Ayah 26:41فلما جآء السحرۃ قالوا لفرعون ائن لنا الاجراً ان کنا نحن الغلبین۔
اس کے بعد جب جادوگر (فرعون کے پاس) آگئے تو انہوں نے فرعون سے کہا اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہم کو کچھ اس کا بدلہ بھی یقینی طور پر ملے گا۔ یہ استفہام تقریری ہے (یعنی ضرور ملنا چاہئے) ۔
Ayah 26:42قال نعم وانکم اذا لمن المقربین۔ فرعون نے کہا ہاں تم اس وقت (جبکہ غالب آجاؤ گے شاہی)
مقرب ہوجاؤ گے۔
جادوگروں نے بصورت غلبہ معاوضہ کی طلب ظاہر کی تھی فرعون نے ان کی طلب سے زیادہ اپنا مقرب بنانے کا وعدہ کرلیا۔ اس کے بعد جادوگروں نے حضرت موسیٰ سے کہا آپ جو کچھ پھینکنا چاہتے ہیں پہلے پھینکئے یا ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم پہلے (اپنا جادو) پھینکیں ‘ سورة اعراف میں یہ ٹکڑا گزر چکا ہے کہ جادوگروں نے موسیٰ سے کہا امَّا اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا اَنْ نَکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ ۔
Ayah 26:43قال لہم موسیٰ القوا ما انتم ملقون۔ موسیٰ نے ان سے کہا (پہلے) تم ہی پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
اس آیت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جادو کرنا تو حرام ہے حضرت موسیٰ نے ان کو جادو کرنے کا کیوں حکم دیا۔ کیونکہ اس جگہ حکم دینا مراد ہی نہیں ہے بلکہ صرف اجازت مقصود ہے اور اجازت بھی پہلے کر چکنے کی۔ تاکہ موسیٰ کو اپنا معجزہ ظاہر کرنے کا موقع مل جائے یا یوں کہا جائے کہ امر اس جگہ بمعنئ تحقیر ہے۔ حضرت موسیٰ نے معجزے کے مقابلے میں ان کے جادو کو حقیر قرار دیا اور اس تحقیر کو ظاہر کرنے کے لئے فرمالیا ‘ جو کرنے والے ہو کرو۔
Ayah 26:44فالقوا حیالہم وعصیہم وقالوا بعزۃ فرعون انا لنحن الغلبون۔ پس جادوگروں نے اپنی رسیاں
اور گنڈے (زمین پر) پھینکے اور (بطور تبرک فرعون کا نام لیا اور) کہا فرعون کی عزت کے وسیلہ سے ہم ہی بلاشبہ غالب رہیں گے۔
چونکہ فرعون پر جادوگروں کو اعتقاد تھا اس لئے عزت فرعون کا ذکر انہوں نے بطور تبرک لیا۔ یا (بِ ) قسمیہ ہے یعنی عزت فرعون کی قسم ہم غالب رہیں گے۔
Ayah 26:45فالقی موسیٰ عصاہ فاذا ہی تلقف ما یافکون۔ پھر موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی (زمین پر) پھینکی تو وہ یکدم جادوگروں کی شعبدہ گری سے بنائی ہوئی چیزوں کو نگلنے لگی۔
مَایَاْفِکُوْنَمیں ما موصولہ ہے یعنی جادوگروں نے اپنی شعبدہ بازی سے جو کچھ بنایا تھا۔ ان کی رسیاں اور ڈنڈے سانپوں کی طرح رینگتے دوڑتے لوگوں کے خیال میں نظر آنے لگے تھے (اور لوگوں کی انہوں نے نظر بندی کردی تھی۔ مترجم) ۔ ان سب کو موسیٰ کی لاٹھی کا سانپ نگلنے لگا۔ یا ماء مصدریہ ہے یعنی ان کے جھوٹے شعبدے کو لاٹھی نگلنے لگی۔
Ayah 26:46فالقی السحرۃ سجدین۔ اس کے بعد (بےاختیار) جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے
Ayah 26:47قالوا امنا برب العلمین۔ کہہ اٹھے ہم رب العلمین پر ایمان لے آئے
Ayah 26:48رب موسیٰ وہرون۔ جو موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) کا رب ہے۔
یعنی جب جادوگروں نے پیش نظر منظر دیکھ لیا اور سمجھ گئے کہ جادو سے ایسا ہونا ممکن نہیں تو اپنے پر قابو نہ رکھ سکے اور بےاختیار ہو کر سجدے میں گرپڑے ‘ اللہ نے ان کو توبہ کی توفیق عنایت کردی اور (ایک غیبی ہاتھ نے) ان کو سجدے میں گرا دیا۔ آیت بتارہی ہے کہ جادو نام ہے صرف شعبدہ گری طمع کاری اور خیال کو متاثر کرنے کا اس کی حقیقت کچھ نہیں ہے (کچھ علماء نے کہا جادو حق ہے یعنی واقعی ایک حقیقت موثرہ ہے) ۔
حضرت مفسر (رح) نے اس قول کی تردید کے لئے فرمایا کہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ جادو کی کوئی واقعی حقیقت نہیں اگر اس کی کچھ حقیقت ہے تو صرف اتنی کہ یہ ایک طرح شعبدہ گری ‘ فریب کو بصورت واقعیت دکھا دینا اور لوگوں کے خیالات پر اثر انداز ہونا ہے ‘ دوسری آیت میں یُخَیَّلُ اِلَیْہِمْکا لفظ آیا ہے یعنی لوگوں کے خیال میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سانپ دوڑ رہے ہیں۔ (مترجم) رب العالمین کے بعد رب موسیٰ و ہارون کہنے سے وضاحت کرنا اور وہم کو دفع کرنا مقصود ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ہمارے ایمان کا سبب وہ معجزہ ہے جو موسیٰ کے ہاتھ سے ظاہر ہوا۔
Ayah 26:49قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر فرعون نے کہا میری اجازت
کے بغیر ہی تم نے اس کی بات (یعنی معجزہ) کا یقین کرلیا۔ (حقیقت میں یہ تمہاری سب کی سازش ہے) موسیٰ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔
یعنی فرعون کو یہ اندیشہ ہوگیا کہ لوگ جادوگروں کے ایمان لانے سے بہک جائیں گے اور خیال کرنے لگیں گے کہ جادوگروں کے سامنے حق کا ظہور ہوگیا اس لئے وہ ایمان لے آئے پس قوم کو دھوکہ دینے اور حقیقت کو مشتبہ بنانے کے لئے اس نے کہا میری اجازت کے بغیر تم نے موسیٰ (کی اس کرشمۂ سازی) کا یقین کرلیا۔
اٰمَنْتُمْ میں ہمزۂ استفہام انکاری محذوف ہے۔
عَلَّمَکُمُ السِّحْرَیعنی اسی نے تم کو جادو سکھایا ہے ‘ کچھ سکھایا ہے کچھ نہیں سکھایا اسی لئے تم پر غالب آگیا یا یہ مطلب ہے کہ تم نے باہم سازش کرلی اور ایک دوسرے سے اندرونی طور پر مل گئے۔
فلسوف تعلمون۔ اب کچھ دیر میں ہی تم کو معلوم ہوجائے گا یہ سزا دینے کی مبہم دھمکی ہے۔ جس کی توضیح اگلی
آیت میں ہے۔
لا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ولاصلبنکم اجمعین۔ میں ضرور تم سب کے ایک
طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا اور سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔
Ayah 26:50قالوا لاضیر جادوگروں نے کہا (اس میں ہمارا) کوئی ضرر نہیں۔ جادوگروں نے ایسا اس لئے کہا کہ اس قتل اور سخت عذاب سے تو ان کو مرتبۂ شہادت اور اجر جزیل حاصل ہونے والا تھا جس کے مقابلہ میں دنیوی دکھ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
انا الی ابنا منقلبون۔ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہی ہیں۔
تیرے ہاتھوں سے یا کسی اور سبب سے ہم تو مرنے والے ہیں اگر تو قتل کر دے گا تو ہمارے لئے سب سے زیادہ مفید رہو گا۔
Ayah 26:51انا نطمع ان یغفرلنا ربنا خطینا ان کنا اوّل المؤمنین۔ ہم کو تو خواہش ہی یہ ہے کہ ہمارا رب
ہماری خطاؤں کو معاف کر دے اس وجہ سے کہ (فرعون کے ساتھیوں میں یا اس میلہ میں) ہم سب سے اوّل ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔
میں کہتا ہوں بظاہر آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم اوّل مؤمن ہیں اور اوّل مؤمن وہی لوگ ہوتے ہیں جن کی تقلید ودسرے لوگ بعد کو کریں۔
Ayah 26:52واوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون۔ اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ
میرے بندوں کو رات کو نکال لے جا کیونکہ (دن میں) تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔
یعنی رات کو نکال لے جانے کی علت یہ ہے کہ (دن کو) فرعون اور اس کی قوم والے تمہارا تعاقب کریں گے تاکہ تم کو مصر سے نکلنے سے روکیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے حضرت موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کے ہر چار گھر والوں کو ایک گھر میں جمع کرو پھر بھیڑ کے بچوں کو ذبح کر کے ان کا خون گھروں کے دروازوں پر لگا دو میں فرشتوں کو حکم دوں گا جس گھر پر خون کا نشان ہوگا اس میں داخل نہ ہوں گے پھر میں فرشتوں کو حکم دوں گا وہ قوم فرعون کے بچوں کو مار ڈالیں گے اور ان کو مالی نقصان پہنچائیں گے پھر تم چپاتیاں پکانا (یعنی چپاتیاں پکا کر ساتھ لے لینا) پھر راتوں رات میرے بندے کو لے کر سمندر پر پہنچ جانا وہاں تم کو میرا (جدید) حکم ملے گا۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے فرعون سے کہا یہ حرکت موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی ہے انہوں نے ہمارے بچے بھی مار ڈالے اور مال بھی لے گئے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کے پیچھے پندرہ لاکھ سردار جن میں سے ہر ایک کی کمانڈ میں ایک ہزار آدمی تھے روانہ کردیئے اور خود بھی اپنی عظیم کرسی پر بیٹھ کر نکل کھڑا ہوا میں کہتا ہوں (یہ سب داستان بکواس ہے) فرعون کے لشکر کی اتنی تعداد بعید از عقل ہے اور کوئی قابل اعتبار روایت بھی ایسی نہیں آئی۔
Ayah 26:53فارسل فرعون فی المدآئن حشرین۔ پھر فرعون نے شہروں میں (لشکر کو) جمع کرنے والے بھیج دیئے
یعنی کچھ سپاہی بھیج دیئے تاکہ وہ فوج میں لوگوں کو بھرتی کریں میں کہتا ہوں شاید فرعون نے قریب کے شہروں میں کچھ لوگوں کو اس لئے بھیج دیا ہو کہ وہ اسی رات کو صبح تک مصر (کی راجدھانی) میں اکٹھا کرلیں اور فرعون نے یہ بھی کہلوا دیا کہ
Ayah 26:54ان ہولآء لشر ذمۃ یہ (بنی اسرائیل) تھوڑے سے ہیں شِرْ ذِمَۃٌ آدمیوں کی قلیل تعداد اس کی تائید اگلے فقرہ۔
قلیلون۔ سے کردی۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ وہ روایت جس میں بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار
بتائی گئی ہے غلط ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو قلیل التعداد اپنے لشکر کے مقابلہ میں قرار دیا بعض روایات میں فرعون کے لشکر کے مقدمہ (اگلے حصہ) کی تعداد سات لاکھ بیان کی گئی ہے۔ اسی پر ساقہ (پچھلا حصّہ) اور دونوں بازوؤں (یمین و یسار) اور قلب (وسط) کو قیاس کرلیا جائے لیکن یہ تعداد بھی خلاف عقل و روایت ہے مصر کا ملک ہی کتنا تھا بڑی بڑی حکومتوں اور سلطنتوں کی فوج کی تعداد بھی اتنی نہیں ہوتی۔
میں کہتا ہوں شاید شر ذمہ کہہ کر بنی اسرائیل کی تعداد کی قلت ‘ فرعون نے اپنی فوج کے مقابلہ میں ظاہر کی ہو اور قلیلون کہہ کر واقعی ان کی تعداد کی کمی بیان کی ہو۔
Ayah 26:55وانہم لنا لغآئظون۔ اور بلاشک و شبہ وہ ہم کو غصہ دلا رہے ہیں۔ یا یہ ترجمہ کیا جائے بلاشبہ وہ ہم سے بغض و عداوت رکھنے والے ہیں۔
غائظون یعنی غیظ و عداوت والے۔ دشمن ہم سے بغض رکھنے والے۔ یا ہمارے ساتھ ایسی حرکت کرنے والے ہیں جو ہم کو غضب آلود کر دے۔
Ayah 26:56وانا لجمیع حذرون۔ اور ہم سب ایک مسلم جماعت (اور باقاعدہ فوج) ہیں فراء نے کہا حاذر وہ شخص جو تم کو اس وقت ڈرا رہا ہے اور حذر وہ شخص جو خوفناک ہے (یعنی حاذر فعل کے تجدد و حدوث کے لئے آتا ہے اور حذر ثبات کے لئے) ۔
بعض نے حاذرون کا ترجمہ کیا قوت والے یعنی تیار اور حذرون کا معنی ہے محتاط ‘ بیدار کذا قال الزجاج۔
Ayah 26:57فاخرجنہم من جنت وعیون۔ پھر ہم ان کو نکال کرلے آئے باغوں اور چشموں سے
Ayah 26:58وکنوز ومقام کریم۔ اور خزانوں سے اور عمدہ قیام گاہوں سے۔
یعنی فرعون کے ساتھی جمع ہوگئے اور سب کا اتفاق ہوگیا کہ بنی اسرائیل کا پیچھا کیا جائے چناچہ سب ہماری مشیت کے مطابق نکل کھڑے ہوئے باغات بھی چھوڑے دریا اور نہروں کو بھی چھوڑا سونے چاندی کے خزانوں کو خیرباد کہا اور خوبصورت مکانات اور امیرانہ ٹھاٹ کی بیٹھکیں سب کچھ چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں چڑھ دوڑے اور اس طرح سب اپنے شہروں سے نکل آئے۔
Ayah 26:59کذلک واقعہ یونہی ہوا۔ بات ایسی ہی ہوئی۔
واورثنہا بنی اسرائیل اور بنی اسرائیل کو ہم نے ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔ کیونکہ جب فرعون اور اس کا سارا
لشکر ڈوب گیا تو بنی اسرائیل مصر کو لوٹ گئے اور فرعونیوں کے چھوڑے ہوئے مال متاع اور جائیداد اور باغات پر قابض ہوگئے (یہ خیال حضرت مفسر کا ہے اہل تاریخ کا قوی قول یہ ہے کہ بنی اسرائیل اس وقت لوٹ کر نہیں آئے بلکہ صحراء سینا میں گھس پڑے اور اسی بیابان میں پھنس گئے ‘ من وسلویٰ کا نزول بھی یہیں ہوا اور حضرت موسیٰ کو توریت بھی یہیں ملی اور بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی بھی یہیں کی۔ آخر حضرت موسیٰ اور حضرت موسیٰ سے پہلے حضرت ہارون کی وفات بھی اسی صحرا میں ہوئی پھر حضرت یوشع کو نبوت بھی یہیں عطا ہوئی اور چالیس برس سے زیادہ اس وادی میں سرگرداں رہنے کے بعد قصور معاف ہوا اور نجات ملی اور حدود فلسطین و شام میں داخل ہوئے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ شام میں حکومت قائم کرنے کے بعد پھر بنی اسرائیل مصر کی طرف لوٹے ہوں لیکن یہ بھی خیال ہی ہے ورنہ حضرت یوسف سے پہلے بنی اسرائیل کی کوئی آبادی یا حکومت مصر میں نہیں ہوئی۔ تاریخ سے بنی اسرائیل کا مصر پر اقتدار ثابت نہیں۔ مترجم) ۔
Ayah 26:60فاتبعوہم مشرقین۔ غرض (ایک روز) سورج کے نکلنے کے وقت پیچھے سے ان کو جا لیا۔
Ayah 26:61فلما ترآء الجمعان قال اصحب موسیٰ انا لمدرکون۔ جب دونوں جماعتیں باہم دکھائی دینے
لگیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تک بلاشبہ یہ پہنچ جائیں گے (یعنی ہم کو پکڑ لیں گے اور ہم میں مدافعت کی طاقت ہے نہیں) ۔
Ayah 26:62قال کلا ان معی ربی سیہدین۔ موسیٰ نے کہا (اللہ کے وعدے پر بھروسہ رکھتے ہوئے) کہا ہر گز نہیں۔ میرے ساتھ میرا رب موجود ہے (یعنی اس کی مدد موجود ہے) وہی مجھ کو عنقریب (نجات کا) راستہ بتادے گا۔
Ayah 26:63فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر فانفلق ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا میں (یعنی نیل میں) مارو۔ (موسیٰ نے لاٹھی پانی میں ماری) فوراً دریا پھٹ گیا (اور خشک راستہ نکل آیا 1 ) ۔
فکان کل فرق کالطود العظیم۔ اور (پانی کا) ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا (یعنی اپنی جگہ پر رک گیا ‘ پھر بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں میں سے ہر خاندان اپنے راستہ میں داخل ہو کر پار ہوگیا) ۔
Ayah 26:64وازلفنا ثم الاخرین۔ اور ہم دوسروں کو (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اس جگہ کے) قریب لے آئے۔
Ayah 26:65وانجینا موسیٰ ومن معہ اجمعین۔ اور ہم نے موسیٰ کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے سب کو بچا لیا
Ayah 26:66ثم اغرقنا الاخرین۔ پھر ان دوسروں کو (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں کو) غرق کردیا۔
Ayah 26:67ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ بلاشبہ اس میں (یعنی موسیٰ کو ساتھیوں سمیت بچا لینے اور فرعون کو ساتھیوں سمیت غرق کردینے میں) کھلی ہوئی دلیل ہے (موسیٰ کی سچائی کی) اور ان میں (فرعون کے ساتھیوں میں) اکثر لوگ مؤمن نہ تھے۔ روایت میں آیا ہے کہ فرعون کے ساتھیوں میں سے صرف یہ لوگ ایمان لائے تھے آسیہ فرعون کی بی بی ‘ ایک وہ شخص جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یعنی حزئیل اور اس کی بی بی مریم بنت ناموسیا۔ یہ مریم وہی عورت ہے جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کی نشاندہی کی تھی۔
Ayah 26:68وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور یقیناً آپ کا رب (دشمنوں سے انتقام لینے میں) غالب اور (دوستوں کے لئے) مہربان ہے۔
Ayah 26:69واتل علیہم نبا ابراہیم۔ اور ان (اہل مکہ) کو ابراہیم کی خبر (یعنی واقعہ) پڑھ کر سناؤ۔ اس جملہ کا عطف وَاِذَا نَادٰی رَبُّکَپر ہے کیونکہ اذ نادی سے پہلے لفظ اُذْ لُّرْمحذوف ہے (اس لئے فعل کا عطف فعل پر ہوگیا) ۔
Ayah 26:70اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ جب کہ ابراہیم نے اپنے باپ سے اور قوم والوں سے کہا تم لوگ کس چیز کی پوجا کرتے ہو۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ سوال (طلب علم کے لئے نہیں کیا تھا آپ کو تو معلوم ہی تھا کہ یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں بلکہ یہ سوال) اس لئے کیا تاکہ ان کو بتاسکیں کہ جن کی تم (پوجا کرتے ہو وہ مستحق عبادت نہیں ان کی پوجا نازیبا ہے۔
Ayah 26:71قالوا نعبد اصناما فنظل لہا عکفین۔ کہنے لگے ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہمیشہ ان ہی پر جمے 1 رہتے ہیں
(حضرت ابراہیم کا سوال مختصر تھا لیکن) فخر کے طور پر انہوں نے جواب کو طول دے دیا نَظَلُّکا لغوی ترجمہ ہے ہم دن کو ہوتے ہیں لیکن یہ ترجمہ یہاں مناسب نہیں ہے اس لئے اس جگہ اس کا معنی ہے ہم ہمیشہ رہتے ہیں ؟ بغوی نے لکھا ہے وہ لوگ دن میں بتوں کی پوجا کرتے تھے رات کو نہیں کرتے تھے (اس صورت میں نَظَلُّاپنے اصلی لغوی معنی پر ہوگا۔ مترجم) ۔
Ayah 26:72قال ہل یسمعونکم اذ تدعون۔ ابراہیم نے کہا کیا وہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو پکارتے ہو
Ayah 26:73او ینفعونکم او یضرون۔ یا تم کو فائدہ پہنچاتے ہیں یا تم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
Ayah 26:74قالوا بل وجدنا ابآء نا کذلک یفعلون۔ کہنے لگے (ان باتوں میں سے تو وہ کچھ بھی نہیں کرتے ان وجوہ کی وجہ سے ہم ان کو نہیں پوجتے) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے (اس لئے ہم بھی کرتے ہیں) ۔
Ayah 26:75قال افرء یتم ما کنتم تعبدون۔ ابراہیم نے کہا کیا تم نے (غور کیا اور) دیکھا کہ چیز کو پوجتے ہیں۔
Ayah 26:76انتم وابآء کم الاقدمون۔ تم خود اور تمہارے اگلے باپ دادا
ہمزۂ استفہام تقریری ہے یعنی اقرار کرو کہ تم کتنی بیکار چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ نفع پہنچا سکتی ہیں نہ ضرر نہ کچھ سنتے ہیں۔ اَقْدَمُوْنَکا لفظ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ پرانا اور اگلے زمانہ میں ہونا صحیح ہونے کی دلیل نہیں تقدم زمانی کی وجہ سے باطل حق نہیں بن جاتا۔
Ayah 26:77فانہم عدولی پس بیشک وہ میرے دشمن ہیں۔
اپنا دشمن کہنے سے درپردہ یہ مراد ہے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں تم کو ان کی پوجا کرنے سے ایسا ضرر پہنچے گا جو کسی شخص کو اپنے دشمن سے نہیں پہنچتا۔ مہربان واعظ کی نصیحت کرنے کا یہ مؤثر طریقہ ہی ہے کہ پہلے وہ اپنی ذات کو مخاطب کرتا ہے اور مقصد ہوتا ہے دوسروں کو نصیحت کرنا۔ اسی قسم کا استعمال دوسری آیت میں آیا ہے فرمایا ہے وَمَالِی لاَ اَعْبد الِّذی فطرنی یعنی کیا وجہ کہ تم اپنے خالق کی عبادت نہ کرو۔
جمادات کی طرف دشمن ہونے کی نسبت مجازی ہے یا تو اس وجہ سے کہ وہ ضرر پہنچانے کا ذریعہ ہیں یا اس وجہ سے کہ قیامت کے دن وہ دشمن بن جائیں گے اللہ نے فرمایا ہے سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیُکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا۔
عدو بروزن فعول اصل میں مصدر ہے جیسے قبول اسی لئے اس کو بصیغۂ مفرد ذکر کیا یا ہُمْ سے مراد ہے۔ کُلُّ مَعْبُوْدٍ لَکُمْ تمہارا ہر معبود میرا دشمن ہے۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عدو اور صدیق صفت کے صیغے بروزن فعول و فعیل ہیں ان کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی رَجُلٌ عَدُوٌّبھی کہا جاتا ہے اور قَوْمٌ عَدُوٌّبھی۔ اللہ نے فرمایا ہے (فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ ) دوسری آیت میں آیا ہے (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیِّ عَدُوًّا شَیَاطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ۔ )
الا رب العلمین۔ مگر رب العالمین۔ یہ استثناء منقطع ہے (یعنی الاَّ کا معنی ہے لیکن) گویا
یوں فرمایا کہ وہ سب میرے دشمن ہیں مگر رب العالمین کہ وہ میرا دوست ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ قوم ابراہیم بتوں کے ساتھ اللہ کی بھی عبادت کرتے تھے حضرت ابراہیم نے فرمایا تمہارے سارے معبود سوائے رب العالمین کے میرے دشمن ہیں یا یوں کہا جائے کہ ان کے آبا و اجداد میں سے کچھ لوگ اللہ کو مانتے اور اس کی عبادت کرتے تھے (ان دونوں صورتوں میں استثناء متصل ہوگا) ۔
Ayah 26:78الذی خلقنی فہو یہدین۔ وہ جس نے مجھے پیدا کیا وہی مجھے ہدایت کرے گا۔ ہر مخلوق کو زندگی کا دنیوی و اخروی راستہ وہی بتاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا (وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی) ابتداء ایجاد سے انتہا ‘ موت تک پوری زندگی اللہ تخلیقی تدریجی رہنمائی فرماتا رہتا ہے تاکہ انسان مفید حیات چیزوں کو حاصل کرتا اور ضرر رساں چیزوں سے بچتا رہے۔ رحم کے اندر بچہ ماں کا فضول خون ناف کے ذریعہ سے چوسنا شروع کرتا ہے اور اس سفر کی انتہا داخلۂ جنت ہے یہ ساری رہنمائی اللہ ہی کرتا ہے۔
Ayah 26:79والذی ہو یطعمنی ویسقین۔ اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (کھانے پینے کو دیتا ہے) ۔
Ayah 26:80واذا مرضت فہو یشفین۔ اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہ ہی مجھے شفا عنایت کرتا ہے۔ بیماری اور
شفا دونوں کا خالق اللہ ہی ہے لیکن بلحاظ ادب مریض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی۔ حضرت خضر کے قول کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے فَاَرُدْتَ اَنْ اَعِیْبَہَا میں نے ارادہ کیا کہ اس کشتی کو عیب دار کر دوں۔ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یّّبْلُغَا اَشُدَّ ہُمَاآپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی بھرپور طاقت کو پہنچ جائیں (اوّل آیت میں ارادۂ عیب کی نسبت حضرت خضر نے اپنی طرف کی تقاضاء ادب یہی تھا اور دوسری آیت میں ارادہ کی نسبت اللہ کی طرف کی تقاضاء معرفت یہی تھا۔ مترجم) ۔
حضرت ابراہیم نے بیمارہونے کو اپنا فعل اس لحاظ سے قرار دیا کہ (گو بیماری اللہ پیدا کرتا ہے مگر) ہر مصیبت جو انسان پر آتی ہے وہ اسی کے کرتوت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو بیان کرنا چاہتے تھے (اور بیمار کرنا نعمت نہیں اس لئے بیمار کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی) لیکن آئندہ آیت میں موت دینے کی نسبت اللہ کی طرف کی ہے گو بظاہر موت بھی سخت تکلیف کا نام ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موت میں کوئی ضرر نہیں ہوتا وہ تو ایک غیر محسوس چیز ہے مرنے سے پہلے جو عوارض و اسباب عارض ہوتے ہیں دکھ دینے والے تو وہ ہوتے ہیں ان کے بعد موت کا غیر محسوس درد ہوتا ہے ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اہل کمال کیلئے موت تو دنیوی مصائب و آلام سے چھوٹنے اور لازوال راحت و نعمت حاصل ہونے کا ذریعہ ہے مشہور مقولہ ہے کہ موت ایک پل ہے جو حبیب کو حبیب کے پاس پہنچا دیتا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ اچانک موت مؤمن کے لئے راحت اور کافر کے لئے مؤاخذہ ہے۔ رواہ احمد والبیہقی عن عائشہ ؓ مرفوعاً ۔ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ہر مسلم کے لئے موت (گناہوں کا) کفارہ ہے۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی بسند ضعیف ان انس ؓ ۔
پھر ایک عقلی بات یہ بھی کہ موت عموماً کھانا پینے کی چیزوں میں (انتہائی) کمی (یا بیشی) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یوں بھی افلاط (سوداء صفراء بلغم ‘ خون) اور عناصر (آگ ‘ پانی ‘ مٹی ‘ ہوا) کے درمیان انتہائی تضاد اور کیفیات کا اختلاف ہے ان کے باہمی اختلاط کے بعد اعتدال مزاجی اور معتدل کیفیت کا ظہور تو جبراً اللہ کی قدرت سے ہوجاتا ہے۔