تو ان کو مجھ سے باز رکھ اور ان پر ایسی آگ برسا جو ان کو سوختہ کر دے۔ ابھی یہ لفظ پورے نہ ہونے پائے تھے کہ اوپر سے آگ برسنے لگی اور سب جل کر رہ گئے۔ اجب اور اس کی قوم کو جب یہ اطلاع ملی ‘ تب بھی اجب اپنے ارادۂ شر سے باز نہیں آیا اور دوبارہ فریب سے کام لیا اور پہلی جماعت کے برابر ایک اور جماعت مقرر کی ‘ جو پہلی جماعت سے زیادہ طاقتور ‘ بڑی حیلہ ساز اور چالاک تھی۔ حسب ہدایت یہ لوگ چل دئیے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل گئے اور پکارنے لگے : اے اللہ کے نبی ! ہم اللہ کے غضب اور گرفت سے آپ کی پناہ چاہتے ہیں۔ وہ لوگ جو آپ کے پاس پہلے آئے تھے ‘ ہم ان کی طرح نہیں ہیں۔ وہ تو منافق تھے ‘ ہمارے مشورے کے بغیر وہ آپ کو فریب دینے کیلئے آئے تھے۔ اگر ہم کو ان کی حرکت کا علم ہوجاتا تو ہم ان کو قتل کردیتے اور آپ کو تکلیف نہ اٹھانی پڑتی۔ اب اللہ نے ان کا کام تمام کردیا ‘ ان کو ہلاک کردیا اور ہمارا اور آپ کا ان سے انتقام لے لیا۔ حضرت الیاس نے ان کی باتیں سن کر سابق کی طرح اللہ سے دعا کی ‘ اللہ نے فوراً ان پر آگ کی بارش کردی ‘ جس سے سب سوختہ ہوگئے۔ اس تمام کارروائی کے دوران شہزادہ کی بیماری کی مصیبت شدید ہوتی رہی۔ بادشاہ نے جب دوسرے گروہ کے ہلاک ہوجانے کی خبر سنی تو اس کا غضب بلائے غضب ہوگیا اور خود الیاس کی تلاش میں جانا چاہا ‘ لیکن بیٹے کی بیماری آڑے آئی اور خود نہ جاسکا۔ ایک شخص اجب کی بیوی کا میر منشی یا سیکرٹری تھا اور (درپردہ) مؤمن تھا (لیکن بادشاہ کو اس کا مؤمن ہونا معلوم تھا) بادشاہ نے اس کو بھیجنے کی تجویز اس خیال سے کی کہ الیاس اس سے مانوس ہے اس کے ساتھ پہاڑ سے اتر کر آجائے گا اور چونکہ سیکرٹری کا مؤمن ہونا بادشاہ کو معلوم تھا اور یہ جاننے کے باوجود اس نے سیکرٹری کی طرف سے چشم پوشی محض اس کی کارگذاری ‘ امانت داری اور درستی رائے کی وجہ سے کر رکھی تھی ‘ اسلئے اس نے سیکرٹری پر یہی ظاہر کیا کہ میں الیاس سے کوئی بدسلوکی کرنا نہیں چاہتا۔ سیکرٹری کے ساتھ اس نے کچھ آدمیوں کی ایک جماعت بھی کردی تھی اور اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ اگر الیاس ساتھ آنا نہ چاہے تو گرفتار کر کے ‘ باندھ کے لے آئے اور اگر سیکرٹری پر اعتماد کر کے ساتھ آجائے تو پھر خوفزدہ کرنے اور ڈرانے کی ضرورت نہیں۔ سیکرٹری پر اس نے اپنی توبہ کا اظہار بھی کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اب جبکہ میرے آدمی جل چکے اور میرا بیٹا سخت بیمار ہے اور یہ سب مصبتیں مجھ پر آپڑی ہیں تو میں سمجھ گیا کہ یہ سب کچھ الیاس کی بددعا کا نتیجہ ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ الیاس ہم سب لوگوں کیلئے جو باقی رہ گئے ہیں ‘ بددعا کرے گا تو ہم سب ہلاک ہوجائیں گے ‘ اس لئے تم الیاس کے پاس چلے جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہم نے توبہ کرلی ہے اور (ا اللہ کی طرف) رجوع کرچکے ہیں اور ہماری یہ توبہ اور رضاء رب کی طلب اور ترک اصنام کا عمل اسی وقت صحیح ہوگا جب الیاس ہمارے پاس موجود ہوں ‘ اوامرو نواہی صادر کریں اور رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا راستہ بتائیں۔ بادشاہ نے اپنے ساتھیوں کو بھی ہدایت کردی تھی اور اس کے حکم کے مطابق علیحدگی میں انھوں نے بھی سیکرٹری کے سامنے اعتراف کرلیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ جن بتوں کی ہم پہلے پوجا کرتے تھے ‘ ان کی پوجا ہم نے چھوڑ دی ہے اور الیاس کے اتر کر آنے تک ہم نے اس معاملہ کو ملتوی کر رکھا ہے تاکہ وہی آکر ان کو جلا دیں اور برباد کردیں (ان باتوں میں سے کسی بات میں خلوص نہ تھا ‘ بلکہ یہ سب کچھ بادشاہ کا فریب تھا) ۔ غرض سیکرٹری اور اس کے ساتھ ایک جماعت سب روانہ ہوگئے اور حضرت الیاس والے پہاڑ پر سیکرٹری چڑھ گیا اور حضرت الیاس کو پکارا ‘ آپ نے اس کی آواز پہچان لی ‘ دل میں اس سے ملنے کا شوق پہلے ہی تھا ‘ آواز سن کر ملاقات کی ایک ہوک اٹھی ‘ فوراً اللہ کی طرف سے وحی بھی آگئی کہ باہر نکل آؤ اور اپنے صالح بھائی سے ملو اور اس سے (دوستی کے) عہد کی تجدید کرو۔ وحی آتے ہی حضرت الیاس سیکرٹری کے سامنے آگئے ‘ سلام علیک کی اور مصافحہ کیا اور خبر دریافت کی۔ مرد مؤمن نے کہا : مجھے اس ظالم اور سرکش قوم نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اس کے بعد پوری سرگذشت بیان کردی اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ نہ ہوں گے اور میں تنہا واپس جاؤں گا تو مجھے خوف ہے کہ بادشاہ مجھے قتل کر دے گا۔ اب جیسا چاہیں آپ مجھے حکم دیں ‘ میں اس کی تعمیل کروں گا۔ اگر آپ چاہیں تو میں بادشاہ سے کٹ کر آپ کے پاس ہی رہنے لگوں اور اس کو بالکل چھوڑ دوں اور اگر آپ چاہیں تو آپ کے ہمرکاب رہ کر میں اس سے مقابلہ کروں۔ اور اگر آپ کا ارادہ کچھ پیام دے کر مجھے اس کے پاس بھیجنے کا ہو تو میں آپ کا پیام بھی پہنچا دوں گا اور اگر آپ چاہیں تو اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے اس (الجھے ہوئے) معاملہ میں کشائش کا کوئی راستہ نکال دے۔ ا اللہ نے الیاس کے پاس وحی بھیجی کہ جتنی حرکتیں کی ہیں ‘ سب فریب اور دھوکا ہیں ‘ وہ تمہارے اوپر قابو پانا چاہتے ہیں۔ بادشاہ اجب کو اگر اس کے بھیجے ہوئے نمائندے واپس جا کر خبر دے دیں گے کہ اس مرد (مؤمن) کی تم سے ملاقات ہوگئی ہے اور وہ تم کو اپنے ساتھ نہ لے جاسکا ہے تو وہ اس شخص پر (تم سے مل جانے کی) تہمت لگائے گا اور سمجھ لے گا کہ مرد مؤمن نے تمہارے معاملہ میں سستی سے کام لیا ‘ اسلئے اس کے قتل ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ تم اس کے ساتھ چلے جاؤ ‘ میں تم دونوں کی طرف سے اجب کو روک دوں گا ‘ اس کے بیٹے کی مصیبت دوگنی کر دوں گا ‘ تاکہ بیٹے کے سوا کسی اور چیز کی اہمیت ہی اس کی نظر میں نہ رہے ‘ پھر اسی بری حالت میں اس کے بیٹے پر موت کو مسلط کر دوں ‘ جب وہ مرجائے گا تو اس وقت تو اس کے پاس سے لوٹ آنا۔ حضرت الیاس یہ حکم ملنے کے بعد ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوگئے اور سب لوگ اجب کے پاس پہنچ گئے۔ جونہی یہ لوگ پہنچے ‘ اللہ نے اجب کے بیٹے کی بیماری شدید کردی ‘ یہاں تک کہ موت اس کے گلوگیر ہوگئی۔ اس طرح اللہ نے اجب اور اس کے ساتھیوں کو الیاس کی طرف توجہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیا اور الیاس بخیریت واپس آگئے۔ جب اجب کا بیٹا مرگیا اور لوگ اس کے مسئلہ سے فارغ ہوگئے اور غم میں بھی کچھ کمی آگئی تو اس وقت الیاس کے سلسلے میں ان کی آنکھیں کھلیں اور سیکرٹری جو حضرت الیاس کو لایا تھا ‘ اس سے الیاس کے متعلق دریافت کیا۔ سیکرٹری نے کہا : مجھے الیاس کا کوئی علم نہیں۔ مجھے شہزادے کی موت اور اس کے غم نے فرصت ہی نہیں دی اور میرا خیال تھا کہ آپ نے الیاس کے متعلق کچھ اعتماد کرلیا ہوگا۔ اس جواب پر سیکرٹری کی طرف سے اجب نے پہلوتہی کرلی ‘ کیونکہ (گفتگو سے معلوم ہوگیا کہ سیکرٹری کو شہزادے کے مرنے کا) سخت غم تھا۔ جب حضرت الیاس کو پہاڑوں میں رہتے ہوئے ایک طویل مدت گذر گئی اور ان کو دوسرے آدمیوں کے ساتھ رہنے کا شوق پیدا ہوگیا تو پہاڑ سے اتر کر چل دئیے اور ایک اسرائیلی عورت کے گھر جا کر ٹھہرے ‘ یہ عورت مچھلی والے حضرت یونس بن متی کی ماں تھی۔ اس عورت کے گھر آپ چھ ماہ چھپے رہے ‘ یونس اس وقت شیرخوار بچہ تھا۔ یونس کی ماں حضرت الیاس کی خدمت خود کیا کرتی تھی اور اپنے مال سے ان کی مدد کرتی تھی۔ حضرت الیاس تو پہاڑوں کی سکونت کے عادی ہوچکے تھے ‘ یہاں گھروں کی تنگی میں رہنے سے اکتا گئے اور پہاڑ پر ہی چلا جانا آپ نے پسند کیا۔ آخر گھر سے نکل کر اپنی (کوہستانی) جگہ پر لوٹ آئے۔ حضرت الیاس کی جدائی سے یونس کی ماں بیتاب ہوگئی اور آپ کے نہ ہونے سے وحشت زدہ ہوگئی۔ پھر کچھ ہی مدت کے بعد جب اس نے اپنے یونس کا دودھ چھڑایا تو یونس کا انتقال ہوگیا۔ اب تو یونس کی ماں پر مصیبت عظیم آپڑی اور الیاس کو تلاش کرنے کیلئے گھر سے نکل کھڑی ہوئی اور برابر پہاڑوں پر چڑھتی اور گھومتی پھری۔ آخر آپ کو اس نے پا لیا اور عرض کیا : آپ کے جانے کے بعد میرے بچہ کے مرنے کی مجھ پر بپتا پڑگئی جس کی وجہ سے میری مصیبت میں بڑا اضافہ ہوگیا اور اس کے نہ ہونے سے میں بڑی دکھی ہوگئی ‘ میرا اس کے سوا کوئی اور بچہ بھی نہیں ہے۔ آپ مجھ پر رحم کیجئے اور اللہ سے دعا کر دیجئے کہ میرا بیٹا زندہ ہوجائے۔ میں نے اس کو دفن نہیں کیا ہے اور یونہی (کپڑے سے) ڈھانک دیا ہے اور اس کی موجودگی کو چھپا رکھا ہے۔ حضرت الیاس نے فرمایا : مجھے تو اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے (یعنی مردے کو زندہ کرنے کی دعا کا حکم نہیں دیا گیا ہے) اور میں تو بندہ ہوں ‘ وہی کرتا ہوں جس کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔ عورت یہ جواب سن کر بےقرار ہوگئی اور گڑگڑانے لگی۔ اللہ نے حضرت الیاس کے دل کو عورت کی (درخواست کی) جانب مائل کردیا ‘ پوچھا : تیرا بیٹا کب مرا ؟ عورت نے کہا : سات روز ہوئے۔ حضرت الیاس اس کے ساتھ چل کھڑے ہوئے اور سات روز چلنے کے بعد اس کے گھر پہنچے اور اسکے بیٹے کو 14 روز کا مردہ پایا۔ آپ نے وضو کیا ‘ نماز پڑھی اور دعا کی۔ اللہ نے یونس بن متی کو زندہ کردیا ‘ یونس زندہ ہو کر اٹھ بیٹھے۔ جونہی یونس اٹھ کر بیٹھے ‘ فوراً حضرت الیاس اچھل کر اٹھے اور یونس کو چھوڑ کر چل دئیے اور اپنے مقام پر لوٹ گئے۔ جب قوم کی نافرمانی بہت طویل ہوگئی تو حضرت الیاس ان کی نافرمانی سے بڑے تنگ دل ہوگئے۔ اللہ نے سات سال کے بعد ان کے پاس وحی بھیجی ‘ آپ نزول وحی سے پہلے بڑے خوفزدہ تھے۔ اللہ نے الیاس کو ندا دی اور فرمایا : الیاس ! یہ غم اور بیتابی جس میں و مبتلا ہے ‘ کیا ہے ؟ کیا تو میری وحی کا امین اور زمین پر میری برہان اور (ساری) مخلوق میں میرا انتخاب کردہ نہیں ہے ؟ (جو کچھ چاہے) مجھ سے مانگ لے ‘ میں تجھے عطا کر دوں گا۔ میں وسیع رحمت اور بڑے فضل والا ہوں۔ حضرت الیاس نے عرض کیا : تو مجھے موت دے دے اور میرے اسلاف کے ساتھ مجھے ملا دے۔ میں بنی اسرائیل سے تنگ آگیا ہوں اور بنی اسرائیل مجھ سے تنگ دل ہوگئے ہیں۔ اللہ نے الیاس کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا : یہ وہ دن نہیں کہ میں زمین اور اہل زمین کو تجھ سے خالی کردوں۔ زمین کا قیام اور بہبودی تو تیری اور تجھ جیسے دوسرے لوگوں کی (برکت کی) وجہ سے ہے ‘ اگرچہ تم لوگ تھوڑے ہو۔ مجھ سے کچھ اور سوال کر ‘ تیرا سوال پورا کر دوں گا۔ حضرت الیاس نے عرض کیا : اگر تو موت نہیں دیتا تو بنی اسرائیل سے مجھے انتقام لینے کی قدرت عطا فرما دے۔ اللہ نے فرمایا : تو کیا چاہتا ہے ؟ الیاس نے عرض کیا : سات سال تک بارش کے خزانے میرے قبضہ میں دے دے کہ میری دعا کے بغیر کوئی بدلہ ان پر نہ پھیلے اور میری سفارش کے بغیر ایک بوند بارش کی ان پر نہ ہو ‘ اس کے بغیر یہ فرمانبردار نہ ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا : الیاس ! میں اپنی مخلوق پر بڑا رحیم ہوں ‘ اگرچہ وہ ظلم کرتے ہیں (مگر میں ان پر مہربانی کرتا ہوں) الیاس نے عرض کیا : تو چھ سال (بارش روک دے) اللہ نے فرمایا : میں اپنی مخلوق پر اس سے زیادہ مہربان ہوں۔ الیاس نے عرض کیا : اچھا تو پانچ سال۔ اللہ نے فرمایا : یہ (مدت) بھی میرے تقاضائے رحم سے زائد ہے ‘ البتہ تین سال میں (بارش روک کر ان کی نافرمانی کا) بدلہ میں تجھے دے دوں گا ‘ بارش کے خزانے تیرے قبضہ میں دے دوں گا۔ حضرت الیاس نے کہا : پھر میں کس طرح زندہ رہوں گا ؟ اللہ نے فرمایا : میں پرندوں کی ایک جماعت تیری خدمت پر لگا دوں گا ‘ سبزہ زار اور شاداب زمین سے وہ تیرا کھانا پینا لاکر تجھے پہنچا دے گی۔ اس کے بعد اللہ نے بارش روک دی ‘ نتیجہ میں جانور ‘ چوپائے اور زمین کے کیڑے مکوڑے مرگئے ‘ درخت سوکھ گئے اور انسان سخت ترین مصیبت میں مبتلا ہوگئے۔ الیاس اس مدت میں حسب سابق اپنی قوم سے چھپے رہے۔ جہاں بھی ہوتے ‘ ان کا رزق وہاں رکھ دیا جاتا تھا۔ قوم والوں کو بھی اس کا احساس ہوگیا۔ اگر کسی گھر کے اندر سے روٹی کی خوشبو محسوس ہوتی تو سمجھ جاتے کہ یہاں الیاس آیا تھا ‘ چناچہ وہاں الیاس کو تلاش کرتے (اور الیاس نہ ملتے تو) گھر والوں کو ان کے ہاتھوں سے بڑا دکھ پہنچتا۔ حضرت الیاس نے فرمایا : تین سال تک بنی اسرائیل قحط کی مصیبت میں مبتلا رہیں گے۔ ایک روز کسی بڑھیا کی طرف سے آپ کا گذر ہوا ‘ آپ نے اس سے فرمایا : کیا تیرے پاس کچھ کھانا ہے ؟ بڑھیا نے کہا : ہاں ‘ کچھ آٹا اور تھوڑا سا روغن زیتون ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت الیاس نے دونوں چیزیں منگوایں اور موجودہ چیزوں میں برکت کی دعا کی اور ان پر ہاتھ پھیر دیا ‘ فوراً بڑھیا کا بورا آٹے سے اور مٹکے روغن زیتون سے بھر گئے (اور خود چل دئیے) لوگوں نے جب بڑھیا کے پاس یہ چیزیں دیکھیں تو پوچھا : یہ چیزیں تیرے پاس کہاں سے آئیں ؟ بڑھیا نے حضرت الیاس کا پورا حلیہ بیان کیا اور کہا : اس حلیہ کا ایک آدمی یہاں آیا تھا (اس کی دعا سے ایسا ہوا) لوگ پہچان گئے کہ وہ الیاس ہی تھے۔ آخر آپ کو تلاش کر کے ایک جگہ پا لیا ‘ لیکن آپ بھاگ گئے اور کسی اسرائیلی عورت کے گھر میں جا کر مقیم ہوگئے۔ اس عورت کا ایک لڑکا سخت بیمار تھا جس کا نام الیسع بن اخطوب تھا۔ عورت نے حضرت الیاس کو مکان میں جگہ دی اور چھپالیا۔ آپ نے اس لڑکے کیلئے دعا کی ‘ لڑکا تندرست ہوگیا اور حضرت الیاس پر ایمان لے آیا اور آپ کے ساتھ ہو لیا ‘ پیچھے لگ گیا۔ جہاں الیاس جاتے ‘ وہ لڑکا بھی ساتھ جاتا۔ حضرت الیاس اس وقت عمر رسیدہ اور کبیر السن ہوچکے تھے ‘ الیسع نوجوان تھا۔ ا اللہ نے الیاس کے پاس وحی بھیجی کہ تو نے بہت مخلوق کو بارش کو روک دینے کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ وہ مواشی اور چوپائے اور پرندے اور کیڑے مکوڑے جو بےقصور تھے ‘ بارش بند ہوجانے کی وجہ سے مرگئے (بقول اہل روایت) الیاس نے عرض کیا : اے میرے رب ! اب مجھے ہی تو اجازت دے دے کہ میں ہی ان کیلئے دعا کروں اور جس دکھ میں یہ پھنسے ہوئے ہیں ‘ اس سے رہائی میری ہی دعا سے ان کو مل جائے ‘ اس طرح شاید یہ باز آجائیں اور جس شرک میں مبتلا ہیں ‘ اس سے نکل آئیں۔ جواب ملا : اچھا۔ یہ جواب پانے کے بعد حضرت الیاس بنی اسرائیل کے پاس گئے اور فرمایا : کوئی شک نہیں کہ تم لوگ بھوک اور دکھ سے ہلاک ہوگئے اور تمہارے گناہوں کی وجہ سے مویشی اور چوپائے اور پرندے اور کیڑے مکوڑے بھی مرگئے اور درخت بھی مردہ ہوگئے۔ تم سب بلاشبہ باطل پرست ہو ‘ اگر تم کو اس کا ثبوت درکار ہے تو اپنے بتوں کو میرے سامنے لاؤ۔ اگر وہ تمہاری دعائیں قبول کرلیں (اور بارش ہوجائے) تو بیشک تمہاری بات سچی ہوگی اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو خود تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تم باطل پرست ہو ‘ اس وقت تم اپنے خودساختہ شرک سے نکل آنا۔ پھر میں اللہ سے دعا کروں گا اور وہ تمہاری یہ مصیبت جس میں تم پھنسے ہوئے ہو ‘ دور کر دے گا۔ قوم والوں نے کہا : آپ نے انصاف کی بات کی۔ چناچہ وہ اپنے بتوں کو باہر نکال کرلے آئے اور ان سے دعائیں کیں ‘ لیکن جس مصیبت میں گرفتار تھے وہ دور نہ ہوئی۔ پھر حضرت الیاس نے دعا کی ‘ الیسع بھی آپ کے ساتھ شریک تھے ‘ فوراً سطح سمندر سے ایک ڈھال کے برابر بدلی اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی طرف بڑھی اور آفاق پر چھا گئی۔ پھر بحکم خدا اس سے اتنی بارش ہوئی کہ مردہ بستیوں میں جان پڑگئی اور اللہ نے ان کی فریادرسی کی۔ جب اللہ نے ان کا دکھ درد دور کردیا ‘ تب بھی انہوں نے وعدہ پورا نہیں کیا اور کفر کو نہ چھوڑا اور اپنی بدترین حالت پر قائم رہے۔ الیاس نے جب یہ حالت دیکھی تو (مایوس ہو کر) اللہ سے دعا کی کہ اب مجھے ان لوگوں سے نجات دے (بقول اہل روایت) جواب ملا : فلاں تاریخ کا انتظار کرو ‘ مقرر دن آجائے تو فلاں مقام پر چلے جانا اور جو سواری تمہارے پاس آجائے ‘ بےدھڑک اس پر سوار ہوجانا۔ حسب الحکم الیاس اور ان کے ساتھ الیسع نکل کر اس مقام پر پہنچے ‘ جہاں پہنچنے کا کا حکم دیا گیا تھا۔ ایک آتشیں گھوڑا (اور بقول بعض) آگ کے رنگ کا گھوڑا پاس آکر کھڑا ہوگیا ‘ الیاس کود کر اس پر سوار ہوگئے اور گھوڑا آپ کو لے کر روانہ ہوگیا۔ الیسع نے پکار کر کہا : حضرت ! میرے متعلق آپ کا کیا حکم ہے ؟ حضرت الیاس نے فضاء اعلیٰ کی بلندی سے اپنی ایک تحریر پھینک دی ‘ یہ علامت تھی کہ الیسع کو بنی اسرائیل کی ہدایت کیلئے حضرت کا خلیفہ بنا دیا گیا۔ حضرت الیسع کی حضرت الیاس سے یہ آخری ملاقات تھی۔ اللہ نے الیاس کو بنی اسرائیل کے اندر سے نکال کر اوپر اٹھا لیا ‘ الیاس کو کھانے پینے سے بےنیاز کردیا اور (فرشتوں جیسے) پر اور بازو عنایت کردیئے اور ان کو ملکی انسان بنا دیا ‘ جو ارضی (انسان) بھی تھے اور سماوی (فرشتہ) بھی۔ شاہ اجب اور اس کی قوم پر اللہ نے ایک غیبی دشمن کو مسلط کردیا کہ لوگوں کی بیخبر ی میں اس نے ان پر حملہ کردیا اور اجب اور اس کی بیوی کو مزدکی کے باغ میں قتل کردیا اور اسی باغیچہ میں ان کی لاشیں پڑی رہیں کہ گوشت پارہ پارہ ہوگیا اور ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں۔ اللہ نے وحی کے ذریعے سے اس واقعہ کی اطلاع الیسع کو دے دی اور رسول بنا کر بنی اسرائیل کے پاس بھیجا۔ بنی اسرائیل الیسع پر ایمان لائے ‘ آپ کی عزت کی اور وفات تک آپ کی حکومت بنی اسرائیل پر قائم رہی۔ سری بن یحییٰ نے عبدالعزیز بن ابی الدرداء کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر دونوں بیت المقدس میں ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں اور حج کے موقع پر ہر سال دونوں ملتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الیاس بیابانوں اور خضر سمندروں (کی ڈیوٹی) پر مقرر ہیں (الیاس جنگلوں میں بھولے بھٹکے کی راہنمائی کرتے ہیں اور خضر بحری مسافروں کی مدد کرتے ہیں ( کذا ذکر البغوی فی تفسیر قولہ تعالیٰ وانّ الیاس لمن المرسلین۔
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

اذ قال لقومہ الا تتقون جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم لوگ (ا اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے ؟
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

اتدعون بعلا وتذرون احسن الخالقین کیا تم بعل کی پوجا کرتے ہو اور سب سے اعلیٰ خالق کو چھوڑ بیٹھے ہو ؟ یعنی اس کی (خالص ‘ بغیر شرک کے) عبادت نہ کرتے ؟ بعل ایک بت کا نام تھا جس کو وہ لوگ پوجتے تھے ‘ اسی کے نام پر ان کے شہر کا نام بعلبک رکھ دیا گیا تھا۔ مجاہد ‘ عکرمہ اور قتادہ نے کہا : یمنی زبان میں بعل کا معنی ہے رب۔
Ayah 37:126

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے

اللہ ربکم ورب ابآئکم الاولین جو معبود برحق ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب ہے۔
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے

فکذبوہ فانھم لمحضرون سو انہوں نے الیاس کو جھوٹا قرار دیا ‘ اسلئے بلاشبہ ان کو عذاب میں حاضر کیا جائے گا۔ قرینۂ عبارت بتارہا ہے کہ حاضر کرنے سے مراد ہے عذاب میں حاضر کرنا ‘ یا یوں کہا جائے کہ اگر لفظ احضار مطلق بولا جاتا ہے تو عرف عام میں اس سے مراد برے مقام میں حاضر کرنا ہوتا ہے ‘ اسلئے عذاب میں حاضر کرنا مراد ہے۔
Ayah 37:128

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب نہیں) ہوں گے

الا عباد اللہ المخلصین مگر جو اللہ کے خالص بندے تھے۔ کذبواکی ضمیر فاعل سے یہ استثناء ہے المحضرین سے مستثنیٰ نہیں ہے ‘ ورنہ عبارت کا معنی صحیح نہیں ہوگا (کیونکہ المحضرین سے عذاب میں حاضر کئے ہوئے لوگ مراد ہیں) بعض کے نزدیک استثناء منقطع ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ المحضرین سے ہی استثناء ہے (لیکن المحضرین سے مراد اچھے برے مؤمن ‘ کافر سب لوگ مراد نہیں ہیں بلکہ) اگر بعض افراد کی وصف کے سات متصف ہوں تو کل پر حکم لگانا (مجازاً محاورات میں) صحیح ہوتا ہے ‘ جیسے آیت میں آیا ہے : اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسَارِقُوْنَ (ظاہر ہے کہ سب قافلے والے چور نہیں تھے ‘ لیکن منادی نے سب کو چور کہہ کر ندا دی) ۔
Ayah 37:129

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

وترکنا علیہ فی الاخرین۔ اور ہم نے الیاس کیلئے پیچھے آنے والوں میں (یہ بات) رہنے دی کہ
Ayah 37:130

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ اِل یاسین پر سلام

سلم علی ال یاسین الیاسین پر سلامتی ہو۔ الیاس کو الیاسین بھی کہا جاتا ہے ‘ جیسے سیناء کو سینین ‘ اسماعیل کو سمعین اور میکائیل کو میکائین۔ فراء نے کہا : الیاسین ‘ الیاس کی جمع ہے ‘ اس سے مراد ہے حضرت الیاس اور حضرت کے مؤمن ساتھی (یعنی الیاس والے) جیسے اشعریین (اشعری مع ان کے گروہ کے) اور اعجمین (یہ لفظ اصل میں اعجمیین تھا ‘ ایک یاء کو تخفیف کردیا گیا) فراء کے قول پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ کسی عَلَم (نام) کی ‘ نام کی جب جمع بنائی جاتی ہے تو اس پر الف لام تعریف کا اضافہ ضرور کیا جاتا ہے تاکہ جو عَلَمیّت جمع بنانے سے زائل ہوگئی ‘ وہ الف لام تعریف کے اضافہ سے پھر لوٹ آئے۔ نافع اور ابن عامر کی روایت میں آل یاسین دونوں لفظ جدا جدا املائی شکل میں آئے ہیں ‘ یعنی یاسین کے بیٹے پر سلام ہو ‘ اس صورت میں یاسین ‘ الیاس کے باپ کا نام قرار پائے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یاسین ‘ الیاس کا ہی نام ہو اور آل یاسین سے مراد ہوں الیاس مع مؤمن ساتھیوں کے۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ یاسین سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ ‘ یا قرآن مجید ‘ یا دوسری آسمانی کتابیں۔ لیکن یہ قول نامناسب ہے ‘ اس جگہ کیلئے موزوں نہیں ‘ اس سے پہلے انبیاء کے قصے بیان کئے گئے ہیں اور اس کے بعد بھی واقعات انبیاء کا بیان ہے اور فرمایا ہے :
Ayah 37:131

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

انا کذلک نجزی المحسنین۔ ہم اپنے مخلص بندوں کو ایسی ہی جزا دیتے
Ayah 37:132

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

انہ من عبادنہ المؤمنین ہیں ‘ بلاشبہ وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر الیاس ہی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قراءت میں چونکہ الیاس کی جگہ ادریس کا لفظ آیا ہے اور اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کی بجائے اِنَّ اِدْرِیسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ مردی ہے ‘ اس لئے اس جگہ بھی سَلٰمٌ عَلٰٓی اِدْرِیْسِیْنَ منقول ہے۔
Ayah 37:133

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے

وان لوطا لمن المرسلین۔ اور بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
Ayah 37:134

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو (عذاب سے) نجات دی

اذ نجینہ واھلہ اجمعین۔ جبکہ ہم نے ان کو اور ان کے متعلقین کو ‘ سب کو بچا لیا ‘
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

الا عجوزًا فی الغبرین۔ سوائے ایک بڑھیا کے جو رہ جانے والوں میں رہ گئی۔
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

ثم دمرنا الاخرین پھر ہم نے سب کو ہلاک کردیا۔ اِذْ نَجَّیْنٰہُ یعنی لوط کو قوم پر نازل ہونے والے عذاب سے بچا لیا۔ عَجُوْزًا سے مراد ہے حضرت لوط کی بیوی۔ الْغٰبِرِیْنَ یعنی عذاب میں رہ جانے والے۔ الْاٰخَرِیْنَ یعنی لوط کی قوم کے دوسرے سب لوگ۔
Ayah 37:137

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو

وانکم لتمرون علیھم مصبحین۔ اور تم (اے مکہ والو ! ) ان (کے ویران کھنڈروں) پر صبح ہوتے
Ayah 37:138

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

وبالیل افلا تعقلون اور رات میں گذرا کرتے ہو ‘ کیا پھر بھی نہیں سمجھتے ؟ عَلَیْھِمْ یعنی ان کے گھروں پر سے گذرے ہو۔ جب ملک شام کا سفر کرتے ہو تو سدوم سرراہ واقع ہوتا ہے۔ مُصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ یعنی صبح و شام ‘ مراد ہے دن رات۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر مسافروں کی فرودگاہ کے قریب ہوں ‘ فرودگاہ سے صبح کو کوچ کرنے والا صبح کو ان بستیوں کی طرف سے گذرتا ہو اور جو فرودگاہ پر شام کو پہنچنے والا ہو ‘ وہ ان پر شام کو گذرتا ہو۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ یعنی کیا اہل عقل نہیں ہو کہ ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو ؟ یہ جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

وان یونس لمن المرسلین۔ اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے ‘
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے

اذ ابق الی الفلک المشحون جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشی کے پاس پہنچے۔ اَبَقَکا اصل معنی ہے غلام ‘ آقا کے پاس سے بھاگ گیا۔ حضرت یونس اللہ کی اجازت کے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر بھاگے تھے ‘ اسلئے ان کے بھاگنے کو اباق قرار دیا۔ امام احمد نے زہد میں اور عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے طاؤس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت یونس نے اپنی قوم کو عذاب آنے کی دھمکی دی (اور نزول کا دن مقرر کردیا اور اس مقرر وقت پر عذاب نہیں آیا ‘ عذاب آنے میں تاخیر ہوگئی) تو آپ اللہ کا حکم ملنے سے پہلے نکل کھڑے ہوئے اور بھاگ کر ایک کشتی پر جا کر سوار ہوگئے ‘ لیکن وہ (کوشش کے بعد بھی) اَڑ کر کھڑی ہوگئی۔ ملاحوں نے کہا : کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام موجود ہے۔ چناچہ قرعہ اندازی کی گئی اور حضرت یونس کے نام پر قرعہ نکل آیا (اور آپ مفرور غلام قرار پا گئے) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور وہت بن منبہ کا قول آیا ہے کہ تین بار لوگوں نے قرعہ ڈالا اور ہر مرتبہ یونس کا نام نکلا۔ بغوی نے لکھا ہے : یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ سمندر پر پہنچے تو آپ کے ساتھ بیوی اور آپ کے دو لڑکے تھے۔ کشتی آئی ‘ آپ نے پہلے سوار ہونے کیلئے بیوی کو آگے بڑھایا ‘ لیکن سوار کرتے کرتے ایک لہر بیچ میں آگئی (جو بیوی کو بہا کرلے گئی) پھر دوسری ایک لہر آئی جو بڑے بیٹے کو پکڑکر لے گئی۔ چھوٹا بیٹا (کنارہ پر) اکیلا رہ گیا تھا ‘ اس کو بھیڑیا لے گیا۔ اتنے میں ایک اور کشتی آگئی ‘ آپ اس میں سوار ہوگئے اور لوگوں سے الگ ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔ کشتی روانہ ہوگئی ‘ لیکن بیچ سمندر میں پہنچ کر اَڑ کر رگ گئی ‘ اور کشتی والوں نے قرعہ ڈالا۔ ہم نے سورة یونس میں پورا قصہ بیان کردیا ہے۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

اس وقت قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اُٹھائی

فساھم فکان من المدحضین پھر یونس شریک قرعہ ہوئے تو یہی ملزم ٹھہرے۔ المُدْحَضِیْنَقرعہ میں ہارے ہوئے لوگ۔ مدحض کا اصل معنی ہے مقام کامیابی سے پھسلا ہوا شخص۔ کَانَ کا ترجمہ ہے ہوگیا۔
Ayah 37:142

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے

فالتقمہ الحوت وھو ملیم پھر ان کو مچھلی نے (ثابت) نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔ اِلْتَقَمَہٗاس کو لقمہ بنا لیا (یعنی ثابت نگل لیا) مُلِیْمٌیعنی ملامت میں داخل ہونے والے تھے ‘ یا ایسا فعل کیا تھا جس پر ان کو ملامت کی جاسکتی تھی ‘ یا خود اپنے کو ملامت کر رہے تھے۔
Ayah 37:143

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے

فلولا انہ کان من المسبحین۔ سو اگر وہ (اس وقت) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے (یعنی اللہ کی پاکی نہ بیان کرتے)
Ayah 37:144

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے

للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون تو مچھلی کے پیٹ میں روز قیامت تک رہتے۔ الْمُسَبِّحِیْنَ کا ترجمہ ابن عباس نے کیا : نماز پڑھنے والے۔ وہب بن منبہ نے کہا : عبادت کرنے والے۔ حسن نے کہا : مچھلی کے پیٹ کے اندر انہوں نے نماز نہیں پڑھی ‘ بلکہ پہلے کوئی اچھا کام کیا تھا۔ ضحاک نے کہا : اللہ نے ان کی سابق طاعت کی قدردانی کی۔ میں کہتا ہوں : شاید مچھلی کے پیٹ کے اندر انہوں نے اشارہ سے نماز پڑھی ہو ‘ کیونکہ اس وقت زندہ اور با ہوش تھے۔ سب سے مناسب تفسیری قول یہ ہے کہ تسبیح سے مراد ہے اللہ کو یاد کرنا ‘ یعنی اگر انہوں نے لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّلِمِیْنَ نہ کہا ہوتا اور اللہ کو ان الفاظ سے یاد نہ کیا ہوتا تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ سے برآمد نہ ہوتے ‘ بلکہ اسی کے پیٹ میں مرجاتے اور مچھلی کا جزو غذائی بن جاتے۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو جب کہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا

فنبذنہ بالعرآء وھو سقیم پھر ہم نے ان کو (مچھلی کے پیٹ سے برآمد کر کے) ایک میدان میں ڈال دیا اور اس وقت وہ بدحال تھے۔ فَنَبَذْنٰہُ یعنی مچھلی کو اگل دینے کا حکم دے دیا۔ العراء وہ جگہ جو درختوں وغیرہ سے خالی ہو۔ وھو سقیم یعنی بغیر پروں کے چوزے کی طرح تھے۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ آپ کا گوشت بسک گیا تھا ‘ ہڈیاں کمزور ہوگئی تھیں ‘ بدن میں قوت باقی نہیں رہی تھی۔ مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کتنی مدت رہے ‘ علمائ کے اقوال اس کے متعلق مختلف ہیں۔ بغوی نے بحوالۂ مقاتل بن حبان لکھا ہے کہ تین روز رہے۔ عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ عطا نے کہا : سات روز۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے اس قول کی نسبت سعید بن جبیر کی طرف بھی کی ہے۔ ضحاک نے کہا : بیس روز (بغوی) سدی ‘ کلبی اور مقاتل بن سلیمان نے کہا : چالیس روز۔ حاکم کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول اور ابن ابی شیبہ ‘ احمد ‘ عبند بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابی ابی حاتم اور ابو الشیخ کی روایات میں ابو مالک کا قول اور عبدالرزاق اور ابن مردویہ کی روایت میں ابن جریج کا قول اور عبد بن حمید و ابن المنذر کی روایت میں عکرمہ کا قول آیا ہے کہ دن کے کچھ حصہ میں حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ابن ابی حاتم ‘ حاکم اور بغوی نے شعبی کا قول نقل کیا ہے کہ چاشت کے وقت (دن چڑھے) مچھلی نے نگلا تھا اور شام کو اگل دیا۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ان پر کدو کا درخت اُگایا

وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین اور ان پر ہم نے ایک بیل دار درخت بھی لگا دیا۔ بغوی نے مقاتل اور حسن کا قول بیان کیا ہے کہ جس درخت کا تنانہ ہو اور اس کی بیل زمین پر پھیلی ہو اور سردی کے زمانہ میں باقی نہ رہتا ہو وہ یقطین ہے جیسے کدو ‘ کھیرا ‘ ککڑی ‘ خربوزے کی بیل۔ بغوی نے لکھا ہے : خلاف معمول اس بیلدار درخت کا تنا بھی تھا۔ یقطین بروزن یفعیل ‘ قَطن سے ماخوذ ہے۔ قَطَنَ بالمکان اس جگہ وہ اقامت پذیر ہوگیا۔ (مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں : کدو کے درخت نے حضرت یونس کے بدن کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنے پتوں میں چھپالیا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہی قول تمام علماء تفسیر کا ہے۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ مقابل بن حبان نے کہا : حضرت یونس درخت کے سایہ میں رہنے لگے۔ ایک پہاڑی بکری آپ کے پاس آجاتی تھی ‘ آپ صبح و شام اس کا دودھ پیتے تھے۔ آخر جب گوشت میں کچھ سختی آگئی ‘ بال اگ آئے اور قوت بھی آگئی تو آپ سو گئے ‘ لیکن جب بیدار ہوئے تو درخت سوکھ چکا تھا۔ دھوپ کی تپش بدن کو لگی تو آپ کو درخت کے سوکھ جانے کا بڑا غم ہوا اور رونے لگے۔ اللہ نے جبرئیل کی معرفت یہ فرمان بھیجا کہ تم کو ایک درخت کا تو اتنا غم ہے اور اپنی امت کے ایک لاکھ آدمیوں کا غم نہ ہوا جو مسلمان بھی ہوگئے ہیں اور توبہ بھی کرچکے ہیں۔ مسئلہ : کیا انبیاء کی کسی لغزش کا بیان جائز ہے ؟ کسی نبی کی کسی لغزش کا ذکر جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ انبیاء کی لغزشیں تو اللہ کی طرف مزید رجوع کرنے اور رماتب میں ترقی پانے کی موجب ہوتی ہیں۔ جس نے کسی نبی پر اعتراض کیا ‘ وہ کافر ہوگیا۔ اللہ نے (مؤمنوں کو یہ کہنے کا حکم دیا اور) فرمایا ہے : لاَ تُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْط حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی بندہ کیلئے یہ کہنا جائز نہیں کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں (متفق علیہ) بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے یہ کہا کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں ‘ اس نے غلط کہا۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں باہم گالم گلوچ ہوئی۔ مسلمان نے کہا : قسم ہے اس کی جس نے محمد ﷺ کو سارے عالم والوں پر برتری عطا فرمائی۔ یہودی بولا : قسم نے اس کی جس نے موسیٰ کو سارے جہان والوں پر فضیلت عنایت کی۔ یہ سنتے ہی مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر ایک طمانچہ مار دیا۔ یہودی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کیفیت واقعہ عرض کی ‘ اس کے اور مسلمان کے درمیان جو ماجرا ہوا تھا ‘ بیان کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مسلمان کو طلب فرمایا اور واقعہ دریافت کیا۔ مسلمان نے بتادیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دو ‘ کیونکہ قیامت کے دن جب (سب) لوگ بیہوش ہوجائیں گے تو میں بھی ان کے ساتھ بیہوش ہوجاؤں گا ‘ پھر سب سے پہلے میں ہی ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا ایک کنارہ پکڑے (کھڑے) ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ بیہوش ہونے والوں میں شامل تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ‘ یا اس مخلوق میں شامل تھے جن کو اللہ نے بیہوش ہونے سے مستثنیٰ کردیا ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ موسیٰ کو طور کے اوپر والی بیہوشی کی مجرائی دے دی گئی (اور قیامت کے دن صور کی آواز سے وہ بیہوش نہیں ہوئے) یا مجھ سے پہلے اٹھ کھڑے ہوئے ‘ اور میں نہیں کہتا کہ کوئی بھی یونس بن متی سے افضل ہے۔ حضرت ابوسعید کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء کو باہم ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو (متفق علیہ) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نبیوں کو باہم فضیلت نہ دو ۔ ایک سوال : نص قرآنی اور اجماع امت سے بعض انبیاء کی بعض پر فضیلت ثابت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی۔ ا اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں اولاد آدم کا سردار اور سب سے پہلے شفاعت کرنے والا میں ہی ہوں اور میری ہی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی (رواہ مسلم وابو داؤد وعن ابی ہریرۃ) دوسری حدیث میں حضرت ابو سعید کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں ہی اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں (یعنی میرا یہ کلام بطور فخر نہیں ہے) اور اس روز ہر پیغمبر ‘ آدم ہوں یا کوئی دوسرا ‘ میرے ہی جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور سب سے پہلے زمین پھٹ کر میں ہی برآمد ہوں گا اور کوئی فخر نہیں اور میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میں ہی وہ شخص ہوں گا جس کی شفاعت پہلے قبول کی جائے گی اور کوئی فخر نہیں (رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ) ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں قائد المرسلین (پیغمبروں کا لیڈر) ہوں اور کوئی فخر نہیں ‘ میں ہی خاتم النبیین ہوں اور کوئی فخر نہیں ‘ میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے مقبول الشفاعت ہوں گا اور کوئی فخر نہیں (رواہ الدارمی) ۔ میں کہتا ہوں : تفضیل بین الانبیاء کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ جب تک من جانب اللہ (وحی کے ذریعے سے) یقینی علم نہ ہوجائے ‘ اس وقت تک اپنی رائے اور گمان سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو ‘ لیکن جب وحی کے ذریعے سے ایک کی دوسرے پر فضیلت ثابت ہوجائے تو بعض کو بعض سے افضل قرار دینے میں کوئی ہرج نہیں۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ انبیاء کی نبوت میں تفریق نہ کرو کہ ایک کی نبوت مانو اور دوسرے کی نبوت کو غلط قرار دو اور اس پر ایمان نہ لاؤ۔ وا اللہ اعلم۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا

وارسلنہ الی ماءۃ الف او یزیدون اور ہم نے ان کو سو ہزار یا اس سے بھی زائد آدمیوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ بغوی نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ مذکورۂ بالا مصیبت سے پہلے حضرت یونس کو نینوا علاقۂ موصل کے باشندوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا گیا (اور ان کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے زائد تھی) عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بھی قتادہ کا یہی قول بیان کیا ہے اور حسن کا قول بھی یہی منقول ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے برآمد ہونے کے بعد آپ کو ایک لاکھ آدمیوں کیلئے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا (اور یہ لوگ نینوا کے ہی باشندے تھے) بعض نے کہا : کچھ اور لوگ تھے (جن کو چھوڑ کر حضرت یونس بھاگے تھے ‘ وہ یہ لوگ نہ تھے) ۔ اَوْ یَزِیْدُوْنَکی تشریح میں مقاتل اور کلبی نے کہا : اَوْ اس جگہ بَلْکے معنی میں ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ کی طرف بلکہ اس سے زیادہ کی طرف ہم نے یونس کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اَوْ بمعنی واؤ ہے جیسے غُدْرًا او نُذْرًا میں۔ زجاج نے کہا : اَوْ اس جگہ اپنے اصلی معنی میں مستعمل ہے مگر یہ (نہیں ہے کہ خدا کو ان کی تعداد صحیح معلوم نہیں تھی ‘ بلکہ مطلب یہ) ہے کہ تم لوگ اگر ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ ایک لاکھ ہیں یا زیادہ ہیں ‘ جیسے کوئی شخص کسی گروہ کو دیکھ کر کہتا ہے : یہ ایک لاکھ ہیں یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ خلاصہ یہ کہ آیت میں یقینی تعداد مذکور نہ ہونے کی بناء پر مخلوق کے تخمینے اور اندازے کے غیر یقینی ہونے پر ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ تعداد کتنی تھی ‘ اس سلسلہ میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل کے نزدیک ایک لاکھ کے اوپر بیس ہزار تک ان کی تعداد تھی۔ ترمذی نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ بیس ہزار (تک) زیادہ تھے۔ حسن نے تیس ہزار سے کچھ زیادہ اور سعید بن جبیر نے سترہ ہزار تعداد بیان کی ہے۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے

فامنوا فمتعنھم الی حین پھر وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ایک وقت (یعنی مقرروقت) تک زندگی سے بہرہ اندوز کیا۔ یعنی عذاب کے معائنہ کے بعد یونس کی قوم ایمان لے آئے (اور ہم نے ان کے سروں سے عذاب اٹھا لیا) ۔ سوائے حضرت لوط اور حضرت یونس کے باقی انبیاء کے قصوں کے آخر میں سلام کا لفظ آیا ہے ‘ حضرت یونس اور حضرت لوط کیلئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عالی قدر اولوالعزم پیغمبروں کا امتیاز کے ساتھ تذکرہ مقصود ہو ‘ یا یہ سبب ہو کہ آخر میں مجمل طور پر تمام پیغمبروں کیلئے تو لفظ سلام استعمال کیا (جس میں لوط و یونس بھی شامل ہیں) اسی پر اکتفا کیا۔
Ayah 37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے

فاستفتھم الربک البنات ولھم البنون سو آپ ان لوگوں سے پوچھئے کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کیلئے بیٹے ہیں۔ اس جملہ کا عطف سابق آیت فاسْتَفْتِھِمْ اَھُمْ اَشَدُّخَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا پر ہے ‘ اللہ نے اپنے رسول کو پہلے حکم دیا کہ منکرین قیامت سے انکار قیامت کی وجہ پوچھیں اور تقریری سوال کے طور پر فرمایا : کیا ان کی تخلیق مشکل اور سخت ہے یا ان کے علاوہ آسمان ‘ زمین ‘ ملائکہ اور گذشتہ اقوام عاد ‘ ثمود وغیرہ کی ؟ جب وہ اقرار کرلیں کہ آسمان ‘ زمین ‘ ملائکہ اوراقوام گذشتہ کی تخلیق سخت اور مشکل ہے تو لازمی طور پر ان لوگوں کو اس ہمہ گیر طاقت والے خدا کے عذاب سے ڈرنا چاہئے جس نے گذشتہ اقوام سے انتقام لیا اور کفر کی وجہ سے ان کو غارت اور تباہ کیا۔ وہی ہمہ گیر قدرت رکھتا ہے تخلیق پر بھی اور دوبارہ زندہ کرنے پر بھی اور عذاب دینے پر بھی۔ اس کے بعد کچھ پیغمبروں کے واقعات بیان فرمائے ‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے دریافت کریں کہ کیا خدا کیلئے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے ؟ کیونکہ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ ان کا عقیدہ شرک کے علاوہ اور بہت سی گمراہیوں کا حامل تھا۔ اللہ کو انسان کی طرح مجسم مانتے تھے اور اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ سلسلۂ تولد و تولید کا تعلق تو ان اجسام کیلئے مخصوص ہے جو بناؤ ‘ بگاڑ اور تغیرات کے قابل ہیں۔ پھر اپنے آپ کو خدا پر ترجیح دیتے تھے ‘ بیٹیاں جو بیٹوں کے مقابلہ میں تخلیقاً کمزور اور عاجز ہوتی ہیں ‘ ان کو تو خدا کیلئے مانتے تھے اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے تھے۔ پھر ملائکہ کی بھی تحقیر و توہین کرتے تھے کہ ان کو مادہ قرار دیتے تھے ‘ اسی لئے اللہ نے اپنی کتاب میں بار بار کتنی ہی آیات میں اس عقیدے کا ابطال کیا اور اس قول کو ایسا منحوس (اور تعجب انگیز اور غلط) قرار دیا کہ جس (کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس) سے آسمان پھٹ جائیں ‘ زمین شق ہوجائے اور پہاڑ زمین پر گرجائیں۔ اس جگہ (انکاری) استفہام کا تعلق صرف دو باتوں سے ہے : اللہ کیلئے لڑکیاں ہونا اور ملائکہ کا مادہ ہونا۔ قبیلہ جہینہ اور بنی سلمہ کا یہی عقیدہ تھا ‘ وہ کہتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے

ام خلقنا الملئکۃ اناثًا وھم شاھدون ہاں ‘ کیا ہم نے فرشتوں کو (ان کی نظروں کے سامنے) عورتیں بنایا ہے کہ یہ (فرشتوں کو پیدا کرنے کے وقت) حاضر تھے ؟ یہ سوال استہزاہ آمیز ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ بہت ہی زیادہ جاہل ہیں اور انتہائی جہالت کی وجہ سے ایسی بات کہہ رہے ہیں کہ گویا یہ مشاہدہ کرچکے ہیں۔
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں

الا انھم من افکھم لیقولون۔ خوب سن لو کہ یہ بلاشبہ اپنی سخن تراشی ہی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ )
Ayah 37:152

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ خدا کے اولاد ہے کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

ولد اللہ وانھم لکاذبون اللہ صاحب اولاد ہے۔ قطعاً یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ مِنْ اِفْکِھِمْ یعنی اپنے ایسے جھوٹ کی وجہ سے جس کا غلط ہونا ظاہر ہے اور تقاضاء عقل کے بھی خلاف ہے۔ لَکَاذِبُوْنَ یعنی تمام اہل دانش کے نزدیک جھوٹے ہیں۔
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے بیٹوں کی نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے؟

اصطفے البنات علی البنین۔ کیا اللہ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیاں زیادہ پسند کیں ؟
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تم کیسے لوگ ہو، کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو

مالکم کیف تحکمون۔ تم کو کیا ہوگیا ‘ تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

افلا تذکرون سو کیا تم (عقل اور) سوچ سے کام نہیں لیتے ؟ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ یعنی یہ کیسا حکم لگا رہے ہو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘ حالانکہ بیٹیاں تو مرتبہ میں بیٹوں سے کم ہوتی ہیں۔ اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ یعنی کیا تم غور نہیں کرتے اور نہیں سمجھتے کہ اللہ اس بہتان سے پاک ہے ؟