Ayah 26:161اذ قال لہم اخوہم لوط الا تتقون۔ جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے
Ayah 26:162انی لکم رسول امین۔ بلاشبہ تمہاری ہدایت کے لئے (اللہ کی طرف سے) بھیجا گیا ہوں (اور فرض رسالت ادا کرنے میں) امانتدار ہوں
Ayah 26:163فاتقوا اللہ واطیعون۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
Ayah 26:164وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔
اور میں اس کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا میرا معاوضہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
اس آیت میں بھائی سے مراد وطنی بھائی یا ساتھی ہے حضرت لوط نہ نسب میں ان لوگوں کے ساتھ شریک تھے نہ مذہب میں اس لئے نہ اخوت نسبی مراد ہے نہ دینی برادری۔ (مترجم) ۔
Ayah 26:165اتاتون الذکران من العلمین۔ کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے فعل بد کرتے ہو یعنی سارے جہان سے ہٹ کر سب کے خلاف تم مردوں سے لواطت کرتے ہو دنیا میں کوئی مخلوق بھی اس عمل میں تمہاری شریک نہیں ہے کوئی بھی یہ حرکت نہیں کرتا اس مطلب پر عالمین سے مراد ہوگا ہر جماع کرنے والا (خواہ آدمی ہو یا کوئی اور) یا یہ مطلب ہے کہ آدمیوں میں سے تم ہی مردوں سے لواطت کرتے ہو اور کوئی آدمی ایسا نہیں کرتا اس مطلب پر العالمین سے مراد آدمی ہوں گے۔
Ayah 26:166وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم اور جو بیبیاں اللہ نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں ان کو
چھوڑے رہتے ہو اس ترجمہ میں من ازواجکم میں من بیانیہ ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام اللہ نے تمہارے لئے بنایا ہے تم اس کو چھوڑے رکھتے ہو (یعنی عورتوں سے صنفی مجامعت نہیں کرتے بلکہ ان سے بھی لواطت کرتے ہو) وہ لوگ عورتوں سے بھی لواطت کرتے تھے جیسے رافضی کہتے ہیں۔ اس وقت مِنْ تبعیضیہ ہوگا یعنی تمہاری بیبیوں کا جو حصہ جسم اللہ نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے اس کو چھوڑے رکھتے ہو۔ اس مطلب پر آیت سے عورتوں کے ساتھ لواطت کرنے کی حرکت پر استدلال کیا جاسکتا ہے بیویاں ہوں یا باندیاں۔
بل انتم قوم عدون۔ بلکہ تم حد سے تجاوز کرنے والے ہی لوگ ہو۔ یعنی شہوت رانی میں حلال سے حرام کی
طرف تجاوز کرتے ہو شہوت کو پورا کرنے میں تم تمام لوگوں کی حد بندیوں سے آگے بڑھنے والے بلکہ جانوروں سے بھی اس معاملہ میں بڑھ کر ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ گناہوں میں تم حد سے بڑھے ہوئے ہو یا یہ مطلب ہے کہ اس نالائق حرکت کرنے کی وجہ سے تم اس بات کے مستحق ہو کہ تم کو حد سے تجاوز کرنے والا کہا جائے۔
Ayah 26:167قالوا لئن تم تنتہ یلوط لتکونن من المخرجین۔ کہنے لگے لوط اگر تو (اپنے دعوے سے اور ہم کو
بازداشت کرنے سے) باز نہ آیا تو خارج کردہ لوگوں میں سے ہوجائے گا (یعنی اپنی بستی سے ہم تجھے نکال دیں گے) ۔
Ayah 26:168قال انی لعملکم من القالین۔ لوط نے کہا میں تمہارے (عمل سے سخت نفرت کرنے والا ہوں یا) عمل کا سخت دشمن ہوں قالی بغض رکھنے والا یعنی تمہارے عمل سے مجھے سخت نفرت ہے اسی لئے مجھے بستی سے نکالے جانے کی دھمکی کی پروا نہیں ہے۔ من القالین کہنے میں قالی کہنے سے زیادہ زور ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے عمل سے نفرت کرنے والی جماعت میں میں شامل ہوں اور اس گروہ میں مشہور ہوں۔
حضرت لوط کو جب معلوم ہوگیا کہ میری نصیحت و دعوت کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا (آئندہ ان کے ساتھ رہنا بیکار ہے) تو آپ نے دعا کی کہ مجھے ان سے الگ کردیا جائے تاکہ ان پر آنے والے عذاب سے میں محفوظ رہوں۔
Ayah 26:169رب نجنی واہلی مما یعملون۔ اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے عمل ( کے برے نتیجے اور عذاب) سے بچا لے۔
Ayah 26:170فنجینہ واہلہ اجمعین۔ سو ہم نے لوط کو اور اس کے گھر والوں کو یعنی دین میں جو ان کے ساتھی تھے۔ سب کو بچا لیا۔ پہلے سے ہی ان کو بستی سے باہر نکال دیا اور عذاب سے محفوظ رکھا۔
Ayah 26:171الا عجوز فی الغبرین۔ سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو (عذاب اور ہلاکت میں) باقی رہ جانے والوں کے اندر شامل رہی یعنی مقرر ہوچکا تھا کہ وہ کافروں میں باقی رہے گی یہ عورت یعنی حضرت لوط کی بیوی حضرت کے پیچھے پیچھے چلی تو تھی لیکن اپنی قوم کی طرف راغب اور ان کے عمل کو پسند کرتی تھی اس لئے ایک پتھر راستہ میں اس کے بھی لگ گیا اور وہ مرگیا بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ حضرت لوط کے ساتھ بستی سے باہر نکلی ہی نہ تھی جو لوگ بستی میں باقی تھے انہیں میں وہ بھی شامل تھی۔
Ayah 26:172ثم دمرنا الاخرین۔ پھر (جب لوط اپنے ساتھیوں کو لے کر باہر نکل گئے تو) ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 26:173وامطرنا علیہم مطرا اور ان پر (کنکریوں کی یا پتھروں کی) خوب بارش کردی۔ وہب بن منبہ نے کہا ان پر گندھک اور آگ کی بارش کی گئی۔ (بائبل میں بھی اس عذاب کی کیفیت بعینہٖ بیان کی گئی ہے)
فسآء مطر المنذرین۔ کیا برا مینہ تھا ان لوگوں کا جن کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا۔
Ayah 26:174ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اس میں بلاشبہ (اللہ کی قدرت اور پیغمبروں کی صداقت کی) دلیل ہے اور ان میں اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے
Ayah 26:175وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور آپ کا رب بلاشبہ غالب (اور) بڑا مہربان ہے۔
Ayah 26:176کذب اصحب الئکۃ المرسلین۔ بن والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا (جھوٹا قرار دیا) ۔
ایکہ درختوں کی گھنی جھاڑی بن۔ مدین کے قریب ایک گھنا جنگل تھا جس میں کچھ لوگ رہتے تھے یہ گروہ مدین والوں سے الگ تھا۔ اللہ نے حضرت شعیب کو جس طرح مدین والوں کی ہدایت پر مامور کیا تھا اسی طرح اس جنگل کے باشندوں کی ہدایت کے لئے بھی مقرر کیا تھا حضرت شعیب اہل مدین میں سے تھے اصحابہ ایکہ میں سے نہیں تھے۔
Ayah 26:177اذ قال لہم شعیب الا تتقون۔ جب کہ شعیب نے ان سے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے)
نہیں ڈرتے
Ayah 26:178انی لکم رسول امین۔ میں تمہارے لئے (اللہ کا) امانتدار فرستادہ ہوں
Ayah 26:179فاتقوا اللہ واطیعون۔ اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
Ayah 26:180وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔ اور میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ اللہ نے تمام انبیاء کی تبلیغ اور طرز تبلیغ کو ایک ہی عبارت میں نقل کیا کیونکہ سب نے ہی اللہ سے ڈرنے اس کی اطاعت کرنے اور اس کی عبادت میں شرک نہ کرنے کا حکم دیا سب ہی نے تبلیغ رسالت کا معاوضہ طلب نہ کرنے کا اظہار کیا اور سب نے ہی اپنی دعوت کا ثواب اللہ کے ذمہ قرار دیا۔ اسی لئے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا
اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِّیِیْنَ مِنْ بَعْدِہٖ (یعنی وحی کے ذریعہ سے ہم نے جس طرح اور جو احکام نوح کو اور نوح کے بعد دوسرے انبیاء کو بھیجے تھے وہی آپ کو بھی وحی کے ذریعہ سے بھیجے۔ مطلب یہ کہ طریق وحی سب کا ایک جیسا ہے اور جو اوامرو نواہی اجزاء وحی تھے وہ سب کے سب برابر تھے۔ مترجم) ۔
دوسری آیت میں حکم دیا ہے اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ دین کو قائم کرو اور اس میں تفریق نہ کرو۔
Ayah 26:181اوفوا الکیل پورا ناپ دیا کرو۔ (یہ تقویٰ کی تفصیل ہے) ۔
ولا تکونوا من المخسرین۔ اور (پیمانہ بھر دینے میں) کمی نہ کرو یعنی لوگوں کا حق دینے میں کمی نہ کرو۔
Ayah 26:182وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور (تول کردینے کی چیزوں کو) صحیح ترازو سے تول کردیا کرو۔
قسطاس کو اگر عربی لفظ قرار دیا جائے تو اس کا اشتقاق قسط سے ہوگا اور قسط کا معنی ہے عدل۔ المستقیم ٹھیک ‘ صحیح جس میں کوئی کمی نہ ہو۔
Ayah 26:183ولا تبخسوا الناس اشیآء ہم اور لوگوں کو ان کی چیزیں (ناپ تول میں) کم نہ کیا کرو۔
ولا تعثوا فی الارض اور زمین پر فساد نہ مچاؤ یعنی لوٹ مار قتل و غارت اور رہزنی وغیرہ نہ کرو۔
مفسدین۔ دانستہ تباہی لاتے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ قصداً بگاڑ نہ پیدا کرو۔ تباہی نہ پھیلاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر نیت اصلاح کی ہو اور خرابی پیدا ہوجائے تو اس کو فساد فی الارض نہیں کہا جائے گا اور اس کا کوئی مواخذہ نہیں۔ کسی نے کافر کے تیر مارا کافر نے مسلمان قیدی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح کردیا اور مسلمان مارا گیا یا زخمی ہوگیا تو نہ دیت ہوگی ‘ نہ قصاص ‘ نہ کوئی تاوان۔
Ayah 26:184واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین۔ اور ڈرو اس (خدا) سے جس نے تم کو پیدا کیا اور پہلی مخلوق کو بھی یعنی تم سے پہلے دوسرے لوگوں کو بھی۔
Ayah 26:185قالوا انما انت من المسخرین۔ کہنے لگے تم تو بالکل سحر زدہ ہو۔
Ayah 26:186وما انت الا بشر مثلنا اور تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو ‘ یعنی آدمی ہو اور ہم جیسے آدمی۔ اوّل تو رسول کو آدمی نہ ہونا چاہئے اور تم آدمی ہو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ (نہ بادشاہ ہو نہ شوکت و سطوت والے دولت مند سردار) اس لئے تم رسول نہیں ہوسکتے۔
وان نظنک لمن الکذبین۔ اور ہم بلاشبہ تم کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ تم نبوت کے دعوے میں جھوٹے ہو
Ayah 26:187فاسقط علینا کسفا من السمآء ان کنت من الصدقین۔ اگر سچ ہونے کا دعویٰ ہے اور سچے ہو تو
آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دو ۔
Ayah 26:188قال ربی اعلم بما تعملون۔ شعیب نے کہا جو کچھ تم کرتے ہو میرا رب اس سے بخوبی واقف ہے یعنی تم جو کم تولتے ‘ ناپتے ‘ لوٹتے ‘ قتل کرتے اور راہزنی کرتے ہو اس سے میرا رب خوب واقف ہے وہی اگر چاہے گا تو اس کی سزا تم کو جب چاہے گا دے گا عذاب لانے کا اختیار مجھے نہیں ہے میری ذمہ داری تو صرف تبلیغ و دعوت کی ہے۔
Ayah 26:189فکذبوہ فاخذہم عذاب یوم الظلۃ غرض ایکہ والوں نے شعیب کی تکذیب کی اس لئے یوم الظلہ
(سائبان کے دن) کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ ایکہ والوں کے جنگل میں سخت گرمی پڑی ‘ لوگ بےتاب ہو کر تہ خانوں میں گھس گئے اندر پہنچے تو وہاں اور بھی شدید گرمی محسوس ہوئی مجبور ہو کر باہر آگئے اس وقت آسمان پر ایک بدلی آئی اور بدلی کے سایہ میں سب جمع ہوگئے اسی بدلی کو ظلہ (سائبان) کہا گیا ہے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بادل سے آگ برسنے لگی اور سب جل بھن گئے یہ قصہ سورت ہود میں گزر چکا ہے۔
انہ کان عذاب یوم عظیم۔ بیشک یہ یوم عظیم کا عذاب تھا (یعنی عذاب عظیم تھا جو اس روز واقعہ ہوا) ۔
Ayah 26:190ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اس قصہ میں درحقیقت (عبرت اندوزی کی) بڑی نشانی تھی اور ان میں سے اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے (اس لئے ان پر عذاب نازل کیا گیا)
Ayah 26:191وان ربک لہو العزیز الرحیم۔
اور یہ قطعی بات ہے کہ آپ کا رب ہی غالب اور بڑا مہربان ہے۔
مذکورہ ساتوں قصے مختصر طور پر رسول اللہ ﷺ : کی تسلی کے لئے بیان کئے گئے تاکہ آپ صبر کریں اور سمجھ لیں کہ ہر پیغمبر کی قوم والوں کی طرف سے تکذیب ہوئی ہے اور سب پیغمبروں نے استقامت قائم رکھی آخر پیغمبروں کے منکر ہلاک کردیئے گئے اور پیغمبر اپنے ساتھیوں سمیت غالب رہے۔ (مترجم) ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ : کی تکذیب کرنے والوں کے لئے عذاب کی دھمکی بھی ہے۔
Ayah 26:192وانہ لتنزیل رب العلمین۔ اور بیشک قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ تنزیل مصدر) بمعنی منزل (اسم مفعول) کے ہے۔
Ayah 26:193نزل بہ الروح الامین۔ (یعنی جبرئیل) اس کو لے کر اترا ہے
Ayah 26:194علی قلبک روح الامین (اور) تمہارے
دل پر (اس نے نازل کیا ہے۔ پھر اس نے اس کو یاد کرلیا ہے) قلب سے مراد ہے یہی صنوبری قلب جو سینہ کے اندر ہے۔ وہ لامکانی لطیفۂ ربانی مراد نہیں ہے جس کا مقام عرش کے اوپر ہے اور اس کا ظہور اسی صنوبری دل پر۔ لطیفۂ ربانی تو عالم امر سے ہے یہ نہ وحی کا بار اٹھا سکتا ہے نہ نبوت کا یہ بوجھ اٹھانے والا تو قلب صنوبری ہی ہے جو عناصر کا مجموعہ اور نقوش کا محل اور عالم امر کے ظہور کا مقام ہے اسی لئے ہمیشہ وحی کا صدور جسمانی ساخت کی تکمیل یعنی چالیس سال کی عمر کے بعد ہوا۔
جبرئیل امین وحی الٰہی ہیں اس لئے ان کو امین کہا جاتا ہے۔
لتکون من المنذرین۔ تاکہ آپ (اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے) ڈرانے والوں میں سے ہوں (یعنی فہرست انبیاء میں آپ شامل ہوجائیں۔ مترجم) ۔
Ayah 26:195بلسان عربی مبین۔ واضح عربی زبان میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے قریش کی زبان مراد ہے
تاکہ قریش کو یہ عذر نہ ہو کہ ہم وحی کی زبان کو نہیں سمجھتے۔
اس آیت کا بعض اہل تفسیر نے یہ معنی بیان کیا ہے کہ روح الامین نے یہ قرآن آپ کے دل پر عربی زبان میں اتارا ہے اگر کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو آپ کے کانوں پر نازل ہوتا دل پر نازل نہ ہوسکتا کیونکہ غیر عربی الفاظ کے معنی آپ سمجھ نہ پاتے۔ آدمی کبھی چند زبانوں سے واقف ہوتا ہے اگر کوئی اس کی مادری زبان میں بات کرے تو فوراً اس کا ذہن مطلب کی طرف متوجہ ہوتا ہے الفاظ کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی اور اگر مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری سیکھی ہوئی زبان میں اس سے کلام کرتا ہے تو اوّل اس کا ذہن الفاظ کی طرف متوجہ ہوتا ہے پھر الفاظ سے معانی کی طرف انتقال ذہنی ہوتا ہے۔
Ayah 26:196وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اس (قرآن) کا ذکر پہلی امتوں کی (آسمانی) کتابوں میں (بھی) ہے۔
اکثر اہل تفسیر نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ نزول قرآن کا ذکر کتب سابقہ میں کردیا گیا ہے ‘ مقاتل نے کہا محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر گزشتہ کتابوں میں کردیا گیا ہے بعض کے نزدیک قرآن کی طرف ضمیر راجع ہے۔ زبر کتابیں۔
مؤخر الذکر تفسیری قول ہی کی بناء پر بعض احناف کے نزدیک قرآن صرف معانی کا نام ہے کیونکہ معانی ہی کا اندراج کتب سابقہ میں تھا عربی الفاظ ان کتابوں میں نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے فارسی میں نماز کی قرأت کو جائز قرار دیا ہے (لیکن امام ابوحنیفہ کے قول کی بنیاد اس بات کو قرار دینا کہ قرآن صرف معنی کا نام ہے غلط ہے امام اعظم نے تو ان علماء بلاغت و اعجاز کے لئے فارسی میں صرف نماز کے اندر قرأت کو جائز قرار دیا تھا جو تلاوت قرآن کے وقت قرآن کی بلاغت میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کا ادبی ذوق حلاوت و طلاوت عبارت کی کیفیت میں اتنا سرشار و بدمست ہوجاتا ہے کہ پھر ان کی کامل توجہ معبود کے سامنے حاضر ہونے کی طرف نہیں رہتی عوام کے لئے تو امام صاحب نے فارسی میں قرأت کو جائز نہیں قرار دیا اگر امام صاحب کے نزدیک قرآن صرف معنی کا نام ہوتا تو وہ ترجمۂ قرآن کو ہر مقام پر قرآن کا حکم دیتے یہاں تک کہ جنب اور حائضہ اور نفساء کے لئے بھی ترجمہ کو پڑھنا اور چھونا ممنوع قرار دیتے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مترجم) ۔
حضرت مفسر نے فرمایا احناف کا یہ قول غلط ہے قرآن عبارت اور معانی دونوں کا نام ہے اللہ نے اس کو قرآناً عربیاً فرمایا ہے اور عربی عبارت کی صفت ہوتی ہے (معنی تو عربی عبارتوں کے بھی ہوتے ہیں اور دوسری زبانوں کی عبارت کے بھی) مزید یہ کہ قرآن معجز ہے اور اعجاز عبارت کی خصوصیت ہے اسی لئے جنبی کے لئے فارسی میں قرآن پڑھنا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے صرف نماز میں اجازت دی تھی کہ عربی کی جگہ دوسری کسی زبان کی عبارت (جو معانی پر دلالت کر رہی ہو) پڑھنی جائز ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امام صاحب کے نزدیک قرآن کی عبارت کا پڑھنا نماز کا رکن نہیں ہے اور قرآن کی عبارت خضوع سے (بعض لوگوں کے لئے) مانع ہوجاتی ہے پھر اپنے اس قول سے امام صاحب نے رجوع بھی کرلیا تھا اور صاحبین (رح) کی طرح نماز کی قرأت فارسی میں ناجائز قرار دے دی تھی احناف کا اسی پر فتویٰ بھی ہے اور اکثر ائمہ کا بھی یہی قول ہے۔
Ayah 26:197اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علموا بنی اسرائیل ط (کیا یہ لوگ بنی اسرائیل کو نہیں پہچانے) اور
کیا ان کے لئے (رسول اللہ کی رسالت کی یہ) دلیل کافی نہیں ہے کہ علماء بنی اسرائیل رسول اللہ ﷺ : کو (ان کی صفات و احوال خصوصی کو توریت سے پڑھ کر) جانتے ہیں۔
یَعْلَمَہٗکی ضمیر مفعول رسول اللہ کی طرف راجع ہے اور قرآن کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے یعنی قرآن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا علماء بنی اسرائیل کے علم میں ہے وہ اس سے واقف ہیں۔
علماء بنی اسرائیل سے مراد برقول عطیہ پانچ علماء تھے۔ عبداللہ بن سلام ‘ ابن یامیہ ‘ ثعلبہ ‘ اسد ‘ اسید حضرت ابن عباس نے فرمایا اہل مکہ نے مدینہ میں یہودیوں سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق دریافت کرایا۔ یہودیوں نے کہا ان کی (یعنی پیغمبر آخر الزماں کی) بعثت کا زمانہ یہی ہے اور ہم توریت میں ان کے اوصاف و خصوصی احوال پاتے ہیں۔
Ayah 26:198ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین۔ اور اگر ہم کسی عجمی پر اس قرآن کو اتار دیتے
Ayah 26:199فقراہ علیہم ما کانوا بہ مؤمنین۔
اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو یہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے اعجمین اعجم کی جمع ہے اعجم اس شخص کو کہتے ہیں جو فصیح عربی اچھی طرح نہ بول سکے خواہ نسباً عربی ہی ہو اور عجمی کی نسبت عجم کی طرف ہے عجمی اس شخص کو کہتے ہیں جو نسباً غیر عربی خواہ عربی فصیح بولتا ہو۔ اس تشریح لغوی کی بنا پر آیت کا یہ معنی ہوگا کہ اگر ہم یہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کرتے جس کی عربی زبان فصیح نہ ہوتی۔
بیضاوی نے لکھا ہے اعجمین اعجمی کی جمع ہے اسی لئے اس کو بصیغۂ جمع سالم ذکر کیا ہے یعنی اگر اعجم کی جمع ہوتی تو پھر اس کی جمع سالم نہ آتی کیونکہ اس کا مؤنث عجماء آتا ہے اور جس وزن افعل کا مؤنث بروزن فعلاء آتا ہے اس کی جمع سالم نہیں آتی اس کی نظیر اشعرون ہے جو اشعری کی جمع ہے۔ اصل میں اشعریوں تھا تخفیفاً اشعرون کرلیا گیا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر ہم قرآن میں ہی یا عربی زبان میں کسی ایسے شخص پر نازل کرتے جو فصیح عربی سے واقف نہ ہوتا تب بھی یہ اہل مکہ ایمان نہ لاتے ان کا ذاتی عناد اور غرور اور اعجمی کے اتباع سے نفرت ان کو ایمان سے روکتی یا نہ سمجھنے کی وجہ سے ایمان نہ لاتے اور صاف کہہ دیتے کہ ہم سمجھتے ہی نہیں تم کہتے کیا ہو اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآنًا اَعْجَمِیًّا لَقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ ۔
Ayah 26:200کذلک سلکنہ فی قلوب المجرمین۔ اسی طرح ہم نے اس (شرک و تکذیب) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کردیا ہے۔ کذا قال والحسن ومجاہد۔ آیت کے اس تشریحی ترجمہ سے معلوم ہوگیا کہ شرک کا شرک کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ سَلَکْنَاہُمیں ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی ہم نے اس قرآن کو ان مجرموں کے دلوں میں داخل کردیا انہوں نے قرآن کے اعجاز کو خوب پہچان لیا ہے اس کے باوجود محض عناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔