Ayah 33:53یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر نظرین انہ . اے
ایمان والو ! نبی کے گھر میں (بن بلائے) مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کیلئے اجازت دی جائے ‘ ایسے طور پر کہ اس کے پکائے جانے کے منتظر نہ رہو۔ بغوی نے ابن شہاب (زہری) کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت انس نے بیان کیا : جس وقت رسول اللہ مدینہ میں تشریف لائے میں اس وقت دس سال کا تھا۔ میری مائیں رسول اللہ کی خدمت پر میری موافقت کرتی تھیں۔ میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی اور حضور ﷺ کی وفات کے وقت میری عمر بیس سال تھی۔ حجاب کے واقعہ کا علم مجھے سب لوگوں سے زیادہ ہے۔ آیت حجاب کا نزول رسول اللہ اور زینب بنت جحش کی خلوت گاہ میں ہوا۔ صبح کو رسول اللہ حضرت زینب کے شوہر ہونے کی حیثیت میں تھے ‘ آپ نے لوگوں کو کھانا کھانے بلایا ‘ لوگوں نے آکر کھانا کھایا۔ الیٰ آخر الحدیث۔ زہری کی یہ روایت بھی بخاری کی روایت کی طرح ہے۔ بخاری کی دوسری روایت ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : اس آیت کو یعنی آیت حجاب کو میں سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ جب حضرت زینب کو رسول اللہ کے پاس بیوی کی حیثیت میں بھیجا گیا تو آپ کے گھر کے اندر وہ موجود تھیں اور آپ نے کچھ کھانا تیار کرایا تھا اور لوگوں کو کھانے کیلئے بلوایا تھا (کھانے کے بعد بھی) لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے ‘ اس پر اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی تو لوگ اٹھ گئے اور پردہ چھوڑ دیا گیا۔
حضرت انس کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت زینب کے ولیمہ میں رسول اللہ نے گوشت روٹی تیار کرائی اور مجھ یلوگوں کو کھانے کی دعوت دینے کیلئے بھیج دیا گیا۔ لوگ آنے لگے اور کھانے لگے اور نکل کر جانے لگے ‘ پھر دوسرے لوگ آنے ‘ کھانے اور جانے لگے۔ میں لوگوں کو بلاتا رہا ‘ جب کوئی آدمی ایسا نہ رہا کہ میں اس کو بلاتا تو میں نے عرض کردیا : یا نبی اللہ ﷺ اب تو کوئی آدمی مجھے نہیں ملتا کہ میں اس کو بلاؤں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کھانا اٹھا لو۔ تین آدمی وہاں گھر کے اندر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ رسول اللہ حجرہ سے نکل کر حضرت عائشہ کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے اور (حضرت عائشہ کے حجرہ میں جا کر) فرمایا : السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ (اے اہل خانہ تم پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو) حضرت عائشہ نے جواب دیا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ ! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ اللہ پاک آپ کو مبارک کرے (اس طرح) حضور ﷺ سب بیویوں کے حجروں کی طرف تشریف لے گئے اور وہی بات فرماتے رہے جو حضرت عائشہ سے فرمائی تھی اور بیویوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ نے دیا تھا۔ کچھ دیر کے بعد واپس آئے تو دیکھا کہ تینوں آدمی باتیں کر رہے ہیں۔ رسول اللہ بڑے شرمیلے تھے (آدمیوں کو کچھ نہیں فرمایا اور) مڑ کر گھر سے نکل کر حضرت عائشہ کے حجرہ کی طرف چل دئیے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اطلاع ‘ یا حضور ﷺ کو (کسی اور سے) اطلاع ملی کہ لوگ چلے گئے تو آپ فوراً لوٹ پڑے اور گھر کے اندر داخل ہونے کیلئے ایک قدم چوکھٹ کے اندر رکھا تھا اور دوسرا قدم باہر ہی تھا کہ میرے اور اپنے درمیان پردہ چھوڑ دیا اور آیت حجاب نازل ہوئی۔
بخاری کی ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : رسول اللہ نے جب حضرت زینب سے خلوت کی تو ولیمہ کیا اور لوگوں کو پیٹ بھر کر گوشت روٹی کھلائی ‘ پھر نکل کر حسب معمولی امہات المؤمنین کے حجروں کی طرف تشریف لے گئے ‘ سب کو سلام کرتے ‘ دعا دیتے چلے گئے اور امہات المؤمنین بھی آپ کو دعا دیتی اور سلام کا جواب دیتی رہیں۔ دیر کے بعد جب اپنے گھر کو لوٹے تو دو آدمیوں کو آپس میں باتیں کرتے پایا ‘ یہ منظر ملاحظہ فرما کر پھرگئے۔ ان دونوں نے جب رسول اللہ کو (جاتا) دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ واپس آکر گھر کے اندر داخل ہوگئے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ چھوڑ دیا۔
ترمذی نے لکھا ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : میں رسول اللہ کے ساتھ تھا ‘ آپ اس عورت کے دروازہ پر پہنچے جس سے شادی کی تھی۔ وہاں اس کے پاس کچھ لوگ موجود تھے ‘ آپ وہاں سے چل دئیے۔ وہ لوگ چلے گئے تو آپ لوٹ آئے اور اندر چلے گئے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ چھوڑ دیا۔ میں نے یہ واقعہ ابو طلحہ سے بیان کیا تو ابوطلحہ نے کہا : جیسا تو کہہ رہا ہے اگر واقعہ یہی ہے تو اس کے متعلق کچھ ضرور نازل ہوگا۔ چناچہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔ اس روایت کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔
طبرانی نے صحیح سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں رسول اللہ کے ساتھ قاب میں کھا رہی تھی کہ اتنے میں ادھر سے عمر گذرے۔ رسول اللہ نے ان کو بلا لیا ‘ وہ بھی آکر کھانے لگے۔ (اتفاقاً ) ان کی انگلی میری انگلی سے لگ گئی ‘ فوراً ان کے منہ سے نکلا : اوہ ! اگر عورتوں کے بارے میں میرا کہا مان لیا جاتا تو کوئی آنکھ تم کو نہیں دیکھ پاتی۔ اس کے بعد آیت حجات نازل ہوگئی۔ نسائی نے اور ادب المفرد میں بخاری نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس اندر آیا اور بہت دیر تک بیٹھا رہا۔ رسول اللہ تین بار اٹھ کر باہر چلے گئے تاکہ وہ شخص بھی چلا جائے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اتنے میں حضرت عمر اندر آگئے اور چہرۂ مبارک پر ناگواری دیکھ کر اس شخص سے کہا : تم نے رسول اللہ کو دکھ دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں تین مرتبہ اٹھا تاکہ یہ بھی میرے پیچھے اٹھ کھڑا ہو لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر آپ (عورتوں کیلئے) پردہ اختیار کرلیتے تو مناسب تھا کیونکہ آپ کی بیبیاں دوسری عورتوں کی طرح تو ہیں نہیں ‘ یہ عمل ان لوگوں کے دلوں کو بھی پاک رکھنے والا ہے۔ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں بخاری کی یہ روایت ذکر کردی گئی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : تین باتوں میں میری (رائے کی) مطابقت اپنے رب کے (حکم کے) ساتھ ہوگئی : میں نے عرض کیا کہ کاش آپ مقام ابراہیم کو مقام نماز بنا لیتے ‘ اس پر آیت واتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی نازل ہوئی۔ میں نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کی عورتوں کے پاس نیک و بد ہر طرح کے آدمی آتے ہیں ‘ کاش آپ اپنی عورتوں کو پردہ میں رہنے کا حکم دیتے ‘ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔ رسول اللہ کے پاس رقابت کی وجہ سے آپ کی عورتیں جمع تھیں ‘ میں نے عرض کیا : عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُبْدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ یہ عبارت اسی طرح نازل ہوگئی۔ نسائی نے حضرت انس کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی یونہی یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ 1 قضاء حاجت کیلئے جب رسول اللہ کی بیویاں باہر نکلتی تھیں تو رات کو باہر نکل کر وسیع میدان میں جاتی تھیں۔ حضرت عمر رسول اللہ سے عرض کرتے تھے کہ امہات المؤمنین کا پردہ کرا دیجئے لیکن حضور ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے۔ ایک رات کو عشاء کے وقت حضرت سودہ بنت زمعہ گھر سے برآمد ہوئیں ‘ عورت قدآور تھیں (اس لئے پہچان لی جاتی تھیں) حضرت عمر کو چونکہ پردے کا حکم نازل ہونے کی انتہائی خواہش تھی اس لئے آپ نے پکارا کر کہا : ہم نے آپ کو پہچان لیا ‘ اس پر اللہ نے آیت حجاب نازل فرما دی۔ بغوی نے لکھا : آیت حجاب کے سبب نزول کا یہ صحیح واقعہ ہے۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ مختلف روایات میں اس طرح مطابقت دی جاسکتی ہے کہ حضرت زینب کے قصہ سے کچھ ہی پہلے حضرت عمر کا یہ واقعہ ہوا ہوگا اس لئے اس واقعہ کو نزول آیت کا سبب بتادیا گیا۔ ایک آیت کے اسباب نزول متعدد ہوسکتے ہیں۔
اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ یعنی کھانے کیلئے اگر تم کو اجازت داخلہ مل جائے تو نبی کے گھر میں داخل ہوسکتے ہو۔ یُؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ سے اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ خواہ اجازت دے دی گئی ہو لیکن بغیر بلائے کھانے پر نہ جانا چاہئے۔ یہی اشارہ مستفاد ہو رہا ہے آئندہ غَیْرَ نَاظِرِیْنَ اَنٰں ہُ کے فقرہ سے یعنی کھانا تیار ہونے کا انتظار نہ کرتے رہو۔
اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ کے استثناء کا تعلق صرف ان لوگوں سے ہے جو کھانا کھانے کیلئے داخل ہونا چاہتے ہوں۔
اِنٰی مصدر ہے۔ اَنَی الطُّعَام کھانا پک گیا ‘ تیار ہوگیا۔ اَنَی الْحَِیْمُ پانی خوب گرم ہوگیا ‘ کھولنے لگا۔ اَنٰی اَنْ یَّفْعَلَ کَذَا اس کام کو کرنے کا وقت آگیا۔ بغوی نے لکھا ہے : اِنٰیبکسر ہمزۂ مقصود آتا ہے اور اَنَاءٌ بفتح ہمزۂ ممدودہ آتا ہے۔ باب ضَرَبَ سے اَنٰی یَاْنِیْ اور اٰنَ یَءِیْنُ جیسے باع یَبِیْعُ دونوں طرح مستعمل ہے۔ قاموس میں ہے : اَنَی الشَّیْءَ یَاْنِیْ (از ضرب) اَیْنًا وَاِنًا جیسے غِنًی وقت آگیا وہ چیز تیار ہوگئی۔ اَنَی الْحَمِیْمُ انتہائی گرم ہوگیا ‘ کھولنے لگا ‘ آنِیْ کھولنے والا ‘ بَلَغَ ھٰذَا اَنَاہ اور اِنَاہُ یہ چیز اپنی انتہا کو پہنچ گئی یا پختگی کو پہنچ گئی یا تیار ہوگئی۔
ولکن اذا دعیتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا . لیکن جب تم کو (کھانے کیلئے) بلایاجائے تو اندر چلے
جاؤ ‘ پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ۔ یعنی رسول اللہ کے گھر سے باہر چلے جاؤ ‘ کھانے کے بعد وہاں نہ ٹھہرو۔
ولا مستانسین لحدیث . اور (کھانے کے بعد) باتوں میں دل بہلانے کیلئے مت بیٹھے رہا کرو۔ اس جملہ میں
کھانے کے بعد بھی دیر تک باتیں کرنے کیلئے تفریحاً بیٹھے رہنے کی ممانعت فرما دی۔
ان ذلکم کان یؤذی النبی فیستحی منکم وا اللہ لا یستحی من الحق . تمہارا یہ فعل (یعنی دیر
تک ٹھہرے رہنا) نبی کو تکلیف دیتا ہے (کیونکہ ان کے اور ان کے گھر والوں کیلئے گھر تنگ ہوجاتا ہے اور ان کو بےکار باتوں میں مشغول رہنا پڑتا ہے) اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں اور اللہ حق کی بات (کو ظاہر کرنے) سے نہیں جھجکتا۔
یعنی تم کو ادب سکھانا حق ہے اور حق بات سے اللہ نہیں جھجکتا اس لئے تم کو ادب سکھانا ترک نہیں کرتا۔ بیضاوی نے یہ مطلب لکھا ہے کہ نبی کے گھر سے تمہارا نکالنا حق ہے اور حق بات کو اللہ ترک نہیں کرتا اس لئے تم کو نکلنے کا حکم دے رہا ہے۔
واذا سالتموھن متاعًا فسئلوھن من ورآء حجاب اور جب نبی کی بیبیوں سے تم کچھ سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔
مَتَاعًا یعنی کوئی کام کی چیز بطور عاریت یا بطور بخشش مانگو یا مانگی ہوئی چیز دینے جاؤ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ آیت حجاب کے نزول کے بعد کسی کو اجازت نہیں تھی کہ رسول اللہ کی کسی بی بی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے خواہ وہ نقاب پوش ہوں یا بغیر نقاب کے۔
ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن . تمہارا یہ عمل (پردے کے پیچھے سے مانگنا شیطانی وسوسوں سے) تمہارے دلوں
کو بھی پاک رکھنے والا ہے اور ان کے دلوں کو بھی۔
ابن ابی حاتم نے ابن زید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ کو اطلاع ملی کہ کسی شخص نے کہا ہے کہ اگر رسول اللہ کی وفات ہوگئی تو (آپ کے بعد) فلاں (بی بی) سے میں نکاح کرلوں گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
ومان کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدًا ان ذلکم کان
عند اللہ عظیمًا اور تمہارے لئے اللہ کے رسول کو دکھ پہنچانا جائز نہیں اور نہ ان کی بیبیوں سے ان کے بعد کبھی نکاح کرنا تمہارے لئے جائز ہے (یعنی نہ رسول اللہ کی وفات کے بعد ‘ نہ طلاق دینے کے بعد) تمہارا یہ فعل اللہ کے نزدیک بڑا (جرم) ہے۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول اس شخص کے متعلق ہوا جس نے کہا تھا کہ رسول اللہ کے بعد میں آپ کی کسی بیوی سے نکاح کرلوں گا۔ سفیان نے کہا : ایسی بات حضرت عائشہ کے متعلق کہی گئی تھی۔ سدی کا بیان ہے : ہم کو اطلاع ملی تھی کہ طلحہ بن عبیدا اللہ نے کہا تھا : کیا محمد ہماری چچا کی بیٹیوں سے تو ہمارا پردہ کرا رہے ہیں اور ہمارے بعد ہماری بیویوں سے خود نکاح کرلیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوگئی تو ہم ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن سعد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ آیت طلحہ بن عبیدا اللہ کے بارے میں اتری۔ طلحہ نے کہا تھا کہ جب رسول اللہ کی وفات ہوجائے گی تو عائشہ سے میں نکاح کرلوں گا۔ جو ییر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ کی ایک بیوی کے پاس گیا اور ان سے باتیں کرنے لگا ‘ یہ شخص ان کی بی بی کے چچا کا بیٹا تھا۔ رسول اللہ نے فرمایا : آج کے بعد اس جگہ نہ کھڑا ہونا۔ اس شخص نے کہا : وہ میرے چچا کی بیٹی ہے ‘ خدا کی قسم ! نہ میں نے اس سے کئی بری بات کہی ہے ‘ نہ اس نے مجھ سے کوئی بری بات کہی۔ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں اور مجھ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں۔ وہ شخص چلا گیا اور جانے کے بعد کہا : میری چچا کی بیٹی سے بات کرنے سے روکتے ہیں ‘ ان کے بعد میں اس سے ضرور نکاح کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : پھر اس شخص نے اپنی زبان سے نکلے ہوئے ان الفاظ کی توبہ میں ایک بردہ آزاد کیا ‘ دس اونٹ راہ خدا میں سوار ہونے کیلئے دئیے اور پیدل حج کیا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ معمر نے زہری کی روایت سے بیان کیا کہ عالیہ بنت ظبیان نے ایک شض سے نکاح کرلیا تھا اور اس کے پیٹ سے اس شخص کی اولاد بھی ہوئی تھی۔ عالیہ وہی عورت تھی جس کو رسول اللہ نے طلاق دے دی تھی اور یہ واقعہ پہلے کا ہے جب کہ رسول اللہ کی بیبیوں سے نکاح کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔
بیضاوی نے لکھا ہے : حرمت نکاح ازواج سے وہ عورت مستثنیٰ ہے جس کو بغیر قربت کئے رسول اللہ نے طلاق دے دی۔
یہ بھی روایت میں ہے کہ حضرت عمر کے زمانۂ (خلافت) میں اشعث بن قیس نے مستعیذہ (جونیۂ کلبیہ) سے نکاح کرلیا۔ حضرت عمر نے اس کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کو بتایا گیا کہ مستعیذہ کو رسول اللہ نے بغیر صحبت کے چھوڑ دیا تھا۔ حضرت عمر نے یہ بات سن کر اشعث کو چھوڑ دیا اور حضرت عمر کے اس فیصلہ کے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا (مستعیذہ ‘ پناہ طلب کرنے والی۔ اس کا نام جونیۂ کلبیہ تھا ‘ رسول اللہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہا : میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ حضور ﷺ نے یہ سنتے ہی اس کو چھوڑ دیا) ۔
عَظِیْمًا یعنی بڑا جرم ہے۔ میں کہتا ہوں تحریم ازواج کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ اپنی قبر میں زندہ ہیں اسی لئے آپ کے مال کا کوئی وارث نہیں قرار پایا اور نہ آپ کی بیبیاں بیوہ ہوئیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھے گا تو میں اس کو سن لوں گا اور جو شخص دور سے مجھ پر درود پڑھے گا تو مجھے وہ درود پہنچا دیا جائے گا۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
Ayah 33:54ان تبدوا شیئا او تخفوہ فان اللہ کان بکل شیء علیما . اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا پوشیدہ رکھو گے ‘ اللہ (تو بہرحال) ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
یعنی رسول اللہ کو ایذاء یا ان کی بیبیوں سے نکاح کا ارادہ ظاہر کرو گے یا دلوں میں چھپائے رکھو گے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول اس شخص کے حق میں ہوا جس نے رسول اللہ کے بعد حضرت عائشہ سے نکاح کرنے کا ارادہ دل میں پوشیدہ رکھا تھا۔ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے یعنی تم کو اس (ظاہر اور پوشیدہ) گناہ کی سزا دے گا۔
اس تمہیم میں اور امہات المؤمنین سے صراحۃً نکاح کی ممانعت کے بعد برہان بیان کرنے میں مزید زور وعید عذاب اور تخیف سزا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے حضور ﷺ کی کیس بیوی سے نکاح کرنے کا لفظ زبان سے نکالا تھا ‘ اس نے اس بات سے توبہ کی اور گناہ کے کفارے میں ایک بردہ اذاد کیا اور جہاد میں سواری کے کام آنے کیلئے دس اونٹ دئیے اور پیدل حج کیا جیسا کہ حضرت ابن عباس کے مذکورہ بالا بیان میں آیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تو امہات المؤمنین کے باپوں ‘ بھائیوں اور دوسرے قریب ترین رشتہ داروں نے کہا کہ آئندہ ہم بھی رسول اللہ کی بیبیوں سے کلام کریں گے تو پردے کی آڑ سے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 33:55لا جناح علیھن فی ابآءھن ولا ابنآءھن ولا اخوانھن ولا انبآء اخوانھن ولا ابناآء اخواتھن
ولا نسآءھن ولا ما ملکت ایمانھن واتقین اللہ ان اللہ کان علی کل شیء شھیدًا . نبی کی بیبیوں پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں سے (بےپرواہ باتیں کرنے میں) نہ اپنے بیٹوں سے ‘ نہ اپنے بھائیوں سے ‘ نہ اپنے بھتیجوں سے ‘ نہ اپنے بھانجوں سے ‘ نہ اپنی عورتوں سے ‘ نہ اپنے مملوک لوگوں سے ‘ اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر حاضر (ناظر) ہے۔
چچا اور ماموں کا ذکر آیت میں نہیں کیا کیونکہ بھتیجوں اور بھانجوں کا ذکر کرنے کے بعد دلالت النص سے چچا اور ماموں کا حکم معلوم ہوجاتا ہے کیونکہ بھتیجوں کے رشتہ سے امہات المؤمنین پھوپھیاں ہوں گی اور بھانجوں کے رشتہ سے خالائیں اور چچا پھوپھی کا ایک ہی رشتہ ہے ‘ اسی طرح ماموں اور خالہ بھی ہم رشتہ ہیں (باپ کا بھائی چچا اور بہن پھوپھی ہوتی ہے اور ماں کا بھائی ماموں اور بہن خالہ ہوتی ہے) ۔
بخاری نے حضرت عروہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : آیت حجاب نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے کہا : جب تک رسول اللہ سے اجازت نہیں لوں گی ‘ خود اجازت نہیں دے سکتی۔ ابوالقعیس کے بھائی نے دودھ نہیں پلایا تھا ‘ ابوالقعیس کی بیوی نے پلایا تھا۔ جب رسول اللہ اندر تشریف لائے تو میں نے کہا : ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس اندر آنے کی اجازت طلب کی تھی مگر آپ کی اجازت کے بغیر میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ فرمایا : تو اپنے چچا کو اجازت دے دو ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اس مرد نے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابوالقعیس کی بیوی نے پلایا تھا۔ فرمایا : تیرا ہاتھ خاک آلود ہو ‘ تیرا چچا ہے ‘ اس کو اجازت دے دے۔ حضرت عروہ نے کہا کہ اسی لئے حضرت عائشہ فرماتی تھیں : جن نسبی رشتوں کو تم محرم قرار دیتے ہو ‘ انہی رضاعی رشتوں کو بھی محرم قرار نہ دو ۔
وَلاَ نِسَآءِھِنَّ اپنی عورتوں سے مراد ہیں آزاد مسلمان عورتیں (غیر ہوں یا اپنی رشتہ دار) ۔
وَلاَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اس میں باندی غلام دونوں آگئے۔ بعض نے کہا : صرف باندیاں مراد ہیں۔ سورة نور میں ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں۔
وَاتَّقِیْنَ اللہ یعنی بےپردہ غیروں کے سامنے نکلنے سے اور جو احکام تم کو دئیے گئے ہیں ‘ ان کی خلاف ورزی سے اللہ کا خوف کرو۔
عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدًا یعنی بندہ کے ہر فعل پر اللہ حاضر ہے ‘ اس کو اس کے فعل کا (اچھا برا) بدلہ دے گا۔
Ayah 33:56اِنَّ اللہ وَمَلٰٓءِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلی النَّبِیِّ . اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے آپ کیلئے دعاءِ (رحمت) کرتے ہیں۔ دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : یصلون یعنی برکت دیتے ہیں۔ بعض نے کہا : اللہ کی طرف سے صلوٰۃ کا معنی ہے رحمت اور صلوٰۃ ملائکہ سے مراد ہے استغفار۔ لفظ صلوٰۃ کی مکمل تنقیح آیت ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓءِکَتُہٗ کی تفسیر کے ذیل میں کردی گئی ہے۔
یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما . اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر درود پڑھو اور خوب
سلام بھیجو۔
یعنی تم بھی رسول اللہ کیلئے دعا کرو اور آپ کیلئے اللہ سے رحمت نازل کرنے کی درخواست کرو اور ان کو سلام کا تحفہ دو اور کہو السَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ ۔
آیت دلالت کر رہی ہے کہ صلوٰۃ وسلام بھیجنا مسلمانوں پر واجب ہے ‘ خواہ عمر میں ایک ہی بار ہو۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا یہی قول ہے ‘ طحاوی نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ابن ہمام نے کہا : امر کا مقتضٰی ‘ قطعی عمر بھر میں ایک بار (تعمیل) ہے کیونکہ امر تکرار کو نہیں چاہتا اور ہم اسی کے قائل ہیں۔
بعض کا قول ہے کہ ہر نماز کے آخر قعدہ میں تشہد کے بعد درود پڑھنا واجب ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کا یہی قول ہے۔
رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ میں ہے کہ آخری تشہد میں درود پڑھنا ‘ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک سنت ہے اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے اور مشہور ترین روایت میں امام احمد کا قول آیا ہے کہ درود کو ترک کرنے سے نماز نہیں ہوتی۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ تشہد کے بعد قعدۂ اخیرہ میں درود پڑھنا امام احمد کے نزدیک فرض ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ امام احمد کے نزدیک سنت ہے۔
بعض علماء کا یہ بھی خیال ہے کہ جب بھی رسول اللہ کا ذکر آئے ‘ درود پڑھنا واجب ہے۔
کرخی نے لکھا ہے جو علمائ نماز میں درود پڑھنے کو واجب کہتے ہیں ‘ وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو حضرت سہل بن سعد کی روایت سے بطریق دارقطنی ‘ ابن جوزی نے نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے نبی پر درود نہیں پڑھا ‘ اس کی نماز نہیں۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن ہے اور دارقطنی نے کہا کہ عبدالمہیمن بن عباس بن سہل بن سعد قوی نہیں ہے۔ ابن حبان نے کہا : اس کی حدیث سے استدلال نہ کیا جائے۔
ابن جوزی کی روایت مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ ہے : جس کا وضوء نہیں اس کی نماز نہیں ‘ جس نے اللہ کا نام (وضوء شروع کرنے کے وقت) نہیں لیا اس کا وضوء نہیں ‘ جس نے رسول اللہ پر درود نہیں پڑھا اس کی نماز نہیں ‘ جو انصار سے محبت نہیں رکھتا اس کی نماز نہیں۔ اس حدیث کی روایت میں عبدالمہیمن راوی کمزور ‘ ناقابل حجیت ہے۔ طبرانی نے بروایت ابی بن عباس بن سہل بن سعد عن ابیہ (عباس) عن جدہ (سہل بن سعد) اسی کی طرح حدیث کو مرفوعاً روایت کیا ہے۔
علماء نے کہا کہ عبدالمہیمن کی حدیث صحت کے زیادہ قریب ہے ‘ اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ علماء کی ایک جماعت نے ابی بن عباس کے بارے میں کلام کیا ہے۔
ایک حدیث حضرت ابو مسعود انصاری کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے نماز پڑھی لیکن نہ مجھ پر درود پڑھا ‘ نہ میرے اہل بیت پر تو اس کی نماز مقبول نہیں ‘ راہ ابن الجوزی من طریق الدارقطنی۔ ابن جوزی نے کہا : اس حدیث کی سند میں جابر جعفی کمزور راوی ہے ‘ پھر جابر نے اس حدیث (کی روایت) میں خود اختلاف کیا ہے کہ کبھی حضرت ابن مسعود پر پہنچ کر حدیث کی روایت کو ٹھہرا دیا یعنی موقوفاً بیان کیا ہے ‘ کبھی رسول اللہ کا قول بتایا ہے یعنی مرفوعاً بیان کیا ہے۔
ابن ہمام نے اس کو حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ابن جوزی نے کہا : اس کی روایت میں جابر ضعیف ہے اور روایت میں اختلاف ہے کہ کبھی موقوفاً بیان کیا ‘ کبھی مرفوعاً ۔
حاکم اور بیہقی نے بروایت یحییٰ بن سباق قبیلۂ بنی حارث کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو کہے اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّارْحَمْ مُحَمَّدًا وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ کِمَا صَلَّیْتَ وَبَارَکْتَ وَتَرَّحَمْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ حافظ ابن حجر نے کہا : اس حدیث کے راوی سوائے حارثی شخص کے ثقہ ہیں ‘ حارثی قابل نظر ہے۔
ابن ہمام نے لکھا ہے : حدیث لاَ صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یُصَلِّ عَلَیَّ کو تمام اہل حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے اور اگر اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس سے مرد کامل نماز کی نفی ہے (یعنی جس نے مجھ پر نماز کے اندر درود نہیں پڑھا اس کی نماز کامل نہیں ہوئی) یا یہ مطلب ہے کہ جس نے عمر میں ایک بار بھی درود نہیں پڑھا اس کی نماز نہیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا : اس حدیث سے زیادہ قوی حضرت فضالہ بن عبید کی حدیث ہے ‘ فضالہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے سنا مگر اس نے رسول اللہ پر درود نہیں پڑھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس نے (دعا مانگنے میں) عجلت کی۔ پھر اس کو بلایا اور اس کو نیز دوسرے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا : تم میں سے جو شخص نماز پڑھے تو پہلے اللہ کی حمد و ثنا کرے ‘ پھر مجھ پر درود بھیجے ‘ پھر جو کچھ چاہے دعا کرے ‘ روای ابو داؤد والنسائی والترمذی وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم۔
ترمذی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ فضالہ نے کہا : رسول اللہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی ‘ پھر کہا : اے اللہ ! تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اے نماز پڑھنے والے ! تو نے عجلت کی ‘ جب تو نما زپڑھے اور بیٹھ جائے تو (اول) ان صفات کے ساتھ اللہ کی حمد کر جن کا وہ مستحق ہے ‘ پھر مجھ پر درود پڑھ ‘ پھر اللہ سے دعا کر۔
راوی کا بیان ہے : پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی اور اللہ کی حمد کی اور رسول اللہ پر درود بھیجا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اے نماز پڑھنے والے ! اب تو دعا کر ‘ تیری دعا قبول ہوگی۔ رواہ الترمذی ‘ ابو داؤد اور نسائی نے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ میں کہتا ہوں : نماز میں تشہد کے بعد رسول اللہ پر درود پڑھنے کے وجوب پر اس طرح بھی دلیل قائم کی جاسکتی ہے کہ آیت مذکورہ میں جس درود کا حکم دیا گیا ہے ‘ اس سے مراد نماز کے اندر درود پڑھنا ہے۔ جیسے آیت وَرَبَّکَ فَکَبِّرُمیں تکیبر سے مراد تکبیر تحریمہ اور آیت قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ میں قیام سے مراد نماز میں کھڑا ہونا اور آیت واسْجُدُوْا وَارْکَعُوْا میں سجدہ اور رکوع سے مراد نماز میں سجود و رکوع اور آیت فاقْرَءُ وَامَا تَیَّسَرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ میں قرأت قرآن سے مراد نماز کے اندر قرآن پڑھنا ہے۔ کعب بن عجرۃ کی حدیث جس کو بخاری نے نقل کیا ہے ‘ اسی پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور : سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہم معلوم ہے ‘ مگر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے ؟ فرمایا : کہو اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ الخ یعنی تشہد میں سلام کا طریقہ تو ہم کو معلوم ہوچکا ہے ‘ تشہد میں السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پڑھا ہی جاتا ہے مگر درود اس وقت کس طرح پڑھیں ؟ اس سوال کے جواب میں (نماز کے اندر) درود پڑھنے کا طریقہ حضور ﷺ نے بتادیا کہ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ الخ پڑھا کرو۔ امت اسلامیہ نے بالاتفاق اس حدیث کو تسلیم کیا ہے اور بلا اختلاف تشہد کے بعد درود پڑھنے کی صراحت کی ہے ‘ البتہ واجب اور سنت ہونے میں اختلاف ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس درود کا حکم آیت مذکورہ میں دیا گیا ہے ‘ اس سے مراد تشہد کے بعد نماز کے اندر درود پڑھنا ہے (اور امر کا تقاضا وجوب ہے ‘ اس لئے نماز میں تشہد کے بعد درود پڑھنا واجب قرار پایا ‘ مترجم) ۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ کا نام آئے درود پڑھنا واجب ہے ‘ انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ کی رویت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے سامنے میرا تذکرہ آیا ہو اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا ہو اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو کہ اس پر رمضان آکر گذر بھی جائے اور اس کی مغفرت نہ ہو اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو کہ اس کے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک اس کی زندگی میں بوڑھے ہوجائیں اور اس شخص کی جنت میں داخلہ کا ذریعہ نہیں بنیں (یعنی بیٹا بوڑھے ماں باپ کی خدمت نہ کرے اس لئے وہ ناراض رہیں اور یہ شخص جنت سے محروم ہوجائے) رواہ الترمذی وابن حبان فی صحیحہ۔
حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے اور دوزخ میں چلا جائے ‘ اللہ اس کو دور رکھے۔
حضرت ابن عباس کی مرفوع حدیث ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میرے پاس جبرئیل آئے (اور انہوں نے کہا) جس شخص کے سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے اور (اس وجہ سے) دوزخ میں داخل ہوجائے ‘ پس اللہ اس کو دور رکھے۔ یہ دونوں حدیثیں طبرانی نے نقل کی ہیں۔
ابن سنی نے حضرت جابر کی مرفوع حدیث ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود نہیں پڑھا ‘ وہ بدنصیب ہوگیا۔
حضرت علی راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ‘ وہ بخیل ہے ‘ رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے۔ امام احمد نے یہ حدیث حضرت امام حسین کی روایت سے بیان کی ہے۔
طبرانی نے اچھی سند کے ساتھ حضرت امام حسین کی مرفوع روایت اس طرح بیان کی ہے : جس کے سامنے میرا تذکرہ آیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا چھوٹ گیا اس سے ‘ جنت کا راستہ چھوٹ گیا۔ نسائی نے صحیح سند سے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے : جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اس کو چاہئے کہ مجھ پر درود پڑھے کیونکہ جو شخص مجھ پر (ایک بار) درود پڑھے گا ‘ اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا (یا دس بار رحمت نازل فرمائے گا) ۔
فصل : رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام کی فضیلت و کیفیت
عبدالرحمن بی ابی لیلیٰ کا بیان ہے : میری ملاقات حضرت کعب بن عجرۃ سے ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا (حدیث کا) ایک تحفہ میں تم کو پیش کروں جو رسول اللہ ن سے میں نے خود سنی ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ‘ ضرور وہ تحفہ مجھے عنایت فرمائیے۔ کعب نے کہا : ہم نے رسول اللہ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو سلام کرنا تو اللہ نے ہمیں بتادیا لیکن آپ (اور آپ کے اہل بیت) پر ہم درود کس طرح پڑھیں ؟ فرمایا : کہو :
اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰل اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللَّھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلآی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰل اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ (متفق علیہ) مسلم کی روایت میں دونوں جگہ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ کا لفظ نہیں ہے (صرف عَلٰٓی اٰل اِبْرَاھِیْمَ ہے) حضرت ابوحمید ساعدی راوی ہیں کہ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں تو فرمایا : کہو اللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلآی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰل اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ متفق علیہ
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو ایک بار مجھ پر درود پڑھے گا ‘ اللہ دس بار رحمت اس پر نازل فرمائے گا۔ رواہ مسلم۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا ‘ اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور دس خطائیں ساقط کرے گا اور دس درجے بلند کرے گا۔ رواہ البخاری واحمد فی الادب والنسائی والحاکم۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔
حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھتا ہوگا۔ رواہ الترمذی۔
حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کے کچھ فرشتے زمین پر گھومتے پھرتے ہیں ‘ وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔ رواہ النسائی وا لدارمی۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں : جو کوئی (جب بھی) مجھ پر سلام پڑھے گا ‘ اللہ میری روح مجھے لوٹا دے گا کہ میں سلام کا جواب دوں گا۔ رواہ ابوداؤد والبیہقی فی الدعوات الکبیر۔
حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے : اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ (کہ وہاں نماز نہ پڑھو ‘ مترجم) اور نہ میری قبر کو میلہ بنانا ‘ اور مجھ پر درود پڑھنا ‘ تمہارا درود مجھے پہنچے گا ‘ تم جہاں بھی ہو۔
حضرت ابو طلحہ راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ تشریف لائے ‘ اس وقت حضور ﷺ کے چہرہ پر شگفتگی تھی۔ فرمایا : مجھ سے جبرئیل نے آکر کہا کہ آپ کا رب فرماتا ہے : محمد ! کیا تم اس بات پر خوش نہ ہو گے کہ تمہاری امت میں سے جو کوئی تم پر درود پڑھے گا ‘ میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور تمہاری امت میں سے جو کوئی آپ پر سلام پڑھے گا ‘ میں دس بار اس پر سلامتی نازل کروں گا۔ رواہ النسائی والدارمی۔
حضرت ابی بن کعب کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں آپ پر درود بہت پڑھتا ہوں ‘ کتنی بار پڑھا کروں ؟ فرمایا : جتنا (بھی) چاہو ‘ اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ میں نے عرض کیا : (کل ذکر کا) آدھا حصہ (درود کو بنا لوں) فرمایا : تم جتنا چاہو (کر لو لیکن) اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ میں نے عرض کیا : کیا دو تہائی ؟ فرمایا : جتنا چاہو مگر زیادہ کرلو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ میں نے عرض کیا : کیا میں اپنی ساری دعا آپ کیلئے کر دوں ؟ فرمایا : تو ایسی حالت میں تمہارے سارے فکر دور ہوجائیں گے ‘ کام پورے کر دئیے جائیں گے اور تمہارے گناہ ساقط کر دئیے جائیں گے۔ رواہ الترمذی۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اگر کسی کو یہ بات (پسند اور) مسرور کرنے والی ہو کہ جب وہ ہم گھر والوں کیلئے دعا کرے تو اس کو بھرپور پیمانہ سے (بدلہ) دیا جائے تو اس کو اس طرح کہنا چاہئے : اللّٰھم صلی علی محمد انلنّبی الامی وازواجہ امھات المؤمنین وزریتہٖ واھل بییۃٖ کما صلّیت علٰی ابراھیم انک حمید مّجید (رواہ ابو داؤد) ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو کا قول ہے کہ جو شخص نبی ﷺ پر ایک بار درود پڑھے گا ‘ اللہ اور اس کے فرشتے ستر رحمتیں اس پر نازل کریں گے۔ رواہ احمد۔
حضرت رویفع کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے مجھ پر درود پڑھا اور کہا : اللھم انزلہ المقعد عندک یوم القیٰمۃ وجبت لہ شفاعتی اے اللہ ! قیامت کے دن محمد ﷺ کو اپنا مقام قرب عنایت کر ‘ اس کیلئے میری شفاعت لازم ہوگئی۔ رواہ احمد۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے کہ ایک روز رسول اللہ (گھر سے) برآمد ہوئے اور ایک نخلستان کے اندر پہنچے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے سجدہ کیا اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہوگیا کہ کہیں حضور ﷺ کی وفات نہ ہوگئی ہو۔ میں دیکھنے کیلئے (قریب) گیا ‘ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا : کیا بات ہے ؟ میں نے اپنا اندیشہ بیان کردیا۔ فرمایا : جبرئیل نے (آ کر) مجھ سے کہا تھا : کیا میں آپ کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں کہ اللہ نے آپ کے (اعزاز اور آپ کو خوش کرنے کے) لئے فرمایا ہے کہ جو شخص آپ پر درود پڑھے گا ‘ میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آپ پر سلام پڑھے گا ‘ میں اس کو سلامتی عطا کروں گا۔ رواہ احمد۔
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : دعا آسمان و زمین کے درمیان روک لی جاتی ہے۔ جب تک تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہ پڑھو ‘ دعا کا کوئی حصہ اوپر نہیں چڑھنے پاتا۔ رواہ الترمذی۔
عبدا اللہ بن عامر بن ربیعہ نے اپنے باپ کا بیان نقل کیا کہ انہوں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا : جو شخص مجھ پر جتنا درود پڑھتا ہے فرشتے اتنی ہی اس پر رحمتیں نازل کرتے ہیں۔ اب بندہ کو اختیار ہے کہ درود پڑھے کم یا زیادہ۔ رواہ البغوی۔
حضرت علی راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اس کیلئے ایک قیراط (ثواب) لکھ دیا جاتا ہے اور ایک قیراط کوہ احد کے برابر ہوتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق فی الجامع بسند حسن۔
حضرت ابو درداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح اور شام دس دس مرتبہ درود پڑھے گا ‘ اس کو میری شفاعت مل جائے گی۔ روای الطبرانی فی الکبیر بسند حسن۔ 1
مسئلہ : کیا انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی صلوٰۃ وسلام کا استعمال درست ہے ؟
صحیح یہ ہے کہ تنہا غیر انبیاء کیلئے صحیح نہیں ہے اور تبعاً یعنی انبیاء کے ساتھ ملا کر صحیح ہے جس طرح کہ محمد عز و جل کہنا مکروہ ہے باوجوی کہ آپ معزز و جلیل القدر تھے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرف میں صلوٰۃ وسلام کا استعمال انبیاء کیلئے مخصوص کردیا گیا ہے جیسے عزَّ و جَلَّ کے الفاظ باری تعالیٰ کیلئے خاص کر دئیے گئے ہیں۔
سورۂ توبہ کی آیت وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ کی تفسیر کے ذیل میں اس کی مکمل تنقیح ہوچکی ہے۔
Ayah 33:57ان الذین یؤذون اللہ . بیشک جو لوگ اللہ کو اذیت دیتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ان لوگوں مراد ہیں یہودی ‘ عیسائی اور مشرک۔ یہودی تو کہتے تھے : عُزَیْرُ ابْنَُ اَﷲِ اور یَدُ اللہ مَغْلُوْلَۃٌ اور اِنَّ اللہ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِییَآء اور عیسائی کہتے تھے : الْمَسِیْحُ ابْنُ اللہ اور کہتے تھے : اِنَّ اللہ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ اور مشرک کہتے تھے : ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور بت (معبود ہونے میں) اللہ کے ساجھی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : آدم کے بیٹے نے میری تکذیب کی اور اس کو ایسا کرنا جائز نہ تھا اور آدم کے بیٹے کے مجھے گالی دی اور اس کیلئے یہ جائز نہ تھا۔ میری تکذیب تو یہ ہوئی کہ وہ کہتا ہے کہ جس طرح خدا نے مجھے پہلی بار پیدا کیا ایسا دوبارہ نہیں کرے گا حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے۔ اور میرے لئے گالی یہ ہوئی کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنی اولاد بنائی ہے حالانکہ میں احد ہوں ‘ بےنیاز ہوں ‘ نہ کسی کا والد ہوں ‘ نہ کسی کا مولود یا اولاد ‘ میرا کفو کوئی نہیں۔
حضرت ابن عباس کی رویت اس طرح ہے کہ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ (میرے متعلق) کہتا ہے کہ میری اولاد ہے حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ کسی کو اپنی بیوی بناؤں ‘ یا اولاد۔ رواہ البخاری۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے :
آدم کا بیٹا دہر (زمانہ) کو گالی دے کر مجھے دکھ دیتا ہے حالانکہ میں ہی دہر (کا حکمران) ہوں ‘ میرے ہی ہاتھوں میں حکم دینا ہے ‘ میں ہی رات دن کا الٹ پلٹ کرتا ہوں (متفق علیہ) ۔
بعض نے کہا کہ اذیت پہنچانے سے مراد ہے اللہ کے اسماء وصفات میں کج روی اختیار کرنا (کیونکہ) اللہ کو اذیت پہنچانا اور اللہ کا اذیت پانا ممکن نہیں۔ راحت و تکلیف کا احساس تو جسمانی خواص میں شامل ہے ‘ اللہ ہر تاثر سے پاک ہے ‘ مترجم) ۔
عکرمہ نے کہا : وہ (خدا کو اذیت دینے والے) مصور ہیں (یعنی الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللہ سے مراد مصور ہیں) ۔
ابو زرعہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے کہا : میں نے خود رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا : اللہ فرماتا ہے : اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو میری تخلیق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے ‘ ایک چھوٹی چیونٹی تو بنا لیں ‘ ایک دانہ یا ایک جو تو بنائیں (متفق علیہ) ۔
بخاری نے حضرت ابن عباس کا قول لکھا ہے کہ جو شخص کوئی تصویر بنائے گا اللہ (قیامت کے دن) اس کو عذاب دے گا تاآنکہ وہ اس کے اندر جان ڈالے اور جان تو کبھی نہیں ڈال سکے گا (اس لئے عذاب سے بھی کبھی نہیں چھوٹے گا) ۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اذیت سے مراد ہے گناہوں کا ارتکاب اور اللہ کے احکام کی مخالفت۔ حقیقی معنی مراد نہیں ‘ اللہ تو (ہر دکھ سکھ سے) پاک ہے ‘ کلام کی بناء عرف عام پر ہے (آپس میں لوگ حکم کی خلاف ورزی کو ایذاء دہی سے تعبیر کر یتے ہیں) ۔
ورسولہ اور اس کے رسول کو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لوگوں نے اللہ کے رسول کے چہرہ کو زخمی کردیا ‘ حضور ﷺ کا دانت توڑ دیا ‘ کسی نے ساحر کہا ‘ کسی نے شاعر ‘ کسی نے دیوانہ پاگل (یہ سب اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا دینے کی صورتیں ہیں) یہ تشریح ان لوگوں کی نظر میں صحیح ہوگی جو (ایک وقت میں) ایک لفظ کا دو معنی پر اطلاق جائز قرار دیتے ہیں (ا اللہ کو ایذ کو پہنچانے کا مفہوم کچھ اور ہے اور اللہ کے رسول کو دکھ دینے کا مطلب اور ہے اور لفظ یُؤذون ایک ہی ہے) جمہور کے نزدیک (یُؤذون کا ایک ہی معنی مراد ہے) مطلب یہ ہے کہ ایسے کام کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو ناپسند ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایذاء خدا کا ذکر رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے اظہار کیلئے کیا گیا ہو یُؤْذُوْنَ اللہ کا معنی یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللہ ہی ہو۔ گویا جس نے اللہ کے رسول کو دکھ پہنچایا اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی۔
ابن ابی حاتم نے بطریق عوفی ‘ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے جب حضرت صفیہ بنت حیی کو (بی بی) بنا لیا تو کچھ لوگوں نے آپ کو مطعون کیا ‘ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جویبر نے بوساطت ضحاک حضرت ابن عباس کا یہ بیان نقل کیا کہ عبد اللہ بن ابی اور اسکے ساتھیوں نے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ‘ ان لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگائی تھی۔ رسول اللہ نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا : وہ شخص جو مجھے اذیت پہنچاتا ہے اور مجھے اذیت پہنچانے والوں کو اپنے گھر میں جمع کرتا ہے ‘ اس کی طرف سے میرے سامنے کون عذرخواہی کرسکتا ہے ؟ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے کہ جو (میرے) کسی ولی کی اہانت کرتا ہے ‘ دوسری روایت کا لفظ ہے کہ جو (میرے) ولی سے دشمنی کرتا ہے ‘ وہ جنگ کیلئے میرے مقابلہ پر آتا ہے۔ اور جو کام میں کرنے والا ہوتا ہوں اس میں مجھے (کبھی) اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے کہ وہ مرنا پسند نہیں کرتا اور میں اس کو ناراض کرنا نہیں چاہتا اور مرنا اس کیلئے لازم ہوتا ہے۔ میرے مؤمن بندہ کو میرا قرب (کسی عمل سے) اتنا حاصل نہیں ہوتا جتنا دنیا سے بےرغبت رہنے سے ہوتا ہے اور بندۂ مؤمن میری کوئی عبادت ایسی نہیں کرتا جیسی میرے عائد کئے ہوئے فرض کو ادا کر کے کرتا ہے (یعنی فرض کی ادائیگی سب سے بڑی عبادت ہے ‘ اس کے برابر کوئی عبادت نہیں ‘ مترجم) رواہ البخاری۔
حضرت ابوہریرہ اس بیان نبوی کے راوی ہیں کہ اللہ فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا مگر تو نے میری عیادت نہیں کی۔ بندہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو رب العالمین ہے (ہر بیماری سے پاک ہے) اللہ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی ‘ کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کو جاتا تو مجھے اس کے پاس موجود پاتا ؟ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے مجھے کھانا نہیں دیا ‘ الی الآخر الحدیث۔ رواہ مسلم۔
میں کہتا ہوں کہ جب اولیاء سے دشمنی اللہ سے دشمنی اور جنگ ہے اور اپنے اولیاء کی بیماری کو اللہ نے اپنا مرض قرار دیا ہے ‘ حالانکہ وہ ان تمام حوادث سے پاک اور بالا ہے تو اس کی وجہ اللہ کے ساتھ اولیاء کا وہ وصل ہے جو ہر کیفیت سے پاک ہے۔ جب (عام) اولیاء کی یہ حالت ہے تو ایذاء رسول کو ایذاء خدا کہنا تو بدرجۂ اولیٰ مناسب اور صحیح ہے۔
احادیث مذکورہ ہی کی بناء پر بعض علماء نے آیت مذکورہ (میں اللہ سے پہلے لفظ اولیاء محذوف مانا ہے اور آیت) کی تفسیر میں اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اَوْلِیَآءَ اللہ کہا ہے جیسے آیت واسْءَلِ الْقَرْیَۃَ میں اھل القریۃ مراد ہیں۔ میرے نزدیک یہ تشریح غلط ہے ورنہ رَسُوْلَہٗ کے لفظ سے پہلے بھی لفظ اولیاء محذوف قرار دینا پڑے گا۔ اگر اس کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ رسول ‘ اولیاء میں داخل ہیں (اور تمام اولیاء میں ممتاز ہیں) اس وقت رسولہٗ فرمایا حضور ﷺ کی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے (اس وقت رسولہٗ سے پہلے اولیاء کو محذوف ماننے کی ضرورت نہیں رسولہٗ کا عطف اولیاء اللہ پر ہوجائے گا اور خاص کا عطف عام پر خاص کی اہمیت ظاہر کرنے کیلئے کیا جاتا ہے ‘ مترجم) ۔
تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ آیت والَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ میں لفظ محذوف کی وجہ سے تکرار لازم آئے گی (کیونکہ مؤمنین بھی تو اولیاء ہی ہیں ‘ مترجم) ۔
لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ واعدلھم عذابًا مھینًا . دنیا اور آخرت میں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور اللہ
نے ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
مسئلہ : رسول اللہ کی شخصیت ‘ دین ‘ نسب یا حضور ﷺ کی کسی صفت پر طعن کرنا اور صراحۃً یا کنایۃً یا اشارۃً یا بطور تعریض آپ پر نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے۔ ایسے شخص پر دونوں جہان کی لعنت ‘ دنیوی سزا سے اس کو توبہ بھی نہیں بچا سکتی۔ ابن ہمام نے لکھا ہے : جو شخص رسول اللہ سے دل میں نفرت کرے ‘ وہ مرتد ہوجائے گا۔ برا کہنا تو بدرجۂ اولیٰ مرتد بنا دیتا ہے ‘ اگر اس بعد توبہ بھی کرلے تو قت کی سزا ساقط نہیں ہوسکتی۔ اہل فقہ نے لکھا ہے کہ یہ قول علماء کوفہ (امام ابوحنیفہ ‘ صاحبین وغیرہم) اور امام مالک کا ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابوبکر کا بھی یہی فتویٰ منقول ہے۔
یہ سزا بہرحال دی جائے گی ‘ خواہ وہ اپنے قصور کا اقرار کرلے اور تائب ہو کر آئے یا منکر جرم ہو اور شہادت سے ثبوت ہوجائے ‘ دوسرے موجبات کفر کا اگر انکار کر دے ‘ خواہ شہادت ثبوت موجود ہو تو انکار معتبر ہوگا۔ علماء نے یہاں تک کہا کہ نشہ کی حالت میں بھی اگر رسول اللہ کو برا کہنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہو تب بھی اس کو معاف نہیں کیا جائے گا ‘ ضرور قتل کیا جائے گا۔ ہاں نشہ کی حالت کیلئے یہ شرط ضروری ہے کہ اس نے خد اپنے اختیار سے بغیر جبر واکراہ کے ممنوع طریقہ سے نشہ آور چیز کھائی پی ہو۔ اگر ارتکاب منشی اپنے اختیار سے نہ کیا ہو تو ایسا مدہوش آدمی پاگل کے حکم میں ہے (اس کو سزا نہیں دی جائے گی) ۔
خطابی نے لکھا ہے : میں نہیں جانتا کہ ایسے شخص کے واجب القتل ہونے میں کسی نے اختلاف نہیں کیا ہو۔ ہاں ‘ اگر اللہ کے معاملہ میں کسی کا قتل واجب ہوجائے تو توبہ کرنے سے سزا قتل ساقط ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کوئی مست نشہ میں مدہوش آدمی رسول اللہ کی شان میں گستاخی کرنے کے علاوہ کوئی اور کلمۂ کفر زبان سے نکال دے تو خواہ اس نے باختیار خود بغیر جبر واکراہ کے ممنوع طریقہ سے نشہ کیا ہو پھر بھی اس کو مرتد نہیں قرار دیا جائے گا۔
Ayah 33:58والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنت بغیر ما اکتسبوا . اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو
بے خطا دکھ دیتے ہیں۔ یعنی جو مؤمن مرد و عورت بےقصور ہوں ‘ کسی ایسے جرم کا انہوں نے ارتکاب نہ کیا ہو کہ ان کو دکھ پہنچانا لازم ہو یا ان کو جو لوگ اذیت پہنچاتے ہیں اور ان کو ناکردہ گناہ کے ساتھ متہم کرتے ہیں۔
فقد احتملوا بھتانًا واثمًا مبینًا . وہ بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار اپنے اوپر اٹھاتے ہیں۔
بُہْتَانًا اور اِثْمًا کی تنوین بہتان اور گناہ کی بڑائی کو ظاہر کر رہی ہے۔ مقاتل نے کہا : اس آیت کا نزول حضرت علی کے متعلق ہوا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ حضرت عائشہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
میں کہتا ہوں کہ سبب نزول خواہ خاص ہو مگر الفاظ عام ہیں۔ ہر وہ شخص جو کسی مسلمان مرد یا عورت کو بےوجہ اذیت پہنچائے ‘ آیت کے حکم میں داخل ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے ظلم و ایذاء) سے مسلمان محفوظ رہیں اور مؤمن وہ ہے کہ لوگوں کو اپنے جان و مال کا اس کی طرف سے اندیشہ نہ ہو (رواہ الترمذی والنسائی) ۔
حضرت عائشہ کو گالی دینی (یعنی زنا کی تہمت لگانی) رسول اللہ کو ہی گالی دینی ہے (کیونکہ ام المؤمنین نبی ﷺ کی بی بی تھیں) عرفًا بھی عقلاً بھی اور روایت کے لحاظ سے بھی جویبر نے بوساطت ضحاک حضرت ابن عباس کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھ سے اس شخص کی طرف سے کون عذر خواہی کرے گا جو مجھے ایذاء پہنچاتا ہے اور مجھے ایذاء دینے والوں کو اپنے گھر میں جمع کرتا ہے۔ یعنی عبد اللہ بن ابی جس نے حضرت عائشہ پر زنا کی تہمت لگائی تھی۔ بعض لوگوں کا جو قول ہے کہ یہ آیت حضرت عائشہ کے متعلق نازل ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللہ سے اِثْمًا مُّبِیْنًا تک پوری آیت آپ کے متعلق نازل ہوئی ‘ صرف آخری آیت کا نزول مراد نہیں ہے۔ اسی طرح جس نے حضرت علی کو گالی دی ‘ اس نے رسول اللہ کو دکھ پہنچایا۔ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے : (اے علی ! ) تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین عن البراء بن عازب۔
بلکہ عام صحابہ کو برا کہنا رسول اللہ کو دکھ پہنچانے کا موجب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مغفل راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : اللہ سے ڈرو ‘ اللہ سے ڈرو ‘ میرے صحابہ کے معاملہ میں میرے بعد ان کو (ملامت کا) نشانہ نہ بنانا۔ جو شخض ان سے محبت رکھے گا ‘ وہ میری محبت کے ساتھ ان سے محبت رکھے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا ‘ وہ میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھے گا۔ جس نے ان کو ایذاء دی ‘ اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی ‘ اس نے اللہ کو ناراض کیا اور جس نے اللہ کو ناراض کیا ‘ اس کو عنقریب اللہ عذاب میں گرفتار کرے گا۔ رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث غریب۔
ضحاک اور کلبی کا بیان ہے کہ آیت کا نزول ان زنا کاروں کے حق میں ہوا جو منافق تھے ‘ راتوں کو مدینہ کے راستوں میں گھوما کرتے تھے۔ جب رات کو عورتیں قضائے حاجت کیلئے گھروں سے باہر نکل کر (جنگل کی طرف) جاتی تھیں تو راستہ میں یہ ان کو ستاتے تھے۔ اگر عورتیں خاموش رہتی تھیں تو یہ ان کے پیچھے لگ جاتے تھے اور اگر وہ جھڑ دیتی تھیں تو یہ رک جاتے تھے۔ حقیقت میں ان کا مقصد ہوتا تھا باندیوں کو چھیڑنا لیکن لباس چونکہ باندی اور آزاد عورت کا ایک ہی جیسا ہوتا تھا ‘ کرتہ اور اوڑھنی پہن کر سب ہی نکلتی تھیں اس لئے ان کو شناخت نہیں ہوتی تھی کہ کون باندی ہے اور کون آزاد عورت اس لئے آزاد عورتیں اس زد میں آجاتی تھیں۔ عورتوں نے اس کی شکایت اپنے شوہروں سے کی اور شوہروں نے جا کر رسول اللہ کو اطلاع دے دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ پھر اگلی آیت میں آزاد عورتوں کو باندیوں جیسا لباس پہن کر نکلنے کی ممانعت کردی گئی۔
ابن سعد نے طبقات میں حضرت ابو مالک کی روایت سے لکھا ہے اور اسی جیسی حدیث حسن اور محمد بن کعب قرظی کی روایت سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ کی بیویاں قضائے حاجت کیلئے رات کو نکلتی تھیں تو کچھ منافق ان کو چھیڑتے اور ستاتے تھے۔ بیویوں نے اس کی شکایت رسول اللہ سے کی۔ منافقوں سے جب اس کی بازپرس ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم تو یہ حرکت باندیوں سے کرتے ہیں (یعنی ہم تو ان کو باندیاں سمجھ کر چھیڑتے ہیں) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:59یایھا النبی قل لازواجک وبنتک ونسآء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن . اے نبی !
آپ اپنی بیبیوں سے اور بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں۔
جلابیب ‘ جلباب کی جمع ہے ‘ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت دوپٹے اور کرتے کے اوپر سے لپیٹ لیتی ہے۔
بخاری نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حکم حجاب کے بعد حضرت سودہ قضائے حاجت کیلئے نکلیں ‘ عورت ڈیل ڈول کی تھیں جو ان کو پہچانتا تھا ‘ اس کیلئے (باوجود چہرہ پوشیدہ ہونے کے) مخفی نہیں ہوسکتی تھیں۔ چناچہ عمر بن خطاب نے (ظاہری قد اور جسامت) دیکھتے ہی پہچان لیا اور آواز دے کر کہا : سودہ ! تم کس طرح نکل رہی ہو ؟ اس کو دیکھ لو ‘ ہم سے خدا کی قسم تم چھپ نہیں سکتیں (ہم نے تمہیں پہچان لیا) حضرت سودہ فوراً لوٹ پڑیں۔ رسول اللہ اس وقت میرے گھر میں شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ہڈی ہاتھ میں تھی کہ حضرت سودہ اندر آگئیں اور کہا : یا رسول اللہ ! میں اپنے کسی کام سے باہر نکلی تھی ‘ عمر نے مجھے ایسا ایسا کہا۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ کے ہاتھ میں ہڈی موجود تھی ‘ آپ نے اس کو ہاتھ سے رکھا بھی نہ تھا کہ وحی آنے لگی۔ وحی کے ختم ہونے کے بعد آپ نے فرمایا : تم عورتوں کو اجازت دے دی گئی کہ تم اپنے کام سے باہر نکل سکتی ہو۔
میں کہتا ہوں : مراد یہ تھی کہ چادر اوڑھ کر نکل سکتی ہو۔
حضرت ابن عباس اور حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا : مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے سروں اور چہروں کو چادروں سے ڈھانک کر نکلیں ‘ صرف ایک آنکھ کھلی رہے ‘ تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے (کہ یہ آزاد بیبیاں ہیں ‘ باندیاں نہیں ہیں) مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّ میں مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکائیں۔
ذلک ادنی ان یعرفن فل یؤذین وکان اللہ غفورًا رحیمًا اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی ‘ پھر
ان کو ستایا نہ جائے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔ یعنی پھر ان کو کوئی منافق بدچلن نہ چھیڑ سکے گا۔
وَکَانَ اللہ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا یعنی جو کچھ پہلے ہوچکا اللہ اس کو معاف کرنے والا ہے اور اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ بندوں کے مصالح کا لحاظ رکھتا ہے یہاں تک کہ جزئی جزئی مسائل میں بھی بندوں کی مصلحتوں کی پاسداری کرتا ہے۔
حضرت انس راوی ہیں کہ ایک نقاب پوش باندی حضرت عمر کی طرف سے گذری ‘ آپ نے اس کا پردہ اٹھایا اور فرمایا : کیا کمینی تو آزاد عورتوں جیسی بنتی ہے ؟ پھر اس کا نقاب پھینک دیا۔