33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (ضعف ایمان کی) بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں ‘ اگر باز نہ آئے۔ یعنی اگر منافق اپنے نفاق سے اور عورتوں کو چھیڑنے سے باز نہ آئے اور جن کے دلوں میں ضعف ایمان کی بیماری ہے ‘ وہ اپنے مذہبی عدم استقلال یا بدکاریوں سے باز نہ آئے اور مدینہ میں سنسنی پیدا کردینے والے اپنی سنسنی خیز جھوٹی خبروں کو پھیلانے سے باز نہ آئے۔ رَجْفَۃٌ کا معنی ہے زلزلہ ور حرکت کا شدید اضطراب۔ جب رسول اللہ فوجی دستوں کو (ادھر ادھر قبائل میں) بھیجتے تھے تو کچھ منافق مدینہ میں جھوٹی خبریں پھیلاتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ جن لوگوں کو بھیجا گیا تھا وہ مارے گئے یا شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے ‘ کبھی کہتے کہ عنقریب دشمن مسلمانوں پر مدینہ میں حملہ کرنے والا ہے۔ کلبی نے کہا : وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں کوئی بری بات پھیل جائے ‘ وہ جھوٹی خبریں اڑاتے تھے۔ لنغزینک بھم تو ہم ضرور آپ کو ان کے خلاف برانگیختہ کردیں گے۔ یعنی حکم دے دیں گے کہ آپ ان سے قتال کریں اور ان کو جلاوطن کردیں گے ‘ یا ایسی بات کا حکم دے دیں گے جس کی وجہ سے وہ دیس بدر ہونے کی خواہش پر مجبور ہوجائیں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے۔ ثم لا یجاورونک فیھا الا قلیلا . پھر مدینہ میں وہ آپ کے ساتھ نہیں رہ سکیں گے ‘ مگر تھوڑے وقت۔ آخر ان کو شہربدر ہونا پڑے گا یا مارے جائیں گے۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے۔ جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

ملعونین . (وہ بھی ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے۔ اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلاً . جہاں ملیں گے ‘ ان کی پکڑ دھکڑ ہوگی اور مار دھاڑپڑے گی۔ مَلْعُوْنِیْنَ حالت نصب میں ہے ‘ منافقوں کی مذمت کی گئی ہے (گویا کلام اس طرح تھا : اَذُمُّ مَلْعُوْنِیْنَ میں ملعونوں کو مذموم قرار دیتا ہوں) یا حال ہونے کی بناء پر یہ لفظ منصوب ہے اور استثناء کے ذیل میں ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : لاَ یُجَاوِرُوْنَکَ الاَّ مَلْعُوْنِیْنَ (آپ کے ساتھ نہ رہ سکیں گے ‘ مگر ملعون ہونے کی حالت میں) تقتیل بات تفعیل ‘ کثرت قتل پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے

سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل . اقوام گذشتہ میں اللہ نے (یہی) ضابطہ جاری کردیا تھا۔ یعنی جو لوگ انبیاء سے منافقانہ سلوک کرتے تھے اور سنسنی خیز خبریں پھیلا کر انبیاء کے مشن کو کمزور کرنا چاہتے تھے ‘ ان کو قتل کرنے کا ضابطہ اللہ نے مقرر کردیا تھا۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً . اور اللہ کے ضابطہ میں آپ ہرگز تبدیلی نہیں پائیں گے۔ یعنی نہ وہ خود اپنا دستور بدلتا ہے اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ اس کے ضابطے کو بدل دے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

یسئلک الناس عن الساعۃ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں۔ یعنی قیامت کا مقررہ وقت دریافت کرتے ہیں۔ یہ سوال مشرکوں کی طرف سے انکاری استہزاء کے طور پر تھا اور یہودیوں کی طرف سے عداوت کی وجہ سے یا بطور آزمائش تھا کیونکہ توریت اور تمام کتب الٰہیہ میں وقوع قیامت کا کوئی مقررہ وقت نہیں بتایا گیا۔ قل انما علمھا عند اللہ . آپ کہہ دیجئے کہ قیامت (کی تعیین) کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ یعنی قیامت کا علم اللہ نے نہ کسی نبی کو عطا کیا ‘ نہ فرشتہ کو (اس کے سوا کسی کو معلوم نہیں) ۔ وما یدریک . اور (جب اللہ نے نہیں بتایا تو) کون چیز آپ کو بتاسکتی ہے۔ لعل الساعۃ تکون قریبًا . شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو۔ وہ گھڑی یعنی قیامت ‘ جو چیز قریب آنے والی ہے وہ قریب ہے (خواہ کتنی ہی طویل مدت کے بعد آئے ‘ مترجم) لَعَلَّ ظاہر کر رہا ہے کہ قیامت آنا ضروری اور لازم ہے (ا اللہ کی طرف سے کلمۂ امید یعنی لَعَلَّ کا استعمال شک و شبہ کو ظاہر نہیں کرتا ‘ بلکہ لازم الوقوع ہونے کو بتاتا ہے ‘ مترجم) اس جملہ میں ان لوگوں کیلئے تہدید ہے جو بطور استہزاء (وتکذیب) قیامت کے جلد آجانے کے طلب گار تھے اور ان لوگوں کو خاموش کردیا گیا ہے جو محض ضد کی وجہ سے منکر تھے۔
Ayah 33:64

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بےشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرًا . اللہ نے کافروں کو اپنی (اُخروی) رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کیلئے سخت بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 33:65

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدا لآباد رہیں گے۔ نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

خٰلدین فیھا ابدًا . اس آگ کے اندر ہمیشہ رہنا ان کیلئے مقدر کردیا گیا ہے، لایجدون ولیًا ولا نصیرًا . نہ وہ اپنا کوئی دوست پائیں گے (جو ان کو عذاب سے بچا سکے) اور نہ کوئی مددگار پائیں گے (جو عذاب کو دفع کرسکے) ۔
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے کہیں اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

یوم تقلب وجوھھم فی النار جس روز کہ آگ کے اندر ان کے چہروں کو الٹ پلٹ کیا جائے گا۔ جیسا کہ گوشت کے بھوننے کے وقت کیا جاتا ہے۔ وجوہ (چہرے) سے مراد یا تو پورا جسم ہے (جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے) یا چہرہ کا خصوصیت سے ذکر اس لئے کیا ہے کہ جسم کے سارے اعضاء (ظاہری) میں چہرے کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا وہ کہتے ہوں گے : اے کاش ہم نے (دنیا میں) اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی (تو آج اس عذاب میں مبتلا نہیں ہوتے) لفظ یا صرف تنبیہ کیلئے ہے یا منادٰی محذوف ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : اے لوگو ! کاش ہم نے اطاعت کی ہوتی تو آج اس الخ۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو رستے سے گمراہ کردیا

وقالوا ربنا انا اطعنا سادتنا وکبرآء نافاضلوتا السبیلا . اور وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کے کہے پر چلے (یعنی وہ ہمارے لیڈر تھے جنہوں نے ہمارے لئے کفر کا طریقہ ایجاد کیا اور ہم اس طریقہ پر چلے) سو انہوں نے ہم کو راہ سے بھٹکا دیا (یعنی راہ کفر کو پرفریب بنا کر دکھایا اور سیدھے راستہ سے بہکا دیا) ۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

ربنا اتھم ضعفین من العذاب والعنھم لعنًا کبیرًا . اے ہمارے رب ! (جتنا عذاب تو نے ہم کو دیا اس سے) دوگنا عذاب ان کو دے (ایک گمراہ ہونے کا ‘ دوسرا گمراہ کرنے کا) اور ان پر سخت ترین پھٹکار برسا۔ بڑی نعلت سے مراد ہے سخت ترین لعنت۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ (کو عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا . اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو دکھ پہنچایا تھا ‘ پھر ان کی کہی ہوئی بات سے اللہ نے موسیٰ کی براءت ظاہر فرما دی۔ کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ وہی تھا جو حضرت ابوہریرہ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : موسیٰ بڑے حیادار ‘ شریف النفس اور اپنے (اندرونی) جسم کو چھپانے والے تھے ‘ انتہائی شرم کی وجہ سے وہ اپنی (اندرونی) جلد بھی ظاہر نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے کہا : موسیٰ جو اتنا اپنے بدن کو چھپائے رکھتے ہیں ‘ ضرور ان کو کوئی جلدی اندرونی بیماری ہے ‘ یا برص ہے ‘ یا خصیوں میں پانی آگیا ہے ‘ یا کوئی اور مرض ہے۔ اللہ نے موسیٰ کو اس غلط بات سے پاک ظاہر کرنا چاہا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک روز غسل کرنے کیلئے موسیٰ نے تنہائی میں کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے ‘ پھر غسل کیا۔ غسل کے بعد جب کپڑْ لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا۔ آپ لاٹھی لے کر پتھر کے تعاقب میں دوڑے اور کہنے لگے : پتھر میرے کپڑے ‘ پتھر میرے کپڑے۔ آکر پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ کر ٹھہر گیا۔ لوگوں نے آپ کو برہنہ دیکھ لیا ‘ آپ کا اندرونی بدن بہت خوبصورت اور بےعیب پایا۔ اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی بدگمانی سے موسیٰ کی براءت ظاہر کردی۔ موسیٰ نے کپڑے لے کر پہن لئے اور لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے۔ خدا کی قسم ! موسیٰ کی لاٹھی کی ضرب سے پتھر پر تین ‘ چار یا پانچ نشان پڑگئے۔ آیت یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوسٰی فَبَرَّاَہُ اللہ مِمَّا قَالُوْا سے یہی مراد ہے ‘ رواہ البخاری والترمذی واحمد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وعبدالرزاق وعبد بن حمید۔ ابو العالیہ نے کہا : آیت مذکورہ میں قارون کے قصہ کی طرف اشارہ ہے۔ قارون نے ایک عورت کو اجرت دے کر اس بات کیلئے مقرر کیا کہ وہ برسرعام مجمع کے سامنے موسیٰ پر اپنے ساتھ زنا کرنے کی تہمت لگائے ‘ لیکن اللہ نے اس تہمت سے موسیٰ کو محفوظ رکھا اور ان کی تہمت تراشی سے آپ کو بچا لیا اور قارون کو ہلاک کردیا۔ سورة قصص میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ موسیٰ کو اذیت دینے سے یہ مراد ہے کہ حضرت ہارون نے جب تیہ میں وفات پائی تو لوگوں نے موسیٰ پر تہمت لگائی کہ آپ نے ہارون کو قتل کیا ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا ‘ فرشتے جب حضرت ہارون کا جنازہ لوگوں کے (بنی اسرائیل کے) سامنے لائے اس وقت لوگوں کو یقین آیا کہ موسیٰ نے ہارون کو قتل نہیں کیا۔ اخرجہ ابن منیع وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ عن ابن عباس عن علی بن ابی طالب۔ بخاری نے حضرت عبد اللہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے کچھ مال لوگوں کو تقسیم کیا۔ ایک شخص کہنے لگا : یہ تقسیم لوجہ اللہ نہیں ہوئی۔ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس بات کی اطلاع پہنچا دی ‘ سنتے ہی حضور گرامی اتنے ناراض ہوئے کہ غصہ کی علامت چہرۂ مبارک پر نمودار ہوگئی ‘ پھر فرمایا : اللہ موسیٰ پر اپنی رحمت فرمائے ‘ ان کو اس سے زیادہ ایذاء پہنچائی گئی اور انہوں نے صبر کیا۔ وکان عند اللہ وجیھًا . اور موسیٰ اللہ کے نزدیک آبرو والے تھے۔ وجاہت ‘ آبرو۔ وجیہ ‘ آبرو دار (منہ والا) حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت موسیٰ اللہ کے نزدیک اس مقام پر تھے کہ جو مانگتے تھے ‘ اللہ عطا فرما دیتا تھا ‘ کذا قال الحسن۔ بعض نے کہا : وجیہ ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ اللہ کے محبوب اور مقبول بارگاہ تھے۔
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وقولوا قولاً سدیدًا . اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ یعنی اللہ کو جو بات ناپسند ہے ‘ اس سے پرہیز کرو ‘ ایذاء رسول کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے سدیدًا کا ترجمہ کیا ہے ” صحیح بات “۔ قتادہ نے کہا : انصاف کی بات۔ بعض نے کہا : سیدھی بات۔ کچھ لوگوں نے کہا : حق تک پہنچنے کا قصد رکھنے والی بات۔ تمام اقوال کا نتیجہ ایک ہی ہے یعنی سچی بات جو قطعاً جھوٹی نہ ہو اور نہ اٹکل پر مبنی ہو کیونکہ جھوٹ فنا ہوجاتا ہے اور سچ باقی رہتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : آیت میں بازداشت ہے اس بات سے جو حضرت زینب کے معاملہ میں لوگوں نے ناحق بغیر کسی اعتدال کے اختیار کرلی تھی اور ممانعت ہے حضرت عائشہ پر بہتان تراشی کے واقعہ کی۔ عکرمہ نے کہا : قول سدید لا الہ الا اللہ ہے۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک بڑی مراد پائے گا

یصلح لکم اعمالکم . اللہ درست کر دے گا تمہارے لئے تمہارے اعمال۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی تمہاری نیکیاں قبول فرما لے گا۔ مقاتل نے کہا : تمہارے اعمال کو پاک کر دے گا ‘ یعنی قبول ہونے اور ثواب پانے کے قابل بنا دے گا۔ بعض نے کہا : اصلاح عمل سے یہ مراد ہے کہ تم کو نیک اعمال کی توفیق دے گا۔ ویغفرلکم ذنوبکم . اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ یعنی تمہارے قول و عمل کی استقامت کو گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔ ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزًا عظیمًا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا ‘ وہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔ یعنی دنیا میں بھی قابل ستائش حالت میں رہے گا اور آخرت میں بھی خوش نصیب ہوگا۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا

انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھاد اشفقن منھا وحملھا الانسان ان کان ظلومًا جھولاً . واقعہ یہ ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کے اور پہاڑوں کے سامنے امانت (کا بار اٹھانے کیلئے) رکھا لیکن سب نے اٹھانے سے انکار کردیا اور ڈر گئے اور انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا۔ اس آیت کی تشریح میں چند امور تنقیح طلب ہیں : (1) امانت سے کیا مراد ہے ؟ (2) آسمانوں سے اور زمین سے اور پہاڑوں سے مراد کیا ‘ آسمان ‘ زمین اور پہاڑ ہی ہیں یا ان کے باشندے بھی مراد ہوسکتے ہیں جیسے واسْءَلِ الْقَرْیَۃِ میں اہل القریہ مراد ہیں ؟ (3) پیش کرنے سے خطاب مقالی مراد ہے یا حالی ؟ (4) اٹھانے اور انکار کرنے سے کیا مراد ہے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا : امانت سے مراد ہے طاعت اور وہ فرائض جو اللہ نے بندوں پر فرض کئے ہیں۔ اللہ نے زمین ‘ آسمان اور پہاڑوں پر یہ فرائض پیش کئے اور فرمایا : اگر تم ان فرائض کو ادا کرو گے تو اللہ تم کو اجر دے گا ‘ ادا نہ کرو گے تو عذاب دے گا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : امانت سے مراد ہے نماز ادا کرنا ‘ زکوٰۃ دینا ‘ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج ‘ صدق مقال ‘ ناپ تول میں انصاف اور ان سب سے زیادہ سخت امانتوں کی حفاظت۔ مجاہد نے کہا : امانت سے مراد ہے اداء فرائض اور حفاظت دین۔ ابوالعالیہ کے نزدیک تمام اوامرو نواہی مراد ہیں۔ زید بن اسلم نے کہا : امانت سے مراد ہے روزہ ‘ غسل جنابت اور اندرونی شرائع (جیسے حسد نہ کرنا ‘ دل میں مسلمان سے عداوت نہ کرنا ‘ حب جاہ و مال نہ رکھنا وغیرہ تمام اخلاق باطنہ) یعنی جن میں ریاکاری کا کوئی دخل نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا : انسانی جسم میں سب سے پہلے شرمگاہ بنائی اور فرمایا : یہ امانت ہے ‘ بطور ودیعت میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔ کان بھی امانت ہے ‘ آنکھ بھی امانت ہے اور جس میں امانت (کی پاسداری) نہیں اس کے پاس ایمان نہیں۔ بعض اہل علم نے کہا : امانت سے مراد ہیں لوگوں کی باہمی امانتیں اور ایفاء وعدہ۔ ہر مؤمن پر حق ہے کہ دوسرے مؤمن یا معاہد کے ساتھ دھوکہ نہ کرے ‘ نہ چھوٹے معاملہ میں ‘ نہ بڑے معاملہ میں۔ ضحاک کی روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی بئی ہے۔ ان تمام اقوال کا مآل یہ ہے کہ امانت سے مراد ہیں شرعی اوامرو نواہی اور آسمان و زمین سے مراد آسمان و زمین ہی ہیں (ان کے باشندے مراد نہیں ہیں) اور پیش کرنے سے مراد ہے خطاب لفظی مقالی (خطاب تکوینی فطری مراد نہیں ہے) ۔ بغوی نے لکھا : حضرت ابن عباس اور اکثر سلف کا یہی قول ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے زمین و آسمان سے فرمایا تھا : کیا تم بار امانت کو مع ان کے لوازم کے اٹھاتے ہو ؟ آسمان و زمین نے کہا : لوازم امانت کیا ہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اگر تعمیل کرو گے تو تم کو اچھا بدلہ دیا جائے گا اور اگر نافرمانی کرو گے تو سزا پاؤ گے۔ آسمان و زمین نے عرض کیا : (ان لوازم کے ساتھ ہم برداشت) نہیں (کر سکتے) اے رب ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں ‘ نہ ثواب چاہتے ہیں ‘ نہ عذاب۔ آسمان و زمین نے یہ بات (نافرمانی کے) خوف اور دین خداوندی کی تعظیم کی وجہ سے کہی۔ ان کو ڈر ہوا کہ دین خداوندی کا حق ہم سے ادا نہ ہو سکے گا (تو عذاب میں مبتلا ہوں گے) یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے بار امانت اٹھانے کا حکم ان کو دیا تھا اور انہوں نے سرتابی کی۔ اللہ کی طرف سے عرض امانت کی برداشت اختیاری تھی ‘ لازمی نہیں تھی۔ اگر لازی ہوتی تو آسمان و زمین ضرور اس بار کو اٹھاتے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں : پیش کرنے سے مراد ہے لفظی خطاب لیکن آسمان ‘ زمین اور پہاڑوں سے مراد ہیں ان کے باشندے (یعنی آسمان و زمین اور پہاڑوں کی رہنے والی مخلوق کو اللہ نے بار امانت اٹھانے کی پیش کش کی تھی) اور مضاف محذوف ہے جیسے آیت واسْءَلِ الْقَرْیَۃِ میں اہل قریہ مراد ہیں ‘ قریہ کی زمین اور دوسری چیزیں مراد نہیں ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ آسمان ‘ زمین اور پہاڑوں سے (ان میں رہنے والی مخلوق مراد نہیں ہے بلکہ) بعینہٖ آسمان ‘ زمین اور پہاڑ مراد ہیں اور عرض سے مراد ہے فطری صلاحیت کا اعتبار اور انکار سے مراد ہے لیاقت و صلاحیت کا فقدان یعنی طبعی عدم استعداد اور برداشت امانت سے مراد ہے قابلیت و استعداد جو انسان میں موجود ہے ‘ باوجود فطری قابلیت کے انسان کو ظلوم وجہول اس لئے کہا گیا کہ قوت غضبیہ اور شہوانیہ کا اس پر غلبہ ہے۔ اس تفسیر پر ظلوم و جہول ہونا نقص نہ ہوگا بلکہ یہ برداشت امانت پر آمادہ کرنے والی دو اچھی صفتیں قرار پائیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : شاید امانت سے عقل یا تکلیف شرعی مراد ہے۔ عقل ‘ قوت غضبیہ و شہوانیہ کی نگران ہے ‘ دونوں کو حدود شرعیہ سے آگے بڑھنے اور تجاوز کرنے سے روکتی ہے۔ شرعی احکام کا اصل مقصد ہی غضبیہ اور شہوانیہ قوتوں کو اعتدال پر لانا ہے۔ اس تشریح کی بناء پر بیضاوی نے لکھا ہے کہ سابق آیت میں جو اطاعت کی عظمت شان کو ظاہر کیا تھا ‘ اس کی اس آیت سے تائید ہو رہی ہے۔ طاعت کو امانت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ امانت واجب الرد ہوتی ہے ‘ طاعت کا ادا کرنا بھی امانت کی طرح واجب ہے۔ آیت کا مطلب اس صورت میں یہ ہوگا کہ طاعت الٰہیہ اتنا بار ثقیل ہے کہ گر آسمان و زمین اور پہاڑوں سے اس کو برداشت کرنے کی پیشکش کی جاتی تو وہ بھی اس بار کو اٹھانے سے انکار کردیتے اور ڈر جاتے لیکن انسان نے اپنی جسمانی ساخت کی کمزوری اور طاقت کی کمی کے سبب اس کو اٹھا لیا۔ لامحالہ جو شخص حقوق امانت پورے پورے ادا کرے گا اور برداشت امانت کو ہر وقت پیش نظر رکھے گا ‘ وہ ضرور کامیاب ہوگا اور اس کو فلاح دارین حاصل ہوگی۔ میں کہتا ہوں : اسی آیت کی مثل ایک اور آیت بھی آئی ہے ‘ فرمایا ہے : لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَأَءْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَْشیَۃ اللّٰہِط وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ اگر پہاڑوں پر ہم یہ قرآن اتارتے تو ان میں بھی خشوع پیدا ہوجاتا اور اللہ کے خوف سے وہ بھی پارہ پارہ ہوجاتے۔ ہم لوگوں کی ہدایت کیلئے یہ مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ بیضاوی کی اس تشریح کی صورت میں آیت زیر تشریح کا مضمون بطور مثال کے ہوگا ‘ واقعۂ تخلیقی کا اظہار اور اصل مکالمہ مقصود نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے جمادات سے خطاب کرنے اور ان کے جواب دینے کو بعیداز عمل سمجھا ہے اس لئے مجاز کا راستہ اختیار کیا ہے ‘ خواہ اس طرح کہ آسمان وغیرہ سے مراد آسمان وغیرہ کی مخلوق مراد ہو یا عرض و خطاب سے مجازی مفہوم مراد ہو۔ اس استبعاد کو دور کرنے کیلئے بعض لوگوں نے کہا کہ اجرام علویہ و سفلیہ پیدا کر کے اللہ نے ان کے اندر سمجھ بھی پیدا کردی تھی اور فرمایا تھا : میں نے ایک فریضہ لازم کیا ہے کہ جو میری طاعت کرے گا اس کیلئے میں نے جنت پیدا کردی ہے اور جو نافرمانی کرے گا اس کیلئے دوزخ بنا دی ہے۔ اجرام مذکورہ نے جواب دیا : تو نے جیسا ہم کو پیدا کیا ہے ‘ ہم (بالاضطرار) اس کے پابند ہیں ‘ کسی (اختیاری) فریضہ کو برداشت نہیں کرسکتے اور ثواب نہیں چاہتے۔ لیکن آدم کو پیدا کر کے بار فریضہ کی پیشکش کی تو انہوں نے اٹھا لیا کیونکہ وہ یہ بارگراں اپنے نفس پر ڈال کر خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے اور انجام کی خرابی سے ناواقف تھے۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کا یہی تفسیری قول نقل کیا ہے ‘ اس روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ بار امانت کو اٹھانے اور جنت سے نکالے جانے کے درمیان بس اتنی ہی مدت ہوئی جتنی ظہر و عصر کے درمیان ہوتی ہے۔ بعض اہل علم نے کہا : جمادات ہمارے لحاظ سے بےعقل ہیں ‘ ہماری بات نہیں سمجھتے لیکن اللہ کے فرمان کو سمجھتے ہیں اور سمجھ کر اطاعت کرتے ہیں اور سربسجود ہوجاتے ہیں۔ اللہ نے آسمان و زمین سے فرمایا : اِءْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا دونوں نے جواب دیا : اِءْتِیَا طَآءِعِیْنَ ۔ دوسری آیت میں ہے : وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْھَارُ وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَشّْقَّقُ فَیَخْرُجْ مِنْہُ الْمَآءُ وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہ کچھ پتھروں سے دریا پھوٹ کر نکلتے ہیں اور کچھ پتھر پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ پتھر اللہ کے خوف سے نیچے کو گرتے ہیں۔ اَلَمْ تَرَا اَنَّ اللہ یَسْجُدُ لَہٗ مِنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ ۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حَمَلَھَا الْاِنْسَان میں اَلْاِنْسَان سے مراد حضرت آدم ہیں۔ اللہ نے حضرت آدم سے فرمایا تھا کہ میں نے یہ امانت آسمان ‘ زمین اور پہاڑوں کے سامن یرکھی لیکن سب نے اٹھانے سے انکار کردیا ‘ کیا تو اس کو مع اس کے لوازم لے لے گا ؟ آدم نے عرض کیا : اے میرے رب ! اس کے لوازم کیا ہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اگر تو نیکی کرے گا تو اس کا ثواب پائے گا اور بدی کرے گا تو عذاب میں پکڑا جائے گا۔ آدم نے امانت کو اٹھا لیا اور عرض کیا : میں اس بوجھ کو اپنے کاندھے پر لیتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا : جب تو نے اس امانت کو قبول کرلیا تو میں بھی تیری مدد کروں گا۔ تیری آنکھوں کے اوپر ایک نقاب ڈال دوں گا تاکہ ناجائز چیز پر نظر پڑنے کا جب تجھے ڈر ہو تو آنکھ پر نقاب لٹکا لے (یعنی پلکیں جھکا لے اور آنکھیں بند کرلے) اور تیری زبان کیلئے دو جبڑے اور ایک قفل بنا دوں گا ‘ تجھے جب (ناجائز بات زبان سے نکالنے کا) اندیشہ ہو تو قفل بند کردینا اور میں تیری شرمگاہ کیلئے لباس مقرر کر دوں گا ‘ تو شرمگاہ اس کے سامنے نہ کھولنا جس کے سامنے کھولنا میں نے حرام کردیا ہے۔ مجاہد نے کہا : برداشت امانت کے وقت اور جنت سے نکالے جانے کے وقت کی درمیانی مدت صرف اتنی ہوئی جتنی ظہر و عصر کے درمیان ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں : برداشت امانت کے بعد جنت سے نکالے جانے کی وجہ شاید یہ ہو کہ جنت اداء امانت (یعنی عمل) کا مقام نہیں ہے بلکہ اداء امانت کے ثواب کا مقام ہے (دارالعمل نہیں ‘ دارالجزاء ہے) اس لئے حضرت آدم کو جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے (بونا دنیا میں ہے ‘ کاٹنا آخرت میں ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے : نقاش نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ امانت کو اس بھاری پتھر سے تشبیہ دی گئی جو کسی جگہ پڑا ہو۔ آسمان کو ‘ زمین کو اور پہاڑوں کو اس کے اٹھانے کی دعوت دی گئی لیکن کوئی اس کے قریب بھی نہیں آیا اور سب نے کہہ دیا کہ ہم میں اس کو اٹھانے کی طاقت نہیں ‘ پھر بغیر دعوت کے آدم آگئے اور انہوں نے پتھر کو ہلا کر کہا : اگر مجھے اس کو اٹھانے کا حکم دیا گیا تو میں اس کو اٹھا لوں گا۔ اللہ نے فرمایا : اٹھاؤ۔ حضرت آدم اس کو اٹھا کر زانوں تک لے آئے پھر رکھ دیا اور کہا : خدا کی قسم ! اگر میں زیادہ اٹھانا چاہوں تو اٹھا سکتا ہوں۔ آسمان و زمین نے کہا : اٹھاؤ۔ حضرت آدم نے اس کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھ دیا اور پھر اتار کر نیچے رکھ دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ نے فرمایا : ہرگز اس کو نیچے نہ رکھنا ‘ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی گردن میں قیامت تک بندھا رہے گا۔ زجاج اور دوسرے اہل معانی نے بیان کیا ہے کہ امانت سے مراد طاعت ہے ‘ خواہ طبعی (فطر) ہو یا اختیاری اور عرض امانت سے مراد ہے طلب طاعت ‘ خواہ طاعت اختیاری ہو یا ارادۂ تکوینی ہو اور حمل امانت سے مراد ہے امانت میں خیانت کرنا اور اداء امانت سے باز رہنا۔ جو شخص امانت کو ادا نہ کرے اور امانت کی ذمہ داری سے سبکدوش نہ ہو ‘ اس کو حامل امانت اور متحمل امانت (امانت کو اٹھانے والا) کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں برداشت امانت سے انکار کا معنی ہوگا بقدر امکان امانت کو ادا کرنا۔ رہا ظلوم و جہول ہونا تو خیانت اور قصور اداء کی وجہ سے اس کو ظلوم و جہول کہا گیا۔ اللہ نے فرمایا : یَحْمِلُوْنَ اَثْقالَھُمْ الْاِنْسَان میں الْاِنْسَان سے مراد کافر اور منافق ہیں جنہوں نے امانت الٰہیہ میں خیانت کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : سلف کا اول قول ہے (کہ امانت سے طاعت اور شرعی تکالیف مراد ہیں) ۔ میں کہتا ہوں : آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ امانت کا حامل صرف انسان ہے۔ اب اگر امانت سے مراد طاعت اور شرعی تکالیف ہوں گی تو انسان کی کوئی خصوصیت نہیں رہے گی۔ جن اور ملائکہ بھی مکلف شرعی ہیں بلکہ انسانوں پر ملائکہ کی فضیلت لازم آئے گی ‘ کیونکہ ملائکہ تو معصوم ہیں ‘ امانت کو کامل طور پر ادا کر رہے ہیں ‘ یُسَبِّحُوْنَ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ لاَ یَفْتَرُوْنَ رات دن اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں ‘ سست نہیں پڑتے اور انسانوں میں سے کچھ ظالِمٌ لِّنَفْسِہٖ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ مُقْتَصِدٌ میانہ چال سے چلنے والے اور کچھ سابِقٌمبِالْخَیْرَات بھلائیوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے ‘ اس لئے صوفیہ نے کہا کہ امانت سے مراد ہے نور عقل اور نار عشق۔ عقل کی روشنی میں منطقی استدلال کے ساتھ معرفت الٰہیہ کا حصول ہوتا ہے اور آتش عشق سے سارے درمیانی حجابات سوختہ ہوجاتے ہیں۔ ملائکہ مقربین بارگاہ ضروری ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کا مقام قرب و معرفت معین ہے ‘ وہ اپنے مقام سے ترقی نہیں کرسکتے۔ اللہ نے فرمایا : وَمَا مِنَّآ اِلاَّ لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ ہماری طرف سے ہر ایک کا رتبہ مقرر ہے۔ ہاں نارعشق تمام حجابات بعد کو جلا ڈالتی ہے اور صرف انسان معرفت الٰہیہ کے غیر متناہی مراتب میں ترقی کرسکتا ہے۔ میں نے حضرت مجدد الف ثانی کے کلام سے یہ استفادہ کیا ہے کہ امانت ‘ تجلیات ذاتیہ کو قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو اللہ نے ماہیت انسانیہ میں ودیعت کر رکھی ہے۔ ایمان اور نیک اعمال کے بعد اس کا الحاق اور شمار ملائکہ میں ہوسکتا ہے اور تجلیات صفاتیہ کو قبول کرنے کی اس میں استعداد ہوسکتی ہے لیکن ذاتی تجلی کی برداشت تو صرف اسی میں ہوسکتی ہے جس کا مزاج خاکی ہو۔ اسی استعداد نے حضرت آدم کو مستحق خلافت بنایا اور یہی استعداد مراد ہے اس علم سے جس کا اظہار آیت اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ میں کیا ہے ‘ یعنی اللہ نے ملائکہ سے فرمایا کہ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے کہ تجلی ذاتی کو وہی برداشت کرسکتا ہے جس کا مزاج خاکی ہو۔ اسی کی طرف اشارہ ہے لفظ ظلوم و جہول سے یعنی انسان کو سبعی قوت بھی دی گئی ہے اور بہیمی قوت بھی۔ سبعی قوت کا تقاضا ہے بلند چوٹیوں پر چڑھنا ‘ بلند سے بلند مراتب معفت کی طرف ترقی کرتے چلے جانا اور بہیمی قوت انسان کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وصل محبوب کیلئے سخت ریاضتیں اور مشقتیں برداشت کرسکے۔ ظلوم و جہول ہونا انسان کی صفت محمودہ ہے اور مستحق خلافت بنا دینے کی علت ہے۔ سبعی اور بہیمی قوتیں ارضی مزاج رکھتی ہیں۔ موجودات ارضی اپنی مزاجی کثافت کی وجہ سے نور آفتاب کو جذب کر کے اپنے اندر روک لیتے ہیں اور لطیف اجرام میں جذب نور کر کے روک رکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ مادۂ ارضی اپنی کثافت کی وجہ سے تجلی ذات کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے ‘ مادۂ نوری اس قابلیت سے محروم ہے۔ ملائکہ مقربین کے مقامات قرب محدود ہیں ‘ اگرچہ ملائکہ کے قرب و ولایت (اتصال) کا مرتبہ انبیاء کے مقام قرب و ولایت سے بالا ہے ‘ کیونکہ ملائکہ کا مرتبۂ ولایت اور انبیاء کا مرتبۂ ولایت دونوں صفات سے مستفاد ہیں مگر انبیاء کے مرتبہ میں ظہور کی حیثیت معتبر ہے ‘ یعنی ذات کے ساتھ صفات کا قیام ملحوظ نہیں اور ملائکہ کے مرتبۂ ولایت میں بطون کی حیثیت معتبر ہے ‘ یعنی ذات کے ساتھ صفات کا قیام ملحوظ ہوتا ہے۔ لیکن تجلی ذاتی جو نبوت کا کمال ہے ‘ ملائکہ کو میسر نہیں اس لئے نبوت انسان کے ساتھ مخصوص ہے اور انبیاء کے خواص ‘ ملائکہ کے خواص سے افضل ہیں اور جنت صرف انسانوں کیلئے پیدا کی گئی ہے۔ ملائکہ کا جنت میں ہر دروازہ سے داخلہ انسانوں کے احترام کیلئے ہوگا۔ جو علماء امانت سے شرعی اوامرو نواہی مراد لیتے ہیں اور امانت اٹھانے سے مراد اوامرو نواہی کو اختیار کے ساتھ قبول کرنا قرار دیتے ہیں ‘ ان کے نزدیک ظلوم و جہول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ انسان نے اپنے اوپر خود ظلم کیا بڑی سخت مشقت کو برداشت کیا اور اس انجام بد سے ناواقف رہا جو اداء امانت نہ کرنے کی صورت میں اس کو ہوگا۔ لیکن یہ دونوں باتیں انسان کی مذمت کو ظاہر نہیں کر رہی ہیں بلکہ ایک واقعی امر کو بیان کر رہی ہیں۔ بیضاوی نے اس آیت کو سابق الذکر وعدہ کی تائید قرار دیا اور مطلب اس طرح بیان کیا کہ امانت اتنا عظیم بار ہے کہ اگر بزرگ ترین اجسام بافرض باشعور ہوتے تو وہ بھی اٹھانے سے انکار کردیتے اور اٹھا نہ سکتے ‘ لیکن انسان نے باوجود اپنی جسمانی کمزوری کے اس کو اٹھا لیا ‘ اس لئے جو شخص اس امانت کے حقوق کی نگہداشت کرے گا وہ دونوں جہان میں کامیاب ہوگا۔ اس مطلب پر بیضاوی کے نزدیک اَنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا سے یہ مراد ہوگی کہ انسان نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور حق امانت کا لحاظ نہیں رکھا اور حقیقت امانت کے نتیجہ سے ناواقف رہا۔ یہ دونوں برے اوصاف جنس انسان کے قرار دئیے (لیکن کل افراد کے نہیں ‘ بلکہ عام طور پر زیادہ افراد کے ‘ کیونکہ بعض افراد یعنی انبیاء ‘ اولیاء اور مؤمنین صالحین نے تو امانت کے پورے حقوق ادا کئے اور وعدہ پورا کیا) ۔ مصنف سجر مواج نے لکھا ہے کہ انسان نے اپنے نفس کو اس چیز کے ادا کرنے پر قادر خیال کیا جس کو ادا کرنے سے آسمان و زمین خوف زدہ ہوگئے ‘ اس اعتبار سے انسان ظلوم قرار پایا اور چونکہ اداء امانت سے اپنے عاجز رہنے سے وہ ناواقف تھا اس لئے جہول قرار پایا۔ میرے نزدیک یہ تشریح ناپسندیدہ ہے کیونکہ الانسان سے مراد حضرت آدم ہیں اور حضرت آدم ہی نے بار امانت اٹھایا تھا اور حضرت آدم نبی معصوم تھے۔ انہوں نے جو بوجھ اٹھایا تھا اس کو پورا پورا ادا کردیا ‘ اور اِنَّہٗ کی ضمیر کا رجوع اسی شخص کی طرف ہے جس نے بار امانت اٹھایا تھا (یعنی حضرت آدم (علیہ السلام ) ۔ صوفیہ نے انسان کے ظلوم و جہول ہونے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ انسان کے اکثر افراد نے اپنے نفوس پر ظلم کیا ‘ معرفت اور تجلیات الٰہیہ کی اس استعدا دکو کھو دیا جو فطرت اللہ ہے ‘ اللہ نے سب لوگوں کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اکثر انسان انتہائی نادان بھی ہیں کہ جو چیز فوت ہوگئی ‘ اس کی خوبی سے ناواقف ہیں اور جو کمایا ‘ اس کی خرابی سے لاعلم ہیں۔ ا اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے ماں ‘ باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ الحدیث ‘ متفق علیہ من حدیث ابی ہریرۃ۔ میں کہتا ہوں : یہ بات معلوم ہوگئی کہ بطور کنایہ ظلم سے مراد قوت سبعیہ (غضبیہ) ہے اور جہالت سے مراد قوت بہیمیہ (شہوانیہ) ہے اور ان دونوں قوتوں کی اچھائی برائی صرف کے تنوع کے لحاظ سے ہے۔ قوت سبیعہ کا استعمال اگر اللہ کے دشمنوں کو دفع کرنے اور مدارج قرب تک پہنچنے اور مراتب معرفت میں ترقی کرنے کیلئے کیا جائے تو یہ قوت مستحسن قرار پاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ اللہ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَقًّا کَاَنَّھُمْ بُیْنَانٌ مَرْصُوْصٌ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اسی طرح صف بند ہو کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں۔ بلاشبہ اللہ بلندی عزم اور رفعت ہمت کو پسند فرماتا ہے۔ لیکن اگر اسی قوت کا استعمال بےقصور لوگوں پر جبر و ظلم کرنے اور اللہ کے مقابلہ میں تکبر و غرور کرنے کیلئے کیا جائے تو یہ قوت قبیح قرار پاتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے : اَلاَ لَعْنَۃُ اللہ عَلَی الظَّالِمِیْنَ خوب سن لو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ اِنَّ اللہ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ اور اللہ ہر اترانے والے ‘ شیخی جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح قوت بہیمیہ کا استعمال اگر حصول سعادت کیلئے کیا جائے تو یہ قوت اچھی ہے اور اگر فانی لذتوں کے حصول کیلئے کیا جائے تو بری ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : لَھَا مَا کَسَبَتَْ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ۔ اور یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ان دونوں قوتوں کے استعمال و صرف کی اچھائی کا مدار نفس و قلب کے تزکیہ اور عناصر کی تطہیر پر ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے : بنی آدم کے جسم کے اندر ایک بوٹی ایسی ہوتی ہے کہ جب وہ ٹھیک ہوتی ہے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور جب وہ بگڑتی ہے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے۔ خوب سن لو کہ وہ بوٹی دل ہے۔ رواہ البخاری۔ ا اللہ نے فرمایا ہے : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ فلاح یاب ہوگیا اور جس نے نفس کو میل آلود ‘ گندہ کردیا وہ نامراد رہا۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ شریعت کے اوامرو نواہی کی پابندی تطہیر نفس کا ذریعہ ہے۔ اب اگر امانت سے مراد شرعی اوامرو نواہی ہوں تو ظلوم و جہول ہونے سے اشارہ ہوگا اس علت کی طرف جس کی وجہ سے انسان پر بار امانت ڈالا گیا اور اس نے اس بوجھ کو اٹھایا ہے۔ اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ انسان چونکہ ظلوم و جہول تھا اس لئے ہم نے اس پر بار امانت ڈالا اور اس نے اٹھا لیا تاکہ بری خصلتوں سے اس کی تطہیر ہوجائے اور اعلیٰ فضائل حاصل کرنے کی اس میں صلاحیت ہوجائے اور دونوں جہان میں وہ بامراد ہے اور اگر امانت سے مراد تجلیات ذاتیہ ہوں تو مطلب اس طرح ہوگا کہ چونکہ انسان ظلوم و جہول تھا اس لئے وہی اس امانت کو اٹھانے کے قابل تھا ‘ اس امانت کو برداشت کرنے کا وہی اہل ہوگا جو ان دونوں اوصاف کا حامل ہے۔ امانت سے مراد طاعت و فرائض ہوں یا معرفت اور مراتب قرب کا حصول ‘ بہرحال سبعیہ اور بہیمیہ قوتیں اچھی بھی ہیں اور بری بھی اگر نفس کا تزکیہ نہ کیا اور اللہ کی طرف سے انسان کو بےمددگار چھوڑ دیا گیا اور باطل میں ان قوتوں کو مشغول رکھا گیا تو یہ قوتیں بری ہیں اور اگر اس کے خلاف ان قوتوں سے کام لیا تو یہ قوتیں اچھی ہیں۔ دونوں صورتوں میں ان قوتوں کی عطاء کا بار امانت انسان پر لادنے اور اس بوجھ کو اٹھانے کی علت قرار دینا بالکل صحیح ہے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

لیعذب اللہ المنفقین والمنفقٰت والمشرکین والمشرکت . کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے۔ لِیُعَذِّبَمیں لام عاقبت ہے ‘ یعنی اس برداشت امانت کا انجام یہ ہوگا کہ اللہ عذاب دے گا۔ جیسے ایک مصرع ہے لِدُّو اللموت وابنووا للخراب مرنے کیلئے ختم کر دو اور ویران ہونے کیلئے تعمیر کرو ‘ یعنی پیدائش کا نتیجہ موت اور تعمیر کا انجام ویرانی ہے۔ منافق اور مشرک ہی ظلم اور عیش میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہی امانت مفوضہ کو کھو دینے والے ہیں ‘ اس لئے انہی کو عذاب دیا جائے گا۔ ویتوب اللہ علی المؤمنین والمؤمنٰت اور اللہ (اپنی رحمت ‘ مغفرت اور عطاء قرب کے ساتھ) مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی طرف متوجہ ہو۔ مؤمن ہی امانت کا حق ادا کرنے اور تجلیات الٰہیہ میں ڈوب جانے والے ہیں ‘ اس لئے انہی کی مغفرت اور انہی پر رحمت الٰہیہ کی بارش ہوگی۔ ابن قتیبہ نے آیات کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ ہم نے امانت شرعی تکلیفات یا فطری استعداد کو پیش کیا تاکہ منافق کا نفاق اور مشرک کا شرک ظاہر ہوجائے اور اللہ ان کو عذاب دے اور مؤمن کے ایمان (نیز عارف کی معرفت) کا اظہار ہوجائے اور اللہ ان پر رحم کرے اور اگر کسی طاعت میں ان سے قصور ہوجائے تو اس کو بخش دے (میں کہتا ہوں) اور دوامی تجلیات ذاتیہ کی بارش اور بلاکیف وصل بےحجاب کی نعمت ان کو نصیب ہوجائے۔ وعدہ کے موقع پر یتوب کہنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ سرشت کے لحاظ سے انسان ظلوم و جہول ہے ‘ اس لئے کچھ قصور اس سے ضرور ہوگا۔ وکان اللہ غفورًا . اور اللہ (مؤمنوں کو) بخشنے والا ہے ‘ ان کی لغزشوں کو وہ معاف کرتا ہے۔ رحیمًا . بڑا مہربان ہے کہ اپنی مہربانی سے مؤمنوں کی طاعتوں کا ثواب عطا فرمائے گا۔ الحمد اللہ سورة الاحزاب کی تفسیر یکم محرم الحرام 1307 ھ ؁ کو ختم ہوئی اس سے آگے انشاء اللہ العزیز سورة السبا کی تفسیر آئے گی۔ وَصَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد رسولہ واٰلہ و اصحابہ وسلّم