33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاخرۃ . اور اگر تم اللہ (کے قرب و رضامندی) کی اور اس کے رسول (کے قرب) کی اور دار آخرت (کی راحت و آسائش) کی خواستگار ہو۔ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجر عظیما . تو بلاشبہ اللہ نے تم میں سے نیکوکاروں کیلئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ یعنی ان عورتوں کیلئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے جو اللہ ‘ اس کے رسول اور دار آخرت کی طلب گار ہیں ‘ ایسی ہی عورتیں مُحْسِنہ ہیں۔ احسان کا معنی ہی یہ ہے کہ رب کی عبادت اس حضور قلب سے کی جائے کہ گویا رب نظروں کے سامنے ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں رسول اللہ کی نو بیبیاں تھیں ‘ پانچ قریشی حضرت عائشہ بنت ابوبکر ‘ حضرت حفصہ بنت عمر فاروق ‘ حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان ‘ حضرت ام سلمہ بنت امیہ ‘ حضرت سودہ بنت زمعہ۔ باقی چار قریشی نہیں تھیں حضرت زینب بنت جحش اسدی ‘ حضرت میمونہ بنت حارث ہلالی ‘ حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب خیبری اسرائیلی ‘ حضرت جویریہ بنت حارث مصطلقی۔ جب آیت تخییر (مندرجہ بالا نازل ہوئی) تو سب سے پہلے رسول اللہ نے حضرت عائشہ سے دریافت کیا ‘ آپ رسول اللہ کی سب سے زیادہ چہیتی بی بی تھیں۔ حضور ﷺ نے ان کے سامنے آیت پڑھی اور ان کو (طلاق حاصل کرنے ‘ یا ساتھ رہنے) کا اختیار دیا۔ حضرت عائشہ نے اللہ ‘ اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا اور اس بات سے حضور ﷺ کے چہرہ پر خوشی محسوس کی۔ دوسری بیبیوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ کی پیروی کی۔ قتادہ کا بیان ہے کہ جب امہات المؤمنین نے اللہ ‘ اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا تو اللہ نے بھی ان کی قدرافزائی کی اور رسول اللہ کو انہی بیبیوں پر بس کرنے اور آئندہ نکاح نہ کرنے کا حکم دے دے دیا اور فرمایا : لاَ یَحِلُّ لَکَ النِسَّآءُ مِنْم بَعد الخ ان کے بعد تمہارے لئے اور عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔ مسلم ‘ احمد اور نسائی نے بوساطب ابو الزبیر حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر نے بارگاہ نبوت میں داخلہ کی اجازت طلب کی ‘ لیکن آپ کو اجازت نہیں ملی۔ پھر حضرت عمر آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی ‘ ان کو بھی اجازت نہیں ملی۔ کچھ دیر کے بعد دونوں کو اجازت دے دی۔ دونوں حضرات اندر پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت غمگین خاموش بیٹھے ہوئے تھے ‘ گرداگرد آپ کی بیبیاں موجود تھیں۔ حضرت عمر نے (اپنے دل میں) کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات کہنی چاہئے جس سے رسول اللہ ہنس پڑیں۔ حضرت عمر کا بیان ہے (یہ خیال کر کے) میں نے عرض کیا : دیکھئے ! اگر خارجہ کی بیٹی (یعنی میری بی بی) مجھ سے (زائد) خرچ مانگتی تو میں اٹھ کر اس کی گردن توڑ دیا۔ یہ بات سن کر رسول اللہ کو ہنسی آگئی اور فرمایا : تم دیکھ رہے ہو کہ میرے گرداگرد یہ عورتیں جمع ہیں اور مجھ سے زیادہ خرچ دینے کی خواستگار ہیں۔ یہ بات سنتے ہی حضرت ابوبکر حضرت عائشہ کی گردن پر ضرب رسید کرنے اٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت عمر بھی حضرت حفصہ کی طرف گردن پر ضرب لگانے کیلئے بڑھے اور دونوں نے کہا : رسول اللہ کے پاس جو چیز نہیں ہے اس کا سوال رسول اللہ سے ہرگز کبھی نہ کرنا۔ اس کے بعد رسول اللہ سب عورتوں سے ایک مہینہ یعنی انتیس (29) روز کنارہ کش رہے ‘ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے ابتداء حضرت عائشہ سے کی اور فرمایا : عائشہ ! میں ایک بات تمہارے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر تم جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ کیا بات ہے ؟ حضور ﷺ نے آیت مذکورہ پڑھ کر سنائی۔ حضرت عائشہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! کی آپ کے بارے میں میں اپنے باپ ماں سے مشورہ کروں ؟ (ایسا نہیں ہوسکتا) میں تو اللہ ‘ اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں لیکن آپ سے میری درخواست ہے کہ اپنی بیبیوں میں سے کسی کو میرے اس فیصلہ کی اطلاع آپ نہ دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھ سے تو جو عورت بھی پوچھے گی ‘ میں اس کو بتادوں گا۔ اللہ نے مجھے فتنہ انگیز بنا کر نہیں بلکہ بشارت دہندہ اور معلم بنا کر معبوث کیا ہے۔ صحیح میں زہری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ نے ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی تھی۔ مجھ سے عروہ نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ ( 29 روز کے بعد) رسول اللہ سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہیں آئیں گے اور آج تو 29 دن ہوئے ہیں ‘ میں گن رہی ہوں۔ فرمایا : مہینہ 29 دن کا ہے۔ فائدہ : بغوی نے لکھا ہے کہ علماء میں اختلاف ہے کہ یہ اختیار جو رسول اللہ نے بیویوں کو دیا تھا ‘ کیا تفویض طلاق تھی کہ اگر عورتیں اپنے نفس کو اختیار کرلیتیں تو فوراً طلاق پڑجاتی (مزید طلاق دینے کی ضرورت نہ ہوتی) یا ایسا نہ تھا (بلکہ اس سے محض عورتوں کی مرضی کا اظہار ہوجاتا اور پھر بھی طلاق کا اختیار رسول اللہ کے ہاتھ میں رہتا) بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ تفویض طلاق تھی۔ لیکن حسن ‘ قتادہ اور اکثر اہل علم کا قول ہے کہ یہ تفویض طلاق نہ تھی بلکہ طلب طلاق کا اختیار دیا گیا تھا۔ اگر عورتیں دنیا کو پسند کرلیتیں تو رسول اللہ ان کو چھوڑ دیتے (یعنی طلاق دے دیتے) کیونکہ آیت میں آیا ہے : فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ (اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اگر عورتیں دنیا کو اختیار کرلیتیں تب بھی آزاد کرنے کا اختیار رسول اللہ کے ہی ہاتھ میں رہتا) ۔ مسئلہ : اگر شوہر نے بیوی سے کہا : تجھے اپنا اختیار ہے اور اس جملہ سے اس کا مطلب تفویض طلاق ہو ‘ یعنی یہ مقصد ہو کہ عورت چاہے تو خود اپنے کو طلاق دے لے تو اس مجلس میں عورت جب تک رہے گی اس کو اختیار رہے گا کہ اگر چاہے تو اپنے آپ کو طلاق دے لے ‘ لیکن اگر اس جگہ سے اٹھ جائے گی یا کسی کام میں مشغول ہوجائے تو طلاق کا اختیار ہاتھ سے نکل جائے گا کیونکہ یہ تملیک فعل ہے اور تملیک فعل کا تقاضا ہے کہ اسی مجلس میں جواب دیا جائے گا جیسے بیع میں (قبول کا اختیار اسی مجلس عقد میں رہتا ہے) صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ عورت کو اختیار مجلس باجماع صحابہ ثابت ہے۔ ابن ہمام کا بیان ہے کہ ابن منذر نے کہا : اگر مرد عورت کو اختیار (یعنی تفیض طلاق) دے دے تو یہ اختیار کب تک رہتا ہے ‘ اس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ عورت کو آخر مجلس تک اختیار رہتا ہے ‘ مجلس سے اٹھ جائے گی تو اختیار ساقط ہوجائے گا۔ مختلف استادوں سے ان بزرگوں کا یہ قول مروی ہے ‘ لیکن ان سندوں میں کلام کیا گیا ہے۔ حضرت جابر بن عبدا اللہ ‘ علاء ‘ مجاہد ‘ شعبی ‘ نخعی ‘ امام مالک ‘ سفیان ثوری ‘ اوزاعی ‘ شافعی ‘ ابو ثور اور اصحاب زاری کا یہی مسلک ہے لیکن زہری ‘ قتادہ ‘ ابوعبیدہ اور بعض دوسرے علماء کہتے ہیں کہ عورت کا اختیار اس مجلس کے بعد بھی رہتا ہے۔ ابن منذر نے کہا : ہم بھی اسی کے قائل ہیں کیونکہ رسول اللہ نے حضرت عائشہ سے فرمایا تھا کہ اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر (جوب دینے میں) جلدی نہ کرنا۔ صاحب مغنی نے یہی قول حضرت علی کا روایت کیا ہے۔ ابن ہمام نے ابن المنذر کے جواب میں کہا ہے کہ حضرت علی کا قول مذکور متفق علیہ نہیں ہے۔ دوسری روایت میں حضرت علی کا قول بھی جماعت صحابہ کے قول کے موافق آیا ہے۔ امام محمد نے بلاغات میں اس کی صراحت کی ہے ‘ لکھا ہے : ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر نے فرمایا : جو شخص اپنی بیوی کو اس کے نفس کا اختیار دے دے تو عورت کو اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس مجلس میں رہے ‘ جب مجلس سے اٹھ جائے گی تو اس کو اختیار نفس نہیں رہے گا۔ کسی دوسرے صحابی کا قول بھی اس کے خلاف منقول نہیں ‘ لہٰذا اس پر اجماع سکوتی ہوگیا۔ رہی یہ بات کہ روایات کی اسنادوں میں کلام کیا گیا ہے تو اس سے اصل مسئلہ پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ امت اسلامیہ نے اس قول کو بالاتفاق قبول کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ عبدالرزاق نے حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابن مسعود کا قول جس سند سے نقل کیا ہے ‘ وہ کھری ہے (اس سند میں کوئی کلام نہیں) رہا ابن منذر کا حدیث کے لفظ لاتستعجلی سے استدلال تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ رسول اللہ نے طلاق کی تفویض نہیں کی تھی (طلب طلاق کا اختیار دیا تھا اور ہماری بحث اس مسئلہ میں ہے کہ شوہر نے تفویض طلاق کردی اور خود اپنے آپکو طلاق دے لینے کا اختیار دے دیا ہو) آیت فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً بھی اس پر دلالت کررہی ہے۔ مسئلہ : اگر شوہر نے بیوی سے کہا : تجھے اپنا اختیار ہے تو تفویض طلاق کی نیت ضرور اس وقت ہونی چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ شوہر بیوی کو کسی اور چیز کا اختیار دے رہا ہو (اور یہ مقصد ہو کہ تجھے خود اس کام کو کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے) ۔ مسئلہ : اگر شوہر نے بیوی سے کہا : تجھے اپنا اختیار ہے اور اس نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو حضرت عمر ‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس کے نزدیک ایک رجعی طلاق ہوجائے گی کیونکہ شوہر کی طرف سے تفویض اختیار کا معنی ہے تفویض طلاق اور جب عورت نے اختیار نفس کا اظہار کردیا تو ایسا ہوگیا جیسے اس نے یہ لفظ کہہ دیئے کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دے لی اور اس طرح لفظ طلاق سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آیت قرآنی سے بھی ثابت ہے کہ تیسری طلاق کے بعد تو خیر رجوع نہیں کیا جاسکتا ‘ البتہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع کا حق باقی رہتا ہے۔ حضرت زید بن ثابت کا قول آیا ہے کہ صورت مذکور میں تین طلاقیں پڑجاتی ہیں جس عورت سے قربت کی جا چکی ہو۔ اس کے معاملہ میں امام مالک کا قول بھی حضرت زید کے قول کے موافق ہے اور غیرمدخولہ کے معاملہ میں اگر ایک طلاق مراد ہونے کا دعویٰ کیا جائے تو قبول کرلیا جائے گا۔ حضرت زید کے قول کی وجہ یہ ہے کہ تفویض اختیار کی صورت میں اختیار طلاق کا حق عورت کو ہونا ضروری ہے ‘ عورت کی رضامندی کے بغیر شوہر کو اس پر حق تسلط باقی نہ رہنا چاہئے۔ اگر مرد کو رجوع کا حق رہتا ہے تو عورت کو تفویض طلاق کا کیا فائدہ ؟ عورت چاہے یا نہ چاہے ‘ مرد بہرطور رجوع کرسکے گا اور عورت کو اس قسم کا خصوصی حق اس وقت ہوسکتا ہے جب عورت کی اختیار کردہ طلاق کو بائن کہا جائے ‘ غیر بائن طلاق کے بعد تو تین طلاقوں کے علاوہ اور کسی صورت سے حق رجوع ساقط نہیں ہوتا ‘ لہٰذا عورت کی اختیار کردہ طلاق کو تین طلاقیں قرار دینا ضروری ہے۔ حضرت علی کا قول روایۃً ثابت ہے کہ ایک بائنہ طلاق واقع ہوگی۔ یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے کیونکہ تفویض اختیار کے بعد طلاق کا اختیار صرف عورت ہی کو مل جاتا ہے (مرد کو رجوع کا حق نہیں رہتا) اور یہ جب ہی ہوگا کہ عورت کی اختیار کردہ طلاق کو بائنہ کہا جائے اور طلاق بائن بغیر تین طلاقوں کے بھی کبھی ہوتی ہے جیسے طلاق بالمال ہو یا طلاق قبل الدخول ‘ اس لئے اس طلاق بائنہ کو تین طلاقیں قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں (کیونکہ بائنہ ایک ہو یا تین ‘ اس کے بعد بینونت ہوجاتی ہے اور حق رجوع بہرنوح ساقط ہوجاتا ہے) ترمذی کی روایت میں حضرت ابن مسعود اور حضرت عمر کا قول آیا ہے کہ صورت مذکورہ میں طلاق بائنہ ہوگی۔ دوسری روایت میں ان دونوں بزرگوں کی طرف طلاق رجعی ہونے کی نسبت کی گئی ہے ‘ پس روایات میں اختلاف ہوگیا (اور کوئی ایک روایت بھی قابل استدلال نہیں رہی) ۔ میں کہتا ہوں : بینونت دو طرح کی ہوتی ہے ‘ غلیظ اور خفیفہ۔ اگر شوہر نے بینونت غلیظ کی نیت کی ہو تو لامحالہ تین طلاقیں پڑجائیں گی۔ لیکن امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ تجھے اپنا اختیار ہے کہنے سے بینوت پر دلالت نہیں ہوتی بلکہ یہ کلام تو صرف اس مفہوم کیلئے مفید ہے کہ خالص طور پر عورت کو اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ اپنے آپ کو طلاق دے لے۔ بینونت تو بتقاضاء کلام (یعنی بدلالت التزامی) سمجھی جاتی ہے ‘ لہٰذا بینونت عومی نہیں بلکہ بقدر ضرورت لینا کافی ہے ‘ برخلاف اَنْتِ بَاءِنٌ یا اس جیسے دوسرے کلام کے (کہ یہ صراحۃً بدلالت مطابقی بینونت پر دلالت کر رہا ہے) اگر ایسے کلام میں تین طلاقوں کی نیت کی تو تین طلاقیں پڑجائیں گی لیکن جو جملہ ما بہ النزاع ہے ‘ اس میں تو بینونت پر صراحۃً دلالت ہی نہیں ہے اس لئے اگر صورت مذکورہ میں شوہر نے تین طلاقیں تفویض کرنے کی نیت بھی کی ہو تب بھی ایک بائنہ پڑگی کیونکہ نیت وہیں عمل کرتی ہے جہاں نیت کے مطابق معنی مراد لینے کو لفظ برداشت کرسکے اور لفظ میں اس مرادی معنی کا احتمال ہو۔ اگر تین اختیاری (تجھے اپنا اختیار ہے) کہا تو چونکہ الفاظ تفویض تین بار کہے اس لئے مقصود کا تعدد معلوم ہوتا ہے (پاس ایسی صورت میں اگر عورت نے طلاق کو اختیار کرلیا اور ” اخترت “ کہہ دیا تو تین طلاقیں پڑجائیں گی۔ مسئلہ : اگر شوہر کے جواب میں عورت نے کہا کہ میں نے اپنے شوہر کو اختیار کرلیا تو جمہور کے نزدیک کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ شوہر نے طلاق نہیں دی تھی بلکہ عورت کو تفویض طلاق کی تھی اور عورت نے طلاق کو اختیار نہیں کیا بلکہ بقاء نکاح کو اختیار کیا۔ ایک روایت میں حضرت علی کا قول آیا ہے کہ ایک رجعی طلاق واقع ہوجائے گی گویا آپ نے لفظ اختیار کو ایقاع طلاق قرار دیا (مفعول کا لحاظ نہیں کیا) ابن ہمام نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ کا قول (جمہور کے مسلک کی تائید کرتا ہے ‘ حضرت عائشہ کا یہ قول) ہے کہ رسول اللہ نے ہم کو اختیار دیا تھا مگر ہم نے رسول اللہ ہی کو اختیار کیا اور حضور ﷺ نے اس (اختیار) کو کچھ نہیں قرار دیا۔ میں کہتا ہوں : پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ نے امہات المؤمنین کو طلاق کا اختیار نہیں دیا تھا بلکہ طلب طلاق کا اختیار دیا تھا ‘ لہٰذا حضرت عائشہ کے قول سے حضرت علی کے قول کے خلاف استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ : (تفویض طلاق کیلئے) نفس کا لفظ ذکر کیا جانا ضروری ہے۔ اگر مرد نے کہا کہ تجھے اختیار ہے اور عورت نے جواب دیا کہ میں نے اختیار کرلیا تو طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اختیار کا لفظ طلاق کا لفظ نہیں ہے کیونکہ کسی کو کسی چیز کا مالک بنانے کا تقاضا ہے کہ وہ چیز پہلے مالک بنانے والے کی ملک میں ہو (جب خود ہی مالک نہ ہوگا تو دوسرے کو اس چیز کا مالک کیسے بنا سکے گا ؟ ) اور لفظ اختیار کہہ کر شوہرخود ہی طلاق واقع نہیں کرسکتا تو اس لفظ کا استعمال ایقاع طلاق کا مالک کیسے کرسکتا ہے ؟ قیاس کا یہی تقاضا ہے لیکن اجماع صحابہ ہے کہ عورت اگر اپنے نفس کو اختیار کرلے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے اس لئے ہم خلاف قیاس بھی اجماع صحابہ کی وجہ سے وقوع طلاق کے قائل ہیں مگر وقوع طلاق پر اجماع صحابہ اسی وقت ہے جب زوجین میں سے کسی نے کھل کر لفظ نفس استعمال کیا ہو (یا شوہر نے کہا ہو کہ تجھے اپنے نفس کا اختیار ہے یا عورت نے کہا ہو کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا) فقظ اختیار کا لفظ تو مبہم ہے ‘ اختیار نفس بھی مراد ہوسکتا ہے اور کسی دوسرے کام کا اختیار بھی ‘ اور جب زوجین میں سے ہر ایک نے اختیار کا لفظ مبہم بولا تو تعیین مفہوم نہیں ہوئی۔ مبہم ‘ مبہم کی تشریح نہیں بن سکتا۔ (اگر نص کتاب یا حدیث یا اجماع کی وجہ سے کوئی حکم خلاف قیاس ہو تو اس کا اقتصار اس کے مورد پر کیا جاتا ہے ‘ اس پر کسی دوسرے مسئلہ کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ‘ یہ ضابطہ تفسیری فقہی ہے) اور اختیار نفس کے لفظ سے طلاق کا وقوع خلاف قیاس ہے اس لئے اس حکم کو اسی مقام پر مقصود رکھا جائے گا جس پر اجماع ہوا ہو ‘ لہٰذا قرینۂ حال کی موجودگی میں بھی باوجود نیت کے بغیر لفظ نفس کے استعمال کے طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ زوجین کی طرف سے صرف لفظ اختیار کو استعمال کرنے سے طلاق کے وقوع پر اجماع نہیں ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کہتے ہیں کہ اگر قرینۂ حال موجود ہو اور لفظ اختیار سے شوہر کی مراد وقوع طلاق ہو اور زوجین اس مفہوم کے مراد ہونے پر متفق ہوں تو شوہر کی نیت کافی ہے (مطلق لفظ اختیار استعمال کرنے سے طلاق واقع ہوجائے گی) ۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں : اگر لفظ میں کسی مفہوم کے مراد ہونے کا احتمال ہی نہ ہو تو نیت بیکار ہے ورنہ کسی لفظ کو بھی بول کر کوئی مفہوم مراد لینا صرف اس وجہ سے صحیح قرار پائے گا کہ بولنے والے کی نیت میں وہ مفہوم تھا مثلاً کوئی شخص بیوی سے کہے کہ مجھے پانی پلا دے اور اس لفظ سے اس کی مراد ایقاع طلاق ہو تو کیا طلاق ہوجائے گی ؟ پس لفظ اختیار سے بھی طلاق مراد نہیں ہوسکتی ‘ خواہ طلاق کی نیت ہی ہو مگر اس قیاسی نظریہ کو ہم نے اجماع صحابہ کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دوسرے الفاظ کو لفظ اختیار کے مساوی قرار دینا بےمحل ہے کیونکہ بغیر نیت کے لفظ اختیار میں دونوں احتمال ہیں۔ اختیار نفس بھی مراد ہونے کا احتمال ہے اور کسی دوسرے کام کے اختیار کرنے کا بھی احتمال ہے۔ اب اگر شوہر نے اس لفظ سے تفویض طلاق کی نیت کی ہو اور عورت کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو طلاق ہوجائے گی کیونکہ عورت کا کلام شوہر کے کلام کی تفسیر ہوجائے گا اور حسب نیت شوہر لفظ اختیار میں تو تفویض طلاق کا احتمال موجود تھا ہی۔ مسئلہ : اگر شوہر نے کہا کہ تجھے اختیار ہے اور عورت نے مضارع کا صیغہ بولا تو طلاق ہوجائے گی۔ قیاس کا تقاضا تھا کہ طلاق واقع نہ ہو کیونکہ عورت کا لفظ یا تو مستقبل میں وعدۂ اختیار کو ظاہر کر رہا ہے یا ایسا لفظ ہے جس میں وعدۂ مستقبل کا احتمال ہے اور اختیار مستقبل سے طلاق واقع نہیں ہوتی جیسے شوہر نے اگر صراحۃً کہہ دیا ہو کہ تو اپنے نفس کو طلاق دے لے اور عورت جواب میں کہے کہ میں اپنے کو طلاق دے لوں گی تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : ظاہرہ قیاس کے خلاف استحسان کی وجہ حضرت عائشہ کا وہ قول ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا : لا بل اختار اللہ ورسولہ (حضرت عائشہ نے اس کلام میں لفظ اختار بصیغہ مضارع بولا تھا اور) رسول اللہ نے اس کو حضرت عائشہ کی طرف سے صحیح جواب مان لیا۔ ایک شبہ موضوع بحث سے ہی امہات المؤمنین کو حاصل شدہ خیار خارج ہے۔ اس شبہ کو زائل کرنے کیلئے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے ہمارے مقصد میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ رسول اللہ نے حضرت عائشہ کے قول کو تخییر کا جواب مان لیا ‘ خواہ تخییر کا تعلق طلاق سے تھا یا طلب طلاق سے۔ اس کے علاوہ اختار اور اطلق میں یہ فرق بھی ہے کہ لفظ اختار نفسی کو حالت موجودہ کی تعبیر قرار دیا جاسکتا ہے یعنی اس کلام کو اختیار نفس کی حکایت کہتے ہیں لیکن لفظ اطلق نفسی کو حالت موجودہ کی حکایت نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

ینسآء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین . اے نبی کی بی بیو ! جو تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اس کو دوہری سزا دی جائے گی۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک فاحشہ سے مراد ہے نافرمانی ‘ بدخلقی (چڑھ کر بولنا) ۔ ضِعْفَیْنَ : یعنی دوسری عورتوں کے مقابلہ میں دوگنا۔ لفظ ضعف اضافی اور نسبتی الفاظ میں سے ہے جن میں سے ہر ایک کو سمجھنا دوسرے لفظ کے سمجھنے پر موقوف ہوتا ہے (جیسے فوق وتحت میں تضایف ہے ‘ باپ ہونا اور بیٹا ہونا اضافی مفہوم رکھتا ہے) جیسے نصف (اور کل میں تضایف ہے) اور زوج (مرد کا جوڑا عورت ‘ عورت کا جوڑا مرد ‘ جوڑا کا لفظ اضافی ہے) ضعف کا معنی ہے دو مساوی مقدار والی چیزوں کا مجموعہ۔ اَضْعَفْتُ الشَّیْءَ اور ضَعَّفْتُ الشَّیْءَ دونوں ہم معنی ہیں (باب افعال و تفعیل میں اس جگہ کوئی فرق نہیں) یعنی اس چیز کے ساتھ اس کی مثل چیز کو جمع کردیا یا ملا دیا (یہ ترجمہ اَضْعَفْتُ کا بھی ہے اور ضَعَّفْتُ کا بھی اور ضاعفتُ کا بھی) ضعفین ایسی دو ہم مثل چیزیں جن میں سے ہر ایک کو دوسرے سے ملا دیا گیا ہو ‘ جمع کردیا گیا ہو ‘ ان کو ضعفین کہا جاتا ہے جیسے زوجین۔ کبھی ایک مقدار اور ایک طرح کی دو چیزوں کے مجموعہ کو ضِعْف کہا جاتا ہے جیسے اللہ نے کافروں کے زیردست لوگوں کے اس قول کو جو وہ دوزخ کے اندر کہیں گے ‘ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ان کو دوزخ کا دوگنا عذاب دے کیونکہ یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور ہم کو بھی گمراہ کیا یعنی جتنا عذاب ہم پر ہے اس سے دوچند عذاب ان کو دے۔ اگر لفظ ضعف کی اضافت کسی عدد کی طرف کی جائے تو دو گنا عدد مراد ہوتا ہے جیسے دس کا ضعف بیس اور سو کا ضعف دو سو ‘ ایک کا ضعف دو ۔ اگر ضعفین کی اضافت واحد کی طرف ہو تو ایک عدد دو ہم مثل عددوں سے مل کر ان کو تین بنا دیتا ہے۔ قاموس میں ہے کہ کسی چیز کا ضعف یعنی اس کی مثل دوسرا کسی چیز کے ضعفین یعنی اس جیسے دو اور۔ یا ضعف شئ کا معنی ہے ایک چیز کا مثل (ایک گناہ یا دو گنا یا تین گنا یا کتنے ہی گنا) عرب کہتے ہیں : لک ضعفہ تمہارے لئے اس کا ضعف ہے یعنی دو گنا ‘ تین گنا ‘ چار گنا وغیرہ ‘ زیادہ محدود نہیں۔ ابو وحداح کی روایت میں جو لفظ ضعف آیا ہے ‘ اس کی تشریح جزری نے نہایہ میں دو مثل کی ہے اور تائید میں کہا ہے کہ عرب جب اِنْ اَعْطَیْتَنِیْ دِرْھَمًا فَلَکَ ضِعْفُہٗ کہتے ہیں تو دو درہم مراد ہوتے ہیں۔ اگر تو مجھے ایک درہم دے گا تو تجھے دو درہم ملیں گے۔ زہری نے لکھا ہے کہ کلام عرب میں ضعف شئ سے مراد ہوتی ہے اس کی طرح اور صرف دو گنا ہی مراد نہیں ہوتا ‘ ضعف کا کم سے کم درجہ ایک گنا ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ ایک حدیث آئی ہے : یُضَعَّفُ صلوٰۃ الجماعۃ علی صلوٰۃ الفذّخمسا وعشرین درجۃ جماعت کی نماز (کا ثواب) منفرد کی نماز سے پچیس درجہ زائد ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : یُضٰعفہ لہ اضعافًا کثیرۃً اس کیلئے بہت گنا بڑھا دیا جائے گا۔ اضعاف (باب افعال) تضعیف (باب تفعیل) اور مُضَاعَفَۃ (باب مفاعلۃ) سب کے معنی ہیں زیادہ کردینا ‘ بڑھا دینا۔ بغوی نے لکھا ہے : ضَعَّفَ اور ضاعَفَ (یعنی تفعیل و مفاعلۃ) دونوں آتے ہیں اور ہم معنی ہیں جیسے بَعَّدَ اور باعَدَ ۔ لیکن ابو عمرو اور ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ باب تفعیل سے تضعیف کا معنی ہے دوگنا اور باب مفاعلت سے مُضَاعَفَۃ کا معنی ہے چندگنا کردینا۔ چونکہ آیت مذکورہ میں لفظ ضعفین آیا ہے اس لئے ابوعمرو نے اس جگہ بجائے یضاعفُ کے یُضْعَّفُ کی قرأت کی ہے۔ امہات المؤمنین کو ارتکاب فاحشہ پر دوہری سزا کی تجویز اس لئے کی گئی کہ اللہ کے انعامات ان پر زائد تھے اور انعامات کی زیادتی کی صورت میں گناہ کا ارتکاب زیادہ برا ہوتا ہے اس لئے (زناء وغیرہ کی) آزاد آدمی کی سزا غلام کی سزا سے دوگنی مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دوہرے عذاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت کی آبرو پر بٹا لگتا ہے جو بہت ہی بری حرکت ہے۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا . اور یہ (دوہرا عذاب دینا) اللہ کیلئے آسان ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی۔ اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اس کے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے

ومن یقنت منکن اللہ ورسولہ وتعمل صالحا نؤتھا اجرھا مرتین واعتدنا لھا رزقا کریما اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسوال کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی ‘ ہم (دوسری عورتوں کے مقابلہ میں) اس کو دوبارہ (یعنی دوگنا) اجر دیں گے اور اس کیلئے ہم نے بہت عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔ دوہرا ثواب دیا جائے گا ‘ ایک تو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کا ‘ دوسرا اس بات کا کہ قناعت اور حسن معاشرت کے ساتھ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی مرضی کی طلب گار ہوئی۔ مقاتل نے کہا : ہر نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہوگا۔ رزق کریم ‘ عالی مرتبہ روزی یعنی جنت جو اصل ثواب کے بعد مزید عطا کی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ کی متابعت میں ان کو وہ ملے گا جو رسول اللہ کو عطا کیا جائے گا۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی (اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کیا کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے۔ اور ان دستور کے مطابق بات کیا کرو

ینسآء النبی لستن کا حد من النساء . اے نبی کی عورتو ! تم کسی دوسری عورت کی طرح نہیں ہو۔ یعنی نہ تم میں سے کوئی ایک کسی غیر عورت کی طرح ہے اور نہ تمہاری جماعت دوسری عورتوں کی جماعت کی طرح ہے یعنی فضیلت میں کوئی دوسری عورت تمہاری طرح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دوسری نیک مؤمن عورتوں کے برابر میرے نزدیک تمہارا مرتبہ نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک تمہاری عزت اور تمہارا ثواب بہت زیادہ ہے۔ اَحَدکی اصل وَحَد تھی اور وَحَد بمعنی واحد ہے۔ لفظ احد کی وضع ثانوی عمومی نفری کیلئے ہے۔ مذکر و مؤنث اور واحد جمع سب کیلئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ دلالت کر رہی ہے کہ امہات المؤمنین کو تمام دوسری عورتوں پر فضیلت حاصل ہے لیکن ایک اور آیت میں حضرت مریم کو سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت عطاء فرمانے کا ذکر کیا گیا ‘ فرمایا ہے : اِنَّ اللہ اصْطَفٰکِ وَطَھَّرَکِ وَاَصْطَفَاکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ اے مریم ! اللہ نے تجھے چن لیا اور پاک کردیا اور دنیا کی عورتوں پر تجھے برتری عطا کی۔ اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ سارے جہان کی عورتوں سے مراد ہیں حضرت مریم کے زمانہ کی عورتیں ( یعنی فضیلت جزئیہ زمانیہ مراد ہے اور امہات المؤمنین کی برتری عمومی ہے) تو یہ جواب اس حدیث کے خلاف ہوگا ‘ جو ترمذی نے نقل کی ہے۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : سارے جہان کی عورتوں سے تمہارے لئے کافی ہیں (یعنی سب پر برتری رکھتی ہیں) مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد ‘ فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ فرعون کی بی بی۔ آیت کا مناسب مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ کی زوجیت کا شرف تم کو حاصل ہے ‘ اس شرف میں اور کوئی عورت تمہاری شریک اور مساوی نہیں ہے۔ جمہور کا بالاتفاق طے شدہ مسئلہ ہے کہ تمام عورتوں سے افضل حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ اور ازواج مطہرات میں سب سے بہتر حضرت خدیجہ بنت خویلد نیز حضرت مریم بنت عمران اور حضرت آسیہ فرعون کی بی بی اور حضرت عائشہ بنت صدیق اکبر تھیں۔ شیخین نے صحیحین میں اور احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مردوں میں تو بہت لوگ کامل ہوئے مگر عورتوں میں سوائے آسیہ زوجۂ فرعون اور مریم بن عمران کے اور کوئی عورت کامل نہیں ہوئی اور حضرت عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے دوسرے کھانوں پر ثرید کی فضیلت۔ صحیحین میں آیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ کو فرماتے سنا کہ اس 1 ؂ کی برترین عورت مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد تھیں۔ کریب کی روایت میں ہے کہ وکیع نے یہ حدیث بیان کرتے وقت آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کیا یعنی آسمان و زمین کی برترین عورتیں۔ صحیحین میں حضرت عائشہ کی روایت سے آیا ہے کہ حضرت فاطمہ نے بیان کیا کہ (مجھ سے) رسول اللہ نے فرمایا : کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ اہل جنت (یا فرمایا کہ مؤمنوں) کی عورتوں کی تم سردار ہو ؟ حضرت حذیفہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : یہ فرشتہ (آیا ہے جو) اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ‘ اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے (آ کر) سلام کرے اور مجھے اس بات کی بشارت دے کہ فاطمہ اہل جنت کی سردار ہے اور حسن و حسین جو انان اہل جنت کے سردار ہیں (اجازت طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اجازت مل گئی اور اس نے آکر یہ پیام سنا دیا) رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس کو حدیث غریب کہا ہے۔ ان اتقیتن . اگر تم ( اللہ کے حکم اور اللہ کے رسول کی رضامندی کی مخالفت سے) بچی رہو گی۔ اس جملہ شرطیہ کی جزاء پر کلام سابق دلالت کر رہا ہے اس لئے اس جگہ جزاء ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ فلا تخضعن بالقول . سو تم چبا کر بات نہ کیا کرو۔ مطلب یہ کہ جب بشرط تقویٰ تمہاری فضیلت دوسری عورتوں پر ثابت ہے تو تقویٰ کے خلاف تم سے کوئی حرکت سرزد نہ ہوں چاہئے (دوسرے) مردوں سے چبا چبا کر بات نہ کیا کرو (یہ تقویٰ کے خلاف ہے) یعنی اگر عورت کسی غیر مرد سے چبا چبا کر باتیں کرے گی تو اس کے دل میں لالچ پیدا ہوگا ‘ لہٰذا تم ایسا نہ کرو۔ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے کہ رسول اللہ نے مرد کو غیر عورت سے اس طرح نرم نرم باتیں کرنے کی ممانعت فرمائی ہے کہ عورت اس کی طرف کچھ ریجھنے لگے۔ خضوع کا معنی ہے اطاعت۔ جزری نے یہ بھی نہایہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر کے دور خلافت میں ایک شخص کسی مرد و عورت کی طرف سے گذرا جو باہم نرم نرم باتیں کر رہے تھے۔ اس شخص نے اس مرد کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا سر پھٹ گیا۔ حضرت عمر نے اس کا کچھ بدلہ نہ دلوایا (ضرب کو بلاقصاص قرار دیا) ۔ طبرانی نے اچھی سند سے عمرو بن عاص کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے عورتوں کو بغیر شوہروں کی اجازت کے (غیر مردوں سے) کلام کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔ دارقطنی نے افراد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے ممانعت فرما دی ہے کہ کوئی مرد نماز میں یا اپنی بیوی اور باندیوں کے علاوہ دوسری عورتوں کے سامنے انگڑائی لے۔ فیطمع الذی فی قلبہ مرض . (کہیں) اس شخص کو جس کے دل میں بیماری ہے ‘ کچھ لالچ ہونے لگے۔ مرض سے مراد ہے نفاق کا شائبہ۔ مؤمن کامل کا دل تو ایمان پر مطمئن ہوتا ہے ‘ اس کو تو اپنے رب کی شان ہر وقت نظر آتی ہے ‘ وہ تو کبھی بھی حرام بات کی طرف مائل ہی نہیں ہوسکتا۔ ہاں جس کے ایمان میں ضعف ہوتا ہے ‘ اس کے دل میں نفاق کا شائبہ ہوتا ہے ‘ وہ ممنوعات خداوندی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ مسئلہ : اجنبی مردوں سے کلام کرنے کے وقت عورت کو حکم ہے کہ لہجہ میں درشتی اختیار کرے تاکہ میلان و لالچ کا احتمال ہی نہ ہونے پائے۔ وقلن قولا معروفا . اور قاعدہ (عفت) کے مطابق بات کرو۔ یعنی اس طرح بات کرو کہ شک نہ پیدا ہو۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو۔ اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے

وقرن فی بیوتکن . اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔ یہ گھروں میں ٹھہرنے رہنے کا اور گناہ کے ارادہ سے گھروں سے باہر نہ نکلنے کا حکم ہے۔ اگلی آیت میں اسی کی تائید و تائید ہو رہی ہے۔ ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی . اور قدیم زمانۂ جاہلیت کے موافق بناؤ سنگھار کر کے مت پھرو۔ امہات المؤمنین کیلئے گھروں سے باہر نکلنے کی ممانعت عمومی نہیں کہ نماز یا حج یا ضرورت انسانی کیلئے بھی باہر نہ نکلیں۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے یعنی شیعہ ‘ آیت میں عمومی ممانعت سمجھ بیٹھے ہیں اس لئے حضرت صدیقہ الکبری بنت صدیق اکبر حبیبۂ رسول اللہ پر طعن کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر سے نکل کر مکہ کو پہنچیں ‘ پھر مکہ سے بصری پہنچیں جہاں جنگ جمل کا واقع ہوا۔ یہ سارا سفر ممانعت آیت کے خلاف ہوا۔ کیا ان لوگوں کو نہیں معلوم کہ اس زمانہ میں مدینہ کی فضا پرامن نہیں رہی تھی ؟ ام المؤمنین کے مدینہ سے نکلتے ہی حضرت عثمان شہید کو شہید کردیا گی اور مصر والوں نے مدینہ میں ایسا فساد مچایا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی خروج پر مجبور ہوگئے اور مدینہ کو چھوڑ کر مکہ پہنچے اور انہی دونوں بزرگوں نے حضرت عائشہ کو مشورہ دیا کہ مسلمانوں کی خانہ جنگی دور کرنے کیلئے بصرہ تشریف لے جائیں۔ جب حضرت عائشہ نے انکار کیا تو آیت ” لا خیر فی کثیر من نجوا ھم الامن امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس “ سے استدلال کرتے ہوئے خروج کو ضروری قرار دیا۔ اس مشورہ کے بعد حضرت عائشہ بصرہ تشریف لے گئیں اور اس خروج ہی کے سبب حضرت عائشہ کے ساتھیوں میں اور حضرت علی کے رفقاء میں صلح ہوگئی لیکن عبد اللہ بن سبا یہودی منافق نے جو اپنے کو شیعان علی میں سے کہتا تھا ‘ صلح قائم نہ رہنے دی اور دونوں جماعتوں میں فتنہ کی آگ بھڑکائی کہ جنگ جمل کا واقعہ ظہور پذیر ہوگیا اور مسلمانوں میں باہم بڑا کشت و خون ہوا۔ ہم نے اس واقعہ کا تذکرہ اپنی کتاب سیف مسلول میں مفصل طور پر کردیا ہے۔ تبرج کا لفظ بروج سے نکلا ہے ‘ بروج کا معنی ہے ظہور۔ اس جگہ تبرج سے مراد ہے اظہار زینت اور مردوں کے سامنے بناؤ سنگھار کر کے نکلنا۔ ابن نیحیح نے کہا کہ تبرج کا معنی ہے اٹھلا کر چلنا ‘ اس لئے لاتبرجن کا تفسیر ترجمہ کیا ہے اٹھلا کر نہ چلو۔ جاہلیت اولیٰ سے مراد ہے دور اسلامی سے پہلے کا زمانۂ جاہلیت دوم ہے ‘ اسلام کے بعد گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ شعبی نے کہا : رسول اللہ سے اوپر حضرت عیسیٰ کے زمانہ تک جاہلیت اولیٰ کا دور تھا۔ ابو العالیہ نے کہا : حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا زمانہ جاہلیت اولیٰ کا زمانہ تھا۔ عورتیں ایسی قمیصیں پہن کر نکلتی تھیں جو دونوں طرف سے بغیر سلے ہوئے ہوتے تھے اور ان کا بدن دونوں طرف سے برہنہ نظر آتا تھا۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جاہلت اولیٰ کا وہ زمانہ تھا جو حضرت نوح اور حضرت ادیس کے درمیان تھا۔ حضرت آدم کی نسل سے دو قبیلے ہوئے ‘ ایک پہاڑ پر رہتا تھا۔ دوسرا میدانی علاقہ میں ‘ پہاڑی مردوں کے چہرے شگفتہ اور گورے تھے مگر عورتیں بدصورت تھیں اور میدانی باشندوں کی عورتیں حسین تھیں اور مرد بدصورت۔ ایک بار ابلیس انسانی شکل میں ایک میدانی باشندے کے پاس آیا اور اس کے پاس نوکر ہوگیا اور خدمت کرنے لگا ‘ پھر اس نے چرواہوں کی بانسری جیسی ایک چیز بنائی اور ایسی آواز سے بجانے لگا جو لوگوں نے کبھی نہیں سنی تھی۔ آس پاس کے لوگوں کو آواز پہنچی تو وہ سننے کیلئے جمع ہوگئے اور اس کو ایک تیوہار بنا لیا جہاں مقرر وقت پر جمع ہونے لگے۔ اس طرح بن سنور کر عورتیں مردوں کے سامنے آنے لگیں اور مرد عورتوں کے سامنے۔ ایک روز کوئی پہاڑی اس تیوہار میں پہنچ گیا اور اس نے مردوں ‘ عورتوں کو یک جا دیکھا اور عورتوں کا حسن اس کی نظر کے سامنے آیا۔ اس نے جا کر پہاڑی باشندوں سے اس کا تذکرہ کیا ‘ اس کے بعد پہاڑی باشندی بھی اپنے مسکن چھوڑ کر میدانی لوگوں کے ساتھ ہی آ بسے اور آپس میں بدکاریاں ہونے لگیں۔ آیت میں تبرج جاہلیت اولیٰ سے یہی مراد ہے لیکن اولیٰ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ جاہلیت دوم بھی کوئی گذری ہے ‘ کبھی اولیٰ کا لفظ بغیر اخرٰی کے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے آیت اَھْلَکَ عَاد انِلْاُوْلٰی میں اولیٰ کا لفظ ہے (عاد اخرٰی کوئی قوم نہیں ہوئی پھر بھی قوم عاد کو عاد انِلْاُوْلٰی فرمایا) ۔ یا جاہلیت سے مراد قبل از اسلام کا دور ہے (جس کی کوئی حدبندی نہیں) ۔ واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ . اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبراری کرو۔ یعنی تمام اوامرو نواہی کی پابندی کرو ‘ یہی تقویٰ ہے جو تمہارے فصیلت یاب ہونے کی ضروری شرط ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرًا . اے اہل بیت (نبی) ! اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور کامل طور پر تم کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ یہ کلام استیسنانی ہے (پہلے کلام سے وابستہ نہیں ہے) اس کلام کا حکم امہات المؤمنین کو بھی شامل کا اور اولاد رسول ﷺ کو بھی ‘ اسی لئے مذکر کا خطابی صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ کلام سباق کلام کی علت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے گویا یوں فرمایا کہ تم کو جو اوامرو نواہی کی پابندی کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ‘ وہ تم سے اور تمہارے علاوہ دوسرے اہل بیت سے رجس یعنی عمل شیطانی کو دور کرنے کیلئے دیا گیا ہے۔ رجس سے مراد ہے عملی شیطانی یعنی گناہ اور ہر وہ حرکت جس میں کوئی شرعی یا ایسی طبعی برائی ہ وجو اللہ کو ناپسندیدہ ہو۔ اہل البیت ‘ رسول اللہ کے گھر کے لوگ۔ عکرمہ اور مقاتل کے نزدیک امہات المؤمنین مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول سعید بن جبیر کی روایت سے بھی یہی آیا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے (اہل البیت کے مفہوم کے تعیین کیلئے) آیت ” وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللہ وَالْحِکْمَۃِ “ تلاوت فرمائی ‘ رواہ ابن ابی حاتم وروی ابن جریر عن عکرمۃ نحوہ۔ ان حضرات نے آیت کے سیاق وسباق سے بھی اسی پر استدلال کیا ہے لیکن عورتوں کے ساتھ حکم کی تخصیص کیسے ہوسکتی ہے جب کہ کُمْ ضمیر مذکر مخاطب کی استعمال کی گئی ہے لیکن (اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا حکم مردوں کو بھی شامل ہے اور بطور تغلیب مذکر کی ضمیر ذکر کی گئی ہے مترجم) ۔ حضرت ابو سعید خدری اور تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے جن میں مجاہد اور قتادہ بھی شامل ہیں کہ اہل بیت ہیں : حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن ‘ حضرت حسین کیونکہ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ سیاہ بالوں کی اونی چادر اوڑھے باہرتشریف لے گئے ‘ چادر پر کجاوے کے نقوش تھے ‘ اتنے میں حسن بن علی آئے تو حضور ﷺ نے ان کو چادر میں لے لیا ‘ پھر حسین بن علی آئے تو حضور ﷺ نے ان کو بھی چادر میں لے لیا ‘ پھر (سیدہ) فاطمہ آئیں تو حضور ﷺ نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا ‘ پھر علی آئے تو آپ نے ان کو بھی داخل کرلیا پھر فرمایا : اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا ‘ رواہ مسلم۔ حضرت سعد بن ابی وقاص راوی ہیں کہ جب آیت تَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے علی ‘ فاطمہ ‘ حسن اور حسین کو طلب فرمایا ‘ اور فرمایا : اے اللہ ! میرے اہل بیت یہ ہیں ‘ رواہ مسلم۔ حضرت واثلہ بن اسقع راوی ہیں کہ رسول اللہ نے آیت اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ الخ تلاوت فرمائی اور حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ ان کے دونوں صاحبزادوں کے متعلق فرمایا کہ اے اللہ ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص لوگ ہیں ‘ ان سے گندگی کو دور فرما دے اور ان کو کامل طور پر پاک کر دے۔ حضرت ام سلمہ کی روایت ہے کہ جب آیت اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ الخ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین کو طلب کیا اور کمبلی میں داخل کرلیا ‘ پھر فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ‘ ان سے گندگی کو دور کر دے اور ان کو کامل طور پر پاک کر دے۔ مذکورہ احادیث اور ان جیسی دوسری اخبار سے آیت تطہیر کی حضرات اربعہ (حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن ‘ حضرت حسین) کے ساتھ تخصیص ثابت نہیں ہوتی ‘ ماقبل اور مابعد کا کلام بھی اس تخصیص سے انکار کر رہا ہے اور عرف و لغت کی شہادت بھی اس کے خلاف ہے۔ اصل میں اہل بیت کے لفظ کا اطلاق صرف بیویوں پر ہوتا ہے ‘ اولاد اور دوسرے گھر والے ذیلی طور پر اس میں آجاتے ہیں۔ بیویوں کے ہی رہنے کے مکان (یا کمرے) عام طور پر الگ الگ ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ کو خطاب کر کے ملائکہ نے کہا تھا : اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللہ رَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِکیا تجھے اللہ کے حکم پر تعجب ہو رہا ہے ‘ اے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ حق بات یہ ہے کہ رفتار کلام اگرچہ امہات المؤمنین پر دلالت کر رہی ہے لیکن آیت تطہیر سب کو شامل ہے۔ حضرت ام سلمہ نے فرمایا تھا کہ میرے گھر میں آیت ” اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے فاطمہ اور علی اور حسن اور حسین کو بلوایا ‘ پھر فرمایا : یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں بھی اہل بیت میں سے ہوں ؟ فرمایا : کیوں نہیں ‘ انشاء اللہ۔ روای البغوی وغیرہ۔ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ اہل بیت میں سب داخل ہیں اور انشاء اللہ کا لفظ (امید مستقبل کیلئے نہیں بلکہ تحقیق اور) تبرک کیلئے استعمال ہوا ہے۔ حضرت زید بن ارقم نے فرمایا : رسول اللہ کے اہل بیت وہ سب لوگ تھے جن پر صدقہ کا مال لینا حرام کردیا گیا تھا یعنی اولاد علی ‘ اولاد جعفر ‘ اولاد عقیل ‘ اولاد عباس اور اولاد حارث بن عبدالمطلب۔ تطہیر سے مراد ہے دنیا میں گناہوں کی نجاست سے پاک کرنا اور آخرت میں مغفرت فرمانا۔ اللہ نے آیات مذکورہ میں امہات المؤمنین کو بعض چیزوں سے منع فرمایا ‘ بعض باتوں کے کرنے کا حکم دیا تاکہ رسول اللہ کے گھر والا کسی گناہ کا ارتکاب نہ کرے اور سب کے سب متقی ہوجائیں ‘ بطور استعارہ گناہوں کو گندگی اور تقویٰ کو طہارت فرمایا کیونکہ گناہ کرے والے کی گناہوں سے اسی طرح آلودگی ہوجاتی ہے جس طرح جسم نجاست سے آلودہ ہوجاتا ہے اور متقی ایسا ہی پاک و صاف ہوتا ہے جس طرح کپڑاپاک و صاف ہوتا ہے۔ چونکہ گناہ اور گندگی میں بہت گہری مناسب ہے اس لئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ پانی کا استعمال خواہ رفع حدث کیلئے کیا گیا ہو یا بطور ثواب (وقرَبّ ) بہرحال مستعمل پانی نجس ہوجاتا ہے۔ حضرت عثمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو اچھی طرح خوب وضو کرتا ہے ‘ اس کے گناہ اس کے بدن سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی خارج ہوجاتے ہیں (اور پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں) متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو مسلم بندہ (یا فرمایا : مؤمن بندہ) وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی کے ساتھ آنکھ کے گناہ نکل جاتے ہیں ‘ الحدیث رواہ مسلم۔ شیعہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ثابت کر رہی ہے کہ علی اور فاطمہ اور حسن اور حسن معصوم تھے اور رسول اللہ کے خلفاء یہی تھے ‘ دوسرا کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا اور انہیں حضرات اربعہ کا اور ان کے بعد (ان کی نسل کے) دوسرے اماموں کا ہی اجماع معتبر ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ارادہ مراد سے منفک نہیں ہوتا (یعنی اللہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے ‘ اس کا پورا ہونالازم ہے) اور حسب صراحت آیت ‘ اللہ ‘ اہل بیت کو طاہر بنانا چاہتا ہے اس لئے اہل بیت کا معصوم ہونا ضروری ہے۔ گناہ گار پاک نہیں ہوتا اور عصمت امامت (یعنی خلافت) کی شرط ہے اور چونکہ ابوبکر اور عمر اور عثمان بالاجماع معصوم نہ تھے اس لئے خلافت کا استحقاق صرف اہل بیت کو تھا۔ شیعہ فرقہ کا یہ استدلال غلط ہے۔ نمبر 1: آیت کا نزول امہات المؤمنین کیلئے ہوا ‘ ہاں یہ چاروں بزرگ ہستیاں حکم آیت میں داخل ہیں۔ نمبر 2: آیت عصمت پر دلالت نہیں کرتی (ارادۂ تطہیر کا معنی عطاء عصمت نہیں) دیکھو آیت وضو میں تمام امت کو خطاب کر کے فرمایا ہے : مَا یُرِیْدُ اللہ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنْ تُرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ الخ اللہ تم پر کوئی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ تم کو پاک کرنا چاہتا ہے (تو کیا ساری امت اسلامیہ کو اس آیت کی روشنی میں معصوم قرار دیا جاسکتا ہے ؟ ) اگر شبہ کیا جائے کہ آیت تطہیر کا تقاضا تو گناہوں سے پاک کرنے کا ارادۂ الٰہیہ ہے (یعنی اللہ گناہوں سے تم کو پاک کرنا چاہتا ہے) اور آیات وضوء کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو نجاست اور غلاظت بدنیہ سے پاک و صاف کرنے چاہتا ہے ‘ اگر تو وضو کرو گے (تو بدنی نجاست دور ہوجائے گی) دونوں آیتوں میں ایک قسم کی تطہیر نہیں ہے مگر یہ شبہ بےاصل ہے ‘ دونوں آیتوں میں اللہ کا ارادۂ تطہیر مشروط ہے آیت وضو میں مشروط بالوضوء ہے اور آیت تطہیر میں مشروط بالتقویٰ یعنی اگر وضو کرو گے تو نجاست بدنی سے پاک ہوجاؤ گے ‘ اسی طرح اے اہل بیت ! تم تقویٰ اختیار کرو گے تو گناہوں سے پاک ہوجاؤ گے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح طہارت بدنی حاصل کرنے کیلئے اللہ نے پانی کے استعمال کا طریقہ بتادیا ‘ اسی طرح گناہوں سے طہارت حاصل کرنے اور باطن کو پاک رکھنے کیلئے اس نے تقویٰ کا طریقہ بتادیا اور فرمایا : فَلاَ تَخْضَعْنَ پس جس طرح طہارت بدن پانی کے استعمال سے وابستہ ہے ‘ اسی طرح طہارت باطن تقویٰ پر موقوف ہے۔ نمبر 3: امامت (یعنی خلافت ارضی) کیلئے عصمت شرط نہیں ہے ‘ معصوم کی موجودگی میں غیر معصوم خلیفہ ہوسکتا ہے۔ دیکھو حضرت شموئیل اور حضرت داؤد کے موجود ہونے کے باوجود طالوت کو خلیفہ (بادشاہ) بنا دیا گیا تھا ‘ آیت میں آیا ہے : اِذْ قَاَل لَھْمُ بنَبِیُُّمْ اِنَّ اللہ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ ملکًا۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بےشک خدا باریک بیں اور باخبر ہے

واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ . اور تم ان آیات خداوندی کو اور اس علم (احکام) کو جس کا چرچا تمہارے گھروں میں ہوتا ہے ‘ یاد رکھو۔ آیات اللہ سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد وحی غیر منطوق یعنی حدیث ہے۔ مقاتل کے نزدیک آیات اللہ سے مراد ہیں : قرآن کے احکام و مواعظ۔ بیضاوی نے نزدیک (ماتیلٰیسے مراد قرآن ہے) مطلب یہ ہے کہ قرآن کو یاد رکھو جس کے اندر دونوں امر ہیں ‘ نمبر 1: اللہ کے انعام کی یادداشت کہ اللہ نے تم کو نبی کا اہل بیت بنایا ‘ تمہارے گھروں کو نزول گاہ وحی قرار دیا ‘ نمبر 2: اور وحی آنے کے وقت جو تکلیف ہوتی ہے وہ تمہاری نظر کے سامنے ہوتی ہے جس سے تمہارے ایمان میں پختگی اور جذبۂ اطاعت میں برانگیختگی اور اوامرو نواہی کی پابندی کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا . بیشک اللہ راز داں ہے اور پورا باخبر ہے۔ یعنی تم پر مہربان ہے ‘ دینی اصلاح کی تم کو تعلیم دے رہا ہے اور خوف واقف ہے کہ کون نبوت کی قابلیت رکھتا ہے اور کون نبی کا اہل بیت ہونے اور ان کی صحبت میں رہنے کا اہل ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَلطَّیِّبَات للطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ للطَّیِّبَاتِ ۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ کی (بعض) بیبیوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ نے قرآن میں مردوں اک ذکر تو اچھائی کے ساتھ کیا ہے ‘ عورتوں کا ذکر اچھائی کے ساتھ نہیں کیا ‘ تو کیا ہمارے اندر کوئی قابل ذکر بھلائی نہیں ؟ ہم کو اندیشہ ہے کہ اللہ ہماری طاعت کو بھی قبول نہیں کرتا۔ اس پر آیت ان المسلمین والمسلمات الخ نازل ہوئی۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ اسی طرح ابن سعد نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ طبرانی نے قابل قبول سند سے بروایت ابن عباس یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ عورتوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا وجہ ہے کہ اللہ ایماندار مردوں کا تو ذکر کرتا ہے اور ایماندار عورتوں کا ذکر (قرآن میں) نہیں کرتا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ سبب نزول ابن جریر نے قتادہ کی روایت سے مرسلاً ذکر کیا ہے۔ ترمذی نے بسند حسن حضرت ام عمارہ انصاریہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے کہا تھا : کیا وجہ ہے کہ میں (قرآن میں) ہر چیز مردوں ہی کیلئے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا تذکرہ کسی (اچھی) چیز کے ساتھ (قرآن میں) مجھے نظر نہیں آتا ؟ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بغوی نے بروایت مقاتل ذکر کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ اور حضرت آسیہ بنت کعب انصاریہ نے رسول اللہ سے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارا رب (قرآن میں) مردوں کا تو ذکر کرتا ہے اور عورتوں کا کہیں ذکر نہیں کرتا ‘ اس سے ہم کو اندیشہ ہے کہ عورتوں میں کوئی بھلائی ہی نہیں ہے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس جب اپنے شوہر حضرت جعفر بن ابوطالب کے ہمراہ حبش سے واپس آئیں اور رسول اللہ کی بیبیوں کے پاس گئیں تو ان سے دریافت کیا : کیا ہمارے معاملہ میں قرآن کی کوئی آیت اتری ہے ؟ امہات المؤمنین نے جواب دیا : نہیں۔ اسماء فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! عورتیں بڑے گھاٹے میں ہیں ‘ بڑی نامراد ہیں۔ فرمایا : کس وجہ سے یہ بات کہہ رہی ہو ؟ عرض کیا کیا : حضور ﷺ ! مردوں کا جس طرح ذکر کیا جاتا ہے ‘ عورتوں کا اچھائی کے ساتھ (قرآن میں) کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

ان المسلمین والمسلمت والمؤمنین والمؤمن والقنتین والقنتت والصدقین والصدقت والصبرین والصبرت والخشعین والخشعت والمتصدقین والمتصدقت والصائمین والصئمت ولحفظین فروجھم والحفظت والذکرین اللہ کثیرا والذکرت اعد اللہ لھم مغفرۃ واجرا عظیما بیشک اسلام کے کام کرنے والے مرد اور اسلام کے کام کرنے والی عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ‘ ان سب کیلئے اللہ نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَات یعنی اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ‘ اپنے سارے کام اللہ کے سپرد کردینے والے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے والے مرد ہوں یا عورتیں۔ الْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتّٰتِ یعنی طاعت کے پابند لوگ مرد ہوں یا عورتیں۔ الصّٰدِقِیْنَ وَالصَّدِقٰتِ یعنی قول و عمل کے سچے اور ایسے عمل کرنے والے کہ جو شخص وہ کام کرتا ہو اس کی تعریف کرنے والے کو سچا مانا جائے ‘ مرد ہوں یا عورتیں۔ الصَّابِرِیْنَ والصَّبِرٰتِ (راہ حق میں) مصائب پر صبر رکھنے والے اور طاعتوں پر جمے رہنے والے اور نفسانی ناجائز خواہشات اور تمام گناہوں سے رک جانے والے مرد ہوں یا عورتیں۔ الْخَاشِعِیْنَ وَالْخاشِعَات یعنی تواضع اور فروتنی کرنے والے ‘ غرور نہ کرنے والے مرد ہوں یا عورتیں۔ الصَّاءِمِیْنَ وَالصَّاءِمٰتِ اور فرض و نفل روزے رکھنے والے مرد ہو یا عورتیں۔ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ یعنی فعل ممنوع سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھنے والے مرد اور عورتیں۔ اَلذَّکِرِیْنَ اللہ کَثِیْرًا وَالذَّکِرٰتِ یعنی بکثرت دلوں اور زبانوں سے اللہ کو یاد کرنے ولاے مرد اور عورتیں۔ 1 ؂ بغوی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ بندہ اسی وقت اللہ کی بکثرت یاد کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے جب کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا ہو ‘ کسی وقت اللہ کی یاد میں سستی نہ کرتا ہو ‘ اس کے بغیر کثیر الذکر بندوں میں سے نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں : یہ بات اسی وقت ہوتی ہے جب فناء قلب حاصل ہوجائے ‘ ذکر میں دل ڈوبا رہے اور ہر وقت حضور دوامی حاصل رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : افراد والے (سب سے) آگے بڑھ گئے۔ عرض کیا گیا : افراد والے کون ؟ فرمایا : اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے مرد اور عورتیں۔ رواہ مسلم من حدیث ابی ہریرۃ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذکر خدا سے زیادہ عذاب الٰہی سے نجات دینے والی اور کوئی چیز نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا : نہ جہاد فی سبیل اللہ ؟ فرمایا : نہ جہاد فی سبیل اللہ ‘ ہاں اگر جہاد میں اتنی شمشیر زنی کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے (ایسی حالت میں مجاہد کا درجہ زیادہ ہوجائے گا) رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر من حدیث عبد اللہ بن عمر۔ حضرت ابو سعید خدری روای ہیں کہ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا : قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کونسا بندہ سب سے افضل اور عالی مرتبہ ہوگا ؟ فرمایا : اللہ کو بکثرت یاد کرنے والا مرد اور عورت۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ کی راہ میں لڑنے والے سے بھی زیادہ ؟ فرمایا : اگر (مجاہد) کافروں اور مشرکوں میں اتنی شمشیر زنی کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگ جائے تب بھی اللہ کو یاد کرنے والا اس سے مرتب میں افضل ہوگا۔ رواہ احمد والترمذی وقال ہذا حدیث غریب۔ امام مالک نے فرمایا : مجھے یہ خبر ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : یاد خدا سے غفلت کرنے والوں میں اللہ کی یاد کرنے والا ایسا ہوتا ہے جیسے (جہاد سے منہ موڑ کر) بھاگنے والوں کے پیچھے (کافروں سے) لڑتا رہنے والا اور غافلوں میں اللہ کی یاد کرنے والا ایسا ہے جیسے سوکھے درخت میں سبز ٹہنی اور غافلوں میں اللہ کی کرنے والا ایسا ہے جیسے تاریک گھر میں (روشن) چراغ۔ غافلوں میں اللہ کی یاد کرنے والے کو (دنیا میں ہی) جنت کے اندر اس کا مقام اللہ دکھا دیتا ہے اور غافلوں میں اللہ کی یاد کرنے والے کے گناہ سارے بولنے والوں اور گونگوں کی گنتی کے برابر بخش دئیے جاتے ہیں۔ بولنے والوں سے مراد ہیں تمام بنی آدم اور گونگوں سے مراد ہیں چوپائے۔ رواہ زین۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عطاء بن ابی ریاح نے کہا : جس نے اپنے کام اللہ کے سپرد کر دئیے ‘ وہ المسلمین والمسلمات کے تحت آگیا اور جس نے اقرار کیا کہ اللہ میرا رب ہے اور محمد اس کے رسول ہیں اور دل ‘ زبان کے مخالف نہ ہو تو وہ المؤمنین والمؤمنات کی فہرست میں آگیا اور جس نے فرائض میں اللہ کی اور سنت میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت (یعنی فرائض خداوندی کو ادا کیا اور سنت رسول پر چلا) وہ القانتین والقانتات میں شامل ہوگیا اور جس نے اپنے کلام کو جھوٹ سے محفوظ رکھا وہ الصادقین والصادقات میں آگیا اور جو طاعت پر جما رہا اور گناہ سے ڈرتا رہا اور دکھ پر صبر کیا وہ الصابرین والصابرات میں شامل ہوگیا اور جس نے (اتنے استغراق سے) نماز پڑھی کہ دائیں بائیں کی بھی اس کو شناخت (یعنی خبر) نہ ہوئی وہ الغاشعین والخاشعات میں داخل ہوگیا اور جس نے ہر ہفتہ ایک درہم خیرات کیا وہ المتصدقین والمتصدقات میں شامل ہوگیا اور جس نے ہر ماہ چاندنی راتوں کے (یعنی 13‘ 14‘ 15 تاریخوں کے) روزے رکھے وہ الصائمین والصائمات میں داخل ہوگیا اور جس نے حرام سے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا وہ الحافظین فروجھم والحافظات کے ذیل میں آگیا اور جس نے پانچوں نمازیں ادا کیں وہ الذاکرین اللہ کثیرًا والذکرات کے تحت آگیا۔ اَعَدَّ اللہ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً یعنی جو گناہ ان سے سرزد ہوگئے ہوں گے ‘ ان کی مغفرت اللہ نے تیار کر رکھی ہے۔ وَاَجْرًا عَظِیْمًا یعنی طاعت کا بڑا ثواب۔ طبرانی نے صحیح سند سے بروایت قتادہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش کو پیام نکاح بھیجا۔ یہ پیام حضرت زید بن حارثہ کیلئے تھا لیکن حضرت زینب نے خیال کیا کہ رسول اللہ نے اپنے ساتھ نکاح کا پیام بھیجا ہے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ زید کا پیام بھیجا ہے تو انکار کردیا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔