Ayah 33:36وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم اور
جب اللہ اور اس کے رسول نے کسی بات کا قطعی حکم دے دیا ہو تو پھر کسی مؤمن مرد اور مؤمن عورت کو اپنے امر کا خود اختیار نہیں رہتا۔
نزول آیت کے بعد حضرت زینب راضی ہوگئیں اور انہوں نے مان لیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے زید کو بازار عکاظ سے خریدنے کے بعد آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا ‘ پھر حضرت زینب کو پیام نکاح بھیجا۔ حضرت زینب نے خیال کیا کہ اپنے ساتھ نکاح کا پیام بھیجا ہے ‘ اس لئے راضی ہوگئیں لیکن بعد کو معلوم ہوا کہ زید کی طرف سے پیام بھیجا ہے تو آپ کو ناگوار ہوا اور انکار کردیا اور زینب کے بھائی عبد اللہ بن جحش نے بھی یہ رشتہ پسند نہیں کیا۔ حضرت زینب اور ان کے بھائی عبد اللہ کی ماں امیمہ بنت عبدالمطلب تھی ‘ امیمہ رسول اللہ کی پھوپھی تھی۔
ابن جریر نے بطریق عکرمہ دعونی حضرت ابن عباس کی یہ روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے زینب بنت جحش کو زید بن حارثہ کیلئے نکاح کا پیام بھیجا تھا۔ زینب نے یہ رشتہ پسند نہیں کیا اور کہا کہ میں زید سے نسب میں بہتر اور اعلیٰ ہوں۔ اس پر آیت وما کان لمؤمن الخ نازل ہوئی۔ مؤمن سے مراد ہیں عبد اللہ بن جحش اور مؤمنہ سے مراد ہیں زینب بنت جحش ‘ یعنی کسی کیلئے جائز نہیں ہے۔
اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھُمْ کہ ان کو اپنے معاملہ کا اختیار (خود اپنے ہاتھ میں رہے کہ جب چاہیں اپنی مرضی کے مطابق کریں بلکہ حکم خدا کی تعمیل ان کیلئے ضروری ہے اور اپنے اختیار کو اللہ اور رسول کی پسندیدگی کے تابع بنانا لازم ہے۔
خِیْرَۃٌ اور خیارٌ دونوں ہم معنی ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مطلق امر (اگر کسی دوسرے معنی کے قرینہ سے خالی ہو تو) وجوب کیلئے آتا ہے۔ ایک بات یہ بھی معلوم ہو رہی ہے کہ عام اور وہ لوگ جن کو دینی شرف حاصل ہے ‘ وہ ہر عالی اور شریف النسب شخص کا کفو ہے (خواہ اس کی ذات اور قوم عرف عام کے لحاظ سے کچھ بھی ہو) ۔
ابن ابی حاتم نے ابن زید کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ام کلثوم کے حق میں نازل ہوئی اور ام کلثوم عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی تھیں اور سب سے پہلی عورت تھیں جنہوں نے راہ خدا میں ہجرت کی تھی۔ انہوں نے اپنی جان رسول اللہ کو ہبہ کردی تھی (یعنی رسول اللہ ﷺ کو اپنے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار دے دیا تھا) لیکن حضور ﷺ نے ان کا نکاح زید بن حارثہ سے کردیا ‘ اس پر وہ اور ان کے بھائی ناراض ہوگئے اور کہا کہ ہماری مراد تو یہ تھی کہ رسول اللہ اپنے ساتھ نکاح کرلیں اور حضور ﷺ نے دوسرے سے نکاح کردیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضللا مبینا . اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے گا ‘ وہ صریح
گمراہی میں پڑے گا۔
ضَلٰلاً مُّبِیْنًا راہ صواب سے کھلا ہوا انحراف۔ امر سے انحراف دو طرح کا ہوتا ہے : نمبر 1 امر کو ماننے سے انکار اور تردید ‘ ایسا انحراف کفر ہے۔ نمبر 2 انحراف مع اعتقاد وجوب یعنی امر کے واجب ہونے کا عقیدہ تو ہو لیکن عمل اس کے مطابق نہ ہو ‘ ایسی نافرمانی کو فسق کہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت زینب اور ان کے بھائی دونوں راضی ہوگئے اور دونوں نے مان لیا اور زینب کے نکاح کا اختیار رسول اللہ کے ہاتھ میں دے دیا ‘ حضور ﷺ نے زید سے ان کا نکاح کردیا۔ حضور ﷺ نے زید کی طرف سے زینب کو دس دینار ‘ ساٹھ درہم ‘ ایک اوڑھنی ‘ ایک کرتہ ‘ ایک تہبند ‘ ایک چادر ‘ پچاس سیر غلہ اور تقریباً چار من چھوارے دئیے۔ حضرت زینب ‘ حضرت زید کے پاس ایک مدت تک رہیں۔ ایک روز رسول اللہ کسی کام سے (حضرت زینب کی طرف) گئے۔ زینب گوری اور قریش کی حسین ترین عوت تھیں ‘ اس وقت صرف کرتہ اور دوپٹہ پہنچے کھڑی تھیں۔ حضور ﷺ نے جو نظر ان پر پڑی تو اچھی معلوم ہوئیں اور دل کو بھا گئیں ‘ فوراً زبان سے نکلا : سبحان اللہ ! اللہ دل کو پلٹنے والا ہے۔ اس کے بعد لوٹ آئے۔ جب حضرت زید آئے تو ان سے حضور نے اس بات کا تذکرہ کردیا۔ زید سمجھ گئے اور اسی وقت سے ان کے دل میں زینب کی طرف سے کراہت پیدا ہوگئی۔ کچھ مدت بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیوی کو الگ کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا کیوں ؟ کیا زینب کی تم نے کوئی ناشائستہ حرکت دیکھی ؟ زید نے کہا : نہیں ‘ خدا کی قسم ! میں نے ان کی طرف سے نیکی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا ‘ مگر وہ اپنی شرافت نسب کی وجہ سے مجھ پر اپنی بڑائی جتلاتی ہیں اور زبان سے مجھے دکھ دیتی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اس کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ ابن جریر نے ابو زید کی روایت سے یہ واقعہ یوں ہی بیان کیا ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 33:37واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ اور جب
آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور آپ نے بھی اس پر انعام کیا تھا ‘ کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔
یہ خطاب رسول اللہ کو ہے۔ حاکم نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ زید بن حارثہ رسول اللہ کی خدمت میں زینب بنت جحش کی شکایت کرنے آئے تو آپ نے فرمایا : اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو تو یہ آیت نازل ہوئی۔
اَنْعَمَ اللہ اللہ نے اس پر فضل کیا کہ اسلام کی اور آپ کے ساتھ رہنے کی اس کو توفیق دی اور آپ کے دل میں اس کی محبت پیدا کردی (جس کی وجہ سے آپ نے اس کو آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا) ۔
زَوْجَکَ یعنی زینب بنت جحش۔
وَاتَّقِ اللہ اور اللہ سے اس کے معاملہ میں ڈر ‘ اس کو طلاق نہ دے۔ طلاق اگرچہ جائز ہے لیکن تمام جائز احکام میں سب سے زیادہ بری اور قابل نفرت چیز ہے۔
وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ اور آپ اپنے دل میں وہ بات (بھی) چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ (آخر
میں) ظاہر کرنے والا تھا۔
بخاری نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ کے معاملہ میں ہوا۔ حسن نے کہا : زید کی بات رسول اللہ کو دل سے تو پسند آئی مگر شرم اور شرف ذاتی کی وجہ سے اس بات کو دل میں چھپائے رکھا۔
بعض نے کہا : آپ نے دل میں یہ بات چھپائے رکھی کہ جب اس کو چھوڑ دے گا تو اس سے نکاح کرلوں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : زینب کی محبت دل میں چھپائے رکھی۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ نے دل سے چاہا کہ زید ‘ زینب کو طلاق دے دیں۔
بغوی نے بروایت سفیان بن عیینہ بیان کیا کہ علی بن زید بن جدعان نے کہا : مجھ سے امام زین العابدین علی بن امام حسن نے پوچھا کہ آیت وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ کے متعلق حسن کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا : حسن کہہ رہے تھے کہ جب زید نے آکر رسول اللہ سے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! میں زینب کو چھوڑنا چاہتا ہوں ‘ حضور ﷺ کو زید کی یہ بات (دل سے تو) پسند آئی لیکن (ظاہر میں) زبان سے فرمایا : امسک علیک زوجک واتق علیہ۔ امام زین العابدین نے فرمایا : ایسا نہیں ہے۔ اللہ نے آپ کو پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ زید ‘ زینب کو طلاق دے دیں گے اور زینب آپ کی بیوی ہوجائیں گی۔ چناچہ جب زید نے آکر کہا کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں تو اللہ کے رسول نے فرمایا : امسک علیک زوجک۔ یہ بات اللہ کو پسند نہ آئی اور بطور عتاب اللہ نے فرمایا : جب ہم نے آپ کو بتادیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہوگی تو پھر آپ نے زید سے کیوں کہا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ‘ طلاق نہ دو ۔ آیت کا یہ مطلب شان انبیاء کے موافق ہے (اس سے نبی پر کوئی دھبہ نہیں آتا) اور عبارت بھی اسی کے مطابق ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا کہ جو بات تم نے چھپائی تھی ‘ ہم اس کو ظاہر کرنے والے ہیں ‘ لیکن سوائے اس کو کہ فرما دیا زَوَّجْنٰکَھَا (ہم نے تمہارا نکاح زینب سے کردیا) اور کوئی بات ظاہر نہیں کی۔ اگر رسول اللہ نے اپنے دل میں زینب کی محبت چھپائے رکھی ہوتی یا دل کے اندر یہ بات مخفی کرلی ہوتی کہ زینب کو زید طلاق دے دے تو اللہ (حسب وعدہ) اس کو ضرور ظاہر کردیتا۔ حقیقت میں (جب بوحی الٰہی آپ کو معلوم ہوگیا کہ زید ‘ زینب کو طلاق دے دیں گے اور زینب سے آپ کا نکاح ہوجائے گا تو) آپ کو زید سے یہ بات کہتے ہوئے شرم محسوس ہوئی کہ جو بیوی تیرے نکاح میں اور تیرے پاس ہے ‘ وہ میری بیوی ہوجائے گی۔
بغوی نے لکھا ہے : امام زین العابدین کا بیان کیا ہوا یہ مطلب نہایت خوبصورت اور پسندیدہ ہے ‘ لیکن یہ مطلب بھی غلط نہیں ہے اور نہ شان انبیاء کے خلاف ہے کہ رسول اللہ کے دل میں زینب سے محبت پیدا ہوگئی اور آپ نے اس کو چھپائے رکھا یا یہ بات پوشیدہ رکھی کہ زید طلاق دے دیں گے تو میں نکاح کرلوں گا کیونکہ دل میں جو بات بغیر اختیار کے پیدا ہوجائے ‘ اس کو قابل ملامت اور برا نہیں قرار دیا جاسکتا ‘ اس طرح کی واردات قلبی میں کوئی گناہ نہیں۔ دل کا جھکاؤ اور وجدان محبت تو طبعی اور فطری چیز ہے۔ باقی اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ الخ فرمایا تو یہ ایک اچھے کام کا مشورہ ہے۔ امر بالمعروف ہے ‘ اس میں کوئی گناہ نہیں۔
میں کہتا ہوں : بلکہ یہ مشورہ اور حکم اجر عظیم کا موجب ہے کیونکہ اپنی طبیعت کے خلاف امر بالمعروف تو (جہاد نفس کی) نہایت اعلیٰ (صورت) ہے۔ اللہ نے فرمایا : وَیُؤْثِروُنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَو کَانَ بِھْمَ خَصَاصَۃ ط وَّمِنْ یُّوْقَ شُّحَ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان کو بھی سخت حاجت ہو اور جو شخض حرص نفس سے محفوظ رہتے ہیں وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
حسن کے قول کی تائید رسول اللہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا : سبحان اللہ مقلب القلوب۔ یہ قول دلالت کر رہا ہے کہ پہلے تو رسول اللہ کے دل میں یہ خیال تھا کہ زینب سے زید کا نکاح کرا دیں (چنانچہ ایسا کرا دیا اور باوجود زینب کے میلان طبع اور اقرار کے حضور ﷺ کے دل میں خود نکاح کرلینے کا خیال ہی نہیں ہوا) پھر اللہ نے دل پلٹ دیا اور زینب سے نکاح کرنے کی طرف دل موڑ دیا۔
ونخشی الناس واللہ احق ان تخشہ . اور آپ لوگوں (کے طعن) سے ڈرتے تھے اور ڈرنا تو آپ کو صرف
اللہ ہی سے سزاوار ہے۔ یعنی آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کے رسول نے زید سے اس کی بیوی کو طلاق دلوا دی حالانکہ اللہ ہی سے ڈرنا مناسب ہے۔
حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اس آیت سے زیادہ اور کوئی آیت رسول اللہ پر دشوار نہیں ہوئی۔ مسروق کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : اگر رسول اللہ خدا کی فرستادہ وحی سے کوئی حصہ چھپاتے تو اس آیت ” وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ “ کو پوشیدہ رکھتے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ کے دل میں اللہ کا خوف اور اس کی خشیت نہیں تھی ‘ حضور ﷺ نے خود فرمایا تھا : اِنِّیْ اَخْشَاکُمْ وَاَنْتٰکُمْ میں تم سب سے زیادہ اللہ کا خوف و خشیت رکھتا ہوں۔
میں کہتا ہوں کہ ان نے تمام انبیاء کی شان میں فرمایا ہے : یَخْشَوْنَہٗ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا الاَّ اللہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ لیکن اس جگہ جب لوگوں سے ڈرنے کا ذکر کیا تو (بطور عموم ضابطہ) یہ بھی فرما دیا کہ تمام امور و احوال میں خدا سے ڈرنا ہی سزاوار ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس تشریح پر آیت کا مطلب اس طرح ہو : آپ لوگوں کے طعن سے ڈرتے ہیں اور جتنا لوگوں سے ڈرتے ہیں ‘ اس سے زیادہ خدا کا خوف رکھتے ہیں کیونکہ اللہ ہی سے ڈرنا سزاوار ہے۔ پس لوگوں کے ڈر اور خوف سے آپ نے دل میں ایک بات چھپالی اور اللہ کے خوف سے (زید کو) نیکی اور بھکائی کا حکم بھی دیا اور حکم خدا کی تعمیل میں کوئی کمی نہیں کی۔ یہ مطلب ہے آیت لاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا الاَّ اللہ کا کہ انبیاء لوگوں کے خوف ولحاظ سے ایسا نہیں کرتے کہ اس کی وجہ سے اللہ کے حکم کی تعمیل چھوڑ دیں یا اس میں کمی کردیں۔ رہا عام طور پر لوگوں سے ڈرنا اور ان کے طعن کا لحاظ رکھنا تو یہ بات بری نہیں بلکہ اچھی ہے ‘ حیا تو ایمان کا جزء ہے۔
صحیحین میں حضرت عمران بن حصین کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : حیاء سراسر خیر ہے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ حیاء اور ایمان دونوں کو جوڑ دیا گیا ہے (ہر ایک دوسرے کا ساتھی ہے) جب ایک کو اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرے کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے کہ جب ایک کو سلب کرلیا جاتا ہے تو دوسرے اول کے پیچھے آجاتا ہے ‘ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
امام مالک نے مرسلاً بروایت زید بن طلحہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں نیز ابن ماجہ نے حضرت انس اور حضرت ابن عباس کی رویت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہر چیز کی ایک سرشت ہوتی ہے اور اسلام کی سرشت حیاء ہے۔
مسلم ‘ احمد ‘ نسائی ‘ ابو یعلی ‘ ابن ابی حاتم ‘ طبرانی اور بغوی نے حضرت انس کا بیان نقل کیا ہے اور یہ روایت مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ بغوی نے ذکر کی ہے کہ جب زینب کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ نے زید سے فرمایا : جا کر زینب سے میرا تذکرہ کرو (یعنی پیام پہنچاؤ) زید گئے اور جس وقت پہنچے ہیں ‘ اس وقت زینب آٹا خمیر کر رہی تھیں۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے زینب کو دیکھا تو ان کی اتنی عظمت میرے دل میں پیدا ہوئی کہ میں سامنے سے ان کو دیکھنے کی تاب نہ لاسکا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ نے نکاح کے ارادہ سے ان کا ذکر کیا تھا ‘ چناچہ میں نے فوراً ان کی طرف اپنی پشت کرلی اور ایڑیوں کے بل مڑ کر کہا : زینب ! مجھے رسول اللہ نے بھیجا ہے ‘ حضور ﷺ نے تم کو یاد کیا ہے۔ حضرت زینب نے کہا : میں اپنے رب سے مشورہ کے بغیر کچھ کرنے والی نہیں۔ یہ جواب دینے کے بعد حضرت زینب اٹھ کر مسجد (یعنی اندرون خانہ جو نماز کی جگہ مقرر کر رکھی تھی اس) کی طرف گئیں اور آیت ذیل نازل ہوئی۔
فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا . پھر جب زید کا اس سے دل بھر گیا (اور اس نے طلاق دے دی) تو ہم
نے اس کو آپ کی بیوی بنا دیا۔
مِنْھَا کی ضمیر زینب بنت جحش کی طرف راجع ہے۔ وَطَر کا معنی ہے حاجت۔ حاجت پوری کرنے سے مراد ہے دل بھر جانا یعنی جب زینب سے زید کا دل بھر گیا اور زید کو زینب کی حاجت نہ رہی اور انہوں نے طلاق دے دی اور زینب کی عدت گذر گئی۔ بعض علماء تفسیر نے کہا کہ قضاء و طر (حاجت پوری کرنے) سے بطور کنایہ طلاق مراد ہے۔
حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ (باہر سے) آئے اور بغیر اذن طلب کئے زینب کے پاس اندر تشریف لے گئے۔ ہم کو یاد ہے کہ (حضرت زینب کے ولیمہ میں) رسول اللہ نے ہم کو گوشت روٹی کھلائی تھی۔ آدھا دن گذر گیا ‘ لوگ کھانے کے بعد نکل کر چلے گئے لیکن دو آدمی باتوں میں مشغول حجرہ میں بیٹھے رہے۔ رسول اللہ (مجبوراً خود) باہر نکل کر گئے ‘ میں بھی حضور ﷺ کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ حضور ﷺ یکے بعد دیگرے امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے ‘ ان کو سلام کیا ‘ انہوں نے بھی سلام کیا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟
حضرت انس نے کہا : مجھے یاد نہیں کہ کچھ دیر کے بعد میں نے جا کر اطلاع دی یا دوسرے لوگوں نے کہ وہ لوگ چلے گئے۔ یہ سن کر حضور ﷺ تشریف لے آئے اور حجرہ میں چلے گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ اندر گھسنے لگا تو میرے اور حضور ﷺ کے درمیان پردہ کھینچ دیا گیا اور حجاب کا حکم نازل ہوگیا۔ بخاری ‘ احمد ‘ ترمذی ‘ حاکم ‘ ابن مردویہ ‘ عبد بن حمید اور بیہقی نے سنن میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت زینب رسول اللہ کی دوسری بیویوں پر فخر کرتی اور فرماتی تھیں کہ تمہارا نکاح رسول اللہ سے تمہارے گھر والوں نے کرایا اور میرا نکاح سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ کے کردیا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت زینب کہتی تھیں کہ میرے نکاح کا تو اللہ ولی ہوا اور تمہارے نکاح تمہارے اولیاء نے کرائے۔
بغوی نے بحوالۂ شعبی بیان کیا ہے کہ زینب رسول اللہ سے کہتی تھیں کہ مجھے آپ کے سلسلہ میں (دوسری بیبیوں پر) تین چیزوں سے امتیاز حاصل ہے ‘ وہ امتیاز کسی بی بی کو حاصل نہیں : میرا اور آپ کا دادا ایک تھا ‘ میرا نکاح آپ کے ساتھ اللہ نے آسمان پر کیا ‘ میرے نکاح کے سفیر جبرئیل ہیں۔
حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جیسا ولیمہ حضرت زینب کا کیا ایسا کسی اور بی بی کا نہیں کیا ‘ زنیب کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔ یہ بھی حضرت انس ہی کا بیان ہے کہ زینب بنت جحش کے زفاف میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو پیٹ بھر کر گوشت روٹی کھلائی۔
لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعآء ھم . تاکہ بنائے ہوئے بیٹوں کی بیویوں (سے
نکاح کرنے) میں مسلمانوں کیلئے (ممانعت کی) کوئی تنگی نہ رہے۔
اَدعیاء کا مفرد دَعِیٌّ ہے۔ دَعِی بنایا ہوا بیٹا۔ یعنی زینب زوجۂ زید سے ہم نے آپ کا نکاح اس لئے کرایا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ منہ بولے بیٹوں کی (مطلقہ) بیویوں سے نکاح حلال ہے ‘ خواہ وہ بیٹے اپنی بیویوں سے قربت کرچکے ہوں۔ حقیقی بیٹے کی بیوی کا حکم اس کے خلاف ہے (اس سے خسر کا نکاح نہیں ہوسکتا ‘ خواہ بیٹا مرگیا ہو یا اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو ‘ مترجم) ۔
آیت میں اس امر کی دلیل ہے کہ اگر رسول اللہ کے ساتھ کسی حکم کی خصوصیت پر دلیل قائم نہ ہو تو امت کیلئے بھی وہی حکم ہوگا (بلادلیل اس حکم کی رسول اللہ کے ساتھ تخصیص نہ ہوگی) ۔
اذا قضوا منھن وطرًا . جب منہ بولے بیٹے اپنی بیویوں سے حاجت پوری کرچکے ہوں (یعنی ان کا دل بھر گیا ہو اور
انہوں نے طلاق دے دی ہو۔ مترجم) ۔
وکان امر اللہ مفعولاً . اور اللہ کا فیصلہ تو (لامحالہ) پورا ہونے والا تھا ‘ جیسا زینب کے معاملہ میں ہوا۔
Ayah 33:38ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ . اور پیغمبر کیلئے جو بات اللہ نے مقرر کردی تھی اس میں ان
پر کوئی الزام نہیں۔
حَرَجٌ‘ تنگی۔ فِیْمَا فَرَضَ اللہ لَہٗ یعنی عورتوں کی جو تعداد اللہ نے پیغمبر کیلئے مقرر اور مقدر کردی تھی۔ عرب کہتے ہیں : فُرِضَ لَہٗ فِی الدِّیْوَان رجسٹر میں اس کیلئے حصہ مقرر کردیا گیا۔ فروض العسکر فوج کی مقرر تنخواہیں۔ بعض علماء نے آیت میں فَرَضَ کے معنی اَحَلَّ (پیغمبر کیلئے اللہ کے جو کچھ حلال کردیا) بیان کئے ہیں۔
سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدرًا مقدورا . اللہ نے ان (پیغمبروں) کیلئے بھی
یہی معمول کر رکھا ہے جو پہلے گذر چکے ہیں اور اللہ کا فیصلہ (پہلے سے) تجویز کردہ ہوتا ہے۔
کلبی نے کہا : اس سے مراد ہیں حضرت داؤد۔ حضرت داؤد بھی ایک عورت کی طرف مائل ہوگئے تھے جس سے انہوں نے نکاح کرلیا ‘ اسی طرح اللہ نے حضرت زینب سے رسول اللہ کا نکاح کردیا۔ بعض کے نزدیک سنۃ اللہ سے مراد ہے نکاح کیونکہ سنت انبیاء ہے۔ بعض کے نزدیک کثرت ازواج کی طرف اشارہ ہے جیسے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی بیبیاں کثرت سے تھیں۔
Ayah 33:39الذین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدًا الا اللہ . وہ (سب پیغمبر ایسے تھے کہ) اللہ
کے احکام (امت کو) پہنچایا کرتے تھے اور اس باب میں اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔
جس طرح آپ اللہ کے احکام امر و نہی میں اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
وکفی باللہ حسیبًا . اور اللہ حساب لینے کیلئے کافی ہے۔
اس لئے اس سے ڈرنا ضروری ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہر مقام خوف کیلئے کافی ہے (اس لئے اس کے سوا کسی سے نہ ڈرنا چاہئے ‘ مترجم) ۔
Ayah 33:40ما کان محمد ابا احد من رجالکم . محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ یعنی محمد ﷺ زید کے باپ نہیں ہیں کہ زید کی بیوی سے نکاح کرنا ان کیلئے حرام ہو۔
ایک سوال قاسم ‘ طیب ‘ طاہر اور ابراہیم رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے اور حسن و حسین بھی حضور ﷺ کے صاحبزادے (مانے گئے) تھے ‘ پھر نفی اُبّوت کیسے صحیح ہے ؟
جواب چاروں صاحبزادوں کی وفات بچپن میں ہوچکی تھی ‘ کوئی بھی حد بلوغ کو نہیں پہنچا کہ اس کو رَجُل کہا جاتا ‘ رہی یہ بات کہ حضرت حسن کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ اسی طرح حضرت حسین کا رسول اللہ ﷺ کا بیٹا ہونا تو یہ بطور مجاز ہے (نہ واقع میں یہ دونوں بزرگ حضور ﷺ کے صلبی بیٹے تھے ‘ نہ بنانے ہوئے بیٹے۔ اس ہیچمدان مترجم کے خیال میں صحیح جواب یہ ہے کہ رجالکم میں مخاطبین کی طرف اضافت ہے جو بتارہی ہے کہ اس زمانہ میں جو لوگ آیت کے مخاطب تھے ‘ ان میں سے کسی کے باپ رسول اللہ ﷺ نہیں تھے۔ یہ مطلب نہیں کہ کبھی کسی مرد کے باپ نہیں تھے ‘ نہ آئندہ کسی مرد کے باپ ہوں گے۔ یہ مفہوم آیت کا ہرگز نہیں ہے۔ واللہ اعلم) ۔
ولکن رسول اللہ وخاتم النبین . اور لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کیلئے خاتم ہیں (سب کے ختم ہونے
کے بعد آئے ہیں) اور ہر رسول شفقت و خیرخواہی کے لحاظ سے اپنی امت کا باپ ہوتا ہے ‘ سب امت کا نسبی باپ نہیں ہوتا کہ امت کی کسی عورت سے اس کا نکاح نہ ہو سکے۔
خاتم بفتح تاء بمعنی آخر اور بکسر تاء بروزن فاعل ختم کرنے والا ‘ آخری نبی جس کے بعد کوئی نبی نہ آئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ اگر میں سلسلۂ انبیاء کو محمد ﷺ پر ختم نہ کردیتا تو ان کے بعد ان کے بیٹے کو نبی بنا دیتا۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے یہ فیصلہ کردیا کہ رسول اللہ کے بعد کسی کو نبی بنانا نہیں ہے تو حضور ﷺ کو کوئی لڑکا یعنی مرد (اولاد) عنایت نہیں کیا۔ ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے صاحبزادہ ابراہیم کے متعلق فرمایا : اگر وہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔
کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قریب قیام نازل نہیں ہوں گے ؟ ضرور نازل ہوں گے لیکن رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر ہوں گے اس لئے نزول عیسیٰ سے رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبین ہونے پر کوئی جرح نہیں کی جاسکتی۔ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ کو تو رسول اللہ ﷺ سے پہلے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ پر جدید نبوت کو ختم کردیا ‘ اگر گذشتہ نبی باقی رہے تو اس سے جدید نبوت کی نفی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
وکان اللہ بکل شیء علیما . اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔
اس لئے وہ جانتا ہے کہ کسی پر نبوت کا خاتمہ کیا جائے اور اس کی کیا حالت ہونی چہئے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خوبصورت قصر ہو ‘ اس کی عمارت حسین ہو لیکن ایک اینٹ (لگانے) کی جگہ اس میں چھوڑ دی گئی ہو۔ دیکھنے ولے آکر اس کے گرداگرد گھومتے ہوں اور اس کے حسن تعمیر پر تعجب کرتے ہوں لیکن (ساتھ ہی) یہ بھی کہیں کہ ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے (حضور ﷺ نے فرمایا :) پس اس ایک اینٹ کے مقام کو میں نے درست کردیا اور مجھ پر پیغمبروں کا خاتمہ ہوگیا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبین ہوں۔ متفق علیہ۔
حضرت جبیر بن مطعم کا بیان ہے : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ فرما رہے تھے : (میرے بہت نام ہیں) میں محمد ہوں ‘ احمد ہوں ‘ ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ‘ میں حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر میرے قدموں پر ہوگا ‘ میں عاقب ہوں (سب سے پیچھے آنے والا) میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ اپنے مختلف نام (صفات) بیان کرتے تھے ‘ آپ نے فرمایا تھا : میں محمد ہوں ‘ احمد ہوں ‘ مقفٰی ہوں ‘ حاشر ہوں ‘ نبی التوبۃ ہوں ‘ نبی الرحمۃ ہوں۔ راوہ مسلم۔
Ayah 33:41یایھا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکرًا کثیرًا . اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر بہت کیا کرو۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : ذکر کے علاوہ اللہ نے ہر فرض کی ایک حد مقرر کردی ہے اور عذر کے وقت معذور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے مگر ذکر کی کوئی آخری حد مقرر نہیں کی اور سوائے دیوانہ کے کسی کو معذور نہیں قرار دیا بلکہ تمام حالتوں میں ذکر کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے : فَاذْکُرُوا اللہ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ اللہ کی یاد کرو کھڑے ‘ بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے۔ اور فرمایا ہے : اذْکُرُوا اللہ ذِکْرًا کَثِیرًا اللہ کی یاد بکثرت کیا کرو رات میں ‘ دن میں ‘ خشکی میں ‘ سمندر میں ‘ صحت میں ‘ بیماری میں ‘ پوشیدہ اور ظاہر۔ مجاہد نے کہا : ذکر کثیر یہ ہے کہ کبھی اللہ کو نہ بھولے۔ میں کہتا ہوں : یہ حالت فناء قلب اور دوامی حضور کے بعد ہوتی ہے۔
Ayah 33:42وسبحودہ بکرۃ واصیلا . اور صبح و شام (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔
سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً یعنی فکر کی نماز پڑھو۔
وَّاَصِیْلاً کلبی نے کہا : یعنی ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھو۔ مجاہد نے کہا کہ تسبیح سے مراد ہے : سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھنا۔ لفظ تسبیخ سے تمام ساتھی جملے مراد ہیں (یعنی تسبیح تحمید ‘ تہلیل ‘ تکبیر وغیرہ) ان الفاظ کو باوضو ‘ بےوضو اور جنب سب پڑھیں۔
میں کہتا ہوں : اول اللہ نے عمومی ذکر کا حکم دیا کہ کسی وقت خدا کی یاد نہ بھولے ‘ پھر مخصوص اوقات میں ذکر کا حکم دیا۔ اول سے مراد ہے ذکر خفی ‘ قلبی ‘ دوامی اور دوسرے سے مراد ہے ذکر جلی اور مقررہ فرض و سنت عبادت۔
بعض اہل علم نے کہا : تسبیح کیلئے صبح و شام کے اوقات کی تخصیص اس لئے کی کہ ان اوقات میں رات اور دن کے ملائکہ جمع ہوتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : رات کے ملائکہ اور دن کے ملائکہ باری باری سے تمہارے اندر آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں سب جمع ہوجاتے ہیں ‘ پھر وہ ملائکہ جو رات کو تمہارے پاس رہے ‘ اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ تمہارا رب ان سے پوچھتا ہے (حالانکہ وہ بخوبی واقف ہے) تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ ملائکہ عرض کرتے ہیں : ہم نے ان کو نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ متفق علیہ۔
بعض علماء تفسیر نے کہا : بُکْرۃً وَّاَصِیْلاً دونوں فعلوں کے معمول ہیں اُذْکُرُوْا کے بھی اور سَبِّحُوْا کے بھی ‘ تنازع فعلین ہے۔ اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ نمازیں اور تمام عبادتیں حضور قلب کے ساتھ بغیر غفلت کے ادا کرو۔ حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے جب تک بندہ ادھر ادھر توجہ نہ کرے ‘ لیکن بندہ جب ادھر ادھر توجہ کرنے لگتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف سے رخ پھیر لیتا ہے۔ رواہ احمد و ابوداؤد والنسائی والدارمی۔
بغوی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت اِنَّ اللہ وَمَلٰٓءِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ نے جو شرف خصوصیت کے ساتھ آپ کو عطا فرمایا ‘ ہم کو اس میں ضرور شریک فرما دیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ عبد بن حمید نے اس روایت کی نسبت مجاہد کی طرف بھی کی ہے۔
Ayah 33:43ھو الذی یصلی علیکم وملئکتہ . وہ (خود بھی) اور اس کے فرشتے (بھی) تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے : اللہ کی طرف سے صلوٰۃ کا معنی ہے رحمت اور ملائکہ کی صلوٰۃ کا معنی ہے دعاء مغفرت۔ بعض کے نزدیک اللہ کی بندہ پر صلوٰۃ کا معنی ہے بندہ کے ذکر خیر کو لوگوں میں پھیلانا۔ بعض نے کہا : اللہ کی طرف سے بندہ کی ثناہ ہونا صلوٰۃ اللہ ہے۔
قاموس میں ہے : صلوٰۃ (کا معنی ہے) دعائے رحمت ‘ استغفار ‘ اللہ کی طرف سے رسول کی اچھی تعریف۔ وہ عبادت جس میں رکوع اور سجود بھی ہوتا ہے ‘ صاحب قاموس نے اس عبارت کا تقاضا کیا ہے کہ لفظ صلوٰۃ چند معانی میں مشترک ہے ‘ پس جو اہل ادب عموم مشترک جائز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ہی وقت اور ایک ہی جملہ میں ایک لفظ کا متعدد معانی میں استعمال درست ہے ‘ ان کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
جمہور کے نزدیک عموم مشترک جائز نہیں بلکہ آیت میں عموم مجاز ہوگا یعنی لفظ صلوٰۃ کو ایک مجازی معنی کیلئے استعمال کیا گیا اور وہ معنیء مجازی دو حقیقی معانی میں مشترک ہے یعنی تمہارے کاموں کی درستی اور تمہارے شرف کو ظاہر کرنے کی طرف توجہ (یہ کام فرشتے بھی کرتے ہیں کہ تمہارے لئے استغفار کرتے ہیں اور اللہ بھی کرتا ہے کہ تم پر رحمت نازل فرماتا ہے) ۔
بکثرت اہل لغت کا بیان ہے کہ صلوٰۃ کا معنی ہے دعا۔ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ میں نے اس کیلئے دعا کی۔ رسول اللہ کا ارشاد مبارک ہے : اگر کسی کو کھانا کھلانے بلایا جائے تو دعوت قبول کرلے اور اگر روزہ دار ہو تو دعوت کرنے والوں کیلئے صلوٰۃ (دعا) کرے۔ اللہ کے فرمایا : صَلِّ علَیْھِمْ اے نبی ! آپ ان کیلئے دعا کریں ‘ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنَ لَّھُمْ آپ کی دعا ان کیلئے باعث تسکین ہے۔
نماز کو صلوٰۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے اندر دعا پڑھی جاتی ہے یعنی اِھْدِنَا الصَّرِاطَ الْمُسْتَقِیْم پڑھا جاتا ہے ‘ جزء پر کل کا اطلاق کردیا گیا (ایک شبہ کیا جاسکتا ہے کہ جب صلوٰۃ کا معنی دعا ہے تو صلوٰۃ اللہ کا کیا معنی کیا اللہ دعا کرتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ) بندوں کیلئے اللہ کی طرف سے دعا اللہ خود اپنی ذات سے بندوں کیلئے رحمت اور مغفرت طلب فرماتا ہے۔ چونکہ خود اپنی ذات سے بندوں کیلئے رحمت طلب کرتا ہے تو اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس نے بندوں پر رحمت کرنی اپنی ذات پر لازم کرلی ہے۔ یہی معنی ہے کَتَبَ عََلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ کا ایجاب (لازم کرلینا اور طلب دونوں کا معنی ایک ہی ہے قطعی طلب ایجاب ہی ہوتی ہے لیکن ایجاب (کا معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ پر کوئی چیز واجب ہے اور کسی کا خدا پر کوئی لازمی حق ہے جس کو ادا کرنا اس پر لازم ہے بلکہ اس) کا یہ معنی ہے کہ اللہ نے اپنی مہربانی سے ذمہ لے لیا ہے۔ اگر صلوٰۃ کو بمعنیء دعا قرار دیا جائے تو عموم مشترک کا قول لازم نہیں آئے گا۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا : کیا ہمارا رب صلوٰۃ کرتا ہے ؟ حضرت موسیٰ پر یہ سوال نہایت شاق گذرا۔ اللہ نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی : ان سے کہہ دو کہ میں صلوٰۃ کرتا ہوں مگر میری صلوٰۃ (بمعنیء) رحمت ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔
لیخرجکم من الظلمت الی النور وکان بالمؤمنین رحیما . تاکہ تم کو تاریکیوں سے (نکال کر) نور کی طرف لے آئے اور اللہ مؤمنوں پر بہت مہربان ہے۔ یعنی اپنی رحمت اور ملائکہ کی دعا سے کفر و معاصی سے نکال کر ایمان وطاعت کے نور کی طرف ہمیشہ تم کو لاتا رہتا ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تاکہ تم وقتاً فوقتاً ہمیشہ ظلمات (فراق و) بُعد سے نکال کر نور قرب کی طرف لاتا رہے۔
اللہ مؤمنوں پر بڑا مہربان ہے کیونکہ اس نے مؤمنوں کے سارے امور کو درست کیا ‘ ان کے مرتبہ کو اونچا کیا اور ملائکہ مقربین کی دعا ان کے شامل حال کی۔
Ayah 33:44تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما . جس روز وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کا دعائیہ کلمہ السلام علیکم
ہو گا اور اللہ نے ان کیلئے (جنت میں) عمدہ صلہ تیار کر رکھا ہے۔
تَحِیَّتُھُمْ یعنی اللہ کی طرف سے جو تحیت ان کو کی جائے گی۔
یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے یعنی مرنے کے وقت ‘ یا قبر سے نکلنے کے وقت ‘ یا جنت میں داخلہ کے وقت ‘ یا دیدار خداوندی ہونے کے وقت۔
سَلٰمٌ یعنی اللہ کی طرف سے بطور تحیت ان کو سلام کیا جائے گا اور اللہ ان کو تمام ناگوار باتوں سے امن و سلامتی میں رکھے گا۔
اَجْرًا کَرِیْمًا یعنی جنت یا اللہ کا دیدار اور اس کی خوشنودی۔
Ayah 33:45یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا . اے نبی ! ہم نے آپ کو (آپ کی امت کا) گواہ بنا کر بھیجا ہے۔
ابن مبارک نے سعید بن مسیب کا قول بیان کیا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ صبح و شام رسول اللہ کی امت کو آپ کے سامنے نہ لایا جاتا ہو۔ آپ اپنی امت کو ان کے چہروں سے (یا خصوصی علامات سے) پہچانتے ہیں اسی لئے آپ ان پر شہادت دیں گے (یعنی گواہی دیں گے کہ یہ میری امت والے ہیں) یا شاہد ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جب امت اسلامیہ شہادت دے گی کہ تمام نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا تو رسول اللہ اپنی امت کی تصدیق کریں گے۔
بخاری ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن نوح کو بلوا کر پوچھا جائے گا : کیا تم نے (میرا پیام) پہنچا دیا تھا ؟ نوح کہیں گے : جی ہاں۔ پھر ان کی امت کو طلب فرما کر دریافت کیا جائے گا : کیا تو کو میرا پیام نوح نے پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا ‘ ہمارے پاس کوئی نہیں آیا۔ اس پر نوح سے کہا جائے گا : تمہارا شاہد کون ہے ‘ کون تمہاری گواہی دے سکتا ہے ؟ حضرت نوح کہیں گے : محمد ﷺ اور ان کی امت ‘ الحدیث۔ اس موضوع کی احادیث بکثرت آئی ہیں۔
ومبشرا . اور (انبیاء پر ایمان لانے والوں کو) جنت کی بشارت دینے والا۔
ونذیرا . اور (انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کو) دوزخ سے ڈرانے والا۔
Ayah 33:46وداعیا الی اللہ باذنہ . اور اللہ کے حکم (اور اس کی توفیق) سے اللہ کی (توحید اور طاعت یا جنت یا بےکیف دیدار کی) طرف بلانے والا۔
بِاِذْنِہٖ کی قید کا اضافہ کرنے سے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ کی توحید و اطاعت کی دعوت دینا بڑا سخت کام ہے ‘ اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر اس کی تکمیل ناممکن ہے ‘ خصوصاً اللہ کے دیدار کی دعوت تو اتنی دشوار ہے کہ بغیر خاص فضل خداوندی کے بندہ کی رسائی بارگاہ الٰہی تک محال ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہ یَھْدِی مِنْ یَّشَآءُ آپ اگر کسی کو ہدایت یاب کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ‘ بلکہ اللہ جس کو سیدھے راستہ پر چلانا چاہتا ہے ‘ اس کور (راہ راست پر چلنے کی) توفیق دیتا ہے۔
حضرت ربیعہ جرشی کا بیان ہے کہ (خواب میں) کوئی رسول اللہ کے پاس آیا اور اس نے کہا : تمہاری آنکھیں سوئیں (مگر) کان سنیں اور دل سمجھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : چناچہ میری آنکھ سو رہی تھی ‘ دونوں کان سن رہے تھے اور دل سمجھ رہا تھا کہ کسی نے کہا : ایک سردار نے ایک مکان بنوایا ‘ اس میں دسترخوان لگوایا اور (دعوت عام دینے کیلئے) ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پکارنے ولے کی آواز پر جو آگیا ‘ اس نے مکان کے اندر داخل ہو کر دسترخوان پر (کھانا) کھالیا اور گھر والا سردار بھی اس سے خوش ہوگیا اور جس نے داعی کی دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ نہ گھر میں آیا نہ دسترخوان سے کچھ کھا سکا اور سردار اس سے ناراض ہوگیا (اس کی تعبیر یہ ہے کہ) سردار اللہ ہے ‘ گھر (جو سردار نے بنایا ہے) اسلام ہے ‘ محمد ﷺ داعی ہیں اور دسترخوان جنت ہے۔ رواہ الدارمی۔
وسراجا منیرا اور روشن چراغ (بنا کر بھیجا ہے) رسول اللہ ﷺ کو روشن چراغ کہنے کی یہ وجہ ہے کہ جس طرح
رات کی تاریکی میں چراغ جلایا جاتا ہے اور اس کی روشنی سے راستہ نظر آجاتا ہے ‘ اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے بھی (اسلام کی) روشنی اور ہدایت حاصل کی جاتی ہے۔
مراد یہ ہے کہ رسول اللہ اپنی زبان سے تو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیتے تے اور دل کے اعتبار سے روشن چراغ کی طرح تھے کہ تمام مؤمن آپ ہی کے نور سے استفادہ کرتے اور آپ ہی کے رنگ میں رنگ جاتے تھے (ایسا ہی بنا کر اللہ نے آپ کو بھیجا تھا) جیسے یہ عالم سورج کی روشنی سے اور ایک گھر چراغ کی روشنی سے منور ہوجاتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام کو ساری امت پر فضیلت حاصل تھی۔ علوم نبوت جو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ سے امت نے حاصل کئے ‘ اس میں تو صحابہ کے ساتھ ساری امت شریک ہے۔ کچھ صحابہ کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل سننے والا بھول جاتا ہے اور جس کو حکم پہنچایا جاتا ہے ‘ وہ زیادہ یاد رکھتا ہے۔ امتیاز صحابہ یہ ہے کہ وہ براہ راست انوار نبوت کے خوشہ چیں تھے۔ دوسروں کو جو روشنی ملی ‘ وہ صحابہ کے توسط سے ‘ پھر تبعین سے تبع تابعین کو ‘ اسی طرح قیامت تک نور نبوت امت کے دلوں کو روشن کرتا رہے گا لیکن اس خوشہ چینی میں سننے والا مشاہدہ کرنے والے کی طرح نہیں ہوسکتا جیسے صحن مکان میں سورج کی شعائیں براہ راست پڑتی ہیں اور صحن روشن ہوجاتا ہے ‘ پھر کمروں کے اندر یہ روشنی صحن کی روشنی کے ذریعہ سے پہنچتی ہے ‘ دونوں کی روشنی اور کیفیت انجلائی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
عطاء بن یسار کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے ملاقات کی اور کہا : رسول اللہ کے وہ اوصاف جو توریت میں (آپ نے پڑھے) ہوں ‘ بیان فرمائیے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : ہاں ‘ بخدا توریت میں آپ کے جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں ‘ ان میں سے کچھ قرآن میں بھی موجود ہیں۔ توریت میں کہا گیا ہے : اے نبی ! ہم نے تجھ کو شاہد اور بشارت دہندہ اور عذاب کی وعید سنانے والا اور امیوں کی پناہ بنا کر بھیجا ہے ‘ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے ‘ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔
وہ بدخو اور درشت مزاج نہ ہوگا ‘ بازاروں میں چیختا نہ پھرے گا ‘ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دے گا بلکہ عفو و درگذر سے کام لے گا۔ جب تک کج رو ملت کی کمی دور نہ ہوجائے گی ‘ اللہ اس کی روح قبض نہیں کرے گا ‘ اس کی وفات اس وقت ہوگی جب لوگ لا الہ الا اللہ کے قائل ہوجائیں گے۔ اللہ اس کے ذریعہ سے اندھی آنکھوں کو ‘ بہرے کانوں کو اور غلاف پوش دلوں کو کھول دے گا۔ رواہ البخاری۔ دارمی نے عطاء بن سلام کی روایت سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔
بیہقی نے دلائل النبوت میں حضرت ربیع بن انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت مَا اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلاَ بِکُم نازل ہوئی (مجھے نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ‘ نہ مجھے یہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا) اور اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی لِیَغْفِرَلَکَ اللہ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَم وَمَا تَاَخَّرَ (تاکہ اللہ آپ کی گذشتہ اور آئندہ فروگذاشتوں کو بخش دے) تو کچھ مسلمانوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو مبارک ہو ! جو سلوک آپ کے ساتھ کیا جائے گا ‘ وہ تو ہم کو معلوم ہوگیا لیکن یہ نہیں معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:47وبشر المؤمنین بان لھم من اللہ فضلا کبیرا . اور اہل ایمان کو خوشخبری دے دیجئے کہ اللہ کی طرف سے ان پر بڑا فضل (ہونے والا) ہے۔
ابن جریر نے عکرمہ اور حسن کی روایت سے بیان کیا ہے کہ فضل کبیر ‘ جنت ہے۔
Ayah 33:48ولا تطع الکفرین والمنفقین . اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ کیجئے۔ یعنی شریعت اسلامیہ کے خلاف کافروں
اور منافقوں کی بات نہ مانئے۔ یہ کافروں اور منافقوں کے قول کی مخالفت پر جمے رہنے کی ترغیب ہے۔
ودع اذا ھم . اور ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے اس کا خیال نہ کیجئے۔
حضرت ابن عباس اور قتادہ نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ کافروں اور منافقوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کیجئے۔
دَعْ چھوڑ دیجئے یعنی ایک طرف کو پھینک دیجئے ‘ اس کی پروا نہ کیجئے ‘ اس کا خوف نہ کیجئے۔ زجاج نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ان سے جھگڑا نہ کیجئے ‘ ان کو دیکھ پہنچانے کا خیال نہ کیجئے۔ خلاصہ یہ کہ کافروں اور منافقوں کی (ان کی ایذا رسانی کے عوض) ایذا نہ دیجئے۔ اس توضیحی مطلب پر بعض اہل علم کے نزدیک یہ آیت منسوخ الحکم ہے۔
وتوکل علی اللہ اور اللہ پر بھروسہ رکھئے ‘ وہی آپ کیلئے کافی ہے۔
وکفی باللہ وکیلا اور اللہ کی کارسازی کافی ہے۔ یعنی جب تم اللہ کو اپنے تمام امور سپرد کر دو گے تو وہ تمہارے سارے
امور کیلئے کافی ہوگا ‘ تم کو دوسروں کا محتاج نہ چھوڑے گا۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اللہ نے اپنی نبی کے پانچ اوصاف بیان فرمائے : شاہد ‘ مبشر ‘ نذیر ‘ داعی الی اللہ ‘ سراج منیر ‘ پھر ہر صفت کے مناب ترتیب وار حکم دیا ‘ صرف شاہد کے مقابل کوئی حکم نہیں دیا کیونکہ مابعد کا کلام تمام احکام نگہداشت کی تفصیل کر رہا ہے (گویا شاہد کا لفظ چاہتا تھا کہ نگہداشت کی جائے لیکن نگہداشت کس بات کی کی جائے ‘ اس کی تفصیل بعد والے کلام میں کردی گئی) مبشر کے مقابل (یعنی مناسب) مؤمنوں کو بشارت دینے کا حکم دیا گیا اور نذیر کے مقابل کافروں کی طرف سے پہنچنے والی اذیت کی پروا نہ کرنے کا حکم دیا گیا اور ان کا لحاظ کرنے کی ممانعت کردی گئی اور داعی الی اللہ کے مقابل اللہ پر بھروسہ رکھنے کا حکم دیا گیا اور سراج منیر کے مناسب فرمایا کہ اللہ کی کارسازی پر اکتفاء کی جائے کیونکہ وہ ذات جس نے تمام مخلوق سے زیادہ روشن دلائل آپ کو عنایت کئے ‘ اسی ذات پر اکتفاء کرنا مناسب ہے۔