Ayah 26:121ان فی ذلک لایۃ بیشک اس قصہ میں عظیم الشان نشانی ہے (جو دنیا میں بطور تواتر مشہور ہے) ۔ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اور قوم نوح میں اکثر مؤمن نہیں تھے۔
Ayah 26:122وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور آپ کا رب یقیناً غالب اور بڑا مہربان ہے۔
Ayah 26:123کذبت عاد المرسلین۔ (قوم) عاد نے پیغمبروں کو جھوٹا مانا۔ عاد ‘ قوم عاد کے مورث اعلیٰ کا نام تھا لیکن اس جگہ قبیلہ مراد ہے اسی لئے کَذَّبَتْمؤنث کا صیغہ ذکر کیا۔
Ayah 26:124اذ قال لہم اخوہم ہود جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا بھائی سے مراد ہے نسبی (اور قومی) بھائی دینی
بھائی مراد نہیں ہے۔
الا تتقون۔ کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے کہ اس کی توحید کا اقرار کرو اور شرک کو چھوڑ دو ۔
Ayah 26:125انی لکم رسول امین۔ میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں یعنی اس رسالت میں خائن نہیں ہوں (اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا) کلبی نے کہا میں رسالت کے دعوے سے پہلے بھی تم لوگوں میں امانتدار (سچا) جانا جاتا تھا مجھے تم جھوٹا نہیں جانتے تھے پھر اب کیوں تم دروغ گوئی کی تہمت مجھ پر رکھتے ہو۔
Ayah 26:126فاتقوا اللہ واطیعون۔ پس اللہ سے ڈرو اور میرے کہے پر چلو
Ayah 26:127وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔
میں تم سے اس (تبلیغ و ہدایت) کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا ثواب تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ اداء رسالت اللہ کی طاعت ہے اس لئے اس کا ثواب بھی اللہ ہی کے ذمہ ہے۔
مسئلہ۔ طاعت کی اجرت لینا جائز نہیں ورنہ وہ طاعت اللہ کی طاعت نہ ہوگی اور اللہ کے نزدیک مستحق اجر نہ ہوگی۔
Ayah 26:128اتبنون بکل ریع ایۃ تبعثون۔ کیا تم ہر اونچے مقام پر یادگار کے طور پر ایک عمارت
بناتے ہو
Ayah 26:129وتتخذون مصانع جس کو محض فضول (بلا ضرورت) بناتے ہو اور بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو۔
استفہام ‘ زجری یا تقریری ہے۔ کل ریع میں استغراق حقیقی نہیں (کیونکہ ہر اونچی جگہ میں قوم عاد نہ قصر بناتی تھی نہ ایسا ممکن تھا) اور کثرت اضافی بھی مراد نہیں ہے (کیونکہ یہ بھی خلاف واقعہ ہے) بلکہ فی نفسہٖ کثرت مراد ہے۔ یعنی بہت سے مقامات میں تم یادگاریں تعمیر کرتے ہو۔ والبی نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ریع کا ترجمہ کیا اونچا مقام ‘ بلند جگہ۔ ضحاک اور مقاتل نے ترجمہ کیا ہر راستہ میں۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا بھی یہی قول آیا ہے۔ مجاہد نے کہا دو پہاڑوں کے درمیان کا راستہ۔ مجاہد کا دوسرا قول مروی ہے کہ ریع کا معنی ہے منظر۔ قاموس میں ہے ریع کسرہ اور فتحہ کے ساتھ زمین کا اونچا حصہ۔ یا پہاڑ کے اندر شگافی راستہ یا اونچا پہاڑ یا ہر اونچے مقام کی وادی کی سیلان گاہ۔ ریع بالکسر یہودیوں کا گرجا ‘ خانقاہ اور کبوتروں کا برج۔
آیت بمعنی یادگار۔ بانی کو یاد دلانے والی عمارت۔
تَعْبَثُوْنَ یعنی فضول کام کرتے ہوئے آخرت میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ دنیا میں بھی بیکار ہیں۔
یا آیت سے مراد ہے مسافروں کے لئے بنائے جانے والے نشان چونکہ قوم عاد والے ستاروں کو دیکھ کر اپنی سفری راہیں پہچان لیتے تھے اس لئے فرمایا کہ تم یہ بیکار کام کرتے ہو۔
بعض اہل تفسیر نے کہا عاد کی قوم والے اونچے مقامات پر عمارتیں بناتے تھے تاکہ اوپر چڑھ کر آنے جانے والے راہگیروں کو دیکھیں اور ان سے ہنسی مذاق کریں۔
سعید بن جبیر نے کہا قوم عاد والے کبوتر بازی کرتے تھے کبوتروں کے لئے انہوں نے برج بنا رکھے تھے۔ حضرت ہود نے ان کے اس فعل کو پسند نہیں کیا اور ان برجوں کے بنانے کو لغو قرار دیا اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں تعبثون آیا ہے یعنی تم لوگ ان سے کھیلتے ہو۔
میں کہتا ہوں کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ یادگار قائم رکھنے کے لئے محلات ‘ اونچی عمارتیں اور قلعے تعمیر کرتے تھے دنیا پرستوں کا شیوہ یہی ہے۔ اس کی غرض یہ ہوتی تھی کہ ہمیشہ ان عمارتوں کو بنانے والوں کی یادگار باقی رہے۔ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ) کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے رب نے بڑی بڑی لاٹیں بنانے والی عاد ارم کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ چونکہ یہ عمل فضول اور بےنتیجہ تھا اس لئے حضرت ہود نے اس کو پسند نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ : کو بھی یہ تعمیری عمل پسند نہیں تھا اسی لئے حضور اقدس نے ارشاد فرمایا جب اللہ کسی بندہ کی برائی چاہتا ہے تو کچی اینٹوں اور گارے میں اس کی ہمت کو محصور کردیتا ہے کہ وہ عمارتیں بنانے لگتا ہے۔ رواہ الطبرای بسند جید من حدیث جابر۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوالبشر انصاری ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جب کسی بندہ کی ذلت چاہتا ہے تو وہ بندہ اپنا مال عمارت بنانے میں خرچ کرتا ہے۔ حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت سے طبرانی نے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہر عمارت اپنے مالک کے لئے وبال ہے سوائے اس کے جو ایسی ہو حضور نے یہ فرماتے وقت اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا تھا۔
حضرت انس راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ باہر نکلے (یعنی بازار کو گئے) ایک گول اونچے گنبد (نما مکان) کو دیکھ کر فرمایا یہ کیا ہے صحابہ نے عرض کیا یہ فلاں انصاری کا ہے حضور خاموش ہوگئے مگر یہ بات اپنے دل میں لئے رہے جب اس کا مالک رسول کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما تھے اس شخص نے سلام کیا آپ نے منہ پھیرلیا ایسا کئی مرتبہ ہوا وہ شخص سمجھ گیا کہ حضور مجھ سے ناراض ہیں اس لئے بےرخی برت رہے ہیں (لیکن ناراضگی کی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آئی) صحابہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کا رخ مجھے غیر غیر دکھائی دیتا ہے کیا وجہ ہے صحابہ نے کہا باہر تشریف لے گئے تھے اور تمہارے بنائے ہوئے گنبد کو دیکھا تھا یہ سنتے ہی وہ شخص فوراً لوٹ پڑا اور جا کر گنبد کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ایک روز پھر باہر تشریف لے گئے اور گنبد دکھائی نہیں دیا تو فرمایا وہ گنبد کیا ہوا صحابہ نے عرض کیا اس کے مالک نے حضور کی بےرخی کا ہم سے شکوہ کیا تھا ہم نے اس کو بات بتادی اس نے جا کر گنبد کو ڈھا دیا۔ فرمایا سنو ہر عمارت اپنے مالک کے لئے وبال ہوگی سوائے اس کے جو ضروری ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر عمارت قیامت کے دن اپنے مالک کے لئے وبال ہوگی۔ سوائے مسجد اور (سکونت کے) گھر کے۔
مصانع حوض ‘ تالاب ‘ مضبوط اونچے محل ‘ قلعے۔
لعلکم تخلدون۔ اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہو گے مضبوط عمارتیں بناتے ہو۔
مسئلہ لمبی لمبی آرزؤیں کرنی مکروہ ہے آرزو کی کمی مستحب ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان ہے ایک بار رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کے کسی حصہ کو پکڑ کر فرمایا دنیا میں اس طرح رہنا جیسے تو پردیسی ہے ‘ یا راہگیر ہے اور اپنے آپ کو مردوں (کی فہرست) میں شمار کرنا۔ رواہ البخاری۔
یہ بھی حضرت عمر ؓ کی روایت ہے کہ ایک بار ہماری طرف رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا میں اور میری ماں کچھ مٹی سے کر رہے تھے (یعنی مٹی کی لسائی یا لپائی کر رہے تھے) فرمایا عبداللہ یہ کیا ہے میں نے کہا ہم کچھ درستی (مرمت) کر رہے ہیں۔ فرمایا امر (یعنی تقدیری حکم) اس سے بھی پہلے پہنچنے والا ہے (یعنی موت سر پر کھڑی ہے معلوم نہیں اس کی درستی سے پہلے آجائے) رواہ احمد والترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ (بچے ہوئے) پانی کو بہا دیا کرتے تھے (آگے بڑھ کر سفر میں جب پانی کی ضرورت ہوتی اور پانی موجود نہ ہوتا تو) تیمم کرلیتے تھے میں عرض کرتا یا رسول اللہ پانی قریب ہی ہے۔ حضور فرماتے مجھے کیا معلوم شاید میں پانی تک نہ پہنچ سکوں۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ وابن الجوزی فی کتاب الوفاء۔
Ayah 26:130واذا بطشتم بطشتم جبارین۔ اور جب کسی پر داروگیر کرنے لگتے ہو تو بالکل جابر (اور ظالم) بن کر داروگیر کرتے ہو۔ یعنی جب سختی کے ساتھ عذاب دینے کے لئے پکڑتے ہو۔
جبارین یعنی بغیر رحم کے ناحق قتل کرنے والے۔ قاموس میں ہے جبار ‘ متکبر آدمی اور وہ دل جس میں رحم نہ آئے اور ناحق بہت زیادہ قتل کرنے والا۔
Ayah 26:131فاتقوا اللہ پس اللہ سے ڈرو (یعنی ان حرکات کو چھوڑ دو ) ۔
واطیعون۔ اور میرا کہا مانو یعنی جس چیز کی طرف آنے کی میں تم کو دعوت دے رہا ہوں اس کو مان لو تمہارے لئے یہ بہت زیادہ فائدہ رساں ہے۔
Ayah 26:132واتقوا الذی امدکم بما تعلمون۔ اور ڈرو اس سے جس نے تم کو وہ نعمتیں بطور امداد عطا فرمائیں جن سے تم واقف ہو۔
اس آیت میں دوبارہ تقویٰ کا حکم دیا اور جو خداداد نعمتیں ان کو معلوم تھیں ان کی عطاء کو حکم تقویٰ کی علت قرار دیا اور اس بات پر تنبیہ بھی کی کہ اگر تقویٰ رکھو گے تو امداد ہمیشہ جاری رہے گی اور تقویٰ چھوڑ دو گے تو امداد بھی منقطع کردی جائے گی۔
اَلاَ تَتَّقُوْنَمیں کافروں کے جرم پر اجمالی دلالت تھی اور بِمَا تَعْلَمُوْنَمیں خداداد نعمتوں کا مجمل اظہار تھا اس کے بعد انعامات کی تفصیل بیان کردی تاکہ نصیہت اندوزی اور ترغیب تقویٰ مبالغہ کے ساتھ ہوجائے۔ چناچہ فرمایا۔
Ayah 26:133امدکم بانعام وبنین۔ اس نے چوپائے اور اولاد تم کو عطا فرمائے
Ayah 26:134وجنت وعیون۔ اور باغات اور چشمے
یہ مذکورۂ بالا امد کم سے بدل ہے (یعنی سابق الذکر امداد سے یہی مؤخر الذکر امداد مقصود ہے) اس کے بعد عذاب کی وعید سنائی اور فرمایا۔
Ayah 26:135انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم۔ (اگر تم میرے کہنے پر نہ چلو گے تو) مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یوم عظیم کا عذاب تم پر آجائے گا (کذا فسرہ ابن عباس) یوم عظیم کا عذاب دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ کیونکہ جو خدا عطاء نعمت پر قادر ہے وہ انتقام پر بھی قادر ہے۔ یہ جملہ حکم سابق کی علت کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 26:136قالوا سوآء علینا او عظت ام لم تکن من الوعظین۔ قوم ہود نے (جواب میں) کہا ہمارے
لئے (دونوں) برابر ہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو۔ یعنی تمہارے وعظ کی وجہ سے اپنے طریقہ کو جس پر ہم چل رہے ہیں ترک نہیں کریں گے۔ وعظ اس کلام کو کہتے ہیں جو وعد و وعید (ترغیب و ترہیب) کے ذکر کی وجہ سے دلوں میں نرمی پیدا کر دے (یعنی وعظ کے اندر ترغیب و ترہیب ضروری ہے تاکہ دلوں کی سختی دور ہو) ۔
Ayah 26:137ان ہذا الا خلق الاولین۔ یہ تو پہلے لوگوں کی عادت ہی ہے (کہ وہ اسی طرح کی جھوٹی باتیں بنایا کرتے
تھے) یا یہ مطلب ہے کہ ہمارا جو مذہب اور دین ہے۔ یہی دین ہمارے اسلاف کا تھا اور ہم ان کے پیرو ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ زندگی اور موت کی یہ رفتار پہلے زمانے سے یوں ہی چلی آئی ہے سب لوگ پیدا ہوتے اور مرتے رہے ہیں۔
کسائی ‘ ابو جعفر اور ابو عمرو کی قرأت میں لفظ خلق کی بجائے خلق بسکون لام آیا ہے اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ تم ہم کو جو وعظ نصیحت کر رہے ہو یہ تو پہلے لوگوں کی من گھڑت اور دروغ بافی ہے۔
اور خلقکا معنی ہے خود کسی بات کو گھڑنا۔ آیت میں آیا ہے وَتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلے لوگوں سے یہ طریقہ چلا آیا ہے وہ پیدا ہوتے اور مرتے رہے ہیں ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں۔ نہ وہ مر کر اٹھے نہ ان کا حساب ہوا نہ ہم مر کر دوبارہ اٹھیں گے۔ نہ ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔
Ayah 26:138وما نحن بمعذبین۔ اور (جس طریقہ پر ہم چل رہے ہیں اس پر) ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔
Ayah 26:139فکذبوہ فاہلکنہم غرض قوم ہود نے ہود کو جھٹلایا ان کی بات کو صحیح نہ مانا آخر ہم نے ان کو (تیز آندھی بھیج کر) ہلاک کردیا۔
ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اس قصہ میں (اللہ کی قدرت اور نبی کی صداقت کی)
بڑی دلیل ہے اور ان میں کے اکثر لوگ مؤمن نہ تھے۔
اس آخری جملہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قوم عاد کا بیشتر یا نصف حصہ مؤمن ہوجاتا تو ان پر عذاب نہ آتا اور قریش جو ایسے عذاب سے محفوظ ہیں وہ مؤمنوں کی برکت سے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَلَوْ لاَ رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآءٌ مُّوْمِنَاتٌ۔۔ لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابًا اِلَیْمًا) اگر مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں نہ ہوتیں تو ہم ان کافروں کو دردناک عذاب یقیناً دیتے۔
Ayah 26:140وان ربک لہو العزیز الرحیم اور بلاشبہ آپ کا رب ہی غالب اور بڑا مہربان ہے۔
Ayah 26:141کذبت ثمود المرسلین۔ (قوم) ثمود نے پیغمبروں کو جھوٹا بتایا
Ayah 26:142اذ قال لہم اخوہم صلح الا تتقون۔ جب ان کے (نسبی) بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب اور گرفت سے) نہیں ڈرتے
Ayah 26:143انی لکم رسول امین۔ میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں
Ayah 26:144فاتقوا اللہ واطیعون۔ سو تم اللہ (کے عذاب) سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
Ayah 26:145وما اسلئکم من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔
میں تم سے (اس تبلیغ و ہدایت کا) کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا میرا (سارا) معاوضہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
Ayah 26:146اتترکون فی ما ہہنا امنین۔ کیا تم کو انہی چیزوں میں جو یہاں موجود ہیں یونہی بےفکری کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔
Ayah 26:147فی جنت وعیون۔ یعنی باغات اور چشمے
Ayah 26:148وزروع ونخل طلعہا ہضیم۔ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندھے ہوئے ہیں
استفہام انکاری ہے یعنی دنیا کی ان نعمتوں میں تم کو یونہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ یا استفہام انکاری نہیں بلکہ یاد دہانی ہے ان نعمتوں کی جو اللہ نے خالص طور پر ان کو عطا فرمائی تھیں۔
طَلْعُہَاطلع سے مراد ہیں پھل۔ ہَضِیْمٌایک روایت کے اعتبار سے حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا لطیف۔ اس معنی میں ہضیم الکشح یعنی لطیف الکشح آتا ہے۔ دوسری روایت ابو العالیہ کی ہے جس میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ مفید پختہ کیا۔ عکرمہ نے کہا نرم حسن نے کہا لٹکتا ہوا۔ مجاہد نے کہا خوشۂ کھجور جب خشک ہوجاتا ہے تو اس کو ہشیم کہتے ہیں اور جب تروتازہ ہوجاتا ہے تو وہ ہضیم ہے ضحاک اور مقاتل نے کہا تہ بر تہ ‘ قطار پر قطار چڑھی ہوئی مراد ہے کثیر اہل لغت کہتے ہیں کہ ہضیم وہ گچھا ہے جو برآمد ہونے سے پہلے اندر ہی اندر باہم چسپاں ہوتا ہے ازہری نے کہا بعض بعض کے اندر گھسا ہوا بعض نے کہا ہضیم بمعنی ہاضم ہے کھانے کو ہضم کرنے والا ہے۔ بہرحال ان تمام معانی کا مجموعہ لفظ لطافت کے اندر ہے (اسی لئے حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ لطیف کیا) ۔
Ayah 26:149وتنحتون من الجبال بیوتا فرہین۔ اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (فخر کرتے) ہوئے
مکان بناتے ہو۔
فرہین یعنی پتھر تراشنے میں ماہر۔ فَرِہ الرجل فراہۃً وہ آدمی ماہر ہوگیا۔ عکرمہ نے اس کا ترجمہ کیا خوش عیش ‘ آرام میں۔ قتادہ نے کہا اپنی صنعت کاری پر مغرور۔ سدی نے کہا متحیر اخفش نے ترجمہ کیا خوش۔ عرب حاء کو ہاء سے بدل دیتے ہیں جیسے مدحۃ کی جگہ مدہۃ کہنے لگتے ہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فادہین سے مراد ہے حریص ابو عبیدہ نے کہا (اپنی صنعت پر) اترانے والے۔ مگن مراد یہ ہے کہ اس نعمت پر اترانے والے ہو ‘ مگن ہو اور غرور کی وجہ سے قبول حق سے سرتابی کرنے والے ہو۔
Ayah 26:150فاتقوا اللہ واطیعون۔ پس اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو۔
Ayah 26:151ولا تطیعوا امر المسرفین۔ اور ان حدود (بندگی) سے نکل جانے والوں کا کہنا مت مانو
Ayah 26:152الذین یفسدون فی الارض ولا یصلحون۔
جو سرزمین میں فساد کیا کرتے ہیں اور اصلاح (کی بات) نہیں کرتے حضرت ابن عباس ؓ نے مسرفین کی تفسیر کی مشرکین۔ مقاتل نے کہا وہ نو آدمی جنہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا۔
زمین میں فساد کرتے ہیں یعنی اللہ کی نافرمانیوں سے ملک میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور اللہ کی فرمانبرداری کر کے سنوار نہیں پیدا کرتے۔
Ayah 26:153قالوا انما انت من المسحرین۔ (قوم ثمود نے) کہا تم خالص جادو زدہ لوگوں میں سے ہو (یعنی تم پر جادو کردیا گیا ہے کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو) یہ ترجمہ مجاہد اور قتادہ کا ہے۔ لیکن کلبی نے بروایت ابو صالح بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا مُعَلَّلِیْنبہلائے ہوئے عرب کہتے ہیں سَحَرَہٗاس کو کھانا پانی دے کر بہلا دیا اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم کھانا کھاتے ہو پانی پیتے ہو فرشتے نہیں ہو بلکہ
Ayah 26:154ما انت الا بشر مثلنا (بالکل) ہماری طرح آدمی ہو اس کے سوا کچھ نہیں ہو۔ اس لئے نبی نہیں ہو۔
فات بایۃ ان کنت من الصدقین۔ اگر (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو (اپنے قول کے سچا ہونے کی)
کوئی دلیل پیش کرو۔ جب قوم نے دلیل نبوت طلب کی تو حضرت ہود کی دعا سے اللہ نے پتھر کی چٹان کے اندر سے ایک اونٹنی برآمد کردی۔
Ayah 26:155قال ہذہ ناقۃ صالح نے (پھر قوم سے) کہا یہ ایک اونٹنی ہے (جو پتھر سے برآمد ہوئی ہے۔ یہ میری سچائی کی نشانی ہے) ۔
لہا شرب ولکم شرب یوم معلوم۔ (ایک روز) اس کے لئے پانی کا حصہ (مقرر) ہے اور ایک معین
دن تمہارے لئے پانی کا حصہ ہے۔ پس تم لوگ اپنے حصہ پر اکتفا کرنا اور اس کے حصہ میں مداخلت نہ کرنا۔
Ayah 26:156ولا تمسوہا بسوء اور برائی (اذیت رسانی) کے ساتھ اس کو ہاتھ نہ لگانا۔
فیاخذکم عذاب یوم عظیم۔ ورنہ تم کو یوم عظیم کا عذاب آپکڑے گا۔ یعنی ایک دن عذاب عظیم میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Ayah 26:157فعقروہا پھر انہوں نے اونٹنی کو قتل کردیا۔ چونکہ سب اونٹنی کو قتل کرنے پر راضی تھے اس لئے قتل کی نسبت سب کی طرف کردی گئی اور اسی وجہ سے سب عذاب میں پکڑے گئے۔
فاصبحوا ندمین۔ قتل کے بعد پشیمان ہوئے۔ یہ پشیمانی توبہ نہ تھی بلکہ نزول عذاب کے ڈر سے تھی یا اس وقت ہوئی تھی جب عذاب آتا دیکھ لیا تھا لیکن اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ تھا۔
Ayah 26:158فاخذہم العذاب آخر عذاب نے ان کو آپکڑا یعنی اس عذاب نے جس کی ان کو دھمکی دی گئی تھی۔
ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ بیشک اس میں بڑی نشانی (واضح دلیل) ہے اور ان میں سے اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے (اس لئے ان پر عذاب آیا)
Ayah 26:159وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور بلاشک و شبہ آپ کا رب ہی غالب (اور) بڑا مہربان ہے۔
Ayah 26:160کذبت قوم لوط المرسلین۔ قوم لوط نے پیغمبروں کو جھوٹا جانا