20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے

ولا تمدن عینینک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم زہرۃ الحیوۃ الدنیا لنفتنہم فیہ ورزق ربک خیر وابقی۔ اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو ان کی آزمائش کے لئے متمتع کر رکھا ہے کہ وہ (محض) دنیوی زندگی کی رونق ہے اور آپ کے رب کا عطیہ (جو آخرت میں ملے گا) بدرجہا بہتر اور دیرپا ہے۔ آیت (وَلَوْ لاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ ۔۔ ) سے دو باتیں معلوم ہوئی تھیں ایک یہ کہ کافروں پر (دنیا میں جڑ سے اکھاڑ دینے والا) فوری عذاب نہیں آئے گا دوسری یہ کہ (آخرت میں) ان کو مقرر ‘ لازوال عذاب ہوگا۔ ان دونوں باتوں پر دو حکموں کو مرتب کیا اوّل بات یعنی عذاب عاجل کی نفی پر حکم صبرکو متقرع کیا دوسری بات یعنی عذاب آخرت کے ثبوت پر ممانعت نظر کو مرتب کیا (یعنی جب کافروں پر عذاب عاجل نہ آنا پہلے سے طے شدہ ہے تو پھر آپ کو صبر کرنا اور ان کی طرف سے پہنچنے والی سخت کلامی اور اذیتوں کو سہنا لازم ہے اور جب مرنے کے بعد ان کا مبتلاء عذاب ہونا یقینی ہے تو آپ پر لازم ہے کہ ان کی دولت و ثروت کو نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں یہ دولت ان کے لئے ایک آزمائشی چیز ہے اور چند روزہ ہے اس کا فنا ہونا اور سبب عذاب بن جانا یقینی ہے۔ مترجم) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی دولت و ثروت کو پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھیں اور یہ خواہش نہ کریں کہ آپ کو بھی یہ مل جائے۔ ازواجاً منہم یعنی کافروں کے مختلف گروہوں کو۔ ازواج بمعنی اصناف اصناف اور منہم کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے اور یہ ازواجاً کی صفت ہے۔ یا ازواجاً حال ہے اور منہم میں من بمعنی بعض ہے اور یہ متعنا کا مفعول ہے یعنی مختلف اقسام کی نعمتیں جو ہم نے ان کافروں میں سے بعض کو دے رکھی ہیں۔ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ زہرۃ رونق ‘ زینت ‘ تری تازگی یا متعنا کا ہی مفعول ہے کیونکہ متعنا کے اندر عطا کرنے کا معنی ہے۔ زہرۃ سے ہی از ہار بنا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو محفوظ رکھنا اور اس سے خوش ہونا۔ لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِتاکہ ہم ان کی آزمائش کریں یا ہم ان کو کفر و گمراہی میں چھوڑے رکھیں تاکہ وہ مزید سرکشی کریں یا یہ مطلب ہے کہ ہم ان کو یہ دنیا کی رونق اس لئے دی ہے کہ آخرت میں اس کے سبب سے ہم ان کو عذاب میں مبتلا کریں (فتن کے بعد جب فی آیا ہے تو تینوں معنی ہوسکتے ہیں ‘ آزمائش کرنا ‘ چھوڑ رکھنا ‘ اور اس کے سبب سے دکھ یعنی عذاب دینا۔ مترجم) ۔ وَرِزْقُ رَبِّکَاور آپ کے رب کی طرف سے آپ کو عطاء یعنی ہدایت نبوت ‘ بقدر کفاف حلال روزی ‘ یا جنت اور مراتب قرب۔ خَیْرٌیعنی ان کو جو کچھ دیا گیا ہے اس سے کہیں بہتر ہے وَاَبْقٰی اور دیرپا ‘ یعنی لازوال ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا ‘ اللہ کی تسکین دہی اور اطمینان بخشی سے اگر کسی کو تسکین قلبی اور اطمینان خاطر حاصل نہ ہو تو اس کا سانس حسرت دنیا میں ہی نکلتا ہے اور جو لوگوں کے مال کی طرف چشم تمنا سے دیکھتا ہے اس پر غم چھایا رہتا ہے اور جو شخص خیال کرتا ہے کہ کھانا پینا اور لباس ہی اللہ کی نعمت ہے (ہدایت ایمان اور جنت نعمت خداوندی نہیں ہے) تو اس کے اعمال (حسنہ) کم ہوجاتے ہیں اور عذاب سامنے آموجود ہوتا ہے۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے

وامر اہلک بالصلوۃ واصطبر علیہا لا نسئلک رزقا نحن نرزقک والعاقبۃ للتقوی۔ اور اپنے متعلقین کو نماز کا حکم دیتے رہئے اور خود بھی اس کے پابند رہے ہم آپ سے معاش (کموانا) نہیں چاہتے معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور بہتر انجام تو پرہیزگاری ہی کا ہے۔ اَہْلَکَاہل سے مراد ہیں قوم ‘ قبیلہ والے اور ہم مذہب (یعنی مسلمان) بالصَّلٰوۃ متعلقین کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دینے کی ہدایت کی تاکہ سب باہم تعاون کریں اور ناداری کے خلاف سب متفق و متحد ہوجائیں اور پھر امر معاش کو اہمیت نہ دیں اور کوئی مسلمان دولت مندوں کی دولت کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا یعنی خود بھی نماز کے پابند رہو۔ لاَنَسْءَلُکَ رِزْقًا یعنی ہم آپ کو اس بات کا مکلف نہیں کرتے کہ آپ ہماری مخلوق میں سے کسی کو رزق کہیں سے دیں یا اپنا رزق خود پیدا کریں ہم نے تو آپ کو عمل (صالح) کا مکلف کیا ہے ‘ نَحْنُ نَرْزُقُکَیعنی ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور آپ کو بھی۔ پس امر آخرت کیلئے آپ کو فارغ البال اور مطمئن ہو کر کام کرنا چاہئے۔ وَالْعَاقِبَۃُ للِتَّقْوٰی یعنی اچھا انجام تو اہل تقویٰ کا ہے۔ عمل صالح کے بعد جو اچھا نتیجہ اور ثواب حاصل ہوگا اس کو عاقبت کہا جاتا ہے جس طرح عقاب اس عذاب کو کہتے ہیں جو برے عمل کے بعد آنے والا ہے۔ اس آیت کی تشریح میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ جن لوگوں نے آپ کو سچا جانا اور مانا اور آپ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے اور مجھ سے ڈرتے رہے ‘ انکا انجام اچھا ہے۔ سعید بن منصور نے سنن میں ‘ طبرانی نے الاوسط میں ‘ ابو نعیم نے الحلیۃ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کو جب کوئی دکھ پہنچتا تھا تو آپ انکو نماز کا حکم دیتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرماتے تھے۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر) اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی؟

وقالوا لو لا یاتینا بایۃ من ربہ اولم تاتہم بینۃ ما فی الصحف الاولی۔ اور وہ (مشرک ‘ عناداً ) کہتے ہیں کہ یہ (رسول ﷺ کوئی نشانی (اپنی نبوت کی) اپنے رب کے پاس سے کیوں نہیں لائے کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کے مضامین کا ظہور نہیں ہوا۔ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖیعنی محمد ﷺ : کوئی ایسی کھلی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے جو ان کے دعوئے نبوت کی سچائی کو ثابت کرسکے۔ نشانیاں تو بکثرت موجود تھیں اور آچکی تھیں انہوں نے محض عناد کی وجہ سے موجودہ آیات کا انکار کیا اور خود تراشیدہ نشانیوں کے طلبگار ہوئے اللہ نے قرآن نازل کرنے کو سب سے بڑا اور ابدی معجزہ قرار دے کر ان کو الزامی جواب دے دیا (کہ یہ قرآن سب سے بڑا معجزہ تمہارے سامنے موجود ہے جو لازوال ہے) کیونکہ معجزہ کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ مدعی نبوت اپنے دعوے کے ثبوت میں اپنی کوئی ایسی علمی یا عملی خصوصیت ظاہر کرتا ہے جس سے دوسرے انسان (اس زمانہ میں) محروم ہوتے ہیں اور پیغمبر کی یہ صفت خارق عادت انسانی ہوتی ہے (تمام پیغمبروں سے عملی معجزات کا ظہور ہوا جو وقتی اور ہنگامی تھے اور مخصوص وقت تک قائم رہے) اور ظاہر ہے کہ علم ‘ عمل کی بنیاد ہے عمل سے علم افضل و اعلیٰ ہے علم کا مرتبہ عمل سے بہت اونچا ہے جو معجزہ علمی ہوگا اس کا مرتبہ بھی عملی معجزات سے اونچا ہونا لازم ہے اور جس پیغمبر سے علمی معجزہ کا ظہور ہو وہ خود ان پیغمبروں سے افضل ہوگا جن سے عملی معجزات کا صدور ہوتا ہے۔ اَوَلَمْ تَاْتِہِمْ بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔ استفہام انکاری ہے (اور جب ہمزاہ انکاری کو منفی جملہ پر داخل کیا گیا تو تقریر اور اثبات مضمون ہوگیا کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے ‘ مترجم) ۔ یعنی کیا ابھی تک ان مشرکوں نے آپ کے دعوئے نبوت کی سچائی کو نہیں پہچانا اور کیا توریت ‘ انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے مضامین کا بیان قرآن کی صورت میں نہیں آگیا ‘ قرآن کے اندر تو ان تمام عقائد و احکام عامہ کا خلاصہ اور نچوڑ موجود ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں آئے ہیں اور یہ پیش کرنے والا ایک ناخواندہ شخص ہے جس نے نہ آسمانی کتابوں کو خود پڑھا نہ کسی سے سیکھا کیا یہ صداقت نبوت کی روشن نشانی نہیں ہے ‘ آیت میں ایک مخفی تنبیہ ہے اس بات پر کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی دلیل وہ قرآن ہے جس کے صحیح ہونے کی شہادت گزشتہ کتابوں کے مضامین دے رہے ہیں جن کو قرآن نے بطور معجزہ (بغیر کسی انسان کی تعلیم کے) بیان کیا ہے ‘ لیکن دوسری آسمانی کتابیں ایسی نہیں ہیں ان کی صحت کا ثبوت شہادت پر موقوف ہے۔ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ گزشتہ آسمانی کتابوں میں جو مختلف اقوام و امم کے حالات بیان کئے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں سے اپنے فرمائشی معجزات طلب کئے اور جب وہ مطلوبہ معجزات ظاہر ہوگئے تو وہ ایمان نہ لائے ‘ آخر اللہ نے دنیا ہی میں ان کو عذاب میں مبتلا کردیا اور ان کو تاخت و تاراج کردیا پس اگر ان مشرکوں کے مطلوبہ معجزات بھی ظاہر کردیئے گئے اور یہ ایمان نہ لائے (اور حسب تاریخ اقوام یہ ظہور معجزات کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے) تو پھر ان کو تباہی سے کون بچائے گا کیا ان کا حال بھی پچھلی کافر امتوں کی طرح نہیں ہوجائے گا۔ کیا ان لوگوں نے کتب سابقہ کے بیانات نہیں پڑھے۔
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے

ولو انا اہلکنہم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلتت الینا رسولا فنتبع ایتک من قبل ان نذل ونخزی۔ اور اگر ہم ان کو اس سے (یعنی قرآن آنے سے) پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ (بطور عذر) یوں کہتے کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس (دنیا میں) کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تھا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے قبل اس کے کہ ہم (یہاں خود) ذلیل ہوں اور (دوسروں کی نظر میں) رسوا ہوں۔ وَلَوْ اَنَّا اَہْلَکْنَاہُمْاور اگر ہم بالفرض ان قریش کے کافروں کو شرک کرنے کی وجہ سے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے۔ مِنْ قَبْلِہٖمحمد ﷺ : کو بھیجنے سے پہلے یا نصیحت کرنے اور بینہ بھیجنے سے پہلے۔ لَقَالُوْاتو قیامت کے دن یہ کہتے۔ لَوْلاَ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاً تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ وہ ہم کو توحید کی طرف بلاتا۔ فَنَتَّبِعَ اور ہم تیرے ان احکام پر چلتے جو تو رسول ﷺ پر نازل کرتا۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّزِلَّقبل اس کے کہ ہم دنیا میں ذلیل ہوتے قید اور قتل ہونے کی ذلت اٹھاتے۔ ونَخْزٰی اور قیامت کے دن دوزخ میں پڑ کر رسوا ہوتے۔ یا ذلت سے مراد ہے قیامت کے دن ذلیل ہونا اور رسوا ہونے سے مراد جہنم میں پڑ کر رسوا ہونا۔ مسئلہ آیات مذکورہ بتارہی ہیں کہ پیغمبروں کی بعثت کے بغیر بھی اللہ پر ایمان لانا اور اس کو واحد جاننا واجب ہے اور ہر با ہوش (بالغ) کو کفر عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ پیغمبروں کو بھیجنا اللہ پر لازم نہ تھا اس نے محض اپنی مہربانی سے انبیاء کو مبعوث کیا تاکہ اتمام حجت ہوجائے اور کسی کو (ناقابل پذیرائی) معذرت کرنے کا موقع نہ مل سکے ‘ امام ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ لیکن امام شافعی کا قول اس کے خلاف ہے (امام شافعی (رح) کے نزدیک بغیر بعثت نبی کی اطلاع کے کفر بھی ناقابل مواخذہ ہے بغیر نبی کے تنہا عقل ایمان کا مکلف بنانے کیلئے کافی نہیں ہے۔ مترجم) ۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اہتدی۔ آپ کہہ دیجئے ہم سب انتظار کر رہے ہیں سو تم (چندے اور) انتظار کرو عنقریب تم کو خود معلوم ہوجائے گا کہ راہ راست والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔ قُلْ رسول اللہ کو خطاب ہے اور نیا کلام شروع کیا گیا ہے۔ کُلٌّہم اور تم سب۔ مُتَرَبِّصٌنتیجہ کے منتظر ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ تمہارا حال کیا ہوتا ہے اور ہمارا کیا۔ فَتَرَبَّصُوْا (کچھ اور) انتظار کرتے رہو۔ مشرکین کہا کرتے تھے ہم منتظر ہیں کہ محمد ﷺ پر زمانہ کی گردشیں آئیں اور وہ حوادث دہر میں مبتلا ہوجائیں ‘ جب وہ مرجائیں گے ‘ اسی وقت ہمارا پیچھا چھوٹے گا۔ فَسَتَعْلَمُوْنَ عنقریب یعنی قیامت کے دن تم کو معلوم ہوجائے گا۔ الصِّرَاط السَّوِّیِسیدھا راستہ جنت تک پہنچانے والا۔ وَمَنِ اہْتَدیٰ اور وہ کون ہے جس نے گمراہی سے ہدایت پائی یا وہ کون ہے جس نے لازوال راحت و چین کی راہ پائی۔ حاکم نے مستدرک اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت معقل بن یسار ؓ : کی روایت سے اور بغوی نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے سورة بقرہ ذکر اوّل سے اور طہٰ اور طسم والی سورتیں اور حم والی سورتیں موسیٰ کی الواح (توریت) سے اور فاتحۃ الکتاب (سورۃ الحمد) اور سورة بقرہ کی آخری آیات زیرین عرش سے عطا کی گئی ہیں اور مفصلات (مجھے) زائد (عطا کی گئی) ہیں۔ حاکم نے مستدرک میں اور طبرانی اور ابن ماجہ نے حضرت امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کو لے کر دعا کی جائے تو اللہ قبول فرما لیتا ہے تین سورتوں میں ہے سورة البقرہ اور آل عمران اور طہٰ ۔ بحمدللہ وفضلہ سورة طہٰ کی تفسیر 8 ربیع الثانی 1203 ھ ؁ کو ختم ہوئی ‘ المنۃ للہ والشکرلہ کہ سورة طہٰ کی تفسیر مظہری کا اردو ترجمہ 24 /رمضان المبارک 1388 ھ ؁ کو صبح 4 بجے پورا ہوا۔ فالحمدللہ قبل لہ والحمد بعدلہ