Ayah 26:81والذی یمیتنی ثم یحیین۔ اور وہ جو مجھے موت دے گا پھر (آخرت میں) مجھے زندہ کرے گا 1 ۔
Ayah 26:82والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین۔ اور جس سے مجھے یہ امید ہے کہ میری غلط کاری کو وہ
قیامت کے دن معاف کر دے گا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی خطا کا اقرار بطور انکسار نفس کیا (کیونکہ پیغمبر معصوم ہوتے ہیں اور ان سے خطا کا یعنی گناہ کبیرہ کا صدور نہیں ہوتا۔ مترجم) ۔ یا اس سے مقصود تھا اپنی امت کو تعلیم دینا کہ گناہوں سے بچتے رہیں اور جو گناہ ان سے صادر ہوجائے اس کی معافی کی درخواست کریں یا یوں کہا جائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رخصت پر عمل کیا (ناجائز کام تو نہیں کیا) لیکن عزیمت کو ترک کردیا (یعنی بلندی مرتبہ جس کام کا تقاضا کرتی تھی وہ نہیں کیا) اور عزیمت کو ترک کرنے کی صرف یہ وجہ تھی کہ امت پر بار نہ پڑجائے جس کا اٹھانا لوگوں کے لئے دشوار ہو اس لئے آپ نے رخصت پر عمل کیا تاکہ امت کو عمل میں سہولت ہو اور اسی ترک عزیمت کے لئے استغفار کیا (کیونکہ ترک عزیمت آپ کے علو مرتبہ کے خلاف تھا) ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خطا وہی تین الفاظ تھے جو انہوں نے کہے تھے قوم والوں سے کہا تھا اِنِّیْ سقیم حالانکہ بیمار نہ تھے (اور کہا تھا بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُہُمْیہ حرکت بڑے بت نے کی ہے (حالانکہ یہ بات غلط تھی) اور حضرت سارہ کے متعلق بادشاہ سے کہا تھا ہٰذہ اختییہ میری بہن ہے (حالانکہ سارہ آپ کی بہن نہ تھیں بلکہ بی بی تھیں) مجاہد نے اس کو تیسری خطا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قرار دیا ہے لیکن جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول ہذا ربی کو خطا قرار دیا ہے اس طرح خطائیں تین سے زیادہ ہوجائیں گی۔ حضرت مفسر نے فرمایا ان الفاظ کو خطا کہنا کمزور بات ہے یہ الفاظ تو توریہ کے تھے (ذومعنی تھے حضرت ابراہیم کی مراد کچھ اور تھی اور مخاطب کچھ اور سمجھ گیا) اور توریہ کو خطا نہیں کہا جاسکتا۔ بغوی نے بوساطت مسروق حضرت عائشہ ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں میں نے عرض کیا ابن جدعان دور جاہلیت میں کنبہ پروری کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا اس کا اس کو کچھ نفع ملے گا فرمایا اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا اگر اس نے کسی دن بھی رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیَءِتْی یَوْمَ الدِّیْنَنہیں کہا ہوگا۔
حضرت ابراہیم نے قوم کے سامنے جو کچھ تفصیل سے بیان کیا وہ سب بطور استدلال تھا اور یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جس معبود میں ایسا کرنے (یعنی پیدا کرنے ‘ رہنمائی کرنے ‘ کھلانے ‘ پلانے ‘ شفا دینے اور مارنے جلانے) کی طاقت نہ ہو وہ معبود ہونے کا حق نہیں رکھتا نہ اس کی پوجا جائز ہے۔
Ayah 26:83رب ہب لی حکما والحقنی بالصلحین۔ اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما دے اور مجھے نیکیوں کے ساتھ ملا دے۔ حکم سے مراد علم و عمل کا کمال ہے اور صالحین سے مراد ہیں انبیاء معصومین جن کے اندر کسی کدورت علمی و عملی کا شائبہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے علمی و عملی کمال عطا فرما دے تاکہ میں انبیاء کے مسلک میں منسلک ہو سکوں اور اللہ کی صحیح خلافت اور خلق خدا کی قیادت کی میرے اندر استعداد پیدا ہوجائے۔
Ayah 26:84واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور میرا تذکرۂ خیر آنے والے لوگوں میں کر دے۔ یعنی میری اچھی تعریف اور بھلائی کا ذکر اور قبول عام آئندہ لوگوں کی زبانوں پر کر دے (کہ سب مجھے اچھا کہیں کوئی برائی کے ساتھ میرا ذکر نہ کرے) یا یہ مطلب ہے کہ آنے والی امتیں اگر میری ثنا کریں تو وہ سچی ہو (میری غیر واقعی اور غلط تعریف نہ کریں) ۔
Ayah 26:85واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم۔ اور مجھے جنت النعیم کے مستحقین میں سے کر۔
Ayah 26:86واغفرلابی انہ کان من الضآلین۔ اور میرے باپ کو معاف کر دے وہ بلاشبہ (حق کے راستہ سے)
بھٹکا ہوا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لئے یہ دعاء مغفرت اس وقت کی تھی جب آپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ اللہ کا قطعی دشمن ہے اس کے مقدر میں ایمان و ہدایت نہیں ہے لیکن جب آپ کو یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو پھر اس سے اظہار بیزاری کیا۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ الاَّ مَنْ مَوْعِدَۃٍ وَعَدَہَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ اِنَّہٗ عَدُوٌّا لِلّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ ) ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے دعاء مغفرت صرف اس وعدہ کی وجہ سے کی تھی جو اس نے باپ سے کرلیا تھا لیکن جب ابراہیم پر واضح ہوگیا کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگیا۔ یا یوں کہا جائے کہ جب حضرت ابراہیم نے باپ کے لئے دعاء مغفرت کی تھی اس وقت تک کافروں کے لئے دعاء مغفرت کرنے کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔
Ayah 26:87ولا تخزنی یوم یبعثون۔ اور جس روز لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس روز مجھے رسوا کرنا
یا ذلیل نہ کرنا۔ اوّل ترجمہ پر لاَ تُخْزِنِیْکا مصدر خزایتہ ہوگا اور دوسرے ترجمہ پر خزی۔
شیخین نے صحیحین میں خود حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان نقل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھ سے دریافت کیا گیا کہ (قیامت کے دن اللہ جو بعض بندوں سے کچھ چپکے چپکے فرمائے گا جس کی دوسروں کو اطلاع نہ ہوگی اس) سرگوشی کے متعلق آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے۔ میں نے کہا رسول اللہ ﷺ : فرماتے تھے کہ تم میں سے بعض لوگ اپنے رب کے قریب ہوجائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور فرمائے گا کیا تو نے ایسا ایسا کیا تھا۔ بندہ عرض کرے گا جی ہاں جی ہاں۔ اللہ فرمائے گا میں نے دنیا میں تیرے اس عمل پر پردہ ڈالے رکھا تھا اور آج معاف کرتا ہوں پھر اس کی نیکیوں کی تحریر سیدھے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔ البتہ کافروں اور منافقوں کو سب کے سامنے علی الاعلان پکارا جائے گا۔ ہٰؤُلآَءِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَیہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر دروغ تراشی کی تھی۔ آگاہ ہوجاؤ کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
Ayah 26:88یوم لا ینفع مال ولا بنون۔ اس دن جب کہ (نجات کے لئے) نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد
Ayah 26:89الا من اتی اللہ بقلب سلیم۔ ہاں (اس کی نجات ہوگی) جو اللہ کے پاس (کفر و شرک سے) پاک دل لے کر آئے گا۔
سَلِیْمٍسے مراد شرک اور شک سے پاک دل ہے گناہوں سے پاک ہونا مراد نہیں ہے کیونکہ کوئی شخص بھی (لغزش یا چھوٹے بڑے ہر قسم کے) گناہ سے پاک نہیں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے یہی قول اکثر اہل تفسیر کا ہے 1 ۔
سعید بن جبیر نے کہا سلیم (تندرست ‘ صحت مند) دل مؤمن کا ہے اور بیمار دل کافر اور منافق کا (اس قول پر آیت میں ہر مؤمن مراد ہوگا) ابو عثمان نیشاپوری نے کہا سلیم (سالم ‘ خالی) دل اس کا ہے جو ہر بدعت سے خالی وہ اور سنت پر قائم ہو یعنی (آیت میں) اہل السنت والجماعت (مراد ہیں) ۔
آیت کا تفسیری مطلب یہ ہے کہ اس روز مال اور اولاد کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ ہاں مؤمن کو فائدہ پہنچائے گی۔ اس صورت میں مستثنیٰ مفرغ ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ کسی کا مال و اولاد مفید نہ ہوگی ہاں مؤمن کا مال اور اولاد کام آئے گی۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ کافر خواہ اپنے قرابتداروں کے لئے کتنا ہی مال صرف کر دے اور کتنے ہی مسکینوں کو کھانا کھلائے کچھ بھی اس کے کام نہ آئے گا نہ اولاد اس کے کام آئے گی۔ خواہ اس کی اولاد صلحاء اور انبیاء ہی ہوں مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کرے گا نہ اس کے لئے معافی کا طلبگار ہوگا اللہ نے فرما دیا ہے (مَا کَان للنَّبِّی وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْا اُوْلیِ قُرْبٰی) نہ نبی کے لئے جائز ہے نہ (دوسرے) مسلمانوں کے لئے کہ وہ مشرکوں کے لئے دعاء مغفرت کریں خواہ وہ مشرک ان کے قرابت دار ہی ہوں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ابراہیم اپنے باپ آزر کو اس حالت میں پائیں گے کہ اس کا چہرہ بدرونق غبار آلود ہوگا۔ آپ اس سے فرمائیں گے کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میرے قول کے خلاف نہ چل۔ باپ کہے گا آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (دعا کریں گے اور) عرض کریں گے اے میرے رب تو نے وعدہ کیا تھا کہ قیامت کے دن مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ میرے باپ کی انتہائی رسوائی سے بڑھ کر اور کون سی (میری) رسوائی ہوگی۔ اللہ فرمائے گا میں نے جنت کافروں کے لئے حرام کردی ہے پھر حکم ہوگا ابراہیم اپنے دونوں قدموں کے نیچے دیکھ۔ حضرت ابراہیم (اپنے قدموں کی طرف) دیکھیں گے تو بڑے بڑے بالوں کا ایک بجو دکھائی دے گا جو (گندگی میں لتھڑا ہوا ہوگا) پھر اس کی ٹانگیں پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور ابراہیم اس روز اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ مؤمن نے جو مال اطاعت خداوندی میں خرچ کیا ہوگا اس سے قیامت کے دن اس کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح اس کی اولاد بھی شفاعت و استغفار کر کے اس کو فائدہ پہنچائے گی۔
Ayah 26:90وازلفت الجنۃ للمتقین۔ اور قریب کردی جائے گی جنت متقیوں کے۔ یعنی مؤقف سے وہ جنت کو دیکھ لیں گے اور اپنے حشر سے خوش ہوں گے۔
Ayah 26:91وبرزت الجحیم للغوین۔ اور ظاہر کردی جائے گی دوزخ کج راہوں کے لئے۔ وہ اپنے رب کے سامنے
دوزخ کو کھلا ہوا دیکھیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ ہم کو ہنکا کر اس کے اندر لے جایا جائے گا۔ بیضاوی نے کہا ہے دونوں آیتوں میں الفاظ کا اختلاف ہے (اوّل آیت میں ازلفت اور دوسری آیت میں برزت ہے) اس میں وعدہ کے پہلو کو ترجیح ہے۔
Ayah 26:92وقیل لہم اینما کنتم تعبدون۔
اور ان سے کہا جائے گا کہ تم جن کی پوجا
کرتے تھے (اور جن کی شفاعت کے امیدوار تھے آج) وہ کہاں ہیں۔
Ayah 26:93من دون اللہ : اللہ کے سوا ہل ینصرونکم کیا (آج) وہ تمہاری مدد کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تم کو بچا لیں گے۔ استفہام انکاری اور
توبیخی ہے۔ (یعنی عذاب سے بچا نہیں سکتے) ۔
او ینتصرون۔ یا خود محفوظ ہوسکتے ہیں۔ اپنے اوپر سے عذاب کو دفع کرسکتے ہیں (یعنی ایسا بھی نہیں کرسکتے) بلکہ
وہ کافر اور اللہ کے سوا جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ سب کے سب جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
Ayah 26:94فکبکبوا فیہا پھر اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کبکبوا کا ترجمہ کیا دوزخ میں ان کو اکٹھا کردیا جائے گا۔ مجاہد نے ترجمہ کیا اوندھا منہ گرا دیا جائے گا۔ مقاتل نے کہا پھینک دیا جائے گا۔ زجاج نے کہا ایک کو دوسرے پر ڈال دیا جائے گا۔ قتیبی نے کہا سر کے بل ڈال دیئے جائیں گے قاموس میں ہے کبہ اس کو الٹ دیا جیسے اکبہ اور کَبْیَکَبَہٗ فَاکَبَّاس کو الٹ دیا پھر وہ الٹ گیا اس مثال میں اَکْبَّلازم ہے۔ یعنی کَبَّاور کبکب کا ایک ہی معنی ہے۔ بیضاوی نے کہا ہے کبکب میں کاف کی تکرار تکرار معنی کے لئے ہے گویا مطلب یہ ہوگا کہ جس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا وہ لڑھکتا ہوا تہ میں پہنچ جائے گا۔
ہم والغاون۔ ان (باطل معبودوں) کو بھی اور کجراہوں (کافروں) کو بھی یعنی پجاریوں کو بھی۔
Ayah 26:95وجنود ابلیس اجمعون۔ اور ابلیس کے سارے جتھوں کو۔ یعنی جنات اور انسانوں میں سے اس کے تمام متبعین کو بعض کے نزدیک جنود ابلیس سے مراد ہے ابلیس کی ذریت۔ (نسل) ۔
Ayah 26:96قالوا ہم فیہا یختصمون۔ دوزخ کے اندر وہ جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ ہُمْ کی ضمیر پجاریوں اور بتوں سب کی طرف لوٹ رہی ہے اللہ بتوں کو بھی اس وقت گویا بنا دے گا اور وہ اپنے پجاریوں سے جھگڑیں گے (اور قالوا کا فاعل صرف پجاری ہیں یعنی جھگڑیں گے تو سب مگر اس قول کے قائل صرف پجاری ہوں گے۔ مترجم) ۔
Ayah 26:97تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین۔ خدا کی قسم ہم کھلی گمراہی میں تھے۔ اِنْ اِنَّکا مخفف ہے اور جملہ مقولہ ہے۔
Ayah 26:98اذ نسویکم برب العلمین۔ جب کہ (اے باطل معبودو) ہم تم کو (عبادت میں) رب العالمین کے برابر
قرار دیتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ضمیرا قالوا کی ضمیر کی طرح صرف پجاریوں کی طرف راجع ہو کیونکہ بتوں میں جھگڑنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے (بت بےجان ہیں بولنے کی ان میں اہلیت نہیں ہے) لیکن جب بت بےجان ہوں گے تو ان کو خطاب کرنے کا فائدہ سوائے اپنے افسوس و حسرت کے اظہار اور ندامت کے اور کچھ نہ ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ ان کافروں کا جھگڑا ان بتوں سے ہوگا جو مبدء ضلالت تھے اور وہ خود اپنی گمراہی کا اقرار کریں گے اور اظہار حسرت کریں گے۔
Ayah 26:99وما اضلنا الا المجرمون۔ اور ہم کو تو بس مجرموں نے گمراہ کیا۔ مقاتل نے کہا المجرمون سے مراد ہیں شیاطین۔ کلبی نے کہا گمراہ اسلاف مراد ہیں جن کی تقلید ان کافروں نے کی تھی۔
Ayah 26:100فما لنا من شافعین۔ اب ہمارا کوئی بھی سفارشی نہیں ہے۔ یعنی مؤمنوں کے سفارشی تو انبیاء ملائکہ اور نیک مؤمن ہیں۔ ہمارا کوئی سفارشی نہیں۔
Ayah 26:101ولا صدیق اور نہ کوئی سچا دوست ہے۔
شافعین کی جمع اور صدیق کو مفرد ذکر کرنے کی چند وجوہ ہوسکتی ہیں (1) عام طور پر سفارشی تو بہت ہوجاتے ہیں اور سچا دوست کم ہی ملتا ہے۔ (2) جتنی کوشش متعدد سفارشی کرتے ہیں ان سب سے زیادہ لگن کے ساتھ ایک دوست کوشش کرتا ہے۔ (3) صدیق کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ وزن فعول و فعیل کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور متعدد پر بھی۔ (4) صدیق اصل میں جنبین اور صہیل کی طرح مصدر ہے (بطور صفت استعمال کرلیا گیا ہے اور مصدر میں واحد جمع کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ مصادر کی جمع نہیں آتی۔ مترجم) ۔
حمیم۔ قریب قاموس میں ہے حمیم بروزن امیر بمعنی قریب۔ اس کی جمع احماء ہے کبھی حمیم کا
استعمال جمع اور مؤنث کے لئے بھی ہوتا ہے۔ کافروں کے کلام کا مطلب یہ ہوگا کہ آج نہ ہمارا کوئی سچا دوست ہے نہ قرابت دار جو ہماری سفارش کرسکے۔ اللہ نے فرمایا ہے (اَلْاَخِلاَّءُ یَوْمَءِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّا الاَّ الْمُتَّقِیْنَ ) اس روز گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ہاں متقی (باہم دشمن نہ ہوں گے) بغوی نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے بیان کیا۔ حضرت جابر نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آدمی جنت کے اندر کہے گا میرا فلاں دوست کیا ہوا (کہاں گیا) اس وقت اس جنتی کا دوست جہنم میں ہوگا اللہ حکم دے گا اس کے دوست کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جاؤ اس کے بعد جو لوگ دوزخ میں رہ جائیں گے وہ کہیں گے فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ وَلاَ صَدِیْقِ حَمِیْمٍحسن نے فرمایا اپنے مؤمن دوستوں کی تعداد زیادہ کرو کیونکہ قیامت کے دن وہ شفاعت کریں گے۔
Ayah 26:102فلوا ان لنا کرۃ فنکون من المؤمنین۔ پس کاش ہم کو ایک بار (دنیا میں) لوٹنا مل جاتا تو ہم (بھی) مؤمنوں (کے گروہ) میں سے ہوجاتے۔
اس آیت میں تو بمعنی لَیْتَ (کاش) کے لئے ہے۔
Ayah 26:103ان فی ذلک لایۃ اس (یعنی ابراہیم کے قصہ) میں بلاشبہ عظیم الشان نشانی (کھلی ہوئی دلیل) ہے۔ جو
شخص بصیرت اندوز نظر رکھتا ہے اور درس عبرت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کیلئے ابراہیم کے قصہ میں (توحید ‘ الوہیت و ربوبیت کی) واضح دلیل موجود ہے۔ قصہ میں کیسی عمدہ ترتیب کلام ہے اور کتنا حسین ہے اسلوب تقریر ‘ کلام اور اسلوب تقریر۔ اصول علوم دینیہ کی طرف کیسے لطیف اشارات ہیں اور ان اشارات کے اندر کتنا علمی خزانہ مخفی ہے حضرت ابراہیم نے قوم کو کیسی خوبصورتی کے ساتھ دعوت دی۔ مخالفت بھی کی تو کتنی خوبصورتی کے ساتھ۔ ابراہیم اپنی قوم پر کس قدر مہربان تھے بیان قرآنی میں اس کی کیسی اعلیٰ تصویر پیش کی ہے اور نفس واقعہ کی کیسی تصویر کشی کی ہے وعدہ وعید کو بھی بطور نقل بیان کیا ہے لیکن درپردہ تاکہ سننے والے گوش قبول سے اس کو سنیں اور نفرت نہ کریں پھر اس بیان میں رسول اللہ ﷺ : کی صداقت کی بھی واضح دلیل اور کھلا ہوا ثبوت موجود ہے (کہ آپ باوجود امی ہونے کے ہزاروں سال پرانا واقعہ کس قدر خوبصورتی اور صداقت کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کردہ نہیں ہے تو اور کیا ہے) ۔
وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اور ان (کی قوم) میں سے اکثر آدمی (ان پر) ایمان لانے والے نہیں تھے۔
Ayah 26:104وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور حقیقت یہی ہے کہ آپ کا رب ہی غالب (اور) مہربان (کریم) ہے۔
یعنی انتقام پر قادر ہے مگر اس نے اپنی رحمت سے کافروں کو ڈھیل دی تاکہ وہ یا ان کی اولاد میں سے کوئی ایمان لے آئے اور اسی نے اپنی رحمت سے اہل ایمان کو اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا۔
Ayah 26:105کذبت قوم نوح المرسلین۔ قوم نوح نے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا۔ قوم مؤنث ہے اسی لئے تصغیر کی صورت
میں (تاء تانیث کا اظہار کردیا جاتا ہے اور) قُوْئمَۃٌکہا ہے۔ المرسلین اگرچہ جمع کا صیغہ ہے مگر اس سے مراد جنس مرسل ہے۔ جیسے عربی محاورہ ہے فلاَنٌ یَرْکب الخیلفلاں شخص گھوڑوں پر سوار ہوتا ہے خواہ وہ ایک ہی گھوڑے پر سوار ہوتا ہو تب بھی یرکب الخیل کہا جاتا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قوم نوح سارے پیغمبروں کا (یعنی نفس رسالت کا) ہی انکار کرتی ہو۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حسن بصری سے دریافت کیا گیا۔ ابو سعید یہ تو بتائیے کہ اللہ نے کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ‘ کَذَّبَتْ عَادُ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ
نِ الْمُرْسَلِیْنَ فرمایا ہے باوجودیکہ ان میں سے ہر قوم نے صرف اپنے ہی ایک پیغمبر کی تکذیب کی کیونکہ ان کی ہدایت کے لئے ایک ہی پیغمبر کو بھیجا گیا تھا۔ حسن بصری نے فرمایا ہر دوسرا پیغمبر انہی (عقائد و اعمال) کی تعلیم لے کر آیا جس کے لئے پہلا پیغمبر آیا اور جب انہوں نے ایک پیغمبر کی تکذیب کی تو حقیقت میں سب کی تکذیب کی۔
Ayah 26:106اذ قال لہم اخوہم نوح جب انکے بھائی نوح نے ان سے کہا۔ بھائی سے مراد نسبی بھائی ہے دینی بھائی نہیں۔
الا تتقون۔ کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے کہ دوسروں کی پوجا چھوڑ دو ۔
Ayah 26:107انی لکم رسول امین۔ میں بلاشبہ تمہاری ہدایت کے لئے امانتدار پیغمبر ہوں۔ یعنی اللہ کا قاصد ہوں اور جو وحی اللہ کی طرف سے میرے پاس آتی ہے اس کا امانتدار ہوں اور تم لوگوں میں بھی میری امانتداری اور سچائی مشہور ہے۔
Ayah 26:108فاتقوا اللہ پس اللہ سے ڈرو یعنی اس کے عذاب سے بچو۔
واطیعون۔ اور میرا کہا مانو یعنی توحید خدا اور صرف اللہ کی عبادت کرنے کا جو میں تم کو حکم دے رہا ہوں اس کو مانو۔
Ayah 26:109وما اسئلکم علیہ من اجر اور میں اس (دعوت و نصیحت) کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا کہ تم مجھ پر طلب زر کی کوئی تہمت رکھ سکو۔
ان اجری الا علی رب العلمین۔ میرا ثواب تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
Ayah 26:110فاتقوا اللہ واطیعون۔ تم اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔
تکرار آیت تاکید کے لئے ہے۔ اس تکرار سے یہ بات ظاہر کرنا بھی ہے کہ امانت دار ہونے کا تقاضا ہے کہ نوح کی بات مانی جائے اور ان کی دعوت قبول کی جائے نیز طلبگار اجرت نہ ہونا اور روپیہ کا لالچ نہ ہونا بھی موجب اطاعت ہے۔ ان دونوں میں اوصاف میں سے ہر وصف مستقل طور پر موجب اطاعت ہے اور حضرت نوح کے اندر تو دونوں اوصاف موجود تھے اس لئے آپ کی اطاعت کا وجوب بدرجۂ اولیٰ ہو رہا ہے۔
Ayah 26:111قالوا انؤمن لک واتبعک الارذلون۔ کہنے لگے کیا ایسی صورت میں ہم تم پر ایمان لاسکتے ہیں جب کہ
کمینے لوگ تمہارے متبع ہیں۔
ارذل (بروزن اعور) کی جمع سالم ارذلون ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے ارذل کمینہ۔ کم عزت۔ بیضاوی نے لکھا ہے جس کی عزت کم ہو اور مال بھی کم ہو وہ ارذل ہے۔ بغوی نے ترجمہ کیا ہے نچلے طبقہ والے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سنار۔ عکرمہ نے کہا کپڑا بننے والے اور موچی۔ قوم نوح کے یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ بہت سخیف العقل احمق تھے ان کے پیش نظر صرف حقیر متاع دنیا تھا وہ نادار مؤمنوں کے متعلق یہی رائے رکھتے تھے کہ صرف مال کے لالچ اور کچھ اونچا اٹھنے کے لئے وہ ایمان لائے ہیں۔ غور و خوض اور فکر و بصیرت کے بعد مسلمان نہیں ہوئے ان لوگوں کا تمہاری دعوت قبول کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری دعوت و نصیحت غلط اور باطل ہے ایسے کمینوں کے ساتھ ہم کیسے ایمان لاسکتے ہیں 1 ۔
Ayah 26:112قال وما علمی بما کانوا یعملون۔ نوح نے کہا مجھے کیا معلوم کہ وہ کس غرض سے (میری نصیحت کے مطابق) عمل کرتے ہیں۔ یعنی میں نہیں جانتا کہ ان کی طرف سے میری اتباع کرنا کس وجہ سے ہے خالص اللہ کے لئے ہے یا دنیاوی لالچ کے لئے۔ میرا ذمہ تو صرف ظاہر کا اعتبار کرنا ہے۔
Ayah 26:113ان حسابہم الا علی ربی (رہی ان کے باطن کی حالت تو) ان کی حساب فہمی کا اللہ ذمہ دار ہے۔ وہی باطن احوال سے واقف ہے۔
لو تشعرون۔ اگر تم کو شعور ہوتا (تو اس بات کو سمجھ جاتے) مگر اللہ نے تو تمہارے حواس ادراکِ حق سے معطل کردیئے ہیں تمہارا نور بصیرت نابینا ہوگیا۔
فراء نے یہ مطلب بیان کیا اگر تم ذی علم ہوتے تو پیشوں کی وجہ سے ان کو ذلیل نہ سمجھتے۔ زجاج نے کہا پیشوں سے دینداری کو ضرر نہیں پہنچتا۔
Ayah 26:114وما انا بطارد المؤمنین۔ اور میں تو مؤمنوں کو (اپنے پاس سے) نکالنے والا نہیں کافروں کے قول سے
یہ امر مترشح ہوتا تھا کہ وہ غریب مسلمانوں کو نوح کے پاس سے نکلوالنے کے خواستگار ہیں اس کے جواب میں حضرت نوح نے یہ جملہ فرمایا۔
Ayah 26:115ان انا الا نذیر مبین۔ میں تو صرف واضح طور پر (اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے) ڈرانے والا ہوں۔ یہ کلام گویا غریب مسلمانوں کو اپنے پاس سے نہ نکالنے کی علت کی طرح ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مجھے تو سب لوگوں کو۔ خواہ عزت والے ہوں یا رذیل نچلے طبقہ والے۔ کفر و معصیت سے منع کرنے عذاب خدا سے ڈرانے اور اللہ کی طرف بلانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ دولتمندوں کو ساتھ لینے کے لئے غریبوں کو اپنے پاس سے ہنکا دینا میرے لئے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔ میرا فریضہ تو سب کو کھول کر ڈرانا ہے۔ ضحاک نے مبین کی تشریح میں کہا واضح دلیل کے ساتھ میں عذاب خدا سے ڈرانے والا ہوں تم لوگوں کو راضی کرنے کے لئے غریبوں کو نکال دینا میرے لئے جائز نہیں۔
Ayah 26:116قالوا لئن لم تنتہ یا نوح لتکونن من المرجومین۔ قوم والوں نے کہا نوح اگر تو (اپنے قول
سے) باز نہ آیا تو ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ (مقاتل و کلبی) ضحاک نے مرجومین کا ترجمہ کیا ہے مَشْتُومِیْنَیعنی ہم تجھے گالیاں دیں گے۔
Ayah 26:117قال رب ان قومی کذبون۔ نوح نے کہا اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھوٹا قرار دیا
Ayah 26:118فافتح بینی وبینہم فتحا ونجنی ومن معی من المؤمنین۔
اب میرا اور ان کا قطعی (اور آخری) فیصلہ کر دے اور مجھے اور میرے ساتھی مؤمنوں کو (ان کے ارادوں سے یا ان کی بداعمالی کی نحوست سے) بچا لے۔ حضرت نوح نے یہ دعا کافروں کے خلاف اس لئے کی کہ انہوں نے تکذیب حق کی تھی اس وجہ سے نہیں کی تھی کہ کافروں نے آپ کو ڈرایا دھمکایا تھا آپ کی بےعزتی کی تھی۔ یعنی آپ نے بددعا کا سبب ظاہر کردیا کہ تکذیب حق کی وجہ سے میں کافروں کے خلاف دعا کر رہا ہوں۔
Ayah 26:119فانجینہ ومن معہ فی الفلک المشحون۔ پھر ہم نے نوح کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے بچا لیا
Ayah 26:120ثم اغرقنا بعد البقین۔ اس کے بعد جتنے باقی رہ گئے ان کو ڈبو دیا۔ کشتی سے باہر رہ جانے والے سب کافر تھے اس لئے الباقین سے مراد ہیں سب کافر۔