Ayah 26:201لا یومنون بہ یہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اس آیت میں اللہ نے اس شخص کی حالت بیان فرمائی ہے جس کا
شرک پر مرنا اللہ کے علم میں ہے۔
حتی یروا العذاب الالیم۔ یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں جس کی وجہ سے ایمان پر مجبور ہوجائیں اور یہ عذاب مرنے کے بعد قبروں میں ہوگا (اور اس وقت ایمان مفید نہ ہوگا) ۔
Ayah 26:202فیاتیہم بغتۃ وہم لا یشعرون۔ پھر ان پر عذاب اچانک آجائے گا اور ان کو احساس بھی نہ ہو پائے گا۔
Ayah 26:203فیقولوا ہل نحن منظرون۔ (اس وقت حسرت وافسوس کے ساتھ) کہیں گے کاش ہم کو مہلت دے دی جاتی۔ یہ استفہام اظہار تمنا کے لئے ہوگا۔ وہ دنیا میں لوٹ کر جانے کی تمنا کریں گے۔ مقاتل نے بیان کیا کہ جب اللہ نے اپنے رسول کی زبانی کافروں کو عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے۔ کب تک عذاب سے ڈراتے رہو گے آخر عذاب کب آئے گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی۔
Ayah 26:204افبعذابنا یستعجلون۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے جلد آپہنچنے کے خواستگار ہیں یعنی نزول عذاب کے وقت تو یہ
مہلت ملنے کے طلبگار ہوں گے اور اب فوری عذاب کے خواستگار ہیں۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ یہ آیت کافروں کے ان اقوال کی طرف اشارہ ہے جن میں بعض کافروں نے کہا تھا اَنْزِلْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِاءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍاور یوں بھی کہا تھا فاتِنَا بِمَا تُعِدُنَا۔
حقیقت میں کافروں کا عقیدہ تھا کہ عذاب ہرگز نہیں آئے گا اور ہم امن چین اور سلامتی کے ساتھ طویل مدتوں تک چلیں گے اور مزے اڑاتے رہیں گے اسی لئے وہ عذاب آنے کی جلدی مچاتے تھے اور فوری عذاب کے خواستگار بنتے تھے اللہ نے ان کے عجلت پسندی کی تردیدی کردی۔ پھر بالفرض تسلیم کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم ان کو برسوں زندگی کے مزے اڑانے دیں اور پھر ان پر عذاب موعود آجائے تو کیا درازی عمر اور تمتع اندوزی عذاب کو دفع کرنے میں کوئی کام آسکے گی۔ چناچہ فرمایا
Ayah 26:205افرء یت ان متعنہم سنین۔ بھلا دیکھو تو اگر ہم برسہا برس ان کو مزے اڑانے دیں
Ayah 26:206ثم جآء ہم ما کانوا یوعدون۔ پھر مدت کے بعد ان پر وہ عذاب آٍائے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا تھا
Ayah 26:207ما اغنی عنہم ما کانوا یمتعون۔ تو ان کا یہ تمتع اندوز ہونا ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گا (عذاب کو ان سے دفع نہیں کرسکے گا) ۔
آیات کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ جب عذاب الیم ان پر ناگہاں آپڑے گا اور یہ عذاب کو اپنے سامنے دیکھ لیں گے تو کہیں گے کاش ہم کو کچھ مہلت دے دی جاتی لیکن ان کو مہلت نہیں دی جائے گی اور بالفرض اگر مہلت دے بھی دی جائے تو آپ غور کیجئے کہ اس مہلت دینے سے ان کو کیا فائدہ پہنچے گا اگر ہم ان کو برسوں مزے اڑانے دیں پھر ان پر وہی موعود عذاب آجائے تو اس مہلت سے وہ عذاب دفع نہ ہوگا اور درازی مہلت نہ ان کو دفع عذاب کا فائدہ دے سکے گی نہ تخفیف عذاب کا بلکہ یہ ساری تمتع اندوزی اور عیش سب کچھ بھول جائیں گے ایسا معلوم ہوگا کہ کبھی آسائش میں تھے ہی نہیں۔
Ayah 26:208وما اہلکنا من قریۃ الا لہا منذرون۔ اور (منکرین کی) جتنی بستیاں ہم نے (عذاب سے) ہلاک کیں
سب میں ڈرانے والے (پیغمبر) آئے منذرون سے مراد ہیں پیغمبر جنہوں نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ مگر وہ باز نہ آئے۔
Ayah 26:209ذکری وما کنا ظلمین۔ نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہیں ہیں۔
ذِکْرٰییادداشت یہ منذرون کی علت (مفعول لہ) ہے کیونکہ ذکری بمعنی انذار ہے یا ذکری کا تعلق پہلے کلام سے نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ ہم ان پیغمبروں کو مجسم نصیحت بنا دیتے ہیں۔
Ayah 26:210وما تنزلت بہ الشیطین۔ اور قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے یعنی مشرکوں کا یہ قول غلط ہے کہ شیاطین محمد پر قرآن کا القاء کرتے ہیں۔
Ayah 26:211وما ینبغی لہم اور شیاطین کے لئے ایسا کرنا جائز بھی نہیں ہے (کیونکہ قرآن ہدایت ہے اور شیاطین گمراہی کی طرف بلانے والے ہیں) ۔
فما یستطیعون۔ اور وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے کیونکہ قرآن میں غیب کی خبریں دی گئی ہیں شیطان غیبی خبریں (کیا جانیں اور) کیسے القا کرسکتے ہیں۔
Ayah 26:212انہم عن السمع لمحزولون۔ شیاطین کو تو قطعاً (وحی اور کلام ملائکہ کو) سننے سے دور رکھا جاتا ہے۔ (یعنی آسمان تک جا کر ملائکہ کا کلام نہیں سن سکتے) ۔ مَعُزْوُلُوْنَ روکے گئے ‘ انگاروں سے مارے گئے۔
Ayah 26:213فلا تدع مع اللہ الہا اخر فتکون من المعذبین۔ سو اللہ کی موجودگی میں تم کسی اور معبود کو نہ پکارو کہیں تم بھی ان ہی لوگوں میں سے ہوجاؤ جن کو عذاب دیا جائے گا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے لیکن حقیقت میں) اس سے دوسروں کو ڈرانا مقصود ہے گویا یوں فرمایا کہ آپ تمام مخلوق میں میرے نزدیک زیادہ معزز ہیں لیکن اگر آپ بھی میرے سوا دوسرے کو معبود بنائیں گے تو آپ کو بھی عذاب دوں گا۔
Ayah 26:214وانذر عشیرتک الاقربین۔ اور (سب سے پہلے) آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیے۔ یعنی
سب سے پہلے اس کو جو آپ کا زیادہ قرابتدار ہو پھر اس سے کم قرابت رکھنے والے کو پھر اس سے کم قرابت دارکو کیونکہ جس کی قرابت زیادہ ہے وہ پہلے ہدایت کا مستحق ہے مزید یہ کہ اس طریقۂ ہدایت سے دوسروں کو بدگمانی کا بھی موقع نہیں مل سکتا کیونکہ عام طور پر لوگ اپنے قریب ترین عزیزوں سے چشم پوشی کیا کرتے ہیں (اور جب آپ قریب ترین عزیزوں کو بھی اللہ کے عذاب سے ڈرائیں گے تو کسی کو یہ گمان کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا کہ آپ اپنے عزیزوں کی طرف سے چشم پوشی کر رہے ہیں) یا اس لئے عزیز ترین قرابت داروں کو ڈرانے کا حکم دیا گیا کہ دوسرے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے عذاب کو دفع کرنے والا کوئی نہیں (پیغمبر بھی اپنے قرابت داروں کو عذاب سے بچا نہ سکیں گے) نجات کا راستہ یہی ہے کہ ان کی بات مانی جائے اور ان کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ محمد بن اسحاق نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت علی نے فرمایا جب یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر اتری تو آپ نے مجھے طلب کیا اور فرمایا علی ! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریب ترین عزیزوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں میں یہ حکم سن کر سوچ میں پڑگیا کہ کیا کروں مجھے معلوم تھا کہ اگر میں ان لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں گا اور اس کام کے لئے پکاروں گا تو ان کی طرف سے میرے سامنے ایسا عمل آئے گا جو مجھے ناگوار ہوگا یہ سوچ کر میں خاموش ہو رہا لیکن اب جبرئیل نے مجھ سے آکر کہا کہ محمد اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تم کو عذاب دے گا لہٰذا علی تم جا کر ایک صاع (آٹے) کی روٹی بنواؤ اور بکری کی ایک ٹانگ (پکا کر بطور سالن کے) اس کے ساتھ رکھ دو اور ایک بڑے پیالے میں دودھ بھر کرلے آؤ پھر اولاد عبدالمطلب کو اکٹھا کرو تاکہ جس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے میں وہ بات ان کو پہنچا دوں حضرت علی ؓ نے فرمایا میں نے حکم کی تعمیل کی پھر سب کی دعوت کد ی وہ لوگ آئے جن میں رسول اللہ ﷺ کے تائے (چچے) ابو طالب ‘ حمزہ ‘ عباس اور ابو لہب بھی تھے سب کم و بیش چالیس آدمی تھے جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے وہ کھانا منگوایا جو میں نے تیار کیا تھا میں نے لا کر رکھ دیا آپ نے اس میں سے ایک ٹکڑا گوشت کا لے کر اپنے دانتوں سے اس کو کاٹا پھر اس کو پیالہ میں رکھ دیا پھر فرمایا بسم اللہ کھائیے سب نے کھایا یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے خدا کی قسم جتنا کھانا میں نے سب کے لئے رکھا تھا اتنا تو ان میں کا ایک آدمی کھا لیتا (مگر کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب کے پیٹ بھر گئے اور کسی کو مزید ضرورت نہیں رہی) پھر فرمایا ان کو (دودھ) پلاؤ میں ان کے سامنے دہی (دودھ بھرا) پیالہ لے آیا خدا کی قسم دودھ اتنا تھا کہ اتنا تو ایک آدمی پی جاتا لیکن سب پی کر سیر ہوگئے اب رسول اللہ ﷺ نے کچھ بات کرنے کا موقع پایا لیکن حضور کے کچھ کہنے سے پہلے ابو لہب بول اٹھا اور کہنے لگا تمہارے ساتھی نے تم پر جادو کردیا یہ سنتے ہی لوگ منتشر ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ ان سے بات نہ کرسکے اور دوسرے دن حضور نے فرمایا علی تم کو معلوم ہے کہ یہ شخص پہلے بول اٹھا اور میرے بات کرنے سے پہلے ہی لوگ منتشر ہوگئے اب پھر ویسا ہی کھانا تیار کرو جیسا (کل) کیا تھا اور لوگوں کو پھر جمع کرو میں نے حکم کی تعمیل کی پھر سب کو جمع کیا حضور نے کھانا منگوایا میں نے سامنے لا کر رکھ دیا آپ نے وہی عمل کیا جو گزشتہ دن کیا تھا اس کے بعد سب نے کھایا پیا کھا چکنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کلام شروع کیا اور فرمایا اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم کو بھی اس کی دعوت دوں تم میں سے کون شخص ہے جو اس کام میں مدد کرے اور میرا بھائی اور وصی اور نائب ہوجائے لوگ یہ سن کر سب کے سب جھجکے میں سب سے کم عمر تھا میں نے کہا یا نبی اللہ میں اس کام میں آپ کا مددگار رہوں گا یہ سن کر آپ نے میری گردن پکڑی اور فرمایا یہ میرا بھائی ‘ میرا وصی اور میرا نائب ہے تم اس کی بات سنو اور اس کا کہا مانو لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اس نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم علی کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ صحیحین میں سعید بن جبیر کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان آیا ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَنازل ہوئی تو حضور نے کوہ صفا پر چڑھ کر (مختلف) بطون قریش کو پکارنا شروع کیا اے اولاد فہر ‘ اے بنی عدی آواز سن کر سب لوگ جمع ہوگئے جو خود نہ آسکا اس نے اپنا قاصد بھیج دیا تاکہ وہ جا کر دیکھے کہ واقعہ کیا ہے ابو لہب بھی آگیا اور دوسرے قریش والے بھی۔ آپ نے فرمایا بھلا بتاؤ اگر میں تم کو اطلاع دوں کہ وادی کے اندر (اس وقت) کچھ سوار موجود ہیں جو تم پر تاخت کرنا چاہتے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے سب نے کہا جی ہاں ہم نے اپنے تجربہ میں آپ کا کبھی کوئی جھوٹ نہیں پایا حضور نے فرمایا تو عذاب شدید آنے سے پہلے میں تم کو اس سے ڈرا رہا ہوں (عذاب شدید میرے سامنے موجود ہے جو آنے والا ہے) ابو لہب بولا تو ہمیشہ کے لئے ہلاک ہوجائے کیا اسی لئے تو نے ہم کو جمع کیا تھا اس پر سورت تبت ید ابی لہب وتب آخر تک نازل ہوئی۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقَرِبِیْنَاتری تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے گروہ قریش۔ (راوی کا بیان ہے کہ یہ لفظ فرمایا یا اسی طرح کا کوئی دوسرا لفظ) اپنی جانوں کو خود خرید لو (یعنی آنے والے عذاب سے بچا لو) میں اللہ (کے عذاب سے تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے اولاد عبدمناف میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ (کے عذاب) سے بچانے کے لئے بالکل تمہارے کام نہیں آسکتا اے رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی صفیہ تم کو بھی میں اللہ سے نہیں بچا سکتا اے محمد ﷺ : کی بیٹی فاطمہ میرے مال میں تو جو کچھ مانگنا چاہتی ہے مجھ سے مانگ لے اللہ کے مقابل میں تیرے کوئی کام نہیں آؤں گا۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَنازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ (بستی سے) نکل کر کوہ صفا پر چڑھ گئے اور وہاں سے اونچی آواز سے پکارا یا صباط (اے لوگو ہوشیار ہوجاؤ دشمن آخر رات میں حملہ کرنے والا ہے) لوگوں نے آواز سن کر کہا یہ کون ہے سب آپ کے پاس جمع ہوگئے حضور نے فرمایا بھلا بتاؤ تو اگر میں تم کو اطلاع دوں کہ کچھ سوار اس پہاڑ کے دامن سے برآمد ہو رہے ہیں (جو تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں) تو کیا تم مجھے سچا جانو گے لوگوں نے کہا ہم نے تجربہ میں آپ کی کوئی بات جھوٹی نہیں پائی فرمایا تو میں عذاب شدید آنے سے پہلے تم کو (اس کی آمد سے ڈرا رہا ہوں (عذاب شدید میرے سامنے ہے) ابو لہب بولا تجھے ہلاکت ہو کیا اسی لئے تو نے ہم کو اکٹھا کیا تھا یہ کہہ کر کھڑا ہوگیا اس پر اسی روز تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ قَدْتَبَّ (اعمش کی قرأت میں اسی طرح آیا ہے) نازل ہوئی۔
بغوی نے حضرت عبداللہ بن حمار مجاشعی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو علم اس نے مجھے عطا فرمایا ہے اور تم اس سے واقف نہیں آج تم کو اس کے کچھ حصہ سے واقف کر دوں اس نے فرمایا ہے کہ جو مال میں نے اپنے بندوں کو (بطور حلال) عطا کردیا وہ ان کے لئے حلال ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا پھر شیطانوں نے پہنچ کر ان کو ان کے دین سے بہکایا اور جو چیز میں نے ان کے لئے حلال کردی تھی شیطانوں نے وہ چیز ان کے لئے حرام قرار دی میں نے ان کو حکم دیا تھا کہ جس چیز کی معبودیت کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری اس کو میرا ساجھی نہ قرار دیں۔ اللہ نے تمام زمین والوں کو دیکھا سب سے نفرت کی عرب ہوں یا عجمی ہاں۔ اہل کتاب میں سے جو (اصلی دین پر) باقی رہ گئے تھے (ان سے نفرت نہیں کی) اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں (اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے) قریش کو ڈراؤں میں نے عرض کیا اے رب وہ تو میرا سر توڑ ڈالیں گے اور میرے سر کو (کچل کر) روئی بنا دیں گے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے اسی لئے بھیجا کہ تیری بھی جانچ کروں اور تیرے ذریعہ سے دوسروں کو بھی۔ میں نے تیرے اوپر ایک کتاب اتاری ہے جس کو پانی نہیں دھو سکتا تو اس کو سوتے جاگتا پڑھا کر ‘ تو ان سے جہاد کر کامیاب ہوگا تو (اللہ کے بندوں پر) خرچ کر (اللہ کی طرف سے) تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو ایک لشکر (کافروں کے مقابلے کے لئے) تیار کر میں اس سے پانچ گنا لشکر تیری مدد کے لئے بھیج دوں گا اور اپنے فرمانبرداروں کو ساتھ لے کر نافرمانوں سے جنگ کر پھر فرمایا۔ اہل جنت تین ہیں (1) منصف حاکم۔ (2) ہر قرابتدار اور مسلم پر مہربانی کرنے والا نرم دل آدمی۔ (3) دولت مند پاک دامن آدمی جو خود پاکدامن رہتا ہے اور دوسروں کو خیرات دیتا ہے اور دوزخی پانچ ہیں وہ کمزور بےعقل جس میں برائیوں سے روکنے والی سمجھ نہ ہو محض دوسروں کے پیچھے لگ جانے والا ہو اور وہ شخص کہ جب صبح کو اٹھتا ہے تو تم کو تمہارے مال و عیال کے معاملہ میں فریب دیتا اٹھتا ہے اور وہ شخص کہ اس کا ہر لالچ خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو اس کو (اپنے ساتھ) لے جاتا ہے اور وہ شخص جو بداخلاق اور فحاش ہے۔ حضور نے بخل اور کذب کا بھی ذکر کیا تھا۔ واللہ اعلم۔
ابن جریر نے بحوالۂ ابن جریج بیان کیا ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرَ عَشِیْرَتَکِ الْاَقْرَبِیْنَنازل ہوئی تو حضور نے تبلیغ کی ابتدا اپنے گھر والوں سے کی مسلمانوں پر یہ امر شاق گزرا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 26:215واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین۔ اور ان لوگوں کے ساتھ (مشفقانہ) فروتنی سے پیش
آؤ جو مسلمانوں میں داخل ہو کر آپ کی راہ پر چلیں۔
اخْفِضْیعنی نرم رویہ اختیار کرو۔ پرندہ جب نیچے اترنا چاہتا ہے تو اپنے بازوؤں کو نیچے جھکا لیتا ہے یہاں بطور استعارہ سلوک کی نرمی اور خوش اخلاقی مراد ہے۔
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَمیں من بیانیہ ہے یا تبعیضیہ اگر اتباع سے عام اتباع مراد ہو خواہ اتباع کامل ہو یا ناقص تو من بیانیہ ہوجائے گا اور اگر کامل اتباع مراد ہو تو من تبعیضیہ ہوجائے گا کیونکہ مؤمنین کا لفظ عام ہے کامل اتباع کرنے والے مؤمن ہوں یا ناقص اتباع کرنے والے گناہگار مؤمن۔ موخر الذکر کی تائید آئندہ جملہ سے ہوتی ہے کیونکہ اس میں گناہگار مؤمن مراد ہیں۔
Ayah 26:216فان عصوک فقل انی بری مما تعملون۔ پھر اگر وہ مؤمن (بعض امور میں) تمہاری نافرمانی
کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے ان (گناہوں کے) اعمال سے بری ہوں۔ اس آیت میں گناہوں سے الگ ہونے کے اظہار کا حکم دیا گیا ہے گناہگاروں سے الگ ہونے کے اظہار کا حکم نہیں دیا گیا۔
Ayah 26:217و توکل علی العزیز الرحیم۔ اور اللہ غالب مہربان پر بھروسہ کرو۔
توکل کا معنی ہے اپنا کام (مکمل طور پر) دوسرے کے سپرد کردینا اور ایسا کرنا نہ عقلاً جائز ہے نقلاً صحیح۔ ہاں اگر جس کی سپردگی میں کام دیا ہو وہ نفع پہنچانے اور ضرر کو دفع کرنے پر کامل قدرت رکھتا ہو بھروسہ کرنے کے اقوال کو سنت اور تمام احوال کو دیکھتا ہو اور انجام سے باخبر ہو اور بھروسہ کرنے والے کا ہر وقت نگراں ہو تو اس کی سپردگی میں اپنے کام دیئے جاسکتے ہیں اسی لئے فرمایا عَلَی العزیز یعنی اس اللہ پر اعتماد رکھو جو اپنے دشمنوں پر غالب ان کو مقہور کرنے والا اور اپنے دوستوں کی مدد کرنے والا ہے الرحیمجو رحیم ہے تمہارے اوپر بھی اور تمہاری پیروی کرنے والوں پر بھی۔
Ayah 26:218الذی یرک حین تقوم۔ جو تم کو دیکھتا ہے جس وقت تم کھڑے ہوتے ہو۔ یعنی لوگوں کو توحید کی طرف بلانے کے لئے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہو یا جس وقت تم نماز کے لئے اٹھتے ہو۔ کذا قال المفسرون۔
Ayah 26:219وتقبلک فی السجدین ۔ اور (نماز شروع ہونے کے بعد) نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشست برخاست
کو بھی دیکھتا ہے۔
تَقَلُّبَکَ یعنی نماز کے اندر قیام اور رکوع اور سجود اور قعود کی طرف تمہارے منتقل ہونے کو۔ فِی الساجدین یعنی فی المصلمین حسب روایت عطیہ و عکرمہ حضرت ابن عباس کا یہی تفسیری قول ہے مقاتل نے کہا فی المصلین یعنی مع المصلین مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم تنہا نماز پڑھتے ہو اور اس وقت بھی دیکھتا ہے جب نمازیوں کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھتے ہو۔ مجاہد نے کہا مطلب یہ ہے کہ تم جو نمازیوں کی طرف نظر گھماتے پھراتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح سامنے سے دیکھتے تھے اسی طرح پشت کے پیچھے کی چیز کو بھی دیکھتے تھے (تو نماز کے اندر نظر نبوت سے مقتدیوں کے حال کا بھی مشاہدہ کرلیتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میرا رخ یہاں (یعنی سامنے کی طرف) دیکھتے ہو واللہ تمہارے خضوع کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہوتی میں تمہیں بلاشبہ اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں رواہ البغوی۔ حسن نے کہا تقلب سے مراد ہے تصرف یعنی مؤمنوں میں تمہاری آمدورفت کو اللہ دیکھتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا ساجدین سے مراد ہیں انبیاء یعنی جیسے انبیاء کے حالات تھے وہ چلتے پھرتے اور مختلف احوال رکھتے تھے اسی طرح مختلف احوال میں تمہارے تصرف کو بھی خدا دیکھتا ہے بعض اہل علم نے یہ بیان کیا کہ تہجد گزاروں کے احوال کو تلاش کرنے کے لئے جو تم آتے جاتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ جب شب کی نماز کی فرضیت منسوخ کردی گئی تو اسی رات کو رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے برآمد ہو کر صحابہ کے مکانوں کی طرف تشریف لے گئے تاکہ یہ معلوم کرسکیں کہ صحابہ رات کو گھروں کے اندر کیا کرتے ہیں کیونکہ آپ کو صحابہ کا عبادت میں مشغول ہونا بہت زیادہ مرغوب تھا۔ صحابہ کو ذکر خدا اور تلاوت میں مشغول پایا ان کی آوازوں میں بھن بھناہٹ بھڑوں (یا شہد کی مکھیوں) بھن بھناہٹ کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کے احوال خاص بہت تھے یہاں صرف آپ کے تقلب فی الصحابہ کا ذکر اس لئے کیا کہ آپ کا یہ عمل رحمت کا سبب تھا۔
عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس کا ایک قول آیا ہے کہ تقلب سے مراد ہے آباء و اجداد کی پشتوں میں منتقل ہونا یعنی ایک نبی سے نور محمدی کا دوسرے نبی کی پشت میں منتقل ہو کر آنا۔ لیکن اس تفسیر پر رسول اللہ ﷺ کی کوئی خاص مدح نہ ہوگی کیونکہ آباء و اجداد میں ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہونا تو صرف رسول اللہ ﷺ ہی کے لئے مخصوص نہ تھا تمام قریش بلکہ تمام انسان یونہی پشت در پشت منتقل ہوتے چلے آئے ہیں۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تقلب سے مراد ہو پاک عبادت گزار مردوں کی پشت سے مقدس پاک دامن عورتوں کے رحموں میں آپ کا منتقل ہوتے رہنا یعنی موحد ‘ مؤمن مردوں کی پشتوں سے مؤمن ‘ موحد عورتوں کے رحموں کی طرف انتقال۔ اس تفسیر سے آیت پر استدلال کیا جاسکے گا اس امر پر کہ حضور کے سارے آباء و اجداد مؤمن تھے۔ کذا قال السیوطی۔
حافظ شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی کے شعر ہیں۔
وَیَنْقُلَ اَحَدٌ نورًا عظیمًا تَلاَأُافَی وَجُوہ السَّاجدِینَ
تَقَلَّبَ فِیْہِمْ قَرْنَاَ فَقَرْنًا اِلٰی اَنْ جَاءَ خَیْرُ الْمُرسَلِیْنَ
ہر ایک نور عظیم منتقل کرتا رہا جو موحدوں کے چہروں میں جگمگاتا رہا وہ نور ہر زمانہ میں منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ سید المرسلین پیدا ہوگئے۔
اس تفسیر کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے قرن در قرن (منتقل کر کے) بنی آدم کے بہترین قرن میں بھیجا گیا یہاں تک کہ میری بعثت اس زمانہ میں ہوگئی۔ جس میں میں ہوں۔ مسلم نے حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اولاد ابراہیم میں سے اسماعیل کا انتخاب کرلیا اور اولاد اسماعیل میں سے بنی کنانہ کا اور بنی کنانہ میں سے قریش کا اور قریش میں سے بنی ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔ بیہقی نے دلائل النبوت میں حضرت انس کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا جب بھی اللہ نے آدمیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین فرقہ میں سے کردیا آخر مجھے میرے والدین سے پیدا کردیا گیا کہ دور جاہلیت کی کوئی خرابی مجھے نہیں پہنچی بنی آدم سے لے کر اپنے والدین تک میں نکاح سے پیدا ہوا زنا سے نہیں۔ پس میں ذاتی حیثیت میں بھی تم سے بہتر ہوں اور نسبی اعتبار سے بھی افضل ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کے آباء و اجداد کے مؤمن ہونے کے موضوع پر مجمل اور مفصل ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں مثبت اور منفی ہر طرح کی بحث کی ہے میں نے اس کا خلاصہ ایک رسالہ کی شکل میں لکھ دیا ہے اس موضوع کی تنقیح کے لئے اس رسالہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
Ayah 26:220انہ ہو السمیع العلیم۔ بلاشبہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے اقوال کو سنتا اور افعال کو نیتوں کو اور تمام امور کے انجام کو جانتا ہے لہٰذا اسی پر توکل کرنا مناسب ہے۔
Ayah 26:221ہل انبئکم علی من تنزل الشیطین۔ کیا میں تم کو بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ یہ جواب کافروں کے اسی قول کا کہ اس شخص پر شیاطین کا نزول ہوتا ہے۔
Ayah 26:222تنزل علی کل افاک اثیم۔ شیاطین اترتے ہیں ہر بڑے دروغ گو پکے گناہگار پر۔
اور محمد ﷺ نہ شریر دروغ گو ہیں۔ نہ گناہگار اللہ کے نافرمان اس لئے شیاطین کا نزول ان پر نہیں ہوسکتا تعلیم دینے والے اور تعلیم پانے والے میں (عملی و قولی) مناسبت و موافقت ضروری ہے۔
Ayah 26:223یلقون السمع و اکثر ہم کذبون۔ (دروغ گو گناہگار لوگ شیطانوں کی طرف) کانوں کو لگاتے ہیں
(اور ان سے کچھ سیکھ پاتے ہیں مگر اس میں اپنے خیالات کا کثیر حصہ شامل کردیتے ہیں جو غلط اور واقع کے خلاف ہوتا ہے) ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں (اور محمد ﷺ ایسے نہیں ہیں آپ نہ شیطانوں کی بات سنتے ہیں نہ دروغ بافی کرتے ہیں بلکہ بکثرت غیب کی اطلاعات دیتے ہیں جن میں سے کوئی بھی واقع کے خلاف نہیں ہوتی) ۔
حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیا حضور نے فرمایا وہ (یعنی کاہن) ہیچ ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ بسا اوقات ایسی باتیں کہتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں فرمایا کوئی ایک صحیح بات کوئی جن (فرشتوں کی گفتگو سے) جھپٹ کرلے بھاگتا ہے اور لا کر اپنے دوست کے ‘ کان میں مرغی کے کٹکٹکانے کی طرح کٹ کٹ کردیتا ہے کاہن اس (ایک صحیح بات) میں سو سے بھی زیادہ جھوٹ ملا کر بیان کردیتے ہیں۔ متفق علیہ۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ : کو فرماتے سنا کہ فرشتے عنان یعنی ابر میں اترتے ہیں اور ان میں باہم اس امر کا تذکرہ ہوتا ہے جس کا فیصلہ آسمان پر ہوچکا ہے شیاطین (بادلوں تک پہنچ کر) اس بات کو چوری سے سن پاتے ہیں اور کاہنوں کے دلوں میں لا کر ڈال دیتے ہیں کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ اپنی طرف سے شامل کردیتے ہیں۔ رواہ البخاری۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جب کسی امر کا فیصلہ آسمان پر کردیتا ہے تو فرشتے عاجزی اور اطاعت کے اظہار کے لئے اپنے بازو پھٹ پھٹاتے ہیں جیسے کسی چٹان پر زنجیر مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے جب گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو (باہم) پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا (دوسرے جواب میں) کہتے ہیں جو کچھ فرمایا وہ حق ہے وہی بزرگ ‘ برتر ‘ عالی قدر ہے۔ اس بات کو کچھ چوری سے سننے والے ‘ (شیاطین) سن پاتے ہیں وہ نیچے والے چوری سے سننے والے سے کہہ دیتے ہیں اور اسی طرح ایک کے بعد ایک ترتیب وار سن لیتا ہے (سفیان راوی نے اپنی انگلیاں کھول کر ہاتھ کو ترچھا کر کے دکھایا یعنی چاروں انگلیوں کو اس طرح ترتیب دے کر بتایا کہ ایک انگلی دوسری کے اوپر اور دوسری تیسری کے اوپر تیسری چوتھی کے اوپر کر کے دکھائی۔ مترجم) نیچے والا سن کر اپنے سے نیچے والا کو بتادیتا ہے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو یہاں تک کہ سب سے نچلا شیطان ساحر یا کاہن کو بتادیتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اوپر والا نیچے والے کو بتانے بھی نہیں پاتا کہ پہلے ہی ایک انگارہ (ٹوٹنے والا ستارہ) اس پر آ گرتا ہے (اور اس کو جلا دیتا ہے) اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انگارہ پڑنے سے پہلے وہ اپنے نیچے والے کو بتا چکتا ہے۔ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے (اور لوگوں سے کہہ دیتا ہے) اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں فلاں دن کاہن نے ایسا نہیں کہا تھا غرض اسی آسمان والی بات کی وجہ سے کاہن کی تصدیق کی جاتی ہے۔ رواہ البخاری۔
حضرت ابن عباس نے کسی انصاری کا مقولہ نقل کیا انصاری نے کہا ہم ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک تارہ ٹوٹا اور اس کی روشنی ہوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جاہلیت کے زمانہ میں اس طرح (تارہ) پھینکا جاتا تھا تو تم لوگ کیا کہتے تھے حاضرین نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی خود جانتے ہیں ہم کہا کرتے تھے کہ آج رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ (تارے) نہ کسی کے مرنے کی وجہ سے پھینکے جاتے ہیں نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے پھینکے جاتے ہیں بلکہ ہمارا رب بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملین عرش تسبیح پڑھتے ہیں پھر ان سے متصل آسمان والے یہاں تک کہ تسبیح (کی آواز) اس نچلے قریبی آسمان والوں کو پہنچ جاتی ہے۔ پھر حاملین عرش سے متصل آسمان والے حاملین عرش سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ بتاتے ہیں کہ اللہ نے یہ فرمایا پھر (ترتیب وار) ایک آسمان والے دوسرے آسمان والے سے پوچھتے چلے آتے ہیں یہاں تک کہ وہ بات اس دنیوی آسمان تک پہنچ جاتی ہے اور جن جھپٹ کر اس کو سن کرلے بھاگتا ہے اسی طرح شیاطین اپنے دوستوں کی طرف لا کر دے مارتے ہیں (کاہن لوگ) جب اس بات کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے وہ ہوتی ہے تو وہ حق ہوتی ہے لیکن وہ تو اس میں بڑھا دیتے ہیں۔ رواہ مسلم۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو آدمیوں نے (یعنی دو شاعروں نے) باہم ہجو کا مقابلہ کیا ایک انصاری تھا دوسرا کسی اور قبیلہ کا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کی قوم کے کچھ غاوی (گمراہ یعنی اشعار کو نقل کرنے اور یاد رکھنے والے) بھی تھے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 26:224والشعرآء یتبعہم الغاون۔ اور شاعروں کی راہ تو بےراہ لوگ چلا کرتے ہیں بغوی نے ضحاک کی روایت
سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے عطیہ کی ایک روایت بھی ابن عباس سے یہی ہے حضرت ابن عباس ؓ کا قول عطیہ نے بھی یہی نقل کیا ہے اور ابن ابی حاتم نے بھی بروایت عکرمہ اسی طرح بیان کیا ہے۔
لیکن اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ آیت میں وہ شعراء مراد ہیں جو کافروں کی حمایت میں رسول اللہ ﷺ : کی ہجاء کرتے تھے مقاتل نے ان کے نام اس طرح نقل کئے ہیں عبداللہ بن زبیر سہمی ‘ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی ‘ شافع بن عبدمناف ‘ ابو عزہ عبداللہ بن عمر جمحی۔ امیہ بن صلت ثقفی۔
یہ شعراء جھوٹی غلط سلط باتیں کہتے اور دعویٰ کرتے تھے کہ جیسا محمد کہتے ہیں ویسا ہم بھی کہتے ہیں۔ یہ لوگ اشعار سناتے اور ان کی قوم کے کچھ گمراہ لوگ جمع ہوجاتے اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ کے متعلق ان شاعروں کے ہجائیہ اشعار سنتے اور پھر نقل کرتے تھے یہی وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے غاو ون فرمایا۔ یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ اور مسلمانوں کے متعلق کہے ہوئے ہجائیہ اشعار نقل کرتے تھے۔
قتادہ اور مجاہد نے کہا الغاو ون سے مراد ہیں شیاطین۔ یہ جملہ الگ ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کے شاعر ہونے کے خیال کو باطل کیا گیا ہے۔ اسی ابطال کی تائید آئندہ آیت کر رہی ہے۔
Ayah 26:225الم ترانہم فی کل واد یہیمون۔ (اے مخاطب) کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں
Ayah 26:226وانہم یقولون ما لا یفعلون۔ اور وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔
وادی سے کلام کی ایک نوع جیسے مدح ‘ ذم ‘ فخر ‘ بیان محبت ‘ اظہار بغض وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اَنَا فِی وَادٍ وَاَنْتَ فِیْ وَادٍ اُخَرَ ۔ میں ایک وادی میں ہوں (ایک قسم کی بات کر رہا ہوں) اور تو دوسری وادی میں ہے (دوسری قسم کی بات کر رہا ہے) ۔
ہَائمسرگرداں ‘ اپنے رخ پر بغیر کسی حد پر رکے چلا جانے والا۔ یعنی شعراء کلام میں انتہائی مبالغہ کرتے ہیں جھوٹ کی پروا بھی نہیں کرتے ان کے پیشتر کلامی مقدمات محض خیالی بےحقیقت ہوتے ہیں۔
قتادہ نے کہا شعراء تعریف بھی جھوٹی کرتے ہیں اور ہجامہ بھی غیر واقعی۔ بعض نے فِی کل وادٍ یَّہِیْمُوْنَکا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ حروف تہجی کے حساب سے ہر حرف پر اشعار کے قافیے بناتے ہیں۔
عمل کے خلاف کہنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ اشعار میں بہت دروغ گوئی کرتے ہیں۔
قرآن کے اعجاز کے دو رخ ہیں اوّل ترتیبی یعنی اسلوب ادا اور دوسرا معنوی۔ قرآن کی معنویت پر تو وہ لوگ یہ جرح کرتے تھے کہ یہ شیاطین لے کر اترتے ہیں اور اعجاز لفظی کے سلسلہ میں کہتے تھے یہ شاعری ہے اس لئے اللہ نے کاہنوں اور شاعروں کی حالت بیان کر کے رسول اللہ ﷺ کی حالت کا ان کی حالتوں سے فرق ظاہر کردیا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کسی کے پیٹ میں لہو ‘ پیپ بھرا ہو کہ اس کی صحت کو غارت کر دے تو اس سے بہتر ہے کہ اس کے اندر شعر بھرے ہوں۔ رواہ البخاری و مسلم و احمد وابو داؤد والترمذی والنسائی و ابن ماجۃ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب (کوہ) عرج میں چل رہے تھے اچانک ایک شاعر گاتا ہوا سامنے آیا حضور نے فرمایا شیطان کو پکڑ لو یا تھام لو فرمایا اگر کسی کے جوف کے اندر پیپ ‘ لہو بھرا ہو تو اس سے بہتر ہے کہ اس کے اندر شعر بھرے ہوں۔
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کلام میں انتہائی مبالغہ کرنے والے غارت ہوگئے حضور نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔
حضرت ابو ثعلبہ خشنی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے مقرب تم میں سے وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور میرے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور تم میں سے وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے بڑے ہوں فضول بکواس کرنے والے ہوں بنا بنا کر خلاف حقیقت کثیر کلام کرنے والے ہوں حلق پھاڑ کر بغیر احتیاط کے کلام کو پھیلانے والے ہوں۔ میں کہتا ہوں شعراء کی یہی حالت ہوتی ہے۔ ترمذی نے حضرت جابر کی روایت سے بھی حدیث اسی طرح نقل کی ہے ایک روایت میں آیا ہے کہ صحابہ نے عرض کیا ہم ثرثاروں (بکواسی۔ کثیر گو) اور متشدقون (باچھیں پھاڑ کر بنا کر کلام کرنے والے) کو تو جانتے ہیں متفیہقون کے کیا معنی فرمایا تکبر کرنے والے۔
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے (معراج میں) لے جایا گیا تو میرا گزر کچھ لوگوں کی طرف سے ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے میں نے پوچھا جبرئیل یہ کون لوگ ہیں۔ جبرئیل نے کہا یہ آپ کی امت کے وہ خطیب ہیں جو ایسی باتیں (تقریر میں) کہتے تھے جو خود نہیں کرتے تھے۔ رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔
ابن ابی حاتم نے عروہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت والشُّعرآء یتبعہم۔۔ مَالَا تفعلونتک نازل ہوئی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا اللہ کو علم ہے کہ میں ان ہی (شعراء) میں ہوں اس پر آیت والشعرآء یتبعہم۔۔ آخر سورت تک نازل ہوئی۔
ابن ابی حاتم اور ابن جریر اور حاکم نے ابوالحسن براد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت والشُّعْرَآء یتبعہم۔۔ نازل ہوئی تو عبداللہ بن رواحہ اور کعب بن مالک اور حسان بن ثابت خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے اور وہ جانتا ہے کہ ہم شاعر ہیں اب ہم تو غارت ہوگئے اس پر اللہ نے آیت الاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔ نازل فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو طلب فرمایا اور یہ آیات پڑھ کر سنا دیں۔
Ayah 26:227الا الذین امنوا وعملوا الصلحت وذکروا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا
مگر وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور مظلوم ہونے کے بعد انہوں نے انتقام لیا۔
ذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا یعنی ان کی شاعری ان کے لئے اللہ کے ذکر کی کثرت سے مانع نہ ہو اور اپنے بیشتر اشعار میں وہ اللہ کے ذکر۔ توحید ‘ اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی اطاعت کی ترغیب بیان کرتے ہوں۔
ابو یزید نے کہا ذکر کی کثرت تعداد کی کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ حضور قلب سے ہوتی ہے۔
وَّانْتَصَرُوْا یعنی مسلمانوں کی ہجا جن لوگوں نے کی ہو ان مؤمن شاعروں نے اس کے مقابلے میں ان کی ہجا کی ہو اور اس طرح کافروں کے ظلم کا انتقام لیا ہو۔
بغوی نے شرح السنۃ اور معالم میں لکھا ہے کہ حضرت کعب بن مالک نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں عرض کیا یا نبی اللہ شاعری کے متعلق اللہ نے جو کچھ نازل فرمایا وہ معلوم ہی ہے (پھر ہمارا کیا ہوگا) فرمایا مؤمن اپنی تلوار (سے بھی جہاد کرتا ہے) اور زبان سے (بھی) جہاد کرتا ہے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم جو (اپنی زبانوں سے) ان کے تیر مارتے ہو وہ گویا کمانوں سے تیر مارنے کی طرح ہیں۔
استعیاب میں عبدالبر نے لکھا ہے کہ حضرت کعب نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ شاعری کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ فرمایا مؤمن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی۔
بغوی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر رسول اللہ ﷺ : مکہ میں داخل ہوئے ابن رواحہ حضور کے آگے آگے چل رہے تھے اور حرم کے اندر شعر پڑھ رہے تھے حضور نے (حضرت عمر ؓ سے) فرمایا عمر اس کو پڑھنے دے یہ اشعار کمانوں کے تیروں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
صحیحین میں حضرت براء بن عازب کی روایت سے آیا ہے کہ غزوۂ بنی قریظہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت سے فرمایا مشرکوں کی ہجو کرو جبرئیل (مدد کے لئے) تمہارے ساتھ ہیں یہ بھی رسول اللہ ﷺ حضرت حسان سے فرما رہے تھے میری طرف سے ان کو جواب دو ۔ اے اللہ روح القدس کے ذریعہ سے اس کی مدد کر۔
مسلم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریش کی ہجو کرو تمہاری طرف سے یہ ہجو قریش کے لئے تیر لگنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔
یہ بھی حضرت عائشہ ؓ : کا بیان ہے کہ میں نے حضور ﷺ : کو حسان سے یہ فرماتے ہوئے سنا روح القدس برابر تیری مدد پر رہے گا جب تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے دفاع کرے گا۔
حضرت عائشہ ؓ : کا بیان ہے میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے۔ حسان نے ان کی ہجا کی پس شفادی شفا دینے والی چیز بیان کردی۔
بخاری نے حضرت عائشہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حسان کے لئے مسجد کے اندر منبر رکھوا دیتے تھے جس پر وہ کھڑا ہو کر رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے فخریہ یا دفاعیہ کلام پڑھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے اللہ روح القدس سے حسان کی مدد کراتا ہے جب تک رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے حسان دفاع کرتا ہے۔
بغوی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریش کی ہجو کرو یہ ان کے لئے تیر لگنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پھر ابن رواحہ کے پاس آدمی بھیجا اور ان کو حکم دیا ان کی ہجا کرو اور ان سے ہجو میں مقابلہ کرو (لیکن وہ) حضور کی خوشی کے مطابق (ہجو) نہ کرسکے پھر کعب بن مالک کو بلوایا پھر حسان بن ثابت کو بلوایا جب حسان آئے تو فرمایا اب وقت آگیا کہ تم اس شیر کی طرف تیر بھیجوجو دم پٹک رہا ہے (یعنی حملہ کے لئے تیار ہے) پھر حضرت حسان نے اپنی زبان سے منہ باہر نکالتے ہوئے اسے بلا کر کہا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے اپنی زبان سے ان کو چمڑے کی طرح چیر ڈالوں گا حضور نے فرمایا جلدی نہ کرو ابوبکر قریش کے نسبوں سے بخوبی واقف ہیں میرا نسب بھی قریش کے اندر ہی ہے ابوبکر میرے نسب کو ان کے اندر سے الگ چھانٹ دیں گے حسان حضرت ابوبکر ؓ کے پاس گئے پھر لوٹ کر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر نے آپ کے نسب کو چھانٹ دیا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کو ان کے اندر سے اس طرح کھینچ نکالوں گا جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ حسان نے یہ شعر کہے
ہجوت محمد افاجبت عنہ وعنداللّٰہ فی ذالک الجزاء
تو نے محمد کی ہجو کی میں نے ان کی طرف سے جواب دیا اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے
ہجوت محمدا ابراتقیا رسول اللّٰہ شیمۃ الوفاء
تو نے مقدس پرہیزگار محمد کی ہجو کی جو اللہ کے رسول ہیں اور ان کی خصلت وفاء عہد ہے۔
فان ابی دو الدتی وعرضی لعرض محمد منکم وقاء
میرے ماں باپ اور میری آبرو۔ محمد کی آبرو کو تم سے بچانے والی ہے یعنی محمد کی آبرو پر سب قربان
امن یہ جو رسول اللّٰہ منکم ویمدحہ وینصرہ سواء
تم میں سے جو رسول اللہ کی ہجو کرتا ہے اور جو رسول اللہ کی مدح اور امداد کرتا ہے کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں
وجبریل رسول اللّٰہ فینا وروح القدس لیس لہ کفاء
اللہ کے رسول جبریل اور روح القدس ہمارے اندر ہیں جن کا کوئی ہمسر نہیں۔
ابن سیرین کی مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن مالک سے فرمایا لاؤ حضرت کعب نے آپ کو (قصیدہ) سنایا حضور ﷺ نے فرمایا یہ ان (قریش) کے لئے تیر پڑنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
فائدہان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر شعر جھوٹ اور دوسری ناجائز باتوں سے پاک ہو تو ایسی شاعری میں کوئی حرج نہیں دارقطنی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس شعر (کے جواز و عدم جواز) کا ذکر کیا گیا فرمایا یہ بھی ایک کلام ہے اچھا بھی ہوتا ہے برا بھی ہوتا ہے اچھے کو لے لو برے کو چھوڑ دو ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے اچھا کلام جو کسی شاعر نے کہا ہو وہ لبید کا یہ کلام ہے الاکل شئی ما خلا اللّٰہ باطلٌخوب سن لو اللہ کے سوا ہر چیز بےحقیقت ہے۔ متفق علیہ۔
عمرو بن شدید نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا عمرو کے باپ نے کہا میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کے پیچھے حضور کے ساتھ سوار تھا فرمایا کیا امیہ بن صلت کا کوئی شعر تمہیں یاد ہے میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا لاؤ میں نے ایک شعر سنا دیا فرمایا اور لاؤ میں نے ایک شعر اور سنا دیا فرمایا اور پڑھو یہاں تک کہ میں نے حضور کو سو شعر پڑھ کر سنائے۔ رواہ مسلم۔
حضرت جندب راوی ہیں کہ کسی معرکہ میں حضور کی ایک انگلی زخمی (یا خون آلود) ہوگئی آپ نے فرمایا۔
ہَلْ اَنْتَ الاَّ اصبعٌ دُمِیتِ ۔ وَفِیْ سبَیل اللّٰہِ مَا لَقِیْتِ تو صرف ایک انگلی ہے جو زخمی ہوگئی اور جو کچھ تو نے دکھ پایا اللہ کی راہ میں پایا۔ متفق علیہ۔
شعبی کا بیان ہے ابوبکر بھی شعر کہتے تھے اور عمر بھی شعر کہتے تھے اور علی بھی شعر کہتے تھے تینوں شعر کہتے تھے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ مسجد کے اندر خود بھی شعر پڑھتے اور پڑھواتے بھی تھے ایک بار عمرو بن ربیع کو طلب فرما کر اس سے اس کا قصیدہ سنا جس کا پہلا شعر یہ تھا۔
امن آل لُغْمٰی اَنْتَ غَادٍ رمبکرٌ غداۃَ غدٍام رَائحٌ فَمْہَجَّرٌ
ابن ربیعہ نے آپ کو پورا قصیدہ آخر تک سنا دیا جو تقریباً ستر شعر کا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے دوبارہ لوٹ کر سنا دیا کیونکہ آپ پورا قصیدہ ایک بار سن کر یاد کرلیا کرتے تھے۔
فائدہ اگر شعروں میں اللہ کا ذکر ہو یا علم دین ہو یا مسلمانوں کو وعظ و نصیحت ہو تو ایسی شاعری عبادت ہے۔
حضرت ابی بن کعب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بعض شعر حکمت 1 ہوتے ہیں۔ رواہ البخاری۔
صخر بن عبداللہ بن بریدہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض علم جہالت اور بعض شعر حکمت اور بعض قول عیال۔ رواہ ابو داؤد۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض علم جہالت اور بعض شعر حکمت اور بعض قول و عیال۔ رواہ ابو داؤد۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض شعر حکمتیں۔ رواہ ابو داؤد۔ واحمد۔
ایک حدیث اوپر درج کی جا چکی ہے کہ مؤمن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور زبان سے بھی۔ ابو داؤد نسائی دارمی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مشرکوں سے جہادکرو اپنے مالوں سے اپنی جانوں سے اور اپنی زبانوں سے۔
اوپر کی آیت میں جب اللہ نے مسلم شعراء اور مشرک شعراء کا ذکر کردیا تو آئندہ آیت میں مشرک شعراء کو وعید سنائی اور فرمایا
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ اور عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کر رکھا ہے
معلوم ہوجائے گا کہ ان کو کیسی (بری) جگہ لوٹ کر جانا ہے۔
اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یعنی جن لوگوں نے شرک کیا یا رسول اللہ ﷺ : کی ہجو کی۔
اَیَّ مُنْقَلَبٍ منقلب مصدر ہے بمعنی رجوع یا ظرف ہے بمعنی جائے رجوع۔ استفہام (سوالیہ نہیں) تہدیدی ہے۔
یَنْقَلِبُوْنَ لوٹیں گے یعنی مرنے کے بعد لوٹیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا جہنم اور آتش سوزاں کی طرف لوٹیں گے۔
بیضاوی نے لکھا ہے یہ سخت تہدید ہے۔ سیعلم کے اندر وعید بلیغ ہے اور اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْاعموم و اطلاق ہے اور اَیَّ مُنْقَلَبٍمیں ایہام کے ساتھ عظیم ہولناکی کا اظہار ہے مطلب یہ ہے کہ ظالم امید رکھتے ہیں کہ عذاب سے (ان کو چھوٹ مل جائے گی اور وہ) لوٹ جائیں گے مگر (مرنے کے بعد) ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ عذاب سے لوٹنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔ ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میرے والد نے اپنے وصیت نامہ میں دو سطریں لکھیں (اور وصیت نامہ اس طرح تحریر کیا) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وصیت وہ ہے جو ابوبکر بن ابو قحافہ نے دنیا سے نکلتے وقت لکھی تھی یہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ) اس وقت کافر بھی ایمان لے آتا ہے اور بدکار بھی نیک ہوجاتا ہے اور جھوٹا بھی سچ کہتا ہے میں نے تم پر عمر بن خطاب کو اپنا جانشین بنایا اگر وہ انصاف کریں تو ان کے متعلق میرا یہی خیال اور امید ہے اور اگر وہ ظلم کریں اور (مذہبی احکام کو بدل ڈالیں) تو میں (معذور ہوں) غیب داں نہیں ہوں۔ (آئندہ کا مجھے علم نہیں) وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمَوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔
الحمدللّٰہِ رَبِّ العالمین وصلی اللّٰہ علٰی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحٰبہ اجمعَیِن۔
تفسیر سورة شعراء سے فراغت 1205 ھ میں 4 رجب کو پنجشنبہ کے دن ہوئی اس کے بعد سورة نمل کی تفسیر انشاء اللہ آئے گی۔
اللہ کی توفیق و مدد سے سورت شعراء کی تفسیر کے ترجمہ سے فراغت 12 رمضان المبارک 1390 ھ کو جمعہ کے روز ہوئی۔ فالحمدللہ۔
تمت