Ayah 37:81انہ من عبادنا المؤمنین بلاشبہ وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔
یہ سابق جملہ کی علّت ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو مذکورہ جزاء ان کے ایمان اور نیک کردار کی وجہ سے دی۔ اس آیت میں امت اسلامیہ کے نیکوکار لوگوں کیلئے شہادت ہے۔
Ayah 37:82ثم اغرقنا الاخرین پھر اوروں کو ہم نے ڈبو دیا۔ یعنی نیکوکاروں کے علاوہ انکی قوم کے دوسرے لوگوں کو ہم نے غرق کردیا۔
Ayah 37:83وان من شیعتہ لابراھیم اور (ایمان و اصول دین میں فقط ‘ یا تمام فروع میں ‘ یا اکثر فروع میں بھی) بلاشک و شبہ ابراہیم ‘ نوح کی پیروی کرنے والوں میں سے تھے۔
حضرت نوح سے دو ہزار چھ سو چالیس سال کے بعد حضرت ابراہیم ہوئے۔ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم کے درمیان حضرت ہود اور حضرت صالح پیغمبر ہوئے۔
Ayah 37:84اذجاء ربہ بقلب سلیم جب وہ خالص دل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ یعنی اللہ کے سوا دوسروں کی محبت
اور مشغولیت سے دل کو خالی کر کے اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کیا۔ اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم کے خلوص قلب پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 37:85اذ قال لابیہ وقومہ ماذا تعبدون جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا : تم کس (واہیات) چیز کو
پوجتے ہو ؟
یہ استفہام توبیخی ہے (یعنی سوال حصول کیلئے نہیں ہے ‘ بلکہ پتھروں کی پوجا پر زجر کرنے کیلئے ہے۔ مترجم)
Ayah 37:86ء افکا الھۃ دون اللہ تریدون کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا تم چاہتے ہو ؟
یہ تکرار استفہام بھی توبیخی ہے۔ اٰلِھَۃً تُرِیْدُوْنَ کا مفعول بہ ہے اور دُوْنَ اللّٰہِ اٰلِھَۃً کی صفت اور اِفْکًا مفعول لہ ہے۔ مفعول بہ کی فعل پر تقدیم مفعول کی اہمیت کو ظاہر کر رہی ہے اور مفعول لہ کو سب سے پہلے ذکر کرنا اس امر کو ظاہر کر رہ
Ayah 37:87ا ہے کہ ان کی ساری پوجاپاٹ غلطی اور جھوٹ پر مبنی تھی (اس کے اندر کوئی حقیقت اور سچائی نہیں تھی) ۔
فما ظنکم برب العلمین پس رب العالمین کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟
یعنی وہ ذات جو ساری کائنات کا رب ہونے کا حق رکھتی ہے اور وہ واقعی رب العالمین ہے ‘ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے کہ تم نے اس کی عبادت کو چھوڑ دیا ہے یا دوسروں کو اس کا ساجھی قرار دے رکھا ہے ‘ کیا تم کو اس کے عذاب کا خوف نہیں ہے ؟
حاصل مطلب یہ ہے کہ یقین تو درکنار ‘ رب العالمین کی عبادت ترک کرنے ‘ اس کا کسی کو شریک قرار دینے اور اس کے عذاب سے بےخوف ہوجانے کا تمہارا خیال بھی کس بنیاد پر ہوسکتا ہے۔
Ayah 37:88فنظر نظرۃ فی النجوم سو ابراہیم نے ایک نگاہ بھر ستاروں کو دیکھا۔
فِی النُّجُوْمِ یعنی ستاروں کے مواقع پر نظر ڈالی ‘ یا علم النجوم ‘ یا کتاب النجوم کو دیکھا۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت علم النجوم پر غور کرنا اور سیکھنا سکھانا جائز تھا (ورنہ حضرت ابراہیم ستاروں کی رفتار کو نہ دیکھتے) لیکن ہماری شریعت میں علم النجوم کی ممانعت کردی گئی۔
زرین نے حضرت ابن عباس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ نجومی سے کاہن زائد ہے اور کاہن سے جادوگر ہے اور جادوگر کافر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تینوں کافر ہیں ‘ تینوں کا ایک ہی حکم ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی کسی قدر تفصیل اس طرح کردی جائے کہ اگر حوادث عالم کی ستاروں کے طلوع اور غروب اور رفتار کی طرف نسبت کی جائے (یعنی ستاروں کو علل مؤثرہ یا اسباب حقیقیہ قرار دیا جائے) تو علم النجوم پر غور کرنا بھی حرام ہے ‘ لیکن اگر اللہ کو سارے حوادث کا فاعل حقیقی قرار دیا جائے اور سب کی نسبت تخلیقی اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے اور ستاروں کی رفتار کو حوادث کی علامات و نشانات کا درجہ دیا جائے اور یوں سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی حادثہ پیدا کرتا ہے تو اس کا قاعدہ ہے کہ حادثہ کی یہ علامات اور نشانی پیدا کردیتا ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ‘ جیسے دوا پینے اور کھانے کی صورت میں اللہ شفا پیدا کردیتا ہے (دوا شافی نہیں ‘ اس کا پینا موجب شفا نہیں) اور زہر کھانے پر موت کو پیدا کردیتا ہے اور انسان اگر کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیتا ہے توا اللہ فعل کو پیدا کردیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ نے علم النجوم کی ممانعت کیوں فرمائی ‘ تو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ علم النجوم پر غور کرنے کے بعد لوگ حوادث کو ستاروں کی کارگذاری نہ سمجھنے لگیں۔
حضرت زید بن خالد جہنی کا بیان ہے کہ حدیبیہ میں رات کو بارش ہوئی ‘ صبح کو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی ‘ نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کو معلوم ہے۔ فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے بندوں میں سے کچھ لوگوں نے مجھے مانا اور کچھ لوگوں نے نہیں مانا۔ جن لوگوں نے کہا : اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پر بارش ہوئی ‘ وہ مجھے ماننے والے اور ستاروں کو (مؤثر حقیقی نہ ماننے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا : فلاں فلاں ستاروں کی وجہ سے بارش ہوئی ‘ ان کا ایمان مجھ پر نہیں ہوا۔ وہ ستاروں کے ماننے والے ہوئے (صحیح بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بھی اللہ آسمان سے برکت (بارش) نازل فرماتا ہے ‘ انسانوں کا ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے۔ اللہ بارش نازل فرماتا ہے اور لوگ کہتے ہیں : فلاں فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی (رواہ مسلم) ۔ امام غزالی نے اپنی کتاب المنقدین من الضلال میں لکھا ہے کہ علم طب اور علم نجوم اللہ نے اپنے کسی نبی پر نازل فرمائے تھے ‘ پھر یہ دونوں علم کافروں کے ہاتھوں میں پڑگئے۔ (طب کی طرح) علم النجوم بھی ظنی علم ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نجومیوں نے فرعون کو حضرت موسیٰ کی پیدائش کی اور آپ ہی کے ہاتھوں اس کی حکومت ختم ہوجانے کی اطلاع دی تھی (جو سچ ثابت ہوئی ‘ ظاہر ہے کہ نجومی غیب داں نہ تھے ‘ نجوم ہی کے مطالعہ سے انہوں نے یہ خیال قائم کیا تھا۔ مترجم)
بخاری نے صحیح میں اپنی سند سے بروایت زہری بیان کیا ہے کہ ابن ناطور نے جو ایلیا کا گورنر تھا اور شامی عیسائیوں کا پادری بھی ‘ بیان کیا کہ جب ہرقل ‘ ایلیاں میں آیا تو صبح کو کچھ پریشان سا تھا۔ کسی مصائب نے دریافت کیا کہ آج آپ کی حالت ہم کو غیر نظر آتی ہے ( مزاج کیسا ہے ؟ ) ہرقل بڑا نجومی تھا ‘ ستاروں کی چال دیکھا کرتا تھا ‘ اس نے جواب دیا : آج رات ستاروں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ پیدا ہوگیا ہے۔ بتاؤ ‘ وہ کون قوم ہے جو ختنہ کراتی ہے ؟ مصاحبین نے کہا : یہودیوں کے سوا اور کوئی قوم ختنہ نہیں کراتی اور یہودیوں سے آپ کو کوئی اندیشہ نہ کرنا چاہئے۔ قلمرو کے تمام شہروں میں حکم بھیج دیجئے کہ جہاں جو یہودی ہو ‘ اس کو قتل کردیا جائے۔ ہرقل اسی گفتگو میں مشغول تھا کہ شاہ غسان (گورنر شام) کا بھیجا ہوا ایک آدمی آگیا جو رسول اللہ ﷺ کی (بعثت اور دعوئے نبوت کی) خبر لایا تھا۔ ہرقل نے اس سے پوری خبر دریافت کی اور حکم دیا : اس کو لے جا کر دیکھو کہ کیا یہ مختون ہے ؟ لوگوں نے اس کو لے جا کر دیکھا تو اس کو مختون پایا۔ ہرقل نے کہا : اسی قوم کا بادشاہ پیدا ہوگیا ہے۔ پھر اپنے کسی ساتھی کو جو اسی کی طرح علم نجوم کا ماہر تھا ‘ مطالعۂ نجوم کا حکم دے کر خود حمص کو چلا گیا۔ ابھی حمص میں ہی تھا کہ اس کو مقرر کردہ ساتھی کا خط ملا جس میں ہرقل کی رائے کی موافقت کی گئی تھی اور لکھا تھا کہ وہ پیدا ہوئے ہیں اور وہ نبی ﷺ ہیں۔
شیخ ابن حجر نے لکھا ہے : زہری کی یہ روایت متصل ہے ‘ معلق نہیں ہے۔ ابونعیم نے دلائل النبوت میں لکھا ہے کہ زہری نے خود بیان کیا کہ میں عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں دمشق میں ابن ناطور سے ملا تھا ‘ میرے خیال میں ابن ناطور کے مسلمان ہونے کے بعد زہری نے اس کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ اس روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ علم نجوم سے بھی کچھ نہ کچھ (واقعات و حوادث) کا علم ہوجاتا ہے اور ممانعت کی وجہ وہی (عقائد کا) بگاڑ ہے جس کا ذکر ہم کرچکے ہیں کہ اس سے لوگ حوادث کی علت موجبہ نجوم (کی رفتار) کو سمجھنے لگتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس کی تحصیل میں خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا ہے ‘ علم دین میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم نجوم کا مشغلہ مذہب عیسائیت میں جائز تھا ورنہ عیسائی علماء اس میں نہ پھنستے۔
جو لوگ علم نجوم کو بےبنیاد اور غلط قرار دیتے ہیں ‘ وہ (اعتراضات مذکورہ کے جواب میں) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کا قول کو جواب بطور ایہام تھا ‘ قوم والے علم نجوم کو سیکھتے سکھاتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے بھی ان کے مفروضہ کے موافق عمل کیا تاکہ آپ کی بات کی تردید وہ نہ کرسکیں۔ حضرت ابراہیم نے ان کے بتوں کے متعلق ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تھا تاکہ اس بات کی حجت تمام ہوجائے کہ بت معبود بننے کے قابل نہیں۔ دوسرے روز قوم ابراہیم کا تیوہار اور میلہ تھا۔ قوم کا قاعدہ تھا کہ تیوہار کے موقع پر بتوں کے پاس جا کر ان کے سامنے فرش بچھاتے اور میلے میں جانے سے پہلے ان کے سامنے کھانا چنتے تھے اور اس کو متبرک فعل سمجھتے تھے۔ پھر جب میلہ سے لوٹ کر آتے تھے تو بتوں کے پاس رکھا ہوا کھانا کھاتے تھے۔ حضرت ابراہیم سے بھی انہوں نے درخواست کی تھی کہ ہمارے ساتھ میلہ کو تم بھی چلو۔ حضرت ابراہیم نے ستاروں (کی رفتار) کو دیکھا۔
Ayah 37:89فقال انی سقیم پھر فرمایا : میں بیمار (ہونے والا) ہوں۔
حضرت ابن عباس نے سقیم کا ترجم کیا ہے : میں طاعون میں مبتلا ہوگیا۔ وہ لوگ طاعون سے بھاگتے تھے۔ حسن نے سقیم کا ترجمہ مریض اور مقاتل نے درد میں مبتلا کیا ہے۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابراہیم نے صرف تین بار جھوٹ بولا : دو مرتبہ تو باری تعالیٰ کی ذات کے متعلق ‘ ایک بار فرمایا : اِنِّیْ سَقِیْمٌ‘ دوسری بار فرمایا : بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا (الحدیث) اور تیسری مرتبہ حضرت سارہ کے متعلق فرمایا تھا : یہ میری بہن ہے۔ یہ حدیث سورة انبیاء میں ہم نقل کرچکے ہیں۔
حدیث مذکور میں جھوٹ سے مراد ہے : توریہ اور دو معنی والے الفاظ بولنا (کہ متکلم کی مراد دوسرا معنی ہو اور مخاطب اس کا پہلا معنی سمجھے۔ ضحاک نے کہا : اِنِّیْ سَقِیْمٌ سے آپ کی مراد یہ تھی کہ میں عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔
یہ بھی تاویل کی گئی ہے کہ (حضرت ابراہیم کا اپنے کو سقیم کہنا بالکل صحیح تھا کیونکہ) جس کی گردن میں موت کی رسی بندھی ہو ‘ وہ سقیم ہی ہے۔ اسی وجہ سے جب ایک شخص اچانک مرگیا تو لوگوں نے کہا : فلاں شخص صحیح سالم ہونے کی حالت میں مرگیا۔ ایک اعرابی بولا : کیا جس کی گردن میں موت کی رسی پڑی ہو ‘ وہ بھی صحیح سالم ہوسکتا ہے ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی مراد یہ تھی کہ تمہارے کفر کی وجہ سے میرے دل کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔ سورة انبیاء کی آیت بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا کے ذیل میں ہم نے مختلف توجیہات ذکر کی ہیں۔
Ayah 37:90فتولوا عنہ مدبرین اس کے بعد قوم والے ابراہیم کی طرف سے منہ پھیر کر ‘ پشت موڑ کر چل دئیے ‘ میلہ کو چلے گئے اور
ان کے جانے کے بعد حضرت ابراہیم نے آکر بتوں کو توڑ دیا۔ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے :
Ayah 37:91فراغ الی الھتھم فقال الا تاکلون۔ پھر چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف لوٹے اور کہا : تم کھاتے کیوں نہیں ‘
Ayah 37:92مالکم لا تنطقون تم کو کیا ہوگیا ہے ‘ تم بولتے کیوں نہیں ؟
رَاغ خفیہ طور پر مڑے ‘ یہ لفظ روغۃ الثعلب سے ماخوذ ہے ‘ اس کا اصل معنی ہے چالاکی سے مڑ جانا۔ بغوی نے لکھا ہے : رَاغ صرف اس وقت کہا جاتا ہے جب مڑنے والا اپنی آمد و رفت کو پوشیدہ رکھے۔
فَقَال یعنی ابراہیم نے بطور مذاق کہا۔ اَلاَ تَاْکُلُوْنَ یعنی جو کھانے تمہارے سامنے رکھا ہے ‘ تم اس کو کھاتے کیوں نہیں ؟ مَالَکُمْ لاَ تَنْطِقُوْنَکیا وجہ ہے کہ تم بولتے نہیں ؟
Ayah 37:93فراغ علیہم ضربًا بالیمین پھر قوت کے ساتھ ان پر جا پڑے اور مارنے لگے۔
یعنی پوشیدہ طور پر بتوں کے پاس گئے۔ رَاغَ کے بعد علٰی کا استعمال ظاہر کر رہا ہے کہ ابراہیم نے ان پر تسلط پا لیا۔ یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت ابراہیم کا بتوں کے پاس جانا بتوں کیلئے ضرر رساں تھا (اول صورت میں علٰی استعلاء کیلئے ہوگا اور دوسری صورت میں ضرر کے مفہوم کو ظاہر کرنے کیلئے۔ مترجم)
ضَرْبًا یعنی ابراہیم نے اپنے دائیں ہاتھ سے زور کے ساتھ بتوں پر ضرب لگائی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیمین سے مراد قسم ہے ‘ یعنی اپنی قسم کی وجہ سے بتوں پر ضرب لگائی۔ حضرت ابراہیم نے پہلے قسم کھائی تھی اور کہا تھا : تَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَمْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ جب تم پیٹھ موڑ کر چل دو گے تو میں خدا کی قسم ! تمہارے بتوں کے ساتھ ایک برا معاملہ کروں گا۔
Ayah 37:94فاقبلوا الیہ یزفون پھر وہ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس دوڑتے آئے۔ یعنی ابراہیم کی قوم والے جب میلے سے لوٹے
اور بتوں کو شکستہ دیکھا تو دریافت فرمایا : یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے کی ‘ مَنْ فَعَلَ ھٰذَا بِاٰلِھَتِنَآ اِنَّہٗ لَمِنَ الظَّالِمِیْنَ ۔ پھر خود حضرت ابراہیم کی طرف ان کا خیال گیا اور کہنے لگے : سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُوْھُمْ یُقَالُ لَہٗٓ اِبْرَاھِیْمُ ۔ اس کے بعد تیزی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور دریافت کیا : کیا تو نے ہمارے معبودوں سے یہ گستاخی کی ؟
Ayah 37:95قال اتعبدون ما تنحتون۔ ابراہیم نے کہا : کیا جن کو تم خود تراشتے ہو ‘ انہی کی پوجا کرتے ہو ؟
Ayah 37:96وا اللہ خلقکم وما تعلمون حالانکہ اللہ ہی نے تم کو اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا۔
یہ جملہ انکاریہ ہے اور واللّٰہُ خَلَقَکُمْ جملہ حالیہ انکار کی مزید تاکید ہے ‘ ظاہر یہ ہے کہ مَا تَعْمَلُوْنَ میں مَا مصدریہ ہے ‘ یعنی اللہ نے تم کو اور تمہارے عمل کو پیدا کیا ‘ پھر کس طرح اپنے خالق کی عبادت چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا کرتے ہو ‘ جو خود تمہارے محتاج ہیں۔
اشاعرہ کہتے ہیں کہ سارے آدمیوں کے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے ‘ اس آیت سے اسی کی تائید ہو رہی ہے۔ فرقۂ معتزلہ کہتا ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے ‘ معتزلہ کے نزدیک مَا تَعْمَلُوْنَ میں مَا موصولہ ہے اور ضمیر محذوف ہے ‘ اصل کلام اسی طرح تھا : اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا اور ان چیزوں کو بھی جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ بت جس چیز کے بنائے جاتے ہیں ‘ اس چیز کا خالق یقیناً اللہ ہے ‘ البتہ بتوں کی شکلیں انسان کی ساختہ پرداختہ ہیں (اسی لئے کافروں کے فعل کا نتیجہ ان کو قرار دیا گیا ہے) لیکن اس صنعت پر قدرت دینے والا اللہ ہی ہے اور وہ تمام سر و سامان اور اسباب جن پر بتوں کی تخلیق موقوف ہے ‘ ان کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔
یا مَا مصدریہ ہی ہے ‘ لیکن عمل (مصدر) بمعنی معمول ہے ‘ اس وقت تَعْمَلُوْنَ تَنْحِتُوْنَ کے موافق ہوجائے گا (تراشنے والے بھی کافر تھے اور اسی تراش و صنعت کا نتیجہ یعنی معمول بھی انہی کے ساختہ تھے) ۔
اشاعرہ کا تفسیری قول صحیح ہے ‘ معتزلہ کی دونوں تشریحات غلط ہیں کیونکہ ان دونوں تاویلوں پر (ضمیر کا) حذف اور معنی مجازی (کی طرف بلاضرورت رجوع) لازم آتا ہے اور یہ بات ناقابل رشک ہے کہ اصنام کا جوہر تخلیقی کافروں کا خلق کردہ نہ تھا ‘ صرف اصنام کی شکلیں ان کی ساختہ تھیں ‘ پھر معتزلہ کی تفسیر سے اشکال کی تخلیق بھی فعل انسانی ثابت نہیں ہوتی بلکہ انسان کی معمول یعنی نتیجۂ کسب قرار پاتی ہے۔ خالق اشکال ہونا بہرحال اللہ کا ہی ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 37:97قالوا انبوا لہ بنیانا فالقوہ فی الجحیم وہ لوگ کہنے لگے کہ ابراہیم کیلئے ایک (آتش خانہ کی) عمارت تعمیر کرو
اور اس دہکتی آگ میں اس کو ڈال دو ۔
یعنی جب قوم ابراہیم والے کسی صحیح دلیل کو پیش کرنے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے (مشورہ کے بعد) کہا : ابراہیم کو جلانے کیلئے ایک عمارت بناؤ اور اس کے اندر لکڑیاں بھر کر ان میں آگ لگا دو ۔ جب لکڑیاں بھڑک اٹھیں اور آگ کے شعلے اونچے ہوجائیں تو بھڑکتی آگ میں ابراہیم کو ڈال دو ۔
مقاتل کا بیان ہے کہ قوم ابراہیم نے پتھروں کا ایک احاطہ تعمیر کیا ‘ دیواروں کی بلندی تیس ہاتھ اور چوڑائی دس ہاتھ رکھی ‘ پھر اس احاطہ میں لکڑیاں بھر دیں اور لکڑیوں میں آگ لگا دی۔
Ayah 37:98فارادوا بہ کیدًا غرض ابراہیم کے ساتھ انہوں نے ایک لڑائی کرنی چاہی تھی۔
کید یعنی شر ‘ مراد ہے جلا دینا ‘ تاکہ عام لوگوں کے سامنے ان کی کمزوری اور معقول جواب سے عاجزی ظاہر نہ ہونے پائے۔ چناچہ حضرت ابراہیم کے ہاتھ پاؤں خوب باندھ کر آپ کو آگ میں پھینک دیا گیا۔
فجعلنھم الاسفلین سو ہم نے انہی کو نچلا کردیا۔ یعنی ذلیل کردیا ‘ ان کی چال کو بیکار کردیا اور ابراہیم کی عظمت شان کی
کھلی دلیل اس واقعہ کو بنا دیا ‘ آگ کو ان کیلئے سرد اور سبب سلامتی کردیا۔ آگ سے صرف ایندھن جل گئے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) پر آنچ نہیں آئی۔
یہ واقعہ نمرود کے زمانہ میں علاقۂ بابل (عراق) میں ہوا تھا۔
Ayah 37:99وقال انی ذاھب الی ربی سیھدین اور ابراہیم کہنے لگے : میں تو اپنے رب کی جانب چلا جاتا ہوں ‘ وہ مجھے (اچھی
جگہ) پہنچا ہی دے گا۔
جب ابراہیم آگ سے صحیح سالم نکل آئے اور قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو حضرت ابراہیم نے یہ بات کہی۔
اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ یعنی اس کفرستان سے ہجرت کر کے میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا جہاں آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکوں۔ سیھدین یعنی میرا رب مجھے خود ایسا راستہ بتادے گا جس میں میرے دین کی درستی ہوگی۔ یا یہ مطلب ہے کہ میرا رب مجھے اس جگہ کا راستہ دکھا دے گا ‘ جہاں جانے کا اس نے مجھے حکم دیا ہے۔ اس سے مراد ملک شام ہے۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (اپنی بی بی) سارہ کو لے کر نمرود کے ڈر سے سرزمین بابل کو چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ حضرت سارہ اپنے زمانہ کی حسین ترین عورتوں میں سے تھیں۔ حضرت ابراہیم بابل سے نکل کر حدود مصر میں پہنچے ‘ اس زمانہ میں مصر کا بادشاہ صادف بن صادف تھا۔ شرح البخاری میں لابن الملقن میں اس فرعون کا نام سنان بن علوان بتایا گیا ہے ‘ جو ضحاک کا بھائی تھا۔ بعض کا قول ہے کہ اس کا نام عمر بن امراء القیس تھا ‘ یہ فرعون حضرت سارہ کو حضرت ابراہیم سے چھین کر ‘ سوار کرا کے اپنے محل میں لے گیا۔ اللہ نے تمام دیواروں اور پردوں کو حضرت ابراہیم کیلئے انڈے کے چھلکے کی طرح کردیا ‘ تاکہ سارہ کو آپ دیکھتے رہیں اور آپ کا دل مطمئن رہے ‘ کیونکہ آپ بڑے غیرت مند آدمی تھے۔ غرض فرعون نے جونہی سارہ کا ارادہ کیا ‘ فوراً قصر میں زلزلہ آگیا۔ فرعون اس قصر سے نکل کر دوسرے قصر میں پہنچا ‘ دوسرا قصر بھی ہلنے لگا تو تیسرے قصر میں منتقل ہوگیا ‘ یہاں بھی زلزلہ آیا تو سارہ نے کہا : یہ زلزلہ ابراہیم کی وجہ سے ہے۔ فرعون نے حضرت ابراہیم کو ان کی بی بی واپس کردی۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جونہی فرعون نے سارہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ‘ اس کا ہاتھ شل ہوگیا۔ فرعون نے سارہ سے فریاد کی اور آپ سے دعا کا خواستگار ہوا۔ حضرت سارہ نے دعا کی ‘ ہاتھ دوبارہ ٹھیک ہوگیا۔ فرعون نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا تو پھر اس کا ہاتھ شل ہوگیا۔ اس نے پھر دعا کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ حضرت سارہ نے دعا کی اور ہاتھ ٹھیک ہوگیا۔ لیکن اس نے تیسری بار پھر ہاتھ بڑھایا اور پھر ہاتھ سن ہوگیا۔ آخر اس نے تعرض نہ کرنے کی قسم کھائی اور عہد کیا کہ اگر اب کی مرتبہ ہاتھ ٹھیک ہوگیا تو کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ حضرت سارہ کی دعا سے پھر اس کا ہاتھ صحیح ہوگیا۔
امام احمد نے مسند میں نیز بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک روز حضرت ابراہیم ‘ سارہ کو لئے ایک ظالم بادشاہ کی طرف سے گذرے ‘ اس ظالم کو اطلاع مل گئی تھی کہ یہاں ایک آدمی آیا ہے جس کے ساتھ نہایت حسین عورت ہے۔ بادشاہ نے حضرت ابراہیم کو بلوا کر دریافت کیا : تیرے ساتھ یہ کون عورت ہے ؟ ابراہیم نے کہا : یہ میری بہن ہے۔ بادشاہ کے پاس سے لوٹ کر جب آپ سارہ کے پاس آئے تو فرمایا : سارہ ! روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مؤمن نہیں ہے اور اس شخص نے مجھ سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا ‘ میں نے اس کو بتادیا کہ میری بہن ہے۔ تم میری تکذیب نہ کرنا۔ غرض بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوایا ‘ آپ آگئیں تو وہ کچھ دست درازی کرنے چلا۔ فوراً پکڑا گیا ‘ تو حضرت سارہ سے دعا کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ میں تجھے آئندہ نہیں ستاؤں گا۔ حضرت سارہ نے دعا کی ‘ اس کا ہاتھ کھل گیا۔ بادشاہ نے دست درازی کی نیت کی اور پھر فوراً پکڑا گیا اور پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ سخت گرفت ہوگئی۔ بادشاہ نے پھر سارہ سے دعا کی درخواست کی اور ضرر نہ پہنچانے کا وعدہ کیا۔ حضرت سارہ نے دعا کی اور اس کا ہاتھ کل گیا۔ بادشاہ نے اپنے کسی دربان کو طلب کیا اور کہا : تو میرے پاس انسان کو نہیں شیطان کو لے کر آیا ہے (جا ‘ اس کو آزاد کر دے) اسی بادشاہ نے سارہ کو ہاجرہ خدمت کیلئے بھی دی۔ سارہ جب حضرت ابراہیم کے پاس پہنچیں تو اس وقت آپ نماز میں مشغول تھے ‘ ہاتھ کے اشارہ سے (نماز میں ہی) دریافت کیا کہ کیا خبر ہے ؟ سارہ نے کہا : اللہ نے اس بدکار کی چال اسی کے سینہ پر لوٹا کر مار دی۔ اور اس نے میری خدمت کیلئے ہاجرہ بھی مجھے دی۔
مواہب لذنیہ میں ایک روایت آئی ہے کہ صادف کا ہاتھ بند ھ گیا تو اس نے حضرت ابراہیم سے فریاد کی اور حضرت ابراہیم کی دعا سے اللہ نے اس کا ہاتھ کھول دیا۔ اس نے حضرت ابراہیم کو ہاجرہ (بطور ہدیہ) دے دی جو حضرت اسماعیل کی ماں ہوئیں۔ حضرت ہاجرہ بڑی امانت دار ‘ خازن (اسرار) اور (حضرت ابراہیم کی) ہم نشین تھیں۔ بادشاہ نے دیتے وقت حضرت ابراہیم یا حضرت سارہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : ھا اجرک یہ لو ‘ یہ تمہارا معاوضہ ہے۔ اسی لئے حضرت ہاجرہ کا نام ہاجر ہوگیا (ہمزہ حذف کر کے جیم کے سکون کو کسرہ سے بدل دیا گیا) ۔
حضرت ابراہیم نے ہاجرہ ‘ سارہ کو ہبہ کردی کیونکہ آپ حضرت سارہ کی خوشنودئ مزاج کے خواہشمند تھے۔ حضرت اسماعیل سے پہلے حضرت سارہ کے بطن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی ‘ اسی لئے آپ اپنے کو بانجھ خیال کرنے لگی تھیں۔ حضرت سارہ نے حضرت ابراہیم سے کہا : ہاجرہ قابل رغبت عورت ہے ‘ میں آپ کو یہ عورت ہبہ کرتی ہوں تاکہ اس سے آپ کی کوئی اولاد ہوجائے۔ چناچہ ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل پیدا ہوگئے۔
حضرت اسماعیل کی پیدائش حضرت ابراہیم کی دعا کے بعد ہوئی ‘ آپ نے اللہ سے دعا کی تھی ‘ اور کہا تھا :
Ayah 37:100رب ھب لی من الصلحین اے میرے رب ! مجھے کوئی ایسا بچہ عنایت فرما جو نیکوں میں سے ہو۔
مقاتل کا بیان ہے کہ ارض مقدس (شام) میں آنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی دعا کی تھی۔
Ayah 37:101فبشرنہ بغلام حلیم سو ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج لڑکے کی بشارت دی۔
حلیم بردبار ‘ عقلمند (قاموس) غلام حلیم سے مراد ہیں اسمٰعیل۔ یہی قول صحیح ہے۔ حضرت ابن عمر کا یہی قول ہے۔ سعید بن مسیب ‘ شعبی ‘ حسن بصری ‘ مجاہد ‘ ربیع بن انس ‘ محمد بن کعب قرظی اور کلبی کے نزدیک یہی قول مختار ہے۔ عطاء اور یوسف بن مالک کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ جس کی جگہ (غیبی مینڈھے کی) قربانی کی گئی تھی ‘ وہ اسماعیل ہی تھے۔ واقدی ‘ ابن عساکر نے بطریق عامر بن سعید از سعید بیان کیا ہے کہ حضرت سارہ ‘ حضرت ابراہیم کی بی بی تھیں ‘ مدت تک آپ کے بطن سے حضرت ابراہیم کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت سارہ نے یہ دیکھ کر ایک قبطی باندی ہاجرہ ‘ حضرت ابراہیم کو ہبہ کردی ‘ جن کے بطن سے اسماعیل بن ابراہیم پیدا ہوئے ‘ جس سے حضرت سارہ کو رشک پیدا ہوا۔ ہم نے یہ قصہ سورة ابراہیم میں ذکر کردیا ہے۔ ابراہیم ‘ اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے کر مکہ پہنچے ‘ اس وقت اسماعیل دودھ پیتے بچے تھے۔ کعبہ کے پاس پہنچ کر ماں بیٹے کو ٹھہرایا (کذا فی البخاری) بخاری کی یہ حدیث بھی ہم نے سورة ابراہیم میں نقل کردی ہے۔
یہودی اور عیسائی کہتے ہیں کہ ابراہیم کو جس لڑکے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا ‘ وہ اسحاق تھے ‘ لیکن یہ سراسر غلط ہے۔
بغوی نے محمد بن کعب قرظی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک یہودی عالم سے (جو بعد کو مسلمان اور اچھے مسلمان ہوگئے تھے) دریافت کیا : ابراہیم کے کس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا ؟ یہودی عالم نے کہا : اسماعیل کو ‘ پھر کہا : امیر المؤمنین ! یہودی اس بات کو جانتے ہیں ‘ لیکن اے قوم عرب ! یہودیوں کو اس بات میں حسد ہوتا ہے کہ وہ تمہارے باپ کو ذبیح اللہ مانیں ‘ اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا ‘ وہ اسحاق تھے۔ اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ مینڈھا جس کی قربانی کی گئی تھی ‘ اس کے دونوں سینگ کعبہ کے اندر آویختہ تھے جو اولاد اسماعیل کے قبضہ میں تھے۔ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حجاج کی لڑائی میں کعبہ کو آگ لگ گئی تو وہ سینگ بھی جل گئے۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے سنن میں بنی سلیم کی ایک عورت کے حوالے سے طلحہ بن عثمان کا بیان نقل کیا ہے کہ اس مینڈھے کے دونوں سینگ کعبہ میں لٹکے ہوئے تھے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ شعبی نے کہا : میں نے دونوں سینگ کعبہ سے وابستہ دیکھے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : قسم نے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! شروع اسلام میں مینڈھے کا سر مع سینگوں کے معلق تھا اور میزاب کعبہ خشک تھا۔ اصمعی کا بیان ہے : میں نے ابوعمرو بن علاء سے پوچھا : ذبیح اللہ اسماعیل تھے یا اسحاق ؟ ابو عمرو نے کہا : اصمعی ! تمہاری عقل کہاں چلی گئی ‘ اسحاق مکہ میں کب تھے ‘ اسماعیل نے ہی تو اپنے باپ کے ساتھ مل کر کعبہ بنایا تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دونوں قول مروی ہیں۔ میں کہتا ہوں : بغوی کے اس قول سے درپردہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کسی قول کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف صحیح نہیں ‘ کیونکہ اگر ایک قول کا ثبوت رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے مل جائے تو دوسرا قول لامحالہ غیر معتبر ہوجائے گا (اور جب دونوں قول مروی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہیں تو معلوم ہوا کہ کسی کی روایت بھی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچی) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ صحابہ میں سے حضرت عمر ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس اور تابعین اور تبع تابعین میں سے کعب احبار ‘ سعید بن جبیر ‘ قتادہ ‘ مسروق ‘ عکرمہ ‘ عطاء ‘ مقاتل ‘ زہری اور سدی کا قول ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق تھے ‘ عکرمہ اور سعید بن جبیر کی روایت سے بھی ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ ملک شام میں حضرت ابراہیم کو اسحاق کو ذبح کرنے کا خواب دکھایا گیا تھا ‘ آپ اسحاق کو ساتھ لے کر مکہ کی طرف چل دئیے اور ایک مہینے کی مسافت صبح سے دوپہر تک طے کر کے قربان گاہ منیٰ میں پہنچ گئے ‘ پھر جب اللہ نے آپ کو (بجائے اسحاق کے) مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دے دیا اور آپ نے مینڈھا ذبح کردیا تو دوپہر سے شام تک ایک ماہ کی راہ آدھے دن میں چل کر شام میں پہنچ گئے ‘ آپ کیلئے اللہ نے وادیوں اور پہاڑوں کو لپیٹ دیا۔ جن لوگوں نے حضرت اسحاق کو ذبیح اللہ مانا ہے ‘ شاید انہوں نے یہودی روایات پر اعتماد کیا ہے (ورنہ حقیقت میں تو اسماعیل ذبیح اللہ تھے) ۔
حضرت اسماعیل کا ذبیح اللہ ہونا مندرجہ ذیل امور سے بھی ثابت ہوتا ہے :
(1) بالاجماع ثابت ہے کہ شام کو ہجرت کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کا اول ترین ولد اسماعیل ہی تھے۔
(2) اللہ نے اپنے بیان فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلاَمٍ حَلِیْمٍ کا عطف آیت اِنِّیْ ذَاھِبٌ الیٰ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنَ پر فَ کے ساتھ کیا ہے اور عطف کیلئے فَ کا استعمال بتاتا ہے کہ بعد کی چیز اول چیز سے بعد تو ہوئی لیکن اول اور بعد کے درمیان کوئی مدت نہیں ہوئی اور چونکہ حضرت اسحاق کی پیدائش ہجرت سے بہت سالوں بعد ہوئی اسلئے حضرت اسحاق ذبیح اللہ نہیں ہوسکتے ‘ کیونکہ جس کی پیدائش کی بشارت دی گئی تھی ‘ اسی کو ذبح کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا اور پیدائش سے پہلے حکم ذبح کا کوئی معنی نہیں۔
(3) آگے حضرت اسحاق کی پیدائش کی بشارت کا ذکر آ رہا ہے ‘ جس کا عطف غلام حلیم کی بشارت پر کیا گیا ہے ‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلام حلیم (جس کو آئندہ ذبح کرنے کا حکم دیا گیا) اسحاق کے علاوہ کوئی اور لڑکا ہے (کیونکہ معطوف اور معطوف علیہ میں مغایرت ہونی ضروری ہے) ۔
ایک شبہ : حضرت اسحاق کی بشارت دو مرتبہ دی گئی : ایک بار ان کی پیدائش کی ‘ اور دوسری بار ان کی نبوت کی۔ غلامٍ حلیمٍ کی پیدائش کی بشارت پر بشارت نبوت اسحاق کا عطف کیا گیا ہے ‘ ولادت اسحاق کی بشارت کا عطف نہیں کیا گیا۔
الزالہ : یہ شبہ بےبنیاد اور ظاہر آیت کے خلاف ہے ‘ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَبَشَّرْنَاہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیَّا مِّنْ الصّٰلِحِیْنَ یعنی ہم نے ابراہیم کو نفس اسحاق کی پیدائش کی بشارت دی اور کہہ دیا کہ ان کی نبوت اور صلاح کا فیصلہ کردیا گیا ہے ‘ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے اسحاق کی نبوت کی بشارت دی (یعنی بشارت میں دونوں باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اسحاق کی پیدائش اور ان کی نبوت کا ‘ تنہا ان کی نبوت کا ذکر نہیں ہے) ۔
(4) سارہ کو جب اسحاق کے (آئندہ) پیدا ہونے کی اور ان کے بیٹے یعقوب کی پیدائش کی بھی (قبل از وقوع) بشارت دی گئی جس کے متعلق فرمایا : فَبَشَّرْنٰہٗ بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ تو اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ یعقوب کی پیدائش سے پہلے اسحاق کے محض مراہق ہونے کی حالت میں ان کو ذبح کر ڈالنے کا حکم دیا گیا ہو۔
Ayah 37:102فلما بلغ معہ السعی پھر وہ لڑکا جب ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔
اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا کہ بشارت کے بعد حضرت ابراہیم کے لڑکا پیدا ہوگیا ‘ پھر اتنی عمر کو بھی پہنچ گیا کہ کام کاج میں حضرت ابراہیم کا ہاتھ بٹا سکے۔
سعی سے مراد ہے عملی کوشش۔ کلبی نے کہا : سعی سے مراد ہے اللہ کیلئے کچھ کام کرنا۔ قتادہ نے کہا : سعی سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے ساتھ وہ پہاڑ تک دوڑنے کے قابل ہوگیا۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ سعی کو پہنچنے سے مراد ہے جوان ہوجانا اور حضرت ابراہیم کی طرح عملی سعی کرنا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ 13 سال کی عمر مراد ہے ‘ بعض نے سات سال کی صراحت کی ہے۔
قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک ابراہیم نے کہا : میرے پیارے بیٹے ! میں خواب میں دیکھ رہا تھا
کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا ہو کہ میں بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں ‘ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا خواب دیکھا ہو جس کی تعبیر ہو بیٹے کو ذبح کرنا۔
محمد بن اسحٰق نے بیان کیا : جب حضرت ابراہیم ‘ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے پاس جانا چاہتے تھے تو براق پر سوار ہو کر صبح کو شام سے روانہ ہوتے اور دوپہر کو مکہ میں پہنچ کر قیلولہ کرتے ‘ پھر جب مکہ سے واپس آتے تو دوپہر کے بعد چل کر شام کو شام میں پہنچ جاتے اور یہیں رات گذارتے تھے۔ جب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اور حضرت ابراہیم کی جو آرزو حضرت اسماعیل سے وابستہ تھی کہ اپنے رب کی عبادت اور حرمات الٰہیہ کی تعظیم کریں گے ‘ اس کے پورا ہونے کی امید ہوگئی تو خواب میں آپ کو حکم دیا گیا کہ اسماعیل کو ذبح کر دو ۔ اس حکم کی صورت یہ ہوئی کہ ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کی شب میں آپ نے خواب میں دیکھا کہ اللہ نے اسماعیل کو ذبح کرنا کا حکم دیا ہے۔ صبح کو اٹھے تو سوچ میں پڑگئے (کہ کیا یہ حکم خداوندی تھا) صبح سے شام تک اسی سوچ میں رہے کہ یہ خواب رحمانی ہے یا شیطانی ‘ اسی لئے ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یوم الترویہ (سوچ کا دن) کہا جاتا ہے۔ جب شام ہوگئی اور آپ سو گئے تو دوسری بار بھی آپ نے وہی پہلا خواب دیکھا۔ جب صبح کو اٹھے تو پہچان گئے کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے ‘ اسی لئے اس (نویں) تاریخ کو عرفہ (پہچاننے کا دن) کہا جاتا ہے۔ کذا اخرج البیہقی فی شعب الایمان من طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس۔ محمد بن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے حضرت اسماعیل سے فرمایا : رسی اور چھری لے لو ‘ ہم اس گھاٹی میں لکڑیاں جمع کرنے جا رہے ہیں۔ جب کوہ ثبیر کی گھاٹی میں پہنچے تو تنہائی ہوئی تو آپ نے حضرت اسماعیل کو اس حکم کی اطلاع دی جو آپ کو ملا تھا۔
مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے پیہم تین رات یہی خواب دیکھا ‘ آخر جب آپ کو یقین ہوگیا (کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے) تو بیٹے کو اطلاع دی اور فرمایا : اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ ۔ سدی کا قول ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے دعا کی اور عرض کیا : رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ تو ان کو آئندہ بیٹا عطا ہونے کی بشارت دی گئی ‘ بشارت پاتے ہی آپ نے (نذر مانی اور) فرمایا : تو وہ اللہ کیلئے قربان کیا جائے گا۔ جب اسماعیل پیدا ہوگئے اور بڑھ گئے تو (ا اللہ کی طرف سے) ان سے کہا گیا کہ اپنی نذر پوری کرو ‘ بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کا یہی سبب تھا۔ سدی کا یہ قول مفہوم امتحان کے خلاف ہے (حقیقت میں اللہ نے ابراہیم و اسماعیل کی جانچ کی تھی ‘ یہ ایفاء عہد کی طلب نہ تھی) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل سے کہا : چلو ‘ اللہ کیلئے قربانی کریں گے۔ حضرت اسماعیل رسی اور چھری لے کر حضرت ابراہیم کے ساتھ چل دئیے۔ حضرت ابراہیم ان کو پہاڑوں میں لے گئے ‘ پہاڑوں میں پہنچ کر بیٹے نے پوچھا : ابا جان ! آپ کی قربانی کا جانور کہاں ہے ؟ حضرت ابراہیم نے کہا : میرے پیارے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے (ا اللہ کی راہ میں) قربان کر رہا ہوں۔
فانظر ماذا تری سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟
یعنی تیری رائے کیا ہے ؟ لفظ ترٰی رائے سے ماخوذ ہے ‘ رویت سے ماخوذ نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم نے بیٹے سے اس کی رائے اسلئے دریافت کی کہ آپ کو بیٹے کے صبر اور اطاعت امر اللہ پر عزیمت کا امتحان لینا تھا۔
قال یابت افعل ما تؤمر اسماعیل نے کہا : ابا جان ! جو حکم آپ کو ملا ہے ‘ اس کی تعمیل کیجئے۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے
کہ انبیاء کا خواب بھی وحی من اللہ ہوتا ہے ‘ جس کی تعمیل واجب ہے۔ عبد بن حمید نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ بخاری نے صحیح میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے اور مسلم نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور امام احمد و ابن ماجہ نے ابو زرین کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی مرفوع روایت سے بیان کیا ہے کہ نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین انشاء اللہ آپ مجھے (ذبح ہونے پر) ضرور صابر پائیں گے۔
Ayah 37:103فلما اسلما غرض دونوں نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرلیا۔
یعنی دونوں نے اللہ کے حکم کو مان لیا اور امر خداوندی کے سامنے جھک گئے۔ قتادہ نے کہا : (اَسْلَمَ کا معنی ہے سپرد کرنا ‘ یعنی) ابراہیم نے اپنے بیٹے کو اور اسماعیل نے اپنی جان کو سپرد کردیا۔
وتلہ للجبین اور باپ نے بیٹے کو (ذبح کرنے کیلئے) کروٹ پر لٹایا۔
اور ابراہیم نے اسماعیل کو زمین پر پچھاڑ دیا (یعنی لٹا دیا) پیشانی کے بل۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ کروٹ سے لٹا دیا ‘ پیشانی دونوں پہلوؤں کے درمیان رہی۔ یہ واقعہ منیٰ میں صخرہ کے پاس ہوا۔ حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت عبد بن حمید ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور حاکم نے کی ہے۔ بغوی نے عطاء بن سائب کی روایت سے کسی قریشی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ واقعہ اسی قربان گاہ میں ہوا جو آج بھی قربان گاہ ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : اہل روایت کا بیان ہے کہ اسماعیل نے باپ سے کہا : ابا ! میرے بندھن کس کر باندھنا تاکہ میں تڑپ نہ سکوں ‘ اور اپنے کپڑے میری طرف سے سمیٹے رکھنا تاکہ میرا خون اچھل کر آپ کے کپڑوں پر نہ پڑجائے اور میرے اجر میں کمی آجائے اور اس خون کو دیکھ کر میری ماں رنجیدہ ہوجائے اور چھری کو تیز کرلینا اور میرے حلق پر تیزی سے چلا دینا تاکہ میرے لئے دشواری نہ ہو ‘ کیونکہ موت سخت چیز ہے اور آپ جب میری ماں کے پاس جائیں تو ان کو میرا سلام کہنا۔ اور اگر آپ میرا کرتہ میری ماں کے پاس واپس لے جانا چاہتے ہوں تو لے جائیں ‘ اس سے ان کو بڑی تسلی ہوگی۔ حضرت ابراہیم نے کہا : میرے پیارے بیٹے ! اللہ کے حکم کی تعمیل کیلئے تو میرا بہت اچھا مددگار ہے۔ پھر بیٹے نے جو کچھ کہا تھا ‘ باپ نے ویسا ہی کیا۔ اول بیٹے کو پیار کیا ‘ پھر باندھ دیا اور رونے لگے ‘ پھر اسماعیل کے حلق پر چھری رکھ دی ‘ لیکن چھری سے حلق پر نشان بھی نہ پڑا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حلق پر چھری تیزی سے چلانے لگے ‘ لیکن چھری کچھ کاٹ نہ سکی۔ آپ نے چھری کو دو تین بار پتھر سے تیز کیا ‘ لیکن چھری (کچھ بھی) نہ کاٹ سکی۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم نے قوت کے ساتھ کئی بار اسماعیل کے حلق پر چھری چلائی ‘ لیکن چھری نے (کچھ بھی) نہ کاٹا۔ اسماعیل کے حلق پر اللہ نے تانبے کی تختی لگا دی (جس پر چھری کا کوئی اثر ہی نہیں ہوا) اہل روایت نے بیان کیا ہے کہ حضرت اسماعیل نے حضرت ابراہیم سے اس وقت کہا : ابا ! مجھے پٹ کر دو ۔ آپ کی نظر میرے چہرہ پر پڑے گی تو آپ کو پیار آجائے گا اور آپ کے دل میں رقت پیدا ہوجائے گی جو حکم کی تعمیل میں رکاوٹ پیدا کر دے گی اور چھری پر میری نظر پڑے گی تو بیتابی اور بیقراری میرے اندر پیدا ہوجائے گی۔ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا اور جب گردن پر چھری رکھی تو چھری (کی دھار) لوٹ گئی۔
عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی طرف ‘ اور عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے کہ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو منہ کے بل لٹا دیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ نے کعب احبار کا قول اور محمد بن اسحاق نے اپنے رواۃ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو شیطان نے کہا : اگر میں اس وقت ابراہیم کے گھر والوں کو نہ بہکا سکا تو پھر کبھی ان کی اولاد میں سے کسی کو نہ بہکا سکوں گا۔ یہ ارادہ کر کے وہ مرد کی شکل میں لڑکے کی ماں (حضرت ہاجرہ) کے پاس پہنچا اور کہنے لگا : کیا تم کو معلوم ہے کہ ابراہیم تمہارے بیٹے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ ماں نے کہا : دونوں اس گھاٹی سے لکڑیاں لینے گئے ہیں۔ شیطان نے کہا : نہیں ‘ خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے بلکہ ابراہیم ‘ اسماعیل کو ذبح کرنے لے گئے ہیں۔ ماں نے کہا : ایسا نہیں ہوسکتا۔ وہ تو بیٹے سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے دل میں بیٹے کی بڑی محبت ہے۔ شیطان نے کہا : وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ ماں نے کہا : اگر ان کے رب نے یہ حکم دیا ہے تو حکم رب کی اطاعت کرنی ہی بہتر ہے۔ شیطان یہاں سے (مایوس ہو کر) بیٹے کے پاس پہنچا ‘ بیٹا اس وقت باپ کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ شیطان نے اس سے کہا : لڑکے ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا باپ تم کو کہاں لے جا رہا ہے ؟ لڑکے نے کہا : ہم گھر کیلئے ایندھن کی لکڑیاں اس گھاٹی سے لینے جا رہے ہیں۔ شیطان نے کہا : نہیں ‘ خدا کی قسم ! اس کا مقصد یہ نہیں ‘ بلکہ وہ تم کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ لڑکے نے کہا : کیوں ؟ شیطان نے کہا : اس کا خیال ہے کہ اس کے رب نے اس کو اس بات کا حکم دیا ہے۔ لڑکے نے کہا : ایسا ہے تو اس کو اپنے رب کے حکم کی اطاعت بسروچشم کرنی ضروری ہے (میں بھی اس پر راضی ہوں) ۔
جب لڑکے نے شیطان کا مشورہ نہ مانا تو شیطان نے حضرت ابراہیم کی طرف رخ کیا اور کہنے لگا : شیخ ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ حضرت ابراہیم نے کہا : میں ایک کام سے اس گھاٹی میں جانا چاہتا ہوں۔ شیطان بولا : خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ شیطان نے خواب میں آکر تم کو اپنے لڑکے کے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابراہیم اس وقت پہچانے کہ یہ شیطان ہے ‘ بولے : دشمن خدا ! میرے پاس سے ہٹ جا۔ میں ضرور ضرور اپنے رب کے حکم پر عمل کروں گا۔ شیطان غضبناک ہو کر لوٹ گیا اور حضرت ابراہیم اور ان کے گھر والوں کے معاملہ میں کچھ بھی کامیاب نہ ہوسکا ‘ اللہ نے ان سب کو شیطان سے محفوظ رکھا۔
ابو الطفیل نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو بیٹے کے ذبح کردینے کا حکم دیا گیا (تو) اس مشعر پر شیطان (روکنے کیلئے) آپ کے سامنے آگیا ‘ لیکن آپ آگے نکل چکے تھے۔ پھر آپ جمرۂ عقبہ پر پہنچے ‘ وہاں بھی شیطان سامنے آگیا۔ آپ نے اس کے سات پتھریاں ماریں ‘ شیطان چلا گیا۔ پھر آپ جمرۂ وسطیٰ پر پہنچے ‘ وہاں بھی شیطان آگے آگیا۔ آپ نے اس کے سات کنکریاں ماریں ‘ شیطان چلا گیا اور پھر جمرۂ کبریٰ کے پاس حضرت ابراہیم نے شیطان کو پایا ‘ یہاں بھی آپ نے اس کے سات سنگ ریزے مارے اور شیطان چلا گیا۔ اس کے بعد آپ اللہ کے حکم کی تعمیل کیلئے چل دئیے۔
Ayah 37:104ونادینہ ان یابراھیم اس وقت ہم نے کو آواز دی : اے ابراہیم !
بغوی نے لکھا ہے : اس جملہ میں واؤ زائد ہے اور یہ کلام فَلَمَّا اَسْلَمَا کا جواب (جزاء) ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : لَمَّا اَسْلَمَا کی جزاء محذوف ہے ‘ کلام محذوف اس طرح تھا کہ جو کچھ واقع ہونا تھا ‘ وہ ہوگیا تو دونوں کی خوشی ناقابل بیان ہوئی۔ کوئی حالت یا مقامی وضاحت اس کا اظہار نہیں کرسکتی۔ آئی ہوئی مصیبت کو اللہ نے دور کردیا اور باپ بیٹے کو وہ توفیق عنایت کی جو کسی اور کو عنایت نہیں کی۔ سارے جہان پر ان کو برتری عطا فرمائی ‘ اور ثواب آخرت جو ان کیلئے مقرر فرمایا ‘ اس کا اظہار ہی نہیں ہوسکتا۔ ان تمام نعمتوں پر دونوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
میں کہتا ہوں : یہ بھی ممکن ہے کہ واؤ عطف کیلئے ہو اور لَمَّا اَسْلَمَا کے محذوف جواب پر اس کا عطف ہو ‘ یعنی جب بیٹے اور باپ نے حکم الٰہی کے سامنے سر جھکا دیا اور ابراہیم نے اسماعیل کو زمین پر لٹا دیا اور حلق پر چھری پھیر دی تو ہم نے ذبح سے (چھری کو) روک دیا اور اسماعیل کو بچا لیا اور ابراہیم کو ندا دی کہ
Ayah 37:105قد صدقت الرؤیا تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔
یعنی تمہارے اختیار میں جو کچھ تھا ‘ وہ تم نے پورا کردیا۔ کسی کام پر مامور کرنے کا مقصد صرف آزمائش اور اس امر کا امتحان ہے کہ بقدر اختیار بندہ حکم کی تعمیل کرتا ہے یا نہیں ‘ امر کی اس کے سوا کوئی غرض نہیں ہوتی (حضرت ابراہیم نے امر ذبح کی پوری تعمیل کی اور اپنی دانست میں ذبح کر ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ‘ لیکن اللہ نے حضرت اسماعیل کو بچا لیا۔ یہ کام اللہ کا تھا ‘ مترجم)
بعض اقوال میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب صرف یہ دیکھا تھا کہ میں بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں ‘ خون بہاتے نہیں دیکھا تھا۔ پس جو کچھ خواب میں دیکھا تھا ‘ بیداری میں اس کو پورا کردیا۔ اس مطلب پر تصدیق رؤیا کا حقیقی مفہوم مراد ہوگا اور اول مطلب مجازی معنی مراد ہوگا۔
سوال : اگر بیٹے کو ذبح کردینا حضرت ابراہیم پر واجب نہ تھا ‘ بلکہ فعل ذبح کا ارتکاب اور اسباب ذبح کی فراہمی ان پر واجب تھی تو پھر فَدَیْنٰہُ (ہم نے ان کے بدلہ میں دے دیا) کا کیا معنی ؟ فدیہ تو واجب کے عوض ہوتا ہے۔
جواب : فعل ذبح کا ارتکاب اصل واجب تھا ‘ لیکن فعل ذبح کرنے کے بعد ذبح ہوجانا عام طور پر لازم ہوتا ہے ‘ اسلئے ذبح کر ڈالنے کا وجوب دلالت التزامی کے طور پر ہوگیا ‘ پس دلالت التزامی کے طور پر جو امر واجب تھا ‘ اس کی تکمیل نہ ہونے پر اس کے بدل کو فدیہ کہہ دیا گیا۔
نوٹ : آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ واجب التزامی کے ادا پر قدرت حاصل ہونے سے پہلے ہی حکم کو منسوخ کردیا گیا۔
انا کذلک نجزی المحسنین ہم نیکیاں کرنے والوں کو ایسا ہی اچھا بدلہ دیتے ہیں۔
حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کی نیکی کو تکلیف و مصیبت دور کرنے کا سبب قرار دیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ابراہیم کو ہم نے جزا دی ‘ ثواب عظیم ذبح کا عطا کیا اور ذبح اسماعیل سے درگذر کی (اسماعیل کو بچا لیا) اور سارے جہان پر ان کو برتری عطا کی ‘ اسی طرح (عام طور پر) ہم تمام نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔
Ayah 37:106ان ھذا لھو البلؤ المبین (بیٹے کو ذبح کردینے کا) یہ حکم بلاشبہ کھلا ہوا امتحان تھا۔
اس سے مخلص اور غیر مخلص کی جانچ ہوجاتی تھی ‘ یا (بلاء کا معنی ہے) تکلیف اور کھلی ہوئی سختی تھی ‘ اس سے زیادہ سخت حکم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک بلاء سے مراد ہے نعمت ‘ یعنی بیٹے کی جگہ مینڈھے کو ذبح کردینے کا حکم اللہ کا بڑا انعام تھا۔
Ayah 37:107وفدینہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دے دیا۔
روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے ایک آواز سنی تو نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ‘ اوپر جبرئیل نظر آئے جن کے ساتھ ایک سینگوں والا مینڈھا تھا۔ جبرئیل نے کہا : یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے ‘ اس کی قربانی کر دیجئے۔ اس کے بعد جبرئیل نے تکبیر کہی اور مینڈھے نے بھی تکبیر کہی اور حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے نے بھی تکبیر کہی ‘ پھر منٰی کی قربان گاہ میں جا کر مینڈھے کو ذبح کردیا۔ بجائے بیٹے کے فدیہ پیش کرنے والے تو حقیقت میں حضرت ابراہیم تھے ‘ لیکن قربانی کا جانور اللہ کا عطا کردہ تھا اور اللہ ہی نے جانور کو بجائے اسماعیل کے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا ‘ اسلئے فدینٰہ میں فعل فدیہ کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی۔
عَظِیْمٍ سے مراد ہے عظیم الجثہ ‘ موٹا۔ یا ثواب کے لحاظ سے عظیم المرتبت۔ حسین بن فضل نے کہا : (عظیم ہونے کی یہ وجہ تھی کہ) وہ اللہ کی طرف سے تھا۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس کو عظیم ہونے کا حق تھا۔ مجاہد نے کہا : اس کو عظیم اسلئے فرمایا کہ اس کو قبول فرما لیا گیا۔ بغوی نے لکھا ہے : اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ وہ مینڈھا جنت کے اندر چالیس خریف (یعنی موسم بہار) رہا تھا (یعنی چالیس بہار کے موسموں میں جنت کا سبزہ چر کر موٹا ہوا تھا) ابن ابی شیبہ ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم کی روایات میں یہی آیا ہے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جس مینڈھے کی حضرت اسماعیل کی جگہ حضرت ابراہیم نے قربانی پیش کی تھی ‘ وہ وہی مینڈھا تھا جس کی آدم کے بیٹے ہابیل نے قربانی پیش کی تھی۔ اس آیت سے حنفیہ نے استدلال کیا ہے کہ جس شخص نے اپنے بیٹے کے قربان کرنے کی نذر مانی ہو ‘ اس پر ایک بکری کی قربانی لازم ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : حنفیہ کے قول کی آیت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
(حضرت مفسر نے کہا :) میں کہتا ہوں کہ سورة حج کی آیت وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ کی تفسیر میں اس مسئلہ کی وضاحت کردی ہے۔ قیاس کا تقاضا ہے کہ مسئلہ زیر بحث میں کچھ بھی واجب نہ ہوا (نہ بیٹے کو قربان کرنا ‘ نہ بکری کو) کیونکہ یہ گناہ کی منت ہے۔ امام ابو یوسف کا یہی قول ہے ‘ لیکن امام ابوحنیفہ نے (خلاف قیاس استحسان کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ بکری کی قربانی لازم ہے ‘ کیونکہ جب حقیقت شرعاً واجب الترک ہو تو مجازی معنی متعین ہوجاتا ہے ‘ پس جب کسی نے بیٹے کو قربان کرنے کی نذر مانی تو ظاہر ہے بیٹے کی قربانی واجب الترک ہے ‘ اسلئے ہم کہیں گے کہ بیٹے کے قائم مقام بکری کی قربانی کرنے کا خود اپنے اوپر التزام کرلیا۔ بکری کی قربانی کی تعیین اسلئے ہوگئی کہ اللہ نے حضرت اسماعیل کی جگہ مینڈھے کی قربانی کا حکم دے دیا۔ حضرت ابن عباس نے اسی پر فتویٰ دیا ہے۔
Ayah 37:108وترکنا علیہ فی الاخرین اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات ان کیلئے رہنے دی۔ تَرَکْنَا کا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی ابراہیم کا ذکر خیر اور تعریف۔ رفتار کلام سے مفعول ذہن میں آجاتا ہے ‘ اسلئے ذکر کی ضرورت نہیں۔ اَلْاَخِرِیْنَ سے مرا ہیں اگلے زمانہ میں آنے والی قومیں۔
Ayah 37:109سلم علی ابراہیم۔ کہ ابراہیم پر سلام ہو ‘
Ayah 37:110کذلک نجزی المحسنین ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔
کَذٰلِکَ نَجْزِیْ سلامتی کی علّت ہے (یعنی ابراہیم کیلئے سلامتی اس وجہ سے ہوئی کہ ہم نیکی کرنے والوں کو یونہی بدلہ دیتے ہیں)
کَذٰلِکَ سے پہلے اس جگہ لفظ اِنَّا (تاکیدیہ تحقیقیہ) اسلئے ذکر نہیں کیا کہ (تکرار سے کوئی فائدہ نہ تھا) آیت سابقہ میں اِنَّا مذکور ہے ‘ وہی کافی ہے (یعنی معنیً یہاں بھی وہی مراد ہے ‘ جو سابق آیت میں مراد تھی) ۔
Ayah 37:111انہ من عبادنا المؤمنین بلاشبہ وہ ہمارے (خالص پختہ) ایمان والے بندوں میں سے تھا۔
Ayah 37:112وبشرنہ باسحق نبیًا من الصلحین اور ہم نے اسحاق کی ان کو بشارت دی کہ نبی اور نیک بختوں میں سے ہوں گے۔
یعنی ہم نے ابراہیم کو بشارت دی کہ ہم تم کو ایک لڑکا عنایت کریں گے جس کا نام اسحاق ہوگا اور جس کی نبوت کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے اور جو صالحین میں سے ہوگا۔ نبوت کے بعد صالح ہونے کا ذکر اسحاق کی عظمت شان اور تعریف کو ظاہر کر رہا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ صلاح ہی نبوت کا ہدف اصلی ہے۔ نبوت سے تمام (افکار و اعمال) کی درستگی ہوتی ہے۔
Ayah 37:113وبرکنا علیہ اور ہم نے ابراہیم پر برکت نازل کی۔
یعنی دین و دنیا کی برکتیں ہم نے ابراہیم پر جاری کردیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ابراہیم کی اولاد میں ہم نے برکت عطا کی (آپ کی نسلی اولاد کی تعداد بہت بڑھا دی) ۔
وعلی اسحاق اور (خصوصیت کے ساتھ) اسحاق کو بھی برکت عطا کی۔ آپ کی نسل میں ایک ہزار نبی پیدا ہوئے ‘ سب
سے پہلے حضرت یعقوب ہوئے اور سب سے آخر میں (آپ کی نسل سے) حضرت عیسیٰ ہوئے۔
ومن ذریتہما محسن و ظالم لنفسہ مبین اور دونوں کی نسل میں نیکوکار بھی ہوئے اور اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم
کرنے والے بھی۔
مُحْسِنٌ یعنی کچھ لوگ اچھے کردار والے یا ایمان وطاعت اختیار کر کے اپنے نفس سے بھلائی کرنے والے ہوئے اور کچھ لوگ کفر و معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے نفس کیلئے ظالم ہوگئے۔
مُبِیْنٌ یعنی ان کا ظلم کھلا ہوا ہے۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ ہدایت و گمراہی پر نسب اثرانداز نہیں ہوتا اور اولاد و نسل کے ظالم ہونے سے حضرت ابراہیم و حضرت اسحاق کا کچھ نقصان نہیں ہوا۔
Ayah 37:114ولقد مننا علی موسیٰ وھرون اور ہم نے موسیٰ و ہارون پر احسان کیا۔ یعنی نبوت اور دین و دنیا کی بہبودی عنایت کی۔
Ayah 37:115ونجینھما وقومھما من الکرب العظیم اور ان دونوں کو اور انکی قوم والوں کو ہم نے بڑی مصیبت سے نجات دی۔
قوم سے مراد ہیں بنی اسرائیل ‘ اور کرب عظیم سے وہ تکلیفیں اور ایذائیں مراد ہیں جو فرعون ان کو دیا کرتا تھا۔ بعض نے نزدیک غرق ہونے سے محفوظ رکھنا مراد ہے۔
Ayah 37:116ونصرنھم فکانواھم الغلبین اور ہم نے ان کی (یعنی موسیٰ اور ان ی قوم کی) مدد کی ‘ آخر وہی (فرعون اور اس کی قوم پر) غالب آگئے۔
Ayah 37:117واتینھما الکتب المستبین اور ہم نے دونوں کو بالکل واضح کتاب (توریت) دی۔ یعنی ایسی کتاب دی جس میں اللہ کے احکام و قوانین کھول کر بیان کر دئیے تھے۔
Ayah 37:118وھدینھما الصراط المستقیم اور دونوں کو سیدھا راستہ دکھا دیا۔ یعنی ایسا راستہ دکھا دیا جو راہگیر کو حق تک پہنچانے والا تھا۔
Ayah 37:119وترکنا علیھا فی الاخرین۔ اور دونوں کا ذکر خیر ہم نے آئندہ قوموں میں قائم رکھا۔
Ayah 37:120سلم علی موسیٰ وھرون۔ موسیٰ اور ہارون کیلئے سلامتی ہو ‘