26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 26:161

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟

اذ قال لہم اخوہم لوط الا تتقون۔ جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے
Ayah 26:162

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

انی لکم رسول امین۔ بلاشبہ تمہاری ہدایت کے لئے (اللہ کی طرف سے) بھیجا گیا ہوں (اور فرض رسالت ادا کرنے میں) امانتدار ہوں
Ayah 26:163

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

فاتقوا اللہ واطیعون۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
Ayah 26:164

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔ اور میں اس کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا میرا معاوضہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ اس آیت میں بھائی سے مراد وطنی بھائی یا ساتھی ہے حضرت لوط نہ نسب میں ان لوگوں کے ساتھ شریک تھے نہ مذہب میں اس لئے نہ اخوت نسبی مراد ہے نہ دینی برادری۔ (مترجم) ۔
Ayah 26:165

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو

اتاتون الذکران من العلمین۔ کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے فعل بد کرتے ہو یعنی سارے جہان سے ہٹ کر سب کے خلاف تم مردوں سے لواطت کرتے ہو دنیا میں کوئی مخلوق بھی اس عمل میں تمہاری شریک نہیں ہے کوئی بھی یہ حرکت نہیں کرتا اس مطلب پر عالمین سے مراد ہوگا ہر جماع کرنے والا (خواہ آدمی ہو یا کوئی اور) یا یہ مطلب ہے کہ آدمیوں میں سے تم ہی مردوں سے لواطت کرتے ہو اور کوئی آدمی ایسا نہیں کرتا اس مطلب پر العالمین سے مراد آدمی ہوں گے۔
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم اور جو بیبیاں اللہ نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں ان کو چھوڑے رہتے ہو اس ترجمہ میں من ازواجکم میں من بیانیہ ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام اللہ نے تمہارے لئے بنایا ہے تم اس کو چھوڑے رکھتے ہو (یعنی عورتوں سے صنفی مجامعت نہیں کرتے بلکہ ان سے بھی لواطت کرتے ہو) وہ لوگ عورتوں سے بھی لواطت کرتے تھے جیسے رافضی کہتے ہیں۔ اس وقت مِنْ تبعیضیہ ہوگا یعنی تمہاری بیبیوں کا جو حصہ جسم اللہ نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے اس کو چھوڑے رکھتے ہو۔ اس مطلب پر آیت سے عورتوں کے ساتھ لواطت کرنے کی حرکت پر استدلال کیا جاسکتا ہے بیویاں ہوں یا باندیاں۔ بل انتم قوم عدون۔ بلکہ تم حد سے تجاوز کرنے والے ہی لوگ ہو۔ یعنی شہوت رانی میں حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرتے ہو شہوت کو پورا کرنے میں تم تمام لوگوں کی حد بندیوں سے آگے بڑھنے والے بلکہ جانوروں سے بھی اس معاملہ میں بڑھ کر ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ گناہوں میں تم حد سے بڑھے ہوئے ہو یا یہ مطلب ہے کہ اس نالائق حرکت کرنے کی وجہ سے تم اس بات کے مستحق ہو کہ تم کو حد سے تجاوز کرنے والا کہا جائے۔
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے

قالوا لئن تم تنتہ یلوط لتکونن من المخرجین۔ کہنے لگے لوط اگر تو (اپنے دعوے سے اور ہم کو بازداشت کرنے سے) باز نہ آیا تو خارج کردہ لوگوں میں سے ہوجائے گا (یعنی اپنی بستی سے ہم تجھے نکال دیں گے) ۔
Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں

قال انی لعملکم من القالین۔ لوط نے کہا میں تمہارے (عمل سے سخت نفرت کرنے والا ہوں یا) عمل کا سخت دشمن ہوں قالی بغض رکھنے والا یعنی تمہارے عمل سے مجھے سخت نفرت ہے اسی لئے مجھے بستی سے نکالے جانے کی دھمکی کی پروا نہیں ہے۔ من القالین کہنے میں قالی کہنے سے زیادہ زور ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے عمل سے نفرت کرنے والی جماعت میں میں شامل ہوں اور اس گروہ میں مشہور ہوں۔ حضرت لوط کو جب معلوم ہوگیا کہ میری نصیحت و دعوت کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا (آئندہ ان کے ساتھ رہنا بیکار ہے) تو آپ نے دعا کی کہ مجھے ان سے الگ کردیا جائے تاکہ ان پر آنے والے عذاب سے میں محفوظ رہوں۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے

رب نجنی واہلی مما یعملون۔ اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے عمل ( کے برے نتیجے اور عذاب) سے بچا لے۔
Ayah 26:170

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی

فنجینہ واہلہ اجمعین۔ سو ہم نے لوط کو اور اس کے گھر والوں کو یعنی دین میں جو ان کے ساتھی تھے۔ سب کو بچا لیا۔ پہلے سے ہی ان کو بستی سے باہر نکال دیا اور عذاب سے محفوظ رکھا۔
Ayah 26:171

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی

الا عجوز فی الغبرین۔ سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو (عذاب اور ہلاکت میں) باقی رہ جانے والوں کے اندر شامل رہی یعنی مقرر ہوچکا تھا کہ وہ کافروں میں باقی رہے گی یہ عورت یعنی حضرت لوط کی بیوی حضرت کے پیچھے پیچھے چلی تو تھی لیکن اپنی قوم کی طرف راغب اور ان کے عمل کو پسند کرتی تھی اس لئے ایک پتھر راستہ میں اس کے بھی لگ گیا اور وہ مرگیا بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ حضرت لوط کے ساتھ بستی سے باہر نکلی ہی نہ تھی جو لوگ بستی میں باقی تھے انہیں میں وہ بھی شامل تھی۔
Ayah 26:172

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

ثم دمرنا الاخرین۔ پھر (جب لوط اپنے ساتھیوں کو لے کر باہر نکل گئے تو) ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 26:173

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے برا تھا

وامطرنا علیہم مطرا اور ان پر (کنکریوں کی یا پتھروں کی) خوب بارش کردی۔ وہب بن منبہ نے کہا ان پر گندھک اور آگ کی بارش کی گئی۔ (بائبل میں بھی اس عذاب کی کیفیت بعینہٖ بیان کی گئی ہے) فسآء مطر المنذرین۔ کیا برا مینہ تھا ان لوگوں کا جن کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا۔
Ayah 26:174

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اس میں بلاشبہ (اللہ کی قدرت اور پیغمبروں کی صداقت کی) دلیل ہے اور ان میں اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے
Ayah 26:175

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور آپ کا رب بلاشبہ غالب (اور) بڑا مہربان ہے۔
Ayah 26:176

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

کذب اصحب الئکۃ المرسلین۔ بن والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا (جھوٹا قرار دیا) ۔ ایکہ درختوں کی گھنی جھاڑی بن۔ مدین کے قریب ایک گھنا جنگل تھا جس میں کچھ لوگ رہتے تھے یہ گروہ مدین والوں سے الگ تھا۔ اللہ نے حضرت شعیب کو جس طرح مدین والوں کی ہدایت پر مامور کیا تھا اسی طرح اس جنگل کے باشندوں کی ہدایت کے لئے بھی مقرر کیا تھا حضرت شعیب اہل مدین میں سے تھے اصحابہ ایکہ میں سے نہیں تھے۔
Ayah 26:177

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

اذ قال لہم شعیب الا تتقون۔ جب کہ شعیب نے ان سے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے
Ayah 26:178

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

انی لکم رسول امین۔ میں تمہارے لئے (اللہ کا) امانتدار فرستادہ ہوں
Ayah 26:179

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

فاتقوا اللہ واطیعون۔ اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
Ayah 26:180

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو خدائے رب العالمین کے ذمے ہے

وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔ اور میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ اللہ نے تمام انبیاء کی تبلیغ اور طرز تبلیغ کو ایک ہی عبارت میں نقل کیا کیونکہ سب نے ہی اللہ سے ڈرنے اس کی اطاعت کرنے اور اس کی عبادت میں شرک نہ کرنے کا حکم دیا سب ہی نے تبلیغ رسالت کا معاوضہ طلب نہ کرنے کا اظہار کیا اور سب نے ہی اپنی دعوت کا ثواب اللہ کے ذمہ قرار دیا۔ اسی لئے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِّیِیْنَ مِنْ بَعْدِہٖ (یعنی وحی کے ذریعہ سے ہم نے جس طرح اور جو احکام نوح کو اور نوح کے بعد دوسرے انبیاء کو بھیجے تھے وہی آپ کو بھی وحی کے ذریعہ سے بھیجے۔ مطلب یہ کہ طریق وحی سب کا ایک جیسا ہے اور جو اوامرو نواہی اجزاء وحی تھے وہ سب کے سب برابر تھے۔ مترجم) ۔ دوسری آیت میں حکم دیا ہے اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ دین کو قائم کرو اور اس میں تفریق نہ کرو۔
Ayah 26:181

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

(دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو

اوفوا الکیل پورا ناپ دیا کرو۔ (یہ تقویٰ کی تفصیل ہے) ۔ ولا تکونوا من المخسرین۔ اور (پیمانہ بھر دینے میں) کمی نہ کرو یعنی لوگوں کا حق دینے میں کمی نہ کرو۔
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور (تول کردینے کی چیزوں کو) صحیح ترازو سے تول کردیا کرو۔ قسطاس کو اگر عربی لفظ قرار دیا جائے تو اس کا اشتقاق قسط سے ہوگا اور قسط کا معنی ہے عدل۔ المستقیم ٹھیک ‘ صحیح جس میں کوئی کمی نہ ہو۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو

ولا تبخسوا الناس اشیآء ہم اور لوگوں کو ان کی چیزیں (ناپ تول میں) کم نہ کیا کرو۔ ولا تعثوا فی الارض اور زمین پر فساد نہ مچاؤ یعنی لوٹ مار قتل و غارت اور رہزنی وغیرہ نہ کرو۔ مفسدین۔ دانستہ تباہی لاتے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ قصداً بگاڑ نہ پیدا کرو۔ تباہی نہ پھیلاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر نیت اصلاح کی ہو اور خرابی پیدا ہوجائے تو اس کو فساد فی الارض نہیں کہا جائے گا اور اس کا کوئی مواخذہ نہیں۔ کسی نے کافر کے تیر مارا کافر نے مسلمان قیدی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح کردیا اور مسلمان مارا گیا یا زخمی ہوگیا تو نہ دیت ہوگی ‘ نہ قصاص ‘ نہ کوئی تاوان۔
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا

واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین۔ اور ڈرو اس (خدا) سے جس نے تم کو پیدا کیا اور پہلی مخلوق کو بھی یعنی تم سے پہلے دوسرے لوگوں کو بھی۔
Ayah 26:185

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو

قالوا انما انت من المسخرین۔ کہنے لگے تم تو بالکل سحر زدہ ہو۔
Ayah 26:186

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

وما انت الا بشر مثلنا اور تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو ‘ یعنی آدمی ہو اور ہم جیسے آدمی۔ اوّل تو رسول کو آدمی نہ ہونا چاہئے اور تم آدمی ہو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ (نہ بادشاہ ہو نہ شوکت و سطوت والے دولت مند سردار) اس لئے تم رسول نہیں ہوسکتے۔ وان نظنک لمن الکذبین۔ اور ہم بلاشبہ تم کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ تم نبوت کے دعوے میں جھوٹے ہو
Ayah 26:187

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ

فاسقط علینا کسفا من السمآء ان کنت من الصدقین۔ اگر سچ ہونے کا دعویٰ ہے اور سچے ہو تو آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دو ۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

قال ربی اعلم بما تعملون۔ شعیب نے کہا جو کچھ تم کرتے ہو میرا رب اس سے بخوبی واقف ہے یعنی تم جو کم تولتے ‘ ناپتے ‘ لوٹتے ‘ قتل کرتے اور راہزنی کرتے ہو اس سے میرا رب خوب واقف ہے وہی اگر چاہے گا تو اس کی سزا تم کو جب چاہے گا دے گا عذاب لانے کا اختیار مجھے نہیں ہے میری ذمہ داری تو صرف تبلیغ و دعوت کی ہے۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا

فکذبوہ فاخذہم عذاب یوم الظلۃ غرض ایکہ والوں نے شعیب کی تکذیب کی اس لئے یوم الظلہ (سائبان کے دن) کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ ایکہ والوں کے جنگل میں سخت گرمی پڑی ‘ لوگ بےتاب ہو کر تہ خانوں میں گھس گئے اندر پہنچے تو وہاں اور بھی شدید گرمی محسوس ہوئی مجبور ہو کر باہر آگئے اس وقت آسمان پر ایک بدلی آئی اور بدلی کے سایہ میں سب جمع ہوگئے اسی بدلی کو ظلہ (سائبان) کہا گیا ہے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بادل سے آگ برسنے لگی اور سب جل بھن گئے یہ قصہ سورت ہود میں گزر چکا ہے۔ انہ کان عذاب یوم عظیم۔ بیشک یہ یوم عظیم کا عذاب تھا (یعنی عذاب عظیم تھا جو اس روز واقعہ ہوا) ۔
Ayah 26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اس قصہ میں درحقیقت (عبرت اندوزی کی) بڑی نشانی تھی اور ان میں سے اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے (اس لئے ان پر عذاب نازل کیا گیا)
Ayah 26:191

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور یہ قطعی بات ہے کہ آپ کا رب ہی غالب اور بڑا مہربان ہے۔ مذکورہ ساتوں قصے مختصر طور پر رسول اللہ ﷺ : کی تسلی کے لئے بیان کئے گئے تاکہ آپ صبر کریں اور سمجھ لیں کہ ہر پیغمبر کی قوم والوں کی طرف سے تکذیب ہوئی ہے اور سب پیغمبروں نے استقامت قائم رکھی آخر پیغمبروں کے منکر ہلاک کردیئے گئے اور پیغمبر اپنے ساتھیوں سمیت غالب رہے۔ (مترجم) ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ : کی تکذیب کرنے والوں کے لئے عذاب کی دھمکی بھی ہے۔
Ayah 26:192

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

وانہ لتنزیل رب العلمین۔ اور بیشک قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ تنزیل مصدر) بمعنی منزل (اسم مفعول) کے ہے۔
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

نزل بہ الروح الامین۔ (یعنی جبرئیل) اس کو لے کر اترا ہے
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

علی قلبک روح الامین (اور) تمہارے دل پر (اس نے نازل کیا ہے۔ پھر اس نے اس کو یاد کرلیا ہے) قلب سے مراد ہے یہی صنوبری قلب جو سینہ کے اندر ہے۔ وہ لامکانی لطیفۂ ربانی مراد نہیں ہے جس کا مقام عرش کے اوپر ہے اور اس کا ظہور اسی صنوبری دل پر۔ لطیفۂ ربانی تو عالم امر سے ہے یہ نہ وحی کا بار اٹھا سکتا ہے نہ نبوت کا یہ بوجھ اٹھانے والا تو قلب صنوبری ہی ہے جو عناصر کا مجموعہ اور نقوش کا محل اور عالم امر کے ظہور کا مقام ہے اسی لئے ہمیشہ وحی کا صدور جسمانی ساخت کی تکمیل یعنی چالیس سال کی عمر کے بعد ہوا۔ جبرئیل امین وحی الٰہی ہیں اس لئے ان کو امین کہا جاتا ہے۔ لتکون من المنذرین۔ تاکہ آپ (اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے) ڈرانے والوں میں سے ہوں (یعنی فہرست انبیاء میں آپ شامل ہوجائیں۔ مترجم) ۔
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

بلسان عربی مبین۔ واضح عربی زبان میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے قریش کی زبان مراد ہے تاکہ قریش کو یہ عذر نہ ہو کہ ہم وحی کی زبان کو نہیں سمجھتے۔ اس آیت کا بعض اہل تفسیر نے یہ معنی بیان کیا ہے کہ روح الامین نے یہ قرآن آپ کے دل پر عربی زبان میں اتارا ہے اگر کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو آپ کے کانوں پر نازل ہوتا دل پر نازل نہ ہوسکتا کیونکہ غیر عربی الفاظ کے معنی آپ سمجھ نہ پاتے۔ آدمی کبھی چند زبانوں سے واقف ہوتا ہے اگر کوئی اس کی مادری زبان میں بات کرے تو فوراً اس کا ذہن مطلب کی طرف متوجہ ہوتا ہے الفاظ کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی اور اگر مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری سیکھی ہوئی زبان میں اس سے کلام کرتا ہے تو اوّل اس کا ذہن الفاظ کی طرف متوجہ ہوتا ہے پھر الفاظ سے معانی کی طرف انتقال ذہنی ہوتا ہے۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اس (قرآن) کا ذکر پہلی امتوں کی (آسمانی) کتابوں میں (بھی) ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ نزول قرآن کا ذکر کتب سابقہ میں کردیا گیا ہے ‘ مقاتل نے کہا محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر گزشتہ کتابوں میں کردیا گیا ہے بعض کے نزدیک قرآن کی طرف ضمیر راجع ہے۔ زبر کتابیں۔ مؤخر الذکر تفسیری قول ہی کی بناء پر بعض احناف کے نزدیک قرآن صرف معانی کا نام ہے کیونکہ معانی ہی کا اندراج کتب سابقہ میں تھا عربی الفاظ ان کتابوں میں نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے فارسی میں نماز کی قرأت کو جائز قرار دیا ہے (لیکن امام ابوحنیفہ کے قول کی بنیاد اس بات کو قرار دینا کہ قرآن صرف معنی کا نام ہے غلط ہے امام اعظم نے تو ان علماء بلاغت و اعجاز کے لئے فارسی میں صرف نماز کے اندر قرأت کو جائز قرار دیا تھا جو تلاوت قرآن کے وقت قرآن کی بلاغت میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کا ادبی ذوق حلاوت و طلاوت عبارت کی کیفیت میں اتنا سرشار و بدمست ہوجاتا ہے کہ پھر ان کی کامل توجہ معبود کے سامنے حاضر ہونے کی طرف نہیں رہتی عوام کے لئے تو امام صاحب نے فارسی میں قرأت کو جائز نہیں قرار دیا اگر امام صاحب کے نزدیک قرآن صرف معنی کا نام ہوتا تو وہ ترجمۂ قرآن کو ہر مقام پر قرآن کا حکم دیتے یہاں تک کہ جنب اور حائضہ اور نفساء کے لئے بھی ترجمہ کو پڑھنا اور چھونا ممنوع قرار دیتے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مترجم) ۔ حضرت مفسر نے فرمایا احناف کا یہ قول غلط ہے قرآن عبارت اور معانی دونوں کا نام ہے اللہ نے اس کو قرآناً عربیاً فرمایا ہے اور عربی عبارت کی صفت ہوتی ہے (معنی تو عربی عبارتوں کے بھی ہوتے ہیں اور دوسری زبانوں کی عبارت کے بھی) مزید یہ کہ قرآن معجز ہے اور اعجاز عبارت کی خصوصیت ہے اسی لئے جنبی کے لئے فارسی میں قرآن پڑھنا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے صرف نماز میں اجازت دی تھی کہ عربی کی جگہ دوسری کسی زبان کی عبارت (جو معانی پر دلالت کر رہی ہو) پڑھنی جائز ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امام صاحب کے نزدیک قرآن کی عبارت کا پڑھنا نماز کا رکن نہیں ہے اور قرآن کی عبارت خضوع سے (بعض لوگوں کے لئے) مانع ہوجاتی ہے پھر اپنے اس قول سے امام صاحب نے رجوع بھی کرلیا تھا اور صاحبین (رح) کی طرح نماز کی قرأت فارسی میں ناجائز قرار دے دی تھی احناف کا اسی پر فتویٰ بھی ہے اور اکثر ائمہ کا بھی یہی قول ہے۔
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں

اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علموا بنی اسرائیل ط (کیا یہ لوگ بنی اسرائیل کو نہیں پہچانے) اور کیا ان کے لئے (رسول اللہ کی رسالت کی یہ) دلیل کافی نہیں ہے کہ علماء بنی اسرائیل رسول اللہ ﷺ : کو (ان کی صفات و احوال خصوصی کو توریت سے پڑھ کر) جانتے ہیں۔ یَعْلَمَہٗکی ضمیر مفعول رسول اللہ کی طرف راجع ہے اور قرآن کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے یعنی قرآن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا علماء بنی اسرائیل کے علم میں ہے وہ اس سے واقف ہیں۔ علماء بنی اسرائیل سے مراد برقول عطیہ پانچ علماء تھے۔ عبداللہ بن سلام ‘ ابن یامیہ ‘ ثعلبہ ‘ اسد ‘ اسید حضرت ابن عباس نے فرمایا اہل مکہ نے مدینہ میں یہودیوں سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق دریافت کرایا۔ یہودیوں نے کہا ان کی (یعنی پیغمبر آخر الزماں کی) بعثت کا زمانہ یہی ہے اور ہم توریت میں ان کے اوصاف و خصوصی احوال پاتے ہیں۔
Ayah 26:198

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین۔ اور اگر ہم کسی عجمی پر اس قرآن کو اتار دیتے
Ayah 26:199

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

فقراہ علیہم ما کانوا بہ مؤمنین۔ اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو یہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے اعجمین اعجم کی جمع ہے اعجم اس شخص کو کہتے ہیں جو فصیح عربی اچھی طرح نہ بول سکے خواہ نسباً عربی ہی ہو اور عجمی کی نسبت عجم کی طرف ہے عجمی اس شخص کو کہتے ہیں جو نسباً غیر عربی خواہ عربی فصیح بولتا ہو۔ اس تشریح لغوی کی بنا پر آیت کا یہ معنی ہوگا کہ اگر ہم یہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کرتے جس کی عربی زبان فصیح نہ ہوتی۔ بیضاوی نے لکھا ہے اعجمین اعجمی کی جمع ہے اسی لئے اس کو بصیغۂ جمع سالم ذکر کیا ہے یعنی اگر اعجم کی جمع ہوتی تو پھر اس کی جمع سالم نہ آتی کیونکہ اس کا مؤنث عجماء آتا ہے اور جس وزن افعل کا مؤنث بروزن فعلاء آتا ہے اس کی جمع سالم نہیں آتی اس کی نظیر اشعرون ہے جو اشعری کی جمع ہے۔ اصل میں اشعریوں تھا تخفیفاً اشعرون کرلیا گیا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر ہم قرآن میں ہی یا عربی زبان میں کسی ایسے شخص پر نازل کرتے جو فصیح عربی سے واقف نہ ہوتا تب بھی یہ اہل مکہ ایمان نہ لاتے ان کا ذاتی عناد اور غرور اور اعجمی کے اتباع سے نفرت ان کو ایمان سے روکتی یا نہ سمجھنے کی وجہ سے ایمان نہ لاتے اور صاف کہہ دیتے کہ ہم سمجھتے ہی نہیں تم کہتے کیا ہو اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآنًا اَعْجَمِیًّا لَقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ ۔
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

کذلک سلکنہ فی قلوب المجرمین۔ اسی طرح ہم نے اس (شرک و تکذیب) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کردیا ہے۔ کذا قال والحسن ومجاہد۔ آیت کے اس تشریحی ترجمہ سے معلوم ہوگیا کہ شرک کا شرک کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ سَلَکْنَاہُمیں ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی ہم نے اس قرآن کو ان مجرموں کے دلوں میں داخل کردیا انہوں نے قرآن کے اعجاز کو خوب پہچان لیا ہے اس کے باوجود محض عناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔