Ayah 33:49یایھا الذین امنوا اذا نکحتم المؤمنت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن . اے ایمان والو !
جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو ‘ پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو ۔
یہ حکم مسلمان عورتوں کا بھی ہے اور کتابی عورتیں جن سے مسلمانوں نے نکاح کرلیا ہو ‘ ان کا بھی یہی حکم ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ صرف مؤمنات کا ذکر کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مسلمان عورتوں سے ہی نکاح کرنا مسلمانوں کیلئے مناسب ہے۔
ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ پھر (یعنی نکاح کے بعد) تم نے ان کو طلاق دے دی ہو۔
بغوی نے کہا کہ اس فقرہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ نکاح پر طلاق کو منتفرع کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی غیر عورت سے اس طرح کہا ہے کہ جب میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے ‘ پھر اس سے نکاح کرلیا تو (نکاح سے) پہلے دی ہوئی طلاق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اگر اس طرح کہا کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اسے طلاق ہے ‘ پھر کسی عورت سے نکاح کرلیا تو طلاق واقع ہوگی۔ حضرت علی ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت معاذ ‘ حضرت جابر اور حضرت عائشہ کا یہی قول ہے۔ سعید بن مسیب ‘ سعید بن جبیر ‘ عروہ ‘ قاسم ‘ طاؤس ‘ عکرمہ ‘ عطاء ‘ سلیمان بن یسار ‘ مجاہد ‘ شعبی ‘ قتادہ اور اکثر علماء اسی کے قائل ہیں۔ امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے۔
اگر آزادی کو ملک کے ساتھ معلق کردیا ہو (مثلاً یوں کہا ہو کہ جب میں کسی باندی ‘ غلام کا مالک ہوں تو وہ آزاد ہے ‘ یا کسی معین باندی غلام سے کہا ہو کہ جب میں تیرا مالک ہوں تو تو آزاد ہے) تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : (مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں ( طلاق واقع ہوجائے گی۔ ابراہیم نخعی اور اصحاب الرای یعنی امام ابوحنیفہ اور صاحبین کا یہی قول ہے۔
ربیعہ ‘ اوزاعی اور مالک نے کہا : اگر کسی معین عورت کے متعلق جملۂ مذکورہ کہا (جیسا اول الذکر صورت میں ہے) تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر عورت کی تعیین نہیں کی بلکہ عام جملہ بولا (جیسا دوسری مثال میں ہے) تو طلاق نہ ہوگی۔
عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لوگوں نے ابن مسعود کی طرف غلط نسبت کی ہے اور اگر واقعی انہوں نے کسی معین عورت کے متعلق کہا ہو کہ فلاں عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے ‘ اللہ فرما رہا ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھَنَّاس نے اِذَا طَلَّقْتُمُوْھَنَّ ثُمَّ نَکَحْتُمُوْھُنَّ نہیں فرمایا (یعنی نکاح کے بعد طلاق کا ذکر کیا ‘ طلاق کے بعد نکاح کا ذکر نہیں کیا) بغوی نے (مسلک شافعی پر) ایک حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی۔ میں کہتا ہوں : حاکم نے مستدرک میں یہ حدیث بیان کی ہے اور اس کو صحیح کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ شیخین (امام بخاری و مسلم) پر مجھے تعجب ہے کہ کیوں انہوں نے یہ حدیث صحیحین میں ذکر نہیں کی باوجودیکہ ان کی شرائط کے مطابق (اس کے راوی ثقہ ‘ عادل ‘ حافظ و ضابط ہیں) ۔
امام احمد نے کہا : اگر طلاق کو معلق بالنکاح کیا ہے تو نکاح کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر باندی غلام کی آزادی کو معلق بالملک کیا ہے تو مالک ہونے کے بعد غلام باندی کے آزاد ہونے یا نہ ہونے کے متعلق امام احمد کے دو قول مروی ہیں ‘ امام مالک نے کہا : کسی خاص شہر کا یا قبیلہ یا کسی خاص صنف کا یا کسی خاص عورت کا نام لیا ہے اور اس کی طلاق کو معلق بالنکاح کیا ہے تو نکاح کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر بالکل تعمیم کی ہے ‘ نہ عورت کو نامزد کیا ہے ‘ نہ کسی شہر ‘ قبیلہ یا صنف کو (اور یوں کہا کہ میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے) تو طلاق نہیں ہوگی۔
ا بن جوزی نے امام احمد کے قول کو ثابت کرنے کیلئے چھ احادیث پیش کی ہیں :
(1) عمروبن شعیب نے بوساطت شعیب اپنے دادا کی روایت سے رسول اللہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ غیر مملوک (یعنی غیرمنکوحہ) کی طلاق (نافذ) نہیں ‘ نہ غیر مملوک کو آزاد کرنا (جائز) ہے ‘ نہ غیر مملوک کو فروخت کرنا (درست) ہے۔ ابن جوزی نے یہ حدیث امام احمد کے طریق سے نقل کی ہے ‘ اصحاب السنن نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ ترمذی نے کہا : اس باب میں جو روایات آئی ہیں ‘ سب سے بہتر یہ روایت ہے۔ بزار کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور نہ ملکیت سے پہلے آزادی ہے۔ بیہقی نے خلافیات میں لکھا ہے کہ بخاری نے اس موضوع کی روایات میں مذکورہ روایت کو سب سے زیادہ صحیح کہا ہے۔
(2) عمرو بن شعیب نے بوساطت طاؤس حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ غیرمملوک کی نہ طلاق جائز ہے ‘ نہ اس کا آزاد کرنا ‘ نہ فروخت کرنا ‘ نہ اس نذر کو پورا کرنا جائز ہے جو غیرمملوک چیز کی ہو۔ رواہ الدارقطنی۔
دارقطنی نے ایک اور طقیہ سے از ابراہیم ابو اسحاق ضریر از یزید بن عیاض از زہری از سعید بن مسیب از معاذ بن جبل بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : طلاق (جائز) نہیں ہے مگر نکاح کے بعد خواہ مقررہ عورت کو نامزد کر کے (دی گئی) ہو۔
حافظ ابن حجر نے کہا : یہ روایت منقطع ہے اور یزید بن عیاض متروک ہے۔ ذہبی نے استیعاب اسماء الرجال میں ذکر کیا ہے کہ امام مالک نے کہا : یزید بن عیاض بڑا جھوٹا ہے۔ یحییٰ بن معین نے کہا : ضعیف ہے ‘ ہیچ ہے۔ احمد بن صار نے کہا : لوگوں کیلئے یہ (احادیث) بنا لیتا تھا۔ بخاری اور مسلم نے اس کو منکر الحدیث کہا ہے۔ ابو داؤد نے کہا : اس کی (بیان کی ہوئی) حدیث ترک کردی جائے۔ نسائی نے اس کو متروک کہا ہے اور ایک مقام پر کذاب کہا ہے۔
(3) دارقطنی کی روایت ہے کہ ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا بحوالۂ ثور بن یزید از روایت خالد بن معدان کہ حضرت ابوثعلبہ خشنی نے کہا کہ مجھ سے میرا چچا نے کہا : تو میرے ساتھ مل کر کام کر ‘ میں اپنی لڑکی کا نکاح تجھ سے کر دوں گا۔ میں نے (جواب میں) کہا : اگر میں نے اس سے نکاح کرلیا تو اس کو (میری طرف سے) تین طلاقیں۔ کچھ مدت کے بعد اس سے نکاح کرنا کا مجھے خیال ہوا تو رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے (یہ مسئلہ) دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : تو اسے نکاح کرلے کیونکہ طلاق (جائز) نہیں مگر نکاح کے بعد۔ حسب اجازت میں نے اس سے نکاح کرلیا اور اس سے میرے دو بیٹے پیدا ہوئے اسعد اور سعید۔
ذہبی نے میزان میں لکھا ہے کہ نسائی وغیرہ نے کہا : اگر بقیہ بن ولید لفظ حَدَّثَنَا (ہم سے بیان کیا) کہے تو قابل اعتماد ہے لیکن بہت سے اہل روایت کہتے ہیں کہ بقیہ مدلس تھا ‘ جب وہ کسی حدیث کو از فلاں کہہ کے بیان کرے تو قابل استدلال نہیں ہے۔
ثور بن یزید ضرور ثقہ ہے ‘ صحیح الحدیث ہے لیکن فرقۂ قدریہ میں اس کا داخل ہونا مشہور ہے۔ اس جگہ بقیہ نے یہ حدیث از ثور بن یزید کے لفظ سے بیان کی ہے (اس لئے قابل استدلال نہیں) ابن ہمام نے اس کی سند پر طعن کیا ہے کہ اس سلسلہ میں علی بن قرین ایک راوی ہے جس کو امام احمد نے جھوٹا قرار دیا ہے۔
میں کہتا ہوں : ابن جوزی نے جس سلسلہ میں یہ حدیث بیان کی ہے ‘ وہ دارقطنی کے طریق سے نہیں ہے اور نہ اس میں علی بن قرین آتا ہے۔
(4) حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک آدمی نے کہا : جس روز میں فلاں عورت سے نکاح کروں اس کو (میری طرف سے) طلاق ہے (کیا نکاح کے بعد طلاق پڑجائے گی ( فرمایا : اس نے ایسی طلاق دی جس کا وہ مالک نہیں تھا۔ رواہ الدارقطنی ‘ اس کی سند میں ابو خالد واسطی یعنی عمر ون خالد واقع ہے جس کو بقول ذہبی ‘ ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے اور بقول ابن ہمام ‘ امام احمد اور یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا ہے۔
ابن عدی نے بروایت نافع بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا : رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : طلاق (جائز) نہیں مگر نکاح کے بعد۔ ابن حجر نے کہا : اس سند کے راوی ثقہ ہیں۔
(5) طاؤس نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : نذر (واجب الادا) نہیں مگر اسی صورت میں جب جس میں اللہ کے حکم کی پابندی کی گئی ہو اور قطع قربت کی قسم (واجب الوفاء) نہیں اور (نافذ نہیں) غیرمملوک کو نہ طلاق دینا ‘ نہ آزاد کرنا۔ رواہ الدارقطنی۔ ابن حجر نے کہا : حاکم نے اس کو دوسرے طریق سے نقل کیا ہے جس کے بعض راوی غیرمعروف ہیں۔
حاکم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ابن مسعود نے یہ بات (یعنی وقوع طلاق قبل از نکاح کی) نہیں کہی اور اگر کہی ہو تو یہ ایک عالم کی لغزش ہے۔ اللہ نے تو فرمایا ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھَنَّاس طرح نہیں فرمایا اِذَا طَلَّقْتُمُوْھَنَّ ثُمَّ نَکَحْتُمُوْھُنَّ ۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ ” لاَ طَلاَقَ قَبْلَ نِکَاحٍ “ کی روایت کوئی بھی مرفوع صحیح نہیں۔ سب سے زیادہ صحیح مرسل روایت ہے جو منکدر نے بحوالۂ طاؤس بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : (ظاہر ہے کہ طاؤس صحابی نہ تھے اور کسی صحابی کے حوالہ سے انہوں نے بیان نہیں کیا اس لئے یہ روایت مرسل الصحابی ہے) ۔
(6) حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ نے ابوسفیان بن حرب کو نجران (علاقۂ ) یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور من جملہ دیگر ہدایت کے یہ ہدایت بھی کی کہ جو نکاح میں نہ ہو اس کو آدمی طلاق نہ دے اور نہ اس کو آزاد کرے جس کا مالک نہ ہو۔
ابن حجر نے کہا : ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ حاکم نے بطریق حجاج بن منہال ‘ از روایت ہشام و ستوائی ازعروہ از عائشہ اس کو مرفوعاً ذکر کیا ہے۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ اسی طرح کی حدیث حضرت علی اور حضرت جابر کی روایت سے بھی آئی ہے لیکن سارے سلسلے قطعاً واجب الاجتناب ہیں (کوئی قابل اعتبار نہیں) ۔
میں کہتا ہوں : حضرت علی کی روایت سے مرفوعاً ابن ماجہ نے بیان کیا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق (جائز) نہیں۔ اس کی سند میں جو ییر ضعیف راوی آیا ہے۔ حضرت جابر کی روایت کردہ حدیث میں نے پہلے ذکر کردی ہے۔
اس سلسلہ کی ایک حدیث حضرت مسور بن مخرمہ کی بیان کردہ آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور نہ مالک ہونے سے پہلے آزاد کرنا ہے۔
امام ابوحنیفہ کے قول کی دلیل یہ ہے کہ جو طلاق معلق بالشرط ہو ‘ وہ حقیقت میں طلاق ہی نہیں ہے ‘ جب تعلیق بالشرط کردی گئی تو سبب ‘ سبب موجب نہیں رہا۔ اِنْ دَخَلَتِ الدَّارَفَاَنْتِ طَالِقٌ اور اِنْ نَکَحْتُکِ فَاَنْتِ طَالِقٌ دونوں جملوں میں قسم ہے جو دخول دار اور نکاح سے مانع ہے اور دخول دار اور نکاح وقوع طلاق کی شرط ہے ‘ لہٰذا تعلیق بالشرط طلاق سے مانع ہے اس لئے یہ تعلیق موجب طلاق نہیں ہوسکتی۔ مانع طلاق ہونا اور موجب طلاق ہونا دو متضاد چیزیں ہیں۔ ہاں ‘ وجود شرط کے بعد طلاق بننے کی اس میں صلاحیت ہے اور جب طلاق معلق طلاق نہیں ہے تو آیت سے استدلال بھی صحیح نہیں ہے۔ باقی وہ احادیث جن سے قبل از نکاح طلاق دینے کے جواب کی نفی کی گئی ہے تو ان احادیث میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابو ثعلبہ خشنی کی روایات صحیح نہیں ہیں ‘ عدم صحت کی وجہ اوپر ذکر کردی گئی ہے۔
ایک شبہ جب مشروط طلاق ‘ طلاق ہی نہیں ہے تو پھر اگر کوئی شخص کسی غیر عورت سے کہے کہ اگر تو گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے اور کوئی شخص غیر عورت سے کہے کہ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے ‘ دونوں جملے ایک ہی طرح کے ہیں (دونوں میں طلاق مشرول ہے اور مشروط طلاق تمہارے نزدیک طلاق ہی نہیں ہے) تو پھر اوّل صورت میں انعقاد نہ ہونا اور دوسرے جملہ میں انعقاد ہوجانا کیوں ہے (یعنی مؤخر الذکر جملہ کہنے کے بعد اگر نکاح کرے گا تو طلاق ہوجائے گی اور اوّل الذکر جملہ کہنے کے بعد اگر عورت گھر میں داخل ہوگئی تو مکان میں اس کے داخلہ کا اس کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور طلاق واقع نہ ہوگی) ۔
جواب دونوں جملوں کے حکم میں فرق یہ ہے کہ قسم یا تو اللہ کے خوف کی وجہ سے مانع فعل ہوتی ہے کہ اگر وہ کام کرے گا تو گناہ ہوگا یا یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر وہ کام کیا تو ایسا ناگوار نتیجہ نکلے گا جو قائل کو پسند نہیں مثلاً طلاق پڑجائے گی یا غلام آزاد ہوجائے گا۔ اب اگر وقوع طلاق و عتق کو ملکیت کے ساتھ مشروط کیا گیا ہو تو ڈر کی وجہ سے یقیناً مالک ہونے سے رک سکتا ہے (یعی نکاح کرنا یا غلام کو خریدنا چونکہ قائل کا اپنا فعل ہے اس لئے ڈر کے مارے نہ نکاح کرے گا ‘ نہ غلام کو خریدے گا) لیکن طلاق و عتاق کو کسی غیر عورت کے گھر میں داخل ہونے سے مشروط کیا ہو تو اس جملہ میں اجنبی عورت کیلئے گھر میں داخل ہونے سے کوئی مانع نہیں ‘ لہٰذا اس قسم کے جملہ میں نہ قسم ہونے کی صلاحیت ہے ‘ نہ وقوع طلاق کا سب بننے کی بلکہ ایک لغو کلام ہے۔
ابن ہمام نے لکھا ہے کہ ہمارے مسلک کے مطابق حضرت عمر ‘ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن مسعود کے اقوال بھی مروی ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے ” مصنف “ میں سالم ‘ قاسم بن محمد ‘ عمر بن عبدالعزیز ‘ شعبی ‘ نخعی ‘ زہری ‘ اسود ‘ ابوبکر بن عبدالرحمن اور مکحول شامی کے اقوال بھی یہی نقل کئے ہیں ‘ اگر کسی نے کہا کہ فلاں عورت سے اگر میں نے نکاح کیا تو اس کو طلاق ہے ‘ یا یوں کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے ‘ یا یوں کہا کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے ‘ تینوں صورتوں میں ان علماء کے نزدیک طلاق بعد النکاح پڑجائے گی۔ ہمارے مسلک کی تائید سعید بن مسیب ‘ عطاء ‘ حماد بن ابی سلیمان اور شریح کے اقوال سے بھی ہوتی ہے۔
امام شافعی نے فرمایا کہ جو طلاق معلق بالشرط ہو ‘ وہ طلاق ہی ہے۔ تعلیق بالشرط سبب کو سبب ہونے سے نہیں روکتی بلکہ حکم سے روکتی ہے جیسے بیع بشرط خیار (بیع ہی ہوتی ہے ‘ اختیار مشتری یا اختیار بائع بیع ہونے سے مانع نہیں ہوتا بلکہ حکم بیع اور ملکیت کا حصول مدت خیار ختم ہونے یا خیار کے فسخ کردینے سے ہوتا ہے) حضرت ابو ثعلبہ خشنی کی حدیث میں اس کی کھلی ہوئی تصریح ہے۔ ابن جوزی نے اس کا ذکر کیا ہے اور سند پر کوئی طعن نہیں کیا باوجودیکہ وہ بےباک تنقید کرتے ہیں اور اظہارحق میں تامل نہیں کرتے اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ” لا طلاق قبل النکاح “ یا اس کے ہم معنی الفاظ تو اس میں طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کرنے کی یا ممانعت ہے (اگر نہی کا معنی کیا جائے) یا نفی ہے۔
تنجیز طلاق قبل النکاح کا تو کوئی مفہوم ہی اس کے اندر نہیں ہے اور ایسے کلام سے تنجیز طلاق کا تصور کوئی عاقل کر ہی نہیں سکتا۔ اگر تنجیز کی طرف کلام کا رخ پھیرا جائے گا تو یہ کلام ایسا ہی ہوجائے گا جیسے کوئی کہے کہ پیدائش سے پہلے نماز فرض نہیں۔
آیت مذکورہ میں مَسْ (چھونے اور ہاتھ لگانے) سے مراد ہے جماع کرنا۔
فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا . تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو شمار کرنے لگو۔
عدت یعنی وہ ایام جن میں عورت کیلئے نکاح کرنا ممنوع ہے ‘ اس حکم پر تمام امت کا اتفاق ہے۔
لَکُمْ کا لفظ بتارہا ہے کہ عورتوں پر (بیوہ ہوں یا مطلقہ) عدت کرنے کا حق مردوں کا ہے ‘ اپنے پانی کی حفاظت اور نسب میں شک نہ ہونا عدت کا فائدہ ہے اور نسب مردوں سے ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا کہ اگر کسی ذمی مرد نے کسی ذمی عورت کو طلاق دے دی اور ان کے مذہب میں عدت کا قانون نہیں ہے تو ذمی عورت پر عدت لازم نہ ہوگی اور اگر ان کے مذہب میں وجوب عدت کا قانون ہے تو عورت پر عدت لازم ہوگی۔
حربی عورت اگر مسلمان ہو کر ہمارے ملک میں آجائے گی تو اس کیلئے کوئی عدت نہیں۔ اگر وہ فوراً نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے کیونکہ حربی کافر کا ازروئے شرع کوئی حق نہیں۔ وہ بےجان جمادات کی طرح ہے کہ مسلمان (دوسرے سامان کی طرح) اس کا مالک ہوسکتا ہے۔ ہاں ‘ اگر وہ حاملہ ہوگی تو عدت پوری کرنی ہوگی کیونکہ اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے ‘ وہ ثابت النسب ہے۔ امام ابوحنیفہ کا ایک قول اس صورت میں یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حاملہ سے نکاح تو ہوسکتا ہے لیکن قربت نہیں کی جاسکتی جیسے کسی عورت کو زنا سے حمل ہو تو حالت حمل میں اس سے نکاح تو کیا جاسکتا ہے مگر صحبت نہیں کی جاسکتی۔ امام کا اوّل قول زیادہ صحیح ہے۔
فمتعوھن . تو ان کو کچھ متاع (مال) دے دو ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ حکم اس وقت ہے جب مہر کی مقدار مقرر نہ کی ہو ‘ اگر مہر مقرر ہو تو آدھا واجب الادا ہوگا ‘ متاع لازم نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس کے اس قول پر یہ آیت مخصوص البعض ہوگی۔ قتادہ نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے ‘ آیت فَنِصْفض مَا فَرَضْتُمْ اس کی ناسخ ہے۔ دونوں قولوں کا مآل ایک ہی ہے کہ اگر بغیر جماع کئے کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مہر کی مقدار مقرر تھی تو آدھا مہر ادا کیا جائے گا ‘ اس صورت میں متاع دنیا نہ واجب ہے نہ مستحب۔ بعض کے نزدیک نصف مہر کے ساتھ ساتھ متاع دنیا مستحب ہے ‘ اس قول پر مَتِّعُوْھُنَّ کا امر ستحباب کیلئے ہوگا۔
حسن اور سعید بن جبیر کے نزدیک اس آیت سے متاع دنیا واجب ہو رہا ہے اور سورة بقرہ کی آیت (فَنِصْفض مَا فَرَضْتُمْ ) سے آدھا مہر ادا کرنا لازم قرار پاتا ہے۔
متاع واجب ہے یا مستحب اور متاع کی مقدار کیا ہے ‘ اس میں علماء کے اقوال میں کیا اختلاف ہے ‘ اس کی پوری تفصیل ہم سورة بقرہ میں کرچکے ہیں یہاں مکرر ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
وسرحوھن سراحا جمیلا . اور خوبصورتی سے ان کو رخصت کر دو ۔ یعنی اپنے گھروں سے باہر جانے دو اور ان کی راہ نہ روکو کیونکہ ان پر عدت لازم نہیں۔
جَمِیْلاً سے مراد ہے بغیر دکھ پہنچائے۔
Ayah 33:50یایھا النبی انا احللنالک ازواجک التی اتیت اجورھن اے نبی ! ہم نے آپ کیلئے آپ کی یہ بیویاں
جن کا مہر آپ دے چکے ہیں ‘ حلال کردی ہیں۔
اجور (اجر کی جمع ہے) سے مراد ہے مہر کیونکہ مہر تمتع اندوزی کا بدل ہے ‘ مہر ادا کردینے کی قید (احترازی نہیں بلکہ) ایک واقعہ کا بیان ہے۔ رسول اللہ کی عادت ہی تھی کہ ہر بیوی کا مہر آپ نے فوراً ادا کردیا تھا ‘ یا یوں کہا جائے کہ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ کی صراحت اس لئے کی کہ مہر معجل یعنی مہر کی فوراً ادائیگی افضل ہے اور رسول اللہ نے اسی کو اختیار کیا تھا۔ بہرحال باتفاق علماء (یعنی ان علماء کے نزدیک بھی جو مفہوم مخالف کے قائل ہیں) اس جگہ مفہوم مخالف نہیں ہے (یعنی یہ مطلب نہیں اخذ کیا جاسکتا کہ اگر بیوی کا مہر نقد نہ ادا کیا گیا ہو تو رسول اللہ کیلئے وہ حلال نہ تھی) ۔
وما ملکت یمینک مما افآء اللہ علیک . اور وہ عورتیں بھی آپ کیلئے حلال کردی ہیں جو آپ کی مملوکہ
ہیں اور غنیمت میں اللہ نے آپ کو دلوا دی ہیں۔
مَآ اَفَآءَ اللہ عَلَیْکَکی قید بھی احترازی نہیں ہے ‘ جو علماء مفہوم (مخالف) کے قائل ہیں ان کے نزدیک اس کا کوئی مفہوم (مخالف) نہیں ہے۔ صاحبزادہ حضرت ابراہیم کی والدہ حضرت ماریہ قبطیہ کسی جہاد کے موقع پر گرفتار کر کے نہیں لائی گی تھیں بلکہ مقوقس شاہ مصر نے بطور ہدیہ رسول اللہ کیلئے ان کو بھیجا تھا۔ اَفَآء یعنی جن باندیوں کو کافروں سے لوٹا کر آپ کو عطا کیا ہے ‘ مطلب یہ کہ جو گرفتار کر کے لائی تئی ہوں اور آپ ان کے مالک ہوگئے ہوں جیسے حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ تھیں۔
وبنت عمک وبنت عمتک اور (ا اللہ نے آپ کیلئے حلال کردی ہیں) آپ کے چچا کی بیٹیاں اور پھوپھیوں
کی بیٹیاں۔ یعنی قریش کی بیٹیاں (آپ قریش کی بیٹیوں سے نکاح کرسکتے ہیں ‘ مترجم) ۔
وبنت خالک وبنت خلتک اور آپ کے ماموں کی بٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں۔ یعنی خاندان بنی
زہرہ کی بیٹیاں۔
التی ھاجرون معک . جنہوں نے آپ کی موافقت میں ہجرت کی ہو۔ معیت سے معیت زمانی نہیں ہے (یعنی یہ
مطلب نہیں کہ آپ کے ساتھ آپ کے ہمراہ اور ہم رکاب ہجرت کی ہو) بلکہ معیت سے مراد ہے نفس فعل میں موافقت (یعنی فعل ہجرت میں وہ آپ کے ساتھ ہوں ‘ ہجرت ترک نہ کی ہو) جیسے اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَان میں لفظ مَعَ استعمال کیا گیا ہے گویا قریش اور بنی زہرہ کی ہجرت کرنے والیاں مراد ہیں (خواہ رسول اللہ کی ہجرت سے پہلے انہوں نے ہجرت کی ہو یا بعدکو) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ہجرت کی قید سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جن عورتوں نے ہجرت نہیں کی ‘ ان سے رسول اللہ کا نکاح جائز نہ تھا۔ ترمذی اور حاکم نے بوساطت سدی ‘ ابو صالح کی روایت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے ‘ ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابو طالب نے فرمایا : جب مکہ فتح ہوگیا تو رسول اللہ نے مجھے نکاح کا پیام دیا۔ میں نے معذرت کی ‘ آپ نے میرا عذر قبول کرلیا۔ پھر جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو میں رسول اللہ کیلئے حلال ہی نہیں رہی کیونکہ میں مہاجرات میں سے نہیں تھی 1 طلقاء میں سے تھی (یعنی ان لوگوں میں داخل تھی جن کو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ نے آزادی عطا کردی تھی اور گرفتار نہیں کیا تھا اور فرما دیا تھا : جاؤ ‘ تم سب آزاد ہو ‘ مترجم) ۔
ابن ابی حاتم نے بطریق اسماعیل بن ابو خالد بروایت ابو صالح حضرت ام ہانی کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَز میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ رسول اللہ نے مجھ سے نکاح کرنا چاہتا تھا ‘ پھر آپ کو میرے ساتھ نکاح کرنے کی ممانعت کردی گئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی۔
بغوی نے لکھا ہے : پھر کچھ مدت کے بعد شرط ہجرت منسوخ کردی گئی۔ بعض کے نزدیک آیت میں ہجرت سے مراد اسلام ہے یعنی آپ کے ساتھ مسلمان ہوگئی ہوں۔ رسول اللہ نے فرمایا : مہاجر وہ ہے جس نے وہ تمام امور چھوڑ دئیے ہوں جن کی اللہ نے ممانعت فرما دی ہے ‘ رواہ البخاری۔ آیت کی اس طرح تشریح دلالت کر رہی ہے کہ غیرمسلمہ (خواہ یہودی ہو یا عیسائی) کا نکاح رسول اللہ سے جائز نہیں تھا۔
وامراۃ مؤمنۃ ان وھبت نفسھا للبنی ان اراد النبی ان یستنکحھا اور وہ مسلمان عورت بھی حلال
کر دی ہے جو بلاعوض اپنے آپ کو پیغمبر کو دے دے بشرطیکہ پیغمبر اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اگر غیر مسلمہ خود اپنے کو رسول اللہ کو ہبہ کردی تو آپ کیلئے اس کو نکاح میں لانا جائز نہ تھا (مؤمنہ کی قید اس پر دلالت کر رہی ہے) ۔
علماء کے اقوال اس مسئلہ میں مختلف ہیں کہ کسی غیر مسلمہ سے رسول اللہ کا نکاح جائز تھا یا نہیں تھا ‘ علماء کی ایک جماعت عدم جواز کی قائل ہے کیونکہ اللہ نے وامْرَأَۃً مُّؤْمِنَۃً فرمایا ہے اور ھاجَرْنَ مَعَکَ کا معنی اَسْلَمْنَ مَعَکَ ہم اوپر بیان کر ہی چکے ہیں (جس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلمہ عورتوں سے نکاح حضور ﷺ کیلئے حلال نہیں کیا گیا) ۔
اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا کا یہ مطلب ہے کہ اگر اتفاق سے کوئی مسلمان عورت بغیر مہر کے اپنی ذات کو رسول اللہ کو ہبہ کر دے تو ایسی عورت کو ہم نے نبی کیلئے حلال کردیا ہے ‘ اگر وہ نکاح میں لانا چاہیں تو اس کو اپنے نکاح میں لاسکتے ہیں۔
ہبۂ نفس نکاح کا رکن ہے گویا قبول سے پہلے جو ایجاب ہوتا ہے ‘ یہ ہبہ اس کے قائم مقام ہوجائے گا لیکن صرف ہبہ کرنے سے وہ عورت حلال نہیں ہوجائے گی بلکہ رسول اللہ کی طرف سے اس کو نکاح میں لانے کا ارادہ ضروری ہے ‘ رسول اللہ کی طرف سے نکاح کرنے کی مرضی قبول کے قائم مقام ہوجائے گی ‘ اس طرح نکاح کے دونوں رکن پورے ہوجائیں گے اور نکاح مکمل ہوجائے گا۔
خالصۃً لک من دون المؤمنین . یہ سب آپ کیلئے مخصوص کئے گئے ہیں ‘ نہ اور مؤمنوں کیلئے۔
یعنی دوسرے مسلمانوں پر مہر واجب ہے ‘ قربت کے بعد یا مرنے کے بعد خواہ نکاح کے وقت مہر کا ذکر بالکل نہ کیا گیا ہو۔ یہ اظہار ہے رسول اللہ کی عزت اور شرف نبوت کا جس کی وجہ سے نکاح بلامہر آپ کیلئے جائز کردیا گیا۔ خالصۃً بروزن عافیۃ مصدر ہے ‘ آیت کی یہ تفسیر اس وقت ہوگی جب مذکورہ شرطوں کو احترازی قرار دیا جائے۔ خالصۃً کو موصوف محذوف کی صفت بھی قرار دیا جاسکتا ہے یعنی ہبہ خالص آپ کیلئے ہو ‘ دوسرے مسلمانوں کیلئے نہ ہو۔
ابن سعد نے آیت وامْرَأَۃً مُّؤْمِنَۃً کی بابت عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ام شریک دوسیہ کے بارے میں ہوا۔ ابن سعد نے منیر بن عبد اللہ دوسی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ام شریک عزیہ بنت جابر بن حکیم دوسی نے رسول اللہ کو اپنے نفس کی پیشکش کی تھی۔ عورت خوبصورت تھی ‘ رسول اللہ نے اس کو قبول فرما لیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : جو عورت اپنی ذات کو کسی مرد کو ہبہ کر دے اس کے اندر کوئی بھلائی نہیں۔ ام شریک نے کہا : میں ہی ہوں (کہ اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کیلئے میں نے ہبہ کیا) اللہ نے ان کو مؤمنہ فرمایا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عائشہ نے کہا : اللہ آپ کو آپ کی خواہش جلد عطا کردیتا ہے۔
ابن سعد نے بروایت ابو رزین بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔ عورتوں نے جب یہ دیکھا تو اپنے حقوق سے آپ کو آزاد کردیا کہ آپ جس بیوی کو چاہیں (اپنی قربت کیلئے) دوسری پر ترجیح دیں (یعنی ہر عورت نے اپنی باری کے استحقاق سے آپ کو سبکدوش کردیا) اس پر اللہ نے آیات اِنَّا اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ سے تُرْجِیْ مَنْ تَشَآء الخ تک نازل فرمائیں۔
خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں کہ بغیر (وجوب) مہر کے نکاح کرلینے کی اجازت حضور ﷺ کیلئے مخصوص تھی۔ یہی مطلب ہے آیت اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا کا یعنی اگر کوئی عورت اپنے آپ کو بغیر مہر کے آپ کے نکاح میں دے دے (نکاح بلامہر کو ہبۂ نفس فرمایا ہے) ایک زمانہ میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح کرنا اور نکاح میں رکھنا بھی رسول اللہ کیلئے خاص تھا۔
خَالِصَۃً کا یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ لفظ ہبہ استعمال کر کے نکاح کا انعقاد رسول اللہ کیلئے مخصوص تھا ‘ دوسروں کیلئے جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بلفظ ہبہ نکاح کا انعقاد رسول اللہ کے ہی لئے مخصوص نہ تھا بلکہ ہر شخص کا نکاح بلفظ ہبہ ہوسکتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : پہلا قول سعید ابن مسیب ‘ زہری ‘ مجاہد ‘ عطاء ‘ ربیعہ ‘ مالک اور شافعی کا ہے ‘ سب کے نزدیک رسول اللہ کے علاوہ کسی کا نکاح بھی بغیر نفط نکاح یا تزویج کے نہیں ہوسکتا۔
میں کہتا ہوں : یہی قول امام احمد کا بھی ہے لیکن اختلاف ائمہ کے ذیل میں امام احمد کا قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص کا نکاح بلفظ ہبہ ہوسکتا ہے۔
امام ابوحنیفہ نے فرمایا : جو لفظ دوامی انتقال ملکیت پر دلالت کرتا ہو (اس کو اگر عورت نے استعمال کیا) تو اس سے نکاح ہوجاتا ہے جیسے لفظ ہبہ ‘ بیع ‘ صدقہ ‘ تملیک وغیرہ۔
اگر لفظ عاریت یا اجرت استعمال کیا ہو (مثلاً یہ کہا ہو کہ میں نے اجرت پر یا بغیر اجرت کے صرف عاریۃً اپنا نفس تجھے دیا) تو اس سے نکاح نہیں ہوگا (کیونکہ ان الفاظ سے دوامی انتقال ملکیت نہیں ہوتا بلکہ عارضی تملیک منفعت ہوجاتا ہے) کرخی کے نزدیک مذکورہ بالا دونوں لفظوں سے نکاح ہوجاتا ہے کیونکہ ان دونوں لفظوں سے منفعت اندوزی کا تو اختیار حاصل ہوجاتا ہے اور نکاح میں منفعت اندوزی کی ہی ملکیت ہوتی ہے (ملکیت رقبہ حاصل نہیں ہوتی) ہم کہتے ہیں : ان لفظوں سے ملکیت تمتع بھی (دوامی) حاصل نہیں ہوتی اس لئے ان لفظوں کو بطور استعارہ نکاح کیلئے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ اسی طرح لفظ وصیت سے بھی نکاح نہیں ہوتا کیونکہ وصیت سے انتقال ملکیت مرنے کے بعد ہوتا ہے۔ طحطاوی نے لکھا ہے : لفظ وصیت سے کسی قدر ملکیت رقبہ کا حصول تو ہو ہی جاتا ہے اس لئے لفظ وصیت سے نکاح ہوجائے گا۔
کرخی نے کہا : اگر لفظ وصیت کو ایسے لفظ سے مشروط کردیا جو وجود حال پر دلالت کر رہا ہو تو نکاح ہوجائے گا جیسے (نکاح کے وقت) یوں کہا : اَوصْیَیْتُ لَکَ بِنْتِیْ ھٰذَہٖ الْاٰنَ میں نے تیرے لئے اپنی اس لڑکی کی اس وقت وصیت کردی یعنی اس وقت تیرے نکاح میں دے دیا ‘ اس صورت میں لفظ وصیت بمعنیء نکاح مجازاً ہوجائے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ لفظ وصیت میں (موت کی طرف) اضافت داخل ہے (یعنی وصیت کے لفظ میں ہی تملیک بعد الموت کا مفہوم ماخوذ ہے) اور لفظ نکاح میں عدم اضافت ماخوذ ہے (یعنی لفظ نکاح کے اندر دوامی غیر موقت تملیک ماخوذ ہے) دونوں میں تضاد ہے (اس لئے ایک دوسرے کی جگہ نہیں استعمال کیا جاسکتا) ۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کیلئے بھی دوسرے افراد امت کی طرح بغیر لفظ نکاہ یا تزویج کے کسی دوسرے لفظ سے نکاح جائز نہیں تھا اس لئے کہ اللہ نے اِنْ اَرَادَا النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنِکَھَا فرمایا ہے ‘ آیت میں لفظ ہبہ کا نکاح پر اطلاق مجازی ہے۔
بیضاوی نے اس آیت سے امام شافعی کے مسلک پر استدلال کیا ہے اور لکھا ہے کہ لفظ معنی کے تابع ہوتے ہیں اور (نکاح بلامہر کا) رسول اللہ کے ساتھ معنوی اختصاص تو باتفاق علماء ہے (لہٰذا لفظ ہبہ سے نکاح کا انعقاد بھی رسول اللہ کیلئے ہی مخصوص تھا) ۔
بیضاوی کا یہ قول صحیح نہیں ہے۔ لفظ ہبہ کا نکاح پر اطلاق تو بہرحال مجازی ہے ‘ پھر کوئی وجہ نہیں کہ الفاظ مجازی کے استعمال کی خصوصیت صرف رسول اللہ کیلئے ہو اور لفظ ہبہ سے نکاح مراد لینا فقط رسول اللہ ہی کیلئے ہو۔ لفظ ہبہ میں نکاح کا معنی مراد ہونے کی تو صلاحیت مجازاً موجود ہی ہے۔
ایک شبہ ہبہ کا حقیقی معنی تو بہرحال مراد نہیں ہے ‘ ہبہ کا حقیقی معنی تَمْلِیْکَ عَیْنَ (نفس شیء میں ہر طرح کا تصرف کرنا ‘ شیء مملوک سے کام لینا یا فروخت کردینا یا کسی کو بلامعاوضہ بخش دینا وغیرہ) اور یہاں تملیک عین (یعنی اپنی ذات کو مملوک بنا دینا) مراد نہیں ہے بلکہ بلاعوض (اور بغیر مہر کے) تمتع اندوازی کا اختیار دینا مراد ہے ‘ پس اس جگہ جب رسول اللہ کے ساتھ خاص طور پر لفظ ہبہ کا مجازی معنی کیلئے استعمال کیا گیا ہے تو دوسروں کیلئے لفظ ہبہ سے نکاح مراد نہیں ہوسکتا۔
ازالہ ہبہ کا مجازی معنی تملیک منافع (یعنی تمتع اندوزی کا اختیار دے دینا) ہے بالعوض ہو یا بلاعوض ‘ صرف بلاعوض تملیک منفعت ہی لفظ ہبہ کا مجازی معنی نہیں ہے (اس لئے رسول اللہ کیلئے ہبہ بمعنی نکاح بلامہر ہوگیا اور دوسروں کیلئے بمعنی بعوض مہر ہوگا) کوئی وجہ نہیں کہ ہبہ بمعنی نکاح مطلقاً (بالعوض اور بلاعوض) رسول اللہ کیلئے مخصوص مانا جائے۔
ابن ہمام نے لکھا ہے : اصل میں کلام طریق مجاز کے تحقیق میں ہے۔ امام شافعی کے نزدیک چونکہ مجازی کی مجوز کوئی وجہ موجود نہیں ہے اس لئے انہوں نے تحقق مجاز کی نفی کی ہے اور اس پر دو دلیلیں قائم کی ہیں : ایک اجمالی ‘ دسری تفصیلی۔
مجمل دلیل یہ ہے کہ اگر مجازی معنی مراد لینا صحیح ہوگا تو دونوں طرف سے تجویز مجاز جائز قرار دینی ہوگی۔ جب ہبہ کو بمعنی نکاح لینا جائز ہوگا تو نکاح کو بمعنی ہبہ لینا بھی درست ہوگا اور بجائے وَھَبْتُکَ ھٰذَا الثَّوْبَکے نَکَحْتُکَ ھٰذَا الثَّوْبَ بھی صحیح ہوگا اور ایسا کہنا لغت کے خلاف ہے۔
تفصیلی دلیل یہ ہے کہ لغت میں تزویج کا لغوی معنی ہے دو چیزوں کو باہم ملا دینا ‘ جوڑ دینا اور نکاح کا معنی بھی ملا دینا ‘ جمع کردینا ہے اور مالک و مملوک میں جوڑا اور جمع ممکن نہیں ‘ اسی وجہ سے اگر زوجین میں سے ایک دوسرے کا مالک ہوجائے تو نکاح فاسد ہوجاتا ہے لہٰذ لفظ ہبہ (جو بمعنیء تملیک ہے) بول کر نکاح مراد لینا صحیح نہیں ہے۔
شافعی کے خلاف ہماری مجمل دلیل یہ ہے کہ اگر ہبہ اور نکاح میں کوئی مجازی علاقہ نہیں ہے تو رسول اللہ کا نکاح بھی بلفظ ہبہ نہ ہونا چاہئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دونوں لفظوں میں مجازی علاقہ ہے ‘ پس جب نکاح بلاعوض اور لفظ ہبہ کے درمیان مجازی علاقہ ہونا ضروری ہوا تو مطلق نکاح اور ہبہ میں بھی یہی علاقہ ضرور ہوگا کیونکہ عام ‘ خاص کے اندر پایا جاتا ہے۔
ہماری دوسری دلیل یہ ہے کہ ہبہ کا حقیقی معنی ہے تملیک عین (نفس شیء کا مالک بنا دینا) اور ملکیت عین حاصل ہونے سے ملکیت منفعت حاصل ہوجاتی ہے۔ تملیک عین ‘ تملیک فوائد کا سبب ہے اور ملک منافع منفعت کے محل میں نکاح سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا بطری مجاز ہوتا (گویا قیاس یوں بنا ‘ ہبہ سے ملکیت نفس شیء حاصل ہوتی ہے اور ملکیت عین ‘ ملکیت منفعت فی محلہا کا سبب ہے اور نکاح سے ملک منفعت فی محلہا حاصل ہوتی ہے لہٰذا ہبہ اور نکاح میں مجاز کا علاقۂ سببت ہوا) ۔ رہی یہ بات کہ جب نکاح اور ہبہ کے درمیان مسببیت اور سببت کا علاقہ ہے تو پھر لفظ نکاح بول کر ہبہ مراد لینا بھی درست قرار پائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصول فقہ میں یہ مسئلہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ مسبب بول کر سبب مراد لینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ہاں ‘ اگر مشروعیت سبب مقصود ہو تو خیر۔
اور ملکیت تمتع کا حصول جو مقتضاء نکاح ہے ‘ مقصود تملیک نہیں ہے بلکہ تملیک کا مقصد ہے ملکیت عین کا حصول۔
رہا شافعی کا یہ قول کہ مالک و مملوک کے درمیان نہ جوڑ ہوتا ہے ‘ نہ ازدواج تو یہ بات ناقابل تسلیم ہے ‘ اس کی کوئی دلیل نہیں۔
بغوی نے لکھا ہے : کیا رسول اللہ کے پاس کوئی ایسی عورت تھی جس نے اپنے آپ کو رسول اللہ کو ہبہ کردیا ہو یا نہیں تھی ؟ علماء روایت کے اس کے متعلق اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ رسول اللہ کے پاس کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس سے آپ نے عقد نکاح نہ کیا ہو یا وہ آپ کی ملک میں نہ ہو (یعنی باندی نہ ہو) رہی آیت اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا یہ کلام بطور شرط ہے۔ دوسرے علماء قائل ہیں کہ حضور ﷺ کے پاس ایسی واہبات النفس عورتوں میں سے ایک (برقول شعبی) زینب بنت خزیمہ انصاریہ تھیں جن کو ام المساکین کہا جاتا تھا اور برقول قتادہ ‘ میمونہ بنت حارث بھی ایسی ہی تھیں۔ حضرت امام زین العابدین بن امام حسین اور ضحاک و مقاتل نے کہا : ام شریک بنت جابر اسدیہ بھی ایسی ہی تھیں۔
ابن سعد ‘ ابن شبیہ ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور طبرانی نے حضرت علی بن حسین کی روایت سے اور ابن سعد نے عکرمہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ ایسی عورت ام شریک بنت جابر تھیں۔ عروہ بن زبیر نے کہا : ایسی عورت قبیلہ بنی سلیم کی خولہ بنت حکیم تھیں۔
قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج
وکان اللہ غفورًا رحیمًا . ہم (وہ احکام) جانتے ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے بارے میں ان پر واجب کئے اور اللہ بڑا بخشنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔
فَرَضْنَا ہم نے واجب کئے ہیں فِیْٓ اَزْوَاجِھِمْ یعنی نکاح ‘ مہر ‘ باری کی تقسیم۔ اگر مہر مقرر نہ کیا ہو تو جماع کے بعد مہر کا وجوب ‘ ایک وقت میں چار عورتیں رکھنے کی اجازت وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ اور ان کے بارے میں جو ان کی مملوکہ ہوں ‘ خواہ باندی ہوں یا کسی اور طریقہ سے مالک بنے ہوں ‘ مگر وہ ایسی ہوں کہ مالک کیلئے حلال ہوں یعنی کتابیہ (یہودی یا عیسائی) ہوں ‘ مجوسی اور بت پرست نہ ہوں اور قربت سے پہلے استبراء رحم کرلیا جائے ‘ ان کی تعداد معین نہیں کی ‘ نہ ان کی کوئی باری مقرر کی۔
لِکَیْلاَ یَکُوْنَ یعنی خاص طور پر آپ کیلئے حلال کی ہیں تاکہ آپ کیلئے تنگی نہ ہو ‘ وَکَانَ اللہ غَفُوْرًا یعنی جن باتوں سے پرہیز کرنا اور بچنا دشوار ہے ‘ ان کو بخشنے والا ہے۔
رَحِیْمًا یعنی جہاں تنگی کا خیال ہو ‘ وہاں اس نے گنجائش رکھ دی ہے۔ شیخین نے صحیحین میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی تھیں : کیا عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنی جان کو ہبہ کرتی ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 33:51ترجی من تشآء منھن وتؤی الیک من تشآء . ان میں سے آپ جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں)
اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے پاس رکھیں۔ یہ آیت سن کر حضرت عائشہ نے کہا : میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش جلد پوری کردیتا ہے۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پر غیرت آتی تھی جو اپنی ذات کو رسول اللہ کیلئے ہبہ کرتی تھیں اور میں کہتی تھی : کیا عورت اپنے آپ کو ہبہ کرسکتی ہے ؟ لیکن جب آیت تُرْجِیْ مَنْ تَشَآء الخ نازل ہوئی تو میں نے کہا : مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ آپ کا رب آپ کی خواہش جلد پوری کردیتا ہے۔
تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ کا معنی ہے آپ جس کو چاہیں پیچھے کردیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت میں اہل تفسیر کا اختلاف ہے۔ سب سے زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ اس آیت کا نزول باری تقسیم کرنے کے سلسلہ میں ہوا۔ پہلے عورتوں میں برابری کرنا رسول اللہ پر واجب تھا ‘ اس آیت کے نزول کے بعد برابری رکھنے کا حکم ساقط کردیا گیا اور عورتوں کے معاملہ میں رسول اللہ کو پورا اختیار دے دیا گیا۔
ابو زید اور ابن زید نے کہا : اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب بعض امہات المؤمنین نے رسول اللہ کے سلسلہ میں رشک کیا اور بعض نے زیادہ مصارف طلب کئے تو رسول اللہ نے ایک ماہ تک سب سے ترک تعلق کرلیا تھا یہاں تک کہ آیت تخییر نازل ہوئی اور اللہ نے حکم دے دیا کہ عورتوں کو اختیار دے دو کہ وہ دنیا کو پسند کرلیں یا آخرت کو۔ جو دنیا کو پسند کریں ان کے راستہ میں رکاوٹ نہ پیدا کرو (ان کو آزاد کر دو ) اور جو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کریں ان کو اپنے پاس رکھو لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مؤمنوں کی مائیں ہوں گی ‘ کبھی کسی اور سے (آپ کے بعد) نکاح نہیں کرسکیں گی۔ اور ایک شرط یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جس کو چاہیں گے رسول خدا ﷺ اپنے پاس رکھیں گے اور جس کو چاہیں گے دور رکھیں گے۔ رسول اللہ کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ جس کی باری چاہیں مقرر کریں ‘ چاہیں نہ کریں اور مصارف و باری کی تقسیم میں جس کو چاہیں ترجیح دیں ‘ یہ سارے اختیارات رسول اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ یہ خصوصیت صرف رسول اللہ کو عطا کی گئی تھی۔ امہات المؤمنین نے یہ تمام شرائط مان لیں اور ان شرائط پر آپ کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئیں۔
میں کہتا ہوں : یہ امتیازی حکم صرف رسول اللہ ہی کیلئے نہیں بلکہ ساری امت کیلئے اس کا جواب ہے۔ اگر کسی کے پاس چند عورتیں ہوں اور وہ اپنے حقوق نکاح مثلاً مصارف اور باری کی تقسیم میں مساوات کی طلب گار ہوں اور شوہر ان سے کہہ دے کہ اگر تم چاہو تو آؤ میں تم کو سامان دے کر خوبصورتی کے ساتھ تم کو رخصت کر دوں اور تم میں سے جو عورت میرے نکاح میں بغیر طلب مصارف کے ان شرائط پر رہنا چاہے کہ میں جس کو چاہوں گا اپنے پاس رکھوں گا اور جس کو چاہوں گا دور رکھوں گا ‘ مجھے اختیار ہوگا کہ میں باری مقرر کروں یا نہ کروں ‘ یا کسی کی کروں ‘ اور کسی کی نہ کروں اور یہ بھی اختیار ہوگا کہ مصارف طعام و لباس ایک کو کم دوں ‘ دوسری کو زیادہ دوں اور ان تمام شرائط پر عورتیں کہہ دیں کہ ہم کو یہ سب شرطیں منظور ہیں ‘ ہم تو تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہیں ‘ ہم اپنے حقوق سے دست بردار ہوتی ہیں ‘ آپ جیسا چاہیں کریں تو اس صورت میں شوہر کو پورا اختیار ہوجاتا ہے کہ کسی کے حقوق نکاح اس پر باقی نہیں رہتے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے کیا کسی بیوی کو باری کی تقسیم سے خارج کردیا تھا یا نہیں ؟ اس میں روایات کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے کہ باوجود کامل اختیار مل جانے کے رسول اللہ نے سوائے حضرت سودہ کے اور کسی بیوی کو باری کی تقسیم سے خاری نہیں کیا۔ حضرت سودہ خود اپنے حقوق سے دست بردار ہوگئیں اور انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ اختیار ملنے کے بعد رسول اللہ نے بعض بیویوں کو باری کی تقسیم سے خارج کردیا تھا۔ ابن جریر نے بوساطت منصور ابو رزین کی روایت بیان کی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو امہات المؤمنین کو اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ ہم کو طلاق دے دیں اس لئے سب نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ اپنی ذات میں اور مال میں جتنا چاہیں ہم کو دیں اور ہم کو ہمارے حال پر رہنے دیں (طلاق نہ دیں) اس پر آیت تُرْجِیْ مَنْ تَشَآء الخ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے بعض عورتوں کو پیچھے ڈال دیا اور بعض کو اپنے قرب میں رکھا۔ جن کو قریب رکھا ‘ ان میں عائشہ ‘ حفصہ اور ام سلمہ تھیں۔ آپ نے ان تینوں کیلئے باری کی تقسیم برابر ‘ برابر کردی اور پانچ بیویوں کو دور رکھا : ام حبیبہ ‘ سودہ ‘ صفیہ ‘ میمونہ ‘ جویریہ ‘ ان کیلئے جب آپ چاہتے تھے باری تقسیم کردیتے تھے۔
بخاری نے حضرت معاذہ کی روایت سے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا ہے کہ کسی عورت کی باری کے دن رسول اللہ ہم سے (کسی بیوی کے پاس رہنے کی) اجازت طلب کرتے تھے اور یہ واقعہ آیت تُرْجِیْ مَنْ تَشَآء الخ کے نزول کے بعد کا ہے۔ حضرت معاذہ نے کہا کہ میں نے پوچھا : آپ کیا کہتی تھیں ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں کہتی تھی کہ اگر اس کا اختیار میرے ہاتھ میں ہے تو میں کسی کو آپ کے معاملہ میں اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گی۔
مجاہد نے کہا : تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مَنْھُنَّ کا مطلب یہ ہے کہ آپ جس بیوی سے بغیر طلاق دئیے کنارہ کش رہنا چاہیں ‘ کنارہ کش رہیں اور کنارہ کش ہونے کے بعد اگر پھر اس کو بغیر تجدید نکاح کے اپنے پاس واپس لانا چاہیں تو لاسکتے ہیں۔
بعض کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ جس بیوی کو چاہیں آپ طلاق دے دیں اور جس کو چاہیں اپنے عقد میں باقی رکھیں۔ حسن نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اپنی امت کی جس عورت سے آپ نکاح کرنا چاہیں ‘ کرسکتے ہیں اور نکاح نہ کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ چناچہ رسول اللہ جب کسی عورت کو اپنا پیام بھیجتے تھے تو جب تک خود ہی اپنے پیام سے دست بردار نہ ہوجائیں ‘ کسی دوسرے شخص کیلئے اس عورت کو پیام بھیجنا جائز نہ تھا۔
بعض نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو مؤمن عورتیں اپنے آپ کو آپ کیلئے ہبہ کردیں آپ ان میں سے جس کو چاہیں قبول کرلیں اور اپنے پاس جگہ دیں اور جس کو قبول نہ کرنا چاہیں ‘ رد کردیں۔
بغوی نے لکھا ہے : ہشام نے اپنے باپ کی رویت سے بیان کیا کہ جن عورتوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ کیلئے ہبہ کردیا تھا ‘ ان میں سے خولہ بنت حکیم بھی تھیں۔ حضرت عائشہ نے کہا : کیا عورت کو شرم نہیں آتی کہ مرد کیلئے اپنے کو ہبہ کرتی ہے ؟ پھر جب آیت تُوؤْیْٓ مَنْ تَشَآءُ مَنْھُنَّ الخ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش جلد پوری کردیتا ہے۔
ذلک ادنی ان تقراعینھن ولا یحزن ویرضین بما اتیتھن کلھن اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان
کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دے دیں گے اس پر سب کی سب راضی رہیں گی۔
ذٰلِکَ یعنی یہ اختیار جو آپ کو دیا گیا ہے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی رکھنے اور آزردہ خاطر نہ ہونے اور سب کے راضی رہنے سے بہت زیادہ قریب (تعلق رکھنے والا) ہے کیونکہ اس میں سب برابر ہیں (سب کا اختیار آپ کو ہے ‘ کوئی خود مختار نہیں رہی) پھر اگر آپ ان میں سے کسی کو اپنے پاس بلا لیں گے تو وہ آپ کے اس فعل کو آپ کی مہربانی سمجھے گی اور جس سے کنارہ کش ہوجائیں گے تو وہ اس کو حکم خدا سمجھے گی بلکہ اس میں بھی آپ کی مہربانی سمجھے گی کہ آپ نے اس کو صرف اپنے قرب سے ہٹا دیا ‘ نکاح سے تو خارج نہیں کیا حالانکہ آپ کو اس کی ضرورت نہیں تھی (طلاق دے سکتے تھے) ۔
وا اللہ یعلم ما فی قلوبکم . اور اللہ کو تم لوگوں کے دلوں کی باتیں معلوم ہیں۔ اس میں اس بی بی کیلئے وعید ہے جو
رسول اللہ ﷺ کی منشاء پر راضی نہ ہو۔
بعض اہل علم نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارے دلوں کے اندر جو بعض عورتوں کی طرف جھکاؤ اور میلان ہوتا ہے ‘ اللہ اس سے واقف ہے اور ہم نے رسول اللہ کی آسانی کیلئے یہ اختیار ان کو دے دیا ہے۔
وکان اللہ علیمًا حلیمًا . اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا اور حلم والا ہے۔ یعنی جاننے کے باوجود فوری سزا نہیں دیتا ‘ اس سے ڈرتے رہنا ضروری ہے۔
ابن سعد نے عکرمہ کی روایت سے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ نے بیبیوں کو (آپ کے ساتھ رہنے ‘ نہ رہنے کا) اختیار دے دیا اور بیبیوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت ذیل نازل فرمائی۔
Ayah 33:52لایحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج ولو اعجبک حسنھن الا ما
ملکت یمینک . ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان (موجودہ) بیبیوں (کو چھوڑ کر ان) کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں ‘ خواہ آپ کو ان کا حسن دل پسند ہو مگر جو آپ کی باندیاں ہوں (ان کو گھٹا بڑھا سکتے ہیں) ۔
مِنْم بَعْدُ یعنی آج کے بعد یہاں تک کہ اگر موجودہ عورتوں میں سے کوئی مرجانے تو اس کی جگہ بھی دوسری بیوی کرنا درست نہیں۔
وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ یعنی یہ بھی آپ کیلئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے کر کسی اور عورت سے اس کی بجائے نکاح کرلیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ نے بیبیوں کو اختیار دے دیا اور بیبیوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی اختیار کیا تو اللہ نے ان کی قدردانی فرمائی اور پیغمبر کیلئے موجودہ بیبیوں کے علاوہ دوسری عورتوں کو حرام کردیا اور اس کی بھی ممانعت کردی کہ ان بیبیوں میں سے کسی کو طلاق دے کر کسی اور عورت سے نکاح کرسکیں۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ اس امر میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس ممانعت کے بعد کیا پھر دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کی اباحت کا کوئی حکم نازل کیا گیا یا نہیں ؟ عطاء نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کی وفات سے پہلے اللہ نے آپ کیلئے حلال کردیا تھا کہ جن عورتوں سے سوائے محرم کے آپ نکاح کرنا چاہیں ‘ کرسکتے ہیں۔ آیت تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ وَتُوؤْیْٓ الَیْکَ مَنْ تَشَآء میں اس کی اجازت دے دی گئی تھی کیونکہ یہ آیت اگرچہ ترتیب قرأت میں پہلے ہے لیکن نزول میں مؤخر ہے (لا یحل لک النساء کے بعد آیت ترجی من تشآء نازل ہوئی تھی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ عکرمہ اور ضحاک نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے کہ جن عورتوں کا صفات متقدمہ کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے ‘ ان کے بعد دوسری عورتوں سے آپ کیلئے نکاح حلال نہیں۔ حضرت ابی بن کعب سے دریافت کیا گیا : اگر رسول اللہ کی (ساری) بیبیاں وفات پا جاتیں تو کیا آپ کیلئے جدید نکاح کرنا جائز تھا ؟ فرمایا : اس کی ممانعت کرنے والی کیا چیز تھی ؟ عرض کیا گیا : اللہ نے فرما دیا تھا : لاَ یْحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْم بَعْدُ فرمایا : آیت یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الخ میں اللہ نے ایک خاص قسم کی عورتیں آپ کیلئے حلال کردی تھیں پھر (اور قسم کی عورتیں حرام کرنے کیلئے) فرمایا : لاَ یْحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْم بَعْدُ (یعنی ایسی عورتوں کے علاوہ دوسری طرح کی عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں ‘ مترجم) ابوصالح نے کہا : رسول اللہ کو حکم دیا گیا تھا کہ نہ کسی اعرابی عورت سے نکاح کریں ‘ نہ کسی (عام) عربی عورت سے بلکہ اپنے قبیلہ کنبہ کی عورتوں سے نکاح کریں ‘ چچا پھوپھی کی بیٹیاں ہوں یا ماموں خالہ کی۔ قبیلہ والی تین سو عورتوں سے بھی نکاح کرسکتے ہیں۔
مجاہد نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مسلم عورتوں کے بعد کسی یہودن یا عیسائی عورت سے نکاح کرنا آپ کیلئے حلال نہیں ‘ نہ یہ جائز ہے کہ مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ غیر مسلمہ سے نکاح کرو۔ مطلب یہ ہے کہ ام المؤمنین نہ کوئی یہودی عورت ہوسکتی ہے ‘ نہ عیسائی عورت۔ ہاں ‘ کتابی مذہب کی باندیاں اس حکم سے مستثنیٰ تھیں۔
ضحاک نے اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ کا یہ مطلب بتایا کہ جو بیبیاں آپ کے نکاح میں ہیں ‘ ان کو طلاق دے کر دوسری عورتوں سے نکاح کرنا آپ کیلئے حلال نہیں۔ یعنی موجودہ بیبیوں کو طلاق دینے کی ممانعت کردی کیونکہ ان کو امہات المؤمنین بنا دیا گیا اور دوسروں کیلئے ان کو حرام کردیا گیا ‘ دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کی ممانعت نہیں کی۔
ابن زید نے آیت ولا اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ کی تشریح میں کہا : جاہلیت کے زمانہ میں لوگ بیبیوں کی بدلی کرلیتے تھے۔ ایک شخص دوسرے سے کہتا تھا کہ اپنی بی بی سے میری بی بی بدل لو۔ مجھے اپنی بی بی دے دو ‘ میں اپنی بی بی تم کو دے دوں گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیبیوں کا تبادلہ آپ کیلئے حلال نہیں۔ اپنی بی بی دوسرے کو دے دو اور دوسرے کی بی بی خود لے لو ‘ یہ جائز نہیں۔ ہاں ‘ باندیاں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ‘ کوئی حرج نہیں اگر اپنی باندی دے کر اس کے بدلہ میں دوسرے کی باندی لے لو ‘ بیبیوں کا تبادلہ حرام ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ عیینہ بن حصن بغیر اجازت لئے رسول اللہ کے پس اندر آگیا ‘ حضور ﷺ کے پاس اس وقت حضرت عائشہ موجود تھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اجازت داخلہ کیوں نہیں لی ؟ عیینہ نے کہا : یا رسول اللہ جب سے میں جوان ہوا ہوں میں نے مضر (حجازی عرب) کے کسی شخص سے داخلہ کی اجازت نہیں لی۔ پھر کہنے لگا : آپ کے پہلو میں گوری عورت کون ہے ؟ فرمایا : عائشہ ہیں۔ وہ بولا : کیا ایک حسین ترین عورت دے کر آپ سے اس کا تبادلہ نہ کرلوں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے یہ حرام کردیا ہے۔ عیینہ جب نکل کر چلا گیا تو حضرت عائشہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کون تھا ؟ فرمایا : یہ ایک احمق ہے جس کا حکم مانا جاتا ہے۔ جو حالت تم نے اس کی دیکھی ‘ اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔
وَلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ یعنی ان عورتوں کا حسن جن سے تم نکاح کے خواہشمند ہو ‘ تمہیں اگرچہ پسند بھی آئے۔
بغوی نے کہا : مطلب یہ ہے کہ آپ کیلئے حلال نہیں کہ اپنی بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے دو اور اس کی جگہ دوسری سے نکاح کرلو ‘ خواہ اس کی خوبصورتی آپ کو کیسی ہی بھلی معلوم ہو۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : ایسی (حسین) عورت جعفر بن ابی طالب کی بیوی بنت عمیس خثعمیہ تھی۔ جب جعفر شہید ہوگئے تو رسول اللہ نے اس کے پاس اپنا پیام بھجوانا چاہا لیکن آپ کو اس کی ممانعت کردی گئی۔ اِلاَّ مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَط حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کے نزول کے بعد صاحبزادۂ ابراہیم کی والدہ حضرت ماریہ حضور ﷺ کی ملک میں داخل ہوئیں (مقوقس شاہ مصر نے دو لونڈیاں خدمت گرامی میں بطور ہدیہ بھیجی تھیں : ایک سرین ‘ دوسری ماریہ۔ انہی ماریہ کے شکم سے حضور گرامی ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے) ۔
وکان اللہ علی کل شیء رقیبًا اور اللہ ہر چیز کا پورا نگران ہے اس لئے تم اللہ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی
قائم کی ہوئی حد سے تجاوز نہ کرو۔
مسئلہ : بغوی نے لکھا ہے کہ آیت میں دلیل ہے اس امر کی کہ مرد جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو ‘ اس کو دیکھنا جائز ہے۔ حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ؛ اگر تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیام دینا چاہتا ہو تو اس کیلئے ایسے اعضاء کو دیکھنا جو نکاح کی دعوت دیں ‘ ممکن ہو تو ایسا کرے۔ رواہ ابو داؤد۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیام بھیجا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اس کو دیکھ لیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : اس کی طرف دیکھ لو ‘ تم دونوں میں اتفاق قائم رکھنے کیلئے یہ بات زیادہ مناسب ہے ‘ رواہ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والدارمی۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ ایک شخص نے کسی انصاری عورت سے نکاح کرنا چاہا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اس کی طرف دیکھ لو ‘ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے (یعنی پیلا پن) رواہ مسلم۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ نے حضرت زینب بنت جحش سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی۔ لوگ آئے ‘ کھانا کھایا ‘ پھر بیٹھے باتیں کرتے رہے (تنگ آکر) رسول اللہ نے ایسی صورت اختیار کی جیسے اٹھنے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن لوگ پھر بھی نہ اٹھے۔ حضور ﷺ نے یہ دیکھا کہ (لوگ اٹھتے ہی نہیں ہیں) تو خود اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ کے کھڑے ہونے کے ساتھ ہی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ‘ مگر تین آدمی پھر بھی بیٹھے رہے (رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے) کچھ دیر کے بعد (واپس آئے اور) اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا تو وہ لوگ اس وقت بھی بیٹھے ہوئے تھے (حضور ﷺ پھر تشریف لے گئے) کچھ دیر کے بعد وہ لوگ اٹھ گئے ‘ میں نے جا کر حضور ﷺ کو اطلاع دے دی کہ اب وہ لوگ چلے گئے۔ آپ فوراً تشریف لے آئے اور اندر داخل ہوگئے۔ میں بھی اندر جانے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ چھوڑ دیا اور آیت ذیل نازل ہوئی۔